Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan NovelR50436 Qasoor-e-Ishq Episode 6
Rate this Novel
Qasoor-e-Ishq Episode 6
Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan
ظفر آپ گھر آئیں کام ہے آپ سے مہناز صاحبہ فون پر بولی
خیریت تو ہے جو اتنی جلدی گھر بلوا رہی ہو ظفر صاحب بولے
جی بس کچھ لوگ میرب کو دیکھنے آئیں ہیں مہناز صاحبہ بولی
اچھا عرش آگیا ہے ظفر صاحب بولیں
آگیا ہے وہ بھی
اچھا چلیں میں بھی آتا ہوں ظفر صاحب نے بول کر کال کاٹ دی
جبکے مہناز صاحبہ کو پریشانی نے آگھیرا
عرش جیسے اپنے روم میں آیا
تو اپنے ہاتھ میں پکڑے ہوئے کوٹ کو دور سے ہی لہراتے ہوئے بیڈ پر پھینک دیا
اور بنا اپنا ٹائیم ویسٹ کیۓ فریش ہونے واشروم میں چلا گیا
کیونکہ آج اسنے عنیقہ کی اور اپنی شاپنگ کرنی تھی
میرب سبحان کی فیملی کے سامنے بیٹھی ہوئی تھی ممتاز صاحبہ کو تو میرب بہت اچھی لگی تھی
کھانا بنانا آتا ہے یا نہیں سمبل میرب کو دیکھتے ہوئے بولی
جی سب کچھ آتا ہے بنانے میرب بولی
بھابھی جب تک میں ہوں تب تک تو آپ کچن کا راستہ ہی بھول جائیں سویرا مسکراتے ہوئے بولی
تو میرب بھی آگے سے مسکرانے لگی
ممتاز صاحبہ بس میرب کو ہی دیکھے جارہی تھی
اسے دیکھ کر کوئی بھی نہیں کہ سکتا تھا کے میرب کچن میں بھی گئ ہو گی
مہناز صاحبہ جیسے باہر آئ سمبل نے دیکھتے ساتھ ہی اپنی تقریر شروع کر دی
ہمارے گھر تو کوئ میڈ نہیں ہے سارے کام خود کرنے ہوتے ہیں صفائ سے برتن اور برتن سے کھانے تک سارےےے کام خود کرنے ہوتے ہیں سمبل مسکرا کر بولی
مہناز صاحبہ افسوس سے اپنی بیٹی کو گھورنے لگی
ظفر صاحب بھی آگۓ تھے انہوں نے ان سب کو سلام کیا پھر مہناز صاحبہ کے ساتھ روم میں چلے گۓ
جاؤ میرب آپ کے بابا کوئ امپورٹنٹ بات کر رہے ہوں گیں اسی وجہ سے تو وہ اندر گۓ ہیں آپ بھی جاؤ سمبل مسکراتے ہوئے میرب کو اندر بھیجنے لگی
جی میرب بھی اٹھ کر چلی گئ
سمبل یہ کیا طریقہ ہے ہم سارے کام خود کہاں کرتے ہیں ہمارے گھر ایک میڈ تو ہے ہی ممتاز صاحبہ غصے سے بولی
امی وہ میڈ آپ کے کام کے لیۓ ہے میرب کے لیۓ نہیں ہے ابھی سے ساری بات کلئیر ہو جانی چاہیۓ تاکہ یہ کوئ بڑی آس نہ لگا کر بیٹھ جاۓ
سمبل بولی
اگر انہوں نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا پھر سویرا پریشانی سے بولی
تم زارا میری بات سنو سمبل سویرا سے بولی
جی سویرا ڈرتے ہوئے بولی کیونکہ وہ جانتی تھی اسکی کلاس لگنے والی ہے
جب تک میں ہوں تب تک آپ کچن میں نہیں جائیں گی سمبل سویرا کی نقل اتارتے ہوئے بولی
یہ ڈائیلاگ مارنے کی کیا ضرورت تھی ہاں سمبل آہستہ آواز میں غصے سے بولی
سوری آئیندہ ایسا نہیں ہوگا سویرا منہ بنا کر بولی
کیونکہ سویرا سمبل کے ساتھ کہیں بھی جاتی تو بیستی لازمی ہوتی
