238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 7

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

یہ مولوی ک لیۓ؟

عرش سپاٹ لہجے سمبل کی طرف دیکھتے ہوئے بولا جو سب سے آگے کھڑی تھی

ارے آپ لوگ آئیں تو صیح اندر مہناز صاحبہ عرش کی بات کو اگنور کرتے ہوئے ممتاز صاحبہ اور ان کے سارے مہمانوں سے بولی

ماما میں بات کر رہا ہوں نہ عرش غصے سے بولا کیونکہ اب اس کی برداشت ختم ہونے والی تھی

بیٹا ہم چاہتے ہیں میرب اور سبحان کی مہندی ایک ساتھ کریں اسلیۓ ہم مولانا کو بھی لے آۓ

لیکن اگر تم چاہتے ہو تو نکاح کل تک کے لیۓ ملتوی کر دیتے ہیں ممتاز صاحبہ پیار سے بولی

اچھی بات ہے آپ نے ایسا کیا کیونکہ کل دو دو نکاح کو ہینڈل کرنا بہت مشکل ہو رہا تھا مہناز صاحبہ بولی

اور ساتھ ہی عرش کو بھی مسکراتے ہوئے چپ رہنے کا اشارا کیا

عنیقہ بیٹا جاؤ میرب کو اندر لے جاؤ اب کی بار مہناز صاحبہ عنیقہ سے بولی

عنیقہ کا نام سنتے ہی عرش کو عنیقہ یاد آئ کہ یہ بھی کوئ چیز جو اسکی زندگی میں کل سے شامل ہوجاۓ گی

عرش نے عنیقہ کی طرف دیکھا تو وہ بھی اسے ہی دیکھ رہی تھی

لیکن جب عنیقہ نے دیکھا عرش اسکی طرف متوجہ ہے تو ایکدم سے اسنے نظریں پھیری اور میرب کی طرف چلی گئ

عرش کو کافی افسوس ہوا

اپنی حرکتوں پر جو کل سے لے کر اسنے ابھی تک کی تھی

آپی آپ کا نکاح تو ابھی کچھ ہی دیر میں ہونے والا ہے عمل مصومیت سے بولی

جی میرب مسکراتے ہوئے بولی

کیوں نہ اس عنیقہ کو بھی آج ہی عرش بھائ کے ساتھ بک کروا لیں عمل مسکراتے ہوئے بولی

عنیقہ نے ایکدم سے عمل کی طرف غصے سے دیکھا جیسا اسکی یہ بات اسے بالکل بھی پسند نہ آئ ہو

دیکھ عنیقہ ایک نہ ایک دن تو عرش بھائ کے چنگل میں پھنسنا تو ہے

تو کیوں نہ آج ہی صیح عمل بولی

چپ کر جاؤ عمل ابھی یہ فصول بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے

عنیقہ ڈانٹتے ہوئے بولی

جی بالکل کیونکہ ہم اور ہماری ہر بات فضول ہی ہوتی ہے عرش روم میں آتے ہوئے بولا

عنیقہ نے جیسے عرش کی آواز سنی تو ایکدم پیچھے مڑکر زور سے اپنی آنکھیں بند کردی کہ یہ میں نے کیا بول دیا ہے

عرش اپنے ساتھ کاغذات بھی لایا تھا

اور اسی کے پیچھے مولوی مہناز صاحبہ فریدہ صاحبہ بھی اندر آئ

مولوی نہ نکاح نامہ کو پڑھنا شروع کیا اسکے بعد

عرش چئیر کھینچ کر بلکل میرب کے ساتھ بیٹھا اور اسکے سامنے نکاح نامے کو کیا

میرب نے جیسے ایک صفحے پرسائین کیا تو اسے رونا آنے لگا اور ہاتھ بھی کانپنے لگے جو عرش دیکھ چکا تھا

