238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 11

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

ماما آپ نے دیکھا کیسے مجھے ہی جھوٹا بنا رہی تھی عمل میرب روتے ہوئے بولی

بیٹا وہ جھوٹا نہیں بنا رہی وہ تو تمھیں سمجھا رہی تھی اب رونا بند کرو مہناز صاحبہ میرب کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی

ماما وہ مجھے سمجھا نہیں رہی تھی جھوٹا بنا رہی تھی میرب اپنے آنسو نکالتے ہوئے دوبارا بولی

تو کیا چاہتی ہو تم بتاؤں مجھے عرش غصے سے بولا

بھائ میں کچھ نہیں چاہتی بس اسے سمجھا دیں میرب بولی

اسے سمجھا دیں اسے سمجھا دیں کیا بکواس لگا کر رکھی ہے سب نے

شادی کا دوسرا دن ہے اور پچاس بار مجھے یہ بات سننے کو ملی ہے

میں عمل کو طلاق دے دیتا ہوں تاکہ مسلہ ہی ختم ہوجاۓ عرش غصے سے بولا

ظفر صاحب جیسے لاؤنچ میں آۓ تو انھوں نے عرش کی بات سن لی تھی

ظفر صاحب غصے سے عرش کی طرف آۓ کندھے سے پکڑ کر اپنی طرف کیا اور ایک زوردار تھپڑ منہ پر رسید کیا

تم نے عمل کے لیۓ یہ بکواس کیسے منہ سے نکالی ہاں

ظفر صاحب چیختے ہوئے بولے

جبکے میرب کی زبان ایکدم بند ہوگئ تھی جو کچھ دیر پہلے کینچی کی طرح چل رہی تھی

عرش اپنی ماما اور بہن کو دیکھنے لگا جو حیرانگی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی

عرش بنا کچھ بولے سیدھا اپنے روم میں گیا

مہناز میں تمھیں بتا رہا ہوں ہماری بھی بیٹی ہے کسی کی بیٹی کے ساتھ کچھ غلط کرنے سے پہلے میرب کو زہن میں رکھ لینا ظفر صاحب بول کر باہر چلے گۓ

عمل روم میں بیٹھی اپنے پیپر کی تیاری کر رہی تھی جب عرش نے زور سے دروازا کھولا اور دھرم سے دورازے کو بند کیا

عمل تو ڈر کے مارے کھڑی ہوگئ تھی

کیونکہ عرش کی شکل پر خوفناک تاثرات آۓ ہوۓ تھے

عرش سیدھا عمل کے پاس آیا اور اسکا ہاتھ پکڑ کر اپنے قریب کیا دوسرے ہاتھ سے عرش نے عمل کے منہ کو اپنے قریب کیا دونوں کے بیچ اب ایک انچ کا بھی فاصلہ نہیں تھا تم اگزیمز دینے نہیں جاؤ گی سمجھیں

میں جاؤں گی عمل ہمت کر کے بولی کیونکہ جو بھی تھا پڑھائ اسنے نہیں چھوڑنی تھی

بہت زبان چلتی ہے اور اسی زبان کی وجہ سے میری بہن کا گھر خراب ہو رہا ہے عرش نے بولتے ساتھ ہی عمل کی ایک کتاب کو پھاڑ دی اور اٹھا کر زمین پر پھینک دی

میں آپ کی بہن کا گھر خراب نہیں کررہی وہ خود ہی سب کچھ کر رہی ہیں

اور اب میں اپنے گھر جاؤں گی نہیں رہنا میں نے آپ کے ساتھ عمل نے اپنی پھٹی ہوئی کتاب کو اٹھایا

لیکن جو وہ بولی تھی وہ عرش کے اندر کی آگ کو اور بھی تیز کر چکی تھی

پٹاخ عرش نے ایک تھپڑ عمل کے منہ پر مارا وہ عرش کے پاؤں کے پاس گر گئ تھی کیونکہ تھپڑ پوری شدت سے اسکے منہ پر لگا تھا تمھیں اختیار کس نے دیا ہے کہ تم میرے ساتھ رہو گی یا نہیں