بس کر دو سمبل کسی کے گھر بیٹھیں ہیں ممتاز صاحبہ بولی
ہاں اب تو آپ لوگ مجھے ہی چپ کروائیں اسکی حرکتیں نہ دیکھیں سمبل غصے سے بولی
ماما بھوک لگ رہی ہے امبر دیڑھ سال کی ماصوم بچی بولی
سویرا دو اسکی چیزیں بیگ سے نکال کر سمبل آرڈر دیتے ہوئے بولی
لیکن آپ نے تو مجھے نہیں کہا تھا کوئ بھی چیز اٹھانے کو سویرا ڈرتے ہوۓ بولی
پٹاخ سمبل نے امبر کی موٹی موٹی گالوں پر اپنا ہاتھ چھاپ دیا
یہ کیا کر رہی ہو سمبل ممتاز صاحبہ ایکدم کھڑی ہوئ اور امبر کو اپنی گود میں اٹھایا
مجھے کھا جاۓ یہ سمبل غصے سے بولی
جبکے امبر اپنی نانو کے ساتھ لپٹ کر ہلکی آواز میں رو رہی تھی
تمہارے ساتھ میں کچھ بھی نہیں کرسکتی ممتاز صاحبہ افسوس سے بولی
عرش نہا کر نکلا تو اسنے بلیک جینز اور اسی کے اوپر بلیک شرٹ پہنی ہوئی تھی
ڈریسنگ کے سامنے آیا تو اسکے بالوں میں سے تھوڑا تھوڑا پانی گر رہا تھا
جسے اسنے ڈرائیر کے ساتھ خشک کردیا
پھر اسنے اپنے بالوں میں برش لگایا
اور پرفیوم اٹھا کر لگا کم اور گرا زیادا رہا تھا کپڑوں پر
کیونکہ عرش کو پرفیوم بہت زیادا پسند ہیں اسی لیۓ اسکی ڈریسنگ پر بھی پچیس تیس بوتلیں پرفیوم کی تھی
عرش نے پرفیوم کی بمبار اپنی شرٹ پر کرنے کے بعد شرٹ کے بازو فولڈ کیۓ
اور ایک بار پھر اپنے آپ کو شیشے میں پورا دیکھا
اسکی لمبی بڑی آنکھوں پر گھنی پلکے
لمبی پتلی ناک چہرے پر ڈیزائن سے داڑھی بنوائی ہوئ تھی
اور مونچھیں بھی ہلکی ہلکی رکھی تھی جو اس پر کافی زیادا پیاری لگتی تھی
عرش اپنا والٹ کیز ائیر فونزاور فون اٹھا کر جیسے باہر نکلا تو میڈ سر پر آگئ
عرش صاحب آپ کو نیچے بڑے صاحب بلا رہے ہیں میڈ بولی
صاحب بول دیا کریں لیکن بڑے صاحب نہ بولا کریں اوکے عرش بول کر تین تین سیڑھیاں ٹاپ کر سیدھا اپنے بابا کے روم میں بھاگا
عنیقہ گھر آئ تو اسے بہت زیادہ غصہ آرہا تھا کے کیوں وہ آرت کے ساتھ گئ تھی
اور یہی افسوس اسے کھایا جارہا تھا
گھر میں بھی تیاریاں شروع ہوگئی تھی نکاح کی
کیونکہ پرسو نکاح تھا
ماما یہ سب کیا کر رہی ہیں آپ عنیقہ چڑتے ہوئے بولی
بیٹا صفائیاں کروا رہی ہوں آج مہمانوں نے آنا ہے
اچھا عنیقہ بیزاری سے بولی
عمل کہاں ہے ماما
وہ احیان کے ساتھ شاپنگ مال گئ ہے صبح کی
کال کرنا زرا میں اس لڑکی کی خبر لوں فریدہ صاحبہ غصے سے بولی
جی عنیقہ نے احیان کو کال ملائ
عمل کال ریسیو کرو احیان ڈرائیو کرتے ہوئے بولا
اچھا عمل نے جیسے فون اٹھایا تو عنیقہ کی کال آرہی تھی
احیان بھائ آپ خود بات کریں پلیزززززززززززززز یہ عنیقہ نہیں ماما ہیں
وہ مجھے بہت ڈانٹیں گیں عمل پریشانی سے بولی
ہاہاہا اچھا
اسلام علیکم کال ریسیو ہوتے ہی فریدہ صاحبہ بولی
وعلیکم السلام خالہ
بیٹا کب تک آؤ گے گھر اس لڑکی کی وجہ سے تم بے چارے پورا پورا دن بازاروں میں گزار دیتے ہو