اسلیۓ اسنے پیار سے میرب کے سر پر ہاتھ رکھا اور دوسرا صفہ موڑا

سائین میرب کر چکی تھی اسلیۓ عرش کھڑا ہوا

عمل میرب کو پانی پلاؤ عرش بول کر چلا گیا

عنیقہ کو اور بھی غصہ آرہا تھا

واہ ایک تو غلطی بھی اپنی ہے سوری کرنے کے بجاۓ مجھے ہی نخرے دیکھا رہے ہیں عنیقہ دل میں غصے سے بولی

عمل میرب کے پاس کھڑی تھی

آپی سائین ہی تو کیۓ ہیں آپ نے اور تو کچھ بھی نہیں

اور اب تو دیکھیں نہ آپ کے تو دو دو گھر ہونگیں

اور ایک ہم ہے گھر سے سکول اسکول سے گھر اور کوئ ٹھکانہ ہے ہی نہیں عمل میرب کو ہنساتے ہوئے بولی

میرب ہنسنے لگی اور اسی کے ساتھ فریدہ صاحبہ بولی

بیٹا تمہاری میٹرک کلئیر ہو جاۓ تو تمہارے لیۓ بھی نۓ گھر کا بندوست کرتی ہوں

ماما آپ یہاں تھی عمل اپنی ماما کو دیکھتے ہوئے حیرانگی سے بولی

جی جی بیٹے فریدہ صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی

مزاق کررہی تھی عمل آنکھ مارتے ہوۓ بولی

میرب کو سٹیج پر لے آؤ مہندی کا فنکشن سٹارٹ کرنا ہے سمبل کمرے میں آتے ہوئے بولی

جس نے مہندی کے دن کالے اور لال رنگ کا سوٹ پہنا تھا اور کلو دو کلو کے حساب سے منہ پر میکپ تھوپا ہوا تھا

جی عمل بولی

تو ساری لڑکیاں مل کر میرب کے قریب آئ

سٹیج پر بیٹھا سبحان اور دوسری طرف سے آتی میرب سبحان کو بہت زیادا پیاری لگ رہی تھی اور آج سب کے سامنے دیکھنے پر اسے کسی کا ڈر نہیں لگ رہا تھا

کیونکہ اسنے آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پوری کردی تھی اور ساتھ ہی اپنا آدھا ایمان بھی

سب لڑکیاں میرب کے ساتھ ساتھ تھی اور کیمرہ مین انکی ویڈیو بنا رہا تھا

میرب کو سبحان کے ساتھ سٹیج پر بیٹھایا تو کیمرہ مین نے انکی فوٹوز کلک کرنا شروع کردی

ایک ایک کر کے سبحان کی فیملی میں سے لوگ آۓ مہندی کی رسم بھی ادا کر رہے تھے اور ساتھ اپنی دو دو تین تین پکچرز بنانا نہیں بھول رہے تھے

اب میرب کے ماما بابا آئیں انہوں نے بھی مہندی لگائ ظفر صاحب نے ڈھیر ساری دعائیں اپنی بیٹی کو دی جب مہناز صاحبہ خاموش تھی اور میرب سے ناراضگی ظاہر کر رہی تھی

میرب جانتی تھی کہ اسکی ماما اسکے اس فیصلے پر خوش نہیں تھی پھر بھی اسنے ضد کرتے ہوئے ادھر ہی شادی کی

عرش + بھابھی

عرش + بھابھی

عرش + بھابھی ساری لڑکیاں اور عرش کے دوست نعرے لگاتے ہوئے بولے

کہ اب عنیقہ اور عرش سٹیج پر جائیں گیں

عنیقہ نے تو جیسے یہ سنا ایکدم سے رنگ اڑنے لگے جبکہ عرش اپنے دوستوں کو خونخوار نظروں سے دیکھنے لگا