تم ساری زندگی یہاں رہو گی عرش اپنے پاؤں کی طرف اشارا کرتے ہوئے بولا

جبکے عمل تیز تیز آواز میں رونے لگ گئ تھی

کیونکہ تھپڑ کا درد دانت سے کان اور کان سے سر پر چلا گیا تھا

عرش نے ہلکی سے لات اسے ماری اور واشروم چلا گیا

اور شاور کے نیچے کھڑا ہو گیا

عنیقہ نفرت ہے تم سے تمہاری وجہ سے تین تین زندگیاں تباہ ہوئ ہیں

تم کبھی خوش نہیں رہو گی میری بددعا ہے عرش اپنی لال آنکھوں سے گرم آنسو جو بہت تیزی سے نکل رہے تھے اسے صاف کرتے ہوئے بولا

عمل اسی طرح زمین پر پڑی رو رہی تھی اور اپنی کتاب کو دیکھ رہی تھی جو ٹکڑوں ٹکروں میں پڑی تھی

میری زندگی بھی تمہاری طرح ہے عمل اپنی کتاب کو دیکھتے ہوئے بولی

عمل مہناز صاحبہ اندر آئ تو عمل زمین پر بیٹھی ہوئی تھی اور رونے سے اسکی آنکھیں لال سوج کر چھوٹی ہوگئ تھی

کیا ہوا مہناز صاحبہ دروازا بند کرتے ہوئے آئ

مجھے تھپڑ مارا ہے عرش نے عمل روتے ہوئے بولی

کھڑی ہو جاؤ مہناز صاحبہ عمل کو کھڑا کر بیڈ پر بیٹھاتے ہوئے بولی

اور جگ سے گلاس میں پانی ڈال کر عمل کے ہونٹوں سے لگایا جسے عمل نے تھوڑا سا پیا

اب بتاؤ عرش نے تمھیں کیوں مارا ہے مہناز صاحبہ عمل سے بولی جو ابھی تھوڑا سا چپ ہوئ تھی

عمل نے پوری بات مہناز صاحبہ کو بتائ

اوکے جب تک تمہارے اگزیمز ہے تب تک تم عرش کے ساتھ نہیں رہو گی

اپنی ضرورت کی چیزوں لے لو تاکہ بار بار ادھر نہ آنا پڑے مہناز صاحبہ عمل سے بولی

عمل تو خوشی سے سمائیں نہیں جارہی تھی کہ عرش سے کچھ دن تک دور رہے گی

عمل دوڑ کر اپنی کبرڈ کے پاس گئ اور دھے دھڑادم کپڑے اٹھا رہی تھی جیسے یہاں مڑ کر آنا ہی نہیں

عرش باہر آیا تو اسکے سارے کپڑے گیلے تھے اور ساتھ ہی

عمل کی ایک ایک حرکت دیکھ رہا تھا جو ڈھیروں کپڑے ہاتھ میں لیۓ اب اپنی بکس اٹھا رہی تھی

یہ کیا ڈرامہ ہے عرش اونچی آواز میں بولا

جس سے مہناز صاحبہ اور عمل دونوں اسکی طرف متوجہ ہوئی عمل کی تو ٹانگیں تھر تھر کانپنے لگ گئ تھی عرش کو دیکھ کر

(اتنی سردی میں ایسی حرکتیں کیوں کرتے ہو مہناز صاحبہ عرش کے کپڑوں کو دیکھتے ہوئے بولی جو بلکل گیلے تھے)

میرا جواب یہ نہیں ہے عرش بولا

عمل تمہارے ساتھ تب تک نہیں رہے گی جب تک اسکے اگزیمز ختم نہیں ہوتے مہناز صاحبہ بولی۔

