Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan NovelR50436 Qasoor-e-Ishq Episode 12
Rate this Novel
Qasoor-e-Ishq Episode 12
Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan
عرش مجھے بھوک لگی ہے عمل عرش کو دیکھ کر معصومیت سے بولی
جبکہ عرش اسے میتھ سمجھا سمجھا کر تھک گیا تھا
سمجھ آئ ہے کچھ یا بس کھانے کی طرف دماغ تھا عرش عمل سے بولا
آئ ہے نہ عمل جلدی سے بولی
یہ تو پھر بہت اچھی بات عرش بک بند کرتا ہوا بولا
میری چھٹی عمل عرش سے بولی
جی جناب آپ کی چھٹی عرش کھڑا ہوتے ہوئے بولا
عمل بنا اپنی کتاب اٹھاۓ کھڑی ہوئ اور سیدھا باتھروم میں جانے لگی
کدھر جارہی ہو عرش عمل سے بولا کیونکہ اسے بھوک لگی تھی
وضو کرنے کیونکہ میں نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی عمل اپنے قمیص کے بازو اوپر کرتے ہوئے بولی
کھانا کھانے کے بعد پڑھ لو عرش بولا کیونکہ ابھی اسنے چینج کرنا تھا
نہیں کھانا کھانے کے بعد مجھے نیند آتی ہے عمل جانے لگی
اوۓ پھر ویٹ کرو پہلے میں جاؤں گا عرش دور بولا کیونکہ عمل واشروم کے قریب تھی
عرش نہیں نہ عمل بول کر واشروم کی طرف دوڑی کیونکہ عرش باتوں باتوں میں اسکے قریب آرہا تھا تاکہ وہ اسے پکڑ کر سائیڈ پر کرے اور خود چلا جاۓ
واؤ ایک تو میڈم کو پڑھاؤ اوپر سے میری بات بھی نہیں سنتی عرش اونچی آواز میں بولا
اور پھر بیٹھ گیا
ٹھیک پانچ منٹ میں عمل وضو کر کے باہر آئ اور عرش کو دیکھ کر مسکرانے لگی
عرش چلتا ہوا اسکے قریب آیا اور ایسا ریاکٹ کیا جیسے اسے تھپڑ مارنے والا ہے
عمل نے ایکدم سر نیچے کیا تاکہ بچ جاۓ عمل کی اس حرکت پر عرش ہنسنے لگا
مزاق کررہا تھا عرش بول کر واشروم چلا گیا
عمل تو عرش کو جاتا ہوا دیکھتی رہ گئ تھی کہ یہ بندہ بھی مزاق کرتا ہے
سبحان سے کیا تماشہ صبح صبح سب نے لگایا ہے میرب اٹھ کر سبحان کو دیکھتے ہوئے بولی
جو شیشے کے آگے کھڑا اپنے بالوں کو سیٹ کر رہا تھا میرب یہ صبح نہیں ہے دس ہوگۓ ہیں اسلیۓ عادل اور امبر ہمیں بلا رہے ہیں سبحان میرب سے بولا جو کافی غصے میں تھی
میں یہ تماشے برداشت نہیں کرسکتی جو تمہاری بہن اور اسکے بچے کرتے ہیں میرب غصے سے بول کر بیڈ سے اٹھی اور دروازا کھولا
تمیز نہیں سیکھائیں تم لوگوں کو تم لوگوں کی ماں نے جو دروازے کو جانوروں کی طرح پیٹ رہے ہو میرب غصے سے عادل کو بول رہی تھی
میرب وہ ہمیں ہی جگانے آیا ہے اسلیۓ اپنی زبان کو سنبھالو سبحان میرب کو آنکھیں دیکھاتا ہوا بولا
شٹ اپ سبحان سوئی ہوئی تھی میں تم سے اتنا نہیں ہوا کہ انھیں چپ کرواؤ الٹا انھی کی سائیڈ لے رہے ہو میرب چیختے ہوۓ بولی
ممتاز صاحبہ سویرا سمبل سب آگۓ تھے ان کا شور سن کر