لیکن نہ ہی عرش کے دوست چپ ہوۓ اور نہ ہی لڑکیاں

بیٹا جاؤ عنیقہ کے ساتھ اور جاکر رسم کر کے آؤ مہناز صاحبہ بولی

جی بیٹے چلے جاؤ فریدہ صاحبہ بھی ساتھ دیتے ہوئے بولی

جی بول کر عرش چلتا ہوا عنیقہ کے پاس گیا

لیکن عنیقہ ایسا بی ہیو کر رہی تھی جیسے اس کا تو کوئ کہ ہی نہیں رہا

عرش نے عنیقہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے لے کر سیدھا سٹیج کی طرف گیا

عرش نے جیسے عنیقہ کا ہاتھ پکڑا تھا لڑکے اور لڑکیوں کے زور زور سے ہوٹنگ کی آوازیں آنے لگ گئ تھی

جن میں عمل کی سب سے تیز ہوٹنگ تھی

میرا ہاتھ تو چھوڑیں عرش عنیقہ نظریں نیچے کرتے ہوئے بولی

اور ساتھ ساتھ اپنے بالوں کو بھی پیچھے کر رہی تھی جو بار بار آگے آرہے تھے

چپ ہو جاؤ عنیقہ عرش عنیقہ کا ہاتھ دباتے ہوئے بولا

آئییی عنیقہ ہلکی آواز میں درد سے کراہتے ہوئے بولی

دونوں سٹیج پر آگۓ تھے

میرب ہنس رہی تھی عنیقہ کو دیکھتے ہوئے کیونکہ اسے کنفیوژن میں سمجھ نہیں آرہی تھی پہلے کرے تو کیا کرے

عرش نے تھوڑی سی مہندی میرب کے ہاتھ پر رکھی پھر تھوڑا تھوڑا تیل میرب اور سبحان کے سر پر لگایا

پھر ان دونوں کا منہ میٹھا کر وایا

اسکے بعد اپنے پرس سے پانچ پانچ ہزار کے نوٹ نکال کر اپنی بہن اور بہنوئی کے سر پر وار کر اڑا دیۓ تھے عنیقہ نے بھی عرش کو دیکھتے ہوئے سب کیا

رسم کرنے کے بعد عرش اترنے ہی والا تھا جب کیمرہ مینز بولے کے کھڑے رہیں سر پکچرز لینی ہے

عرش کا حلیہ تو اس قابل ہی نہیں تھا کے وہ پکچرز بنا کر ساری زندگی کے لیۓ اسے سنبھال کر رکھتا

کیونکہ وہ تیار ہی نہیں ہوا تھا

نہیں بوس رہنے دو عرش کیمرہ مین کو بوس بولتے ہوئے بول کر مسکرانے لگا

ویر تو ایسے بھی بہت پیارا لگ رہا ہے بنا تصویریں ارسلان شمس اور باقی سارے دوست تیز آواز میں بولے

بھائی یہاں آئیں اور پکچرز بناۓ وہ میرب جو پچھلے چار گھنٹے سے چپ تھی

بھائ کی باری میں ایکدم تیز آواز میں بولی

تو عرش کو مجبوراً بیٹھنا پڑا پھر ان چاروں کی مل کر کیمرہ مین نے پکچرز بنانا شروع کی

عمل جاؤ تم بھی میرب کے پاس مہناز صاحبہ عمل سے بولی

جی مامی لیکن میں احیان بھائ کے ساتھ جاؤں گی

دونوں بہن بھائ اکھٹے کتنے پیارے لگے گیں عمل اپنی تعریف کرتے ہوئے بولی

اچھا جی آپ کو احیان کے ساتھ جانا ہے مہناز صاحبہ بولی

جی عمل آگے پیچھے دیکھتے ہوئے بولی

اووو آگۓ عمل خوشی سے بول کر احیان کی طرف گئ

احیان بھائ چلے سٹیج پر چلیں عمل نے اپنا دوپٹہ پیٹھ پر پھیلایا اور پھر آگے سے ہاتھوں پر لایا

عمل گڑیا آپ خود جاؤ کیونکہ میں جانے والا ہوں کام سے احیان فون میں مصروف سے انداز میں بولا