فریدہ صاحبہ عمل کا نام لیتے ہوئے غصے میں بولی
نہیں خالہ جان ایسی کوئ بات نہیں ہے
عمل کی شاپنگ تو ایک گھنٹے میں ہی کلئیر ہوگئ تھی میں کر رہا تھا شاپنگ ماما اور سمارا کے لیۓ
اور بس وہ بھی ہوگئ آپ ٹینشن نہ لیں ہم بھی پہنچنے والیں ہیں
اچھا چلو صیح ہے بیٹا بس اس عمل نے تمھیں بہت پریشان کیا ہے
نہیں نہیں آنٹی اس بے چاری نے مجھے کہاں تنگ کیا ہے
ہممم فریدہ صاحبہ بولی
کیا ہوا بابا عرش روم میں آتے ہوئے بولا
بیٹا باہر لوگ آئیں ہوۓ ہیں تم نے دیکھے تو ہونگیں
ظفر صاحب بولے
جی جی دیکھیں ہے عرش کو بچو والا سین یاد آگیا جب عادل نے امبر کو مارا تھا اسلیۓ بیزاری سے بولا
وہ میرب کے رشتے کے لیۓ آئیں ہیں
وٹ عرش حیرانگی سے بولا
جی بیٹا یہ آپ کی بہن کے لیۓ آئیں ہیں
اور میرب یہی شادی کرنا چاہتی ہے
ظفر صاحب بولیں
بابا آپ پہلی فرصت میں ان کو بھیجیں میرب سے میں خود بات کرتا ہوں عرش بولا
عرش تمہاری ماما نے میرب کو بہت سمجھایا ہے لیکن وہ نہیں مان رہی اب ہم کوئ زود زبردستی نہیں کرسکتے
تو ہم ہاں کردے اس رشتے کے لیۓ عرش پریشانی سے بولا
پتا نہیں ظفر صاحب بھی پریشانی سے بیڈ پر بیٹھتے ہوئے بولے
میرب اپنے روم میں تھی
وہ ان کے پاس نہیں آئ تھی
عرش بنا کچھ کہے میرب کے پاس گیا
عمل اور احیان گھر آگۓ تھے
فریدہ صاحبہ انہی کے انتظار میں باہر بیٹھی ہوئی تھی
اور گھر سارا اجڑا ہوا تھا
اللہ ماما اس گھر کا کیا حشر کیا ہوا ہے عمل منہ کھولے پورے گھر کو دیکھتے ہوئے بولی
عمل سارے رشتے دار آنے والے ہیں اسلیۓ صفائیاں ہو رہی ہیں
احیان بیٹا تم روم میں جاؤ یہاں بہت گند ہے فریدہ صاحبہ احیان کو دیکھتے ہوئے بولی
جو رومال اپنے منہ پر رکھے ہوئے کھڑا تھا
جی آنٹی احیان سیدھا اپنے روم میں بھاگا
ماما یہ کام میں ان کے ساتھ کرواؤں گی
آپ اچھا سا کھانا بنائیں کیونکہ کام کرنے کے بعد مجھے بھوک بہت زورو کی لگتی ہے
عمل اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی
اچھا فریدہ صاحبہ کچن میں چلی گئ
وہ جانتی تھی عمل سارا کام دیکھ لے گی کیونکہ فریدہ صاحبہ نے اپنی دونوں بیٹیوں کو گھر داری سیکھای ہوئ تھی
عمل نے اتارا اپنا دوپٹہ اور میڈ کے ساتھ سارے صوفوں کو دھکا لگانا شروع کیا
میرب میری گڑیا انِ لوگوں میں کبھی آپ ارجسٹ نہیں کر پاو گی
عرش میرب کے پاس بیٹھا ہوا تھا اور پچھلے بیس منٹ سے اسے یہی سمجھا رہا تھا لیکن میرب بالکل خاموش تھی
کیونکہ اب اپنے بھائ سے تو نہیں کہ سکتی تھی کے میں اسے پسند کرتی ہوں
میرب ٹھیک ہے ہم ہاں کر رہے ہیں اس رشتے کے لیۓ عرش غصے سے بولا
میرب نے ایکدم عرش کی طرف دیکھا
لیکن میری بات یاد رکھنا شادی کے بعد تم یہ نہیں کہو گی میرے سسرال والوں نے ایسا کیا اور ویسا کیا سمجھی
عرش غصے سے بول کر روم سے نکل گیا
باجی مہمان جارہے ہیں
میڈ روم میں آتے ہوئے جلدی میں بولی