تو کدھر رہے گی یہ عرش ٹاول اپنے بالوں پر رگڑتا ہوا بولا

دوسرے روم میں مہناز صاحبہ بولی

عمل اس روم میں رہے گی اگر یہاں نہیں رہتی تو اپنے باپ کے گھر رہے گی وہ بھی ہمیشہ کے لیۓ عرش ٹاول عمل کے منہ پر پھینکتا ہوا بولا

باپ کے گھر نہیں جاۓ گی کیونکہ اب یہ اسکا گھر ہے مہناز صاحبہ غصے سے بولی

کیونکہ دو دن میں ہی پورے گھر کا ماحول خراب ہو گیا تھا اور اب وہ تھک گئ تھی دو دن سے جو ڈرامے ہورہے تھے انکو برداشت کر کے

ٹھیک ہے پھر آپ جائیں عمل کا یہ روم ہے یہ یہیں رہے گی عرش عمل کے ہاتھ سے کپڑے لیتا ہوا بولا جو اسنے ڈھیروں ڈھیر لیۓ تھے

مہناز صاحبہ روم سے چلی گئ کیونکہ وہ جانتی تھی عرش نے عمل کو چھوڑنا نہیں ہے اسلیۓ بحس کا کوئ فائیدہ نہیں

ہممم بہت دل نہیں ہے تمہارا مجھے چھوڑنے کا جس طرح تمہاری بہن مجھے چھوڑ کر گئ تھی

عرش عمل کو قریب کرتا ہوا بولا

نہیں تو عمل بولی اور دل اسکا تقریباً باہر ہی آنے والا تھا

تو یہ تیاریاں کیا تھی عرش کتابوں اور کپڑوں کو دیکھتے ہوۓ بولا جو بیڈ پر پڑے تھے

وہ تو عمل بول ہی رہی تھی جب عرش اسکی گردن پر جھک گیا اور اپنے گرم انگارا ہونٹ رکھ دیۓ

عمل کا جسم ایکدم سے سن ہوگیا تھا عرش کی اس حرکت پر

یہ کیا کر رہے ہیں عمل عرش کو زور سے دھکا دیتے ہوئے بولی

عرش ایکدم پیچھے ہٹا

اور عمل کو دیکھنے لگا جو آگے سے بھیگ گئ تھی کیونکہ عرش بھی گیلا تھا

عمل حیرانگی سے عرش کی طرف دیکھ رہی تھی جو اسے ہی دیکھ رہا تھا

اپنا حق لے رہا ہوں جو مجھے اور میرے اللہ تعالیٰ نے دیۓ ہیں عرش بولا

شرم آنی چاہیۓ آپ کو جو حرکت آپ نے کی ہے اور اوپر سے آپ میرے اللّٰہ پاک کا بھی نام لے رہے ہیں عمل بول کر سیدھا واشروم میں بھاگ گئ

جبکہ عرش عمل کی بات سن کر اسکو جاتا ہوا دیکھنے لگا

بیس دن گزر گئے تھے نہ میرب نے سبحان سے بات کی تھی اور نہ ہی سبحان نے میرب سے

سمبل بھی نہیں آئ تھی ان کے گھر

سب مل کر رات کا ڈنر کر رہے تھے

سویرا کباب دینا مجھے میرب بولی

جی بھابھی سویرا نے کباب کی پلیٹ اٹھا کر میرب کو پکڑائی

میرب نے کباب اپنی پلیٹ میں رکھ کر کھانے لگی

سبحان تم اور سویرا جاؤ سمبل کا پوچھنے اس کی طبعیت بہت خراب ہے اسکی ساس کی کال آئ تھی مجھے ممتاز صاحبہ بولی

کیا ہوا سمبل کو سبحان پریشانی سے بولا

پتہ نہیں کیا ہوا مجھے تو بس اتنا پتہ چلا ہے کہ اسکی طبعیت بہت خراب ہے تم دونوں جاؤ گے تو پتہ چل جاۓ گا ممتاز صاحبہ بولی