عمل نے ایکدم سے فون کو چھین لیا

میں کب سے آپ کا ویٹ کر رہی ہوں اور آپ کہ رہے ہیں میں اکیلی جاؤں عمل غصے سے بولی

ٹائیم نہیں ہے میرے پاس عمل فون دو مجھے احیان بولا

پلیز نہ احیان بھائ بس دو منٹ لگے گیں ہمیں نہ نخرے کرے عمل منت کرتے ہوئے بولی

احیان ہر بار کی طرح اس بار بھی عمل کے سامنے ہاں کر گیا

اوکے چلو احیان بولا

ہاۓ میں صدقے اپنے بھائ پر عمل خوش ہوتے ہوئے بولی

پھر دونوں سٹیج کی طرف گۓ جہاں عرش دوڑتا ہوا نیچے اترا

جیسے بڑی مشکل سے جان چھڑائی ہو

عمل سٹیج پر آئ تو ساری کزنوں نے ایک ساتھ ہوٹنگ کرنا شروع کر دی کیونکہ جہاں عمل ہو وہاں کوئ مزہ نہ ہو ایسا ہوسکتا تھا بھلا

عمل میری بہن میرے ساتھ کوئ اوٹ پٹانگ حرکت نہ کرنا میرب ہلکی سی آواز میں عمل سے بولی ساتھ ہی سبحان نے بھی میرب کی آواز سن لی تھی پھر وہ مسکرانے لگا

نہیں نہیں آپی آپ کے ساتھ تو میں کچھ نہیں کرتی عمل اپنی چاروں انگلیوں کو تیل میں ڈبوتے ہوئے بولی

اور چھوٹے سے کٹورے کو اپنے ہاتھ میں پکڑتے ہوئے بولی

عمل اتنا زیادا تیل میرب رونے والے انداز میں بولی

جی عمل بولی

سارے عمل کی حرکتوں کو ہی دیکھ رہے تھے جب کے سبحان میرب کی حالت دیکھتے ہوئے ہنس رہا تھا

عمل نے جم کر جو تیل اپنی انگلیوں میں لیا تھا وہ سارا سبحان کے سر پر لگا دیا

سب کے ایک ساتھ کہکے نکلے جبکے سبحان ہکا بکا رہ گیا تھا عمل کی اس اچانک حرکت پر

میں نے تو کچھ بھی نہیں کیا تھا آپ کے ساتھ سبحان ٹشو اٹھاتے ہوئے بولا

بھائ آج کے دن کسی کو بھی نہیں بخشنا چاہیۓ کیونکہ یہ دن روز تھوڑی نہ آتے ہیں عمل ہنستے ہوئے بولی

سمبل کو بلکل بھی عمل کی یہ حرکت پسند نہیں آئ تھی

کہ یہ کیوں اتنا فری ہورہی ہے اسکے بھائ کہ ساتھ

عمل نے کیک اٹھا کر میرب کے منہ کے قریب کیا میرب نے مزے سے منہ کھانے کے لیے کھولا

لیکن عمل نے فٹ سے کیک ہٹا دیا

ایک بار پھر سے سارے ہنسنے لگ گۓ تھے

عمل پلیززز یار ایسے نہ کرو میرب منت بھرے لہجے میں بولی

اوکے اب نہیں کرتی منہ کھولے عمل سیریس انداز میں بولی

میرب نے پھر سے منہ کھولا تو عمل نے پورا چمچ جو کیک سے بھرا ہوا تھا وہ سارا کا سارا میرب کے منہ میں گھسا دیا تھا

اگے میرب میٹھا کھا کھا کر مرنے والی ہوئ تھی عمل کی اس حرکت پر اسکا دل کیا قے ہی کردے

میرب آپی دونوں کے ساتھ برابر کا حساب کیا ہے اسلیۓ ناراض ہونے کی ضرورت نہیں ہے

عمل مزے سے میرب کا چہرا اپنے چہرے کے ساتھ جوڑ کر تصویریں لیتے ہوئے بولی

عرش احیان اور عمل کو ہی دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی ہنس بھی رہا تھا

