Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan NovelR50436 Qasoor-e-Ishq Episode 14
Rate this Novel
Qasoor-e-Ishq Episode 14
Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan
عمل یہ والی لپسٹک لگاؤ عرش ڈارک کلر والی لپسٹک دیتے ہوئے بولا
اللہ اتنی گندی اور اتنی ڈارک لپسٹک یہاں رکھی کس نے عمل لپسٹک کو دیکھ کر منہ بنا کر بولی
یہ تو مجھے نہیں پتہ بٹ لگا لو عرش دوبارہ دیتے ہوئے بولا
نہ بھئ میں اتنا گند کیوں کروں اپنے اوپر عمل صاف انکار کرتے ہوئے بولی
عمل پلیززز لگاؤ نہ اچھی لگے گی عرش ریکوسٹ کرتے ہوئے بولا
عرش عمل نے منہ بنا کر لپسٹک لی اور ہونٹوں پر لگانے لگی
واؤ یار اس کا ٹیسٹ کتنا اچھا ہوگا
عرش عمل کے لال ہونٹوں کو دیکھتے ہوئے بولا
یہ لپسٹک ہے عرش چوکلیٹ یا کوئ اور چیز نہیں ہے جو اسکا ٹیسٹ ہوگا ہاں مگر سمل اچھی ہے عمل مسکراتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی لپسٹک آگے کی تاکہ وہ سمل سونگ لے
یہ تو میں آکر چیک کرلوں گا تمہارے ہونٹوں سے ابھی چلو میرے پاس ٹائیم نہیں عرش معنی خیزی سے بول کر باہر چلا گیا
عمل تو بلکل چپ ہوگئ تھی
آرت اور عنیقہ پوری رات کلب میں بیٹھے ہوئے تھے اور ابھی بھی وہی تھے
آرت یہ کیسی پارٹی ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی عنیقہ غصے سے بولی کیونکہ بیٹھ بیٹھ کر اسکی کمر ٹوٹ گئی تھی جبکہ آرت مزے لوٹ رہا تھا کلب میں آکر
یار بہت امپورٹنٹ گیسٹ رہ گۓ ہیں جو ابھی آجائیں گیں آرت لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی ڈرنک بھی پی رہا تھا
آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا تھا کہ آپ ڈرنک بھی کرتے ہیں عنیقہ بولی
تم نے پوچھا کبھی مجھ سے آرت عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولا
وہ خاموش ہو گئی کیونکہ غلطی اسکی ہی تھی کہ اسنے کیوں نہیں پوچھا
ہاۓ برو ایک لڑکا فریش سا کلب میں آیا
آرت کو دیکھا تو سیدھا اسکے پاس آیا
ہاۓ آرت منہ بنا کر گلے ملا
کوئ طریقہ ہوتا ہے ایسا کوئ انسان ویٹ کرواتا ہے کبھی کسی کو آرت اس لڑکے سے بولا
یار جب تم نے کال کی تھی میں اسی ٹائیم نکل آیا تھا بٹ راستے میں چھوٹا سا ایکسڈنٹ ہوگیا تھا اسلیۓ رات پوری بیٹھیے ہوئے تھے تھانے میں
اچھا چل بیٹھ میں آتا ہوں آرت عنیقہ کی سائیڈ والی سیٹھ پر اشارا کرتے ہوئے بولا
اوکے لڑکا ہنستے ہوئے بولا
آرت چلاگیا
ہاۓ بیوٹی فل لڑکا عنیقہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولا
عنیقہ تھوڑی پیچھے کو کھسکی اور منہ موڑ کر بیٹھ گئی
ظالم آدھا تو تمہاری خوبصورتی نے مار دیا ہے اور آدھا تمہارا یہ اٹیٹیوڈ مار دے گا لڑکا بولتے ساتھ ہی عنیقہ کو شولڈر سے پکڑ کر اپنی طرف کرنے لگا
جب عنیقہ نے برے طریقے سے اسکا ہاتھ جھٹلایا
اور کھڑی ہو گئی
کوئ بات نہیں شروع میں ساری ایسے نخرے کرتی ہیں لڑکے نے بول کر زور سے پکڑتے ہوئے کرسی پر پھینکا
شرم نہیں آتی آپ کو گھٹیا آدمی عنیقہ چیخ کر بولی جس سے آگے پیچھے کے لوگ اسکی طرف متوجہ ہوئے
اپنی بکواس بند کر لڑکا بدتمیزی سے بولا اور ساتھ ہی آرت بھی آگیا
کیا ہوا
آرت عنیقہ کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
آرت یہ لڑکا بدتمیزی کررہا ہے میرے ساتھ عمل روتے ہوئے بولی
اچھا چپ آرت عنیقہ کے آنسو صاف کرنے لگا
یہاں کوئ نیا تماشہ لگا ہے جو میوزک آف کیا ہے آپ لوگوں نے آرت ڈی جے کی طرف دیکھتے ہوئے غصے سے بولا تو ڈی جے نے فٹافٹ فل والیم میں سونگ لگایا پھر سارے اپنی اپنی سرگرمیوں میں واپس مشغول ہو گئے
چلو میرے ساتھ آرت عنیقہ سے بول کر سائیڈ پر لے گیا
کدھر جارہی ہو میرب تیز آواز میں عمل سے بولی
جو کافی خوشی سے باہر جارہی تھی
اپنے گھر عمل روکتے ہوئے بولی
اچھا تو یہ اتنا میکپ دیکھ کر تو لگ رہا ہے جیسے کسی کی برات یا ڈیٹ پر جارہی ہو میرب ہنستے ہوئے بولی
میرب مہناز صاحبہ نے میرب کو غصے سے آواز دی
او ماما اب یہ نہ کہنا کہ ایسے کوئی بات کرتا ہے کسی سے میرب مہناز کو بھی جواب دیتے ہوئے بولی
عمل جاؤ تم مہناز صاحبہ میرب کی بات کو اگنور کرتے ہوئے بولی
جی عمل باہر چلی گئ
کیا ہوا موڈ آف کیوں ہے عرش ڈرائیو کرتے ہوئے عمل سے بولا جو بلکل چپ تھی
آپ سے میں نے کہا تھا میں یہ لپسٹک نہیں لگاتی آپ نے زبردستی مجھ سے لگوا دی میرب آپی میرا مزاق اڑا رہی تھی عمل خفگی سے بولی
ہاہاہا تم اسلیۓ کب سے چپ ہو عرش ہنستے ہوئے بولا
ہاں تو اور کیا عمل بولی
میرا بچہ وہ تمھیں ایسے ہی تنگ کررہی ہوگی اسکی عادت نہیں ہے کسی کو طنز وغیرہ کرنے کی عرش میرب کی بات کو مزاق کا رنگ دیتے ہوئے بولا
اچھا جی عمل نے بھی بحس نہیں کی
اچھا اب بلکل بھی اداس نہیں ہونا عرش بولا
لیکن عمل بلکل خاموش تھی
عمل یہ لو عرش فون کا ڈبہ پکڑاتے ہوئے بولا
فون وہ بھی میرے لیۓ عمل حیرانگی سے بولی
جی جی جناب آپ کے لیۓ عرش بولا
عمل فٹافٹ ڈبہ کھولنے لگی
عمل گھر جاکر دیکھ لینا عرش اپنی ہنسی کنٹرول کرنے لگا
کیوں آپ نے پہلی بار مجھے کوئ گفٹ دیا ہے اسلیۓ ابھی دیکھوں گی عمل عرش کی طرف دیکھ کر بولی
اور ڈبہ کھولا
