238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 1

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

عمل جاؤ عنیقہ کو جگا کر آؤ تا کے مل کر بریک فاسٹ کرلیں

فریدہ بیگم اپنی چھوٹی بیٹی عمل سے بولی

جی ماما عمل اپنی سکول کی چادر کندھے پر سیٹ کرتے ہوئے روم میں گئ

او میڈم چل اٹھ عمل عنیقہ کے اوپر سے کمبل کھینچ کر سائیڈ پر رکھتے ہوۓ بولی

کیا تکلیف ہے تجھے عنیقہ غصے سے بولی

مجھے کوئ تکلیف نہیں ہے پیپر ہے تیرا وہ بھی فزکس کا

تیاری کر جو لی تھی اب کیا کتاب کو پانی میں گھول کر پی جاؤں عنیقہ کمبل اوڑھتے ہوئے بولی

او بہن سات بج کر پچیس منٹ ہوگۓ ہیں بس چھوٹ جاۓ گی

میرا کام تھا بتانا باقی آپ کی اپنی مرضی عمل بتا کر مڑ گئ

تجھے میں کن الفاظ سے نوازوں خود پوری کی پوری تیار ہو کر مجھے اپنی شکل دکھا رہی ہے عنیقہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی

کیا کروں ایسا ٹیلنٹ کسی کے پاس نہیں ہوتا عمل ہنستے ہوئے جانے لگی

اوۓ بات سن عنیقہ روکتے ہوئے بولی

بول عمل سنجیدگی سے بولی

یہ دیکھ میرے دونوں ہاتھ عنیقہ ہاتھ دیکھاتے ہوئے بولی

ہاں کیا ہوا

لعنت اس ٹیلنٹ پر عنیقہ غصے سے بول کر واشروم میں چلی گئ

بدتمیز پہلے بھی ماما نے کہا ہے لعنت نہیں بھیجتے اب تو میں ماما اور بابا دونوں کو بتاؤں گی عمل غصے سے بول کر چلی گئ

اسلام علیکم بابا عرش موبائل یوز کرتے ہوئے

ڈائنگ ٹیبل پر بیٹھا

وعلیکم السلام ظفر صاحب بولیں

بابا ماما کدھر ہیں عرش اب موبائل کو ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولا

آپ کی ماما آپ ہی کے لیۓ ناشتہ بنا رہی ہیں کیونکہ ان لاڈلہ ان کے ہی ہاتھ کا ناشتہ کھاتا ہے ظفر صاحب مسکراتے ہوئے بولیں

ہاہاہا رائیٹ بابا عرش ہنستے ہوئے بولا

اختر میرا ناشتہ بھی لے آؤ میرب تیز آواز میں بول کر ڈائنگ ٹیبل کی طرف آئ

بابا اب سے میرا ناشتہ میری چھوٹی بہن بناۓ گی عرش مسکراتے ہوئے بولا

ہاں بھائ بنا ہی نہ دوں میں آپ کا ناشتہ میرب ہنستے ہوئے بولی

کیا مطلب بنا ہی نہ دوں بنا کر دو گی تم عرش آورڈر دیتے ہوئے بولا

بابا آپ کے ہوتے ہوئے بھائ مجھ پر آرڈر چلا رہے ہیں آپ دیکھ رہے ہیں نہ میرب معصومانہ انداز میں بولی

عرش بہن سے ایسے بات نہیں کرتے ظفر صاحب غصہ دکھاتے ہوۓ بولیں

تو بابا پیار سے آپ کی بیٹی مانتی ہی کہاں ہے عرش بولا

بھائ آپ نہ اپنے سارے کام اپنی بیوی سے کہنا ویسے بھی زیادہ ٹائیم نہیں ہے بیگم آنے کے لیے میرب مشورہ دیتے ہوئے بولی

اووو عرش ایک دم پریشانی سے بولا

کیا ہوا بیٹا ظفر صاحب بولیں

بابا آٹھ تو ہونے والے ہیں عرش کھڑا ہوتے ہوئے بولا

تو

آفس ابھی تو نہیں جانا ظفر صاحب بولیں

وہ تو پتا ہے لیکن بابا میری بات سنیں

آج آپ نے اور ماما نے حسن مامو کے گھر جانا ہے

کیوں میرب بیچ میں بولی

میرب بول جو رہا ہوں بیچ میں نہ ٹوکو عرش تھوڑا سا غصہ دیکھاتے ہوئے بولا

آپ نے عنیقہ کا رشتہ میرے لیۓ مانگنے جانا ہے اوکے عرش بول کر دوڑتے ہوۓ باہر نکل گیا