کیوں وہ کیوں جارہے ہیں مہناز صاحبہ کھڑی ہوتے ہوئے بولی
پتہ نہی باجی میڈ بول کر چلی گئ
بابا ماما ہاں کردیں کیونکہ میرب نے ادھر ہی شادی کرنی ہے
بیٹا لیکن وہ لوگ ظفر صاحب اپنی اکلوتی بیٹی کے لیۓ پریشانی سے بولے
بابا آپ کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے
میرب وہاں بالکل پریشان نہیں ہوگی کیونکہ لڑکا اچھا ہے
عرش تسلی دیتے ہوئے بولا
تمھیں کیسے پتہ ہے بیٹا ظفر صاحب بولیں
میں نے شمس کو کچھ ہی دیر پہلے کال کی تھی
اور لڑکے کے بارے میں جاننے کے لیۓ کہا عرش بولا
ظفر صاحب اور مہناز صاحبہ باہر گۓ تو سمبل زبردستی سب کو اٹھا رہی تھی
کے گھر چلتے ہیں لیکن ممتاز صاحبہ نہیں اٹھی
بیٹھ جاؤ بیٹا ضروری بات کرنی ہے
ظفر صاحب سمبل کو دیکھتے ہوئے بولے
سمبل بنا کچھ کہے بیٹھ گئ
میں اپنی بیٹی آپ لوگوں کو دے رہا ہوں
ظفر صاحب دکھی انداز میں بولے
ممتاز صاحبہ حیران رہ گئ تھی کے اتنی جلدی رشتے کے لیۓ ہاں کر دی
کل مہندی ہوگی پرسو بارات مہناز صاحبہ بولی
اتنی جلدی سب پریشان ہو گئے ظفر سمیت
جی کیونکہ پرسو میرے بیٹے کا بھی نکاح ہے اسلیۓ میں دونوں کا ایک ساتھ سب کچھ کرنا چاہتی ہوں
مہناز صاحبہ سپاٹ لہجے میں بولی
لیکن بہن یہ بہت زیادا جلدی ہے ممتاز صاحبہ پریشانی سے بولی
ٹھیک ہے آنٹی آپ لوگ اپنی تیاری کریں ہم بھی اپنی تیاری شروع کر رہے ہیں سمبل کھڑے ہوتے ہوئے بولی
مہناز صاحبہ مسکرائی
وہ لوگ چلے گۓ
یہ کیا کیا تم نے مہناز اتنی جلدی میری بچی کو رخصت کروا رہی ہو ظفر صاحب غصے سے بولے
یہ ضروری تھا کرنا مہناز صاحبہ بھی غصے سے بول کر چلی گئ
آخر کو اپنی بیٹی کو اتنا پڑھا لکھا کر جاہلوں کے حوالے کردیا
یہی بات مہناز ظفر اور عرش کو کھاۓ جا رہی تھی
جبکے عرش اپنے کمرے میں بیٹھا پیشانی مسلتے ہوئے سوچ رہا تھا
عرش مہناز صاحبہ روم میں آئ تو
عرش کو دیکھا جس نے اپنی شرٹ کے اوپر والے تین چار بٹن کھولے ہوۓ تھے اور اے سی بھی لگایا ہوا تھا
پاگل واگل تو نہیں ہو گۓ تم مہناز صاحبہ اے سی بند کرتے ہوئے بولی
کیونکہ سردیاں تقریباً آ ہی گئ تھی
ماما اے سی لگائیں عرش اپنی لال ہوتی آنکھوں کو نیچے کرتے ہوئے بولا
کیونکہ اس کے اندر آگ لگی ہوئی تھی
عرش اٹھو جاؤ عنیقہ اور میرب کو شاپنگ کرواؤ
پھر میرب کا فرنیچر بھی اسکے سسرال پہنچانا ہے
بہت کام ہے اٹھو تمہارے بابا اتنا سب کچھ ہینڈل نہیں کرسکتے مہناز صاحبہ بولی
آپ بابا سے کہیں انہیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں ہے
میں سب کچھ ہینڈل کر لوں گا
عرش بولتے ساتھ ہی نکل گیا
عمل نے اپنے ساتھ ساتھ گھر کے تمام ملازمین کو صفائ پر لگوا کر سارا کام ختم کروا دیا تھا
اور مہمانوں کے لیۓ بھی گھر کے سائیڈ والے پورشن کی صفائ کروادی تھی
میری بچی فریدہ صاحبہ عمل کو پیار کرتے ہوئے بولی
