238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 21

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

عرش تو بیٹھ تسلی سے بات کرتے ہیں ارسلان عرش سے بولا

تو عرش واپس بیٹھا

چل بھائ ادھر ہے شمس رویام سے بولا

تو رویام عرش کے سامنے بیٹھ گیا

اب منہ سے بکنا شروع کر بھی دے عرش رویام کا بند منہ دیکھتے ہوئے بولا

اچھا رویام نے بول کر سارا قصہ سنا دیا

عرش جیسے جیسے سن رہا تھا غصے سے اسکا چہرہ اور آنکھیں لال ہورہی تھی

چل اٹھ مجھے لے کر جا اس کمینے کے پاس بلکے اس نے تجھے یہ کہا تھا نہ کے دوبارا ضرورت ہوئ تو کوٹھے میں آ جائی چل مجھے لے کر جا وہاں عرش رویام کو دیکھتے ہوئے بول کر کھڑا ہوا

وہاں جاکر تو کیا کرے گا شمس بولا کیونکہ وہ سمجھ رہا تھا عرش اپنی کزن کو لے کر آۓ گا

پہلے اس کمینے کو سیدھا کرنا ہے اسکے بعد ساری لڑکیوں کو وہاں سے نکالوں گا عرش بول کر ڈھابے سے نکل کر اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا

اوۓ میری بات سن شمس عرش کے پیچھے بھاگتے ہوئے بولا کیونکہ عرش چلی جارہا تھا

بول عرش نے بولتے ساتھ ہی اپنی گاڑی کی چابی نکالی

یار اسطرح ہم وہاں نہیں جاسکتے پہلے پولیس والوں سے رابطہ کرتے ہیں وہ جیسا کہیں گیں پھر ہم ویسا ہی کرلیں گیں شمس بولا تو پیچھے رویام اور ارسلان نے ہاں میں سر ہلایا

لیکن عرش گاڑی کا دروازا کھول کر بیٹھ گیا تھا

صیح ہے پولیس والوں سے رابطہ کرتے ہیں کیونکہ ہم لوگوں سے کچھ ہوگا ہی نہیں تم لوگ اگر مرد ہوتے نے تو کبھی لڑکیوں کی عزتوں کے لیۓ پولیس والوں کا انتظار نہیں کرتے تم جیسے گھٹیا دوست میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھے عرش سب کو دیکھتے ہوئے بولا

اچھا اب بس شمس عرش سے بولا

چل رویام بیٹھ گاڑی میں شمس رویام کو گاڑی میں بیٹھاتا ہوا بولا

لیکن ارسلان باہر ہی کھڑا تھا

تو نہیں آۓ گا شمس ارسلان سے بولا

نہیں ارسلان سر نہ میں ہلا کر اپنی گاڑی کی طرف چلا گیا عرش نے افسوس سے ارسلان کو دیکھا جس میں اتنی ہمت نہیں تھی کے وہ انکے ساتھ جاتا پھر عرش گاڑی لے کر نکل گیا

حریم اور عنیقہ نے مل کر نفلے ادا کی اور اب دعا کررہی تھی

اور دعا بھی رو رو کر اور مسکراتے ہوئے کررہی تھی کیونکہ انکی خوشی کا اندازا آج وہ خود بھی نہیں لگا سکتی تھی

اللہ پاک میں تو ایک سچی محبت کر کے اپنے آئ تھی اور اسی محبت کے چکر میں

میں نے اپنے گھر والوں کو چھوڑ دیا تھا اسکی سزا تو مجھے مل رہی ہے اور شاید آگے بھی ملتی رہے لیکن جو آرت کے ساتھ مریم نے کیا ہے نہ وہ کوئ بھی لڑکی نہیں کرسکتی تھی

یااللہ مریم نے تو آرت جیسے گھٹیا بندے کو ختم کیا ہے جو ماصوم لڑکیوں کی زندگی برباد کرتا تھا اور کر بھی رہا تھا

یااللہ جی ہماری مریم کو جنت میں اعلی مقام عطا کرنا میں مانتی ہوں خودکشی حرام ہے لیکن اگر وہ زندہ بھی رہ جاتی تو اسکی زندگی میں اور بھی مشکلات آجاتی جو اب اس میں برداشت کرنے کی ہمت نہیں تھی