سویرا چلو چلیں سبحان میرب کو بنا دیکھے بولا

کھانا تو کھالو بیٹا ممتاز صاحبہ سبحان سے بولی جو اپنا آدھا کھانا چھوڑ کر اٹھا تھا

نہیں امی واپسی پر کھالوں گا سبحان بولا

آدھے میں کھانا چھوڑنا اچھی بات نہیں ہے میرب سبحان سے بولی

سبحان بنا کچھ بولے بیٹھ گیا

میں بھی آپ کے ساتھ جاؤں گی میرب پلیٹ میں چمچ مارتے ہوئے بولی

سبحان میرب کو دیکھنے لگا جو اسے ہی دیکھ رہی تھی

اچھی بات ہے آجاؤ سبحان نارمل لہجے میں بولا

لیکن میرب کو امید نہیں تھی کہ سبحان اسے اتنے پھیکے رویہ سے کہے گا آجاؤ

آرت آپ کام کیا کرتے ہیں کیونکہ جب سے میں آئ ہوں آپ ایک دفعہ بھی کام پر نہیں گۓ عنیقہ آرت سے بولی

جو مزے سے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا

یار شادی کے کچھ دن تو انسان اپنی بیوی کے ساتھ انجوائے کرے کیونکہ بعد میں بچے ہو جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹائیم نہیں ہوتا آرت مسکراتے ہوئے بولا

بات تو آپ کی ٹھیک ہے بٹ اب شادی کو بائیس دن ہوگۓ ہیں اسلیۓ کل سے آپ اپنے کام پر جائیں گیں عنیقہ بولی ۔

اوکے جناب آپ کا ہر حکم سر آنکھوں پر آرت ہنستے ہوئے بولا

ویسے آپ کرتے کیا ہیں عنیقہ آرت کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی

میں آرت سوچتے ہوئے بولا

بولیں بھی عنیقہ بولی

میں بہت کچھ کرتا ہوں وقت آنے پر پتہ چل جاۓ گا ابھی یہ فصول باتیں نہیں کرو آرت عنیقہ کو اپنے قریب کھینچتے ہوئے بولا

آرت نہیں پہلے بتائیں عنیقہ ضد کرتے ہوئے بولی

عنیقہ مجھے ضد کرنے والی لڑکیاں بلکل پسند نہیں ہے آرت پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا

ہمم عنیقہ بس اتنا ہی بولی

ان بیس دنوں میں عرش نہ عمل کے قریب آیا تھا اور نہ ہی اس سے کوئ بات کی تھی

اور نہ عمل نے زحمت کی تھی بات کرنے کی

(عرش نے سوچ لیا تھا وہ عمل کو اب کچھ نہیں کہے گا اس کے ساتھ ہر بات پیار سے ڈیل کرے گا اور نہ ہی وہ اسکے قریب جاۓ گا کیونکہ وہ ابھی سولہ سال کی ہے ان بیس دنوں میں میرب بھی یہاں نہیں آئ تھی)

عرش آفس سے آیا تو عمل اپنی ساری کتابیں بیڈ پر پھیلاۓ پیپر کی تیاری کر رہی تھی کیونکہ اگلے ہفتے سے عمل کے پیپر اسٹارٹ ہونے تھے

عرش کو روم میں آتا دیکھ کر عمل اپنی کتابیں سمیٹنے لگی کیونکہ وہ عرش کے سامنے سکول کا کوئ بھی کام نہیں کرتی تھی

مت سمیٹو کتابوں کو تیاری کرلو اپنی عرش نرم لہجے میں بولا

عمل حیرانگی کے ساتھ خوش بھی ہوگئ تھی کیونکہ بیس دن وہ بولا نہیں جب بولا تو وہ بھی اتنا اچھا بولا