عمل ہنسنے لگی
چلیں ماما لاکر دیں مجھے کھانا
اچھا فریدہ بیگم کچن میں جانے لگی
اور ہاں ماما اپنی بیٹی کو بھی بلوائیوں صبح سے اسکی شکل ہی نہیں دیکھی عمل ہنستے ہوئے بولی
اچھا میڈم فریدہ صاحبہ بول کر چلی گئ
احیان بھائ یہ جو آپ کر رہے ہیں نہ میں کہ رہی ہوں گیم چھوڑ کر چلی جاؤں گی
عمل احیان کو ڈانٹتے ہوئے بولی دونوں لون میں کرکٹ کھیل رہے تھے
عمل کی باری آتی تو احیان تیز بولنگ کرواتا جس کی وجہ سے وہ آؤٹ ہو جاتی
پھر جب احیان کی باری آتی تو وہ اتنی زور کا چھکا لگاتا بول ہی گم جاتی
عمل بال ڈھونڈنے لگ جاتی
اب میری باری لائیں بیڈ عمل ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولی
چلو ابھی تم نے باری کی ہے جاؤ بولنگ کرواؤ
میں بیٹنگ کروں گا احیان سیدھا کھڑے ہوتے ہوئے بولا
ایسے کیسے نہیں دیں گیں بیڈ دیں مجھے عمل بیڈ کھینچتے ہوئے بولی
عرش جیسے لون میں آیا تو اسے نیا تماشہ دیکھنے کو ملا اسی کے ساتھ میرب بھی حیران ہو رہی تھی عمل کی حرکتوں پر
عمل عرش بھاری آواز میں بولا
ارے واہ عرش بھائ اور میرب آپی آپ عمل خوش ہوتے ہوئے بولی
جاؤ عنیقہ کو بلا کر لاؤ شاپنگ پر جانا ہے
عرش سنجیدگی سے بولا
چلے جانا پہلے آئیں تو صیح تھوڑا بہت کھیل کود کر لیتے ہیں عمل عرش پر ایکدم سے بال پھینکتے ہوئے بولی
جسے بر وقت عرش نے کھینچ کر لی تھی
اور اب اسکا غصہ ہائ ہونے والا ہی تھا
اچھا اچھا جارہی ہوں تھوڑا غصہ کم کر لیں
عمل بولی کیونکہ عرش کے ایکسپریشن ایکدم سے بدل رہے تھے جسے سب نے نوٹ کر لیا تھا
کیسے ہو عرش احیان خود ہی آگے ہوا سلام کے لیۓ
الحمدللہ عرش اتنا ہی بولا
کیونکہ اسکا بلکل موڈ نہیں ہو رہا تھا کسی سے بھی بات کرنے کا
میرب بس خاموش تھی وہ اندر نہیں گئ تھی
عمل عنیقہ کو لے کر باہر آئ
عنیقہ نے جیسے عرش کو دیکھا تو مسکرانے لگی لیکن عرش اگنور کر گیا اور اسے پتا بھی نہیں چلا
عرش کی اس حرکت پر عنیقہ حیران ہوگئ تھی
اور ایکدم سے آرت کی ساری باتیں اسکے ذہن میں فلم کی طرح گھومنے لگی
احیان تم انھیں شاپنگ پر لے جاؤ گے کیونکہ میں بہت بیزی ہوں عرش احیان سے مخاطب ہوا
اوکے احیان کے ہاں بولنے کی دیر تھی
وہ باہر نکل گیا
آجاؤ احیان عنیقہ اور میرب سے بولا
جی چلیں میرب بولی
میں اکیلی عمل خفگی سے بولی
نہیں نہیں تم بھی چلو ہمارے ساتھ میرب مسکراتے ہوئے بولی
سچی چلیں عمل بول کر ان سے آگے ہوگئ
عنیقہ لوگوں کی گاڑی جیسے گھر سے نکلی تو
عنیقہ کی نظر اچانک آرت کی گاڑی پر پڑی
جو اسی جگہ پر کھڑی تھی لیکن گاڑی کے شیشے کالے تھے جس کی وجہ سے اندر سے کچھ نظر نہیں آرہا تھا
کیا ہوگا اسکا جب میں نے کہ دیا ہے شادی کا کوئ چانس نہیں پھر بھی یہی کا یہی کھڑا ہے
عنیقہ دل میں بولی
آپ کا دماغ خراب ہو گیا تھا جو آپ ہاں کر کے آگئ