یااللہ جی مریم کی بخشش کر دینا اسکے ہر گناہ معاف کر دینا عنیقہ روتے ہوئے مریم کی بخشش کی دعائیں مانگ رہی تھی

آپا کمرا تو صاف ہوگیا ہے لیکن یہ دیواریں زینت دیواروں کو دیکھتے ہوئے بولی جس پر خون کی چھینٹے ہی چھینٹے تھی

جا پہلے جاکر باہر سے دوکانداروں کو بلا کر لا میں انکا کتے والا منہ بند کرواؤں رشیدہ اپنے سر پر دوپٹہ باندھے بیٹھی ہوئی تھی اور ساتھ ساتھ سب کو گالیاں بھی دے رہی تھی

آرت اور عنیقہ کو سٹور میں ڈالا ہوا تھا کیونکہ راشد قبرستان گیا ہوا تھا قبر کھودنے کے لیے

جی آپا ایک لڑکی بول کر باہر گئ

عنیقہ آؤ اب آپا کے پاس جائیں ورنہ وہ ہمیں یہاں دیکھ کر بہت ڈانٹیں گی حریم ڈرتے ہوئے بولی

چلو عنیقہ مسکراتے ہوئے بول کر کر رشیدہ کے پاس گئ

جی آپا تو نے بلایا تھا ایک آدمی گھر میں داخل ہوتے ہوئے بولا

ہاں ادھر بیٹھ رشیدہ اپنے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارا کرتے ہوئے بولی

تو وہ آدمی کرسی پر بیٹھا

آج یہاں جو بھی ہوا وہ تم لوگوں کو پتہ چل ہی گیا ہوگا اسلیۓ میں نے بلایا تھا رشیدہ تمیز سے بولی اور اپنا ایک ایک الفاظ تول تول کر بول رہی تھی کے سامنے بیٹھے بندے کو برا نہ لگ جاۓ

وہ تو ٹھیک ہے لیکن اب دو دو قتل ہوۓ ہیں یہاں اگر کوئ پولیس آتی ہے تو ہمیں بھی ساتھ لے کر جاۓ گی تو پھر ہم لوگوں کو سچ بتانا پڑے گا تاکہ ہم لوگوں کا قصہ لمبا نہ ہو آدمی بولا

تجھے میں اتنے پیسوں دوں گی تو اپنے بچو کے ساتھ ایک سال آرام سے بیٹھ کر کھاۓ گا تب بھی ختم نہیں ہونگیں رشیدہ لالچ دیتے ہوئے بولی

تو دینا پھر دوکاندار خوشی سے بولا کیونکہ وہ چاہتا ہی یہ تھا

یہ لے رشیدہ نے چھوٹے سا بیگ پیسوں سے بھرا دوکاندار کو دیا

چل آپا میں جارہا ہوں تاکہ پولیس والوں کے سامنا ہی نہ ہو دوکاندار کھڑا ہوتے ہوئے بولا

اور وہ دوسرا کدھر ہے رشیدہ دوسرے دوکاندار کا بولی

وہ تو راشد کے ساتھ گیا ہے دوکاندار بولا

چل ٹھیک ہے رشیدہ بولی پھر دوکاندار چلا گیا

عنیقہ ایک کونے میں کھڑی سب کو دیکھ رہی تھی

جب رشیدہ کی نظر اس پر گئ

یہ سب تیرے منہوس قدموں کی وجہ سے ہوا ہے جب سے آئ ہے ہمارے نقصان ہی ہورہے ہیں اتنی مشکل سے میں نے اور آرت نے لڑکیوں کا دھندا شروع کیا تھا تیری وجہ سے سب برباد ہوگیا رشیدہ غصے سے بول رہی تھی جب کے عنیقہ ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہی تھی بول کچھ بھی نہیں رہی تھی کیونکہ اسنے اپنا ہر فیصلہ اللہ کے سپرد کیا ہوا تھا

اب میری برداشت کی حد ختم ہو گئی ہے تیری شکل دیکھ کر میرا دل کررہا ہے تیرا وہ حشر کروں کے میرا دل ٹھنڈا ہوجاۓ

رشیدہ غصے سے بولتے ہوئے اسکے پاس آئ پہلے تو تجھے اسُ آرت نے بچا لیا تھا اب تجھے کوئ نہیں بچاۓ گا تو ساری زندگی تڑپے گی رشیدہ نے بولتے ساتھ ہی عنیقہ کا ہاتھ پکڑا اور گھسیٹ کر نیچے پڑا چولہا جو جل رہا تھا عنیقہ کا ہاتھ اس پر رکھ دیا