تصویریں لینے کے بعد احیان اور عمل سٹیج سے جیسے نیچے اترنے لگے تو عمل نے اپنی انگلیوں میں تھوڑا سا کیک لیا ہوا تھا جو اسنے احیان کی گالوں پر لگا دیا

عمل یہ کیا تھا احیان روکتے ہوئے بولا

پرینک عمل بولتے ساتھ ہی لڑکیوں میں گھس گئ

سبحان کی ساری کزنیں اور میرب کی ساری کزنیں بیٹھی ہوئی تھی

اور ایک ایک کر ڈانس کررہی تھی

سبحان میرب کے ساتھ بیٹھا گلہ کر رہا تھا کہ اسکی کزن نے اسکے ساتھ اچھا نہیں کیا

یار اتنا زیادہ تیل تمہاری کزن نے میرے سر پر لگا دیا ہے میں تو اتنا بن سنور کر تمہارے لیۓ آیا تھا

کوئ بات نہیں کل ہو جایۓ گا میرے لیۓ تیار میرب مسکراتے ہوئے بولی

نہیں میڈم آپ میرے لیۓ تیار ہونگی کل

میں نہیں سبحان میرب کی علم میں اضافہ کرتے ہوئے بولا

میرب خاموش ہوگئ تھی

بولو بھی جناب کل کا کیا پروگرام ہے سبحان تنگ کرتے ہوئے بولا

کل کا یہی پروگرام ہے کہ میں آرام کروں گی کیونکہ اتنی جلدی میں شادی ہوئی ہے کہ آرام کرنے کا وقت ہی نہیں ملا

اور دیکھو میں نے مہندی بھی نہیں لگائ

اب رات پوری بیٹھ کر مہندی لگانی پڑے گی

اور آج بھی سونے کا وقت نہیں ملے گا میرب خفگی سے بولی

ہاں میرب مہندی سے یاد آیا سیدھے ہاتھ پر مہندی نہ لگانا ورنہ میں تمہارے ہاتھ سے گلاس بھی نہیں پکڑوں گا اچھا

سبحان وارن کرتے ہوئے بولا کیونکہ اسے زیادہ مہندی بلکل پسند نہیں تھی خاص طور پر سیدھے ہاتھ پر

مجھے تو مہندی بہت پسند ہے بس دیکھنا مجھے میں کتنی مہندی لگاؤں گی میرب ہنستے ہوئے بولی

اچھا پھر کل دیکھیں گیں سبحان بھی مسکراتے ہوئے بولا

رات کے دو بج چکے تھے سبحان اور اسکی فیملی چلی گئ تھی لیکن عمل ابھی تک نہیں اٹھی تھی سٹیج سے اور نہ ہی لڑکیوں کو اٹھنے دے رہی تھی سب سے بار بار مہندی والے گانوں پر ڈانس کروارہی تھی

اٹھیں آپی تھوڑی سی لڈی ڈالتے ہیں عمل میرب کو اٹھاتے ہوئے بولی

نہیں میں اتنے ہوی کپڑوں کے ساتھ لڈی نہیں لاڈ سکتی میرب انکار کرتے ہوئے بولی

کیسے نہیں ڈال سکتی آپ کو تو بھنگڑے ڈالنے چاہیۓ کیونکہ آپ کی شادی ہے چلیں اٹھے عمل اٹھاتے ہوئے بولی