عرش یہ کیا ہے عمل غصے سے ڈبے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی
ہاہاہاہاہاہا ہاہاہاہاہاہا عرش ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہوگیا تھا۔
عرش آپ یقین کریں میں آپ سے بہت سخت قِسم کی ناراض ہو جاؤں گی عمل دھمکی دیتے ہوئے بولی
اچھا اچھا سوری بتاؤ کیا ہوا عرش اپنی ہنسی کو کنٹرول کرتے ہوئے بولا
یہ نقلی فیڈر وہ بھی اتنا چھوٹا سا اس میں کیوں رکھا ہے عمل فیڈر کو دیکھتے ہوئے بولی جو شہادت والی انگلی جتنا لمبا تھا
تم نے اپنی ایج دیکھی ہے کیا اتنی چھوٹی سی ہو عرش انگلیوں کو چھوٹا کرتے ہوئے بولا اور میں تمھیں فون دوں
تو میں نے آپ سے نہیں کہا تھا کہ مجھے فون دیں آپ نے خود مجھے دیا اور بیچ میں یہ عمل فیڈر کو گھوما کر دیکھتے ہوئے بولی
ہاہاہا اس میں تم دودھ ڈال کر پینا ٹھیک ہے عرش عمل کی ناک کھینچتے ہوئے بولا
عرشششش عمل غصے سے بولی
جی عرش کی جان عرش بولا
آپ نے اچھا نہیں کیا کبھی موقعہ ملا تو میں آپ کو بھی ایسا گفٹ دوں گی عمل عرش سے بول کر پوری کی پوری شیشے کی طرف موڑ گئ
اچھا ناراض نہ ہو یہ ہے تمہارا فون عرش فون دیتے ہوئے بولا
ابھی بھی آپ مزاق کی کررہے ہیں عمل بغیر مڑے بولی
نہیں تو دیکھ لو عرش سنجیدگی سے بولا
تو عمل ایکدم مڑی
واؤ عرش کتنا پیارا ہے یہ فون عمل ہاتھ میں لیتے ہوئے بولی
پتہ ہے مجھے عرش ہنستے ہوئے بولا
آپ سے تو بات کرنا ہی فضول ہے عمل بول کر موبائل میں گیم ڈاؤنلوڈ کرنے لگی ۔
اوو میں فضول ہوں عرش عمل سے بولا
پتہ نہیں عمل دانت دیکھاتے ہوئے عرش کے انداز میں بولی
ویسے فون کیوں چھپایا تھا عمل پاؤں اٹھا کر سیٹھ پر بیٹھ گئ
اس میں سیم کارڈ ڈالا ہے تبھی تو تم نے گیم ڈاؤنلوڈ کی ہے عرش بریک مارتے ہوئے بولا
او ہاں عمل سر پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی
اتنی جلدی پہنچ گئے عمل عرش سے بولی
کیوں خوش نہیں ہوئ جلدی پہنچ کر عرش عمل سے بولا
کیوں نہیں ہوئ آخر کونسی لڑکی اپنے ماما بابا سے ملنے کو خوش نہیں ہوگی عمل بولی
اچھا عرش مسکراتے ہوئے بولا
لیکن آج آپ کے ساتھ ٹائم اسپینڈ کر کے بہہہہتتت اچھا لگا عمل دل سے بولی
اس میں تو کوئ بروبلم نہیں ہے ہم رات کو پھر ٹائیم اسپینڈ کرلیں گیں جس طرح کل کیا تھا عرش سیریس انداز میں بولا
جی نہیں اب ہر ٹائیم آپ کے ساتھ تو بندہ نہیں ہو سکتا عمل بول کر گاڑی سے اتر گئی
عرش ہنسنے لگ گیا
کیوں بدتمیزی کررہی ہو اس لڑکے سے آرت عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولا اور کافی غصے سے بولا۔
آرت وہ مجھے ٹچ کررہا تھا اپنے نزدیک کھینچ رہا تھا تو میں کیا کرتی عنیقہ آرت کو دیکھتے ہوئے بولی
بے بی آج رات آپ کو اسکے ساتھ ہونا ہے یو نو میں کیا بول رہا ہوں آرت عنیقہ سے بولا
کیا بکواس کر رہے ہیں آپ آرت میں آپ کی بیوی ہوں آپ کے نکاح میں ہوں اور آپ کیسی گھٹیا بات کررہے ہیں مجھ سے عنیقہ غصے سے بولی
رائیٹ عنیقہ میں اتنا تو بے غیرت نہیں ہوں جو اپنی بیوی کو اس کام میں لگا دوں
آرت سیریس انداز میں بولا
تو عنیقہ کے دل میں تھوڑی تسلی ہوئ
میں آرت تمھیں ہوش و حواس میں تمھیں طلاق دیتا ہوں آرت مسکراتے ہوئے بولا
آرت یہ کیا بول رہے ہیں آپ عنیقہ کی آنکھوں میں آنسو آگۓ تھے آرت کے الفاظ سن کر
میں تمھیں طلاق دیتا ہوں آرت ابھی بھی مسکرا رہا تھا
آرت اللہ کا واسطہ ہے آپ کو ایسا نہ کریں میں نے آپ کے لیۓ اپنا گھر چھوڑ دیا سب کو چھوڑ کر میں آگئ تھی پلیزززززززززززززز آرت چپ ہو جائیں ایسے کفر مت نکالے اپنے منہ سے عنیقہ روتے ہوئے بولی
میں تمھیں طلاق دیتا ہوں آرت بولا اور اسکی مسکراہٹ بہت زیادا گہری ہوگی تھی
آرت گھٹیا بے شرم زلیل عنیقہ آرت کا کولر پکڑتے ہوئے بولی
اور ساتھ ہی تھپڑ مارنے لگی تھی
جو آرت نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا
نو بے بی ایسے نہیں مارتے کسی پراۓ لڑکے کو آرت ہنستے ہوئے بولا
کیوں دیا مجھے دھوکا کیوں عنیقہ روتے ہوئے بولی
بے بی آپ کو میرا نام کا مطلب نہیں پتہ آرت عنیقہ کا چہرا اوپر کرتے ہوئے بولا
لیکن وہ بس روۓ جارہی تھی
اچھا چلو میں بتاتا ہوں آپ کو آرت کا مطلب فنکار ہے
اندازا تو تم لگا ہی لو گی میری فنکاری کا آرت عنیقہ سے بولا اور اسے کمر سے پکڑ کر قریب کیا
ہٹو پیچھے بے حیاہ عنیقہ اپنے آپ کو چھوڑواتے ہوئے بولی
تو آرت ایکدم پیچھے ہٹا اوکے اب تو میں تمہارے لیۓ حرام ہوں نہ آرت خوشی سے بولا
عنیقہ روتے ہوئے جانے لگی
جب آرت نے عنیقہ کے ہاتھوں سے پکڑ کر جھٹکے سے اپنی طرف کھینچا جس کی وجہ سے عمل کا پاؤں مڑگیا تھا
آہ ہ ہ ہ ہ ہ عنیقہ چیختے ہوۓ بولی کیونکہ بہت زیادا زور سے درد آیا تھا۔
کدھر آرت عنیقہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھتے ہوئے بولا
جو آنسوؤں سے بھری ہوئی تھی
طلاق دے دی ہے تم نے اب کیا چاہتے ہو مجھ سے عنیقہ روتے ہوئے بولی
بے بی اتنے پاپڑ میں نے اسلیۓ نہیں بیلے تھے کہ تمھیں طلاق دے دوں
تمہاری یہ جو خوبصورتی ہے نہ آرت عنیقہ کے ہونٹوں پر انگھوٹھا پھیرتے ہوئے بولا اسکی مارکیٹ میں بہت زیادا مانگ ہے
اسلیۓ اب چلتے ہیں اس لڑکے کے پاس آرت بول کر گھسیٹتے ہوئے عنیقہ کو پاس والے ہوٹل میں لے جانے لگا
چھوڑو میرا ہاتھ آرت اللہ تمھیں تباہ و برباد کرے عنیقہ روتے ہوئے بد دعا دینے لگی
بے بی اب میں امیں کہوں گا تمھیں اور غصہ آۓ گا اسلیے میں چپ ہی بیٹھتا ہوں آرت ہنستے ہوئے بولا
جبکے عنیقہ اپنا ہاتھ چھوڑوانے کی فل کوشش کررہی تھی۔
عمل تم روک جاؤ کیا کرو گی جاکر حسن صاحب عمل سے بولے جو ابھی گھر کے لیۓ نکل رہے تھے
ہاں نہ عمل یہی بیٹھو فریدہ صاحبہ بھی بولی
بابا میرے پیپرز ہیں اور میری بکس بھی گھر پڑی ہیں اور میں نے تیاری بھی کرنی ہے عمل منہ بنا کر بولی
جبکے عرش انکی فیملی مٹینگ دیکھ رہا تھا
تو کیا ہوا میں کریم کو بھیج دیتا ہوں عرش اسکو تمہاری چیزیں دے دے گا تو وہ لے آۓ گا حسن صاحب حل دیتے ہوئے بولے
اب عمل بھی کچھ نہیں کرسکتی تھی ٹھیک ہے عرش آپ بھیج دیں میری بکس عمل مسکراتے ہوئے عرش سے بولی جو اسے ایسا دیکھ رہا تھا جیسے ابھی کچا نکل جاۓ گا
ٹھیک ہے بیٹا حسن صاحب بولے
مامو ابھی کیا آپ کریم انکل کو تنگ کریں گیں وہ بے چارا آۓ گا بکس لے گا پھر یہاں لاۓ گا میں ایسا کرتا ہوں کل یا پرسوں عمل کو چھوڑ جاؤں گا وہ ادھر ہی رہ لے گی دو تین دن کے لیۓ عرش اپنی گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا
ٹھیک ہے حسن صاحب مسکراتے ہوئے بولے
چلو
عرش عمل کو دیکھتے ہوئے نہایت نرم لہجے میں بولا
جی اوکے بابا اللہ حافظ عمل حسن صاحب کے گلے لگتے ہوئے بولی
اللہ حافظ میرا بچہ حسن صاحب عمل کا ماتھا چومتے ہوئے بولے
پھر عمل فریدہ صاحبہ سے ملی بچے روک جاتی تو اچھا تھا فریدہ صاحبہ اداسی سے بولی کیونکہ عنیقہ کی یاد بھی آرہی تھی
آؤں گی ماما آپ ٹینشن نہ لے عمل مسکراتے ہوئے بولی
اچھا اللہ پاک میرے بچو کو اپنے حفظ و امان میں رکھے آمین
ثم امین حسن صاحب بولے
عمل اور عرش نکل گۓ
فریدہ میرا دل بہت گھبرا رہا ہے حسن صاحب بولے
اللہ پاک خیر کرے آپ نماز پڑھ لیں کیا پتہ اللہ پاک تھوڑی ٹینشن کم کردے آپ کے دل کی فریدہ صاحبہ بولی
ہمم حسن صاحب بولے
یار عمل اب میں ضرورت سے زیادہ فالتو باتیں کرنے لگ گیا ہوں وہ بھی تمہارے لیۓ عرش عمل کو دیکھتے ہوئے بولا
کیوں عمل حیرانگی سے بولی
رہنے دو اب عرش بول کر اترنے لگا
آپ جا کدھر رہے ہیں عمل پریشانی سے بولی
آتا ہوں ٹینشن کیوں لے رہی ہو عرش ہنستے ہوئے بول کر چلا گیا
کیسی ہو زمل
عمل نے زمل کو میسج ٹائیپ کر کے بھیجا
لیکن زمل نے کوئ رپلائی نہیں دیا کیونکہ اسکا نمبر آف لائین شو ہو رہا تھا۔
ہاۓ منہوس کمینی آف ہے عمل منہ بنا کر بولی
سبحان آج بھی نہیں آئ میرب ممتاز صاحبہ بولی۔
نہیں امی سبحان بول کر شوز اتارنے لگا
کوئ بات نہیں تھوڑے دن رہ کر آۓ گی تو موڈ ٹھیک ہو جائے گا اسکا ممتاز صاحبہ بولی
لعنت بھیجو اسکے موڈ پر سبحان غصے سے بولا۔
سبحان ایسی فضول باتیں اب میرے سامنے کرنے کی ضرورت نہیں ہے پہلے ہی سوچ سمجھ کر شادی کرنی چاہیۓ تھی تمھیں ممتاز صاحبہ تنگ ہوتے ہوئے بولی۔
سبحان چپ ہوگیا تھا
سبحان میرب کو بتاؤ کہ یہ تماشے وہ نہ ہی لگاۓ تو اچھا ہے کیونکہ کچھ مہینوں میں سویرا بھی شادی کر کے یہاں سے چلی جاۓ گی پھر تو امی اکیلی ہی ہونگی نہ سمبل سبحان کو سمجھاتے ہوئے بولی
آجاۓ گی وہ کل شام تک لے آؤ گا اسے سبحان بولا
صیح ہے اور کل جاتے ہوئے مجھے بھی گھر چھوڑ دینا سمبل بولی
آپ کیوں جارہی ہیں اتنی جلدی سبحان سمبل سے بولا
بس میں نے امی اور تم لوگوں کو دیکھنا تھا وہ دیکھ لیا اور مل بھی لیا ہے ویسے ہی اور دن رہ کر کیا کرنا ہے
تمہاری بیوی کو بھی اچھا نہیں لگتا سمبل صیحیح انداز میں بولی
اسے اچھا نہیں لگتا اسکا ٹھیکا ہم نے نہیں لے رکھا سبحان بولا
تم نے ہی اسکے سارے ٹھیکے لینے ہیں میرے بھائ اور وہ امیر گھر کی لڑکی ہے اس سے شور برداشت نہیں ہوتا اس میں اسکی کوئ غلطی نہیں ہے سمبل بولی
تو سبحان چپ ہوگیا
عرش واپس آیا تو اسکے ہاتھوں میں گجرے تھے
جسے اسنے اپنے پیچھے چھپایا ہوا تھا
کہاں گۓ تھے آپ عمل عورتوں والے انداز میں بولی
قسم سے عمل یہ والی حرکت تم پر بلکل بھی نہیں لگی عرش ہنستے ہوئے بولا
نہ لگے عمل لاپرواہی والے انداز میں بولی
اب بتائیں کہاں گۓ تھے آپ
ہاتھ کرو عرش بولا
پاگل سمجھا ہے مجھے پہلے فیڈر دیا تھا اب تو کچھ اور ہی دے رہے ہوں گے جس سے میری بیستی ہوگی اور آپ صبح کی طرح مجھ پر ہنسے گے میں کوئی نہیں ہاتھ دینے والی عمل صاف انکار کرتے ہوئے بولی
بہت بولتی ہو تم عرش نے بولتے ساتھ ہی عمل کا ہاتھ کھینچ کر اپنے پاس کیا اور عمل کے ہاتھوں میں گجرے پہنانے لگا
واؤ عرش یہ کتنے پیارے ہیں اور انکی خوشبو آۓ ہاۓ عمل خوش ہوتے ہوۓ بولی
عرش مسکرانے لگا چلو تم بھی مجھے کوئ گفٹ دو عرش بولا
میں کہاں سے دوں عمل ہاتھوں کو دیکھتے ہوئے بولی جو خالی تھے
کوئ بات نہیں تم بغیر کچھ لاۓ بھی مجھے گفٹ دے سکتی ہو عرش عمل کے ہونٹوں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا
اور آپ مجھے گھر لے جائیں مجھے بہت نیند آرہی ہے عمل سیدھی ہوتے ہوئے بولی
کوئ بات نہیں روم میں جاکر بات کرتے ہیں گفٹ پر عرش مسکراتے ہوئے بولا
آرت نے عنیقہ کو ایک ہوٹل کے کمرے میں بند کردیا تھا اور آرت کے علاؤہ اس روم کی کوئ بھی بکنگ نہیں کرتا تھا
آرت کمرے کے باہر کھڑا اسی لڑکے کا انتظار کر رہا تھا
آرت لڑکا بول کر آرت کی طرف آیا
اوۓ مال اس دفعہ بڑا اچھا ہے اور بہت محنت سے پٹایا ہے اسکو اسلیۓ اسکی بولی میں خود لگاؤں گا اور جتنی رقم
میں بولوں گا اتنی تو مجھے دے گا بھی آرت سامنے کھڑے لڑکے سے بولا
چل بے بولی لگا لے جتنی لگانی ہے لڑکا بولا
چار لاکھ دو دن کا آرت مسکراتے ہوئے بولا
چل ڈن لڑکا بول کر روم کے اندر جانے لگا۔
اوۓ بات سن آرت بولا
بول جلدی لڑکا بولا
لڑکی بڑی چالو چیز ہے ہوش میں رہی دو دن بعد لڑکی میں تجھ سے ہی لے کر جاؤں گا اور اگر دوبار ضرورت پڑی تو آپا رشیدہ کے کوٹھے میں ملی آرت بولا
چل ٹھیک ہے لڑکا بول کر روم کے اندر چلا گیا
عمل تم اندر جاؤ میرا تھوڑا سا کام ہے عرش بولا
آپ کب تک آئیں گیں عمل بولی
میری جان جلدی آجاؤں گا اور اگر دیر ہوگئی تو کال کردوں گا تمھیں فون اسی لیۓ تو لے کر دیا ہے عرش مسکراتے ہوئے عمل سے بولا
اور اسکے سر پر ہلکی سی چپت لگائ
تو عمل مسکراتے ہوئے اتری
عرش اللہ حافظ ٹاٹا باۓ باۓ عمل ہاتھ لہراتے ہوۓ سارا کچھ بولی
اللہ حافظ میری جان عرش مسکراتے ہوئے بولا اور گاڑی کو لے گیا
عمل گجرے کو دیکھتے ہوئے سیڑھیوں سے چڑھ کر اوپر جارہی تھی جب سب سے اوپر والی سیڑھی پر میرب آئ
صیح دورے ڈالو میرے بھائ پر میرب عمل سے بولی اور ساتھ ہی ایک گجرے کو بری طرح نوچتے ہوئے نیچے پھینکا
میرب آپی آپ کو تمیز نہیں ہے کیا عمل غصے سے بولی کیونکہ عرش نے اسے اتنے پیار سے لے کردیۓ تھے
میرے گھر کھاتی ہو رہتی ہو اور مجھے تمیز سیکھا رہی ہو میرب نے غصے سے بولتے ہوئے عمل کو منہ سے پکڑا
میرب آپی آپ پاگل ہوگئ ہیں چھوڑیں مجھے عمل درد سے بولی کیونکہ میرب کے ناخن اسکے منہ پر کبھ گۓ تھے
تمہاری عزت اگر میں عرش کے سامنے کرتی ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں اکیلے میں بھی تمہارا لحاظ کروں گی میرب بولی اور ساتھ ہی اپنے ناخن سے عمل کے چہرے پر اور گاڑھا
ہٹیں پیچھے میرب آپی عمل نے زور سے دھکا دیا کیونکہ برداشت کرنے کی ہمت ختم ہو گئی تھی
آہ ہ ہ ہ میرب چیختے ہوئے سیڑھیوں سے نیچے گری اب پہلی سیڑھی سے وہ آخری سیڑھی پر آگئ تھی اور ساتھ ہی اسکا چہرا خون نم خون ہوگیا تھا
مہناز صاحبہ اور ظفر صاحب میرب کی چیخ سن کر باہر آۓ تو وہ زمین پر بے ہوش پڑی تھی جبکے عمل حیرت سے نیچے دیکھ رہی تھی یہ اسنے کیا کردیا ہے
ظفر میری بچی مہناز صاحبہ روتے ہوئے بول کر دوڑ کر میرب کے پاس آئ