چھوڑیں میرا ہاتھ عنیقہ ہاتھ چھوڑواتے ہوئے بول رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ چیخ بھی رہی تھی کیونکہ جلن کی شدت بہت زیادہ ہوگئی تھی

کیوں چھوڑوں تجھے یہ تو کوئ تکلیف نہیں ہے تکلیف تو وہ ہے جو میرے اندر ہے رشیدہ اپنے سارے زور سے عنیقہ کا ہاتھ آگ کے اوپر کرتے ہوئے بول رہی تھی

آپا مر جاۓ گی وہ حریم سے برداشت نہیں ہوا تو وہ آگے ہوگئ اپنی پروا کیۓ بغیر اور ساتھ ہی عنیقہ کو پیچھے کیا

عنیقہ کا تو ہاتھ بلکل جھلس گیا تھا عنیقہ سے جلن کی شدت برداشت نہیں ہورہی تھی اسلیۓ اسنے اپنا ہاتھ پانی سے بھرے ہوئے مٹکے میں ڈال دیا اور ساتھ ہی ساتھ رو رو کر برا حشر ہوگیا تھا حریم ٹیوپ دیکھنے کے لیۓ آگے پیچھے بھاگ رہی جبکے رشیدہ ہنس رہی تھی عنیقہ کو تکلیف میں دیکھ کر

یہ سارے مسئلے حل ہونے دے پھر تجھے پاکستان سے دوسرے ملک بھیج دوں گی رشیدہ بولی

عنیقہ کا دل کررہا تھا وہ برف جیسا ٹھنڈا پانی اپنے ہاتھ پر گرا دے لیکن ایسا کچھ نہیں تھا وہاں پر

عنیقہ ادھر ہاتھ کرو یہ ٹیوپ لگاؤ حریم کولگیٹ لاتے ہوئے بولی کیونکہ اس سے تھوڑی بہت جلن کم ہو جانی تھی

ادھر دے مجھے تجھے زیادا فکر ہے اس منہوس کی رشیدہ حریم کے ہاتھ سے ٹیوپ کھینچتے ہوئے بولی

آپا واپس دیں دے وہ آگے اتنی بیمار ہے حریم عنیقہ کی حالت دیکھ کر روتے ہوئے بولی

لیکن رشیدہ کا دل پتھر بن گیا تھا

عمل تو انگلینڈ جاۓ گی زمل پریشانی سے بولی

ہاں عمل بس اتنا ہی بولی

یار نہ جا میں اور تو یہاں کتنے خوش ہیں زمل منہ بنا کر بولی

زمل تم یہاں خوش ہو اور اللہ پاک تمہاری یہ خوشی ہمیشہ برقرار رکھے

لیکن میں یہاں بلکل خوش نہیں ہوں کیونکہ مجھ سے یہاں پر اپنوں کو اتنا بدلتے ہوتا نہیں دیکھا جاتا عمل عرش مہناز صاحبہ ظفر صاحب میرب سب کو یاد کرتے ہوئے بولی کیونکہ شادی سے پہلے یہ سب اسے بہت پیار کرتے تھے

دیکھ عمل سب ٹھیک ہو جائے گا اور واپس سب تجھ سے اسی طرح پیار کریں گیں جیسے پہلے کرتے تھے زمل بولی

اب میرا دل بھر گیا ہے سب سے چاہے وہ محبت کریں نہ کریں مجھے کوئ فرق نہیں پڑتا عمل گم سم لہجے میں بولی

زمل آپ کے گھر سے ڈرائیور آیا ہے فریدہ صاحبہ کمرے میں آتے ہوئے بولی کیونکہ اندھیرا ہوگیا تھا

آنٹی عمل انگلینڈ جاۓ گی زمل فریدہ صاحبہ سے کنفرم کرتے ہوئے بولی

جی بیٹا کل کی فلائیٹ ہے اسکی فریدہ صاحبہ دکھی لہجے میں بولی

ہاۓ آنٹی انتی جلدی آپ لوگوں نے سب کچھ کرلیا زمل حیرانگی اور پریشانی سے بولی

ہاں بیٹا عمل کا حکم تھا کے میں نے انگلینڈ جانا ہے اور سب کچھ آج کل میں ہونا چاہیۓ اسلیۓ اسکے بابا نے ساری تیاری کرلی فریدہ صاحبہ عمل کو دیکھتے ہوئے بولی جو دوسری طرف منہ کیۓ بیٹھی تھی ۔