اب اتنی ساری تیاریاں کیسے کریں گیں سبحان سمبل کو ڈانٹتے ہوئے بولا
سبحان زیادا بدتمیزی کرنے کی ضرورت نہیں ہے سمجھے تمہاری ساس ہی کہ رہی تھی میں اپنے بیٹے کے ساتھ ہی اسے رخصت کرنا چاہتی ہوں
ہم نے تو منع بھی کیا تھا پھر بھی وہ اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹ رہی تھی اب بتاؤ کیا کرتے ہم
سمبل غصے سے بولی
سبحان کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا
تم کال کر کے میرب سے کیوں نہیں پوچھتے سمبل دوبارا بولی
اس سے کال کر کے کیا پوچھوں سبحان پریشانی سے بولا
ہاں ہاں اسے تو کچھ نہ کہنا بس ماں بہنوں کو سنانا سمبل بولی
سبحان خاموش تھا
چلو بازار جائیں میرب کی مہندی کا سامان لے آئیں کل مہندی بھی لے کر جانی ہے ممتاز صاحبہ پیسے گنتے ہوۓ کمرے سے باہر آئ
جی اب سارے پیسے بہو پر ہی نہ لٹا دیجیۓ گا میرے سسرال والوں کے لیۓ بھی کچھ لینا
سمبل منہ بناتے ہوئے بولی
ایک تمہارے اور تمہارے سسرال والوں کے خرچے پورے نہیں ہوتے ممتاز صاحبہ منہ پر بولی
ہاں آپ لوگوں نے تو کروڑوں لگا دیۓ ہیں مجھ پر اور میرے سسرال والوں پر
کوئ شک بھی نہیں ہے
اور کبھی بغیر کسی رولے کے گھر سے نکل جایا کرو ممتاز صاحبہ بول کر غصے سے چلی گئ
عنیقہ اپنے لیۓ شاپنگ کر ہی نہیں رہی تھی
اسکے نکاح کے لیۓ عمل نے وائیٹ اور گولڈن کلر کی سمپل فراک لی تھی
جب کے میرب نے اپنی شاپنگ پوری کر لی تھی
عنیقہ اگر کچھ لینا نہیں تھا تو آئ کیوں ہو عمل غصے سے بولی
عنیقہ خاموش تھی اسے عرش کی وہی حرکت یاد آرہی تھی
عرش کی محبت کیا وقتی ہے
جیسے جیسے نکاح کے دن قریب آرہے ہیں وہ بلکل چینج ہورہے ہیں کیا آرت ٹھیک کہ رہا تھا
عنیقہ سوچتے ہوئے دل میں بولی
عرش نے میرب کا سارا فرنیچر لے لیا تھا
اور اسکے سسرال میں بھی پہنچا دیا تھا
اب خود اپنی گاڑی میں اسکے سسرال گیا
تا کہ دیکھ لے کسی اور چیز کی ضرورت تو نہیں ہے
تین چار آدمیوں نے فرنیچر سیٹ کردیا تھا لیکن ابھی بھی کافی فرنیچر باہر پڑا تھا
کیونکہ روم میں جگہ ختم ہو گئ تھی
سر باقی کہاں کریں آدمی عرش سے بولا
گھر میں سویرا کے علاؤہ کوئ نہیں تھا
اسلیۓ سویرا خاموشی سے ایک سائیڈ پر کھڑی تھی
ایسکیوز می عرش سویرا کو دیکھتے ہوئے بولی
جی سویرا نزدیک ہوتے ہوئے بولی
یہاں کوئ سٹور ہے جس میں یہ سامان آجاۓ
عرش اس سامان کو سٹور میں رکھنے کی بات کرہا تھا جس کے ابھی وہ لاکھوں دے کر آیا تھا
جی اوپر ہے سویرا بولی اور عرش کو دیکھنے لگی
یہ سارا سامان اوپر رکھ دیں
اور الیکٹرانک چیزوں کو یہی پڑا رہنے دیں
عرش آدمیوں سے بولا
آج میرب کی مہندی تھی اسلیۓ سب کزنز اور بڑے اکھٹے ہونے تھے
جبکے عنیقہ ابھی تک تیار ہی نہیں ہوئ تھی
عنیقہ تیار ہو جاؤ ابھی سب نکل جائیں گیں
کیونکہ مامی کے گھر سے کافی کالز آگئ ہیں
