238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 2

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

عرش عنیقہ کو ڈراپ کر کے سیدھا گھر آیا تا کے سب کو اچھے سے سمجھا دے

اسلام علیکم ماما عرش دھرم سے دروازہ کھول کر اندر آتے ہوئے بولا

وعلیکم السلام مہناز صاحبہ سلام کا جواب دیتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی کلاس لینا بھی شروع کی

عرش یہ کیا طریقہ ہے روم میں آنے کا

سوری ماما عرش اپنے کان پکڑتا ہوا بولا

اچھا اب یہ سب کرنے کی ضرورت نہیں ہے مہناز صاحبہ بولی

اوکے ماما بات سنیں میری عرش گلا کھنکار تے ہوئے بولا

اور ایکدم سیریس انداز میں آگیا تھا

بولو بیٹا مہناز صاحبہ بولی

مامو کے گھر شام کو آپ لوگ جائیں گیں تا کے بات آج ہی کلئیر ہوجاۓ

بعد میں سب یہ نہ کہیں کے عنیقہ آۓ تو ہم اسکی بھی رضا لے لیں کیونکہ اس طرح بات اور ڈیلے ہو جاۓ گی عرش اپنی پوری بات کر کے اپنی ماما کو دیکھنے لگا

بیٹا وہ آپ سے کافی چھوٹی ہے مہناز صاحبہ دھیرے دھیرے بولی

او کمون ماما میں کون سا بوڑھا آدمی ہوں جو آپ کی بھتیجی کے ساتھ ظلم ہوجاۓ گا عرش غصے سے بولا

بیٹا ظلم کی بات نہیں ہے

وہ چھوٹی ہے بچکانہ حرکتیں کرے گی اور ساتھ ہی تمھیں غصہ آجاے گا

میں تمہاری نیچر سے کیا واقف نہیں ہوں مہناز صاحبہ بولی

ماما اب تو میں اپنی عادتیں کافی حد تک چینج کر چکا ہوں اور اب تو مجھے غصہ بھی نہیں آتا عرش نیچے دیکھتے ہوئے بولا

ہاں مجھے پتہ ہے اگر ایک دن تمہارا ناشتہ نہ بناؤں پھر تمہارا شور سارے سنتے ہیں مہناز صاحبہ بولی

ماما جب میں نے کہ دیا ہے کہ میں نہیں کروں گا کچھ بھی پھر کیوں آپ بات کو بڑھا رہی ہیں عرش صوفے کو زور سے پکڑتے ہوئے بولا

چلی جاؤں گی مہناز بیگم بولی

تھینک یو عرش ہنستے ہوئے کھڑا ہوا

اور یہ بابا کدھر ہیں

بابا باہر ہیں مہناز صاحبہ بولی

اوکے پھر میں آفس جاتا ہوں ریڈی ہو کر عرش بولا

ٹھیک ہے بیٹا

عرش اپنے میں روم میں چلا گیا

اوۓ میتھ کی ٹیچر آئ ہے عمل پریشانی سے بولی

ہاں آئ ہے زمل بولی عمل کی (بیسٹ فرینڈ)

یار اللہ کی قسم مجھے فارمولے نہیں یاد

اور آج اس ٹیچر نے میری چمڑی ادھیڑ دینی ہے عمل پریشانی سے بولی

یار اتنے آسان تو ہیں فارمولے پھر کیوں نہیں یاد کرتی زمل غصے سے بولی

دیکھ میں پڑھتی ہوں تو سن

(a+b)2 = a2 + b2 + 2ab. (a-b)2 = a2 + b2 – 2ab. (a+b) (a-b) = a2 – b. …

ہاۓ زمل تجھے یاد ہیں فارمولے عمل خوشی سے بولی

ہاں زمل مسکراتے ہوئے بولی

میری پیاری دوست مجھے بھی بتاۓ گی

عمل کتاب بند کرتے ہوئے بولی

عمل جو فارمولے یاد ہیں وہ تو دیکھ لے زمل بولی

جب تجھے یاد ہے تو میں کیوں اپنے آپ کو پکاؤ عمل مسکراتے ہوئے بولی

اور اٹھ کر وائیٹ بورڈ کی طرف بھاگی

اوۓ سن لو سارے میری بات عمل اونچی آواز میں بولی

آپ سارے دو گروپوں میں تقسیم ہوجاؤ کیونکہ گانا گانے کا مقابلہ شروع ہوگیا ہے عمل ہنستے ہوئے بولی