میں بکواس بند کروں سبحان نے بولتے ساتھ ہی الٹے ہاتھ کا تھپڑ میرب کے منہ پر مارا
سبحان یہ کیا کررہے ہو ممتاز صاحبہ آگے ہوتے ہوئے بولی
یہ لاڈلہ پن اپنے باپ کے گھر ختم کر کے آتی کیونکہ ادھر یہ نخرے اٹھانے والا کوئ نہیں ہے سبحان میرب سے بولا جو ممتاز صاحبہ کے پیچھے کھڑی تھی
شرم آنی چاہیۓ سبحان تمھیں ایسے کون اپنی بیوی پر ہاتھ اٹھاتا ہے میری بھی شادی کو آٹھ سال ہوگئے ہیں پر یقین کرو آج تک حاشر نے مجھ پر ہاتھ نہیں اٹھایا سمبل اپنے شوہر کا ذکر کرتے ہوئے بولی
تو سمبل تمہاری زبان بھی تو اسکی طرح لمبی نہیں ہے سبحان میرب کی طرف دیکھتے ہوئے بولا کیونکہ کافی دنوں سے وہ اسکی بدتمیزیوں کو برداشت کر رہا تھا
آپ اور آپ کے جنگلی بچو کی وجہ سے سبحان نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا میرب سمبل سے بدتمیزی کرتے ہوئے بولی
بات سنو میری بی بی یہ جو کچھ تمہارے ساتھ ہوا ہے اسکی خود تم زمہ دار ہو سمجھی مجھے اور میرے بچو کو گھسیٹنے کی ضرورت نہیں ہے سمبل بھی آگے سے بولی
سب چپ ہو جاؤ اور چلو آؤ ناشتہ کرو ممتاز صاحبہ میرب کا ہاتھ پکڑتے ہوئے باہر لے جانے لگی
چھوڑیں میرا ہاتھ میرب غصے سے اپنا ہاتھ چھوڑواتے ہوئے بولی
ممتاز صاحبہ کو کافی برا برا لگا تھا میرب کے یوں کرنے پر لیکن بے چاری اب کیا کرتی
اچھا چلو تم لوگ تو آؤ ناشتے کے لیۓ میرب کو سونے دو
نہیں سونا میں نے جائیں یہاں سے اب میرب بیٹھتے ہوئے بولی
چلو عادل آئیندہ اس روم میں آنے کی ضرورت نہیں ہے سمبل عادل کو بازو سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئ
سبحان بھی باہر چلا گیا
میرا سکون تباہ و برباد کر کے رکھا ہے اس گھر کے جاہل بندو نے میرب موبائل اٹھاتے ہوئے بولی
جبکہ اسے پتہ نہیں تھا اپنا سکون اسنے خود ہی تباہ و برباد کیا ہوا ہے
عرش میں نے سکول جانا ہے اپنے کچھ ڈاکومنٹس پورے کرنے عمل عرش سے بولی
کیونکہ عرش نے رات میں ہی اسے کہ دیا تھا آئیندہ جو کام ہو وہ اسے لازمی بتاۓ
اوکے لے جاؤں گا تیار ہو جاؤ عرش ناشتہ کرتے ہوئے بولا
عمل کھڑی ہوئ اوکے میں جارتی ہوں دس منٹ میں آتی ہوں
ناشتہ عرش عمل کی پلیٹ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
ابھی موڈ نہیں ہے سکول میں ہی کچھ کھالوں گی زمل کے ساتھ عمل بولی
اوکے عرش جانتا تھا عمل بھوکی نہیں رہ سکتی اسلیۓ کچھ نہ کچھ لازمی کھاۓ گی
کیا پہنوں عمل کپڑوں کو دیکھتے ہوئے بولی جہاں تقریباً لائین سے بیس پچیس جوڑے لٹکے ہوئے تھے
ہممم یہ پہنتی ہوں عمل ایک سوٹ نکالتے ہوئے بولی اور ساتھ ڈریسنگ روم کی طرف گئ تاکہ چینج کر لے
عرش گاڑی میں بیٹھا عمل کا ویٹ کر رہا تھا
کیونکہ بیس منٹ سے زیادا ہوگۓ تھے وہ ابھی تک نہیں آئ تھی
اس لڑکی کو تو فون لازمی لاکر دینا پڑے گا عرش خود سے بولا