عمل

زمل نے عمل کو آواز دی تو عمل اسکی طرف دیکھنے لگی

جو اپنا ہاتھ پھیلاۓ اس بات کا اشارا دے رہی تھی کے آ میرے گلے لگ

عمل ہنستے ہوئے کھڑی ہوئ اور زمل کے گلے لگی

عمل کے گلے لگتے ساتھ ہی زمل کے آنسو ٹپ ٹپ گرنے لگ گۓ تھے

بیٹا آپ کیوں رو رہی ہو فریدہ صاحبہ پریشانی سے بولی

آنٹی آپ کی بیٹی مجھے چھوڑ کر جارہی ہے میرا دل کررہا ہے چیخ چیخ کر روؤں زمل سچ بولی

میں تم سے باتیں کروں گی نہ کیوں ٹینشن کے رہی ہو عمل زمل کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی

یار وہ تو مجھے پتا ہے زمل بولی تو عمل مسکرانے لگی

ماما کتنے بجے کی فلائیٹ ہے میری عمل فریدہ صاحبہ سے بولی

بیٹا گیارہ بجے کی ہے فریدہ صاحبہ بولی

زمل مجھے ائیرپورٹ تک چھوڑنے نہیں آؤ گی عمل زمل کو دیکھتے ہوئے بولی

عمل کل پیپر ہے زمل خفگی سے بولی

اوو سوری عمل بولی کیونکہ اسے یاد ہی نہیں تھا کے پیپر ہے کل بیسٹ آف لک اچھے اچھے پیپرز دینا اور میرے لیۓ بھی ٹائیم نکالنا عمل بولی

تیرے لیۓ ٹائیم نکالنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ تیرے لیۓ ٹائیم ہی ٹائیم ہے زمل بولی

تو ہنس کیوں نہیں رہی عمل پریشانی سے بولی کیونکہ زمل ہنس ہی نہیں رہی تھی ہنسنے تو چھوڑو مسکرا بھی نہیں رہی تھی جو عمل کو کافی پریشان کررہی تھی ۔

دل نہیں کررہا ہنسنے کو زمل بولی

یار زمل آگے میں اتنی پریشان ہوں اور اوپر سے تیرا یہ بی ہیو میری پریشانی میں مزید اضافہ کررہا ہے عمل منہ بنا کر بولی

تو زمل عمل کے لیۓ جھوٹا ہنسنے لگی تاکہ عمل خوش ہو جاۓ ویسے زمل کافی ہرٹ ہورہی تھی عمل کے جانے سے

عمل ہنسنے لگی زمل کے زبردستی ہنسنے پر

رویام عرش کو لے کر کوٹھے کے باہر کھڑا ہوا تھا

اس گندی جگہ پر آتے ہوئے تجھے بلکل شرم نہیں آئ عرش رویام کو دیکھتے ہوئے بولا

تو رویام شرمندگی سے نیچے دیکھنے لگا

عرش غصے سے رویام کو دیکھ کر کوٹھے میں آیا

کوٹھے سے بہت زیادا گندی سمل آرہی تھی اوپر سے ہر جگہ پانی ہی پانی پڑا ہوا تھا عرش نے اپنا ہاتھ ناک کے اوپر رکھا کیونکہ اس کا سر چکرانے لگا تھا یہاں کی حالات دیکھ کر

تم کون ہو بھئ رشیدہ عرش اور اسکے پیچھے کھڑے رویام اور شمس کو دیکھتے ہوئے بولی

عنیقہ کو بلاؤ باہر عرش بڑی مشکل سے بولا

تو کون ہے اور یہاں کوئ عنیقہ نہیں رہتی رشیدہ بولی

حالانکہ عنیقہ اس کے پیچھے ہی چارپائی پر بے ہوش پڑی تھی

بکواس کرنے کی ضرورت نہیں ہے رویام غصے سے بولا

کیونکہ وہ پہلے بھی رشیدہ کو دیکھ چکا تھا

کیا ہے بھئ نکلو یہاں سے رشیدہ نے بولتے ساتھ ہی اپنا فون اٹھایا اور کال ملانے لگی کیونکہ اسنے اپنی سیفٹی کے لیۓ دو گارڈز بھی رکھے ہوۓ تھے