جی عمل نے ساری کتابیں اپنے قریب کی تاکہ عرش کو بیٹھنے کی جگہ مل سکے

عرش اپنا کوٹ صوفے پر پھینکتا بیڈ پر بیٹھا اور اپنے شوز اتارنے لگا

کونسا پیپر ہے پہلا عرش عمل سے بولا

میتھ کا عمل افسوس سے بولی

تیاری کیسی ہے

اچھی نہیں ہے عمل کتاب کو دیکھتے ہوئے بولی

لڑتی تو اتنا ہو کہ پڑھنا ہے اور تیاری ہے نہیں تمہاری عرش عمل کے سامنے بیٹھتا ہوا بولا

عمل خاموش رہی

عرش عمل کی بک اٹھا کر دیکھنے لگا جس کے ہر صفحے پر عمل + زمل لکھا ہوا تھا۔

اگر اتنے نام کی جگہ تھوڑا سا فوکس اپنے سبجیکٹ کی طرف کرتی تو تمہاری تیاری ہو جاتی عرش ٹونڈ مارتا ہوا بولا

آپ رہنے دیں عرش بھائ میں کل تیاری کرلوں گی عمل بولی

لیکن جو وہ بولی تھی اسکا عمل کو خود بھی اندازا نہیں ہوا تھا

پٹاخ عرش نے بیٹھے بیٹھے عمل کے منہ پر تھپڑ رسید کیا لیکن یہ تھپڑ پہلے کی نسبت ہلکا مارا تھا

عمل موٹے موٹے آنسو لیۓ عرش کی طرف دیکھ رہی تھی کہ اچانک تھپڑ کس بات کا

پہلے میں نے لاسٹ وارنگ دی تھی نہ کے آئیندہ بھائ نہیں کہنا لیکن تم زبان کی سمجھتی ہی کہاں ہو عرش نارمل لہجے میں بولا کوئ غصہ نہیں تھا اسکے رویہ میں

تمہارے بھائی کہنے سے ہمارا رشتہ خراب ہوتا ہے بلکہ تم ہر باری خراب کرتی بھی ہو عرش بولا

غلطی سے نکل گیا تھا میرے منہ سے عمل کے آنسو جاری ہوگۓ تھے

عمل دیکھو میں ساری پرانی باتیں بھلا رہا ہوں تاکہ تمہارے ساتھ غلط نہ ہو عرش عمل کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا

اور یقین جانو میرا اسکے بعد تمہارے منہ سے کبھی بھائ نہیں نکلے گا عرش یقین دلاتے ہوئے بولا

عمل چپ ہوگئ

تمھیں سارے پیپرز کی تیاری اب میں کرواؤں گا اوکے

عرش پیار سے بولا

اچھا اب بتاؤ کتنے یونٹ آتے ہیں عرش بک کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولا

دو عمل منہ بنا کر بولی

عرش عمل کو دیکھنے لگا کیونکہ اسے امید نہیں تھی کہ اتنا کم بولی گی وہ

اچھا عرش پریشانی سے بولا کیونکہ اب ساری تیاری اس نے ہی کروانی تھی

سبحان اور میرب سمبل کے سسرال آگۓ تھے

سویرا نہیں گئ تھی کیونکہ ممتاز صاحبہ اکیلی ہوگئ تھی

سبحان بیٹا سمبل کے روم میں آؤ سمبل کی ساس بولی

جی آنٹی سبحان کھڑا ہوا اور ساتھ ہی میرب بھی کھڑی ہوئ

سبحان اور میرب اندر سمبل کے روم میں گۓ تو وہ لیٹی ہوئ تھی اسکا رنگ پیلا آنکھیں اندر اور ڈارک سرکل بنے ہوئے تھے

ارے میرب تم آئ ہو سمبل خوشی سے بول کر کھڑی ہونے لگی

لیٹی رہے آپ میرب عجیب سا منہ بنا کر بولی کیونکہ سمبل کا حلیہ بہت خراب تھا

سمبل پھر بھی آگے ہوئ اور اسے گلے لگایا

میرب اپنی سانسیں بند کرتے ہوئے سمبل کے گلے لگی

کیسے ہو تم دونوں سمبل سبحان اور میرب سے بولی

ہم تو ٹھیک ہیں پر تم ٹھیک نہیں لگ رہی سبحان سمبل کی طرف دیکھتے ہوئے بولا

بس کیا کروں گھر والوں سے بیس دن بات نہیں کی تھی اسلیۓ زیادا ڈپریشن ہوگیا تھا جس وجہ سے بیمار ہوگئ سمبل دکھی لہجے میں بولی