ساری کزنز مل کر لڈی ڈال رہی تھی جب کہ عنیقہ ایک کونے میں بیٹھی ہوئی تھی

او میڈم تمہاری نند کی شادی ہے اور تم آرام سے بیٹھی ہوئی ہو

عمل اب کی بار عنیقہ کے سر پر کھڑے ہوتے ہوئے بولی

عمل میرا بالکل بھی موڈ نہیں ہے اچھا نہ

اسلیۓ آرام سے سائیڈ پر ہو جاؤ

عنیقہ پہلے سے ہی بتاتے ہوئے بولی تاکہ عمل اسے نہ گھسیٹتے

یار تم شکر کرو تمہاری نند تم سے پہلے جارہی ہے اور تم ہو پتہ نہیں کیا ٹینشن ہے جو تمھیں کھائ جارہی ہے عمل نے غصے سے بول کر عنیقہ کو اٹھا دیا

اور ساتھ ہی لے گئ بھنگڑے ڈلوانے

عرش کو بھی ڈھونڈ رہی تھی لیکن وہ اسکے ہاتھوں چڑھا ہی نہیں

کیونکہ عرش نے اندر آنے کی زحمت ہی نہیں کی وہ اپنے دوستوں کے ساتھ خوش گپیوں میں مصروف تھا

میرب کی رخصتی عصر کے ٹائیم کی رکھ دی تھی جبکے عرش کا نکاح دن بارا بجے تک کا رکھا تھا

مہناز صاحبہ ظفر صاحب اور ان کے ساتھ ہی باقی مہمان عنیقہ کی گھر کی طرف نکل گۓ تھے

جب کے عرش کے دوستوں نے اسے ظفر صاحب اوروں کے ساتھ جانے سے منع کیا

اور کہا کے تو ہمارے ساتھ جاۓ گا

اسلیۓ عرش کو ان سب کے ساتھ جانا پڑا

عنیقہ بیڈ پر اداس بیٹھی ہوئی تھی

جب عمل اندر آئ

عنیقہ مہمان آنے والے ہیں کپڑے چینج کر کے آؤ تاکہ تجھے تیار کریں عمل عنیقہ کو کپڑے دیتے ہو بولی

ہممم عنیقہ بس اتنا ہی بول کر کھڑکی کی طرف آئ

جہان ایک کونے میں آرت کی گاڑی کھڑی تھی اور دوسری طرف سے گاڑیاں ہی گاڑیاں آرہی تھی

اسکے نکاح کے لیۓ

سب پہنچ گۓ تھے عرش سمیت عنیقہ کے گھر

عرش نے وائیٹ کلر کا کرتا اور گولڈن کلر کی واسکٹ زیب تن کی ہوئ تھی

ہاتھ میں برانڈڈ گھڑی پہنی اور

گلے میں وہی چین پہنی ہوئی تھی جس میں عنیقہ کی رینگ تھی

عرش اور اسکے سات سے آٹھ دوست جو آگے پیچھے بیٹھ گۓ تھے

مولوی صاحب بھی انہی کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا

اب صرف عنیقہ کا انتظار تھا وہ آتی اور نکاح شروع کرنا تھا

کیونکہ میرب کی رخصتی بھی کرنی تھی

سب یہی کھڑے تھے (شازیہ بیگم) احیان کی والدہ بھی آئ ہوئ تھی جو فریدہ بیگم سے بات کر رہی تھی

عمل کا رشتہ میرے احیان کو دیں گی آپ سمجھیں شازیہ بیگم مسکراتے ہوئے بولی

عرش نے بھی سن لی تھی یہ بات

کیوں نہیں ہمارا اپنا ہی بچہ ہے وہ بھی بس بچو کی راۓ لے لینی چاہیۓ فریدا صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی

صیح کہ رہی ہیں آپ شازیہ بیگم بھی اس بات سے اتفاق رکھتے ہوئے بولی

حسن صاحب نے فریدہ صاحبہ سے کہا کہ جاؤ عنیقہ کو لے آؤ کافی ٹائیم ہوگیا ہے

اسلیۓ فریدہ صاحبہ روم میں گئ عنیقہ کو بلانے

عرش پانی پی رہا تھا جب شمس بولا

عرش ایک گھونٹ دے پانی کا شمس عرش سے بولا

کیوں عرش حیرانگی سے بولا

یار میں نے سنا ہے دولہے صاحب کا جھوٹا پیو تو جھوٹا پینے والے کی شادی جلدی ہو جاتی ہے شمس مسکراتے ہوئے بولا