پتہ نہیں یہ مردود کہاں مر گۓ ہیں رشیدہ اپنے گارڈز کو دل میں یاد کرتے ہوئے بولی

عرش پانی سے بچتا ہوا اندر گھسا اور رشیدہ کے ہاتھ سے فون کو کھنچ کر دیوار پر دے مارا

تم جیسی گھٹیا عورتیں ہیں جو ہمارے معاشرے کو پلیت کرتی ہیں عرش غصے سے بولا

اوو اچھا اگر یہ معاشرا ہم جیسی عورتیں گندا کرتی ہیں تو اس جیسے گھٹیا مرد بھی کوئ قصر نہیں چھوڑتے رشیدہ رویام کو دیکھتے ہوئے غصے سے بولی

عرش خاموش ہوگیا کیونکہ جو بھی کچھ ہو رہا ہے ہمارے معاشرے میں اس میں مرد و عورت دونوں برابر حصے دار ہیں

عرش رشیدہ کو دیکھ رہا تھا جب اسکی نظر عنیقہ پر پڑی جس کا برا حشر ہوا تھا

عنیقہ عرش ایکدم عنیقہ کو دیکھ کر پاؤں کے بل زمین پر بیٹھ گیا کچھ دیر پہلے وہ گھن کر رہا تھا اس گندی جگہ سے لیکن عنیقہ کو دیکھتے ساتھ ہی اس گندی زمین پر بیٹھ گیا

عرش عنیقہ کا چہرا دیکھنے لگا جو کے چوٹوں سے بھرا ہوا تھا لیکن ہاتھ دیکھنے کے بعد اسکا خون کھول اٹھا

یہ کس نے کیا ہے اسکے ساتھ عرش چیختے ہوئے لڑکیوں سے بولا

جب حریم بولی

بھائ یہ انہوں نے کیا ہے میں نے بہت منع کیا انھیں لیکن پھر بھی آپا نے عنیقہ کا ہاتھ جلادیا حریم روتے ہوئے بول رہی تھی

شمس اور رویام حریم کو دیکھ رہے تھے جو خوش بھی اداس بھی اور ڈری ہوئی بھی لگ رہی تھی اسکے چہرے سے بلکل اندازا نہیں لگا سکتے تھے کے آج اس لڑکی کے بارے میں کیا کہا جاۓ

عرش نے عنیقہ کو اپنی گود میں اٹھایا اور باہر نکلنے لگا

عرش تو عنیقہ کو لے کر جاۓ گا تو ان لڑکیوں کا کیا ہوگا شمس ساری لڑکیوں کو دیکھتا ہوا بولا جن کو یہ آس تھی وہ انھیں بھی آزاد کریں گیں

عرش عنیقہ کو دیکھ کر سوچنے لگا کیونکہ اسکی حالت بھی کافی خراب لگ رہی تھی

عرش سوچ ہی رہا تھا جب ڈھیر ساری پولیس اندر آئ شمس پولیسوں کو دیکھ کر حیران ہوگیا تھا کیونکہ اسنے تو کوئ اطلاع نہیں دی تھی پولیسوں کو

عرش پولیسوں کو دیکھ ہی رہا تھا جب ارسلان ہنستے ہوئے اندر آیا

ہر طرف دیکھو یہ اتنی بدبو کیوں آرہی ہے ایس ایچ او دوسرے پولیسوں سے بولا

تو سارے پولیسز پر طرف پھیل گۓ اور اس گھر کا چپہ چپہ دیکھنے لگے

آریسٹ کرو اس بی بی کو بھی پولیس والا لیڈی کونسٹیبل سے بولا

یس سر وہ بول کر رشیدہ کے پاس آئ اور اسکے کچھ کہنے سے پہلے ہی اسکے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دی

سر جی میں نے کچھ بھی نہیں کیا یہ جو کچھ بھی ہوا یہ سب ان لڑکوں نے کیا ہے رشیدہ ایکدم رو رو کر عرش اور اسکے سارے دوستوں پر بات ڈالتے ہوئے بولی