سبحان خاموش ہوگیا تھا

سوری کرو سمبل سے میرب سبحان میرب کو حکم دیتے ہوئے بولا

میں یہاں معافی مانگنے نہیں بلکے عیادت کرنے آئ ہوں میرب بولی

سمبل خاموش دونوں میاں بیوی کو دیکھ رہی تھی

میرب تمہارے سوری کہنے سے عزت نہیں گھٹ جاۓ گی سبحان میرب کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا

میرب سمبل کو دیکھنے لگی جو بیماروں والی شکل سے اسے ہی دیکھ رہی تھی

سوری میرب اتنی آواز میں بولی جو سبحان تک بھی نہیں پہنچی تھی

میرب سبحان نے میرب کو آواز دی

سوری سمبل غلطی ہوگئ تھی مجھ سے اس دن میرب اب کی بار تیز بولی

سمبل مسکرانے لگی اور اسکی مسکراہٹ ایسی تھی میرب کو آگ لگا رہی تھی

آپ لوگ بیٹھو میں آتی ہوں سمبل اٹھتے ہوئے بولی

تم کدھر جارہی ہیں تمہاری تو اپنی طعبیت اتنی خراب ہے بیٹھو سبحان سمبل کو بیٹھاتے ہوۓ بولا

سمبل بیٹھ گئ

سمبل تم بھی ہمارے ساتھ چلو سبحان سمبل سے بولا

میرب سبحان کو گھورنے لگی

ہاں سبحان میں تم لوگوں کے ساتھ ہی چلوں گی کیونکہ مجھے سب کی بہت یاد آرہی ہے اور امبر بے چاری تو روز ہی مامو ماموں کرتی ہے سمبل بولی

چلیں آپ لوگ آجائیں میں باہر ویٹ کرتا ہوں سبحان بول کر کھڑا ہوا

بیٹھو سبحان کچھ کھا پی تو کو سمبل بولی

نہیں نہیں ٹائیم نہیں ہے

سبحان بول کر باہر نکل گیا

میرب میری طعبیت ٹھیک نہیں ہے تم امبر کو چینج کروادو سمبل پیار سے بولی

میں کسی کے بچو کی ٹھیکے دار نہیں ہوں سمجھیں آپ میرب بول کر سبحان کے پیچھے نکل گئ

عمل تمہاری ٹیچر تو کہ رہی تھی کہ تم بہت اچھی سٹوڈنٹ ہو

جی عمل خوشی سے بولی

یہاں تو تمھیں ایک سوال سمجھ نہیں آرہا نالائق عرش بولا

میں نالائق نہیں ہوں عمل منہ بنا کر بولی

وہ تو نظر آرہا ہے بس باتیں کروا لو تم سے عرش بولا

جی نہیں میں ہر چیز میں ایکسپرٹ ہوں عمل بولی

صیح کہ رہی ہو ہر چیز میں ایکسپرٹ ہو سواۓ میتھ اور رومانس کے علاؤہ عرش منہ بنا کر بولا

عمل چپ ہوگئ تھی کیونکہ رومانس کے بارے میں تھوڑا بہت تو جانتی تھی

کیا ہوا ہے تمھیں عرش عمل کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جو اب نیچے دیکھ رہی تھی

کچھ نہیں عمل بولی

اچھا میں سمجھا رومانس کے بارے میں سوچ رہی ہو کے وہ کیا ہوتا ہے عرش اپنی ہنسی کنٹرول کرتے ہوئے بولا