میرب آپی کے سسرال والے بھی آنے والے ہیں عمل کمرے میں آتے ہوئے بولی
جس نے یولو کلر کی شارٹ فراک اور مہرون کلر کا پاجامہ ڈوپٹہ بھی مہرون ہی کلر میں پہنا ہوا تھا
بالوں کی فرینچ چوٹیاں بنا کر آگے رکھی تھی اور اس پر چھوٹے چھوٹے پھول بھی لگاۓ ہوۓ تھے
پوری کی پوری ڈول لگ رہی تھی
یار میرا موڈ نہیں ہے عنیقہ بولی
تم نے جوتے کھانے ہے کیا میرب آپی سے
اور خاص کر کے عرش بھائ سے
عمل مزاخ سے بولی
کیوں وہ مجھے جوتے کیوں مارے گا کیا لگتا ہے میرا جو مجھے مارے گا اتنی ہمت نہیں ہے کسی میں جو مجھ پر ہاتھ اٹھاۓ عنیقہ بلاسٹ ہونے والے انداز میں بولی
کیا ہو گیا ہے عنیقہ عمل ایکدم سیریس ہوگئ تھی کیونکہ عنیقہ کا بی ہیو بلکل نارمل نہیں لگ رہا تھا
عمل میں کیا بولوں عنیقہ رونے والے انداز میں بولی
جو بھی کچھ ہے میری بہن کے دل میں مجھے بتاۓ میں مسلہ حل کرنے کی کوشش کروں گی
عمل سچے دل سے بولی
عنیقہ خاموش تھی
عرش بھائ نے کچھ کہا ہے عمل بولی کیونکہ اسنے نوٹ کیا تھا عرش نے اس سے کوئ بات نہیں کی اور نا ہی وہ اسے شاپنگ پر لے کر گیا تھا
عنیقہ خاموش تھی
عمل بابا خوش ہیں میرے نکاح سے عنیقہ بولی
بہت زیادہ عمل حقیقتاً بولی
عمل تم اپنی زندگی میں کس بندے کا انتخاب کرو گی اگر تمہاری لائف میں ایسی سچویشن آۓ
پہلا اس کا جو تم سے محبت کرتا ہو
دوسرا جس سے تم محبت کرتی ہو عنیقہ دھڑکتے دل سے بولی
میں کسی کا بھی انتخاب نہیں کروں گی
میں اس بندے کا انتخاب کروں گی جس سے مجھے بھی محبت ہو اور اسے بھی ہو
کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی سنا تو ہوگا
عمل بولی
عنیقہ خاموش ہو گئی تھی کیونکہ اگر وہ تھوڑی دیر اور سوچتی تو پاگل ہو جاتی
عنیقہ خیر تو ہے تم ایسے سوال کیوں کر رہی ہو عمل مزاخ سے بولی
لیکن بظاہر سیریس تھی
ویسے ہی بول رہی تھی میں عنیقہ بولتے ساتھ ہی واشروم میں گھس گئ
مہندی کا فنکشن لان میں ہی رکھا تھا
پورے لان کو پیلے اور سفید پھولوں سے تیار کیا تھا
ہر طرف وائیٹ اور یلو چھوٹی چھوٹی لائیٹس لگائ ہوئ تھی
میرب پارلر میں تھی ابھی تک نہیں آئ تھی
عرش نے مہندی کا سارا سامان آرڈر کروا لیا تھا
کیونکہ وہ تھک گیا تھا چیزیں پوری کر کے
خود ابھی تک کل والے حلیۓ میں گھوم رہا تھا
اور نہ ہی کچھ کھایا پیا تھا عرش یہ لو ملک شیک مہناز صاحبہ عرش کو دیتے ہوئے بولی
نہیں ماما ابھی موڈ نہیں ہے عرش بیٹھتے ہوئے بولا اور لمبا سانس لیا
جب سے میرب کے رشتے کی ہاں ہوئ ہے اس ٹائیم سے تمہارا کچھ کھانے کو موڈ نہیں ہے
میں جان سکتی ہوں ایسا کیوں ہے مہناز صاحبہ غصے سے بولی
ماما آپ کو پتہ ہے ان کا گھر اتنا چھوٹا ہے اس میں میرب کا فرنیچر بھی پورا نہیں آیا عرش افسوس سے بولا
بیٹا پہلی بات ان کا گھر نہیں چھوٹا فرنیچر زیادا ہے
