Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan NovelR50436 Qasoor-e-Ishq Episode 4
Rate this Novel
Qasoor-e-Ishq Episode 4
Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan
عنیقہ گھر آئ تو وہ بہت ذیادہ پریشان تھی
پتہ نہیں کون تھا وہ بدتمیز جاہل عنیقہ منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے اپنے روم میں گئ
وضو کر کے اسنے ظہر کی نماز پڑھنا شروع کر دی
عمل بھی تھکی ہوئی حالت میں روم میں آگئ ۔
اور سیدھا بیڈ پر لیٹ گئ وہ بھی شوز سمیت
عنیقہ نے سلام پھیرا تو عمل کو دیکھا
میڈم یہ شوز اتارو عنیقہ بولی ۔
عنیقہ تمھیں پتا ہے احیان (Ahyan) بھائ آرہے ہیں عمل خوش ہوتے ہوئے بولی
اچھا کب تک آئیں گیں عنیقہ بھی مسکرا کر بولی
رات تک آجاۓ گیں ان کا کوئ کام تھا اس لیۓ مجھ سے ملنے یہاں بھی آرہے ہیں
(احیان عمل کا خالہ زاد بھائی ہے)
کل میں سکول نہیں جاؤں گی انہی کے ساتھ مال جاؤں گی تمہارے نکاح کی شاپنگ کرنے عمل بولی
پتہ ہے مجھے جب بھی احیان بھائ آتے ہیں آپ میڈم ان کے ساتھ شاپنگ پر جاتی ہیں کیونکہ آپ کو ان کی چوائس بہت اچھی لگتی ہے عنیقہ عمل کی عادت کا بتاتے ہوئے بولی
بالکل کیونکہ ان کی پسند ہی ایسی ہے جو میرے سمیت سب کو پسند آتی ہے عمل خوشی سے بولی
اچھا ویٹ کرنا میں دعا کر لوں عنیقہ عمل سے بولی
کرلو عمل بولی
میں بھی احیان بھائ کے ساتھ اپنے نکاح کی شاپنگ کروں گی
عنیقہ جاۓ نماز اٹھاتے ہوئے بولی
رہنے دو بہن عرش بھائ تمھیں خود لے کر جاۓ گیں اور شاپنگ کرواۓ گیں نکاح کی عمل حقیقت بیان کرتے ہوئے بولی
عنیقہ مسکرانے لگی
اور ساتھ ہی اپنا فون بھی اٹھایا
تو اس میں عرش کے میسجز بھی آۓ ہوۓ تھے
عنیقہ میسجز پڑھ بھی رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ مسکرا بھی رہی تھی لیکن اپنی ہنسی بھی کنٹرول کر رہی تھی تاکہ عمل اسکے پیچھے نہ لگ جاۓ
میں گئ نماز پڑھنے تم ایزی ہو کر بات کرو عرش بھائ سے عمل ہنستے ہوئے بول کر چلی گئ
عرش آج آپ آۓ نہیں عنیقہ نے میسج ٹائیپ کر کے بھیجا
ہاں ملتان ہوں کچھ دن کے لیۓ کوشش کروں گا جلدی آنے کی عرش نے میسج بھیجا
اچھا عنیقہ نے میسج سینڈ کیا
عنیقہ ایک اور میسج ٹائیپ کرنے لگی جب اس کے نمبر پر کال آنے لگی
عنیقہ نے کال ریسیو کی
ہیلو لڑکے کی آواز تھی
کون عنیقہ غصے سے بولی
آرت پلیز کال نہیں کاٹنا پلیززز وہ منت بھرے انداز میں بولا
عنیقہ نے بنا کچھ بولے اسکی کال کاٹ دی پھر آرت کا نمبر بلیک لسٹ میں ڈال دیا
عرش کے کافی میسجز آگۓ تھے لیکن عنیقہ نے بغیر سین کیۓ اپنا فون بیڈ پر پھینک دیا
اور خود نیچے چلی گئ
کیونکہ اسکا دل کافی گھبرانے لگ گیا تھا
ہمیں اب شادی کر لینی چاہیۓ کل بھی بھائ اچانک روم میں آگۓ تھے اور میں تم سے بات کر رہی تھی
آج بھی اس لیۓ ملنے آئ ہوں کیونکہ بھائ نہیں ہیں
میرب پریشانی سے بولی
میرب میں آج ہی اپنی امی سے بات کروں گا
بس کچھ دن اور صبر کر لو سبحان میرب کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے بولا