عمل باہر آئ جس نے گھٹنوں تک آتی وائیٹ کلر کی شرٹ پہنی ٹخنوں تک کیپری اور گلے میں یلو کلر کا دوپٹہ پینا ہوا تھا
اور لائٹ لائٹ میکپ بھی کیا تھا عرش اسے دیکھتا رہ گیا تھا کیونکہ اس کے گورے رنگ پر یہ کلر بہت زیادہ سوٹ کررہا تھا اور عمل بلکل عنیقہ کی کاپی لگ رہی تھی بس فرق تھا تو ہائیٹ کا تھا عمل کی ہائیٹ عنیقہ سے تھوڑی چھوٹی تھی
کدھر جارہی ہو تم میرب اپنی سن گلاسس اتارتے ہوئے عمل سے بولی
آپی میں سکول جارہی ہوں کیونکہ میرا کام ہے
ہاں جانتی ہوں تمہارے اور تمہاری بہن کے کام میرب طنزیہ بولی
عمل خاموشی سے عرش کی طرف دیکھنے لگی اور ایک ہاتھ اپنے چہرے کے اوپر کیا تھا کیونکہ دھوپ لگ رہی تھی اسے
عرش اپنا فون سیٹ پر پھینکتے ہوۓ باہر آیا
عمل جاؤ بیٹھو گاڑی میں عرش عمل کو دیکھتے ہوئے بولا
جی عمل سیدھا چلی گئ
صیح ہے میرے بھائ کمال کا ظرف رکھتے ہو تم میرب عرش سے بولی
میرب عمل کے ساتھ کوئ بھی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے تمھیں سمجھ آئ عرش میرب سے بولا
ہاں جب وہ بھاگ جاۓ یا کسی کے ساتھ منہ کالا کروا لے تو میرے طلاق کے کاغذات بھی خود دیکھ لینا میرب بول کر غصے سے اندر چلی گئ
جبکے عرش کا دماغ طلاق کی طرف اٹک گیا تھا
عرش عمل نے آواز دی
ہاں عرش کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
آئیں نہ عمل گاڑی کے شیشے سے منہ باہر کرتے ہوئے بولی
عرش گاڑی کی طرف گیا اور دروازا کھول کر بیٹھ گیا
عرش نے گاڑی سٹارٹ کی اور سکول کی طرف روانہ کی
عرش میرب آپی ہر بات پر مجھے عنیقہ کا طعنہ دیتی ہیں حالانکہ میں نے تو آج تک انکے ساتھ کوی مس بیہوو نہیں کیا عمل خفگی سے بولی
عمل لوگ ذہنی مریض حالات کی وجہ سے نہیں بنتے بلکہ خیالات کی وجہ سے بنتے ہیں
اسلیۓ میرب کی باتوں کو اگنور کرو کیونکہ میں تمہارے ساتھ ہوں عرش عمل کو دیکھتے ہوئے بولا
جی عمل نیچے دیکھتے ہوئے بولی
اور ہاں عمل اپنے اس چھوٹے سے دماغ پر زیادا زور نہ لگاؤ اگر بہت شوق ہے تو پڑھائ کی طرف سے لگاؤ
عرش مسکراتے ہوئے بولا
وہ تو لگاتی ہوں عمل بھی مسکراتے ہوئے بولی
لو جی آپ کا سکول بھی آگیا عرش بریک لگاتے ہوئے بولا
ہاۓ میرا سکول عمل خوش ہوتے ہوۓ بولی
ہاۓ تمہارا سکول عرش اسکی نقل اتارتے ہوئے بولا
اچھا بتاؤ زرا ابھی یہی روکوں یا پھر تھوڑی دیر بعد آؤں عرش بولا
نہیں آپ مجھے بابا کے گھر سے پک کر لیجۓ گا میں زمل کے ساتھ ہی گھر جاؤں گی کیونکہ بہت دنوں سے انھیں نہیں دیکھا عمل بولی
نو میں یہی ہوں اپنی چیزیں پوری کرو اور باہر آؤ
عرش انکار کرتے ہوئے بولا
عرش میں نے کچھ کھایا نہیں ہے عمل منہ بنا کر بولی
تو عرش حیرانگی سے بولا
میں سکول میں کھاؤں گی ڈاکومنٹس پورے کروں گی تو دیر ہوجاۓ گی