بات تو سنو عرش ظفر صاحب پکارتے رہ گۓ لیکن عرش بغیر سنیں باہر نکل گیا

عرش جیسے باہر نکلا تو گارڈ کو تیز آواز دے کر بلایا

اور اپنی گاڑی کا دروازا کھول کر کھڑا ہوا

جی صاحب گارڈ دوڑتے ہوۓ آیا

گیٹ کھولا جلدی سے گارڈ گیٹ کے قریب گیا اور اسے کھول دیا

عرش گاڑی میں بیٹھا اور جیسے ہی گیٹ تک آیا

تو گاڑی روک کر اپنے گارڈ کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا

آپ کی یہ ڈیوٹی جلدی ختم ہونے والی ہے

اچھا گارڈ بھی مسکرایا

عرش گاڑی کو بھگا کر لے گیا

بابا عنیقہ کو اپنے انداز میں تمیز سیکھائیں عمل بولی

کیوں میری عنیقہ نے کیا کر دیا ہے جو آپ کو صبح صبح اتنا غصہ آیا ہوا ہے حسن صاحب بولیں

یہ لعنت بھیجتی ہے مجھ پر عمل دکھی لہجے میں بولی

ہاۓ میری بہن ناراض ہو گئ عنیقہ مسکراتے ہوئے عمل کو

پیچھے سے اپنے گلے لگایا

ہاں نہ عمل اب کی بار نخرے دکھاتے ہوۓ بولی

بس اب ایکٹنگ ختم کر عنیقہ ہنستے ہوئے بولی

تو آگے سے عمل بھی ہنسنے لگی

چلو لڑکیوں ناشتہ کر لو فریدہ صاحبہ بولی

نہیں ماما میرا تو پیٹ بالکل بھرا ہوا ہے عنیقہ عجیب سی شکل بنا کر بولی

عنیقہ مجھ سے مار نہ کھانا انیس سال کی جوان لڑکی ہو اور نخرے ابھی بھی بچو کی طرح کر رہی ہو فریدہ صاحبہ غصے سے بولی

بابا آپ ماما کو دیکھ لیں مجھے کسطرح ڈانٹ رہی ہیں اور عمل کو کچھ بھی نہیں کہتی عنیقہ اپنے بابا کی طرف دیکھتے ہوئے بولی جو تقریباً عنیقہ کے وکیل تھے

بیٹا آپ کو ٹائیفائڈ ہوا ہے آپ کو اچھے سے پتا ہے اگر آپ اپنی صحت کا خیال نہیں رکھو گی تو اور بھی بیمار ہو جائیں گی

اور رہی بات عمل کی تو

وہ مجھے اور آپ کی ماما کو بالکل تنگ نہیں کرتی دو سال پہلے اسے بھی ٹائیفائڈ ہوا تھا تو اس نے ٹائیم ٹائیم پر اپنی دوائیاں لی کھانا پینا اچھا رکھا اب وہ بالکل ٹھیک ہے

اور آپ پر دوسری بار اٹیک کیا ہے ٹائیفائڈ نے

اچھا نہ بابا واپس آکر میں صیحیح زیادا کھاؤں گی ابھی مجھے دیر ہورہی ہے عنیقہ اپنا بیگ اٹھا کر چلی گئ