دوسری بات گھر بڑا ہو یا چھوٹا اس سے کوئ فرق نہیں پڑتا بس دعا کرو اللہ پاک تمہاری بہن کے نصیب اچھے کرے پیسے تو آتے جاتے رہے گیں مہناز صاحبہ بول رہی تھی جب عرش ان کی گود میں سر رکھ کر صوفے پر لیٹ گیا تھا
کیونکہ مہناز صاحبہ کی باتوں نے عرش کو تھوڑا حوصلا دے دیا تھا
عمل عنیقہ سمارا بلکے ساری کزنیں تیار تھی
عنیقہ نے بھی سیم عمل جیسی ڈریسنگ کی تھی بس ہئیر اسٹائل چینج تھا
عنیقہ نے اپنے بالوں کے پف کی فرینچ بنائ تھی اور پیچھے سے بالوں کو کھلا رکھا ہوا تھا
عنیقہ کافی زیادا اٹریکٹ کر رہی تھی اپنی طرف
بیٹا آپ لوگ اس گاڑی میں چلے جائیں اور یہ سامان بھی لے جانا
ہم لوگ دوسری گاڑی سے آئیں گیں حسن صاحب بولے
بابا ڈرائیو میں خود کروں گی عنیقہ بولی
جیسے میرا بچہ چاہے گا ویسے ہی ہوگا آپ خود کرلو ڈرائیو حسن صاحب مسکراتے ہوئے بولے
احیان لڑکیاں ایک گاڑی میں چلی جائیں گی تم انکے پیچھے دوسری گاڑی میں چلے جانا حسن صاحب بولے کیونکہ لڑکیاں زیادا تھی
جی صیح ہے احیان بولا
احیان کو بہت امپورٹ کام تھا وہ مہندی ہر جانا ہی نہیں چاہتا تھا
لیکن اب حسن صاحب کو انکار بھی نہیں کرسکتا تھا
عنیقہ نے فرنٹ سیٹ سنبھالی اور اسی کے ساتھ آگے سمارا
اور پیچھے عمل ردا اور منال تھی
جو ان کی کزنز تھی
عنیقہ گاڑی لے کر نکلی تو وہ آرت کی گاڑی دیکھنا نہیں بھولی تھی
وہ اسی جگہ کھڑی تھی
اور آرت باہر ایک کونے والے بینچ پر بیٹھا ہوا تھا
اور سردی کا اندازا اس کی کپکپاہٹ سے لگا لیا تھا
عنیقہ اسے ہی دیکھ رہی تھی پھر اچانک اسنے بریک لگا دی
کیا ہوا ساری ایک ساتھ بولی
آؤ عمل ڈرائیو کرو عنیقہ اترتے ہوئے بولی
عمل تو چہک ہی گئ تھی یہ بات سن کر کیونکہ اسے کوئ ڈرائیو کرنے نہیں دیتا تھا
عمل گاڑی کے اندر سے ہی فرنٹ سیٹ پر آگئ
عنیقہ پیچھے بیٹھ گئ تھی اور سوچ رہی تھی آخر آرت کو دیکھ کر کیوں وہ اتنا ہارٹ ہوئ ہے
عمل نے تو گاڑی ایسی بھگائ اندر بیٹھی لڑکیاں آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی
جب کے احیان کو بہت غصہ آرہا تھا عمل کی اس حرکت پر
سارے مہمان آگۓ تھے میرب بھی سٹیج پر بیٹھی ہوئی تھی
جس نے گرین کلر کا لہنگا اسکے اوپر مالٹائی رنگ کی شرٹ پہنی تھی
ہیوی سوٹ میرب نے پہنا تھا اور دل عمل کا بند ہورہا تھا
مہناز صاحبہ بار بار سب سے عنیقہ کو سے ملوا رہی تھی
کے عرش کی منگیتر ہے اور ہمارے گھر کی بہو
سب کو عرش اور عنیقہ کی جوڑی بہت پسند آرہی تھی
کیونکہ دونوں کی جوڑی ہی چاند سورج جیسی تھی
اب بیک گراؤنڈ میں مہندی کے سونگس بھی لگ گۓ تھے
اور میرب کے سسرال والے بھی آگۓ تھے
اور ساتھ مولوی صاحب بھی آۓ تھے لیکن سبحان نہیں تھا
عرش پہلے اچھے سے سب کا استقبال کر رہا تھا لیکن مولوی صاحب کو دیکھ کر اسکی دماغ کی رگیں اُبھر رہی تھی
کے ہمیں بغیر بتاۓ یہ کر کیا رہے ہیں