سر اوپر دو باڈیز پڑی ہیں پولیس والا بولا

مینس یہاں پر مرڈر بھی ہوا ہے ایس ایچ او بولا

پتہ نہیں سر مجھے تو نہیں پتہ رشیدہ پھر سے روتے ہوئے بولی

بکواس بند کرو اپنی ایس ایچ او غصے سے بولا

عرش تو جا ایس ایچ او عرش کو بھیجتے ہوئے بولا رشیدہ حیرانگی سے ایس ایچ او کو دیکھنے لگی جو اتنا فرینک ہوکر عرش سے بول رہا تھا

یہ دوست ہے ہم لوگوں کا ارسلان ہنستے ہوئے رشیدہ سے بولا جو منہ کھولے حیرانگی سے انکو دیکھ رہی تھی

بات سنو یہ جتنی بھی لڑکیاں ہیں انکو میرے فلیٹ میں لے کر آہ عرش بولا جس نے ابھی تک اپنے ہاتھوں میں عنیقہ کو پکڑا ہوا تھا

صیح ہے تو عنیقہ کو لے جا شمس بولا

ارسلان جانے لگا جب ایس ایچ او نے اسے روکا رویام اور ارسلان آپ لوگ یہی روکے آپ لوگوں سے تفتیش کرنی ہے ایس ایچ او سیریس انداز میں بولا

اوووو ارسلان ہنستے ہوئے اپنے دوست کو دیکھنے لگا جو وردی پہننے کے بعد کافی چوڑا ہوگیا تھا

رویام کی تو جان پر بن آئی تھی کے اب اسکی خیر نہیں ہے

عمل نے عشاء کی نماز ادا کر کی تھی اب وہ لیٹنے کے لیۓ بیڈ پر آئ جب اسے زمل کا خیال آیا

اللہ جی میں کیا کروں میں خود یہاں سے دور نہیں جانا چاہتی لیکن اگر میں یہاں سے نہ گئ تو عرش مجھے لے جاۓ گا واپس کیونکہ میں اسے جانتی ہوں اور عرش کا چہرا دیکھ کر میرا دل پھٹتا ہے کیوں یااللہ میرے دل میں ایسے شخص کی محبت ڈالی جو میری ہی بہن سے محبت کرتا ہے عمل روتے ہوئے بول رہی تھی اور ساتھ اپنا سر گھٹنوں میں رکھ کر رونے لگ گئ

عرش سے میں کبھی بھی خلا نہیں لے سکتی لیکن اسکے ساتھ رہ کر میں اپنی توحین بھی نہیں کرسکتی

کیونکہ عرش کے سامنے میری کوئ اوقات نہیں ہے عمل کمرے میں بلکل اندھیرے کیۓ بیٹھی رو رو کر باتیں کر رہی تھی

میں اتنا دور چلی جاؤں گی آپ سے عرش آپ کبھی مجھے ڈھونڈ نہیں پاۓ گیں عمل اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی

عرش عنیقہ کو ہوسپٹل لے آیا تھا اور اب ڈاکٹر اسکا چیکپ کررہی تھی

انکی یہ حالت کیسے ہوئ ڈاکٹر عنیقہ کو دیکھ کر عجیب سا منہ بنا کر بولی کیونکہ ہاتھ جلا ہوا سر پر چوٹ ایکسیڈنٹ کی وجہ سے

پاؤں چھلا ہوا اور بھی بہت سے زخم اسکے جسم پر تھے

آپ یہ بتائیں یہ ہوش میں کب آۓ گی عرش پریشانی سے بولا

کیونکہ اس کا دل عنیقہ کو دیکھ کر کافی دھڑک رہا تھا

ہوش میں تو آجائیں گی لیکن ٹھیک ہونے میں کافی وقت لگے گا انکو ڈاکٹر بولی

ہممم عرش عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولا

عرش ساری لڑکیوں کو فلیٹ میں لے آیا تھا جب کے رویام اور ارسلان تھانے میں تھے

بات سنیں حریم شمس سے بولی

جی شمس ایک دم اسکے پاس آتے ہوئے بولا

عنیقہ کیسی ہے اور کب تک آۓ گی حریم پریشانی سے بولی

آجاۓ گی آپ ٹینشن نہ لیں شمس مسکراتے ہوئے بولا تاکہ حریم کو تھوڑی سی تسلی ہوجاۓ

پھر سب لڑکیوں کے بارے میں سوچنے لگا کے انکا کیا ہوگا