عمل شروع تم سے ہوگا سب سے پہلے گانا تم گاؤ گی

کلاس کی ایک لڑکی بولی

آپ سے میں کچھ پوچھا ہے کیا

جو بول رہی ہو عمل تیز آواز میں بولی ساری کلاس ہنسنے لگی

چلو بھئی کون سا گروپ پہلے گانا گانا پسند کرے گا

آپ زرا یہاں سائیڈ پر کھڑی ہو جائیں ٹیچر کلاس میں آتے ہوئے بولی

ٹیچر آپ عمل پھٹی آنکھوں سے دیکھتے ہوئے بولی

جی آپ یہاں پر سب بچو کے سونگ سننے آئ ہیں

ہے نہ ٹیچر میتھ کی کتاب کھولتے ہوئے بولی

نو ٹیچر یہ تو ان کی فرمائش تھی عمل اپنے پن کو منہ میں ڈالتے ہوئے بولی

اوکے میری بھی فرمائش تھی کے آپ فارمولے یاد کریں پوری تو کی ہوگی آپ نے ٹیچر عمل کو دیکھتے ہوئے بولی

عمل بالکل خاموش تھی

چلو سٹارٹ کرو فرسٹ فارمولا

(a+b)2 = a2 + b2 + 2ab.

عمل بولی

گڈ سیکنڈ فارمولا

عمل خاموش

سناؤ عمل ٹیچر غصے سے بولی

ٹیچر نہیں یاد ہوتے فارمولے عمل نیچے دیکھتے ہوئے بولی

عمل نیکسٹ منتھ آپ کے فائینل اگزیمز ہیں اور آپ کو میتھ کا فرسٹ ہی یونٹ نہیں آتا جبکے باقی سارے سبجیکٹز کی تیاری آپ کی اتنی اچھی ہے

میم میں بہت کوشش کرتی ہوں لیکن پھر بھی میتھ کا میتھڈ اور فارمولے بھول جاتی ہوں عمل بولی

بیٹا جب آپ کو ایک فارمولا یاد ہوسکتا ہے تو اٹس مینز آپ اور بھی فارمولے یاد کرسکتی ہیں

آپ کی فرینڈ کون ہے ٹیچر بولی

ٹیچر وہ کارنر میں بیٹھی ہے زمل عمل ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بولی

زمل آپ اپنا بیگ وہاں سے اٹھائیں اور سحر کے ساتھ بیٹھ جائیں ٹیچر نے نیا حکم دیا

ٹیچر عمل اور زمل ایک ساتھ بولے

کیا ٹیچر

(ٹیچر بولی)

زمل آپ کے ساتھ اس وقت تک نہیں بیٹھے گی جب تک آپ مجھے سارے فارمولے نہ سنا دو

ٹیچر میں یاد کرلوں گی آپ زمل کو میرے ساتھ ہی بیٹھا رہنے دیں عمل منت کرتے ہوئے بولی کیونکہ وہ زمل کے بغیر کبھی نہیں بیٹھی تھی

اور تو اور چھٹی بھی دونوں ایک دوسرے سے مشورہ کر کے کرتی ہیں

بحس نہیں کرو عمل ٹیچر اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بولی کیونکہ عمل بہت اچھی سٹوڈنٹ ہے دوسرے سبجیکٹ میں