عمل بلکل چپ تھی

میں بتاؤں رومانس کسے کہتے ہیں عرش عمل کا چہرا دیکھتے ہوئے بولا جو اپنی نظریں کتابوں کے اوپر جمائیں ہوئے بیٹھی تھی

نہیں

آپ نے میتھ کروانی ہے یا نہیں عمل کنفیوز ہوتے ہوئے بولی

نہیں عرش بولا

اوکے میں جارہی ہوں باہر تیاری کرنے عمل کتابیں سمیٹتے ہوئے بولی

بیٹھو آرام سے عرش عمل کو بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا

تو عمل بیٹھ گئ

اوکے اب یہ ساری رومانس والی باتیں تمہارے اگزیمز کے بعد ہوگی

اب اپنا دماغ کھولو بعد میں مجھے نہ کہنا کہ سمجھ نہیں آئ عرش کتاب عمل کے سر پر مارتے ہوئے بولا

جی عمل منہ لٹکاۓ ہوئے انداز میں بولی

تم باہر کیوں آگئ سمبل کی ہیلپ کرتی بچو کی پیکنگ کے لیۓ دیکھا نہیں آسکی طعبیت کتنی خراب ہے سبحان میرب سے بولا

میں کیا کروں تمہاری بہن نے ہی بولا تھا مجھے کہ جاؤ سبحان کے پیچھے اسلیۓ میں آگئ میرب بولی

اچھا سبحان بولا

کیا ضرورت تھی سمبل کو بولنے کی کہ تم بھی ہمارے ساتھ آؤ میرب اب مُدعے کی بات پر آتے ہوئے بولی

ضرورت ہے کیونکہ وہ میری بہن ہے اسکا پورا پورا حق ہے مجھ پر سبحان میرب کی فضول سی بات کا جواب دیتے ہوئے بولا

تو ٹھیک ہے میں بھی اپنے بھائ کے گھر جاؤں گی میرب بولی

جیسے تمہاری اپنی مرضی سبحان نے بول کر موبائل اٹھایا

یہ جو تم اپنی بہنوں کے لیۓ اتنے سنسیٹو ہو نہ میں بتا رہی ہوں یہ اتنی اچھی نہیں ہے میرب سبحان سے بولی

میرب کیوں ایسی باتیں کرتی ہو دوستوں کی طرح رہو سب کے ساتھ دیکھنا تم کتنی خوش رہو گی سبحان میرب کو پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا

دوست کی طرح اگر تمہاری بہن رہے تو میں بھی رہوں نہ لیکن وہ خود ہی نہیں رہتی میرب غصے سے بولا

ٹھیک ہے میری بہنیں اچھی نہیں ہے پھر تم اپنی بھابھی سے کیوں لڑی تھی سبحان بولا ۔

میں نہیں لڑی تھی عمل سے وہ خود فضول بات کر رہی تھی میرب اپنے بدلتے ہوئے رنگ پر قابو پاتے ہوئے بولی

تمھیں کیسے پتہ چلا ہے کہ میرا عمل سے جھگڑا ہوا ہے میرب بولی

اتنا ہوش تو مجھے بھی ہوتا ہے کیونکہ تم میری بیوی ہو سبحان بولا

(سبحان کو ظفر صاحب نے بتایا تھا باتوں باتوں میں جب وہ میرب کو لینے آیا تھا)

اب میرب کی زبان کو سکون پہنچا تھا اور وہ خاموش ہوئ تھی

سمبل اپنے بچو سمیت باہر آئ

میں آگے بیٹھوں گا عادل بولا

آپ کو نظر نہیں آرہا مامی بیٹھی ہوئی ہے میرب مسکراتے ہوئے بولی

لیکن غصہ صاف نظر آرہا تھا۔

آؤ بیٹھو عادل سبحان بولا

سبحان اسے میں اپنے سر پر بیٹھاؤں گی میرب سبحان کو غصے سے بولی

اپنی گود میں بیٹھاؤ سر پر بیٹھا نے کی ضرورت نہیں ہے سبحان بولا