تم بس ڈاکومنٹس پورے کرو جو کھانا ہوا میں کھیلا دوں گا عرش بولا
نہیں نہ میں نے کینٹین سے ہی کھانا ہے عمل ضد کرتے ہوئے بولی
اوکے میں آدھے گھنٹے تک آجاؤں گا لینے جو کرنا ہے کرو اتنی دیر میں لیکن اپنے گھر نہیں جانا عرش بولا
اوکے عمل منہ بنا کر اتری
عمل عرش نے آواز لگائی
کیا ہے عمل منہ بنا کر بولی
اس دوپٹے کو اپنے سر پر فولڈ کرو جس طرح لڑکیاں کرتی ہے نہ عرش ہاتھوں سے بتاتے ہوئے بولا
اچھا عمل ڈوپٹے سے اپنے سر کو ڈھانپنے لگی
واؤ اب زیادا پیاری لگ رہی ہو عرش اپنے والٹ سے پیسے نکالتا ہوا بولا
تھینکس عمل مسکراتے ہوئے بولی کیونکہ عمل کو اچھا لگا تھا جب عرش نے اسے حجاب کرنے کو کہا
یہ پیسے لو عرش پیسے دیتے ہوئے بولا
عمل عرش کو دیکھتی پھر پیسو کو کیونکہ اسنے کبھی بھی اپنے بابا کے علاؤہ کسی سے پیسے نہیں لیۓ تھے
لے لو کیونکہ اب سے مجھے ہی تمہارے خرچے اٹھانے ہے عرش مسکراتا ہوا بولا
تو عمل نے لے لیۓ
ماما آپ لوگ بہت اچھا کررہے ہیں میرب مہناز صاحبہ سے بولی
کیوں کیا ہوا مہناز صاحبہ تسبیح رکھتے ہوئے بولی
پڑھائیں اپنی بہو کو پھر نۓ نۓ تماشے دیکھیں میرب بولی
میرب تمہارا اب اس گھر سے کوئ لینا دینا نہیں ہے یہاں آؤ اچھے سے ملو اور جاؤ
عرش جو کرتا ہے کرنے دو کیونکہ عمل اسکی بیوی ہے وہ جو بھی فیصلہ لیتا ہے سوچ سمجھ کر ہی لیتا ہوگا
اسلیۓ میں بھی نہیں بولتی ان دونوں کے معاملے میں اور تم بھی نہ بولو
مہناز صاحبہ بولی
میرب خاموش ہو گئی کیونکہ آگے بولنے کو کچھ تھا ہی نہیں
سبحان نہیں آیا ایک دفعہ بھی کیوں مہناز صاحبہ بولی
بہت زیادا چمچہ بنا ہوا ہے اپنی ماں اور بہنوں کا اسلیۓ فرصت ہی نہیں ملی یہاں آنے کی میرب غصے سے بولی
کیوں بیٹا خیر تو ہے نہ مہناز صاحبہ ٹیک چھوڑتے ہوئے بولی
نہیں ماما بس اب یہ کوشش کروں گی الگ ہو جائیں ہم لوگ ان سے میرب بولی
بیٹا اگر تمہاری ساس ٹھیک نہیں ہے تو نکلو اس گھر سے
اور اگر تم کہو تو میں عرش سے کہوں ایک اچھے سے فلیٹ کا بندوبست کردے مہناز صاحبہ بولی
ایسے تو سبحان نہیں جاۓ گا فلیٹ میں کچھ کرنا ہوگا مجھے میرب سوچتے ہوۓ بولی
ہممم مہناز صاحبہ بول
عرش موبائل والی شوپ پر آیا تھا اور اپنے ہی فون جیسا فون لے رہا تھا
سر یہ والا فون تو نہیں ہے نیو برینڈ کا فون آیا ہے شوپ کیپر بولا
دیکھا دیں عرش بولا
یہ رہا سر شوپ کیپر فون کا ڈبہ دیکھاتے ہوئے بولا
اوکے یہ پیک کر دیں عرش بولا اور اپنا کریڈٹ کارڈ نکالنے لگا
اوکے سر
میں اور کتنے دن تک اکیلی رہوں گی عنیقہ میں بنا کر بولی کیونکہ وہ اکیلی تھی آج گھر میں آرت کسی کام کا کہ کر باہر گیا ہوا تھا
عنیقہ کچن میں جانے لگی تاکہ کام ہی دیکھ لے گھر کا کوئ جب اسے آرت کی کال آئی