سبحان جب تک تمہارے گھر والے آئیں گیں تب تک میرے گھر والے میری شادی کروا دیں گیں
اب تو میری ایجوکیشن بھی کمپلیٹ ہوگئ ہے
بس کچھ دن اور سبحان بولا
سبحان ایک ہفتے کے اندر اندر اگر تم اپنے گھر والوں کو نہ لاۓ تو اسکے بعد ہمارا کونٹیکٹ ختم ہو جاۓ گا میرب بیگ اٹھا کر چلی گئ
سبحان اسے اتنی پبلک میں نہیں روک پایا تھا
اگر روکنے کی کوشش کرتا تو میرب اور بھی غصے میں چلی جاتی
رات پوری وہ اپنے کمرے سے نہیں نکلی تھی
صبح گیارہ بجے نکلی تو لڑکا لاؤنچ میں لیٹا ہوا تھا
بات سنیں وہ دھیرے سے اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی
لڑکے کی آنکھ جیسے کھلی تو وہ اس کی شکل دیکھنے لگا
ناراض ہیں وہ بولی
لڑکے نے اپنا ہاتھ آنکھوں پر رکھ دیا بتا رہا تھا ہاں ناراض ہوں
اسنے آرام سے اسکا ہاتھ ہٹایا اور سوری بولی
لڑکا مسکرا ہی رہا تھا کہ جب اسنے ایک جھٹکے سے اسے صوفے پر لٹایا
اور خود اسکے اوپر جھکا
کیوں بھاگ گئ تھی رات کو
لڑکا لڑکی لال ہوتی گالوں کو چومتا ہوا ہلکی سی آواز میں اسکے کان میں بولا
آپ نے ڈرنک کی تھی لڑکی پانچ سو کی سپیڈ سے دھڑکتے دل سے بولی
ابھی تو نہیں کی اب تو کوئ مسئلہ نہیں ہے نا وہ مسکراتے ہوئے بولا
لڑکی خاموش ہو گئی
لڑکا لڑکی کو اٹھا کر بیڈ کی طرف لایا
میری بات سنیں پلیززز لڑکی گھبراتے ہوئے لڑکے سے بولی
بعد میں سنوں گا لڑکا لڑکی کا دوپٹہ اتار کر سائیڈ پر رکھتا ہوا بولا
ابھی وہ اور کچھ اور بولتی
لڑکے نے اپنے ہونٹ اسکے ہونٹ پر رکھ دیۓ
اور اسکے ہاتھوں کو زور سے پکڑ لیا
شام ہوگئ تھی لیکن عنیقہ کی گھبراہٹ ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
اسلیۓ عمل کے پاس گئ تا کے گھر کے سامنے والے پارک میں چلی جاۓ
عمل اپنی ماما کے پاس کھڑی ان کا سر کھا رہی تھی
ماما ابھی تک کیوں نہیں آئیں ہیں احیان بھائ
عمل آجاۓ گا احیان تم کیوں اتنی ٹینشن لے رہی ہو فریدہ صاحبہ سبزی کاٹتے ہوئے بولی
ماما آپ نے کہا تھا احیان بھائ لنچ ہمارے ساتھ کریں گیں
اب تو تھوڑی دیر میں ڈنر کا وقت بھی آنے والا ہے لیکن ان کا کوئ اتہ پتہ نہیں ہے
عمل آؤ پارک جائیں تھوڑی دیر کے لیے تب تک بھائ بھی آجاۓ گیں
عنیقہ کچن میں آتے ہوئے بولی
میں نہیں جاؤں گی پارک وارک عمل غصے سے بولی
پلیز عمل عنیقہ رکویسٹ کرتے ہوئے بولی
ماما آپ کال کر کے احیان بھائ کو بتا دیں کوئ انتظار کر رہا ان کا اچھا
عمل غصے سے بول کر عنیقہ کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے نکل گئ
عنیقہ جیسے ہی گیٹ پر نکلی تو اسے وہی گاڑی نظر آئ جو صبح اسکے کالج کے باہر کھڑی تھی
میرے اللہ یہ کیا ہو رہا ہے عنیقہ دل میں بولی
یہ گاڑی کسی اور کی بھی ہو سکتی ہے صرف اس لفنگے کے پاس تو نہیں ہے نہ
اب کی بار عنیقہ تھوڑا اونچا بولی
کیا لفنگے لگا کر رکھا ہے عمل بولی
کچھ بھی نہیں اب وہ دونوں آہستہ آہستہ چل رہی تھی
اچھا عمل بولی
دونوں پارک میں آئیں تو ہر طرف چھوٹے چھوٹے بچے اپنی ماما کے ساتھ تھے