اسلام علیکم مامو جان

وعلیکم السلام حسن صاحب مسکراتے ہوئے کھڑے ہوئے

کیسے ہے میرا بھانجہ

میں فٹ آپ سنائیں کیسے ہیں عرش مسکراتے ہوئے بولا

میں بھی تمہارے سامنے ہوں حسن صاحب ہنستے ہوئے بولیں

اور سناؤ عمل میڈم اتنا منہ کیوں پھولا ہوا ہے عرش عمل کی طرف دیکھتے ہوئے بولا

نہیں میرا منہ تو بالکل ٹھیک ہے

عمل اپنے چہرے کو ہاتھ لگاتے ہوئے بولی

مامی کدھر ہیں مامو

عرش آگے پیچھے دیکھتے ہوئے بولا

وہ ابھی کچن میں گئ ہے حسن صاحب بولیں

لیکن پھر بھی عرش آگے پیچھے دیکھ رہا تھا

اور مامو آپ کی دوسری لاڈلی کدھر ہے عرش ڈرتے ہوۓ بولا

وہ تو ابھی نکلی ہے کالج کے لیۓ حسن بول کر اخبار دیکھنے لگے

لیٹ ہوگیا عرش ہلکی سی آواز میں بن بن کرتے ہوئے بولا

کیا بولا عرش عمل بولی

کچھ نہیں عرش کھڑا ہوتے ہوئے بولا

نہیں کچھ تو بولا تھا آپ نے عمل بولی

عرش نہیں بھائ بولا کرو میرب بھی مجھے بھائ بولتی ہے

دیکھیں عزت میں اسی کو دیتی ہوں جو مجھے بھی دیتا ہے عمل مسکراتے ہوئے بولی

مطلب عرش ماتھے پر سلوٹیں لاتے ہوئے بولا

کیونکہ عرش پر چیز برداشت کرسکتا ہے لیکن اپنی انسلٹ نہیں

مطلب یہ کے آپ کو میں آپ کہتی ہوں

تو آپ بھی مجھے آپ ہی کہا کریں ناکے تم عمل مثال دیتے ہوئے بولی

بعد میں ڈسکشن ہوگی گڑیا ابھی میں جارہا ہوں

اوکے مامو جان اللہ حافظ مامی جان سے میں بعد میں اکر ملوں گا

مجھے امپورٹنٹ کام ہے

عرش بولا

بیٹا بیٹھو چاۓ ہی پی لو حسن صاحب بولیں

نہیں مامو جان پھر آؤں گا اللہ حافظ عرش بول کر چلا گیا

ماما آپ کے بیٹے کی خواہش سنی ہے

میرب ہنستے ہوئے بولی

کیا مہناز بیگم بولی

شادی کرنی ہے اسنے

یہ تو اچھی بات ہے مہناز بیگم خوشی سے بولی

پوری بات تو سن لیں میرب ہنس کر بولی

اس نے شادی کرنی ہے وہ بھی عنیقہ سے

کیا ظفر یہ کیا ہے مہناز پریشانی سے بولی

مجھے کیا بول رہی ہو آپ کا بیٹا آپ کی بتھیجی کا ہی تو بول رہا ہے

میری بھتیجی ابھی سیکنڈ ائیر کی طالبہ ہے

وہ پڑھ رہی ہے جب کے عرش ستائیس سال کا ہے

عرش کی شادی کی عمر ہے جبکے عنیقہ چھوٹی ہے

بیگم پھر بھی ایک مرتبہ بات کر لیتے ہیں

کیا پتہ وہ اس رشتے کے لیۓ ہاں کردیں

اگر پڑھائی کا مسلہ ہے تو وہ یہاں بھی اپنی پڑھائی کرسکتی ہے ہمیں تو کوئ مسلہ نہیں ہے ظفر صاحب مشورہ دیتے ہوئے بولیں

کچھ کرتی ہوں کیونکہ عرش نے کہ دیا ہے اللہ پاک کسی کو ضدی اولاد نہ دے مہناز صاحبہ اپنا سر پکڑ کر بولی

عرش گاڑی بھی چلا رہا تھا اور شیشے سے آگے پیچھے بھی دیکھ کر رہا تھا

کے کہیں عنیقہ مل جاۓ

آگے پیچھے دیکھتے دیکھتے عرش بس سٹاپ تک پہنچ گیا

بس سٹاپ کے سامنے والے روڈ سے عنیقہ تیز تیز چل رہی تھی

سٹاپ تک پہنچنے کے لیۓ

عرش مسکراتا ہوا گاڑی اسکی طرف لے گیا

پیپ پیپ پیپ عرش گاڑی کا ہرن بجا رہا تھا اور جھٹکے جھٹکے سے گاڑی چلا رہا تا کے عنیقہ کو نہ لگ جاۓ

کون ہے یہ جاہل کا بچہ عنیقہ غصے سے بول کر پیچھے مڑی تو عرش گاڑی میں بیٹھا مسکرا رہا تھا

پھر گاڑی اسکے قریب لے آیا

بیٹھو عرش اپنی گلاسزز اتارتے ہوئے بولا

بھائ آپ یہاں کیا کر رہے ہیں عنیقہ حیرانگی سے بولی

کام تھا

بیٹھو تمھیں بھی ڈراپ کر دوں

نہیں بھائی میری بس آگئ ہے میں جارہی ہوں

عنیقہ بول کر جانے لگی

جب عرش نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا

بھائ چھوڑیں میری بس چلی جاۓ گی عنیقہ پریشانی سے بولی

لیکن عرش ایسا بی ہیو کر رہا تھا جیسے سن ہی نہ رہا ہو

صبح کا ٹائیم تھا کوئ تھا بھی نہیں سواۓ اکا دکا سٹوڈنٹ کے جو اپنے ہی کام میں لگے تھے

اگر کوئ بزرگ عرش کو دیکھ لیتا تو کھڑے کھڑے عرش کی عزت کر دیتا

بھائ میری بس چلی گئ ہے عنیقہ اپنے دانت پیستے ہوئے بولی

اچھا چلو آؤ بیٹھو عرش موبائل سے نظریں ہٹا کر عنیقہ کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا

عنیقہ کو مجبوراً گاڑی میں بیٹھنا پڑا

عرش گاڑی چلانے لگا

یہ تم کونسے راستے سے آتی ہو

عرش بولا

جو راستہ ہے اسی سے آؤں گی نہ عنیقہ غصے سے بولی

غصہ آیا ہے عرش مسکراتے ہوئے بولا

جی بالکل عنیقہ سچ بولی

تو آرام سے بیٹھ جاتی نہ گاڑی میں

عنیقہ خاموش رہی کچھ نہ بولی

آگیا تمہارا کالج عرش گاڑی روکتے ہوئے بولا

تھینک یو بھائ عنیقہ بول کر اترنے لگی

جب عرش نے اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے اپنے قریب کیا

بھائ یہ کیا کر رہے ہیں آپ عنیقہ روتی شکل بنا کر بولی

یہ بھائ بھائ کیا لگا کر رکھا ہے تم نے عرش غصے سے بولا

ماما کہتی ہیں آپ کو بھائ بولوں عنیقہ غصے سے بولی

آج کے بعد بھائ نہیں بولنا اوکے عرش پیار سے سمجھاتے ہوئے بولا

کیوں نہ بولوں بھائ عنیقہ پیچھے ہوتے ہوئے بولی

تو بھائ بولو گی عرش کنفرم کرتے ہوئے بولا

اور ساتھ ہی اس کے قریب ہو رہا تھا ساتھ ساتھ اسکی طرف جھک بھی رہا تھا

چھوڑیں مجھے ورنہ میں نے بابا سے آپ کی شکایت کرنی ہے عنیقہ بولی

اب میری شکایت بھی لگاؤ گی تم

واؤ عرش مسکراتے ہوئے بولا

میں تم سے شادی کرنے والا ہوں میری ظالم حسینہ

اگر بھائ والی عادت تمھیں شادی کے بعد بھی ہوئ تو یہ بہت بڑا مسلہ ہوگا

اس لیۓ کہ رہا ہوں بھائ نہ کہو

عنیقہ اپنا منہ موڑ کر رونے لگی

ادھر دیکھو عرش غصے سے بولا تو ایکدم عنیقہ سیدھی ہوئی

سن رہی ہو کے نہیں عرش اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے بولا

سن رہی ہوں عنیقہ روتے ہوئے بولی

سب سے پہلے اپنے آنسو صاف کرو عرش سیدھا ہوتے ہوئے بولا

عنیقہ اپنے ہاتھوں سے ہی اپنے آنسو صاف کرنے لگی

یہ لو ٹشو پیپر عرش ٹشو پکڑاتے ہوئے بولا

میرے پاس ہیں عنیقہ اپنے بیگ سے ٹشو نکالنے لگی

عرش کو ایکدم ہنسی آگئ جسے اس نے کنٹرول کیا

ظالم حسینہ بھائ نہیں بولنا اوکے

اب جاؤ اور اپنا پیپر اچھے سے حل کرنا بیسٹ اوف لک

عرش کی بولنے کی دیر تھی عنیقہ دوڑ کر باہر نکل گئ

عرش ہنسنے لگ گی

بیگم آپ حسن کو کال کر کے بتا دو کے آج ہم نے ان کے گھر آنا ہے

یہ نہ ہو وہ پھر آفس چلے جائیں

ظفر صاحب بولیں

یہ ٹھیک کہا آپ نے پہلے میں انھیں کال کر لوں مہناز بیگم نے بول کر اپنا فون اٹھایا

اسلام علیکم بھائی کیسے ہیں مہناز بیگم بولی

وعلیکم السلام میں ٹھیک میری بہن کیسی ہے حسن صاحب بولیں

بھائ میں ٹھیک بچیاں بھابھی کیسی ہیں

سب ٹھیک اللہ پاک کا کرم ہے

عنیقہ کو ٹائیفائڈ ہوا تھا اب کیسی ہے وہ

ٹھیک ہے بس تنگ بہت کرتی ہے حسن صاحب مسکرا کر بولیں جیسے انھیں اپنی بیٹی کا تنگ کرنا بہت اچھا لگتا ہو

اچھا مہناز بیگم بھی مسکرائ

بھائ آج آپ آفس نہیں جائیے گا

کام ہے آپ سے

مہناز بیگم بولی

ٹھیک ہے نہیں جاتا جیسے میری بہن کا حکم حسن صاحب بولیں

بہت شکریہ بھائ