پلیزززززز ٹیچر عمل اسی طرح پھر سے بولی

سحر ٹیچر نے سحر کو آواز دی

یس ٹیچر سحر کھڑے ہوتے ہوئے بولی

یہ دونوں مجھے بریک ٹائیم بھی ایک ساتھ نظر نہ آئیں اوکے ٹیچر سحر بولی

ٹیچر نے سزا اور بھی سخت کردی

اور منتیں کرنی ہے آپ کو ٹیچر عمل کو دیکھتے ہوئے بولی

نو عمل آرام سے اپنی چئیر کے پاس گئ اور وہاں کھڑی ہو گئی

عنیقہ پیپر کیسا ہوا ہے

عنیقہ کی کلاس فیلو بولی

اچھا ہوا ہے عنیقہ مسکراتے ہوئے بولی اور آپ کا کیسا ہوا

میرا بھی اچھا ہوا ہے وہ بھی مسکراتے ہوئے بولی

اچھا عنیقہ گراؤنڈ میں بیٹھ گئ

آپ کس کے ساتھ جاؤ گی کلاس فیلو بولی

میری کالج کی بس پندرہ منٹ بعد نکلے گی

سو اسی میں جاؤں گی عنیقہ بولی

اچھا

اسلام علیکم بھابھی

مہناز بیگم فریدہ صاحبہ سے گلے ملتے ہوئے بولی

وعلیکم السلام کیسی ہیں آپ فریدہ بیگم مسکراتے ہوئے بولی

الحمدللہ مہناز بیگم بولی

بھائ جان آپ کیسے ہیں فریدہ صاحبہ ان سے مخاطب ہوئ

میں بھی ٹھیک

میرب نہیں آئ فریدہ صاحبہ بولی

نہیں اس کی کچھ طبعیت خراب تھی مہناز صاحبہ بولی

حسن صاحب بھی باہر آئیں اور ان سے مل کر ڈراینگ روم میں سب آگۓ

اور باتیں کرنے لگے

بھابھی بچیاں نہیں آئیں ابھی تک

مہناز بیگم گھڑی دیکھتے ہوئے بولی

بس آنے والی ہیں فریدہ صاحبہ بولی

ہم لوگوں کو ایک ضروری کام تھا اس وجہ سے آئیں ہیں ظفر صاحب بولیں

جی جی بولیں حسن صاحب ان کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے بولیں

عرش کے لیۓ ہمیں عنیقہ کا رشتہ چاہیۓ ظفر صاحب بولیں

اور ساتھ ہی مہناز بیگم نے بھی سر ہلایا

دیکھیں میں کچھ بھی اپنی بیٹی کے مرضی کے خلاف نہیں کر سکتا

اس لیۓ وہ آجاۓ تو اس سے پوچھ لیں گیں آپ کے سامنے

باقی عرش اپنا بچہ ہے اس کی طرف سے تو کوئ مسئلہ نہیں ہے

حسن صاحب بولیں

عمل بیٹا کدھر جارہی ہو آپ کو پھوپھو نظر نہیں آرہی فریدہ بیگم آنکھیں دکھاتے ہوۓ بولی

سوری ماما عمل ہاتھ میں میتھ کی کتاب پکڑے اور رٹا لگاتے ہوئے ان کے پاس آئ

اسلام علیکم پھوپھو جی عمل آگے ہوتے ہوئے بولی

وعلیکم السلام مہناز بیگم نے اس کے ماتھے پر پیار کیا

عمل سب سے مل کر اپنے روم میں بھاگی

ساتھ ہی سب کو وجہ بھی بتادی کے اس کا ٹیسٹ ہے

ماما کھانا دے دیں عنیقہ دروازے سے ہی چیختے ہوۓ بولی

جبکے فریدہ بیگم آج اپنی بیٹیوں کی حرکتوں پر حیران رہ گئ تھی

اور سوری عنیقہ سب کو دیکھتے ہوئے بولی

سوری کیوں جب میری بچی کو بھوک لگی ہے تو بولو

مہناز صاحبہ عنیقہ کو اپنے پاس بیٹھاتے ہوۓ بولی

ماما عنیقہ فریدہ صاحبہ کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر بولی

لاتی ہوں کھانا پہلے جاکر فریش ہو جاؤ فریدہ بیگم بولی

اوکے عنیقہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی

ہاں بیٹا پہلے آپ چینج کر لو کھانا کھا لو پھر ہمارے پاس آؤ

مہناز بیگم بولی

اوکے پھوپھو عنیقہ روم میں چلی گئ

عرش اپنے آفس روم میں بیٹھا فائلز دیکھ رہا تھا

اور ساتھ ساتھ اپنے سامنے کھڑی لڑکی (اسسٹنٹ)سے بھی پوچھ رہا تھا۔

اوکے سر یہ ہوجاۓ گا اسسٹنٹ ساری فائلز سیٹ کرتے ہوئے بولی

اوکے عرش نے بول کر اپنے فون پر کال ملائ

بات سنیں شانزہ عرش اپنی اسسٹنٹ کو پکارتے ہوئے بولا

یس سر شانزہ بولی

ایک کافی بھیجنا

اوکے سر شانزہ باہر چلی گئ

جی بھائ میرب کال ریسیو کرتے ہوئے بولی

تم نہیں گئ عنیقہ کے گھر عرش میرب سے بولا

نہیں بھائ طبعیت کچھ ٹھیک نہیں تھی

چکر آرہے تھے بہت اس لیۓ ماما نے کہا مت آؤ ریسٹ کرلو

میں آتا ہوں گھر ڈاکٹر کے پاس چلتے ہیں

عرش پریشانی سے کھڑا ہوا گھر نکلنے کے لیۓ

نہیں بھائ میں ٹھیک ہوں اب دوائ لے لی ہے بس تھوڑا بہت ریسٹ کروں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی

میرب تسلی دیتے ہوئے بولی

اوکے میرب بیٹا اگر طبعیت زرا بھی خراب ہوئ تو فوراً مجھے کال کرنا عرش پیار سے بولا

کیونکہ وہ میرب کو بہت پیار کرتا ہے

اوکے بھائ میرب ہنستے ہوئے بولی

عرش نے کال بند کر کے چئیر پر سر رکھ کر آنکھیں موند لی

اور عنیقہ کے بارے میں سوچنے لگا

عنیقہ کھانا وغیرہ کھا کر واپس ڈرائنگ روم میں آئ

اور اپنی ماما کے ساتھ بیٹھ گئ

عنیقہ بیٹا آپ کی پھوپھو چاہتی ہیں کے آپ ان کے گھر آئیں حسن صاحب ڈھکے چھپے الفاظ میں بولیں

تو کیا ہوا بابا میں چلی جاؤں گی عنیقہ مسکراتے ہوئے بولی

پھوپھو بس میرے اگزیمز ختم ہونے دیں

عنیقہ مہناز صاحبہ کو دیکھتے ہوئے بولی

بیٹا وہ آپ کو اپنی بہو بنانا چاہتی ہیں حسن صاحب عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولیں

جس کی شکل ایکدم سے لال ہوگئ تھی

اور عنیقہ بالکل خاموش ہوگئ تھی

بیٹے بولو بھی مہناز بیگم دھڑکتے دل سے بولی

جیسا ماما اور بابا چاہیں عنیقہ بولی

لیکن عنیقہ کے ان الفاظ نے حسن صاحب کی مسکراہٹ گہری کردی کیونکہ ان کی بیٹی نے ان کو اس قابل سمجھا کے وہ اپنی ساری زندگی کا فیصلہ ان کے سپرد کر رہی ہے

عنیقہ اچھی سی چاۓ بنا کر لاؤ ہم سب کے لیۓ ظفر صاحب پیار سے بولیں

جی عنیقہ اٹھ کر کچن میں چلی گئی

بھائ اب بس ہمیں ڈیٹ بتا دیں تا کہ اپنی بچی کو ہم اپنے گھر لے جائیں مہناز بیگم بےتابی سے بولی

مہناز ابھی میری بچی کے پیپرز ہورہے ہیں اور تم اچھے سے جانتی ہو اسے ڈاکٹر بننے کا کتنا شوق ہے

جی بھائ مہناز صاحبہ سر ہلاتے ہوئے بولی

ایسا کرتے ہیں منگنی کرلیتے ہیں

پھر شادی کچھ عرصے بعد ہوجاۓ گی

بھائ عرصے بعد مہناز حیرانگی سے بولی

دیکھیں حسن آپ کی بیٹی اب ہماری بیٹی ہے اس میں اور میرب میں کوئ فرق نہیں ہے

اگر آپ ہمیں اس قابل سمجھتے ہیں کے ہم آپ کی بیٹی کو ڈاکٹر بنا لیں گیں تو آپ ہمیں رخصتی کی ڈیٹ بھی کچھ دنوں تک دے دیں

ورنہ جو آپ نے ابھی کہا وہ ٹھیک ہے ظفر صاحب بولیں

ظفر مجھے یقین ہے اسی لیۓ تو میں اپنی پھول جیسی بیٹی آپ لوگوں کو دے رہا ہوں

چلو نکاح اس جمعے کو ہوگا اور رخصتی اس کے پیپرز کے بعد

حسن صاحب خوش خبری سناتے ہوئے بولیں

شکریہ بھائی جان آپ نے ہم پر اعتبار کیا

مہناز صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی

بس میرا اعتبار کبھی خراب نہ کرنا میری بچی اسی طرح مسکراتی رہے جیسے ابھی مسکرا رہی ہوتی ہے

فریدہ بیگم بھی مسکرا رہی تھی کیونکہ کہ عرش بھی انہیں بہت پسند تھا

میں عرش کو کال کرکے بتا دیتی ہوں تاکہ وہ بھی خوش ہو جائے

مہناز بیگم مسکراتے ہوئے کھڑی ہوئی

بالکل بالکل آپ جائیں عرش کو خوشخبری دے دیں تاکہ وہ میرب کو لے کر آ جائے اور ساتھ میں اسے کہنا مٹھائی بھی لے کر آئے ظفر صاحب مہناز کو دیکھتے ہوئے بولے

جی مہناز صاحبہ بول کر باہر چلی گئی

ان کے جاتے ساتھ ہیں ہیں عنیقہ چائے لے کر اندر آئ

بہت شکریہ بیٹا ظفر صاحب مسکراتے ہوئے بولے

عنیقہ نے مسکراتے ہوئے چائے رکھی اور اپنے روم میں چلی گئی

ارے واہ آج تو میتھ کی کتاب کھولیں ہے عنیقہ عمل کو دیکھتے ہوئے بولی

ہاں یار فارمولے یاد کیۓ ہیں شکر ہے یاد ہوگۓ

عمل تھکے ہوئے انداز میں بولی

واہ میری بہن کو فارمولے یاد ہوگۓ جو پورا سال یاد نہیں ہوۓ عنیقہ ہنستے ہوئے بولی

ہاں لیکن ایسے یاد نہیں ہوۓ اس کے پیچھے بہت بڑی وجہ ہے عمل بولی

وہ تو میں اندازہ لگا سکتی ہوں اب بتا وجہ کیا ہے عنیقہ بیٹھتے ہوئے بولی

عمل نے سارا گزرا ہوا واقعہ سنا ڈالا

یہ تو بہت اچھا کیا تیری ٹیچر نے تیرے ساتھ عنیقہ ہنستے ہوئے بولی

عمل منہ بنا کر کھڑی ہوئ

کدھر عنیقہ بولی

پھوپھو کے پاس عنیقہ جوتے پہنتے ہوئے بولی

عمل بیٹھ جلدی سے ایک بات بتانی ہے عنیقہ عمل کو بیٹھاتے ہوئے بولی

بول عمل پریشانی سے بولی

پھوپھو میرا رشتہ لینے آئ ہیں نیچے

انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپ کیا چاہتی ہو عنیقہ اپنی قمیض کے دامن کو ٹھیک کرتے ہوئے بولی

تو تم نے کیا کہا عمل بے چینی اور حیرانگی سے بولی

میں نے کہا جو ماما بابا چاہیں عنیقہ فخر سے بولی

عنیقہ تم نے ماما بابا پر فیصلہ کیوں چھوڑا عمل غصے سے بولی

کیا مطلب ہے تمہارا عنیقہ غصے سے بولی

میرا مطلب یہ ہے تم صاف انکار کر دیتی اس میں اور تم میں زمین آسمان کا فرق ہے عمل سمجھاتے ہوئے بولی

عرش بیٹا مٹھائ لے آؤ اور ساتھ ہی میرب کو بھی لے آنا

مہناز بیگم مسکراتے ہوئے بولی

ماما عرش بولا

اور آج عرش کی آواز میں انتہا کی خوشی تھی

جی ماما کی جان

مامو نے ہاں کردی وہ بھی اتنی جلدی

جی میرا بچہ ہاں کردی لیکن ایک بہت بڑی ذمہداری بھی دی ہے مہناز بیگم ڈرانے والے انداز میں بولی

کیا ذمےداری دی ہے عرش خوش ہوتے ہوئے بولا کیونکہ اسے عنیقہ کی ساری زمے داریاں منظور تھی

عنیقہ آگے بھی پڑھے گی اور اس کی زمے داری تم پر ہے

میں خود پڑھاؤں گا اسے آپ سب کو کو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں ہے

عرش خوشی سے بولا