اسنے کال پک کی
عنیقہ جو ڈریس میں نے اس دن تمھیں لے کر دیا تھا وہ پہن کر اچھا سا تیار ہونا آرت بولا
اسلام علیکم آرت پہلے سلام کرتے ہیں عنیقہ سلام کرتے ہوۓ آرت سے بولی
اووو سوری وعلیکم السلام آرت مسکراتے ہوئے بولا
اوکے ہو جاؤں گی تیار عنیقہ بھی مسکراتے ہوئے بولی
گڈ گرل آرت نے بولتے ساتھ ہی کال کاٹ دی
کوئ حال نہیں ہے آرت آپ کا عنیقہ فون کو دیکھتے ہوئے بولی
کیونکہ ابھی بھی اسنے بغیر اللہ حافظ کہے کال کاٹ دی تھی
عرش سکول کے باہر کھڑا ویٹ کررہا تھا عمل کا لیکن وہ ابھی تک باہر نہیں آئ تھی
عرش لیٹ ہوگیا تھا عمل کو پک کرنے میں کیونکہ موبائل لینے کے بعد تھوڑی دیر آفس کا چکر لگانے بھی گیا تھا
اب عرش گاڑی سے نکل کر سکول کی طرف گیا تاکہ وہ عمل کو بلا لے
عرش ویٹنگ روم میں بیٹھا عمل کا ویٹ کر رہا تھا جب ایک آدمی آیا اور اسنے بتایا کہ وہ چلی گئیں ہیں کیونکہ سارے بچوں کو چھٹی ہوگئ ہے
اوکے تھینکیو عرش بول کر باہر نکل گیا
اور کافی غصے بھی اسے آیا تھا
میری بات کی کوئ اہمیت ہی نہیں ہے عمل کی نظر میں عرش بول کر گاڑی میں۔ بیٹھا اور زور سے دروازے کو بند کر کے حسن صاحب کے گھر کی طرف گاڑی موڑی
فریدہ بیگم آج کتنے دنوں بعد میری بچی آئی ہے اسکے لیۓ وہ سب کھانے کے لیۓ بناؤ جو اسے پسند ہے حسن صاحب عمل کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے
بابا میں تو گاجر کا حلوہ کھاؤں گی وہ بھی آپ کے ہاتھ کا عمل ہنستے ہوئے بولی
عمل اور عنیقہ اکثر حسن صاحب سے گاجر کا حلوا بنواتی تھی
بیٹا آپ کو بھی میری ہیلپ کروانی ہوگی پھر حسن صاحب مسکراتے ہوئے بولے
میں تو مہمان ہوں نہ آپ اور ماما میرے لیۓ بنائیں گیں اور میں ٹی وی دیکھوں گی کیونکہ عرش نے مجھے ٹی وی نہیں دیکھنے دینا عمل صوفوں پر پاؤں سمیٹ کر بیٹھ گئ اور ریموٹ کو پکڑ لیا۔
بیٹا وہ پھر کبھی بنادیں گیں یا پھر جب تمہارے پیپر ہو جائیں تب ٹھیک ہے فریدہ صاحبہ بولی
اوکے عمل منہ بنا کر بولی
نہیں فریدہ آج ہی بنائیں گیں بلکے ابھی بنائیں گیں
میں باہر سے سامان لے آتا ہوں حسن صاحب بولے
چلیں پھر جلدی سے لے آئیں فریدہ صاحبہ عمل کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
ہاہاہا لو یو عمل فلائنگ کس دیتے ہوئے بولی
لو یو ٹو بابا کی جان حسن صاحب بھی مسکرا کر بولے پھر باہر نکل گۓ
حسن صاحب کے جاتے ہی فریدہ صاحبہ عمل کے قریب بیٹھی
بیٹا عرش کا رویہ کیسا ہے تمہارے ساتھ فریدہ صاحبہ بولی
ان کا رویہ تو بہت اچھا ہے میرے ساتھ عمل بولی
شادی کے دن سے لے کر ابھی تک تمھیں کچھ نہیں کہا فریدہ صاحبہ کنفرم کرتے ہوئے بولی کیونکہ وہ واقف تھی عرش کی حرکتوں سے
نہیں نہ ماما عمل بولی
کیونکہ بیتے ہوئے کل کو اسنے گھسیٹ کر کیا کرنا تھا عرش کا رویہ اب اسکے ساتھ ٹھیک ہو گیا تھا یہی بہت تھا اسکے لیۓ
مہناز اور میرب کیسی ہیں تمہارے ساتھ
میرب آپی طعنے دیتی رہتی ہیں اکثر عنیقہ کے عمل افسوس سے بولی
میرب تمھیں طعنے دیتی ہے فریدہ صاحبہ پریشانی سے بولی
عمل بولنے ہی والی تھی اسکے پاس عرش کا سپورٹ ہے
لیکن عرش اندر آگیا
عنیقہ نے وہ کپڑے پہنے ہوۓ تھے اور وہ ان کپڑوں میں بہت ان کمفرٹیبل فیل کر رہی تھی کیونکہ جو ٹاپ عنیقہ نے پہنا ہوا تھا اسکے کندھوں سے آگے بازو نہیں تھے
گھوٹنوں تک آتا وہ ٹاپ تھا
جس سے اسکی ٹانگیں بھی ساتھ نظر آرہی تھی تقریباً مغربی ملک کی لڑکیوں جیسا لباس تھا
وہ تیار بیٹھی ہوئی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا آخر آرت نے اسے کیوں یہ کپڑے پہننے کو بولا
گھر کی بیل بجنے لگی
او یار اب دروازا بھی کھولنا پڑے گا عنیقہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی
اب کی بار تو بیل پر ہاتھ ہی رکھ دیا تھا
عنیقہ نے فٹافٹ ایک چادر اٹھائی اور اپنے ساتھ لپیٹ کر باہر نکل گئ
اتنی دیر کیوں لگائ دروازا کھولتے ساتھ ہی آرت بولا
آرہی تھی نہ میں عنیقہ منہ بنا کر بولی
اچھا بے بی غصہ کیوں ہورہی ہو آرت مسکراتے ہوئے بولا
اور اندر آیا
آرت یہ کیا لائیں ہیں آپ عنیقہ آرت کے ہاتھ میں پھول گفٹس اور بھی چیزیں دیکھتے ہوئے بولی
تمہاری برتھ ڈے ہے میری جان تم بھول سکتی ہو لیکن تمہارا شوہر نہیں آرت مسکراتے ہوئے بولا
آرت آج میری برتھ ڈے ہے عنیقہ خوشی سے بولی
ہاں نہ آرت بولا
آرت میں یقین نہیں کرسکتی آپ میری برتھ ڈے کو بھی یاد رکھ سکتے ہیں عنیقہ کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو آگۓ
رونا نہیں میری جان اتنا اچھا دن ہے اور تم ایسے رو کے برباد کررہی ہو آرت پیار سے سمجھاتے ہوئے بولی
میری بہن تمھیں طعنے دیتی ہے واہ عمل عرش غصے سے بولا
عرش آپ عمل حیرانگی اور پریشانی سے بولی کیونکہ اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے
تمہارے میں بھی ساری حرکتیں عنیقہ کی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہیں
عرش عمل کے قریب آتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی اسکا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف گھسیٹنے لگا
عرش چھوڑو میری بیٹی کو فریدہ صاحبہ بولی
اگر اتنی ہی فکر ہے نہ اپنی بیٹی کی تو میرے بابا کے سامنے ایک دفعہ کہیں کے ہم اپنی عمل لے جانا چاہتے ہیں پھر دیکھیں میں کیسے آپ کی بیٹی کو چھوڑتا ہوں عرش بولتے ساتھ ہی عمل کو لے گیا
جب کہ عمل کا دل پھٹ رہا تھا عرش کے الفاظوں سے کے وہ اسے چھوڑ بھی سکتا ہے
اور ساتھ ہی اسکی حالت مرنے والی بھی ہوئ تھی
کہ عرش کیا کرے گا اسکے ساتھ