لکھ دی لعنت عرش مسکراتے ہوئے ہلکی آواز میں بولا

میں ابھی دولہا نہیں بنا جب بنو گا تو اتنا جھوٹا اپنا کھلاؤں گا اور پلاؤں گا تم لوگوں کے پیچھے خود ہی لڑکیاں آجائیں گی عرش ہنستے ہوئے بولا

بس اسکی اتنی بھی اچھی شکل نہیں ہے کے اسکے پیچھے لڑکیاں آجائیں گی ارحم ہنستے ہوئے بولا

ہاہاہا یہ صیح بولا ہے عرش ہنستے ہوئے بولا

بس کردے عرش ایک گھونٹ پانی کا مانگا تھا تو نے اور ارحم کمینے نے اتنی بڑی تقریر جھڑ دی شمس منہ بنا کر بولا

سالے تو بات ہی ایسی کرتا ہے ہم مصوم کیا کریں ارسلان بولا

اچھا عرش بات سن ارسلان سنجیدگی سے بولا

ہاں بول سارے کے سارے دوست بھی ارسلان کے ساتھ سیریس ہوئے

یار کہتے ہیں نکاح کرتے ہوئے جو دعا مانگو وہ قبول ہو جاتی ہے دعا کری تیرے سارے دوست سنگل سے ڈبل ہو جاۓ

اچھا جی شمس ہاتھ رگڑتے ہوئے بولا

اب کی بار اسکا دل کر رہا تھا وہ ایک مکا ارسلان کے منہ پر جھڑ دے کیونکہ اتنے سیریس انداز میں بول کر آگے سے وہی بات کی شادی کی

فریدہ صاحبہ روم میں آئ تو عمل تھی کمرے میں

عمل عنیقہ ابھی تک تیار نہیں ہوئ کیا فریدہ صاحبہ پریشانی سے بولی

ماما جی وہ تو ہے ہی نہیں عمل پریشانی سے بولی

کیا بکواس کر رہی ہو وہ ہے ہی نہیں

واشروم میں دیکھو وہی ہوگی کپڑے چینج کررہی ہوگی

فریدہ صاحبہ اندر آتے ہوئے بولی اور اندر سے روم لوک کردیا

ماما میں ابھی ہی روم میں آئ تھی کپڑے اور یہ جیولری سارہ کچھ یہاں پڑا ہے بٹ وہ نہیں ہے عمل پریشانی سے بولی

عمل کیا بول رہی ہو فریدہ صاحبہ دل پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی

کیونکہ کسی بھی ماں باپ کے لیۓ یہ بات سننا کسی قیامت سے کم نہیں ہوتا

ماما آپ رو کیوں رہی ہیں عمل بھی روتا ہوا منہ بنا کر بولی

بیٹا تم جاؤ ایک اور بار چیک کرو کیا پتہ باہر ہو

میری بیٹی ایسی نہیں ہوسکتی کیونکہ میں نے اپنی بچیوں کی ایسی تربیت کی ہی نہیں فریدہ صاحبہ روتے ہوۓ بولی

جاؤ مہناز عنیقہ کو لے کر آؤ پھر میرب کی رخصتی بھی کرنی ہے ظفر صاحب مہناز سے مخاطب ہوۓ

جی جاتی ہوں مہناز صاحبہ

سمبل اور ممتاز صاحبہ ان ہی کو دیکھ رہی تھی کیونکہ وہ بھی عرش کے نکاح کی تقریب میں شامل ہوئ تھی