ہر طرف چہل پہل ہریالی تھی
عنیقہ پارک کے ایک کونے والے بینچ پر بیٹھ گئ کیونکہ وہاں بچو کا شور نہیں تھا
کیونکہ اس سائیڈ جھولے ہی نہیں تھے
جبکے عمل بچو کی طرف گئ اور پینک والے جھولے میں بیٹھ کر جھولنے لگی
میرے نمبر بلاک کرنے سے پہلے یہ تو سن لیں کے میں کہنا کیا چاہتا ہوں آرت عنیقہ کے سر پر کھڑے ہوتے ہوئے بولا
آپ عنیقہ ایکدم کھڑی ہوگئ
جی میں نمبر کیوں بلاک کیا ہے
یہاں سے جائیں ادھر میرا گھر ہے
میرے بابا دیکھ لیں گیں عنیقہ دانت پیستے ہوئے بولی
پتا ہے مجھے آپ کا گھر ہے ادھر
بلیک لسٹ سے نکالیں میرا نمبر وہ بھی ابھی آرت ہاتھ باندھتے ہوئے بولا
عنیقہ بنا کچھ بولے جانے لگی جب آرت نے اسے تیز آواز دی عنیقہ
عنیقہ کو روکنا پڑا کیونکہ اگر وہ آگے جاتی آرت اور اونچی آواز دیتا
پلیززز عنیقہ تماشہ نہ بناؤ اپنا آرت پیار سے بولا
عنیقہ نے اس کا نمبر بلیک لسٹ سے نکال دیا
اور غصے سے چلی گئی جبکے آرت مسکرانے لگا
عرش نے عنیقہ کو کافی میسجز کیۓ لیکن عنیقہ نے کوئ جواب نہیں دیا تھا
اس لیۓ اسنے فریدہ صاحبہ کو کال کی تا کہ پتہ چلے وہ گم کدھر ہو گئ ہے
اسلام علیکم مامی
وعلیکم السلام کیسے ہو عرش بیٹا
میں ٹھیک آپ سنائیں کیسی ہیں گھر میں سب کیسے ہیں عرش حال احوال پوچھتے ہوئے بولا
سب ٹھیک ہے اللہ کا کرم ہے فریدہ صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی
آنٹی عنیقہ کدھر ہے میسج کا کوئ رپلائی نہیں کر رہی عرش احتیاط سے بولا
تاکہ عرش کی مامی جان برا نہ مان لیں
بیٹا وہ آؤٹنگ کے لیے پارک گئ ہے کچھ دیر کے لیۓ
او اچھا عرش بولا
جی جی
کون تھا وہ لڑکا عمل چلتے ہوئے بولی
ایڈریس پوچھ رہا تھا عنیقہ جلدی جلدی چلتے ہوئے بولی
اچھا جی عمل بولی
پھر سیدھا اپنی ماما کے پاس گئی
کتنی دیر رہ گئ ہے احیان بھائ کو آنے میں عمل فریدہ اور حسن صاحب سے بولی
وہ نہیں آۓ گا آج کیونکہ وہ اپنے دوست کے ہاں ہے
اپنے دوست کے پاس عمل غصے سے بولی
ہاں فریدہ صاحبہ بولی
ایسے کیسے وہ اپنے دوست کے گھر روکے گیں
میں بتاتی ہوں انھیں آپ صبر کریں زرا عمل غصے سے بولی
عمل تنگ نہیں کرو اسے فریدہ صاحبہ غصے سے بولی
بابا فون دیں اپنا عمل ہاتھ آگے کرتے ہوئے بولی
بیٹا بولا نہ آپ بھائ کو تنگ نہیں کرو اس ٹائیم کل آجاۓ گا وہ حسن صاحب بولے
نہیں دیں گیں فون عمل بولی
حسن صاحب خاموش تھے
کوئ بات نہیں بات تو میں ان سے کر کے ہی رہو گیں
عمل کوئ کمپرومائز نہیں کرتی تھی احیان کے معاملے میں
عمل عنیقہ کے پاس گئ
عمل نے اپنا ذاتی فون اسلیۓ نہیں رکھا تھا کیونکہ اسکا کہنا تھا فون رکھنے سے ٹینشننو میں مزید اضافہ ہوتا ہے
عنیقہ یار تھوڑی دیر اپنا فون دو عمل نارمل ہوکر بولی ۔
تاکہ اسے یہ نہ پتہ چل جائے کہ عمل کو نیچے سے فون نہیں ملا
ٹیبل پر پڑا ہے لے لو عنیقہ لیٹی ہوئی تھی اسلیۓ عمل سے بولی
عمل نے فون اٹھایا اور احیان کو کال ملائ
جیسے احیان نے کال ریسیو کی عمل نے بولنا شروع کر دیا