مہناز صاحبہ روم کے باہر کھڑی دروازا بجا رہی تھی

عمل نے جیسے دروازا کھولا تو مہناز صاحبہ بولی

عمل جلدی لاؤ اپنی بہن کو ہمیں دیر ہورہی ہے مہناز صاحبہ بولی

عنیقہ نہیں ہے عمل بولی

عنیقہ نہیں ہے یہ کیسی بات کررہی ہو مہناز صاحبہ اندر آتے ہوئے بولی

لیکن اندر کا منذر کسی قیامت سے کم نہیں تھا

فریدہ صاحبہ اپنی چادر میں منہ چھپاۓ روۓ جارہی تھی

کیونکہ ساری زندگی لگا کر جو عزت انہوں نے کمائ تھی وہ انکی بیٹی صرف ایک گھنٹے کے اندر اپنے پاؤں تلے روند کر چلی گئ تھی

بس کرو بھابھی مہناز آتے ہوئے بولی

اب کیا کریں گیں وہ بد بخت تو کھڑے کھڑے ہمارا منہ کالا کر کے چلی گئ فریدہ صاحبہ عنیقہ کو کوستے ہوۓ بولی

عرش کھڑا ہوا

کیا ہوا عرش حسن صاحب بولے

مامو میں آتا ہوں آپ لوگ پانچ منٹ ویٹ کریں

اچھا چلو صیح ہے

عرش سیدھا عنیقہ کے روم میں گیا کیونکہ ابھی تک جس کو بھی اس کمرے میں بھیج رہے تھے وہ نکل ہی نہیں رہا تھا

عنیقہ کو نیچے بھیجیں عرش کمرے میں آتے ہوئے بولا

کیونکہ عرش سمجھ رہا تھا عنیقہ اس سے ناراض ہے اس وجہ سے نخرے کر رہی ہے

لیکن اس کے ذہن گمان میں بھی نہیں تھا وہ اسے چھوڑ کر کہی بھاگ گئ ہوگی

بیٹا عنیقہ کہی اور چلی گئ ہے مہناز صاحبہ آرام سے بولی

کیا مطلب کہی چلی گئ ہے عرش حیرانگی سے بولا

وہ بھاگ گئ ہے فریدہ صاحبہ غصے سے بولی

بھاگ عرش حیرانگی سے بولا اور ساتھ ہی اسنے ڈھم سے دروازے کو زور سے مار کر بند کیا

آرام سے بیٹا باہر سب کو پتہ چل جاۓ گا

مہناز صاحبہ عرش سے بولی

کہاں گئ ہے تمہاری بہن عرش سیدھا عمل کے سر پر کھڑے ہوتے ہوئے بولا

مجھے کیا پتہ ہے عمل پریشانی سے اور ڈرتے ہوئے بولی

تمہیں نہیں پتہ او کمون اتنی مصوم نہیں بنو عرش طنزیہ ہنستے ہوئے بولا

عرش بھائ سچ میں مجھے نہیں پتہ عنیقہ کہاں گئ ہے عمل نے اب رونا شروع کردیا تھا

اگر آپ لوگ ہماری اور اپنی عزت رکھنا چاہتے ہیں تو بھیجیں اسے نکاح کے لیۓ عرش بولا

میں نکاح نہیں کروں گی آپ سے عمل اپنے بدلتے ہوئے رنگ پر قابو پاتے ہوئے بولا

نکاح تو تم سے ہی ہوگا میرا اور اگر تم نے نہ کیا تو میں آج ہی تمہاری بہن کو ڈھونڈ کر وہی اسے اور اسکے عاشق کو گولیوں سے چھنی چھنی کر دوں گا پھر بیٹھی رہنا یہاں ہمیشہ کے لیۓ عرش دھمکی دیتے ہوئے بولا اور یہ محض دھمکی نہیں تھی اگر عمل انکار کرتی تو عرش واقعی میں آج ہی عنیقہ کو ڈھونڈ کر ماردیتا

بولو نکاح کرنا ہے یہ نہیں عرش کی آنکھیں بلکل لال ہوگئ تھی

عمل نے ہلکے سے سر کو ہلایا کے وہ کرے گی نکاح

لے آئیں اسے عرش بول کر نیچے چلا گیا