احیان بھائ اگر آپ آج نہ آۓ تو ساری زندگی کے لیۓ ہم دونوں کا بہن بھائیوں والا رشتہ ختم ہو جائے گا سمجھیں عمل دھمکی دیتے ہوئے بولی
عمل کیسی ہو احیان مسکراتے ہوئے بولا
صبح سے آپ کا ویٹ کر کر کے بیڑا غرق ہوگیا ہے اور تو اور کل کی چھٹی بھی لے آئ ہوں سکول سے اور آپ پوچھ رہے ہیں کیسی ہوں
آج آئیں گیں یا نہیں عمل دوبارا سے بولی
یار بیزی ہوں دوست کے ساتھ اسنے بہت خلوص سے مجھے ایک دن روکنے کے لیے بولا ہے
ٹھیک ہے آپ رہیے اپنے دوست کے ساتھ آئیندہ مجھ سے نہیں بولنا
عمل نے بول کر کاٹ دی
عنیقہ عمل کو دیکھ کر ہنس رہی تھی میری بہن تم تو احیان بھائ پر ایسے آرڈر چلاتی ہو جیسے کوئی خاص رشتہ ہو
پہلے تھا بہن بھائیوں کا رشتہ لیکن اب نہیں رہا عمل کمبل اوڑھتے ہوئے بولی
او اچھا یار ہم لوگ سگے بہن بھائ تو ہے نہیں
فرض کرو اگر تیری شادی احیان بھائ سے ہوگئ پھر تو
تو اسکا جینا حرام کردے گی عنیقہ ہنستے ہوئے بولی
اللہ نہ کرے عنیقہ میں انھیں بھائ سمجھتی ہوں اسی لیۓ تو ان سے کام کرواتی ہوں اور آرڈر چلاتی ہوں عمل بولی
اچھا چلو اللہ کرے میری بہن کا ہمسفر بالکل بالکل احیان بھائ جیسا ہو عنیقہ دل سے دعا کرتے ہوئے بولی
امین عمل بھی شرماتے ہوئے بولی
سبحان گھر آیا تو اسکی بہن سمبل آئ ہوئ تھی جو کے شادی شدہ تھی
اور دوسری بہن سویرا جس کا رشتہ ہوا تھا
سمبل تم آئ ہو بچے کہاں ہیں سبحان اپنی امی کے ساتھ بیٹھتے ہوئے بولا
بچے میں چھوڑ کر آئ ہوں اب روز روز تو بچو کو لے کر گھوم نہیں سکتی سمبل مسکراتے ہوئے بولی
تو امبر کو تو لے آتی وہ تو کافی چھوٹی ہے سبحان بولا
دو سال کی ہوگئی ہے اب چھوٹی نہیں ہے وہ اور عادل سے بول کر آئ ہوں وہ رکھ رہا ہوگا اپنی بہن کا خیال سمبل لاپرواہی سے بولی
ہمم امی آپ سے بات کرنی ہے سبحان اپنی امی (ممتاز) کی طرف مڑتے ہوئے بولا
بولو ممتاز صاحبہ احسان جتانے والے انداز میں بولی
میں ایک لڑکی کو پسند کرتا ہوں آپ سمبل اور سویرا اس کے گھر جائیں گیں رشتے کے لئے
تم نے لڑکی پسند کی ہے سمبل بولی
جی میں نے لڑکی پسند کی ہے سبحان سمبل کو دیکھتے ہوئے بولا
لڑکی رہتی کہاں ہے سمبل بولی
سبحان نے اسے بتایا
ٹھیک ہے ہم لوگ چلے جائیں گیں دیکھ لے گیں لڑکی کیسی ہے سمبل اور ممتاز صاحبہ بولی
کوئ تصویر نہیں ہے لڑکی کی سمبل ایک آئ برو اٹھا کر موبائل کو دیکھتے ہوئے بولی
ہے میرے پاس پکچر یہ دیکھیں سبحان موبائل دیتے ہوئے بولا
ماشاءاللہ لڑکی تو بہت پیاری ہے
ممتاز صاحبہ بولی
ہمم پیاری تو ہے لیکن امیر گھرانے کی لگتی ہے سمبل تصویر دیکھتے ہوے بولی
سبحان مڈل کلاس فیملی کا تھا جبکے میرب کا اسٹینڈرڈ کافی ہائ تھا
لگتی نہیں ہے امیر گھرانے کی بلکے ہے سبحان بولا
ہمم سمبل بولا
عمل سو چکی تھی جبکے عنیقہ کو نیند نہیں آرہی تھی اس لیۓ ڈرتے ہوئے فون اٹھا لیا
لیکن اس میں عرش کے میسجز بھی آۓ ہوۓ تھے اور آرت کے بھی
عنیقہ نے پہلے آرت کے میسج کو پڑھنا شروع کیا تو اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے
