238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 20

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

حسن عمل آئ ہوئ ہے فریدہ صاحبہ حسن صاحب کو گھر میں آتا ہوا دیکھ کر بولی

اچھا کدھر ہے میری بچی حسن صاحب خوشی سے بولے

اپنے کمرے میں ہے فریدہ صاحبہ بولی اچھا پھر میں اسکے پاس جارہا ہوں حسن صاحب بولے

عمل اور عرش کا جھگڑا ہوا ہے اور اسنے عمل کو مارا بھی ہے فریدہ صاحبہ پریشانی سے بولی

اسنے عمل کو مارا ہے ایسا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ صبح ہی میری اور اسکی ملاقات ہوئی تھی اسنے مجھے ایسا کچھ نہیں کہا حسن صاحب حیرانگی سے بولے

اسنے عمل کو مارا ہے اور جس طرح اس بے حس میری بیٹی کو مارا ہے اسطرح میرے نہیں خیال کسی نے مارا ہو فریدہ صاحبہ افسوس سے بولی

میں جاتا ہوں عمل کے پاس حسن صاحب بول کر عمل کے پاس چلے گئے

اسلام علیکم حسن صاحب عمل کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولے

وعلیکم السلام عمل بھی ہلکا سا مسکرا کر کھڑی ہوئ اور اپنے بابا سے گلے ملی

کیا ہوا ہے آپ کو جو ایکدم گھر آگئ اور وہ بھی بنا عرش کے حسن صاحب پیار بھرے لہجے میں بولے

بابا آپ مجھے روباب کے پاس انگلینڈ بھیج دیں عمل اپنے آپ کو مضبوط بناتے ہوئے بولی

انگلینڈ وہ بھی اتنی جلدی آخر کیوں میں جان سکتا ہوں حسن صاحب بولے

بابا میں یہاں سے دور جانا چاہتی ہوں کیونکہ بہت ٹینشنیں ہوگئ ہیں عمل بولی

عمل نہیں چاہتی تھی کے وہ کسی کو بھی بتاۓ کے عرش نے اسے مارا اور کسطرح سے مارا کیونکہ وہ عرش کو لوگوں کی نظروں میں نہیں بلکے اسکی خود کی نظروں میں اسے گرانہ چاہتی تھی

لیکن تمہارے پیپرز حسن صاحب بولے

میرے پیپرز رہنے دیں کیونکہ میں ابھی نہیں دے سکتی عمل بولی

اچھا حسن صاحب پریشانی سے بولے کیونکہ اب انکی ایک ہی بیٹی رہ گئ تھی وہ بھی اپنے گھر خوش نہیں تھی

اسلام علیکم عمللللل زمل عمل کو دیکھتے ہوئے خوشی سے بولی

وعلیکم السلام عمل مسکراتے ہوئے کھڑی ہوئ اور اس سے ملی

یہ کیا اتنا سا منہ رہ گیا ہے تیرا زمل عمل کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی

زمل بابا ہیں عمل مسکراتے ہوئے بولی تاکہ وہ حسن صاحب کو بھی سلام کرے

پتہ ہے مجھے اسلام علیکم انکل

وعلیکم السلام حسن صاحب زمل کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے

کیسی ہو بیٹا حسن صاحب بولے

میں ٹھیک آپ سنائیں زمل چہک کر بولی

میں بھی ٹھیک ہوں الحمدللہ آپ دونوں بیٹھو حسن صاحب عمل اور زمل کو بیٹھا کر خود باہر نکل گۓ

کیسی ہو زمل عمل زمل کو دیکھتے ہوئے بولی جو بڑی فٹ فاٹ لگ رہی تھی

ہاۓ کیا بتاؤں تیاری کرکے جان حلق تک آگئ ہے زمل ایک ادا دیکھاتے ہوئے بولی

اچھا عمل بھی مسکرانے لگی

چل اب یہ بتا کے کیا مسئلہ ہے تیرے ساتھ زمل پاؤں اوپر کر کے بیٹھتے ہوئے بولی

کچھ بھی نہیں عمل آگے پیچھے دیکھتے ہوئے بولی

ہوگیا ہے تیرا ڈرامہ بتا مجھے کیا ہوا ویسے تیری شکل سے میں پورا پورا اندازا لگا سکتی ہوں جو بھی ہوا ہے وہ کوئ چھوٹی بات نہیں ہے زمل سنجیدگی سے بولی

عنیقہ کا کچھ پتا چلا تجھے عمل بولی

نہیں آسکا نمبر بند جارہا ہے ہاں عنیقہ سے یاد آیا اس دن ہم بات کررہے تھے تو اچانک تیری کال کٹ گئ تھی اسکے بعد ہمارا کوئ رابطہ نہیں ہوا

کیا ہوا اب بتا بھی زمل تنگ ہوتے ہوئے بولی

کیا عنیقہ کو میں نے کہا تھا بھاگ جاؤ عمل رونے والا منہ بنا کر بولی

نہیں زمل حیرانگی سے بولی

(ماضی)

(عنیقہ یہ میرا تیسرا چکر ہے روم میں کپڑے کیوں نہیں چینج کررہی عمل غصے سے بولی

عمل ایک بات بتانی ہے عنیقہ عمل اور زمل کو دیکھتے ہوئے بولی

بولو کیا ہے عمل عنیقہ کی چیزیں بیڈ پر رکھتے ہوۓ بولی

عمل میں کسی اور کو پسند کرتی ہوں اور وہ لڑکا کتنے دنوں سے میرا انتظار کر رہا ہے باہر عنیقہ عمل کو دیکھتے ہوئے بولی اور اندر سے اسکا دل ڈھڑک رہا تھا

کیا فضول بات کررہی ہے تو عنیقہ تیرا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا پتہ نہیں وہ لڑکا کون ہے کیسا ہے ہم تو اسکے بارے میں کچھ نہیں جانتے عمل عنیقہ کو دیکھتے ہوئے غصے سے بولی

عمل تو نے خود کہا تھا تو اپنی زندگی میں اس بندے کا انتخاب کرے گی جس سے تو اور وہ تجھ سے محبت کرے گا کیونکہ تالی ایک ہاتھ سے نہیں بجتی عنیقہ روتے ہوئے بول رہی تھی

عنیقہ اگر میں نے یہ کہا تھا

تو یہ بھی کہا تھا میں اپنے ماں باپ کی رضا مندی سے شادی کروں گی عمل عنیقہ کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی کیونکہ وہ بہت زیادا رو روہی تھی

عنیقہ آپ اپنے بابا سے کہیں وہ ضرور عرش سے آپ کا نکاح نہیں کرواۓ گیں زمل پریشانی سے بولی

زمل اگر میرے بابا منع کر بھی دیں تو عرش نہیں چھوڑے گا کیونکہ وہ جو کہتا ہے اسے پورا کر کے ہی چھوڑتا ہے عنیقہ مسلسل روتے ہوئے بول رہی تھی

تو کیا کرنا چاہتی ہو عمل عنیقہ کا ہاتھ زور سے پکڑتے ہوئے بولی

میں آرت سے ہی شادی کروں گی کیونکہ میں بھی اس سے محبت کرتی ہوں اور وہ بھی مجھ سے محبت کرتا ہے عنیقہ بولی

ایسی کوئ پاگلوں والی حرکت نہیں کرنا عمل جس سے بابا کا سر نیچا ہوجاۓ اسلیۓ بھولو اس لڑکے کو کیونکہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی عمل کھڑے ہوتے ہوئے بولی

میں آرت سے ہی شادی کروں گی اور پھر گھر آکر بابا اور ماما کو منا لوں گی میں اچھے سے جانتی ہوں وہ مجھے معاف کردیں گیں عنیقہ بولی

عنیقہ بکواس بند کرو سمجھی میں لحاظ ختم کر دوں گی کے تم میری بڑی بہن ہو عمل عنیقہ کی فضول باتوں سے تنگ ہوتے ہوئے بولی

عنیقہ چپ چاپ بیٹھی ہوئی تھی

ٹک ٹک باہر سے کسی نے دروازا کھٹکٹایا

جلدی سے چینج کرو آدھے گھنٹے بعد نکاح شروع ہوجاۓ گا اور میری بہن یہ دونوں ہاتھ جوڑ کر تمہارے سامنے کررہی ہوں کچھ الٹا مت کرنا عمل عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بول کر دروازا کھولنے چلی گئ

عمل تمھیں باہر بلا رہے ہیں ایک لڑکی بولی

چلو عمل اس لڑکی کو لے کر فریدہ صاحبہ کے پاس لے گئ

زمل میری اس مشکل گھڑی میں میری اپنی سگی بہن نے میرا ساتھ نہیں دیا عنیقہ تنزیہ مسکراتے ہوئے بولی

عنیقہ آپ کی بات بلکل ٹھیک نہیں ہے اسی وجہ سے تو عمل ساتھ نہیں دے رہی آپ کا زمل عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولی

میرے لیۓ پانی لے آؤ بہت پیاس لگ رہی ہے عنیقہ اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی

جی زمل پانی لینے باہر گئ کیونکہ روم میں پانی کا جگ نہیں تھا

زمل کے جاتے ساتھ ہی عنیقہ بھی آرت کے پیچھے نکل گئ

زمل سوچ رہی تھی ساری بات)

جو اسکا ماضی بن گیا تھا

عمل اگر عنیقہ بھاگی ہے تو اس میں تمہارا جھگڑا عرش بھائ سے کیوں ہوا ہے زمل پریشانی سے بولی

اس دن تم سے جب میں بات کررہی تھی تو انہوں نے سن لیا تھا کے عنیقہ کا نمبر بند جارہا ہے وہ سمجھے عنیقہ کو میں نے بھاگایا اسلیۓ انہوں نے مجھے عمل چپ ہوگئ کیونکہ آگے اسکے الفاظوں نے اسکا ساتھ نہیں دیا

تجھے مارا ہے اسنے زمل غصے سے بولی

عمل چپ تھی اگر تھوڑا سا اور پوچھتے کے بتا نہ کیا ہوا تو عمل نے رونا شروع کر دینا تھا

تو گونگی تھی کیا اسے بولتی نہ کے میں نے عنیقہ کو نہیں بھگایا زمل عمل سے غصے سے بولی

وہ سن ہی تو نہیں رہے تھے میری

عرش کے سامنے میرب کی گنہگار سے کے کر میرب کے بچے کی قاتل اور اپنی بہن کو بھاگا کر عرش کی شادی

رکوانے تک سب کچھ میں نے کیا ہے ایسا وہ سمجھتے ہیں عمل افسردگی سے بولی

دیکھ عمل انہوں نے بلکل تیرے ساتھ ٹھیک نہیں کیا لیکن اب عنیقہ کا کیا ہوگا زمل پریشانی سے بولی

اس نے جو کچھ بھی کیا ہے یااللہ اسے معاف کردیں اور وہ جہاں بھی ہے اسے اپنے حفظ و امان میں رکھنا اور ایک دفعہ میری بہن مجھے مل جاۓ میں اس سے باتیں کروں گی اسے بتاؤں گی اسے کوئ نہیں بھولا نہ بابا نہ ماما اور نہ ہی عرش عمل روتے ہوئے بولی

یہ کیا بول رہی ہے تو عمل زمل حیرانگی سے بولی

ہاں زمل عرش آج بھی عنیقہ سے محبت کرتے ہیں میرے سے نکاح تو ایک مجبوری تھی جب تک انکی مجبوری تھی تب تک ٹھیک تھے جیسے مجبوری ختم تو میری عزت میری خوشی ہر چیز وہ بھول گۓ عمل روتے ہوئے زمل کو بتا رہی تھی

ایسی کوئ بات نہیں ہے غصے میں انسان بہت کچھ غلط کر دیتا ہے اور یہ مجبوری کیا ہے مجھے بھی تو بتا زمل بولی

اپنی بہن کے لیۓ انہوں نے مجھ سے نکاح کیا تاکہ اسکا گھر خراب نہ ہو اپنی عزت کے لیۓ جو انہوں نے باہر بنائ ہوئ ہے عمل بولی

عمل ایسی فضول باتیں اپنی زہن سے نکال لے کے عرش تجھے نہیں بلکے عنیقہ کو پسند کرتا ہے زمل عمل کے سر پر مارتا ہوۓ بولی

عرش گھر آیا تھا کیونکہ مہناز صاحبہ نے اسے کال کر کے بلایا تھا

ماما خیریت آپ نے کال کی عرش مہناز صاحبہ کے سامنے کھڑے ہوتے ہوئے بولا

تمہاری بیوی چلی گئ ہے اپنے باپ کے گھر اور کپڑوں کا پورا بیگ بھر کر گئ ہے

مہناز صاحبہ عرش کو دیکھتے ہوئے بولی

وہ مامو کے گھر گئ ہے اور مجھے بتایا بھی نہیں عرش غصے سے بولا

ہاں تمہارے لیۓ ایک اور خبر ہے جب وہ میڈم یہاں سے جارہی تھی تو گاڑی میں نہیں گئ بلکے باہر سے کیب لے کر گئ تھی مہناز صاحبہ اس انداز میں بول رہی تھی کے عرش کا پارا ہائی ہو رہا تھا

کیا سوچ رہے ہو مہناز صاحبہ عرش کو سوچ میں گم دیکھتے ہوئے بولی

میں جاتا ہوں اسکے پیچھے عرش بول کر نکل گیا

اللہ کرے آۓ ہی نہ کبھی بھی وہ منہوس تاکہ میں اپنے بیٹے کی شادی کسی اچھی جگہ کرواؤں مہناز صاحبہ دل سے دعا کرتے ہوئے بولی

لگاتار پانچ چھے گولیوں کی آواز سن کر ساری لڑکیاں رشیدہ مریم والے کمرے میں داخل ہوۓ لیکن سامنے کا منظر دیکھ کر رشیدہ کی تو جان پر بن آئی تھی آرت خون سے لت پت پڑا مریم تو مر گئ تھی کیونکہ اسنے اپنے سر پر گولی ماری تھی جبکے آرت کا کوئ اندازا نہیں تھا

اے جا راشد کو بلا کر لاؤ رشیدہ ڈرائیور کو یاد کرتے ہوئے بولی

تو زینت دوڑتے ہوئے باہر بھاگی کیونکہ راشد باہر ہی کھڑا تھا

راشد اندر آپا بلا رہی ہے زینت اپنا منہ چھپا کر دروازے سے باہر ہوکر بولی کیونکہ سامنے دو دوکانیں بھی تھی

اچھا آتا ہوں راشد کو پتہ تھا اندر فائرنگ ہوئ ہے کیونکہ آواز باہر بھی آئ تھی

آپا خیریت تو ہے نہ راشد اندر آتے ہوئے بولا

خیریت ہی تو نہیں ہے یہ دیکھ آرت کو رشیدہ پریشانی سے بولی

ڈرائیو آرت کے پاس بیٹھا اور اسکو دیکھنے لگا کے وہ زندہ ہے بھی یا نہیں

آپا یہ تو مر گیا ہے ڈرائیور کھڑا ہوتے ہوئے بولا

ہاۓ مریم نے کیا کام ہمارے لیۓ بنا دیا رشیدہ پریشانی سے بولی

عنیقہ باہر کھڑی آوازیں سن رہی تھی کیونکہ اندر جانے کی جگہ نہیں تھی

آج عنیقہ کے لیۓ اس سے زیادا اچھا اور خوشی کا دن نہیں تھا یااللہ میں جتنا آپ کا شکر ادا کروں اتنا ہی کم ہے کیونکہ آپ نے جو کرشمہ مجھے دیکھایا ہے نہ میری دعاؤں کا اسکا کوئ حساب نہیں عنیقہ دل میں بول رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اللہ پاک کا شکر ادا کررہی تھی کیونکہ عنیقہ اپنے رب پروردگار سے یہی دعا کرتی رہتی تھی کے آرت کو ایسی موت دینا کے سارے اسکا موت کا تماشا دیکھے جو آج سارے دیکھ بھی رہے تھے

راشد اب ان کا کیا کریں رشیدہ پریشانی سے بولی

آپا ان دونوں کو جلدی سے دفنانے کا بندوبست کرتے ہیں اور تو باہر دوکاندار کو پیسے دے کر انکا منہ بند کروا تاکہ پولیسوں تک بات نہ جاۓ ڈرائیور بول بھی رہا تھا اور ساتھ آرت کو گھسیٹتے ہوئے باہر لایا

آپ لوگ لڑکی کو بھی باہر نکالیں اور پھر کمرے کو بھی جلدی صاف کریں کیونکہ خون کے نشانات جلدی صاف نہیں ہوتے ڈرائیور ساری لڑکیوں کو دیکھتے ہوئے بولی

دو تین لڑکیاں اندر گئ

عنیقہ کہاں جارہی ہو حریم عنیقہ کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی

نفل ادا کرنے عنیقہ مسکراتے ہوئے بولی اور یہ مسکراہٹ اسکی حریم آج پہلی بار دیکھ رہی تھی

عنیقہ تم کتنی خوش ہو حریم عنیقہ سے بولی

کیوں تم خوش نہیں ہو بلکے آج میرے ساتھ تمھیں بھی خوش ہونا چاہیۓ کیونکہ تمھیں بھی برباد کرنے والا خود بھی برباد ہوگیا ہے عنیقہ خوشی سے بولی

تو آؤ آج مل کر اپنے رب کے حضور کھڑے ہوتے ہیں حریم خوشی سے بولی کیونکہ اسے بھی آرت ہی یہاں لایا تھا

عمل عرش اونچی آواز میں حسن صاحب کے گھر میں کھڑا ہوتے ہوئے بولا

کیا ہے عمل کچن سے کھانے کی چیزیں لے کر جارہی تھی اپنے اور زمل کے لیۓ

مجھ سے بغیر پوچھے یہاں کیوں آئ عرش عمل کو دیکھ کر سنجیدگی سے بولا

آپ کیوں اتنا حق جما رہے ہیں عمل چیزوں کو ٹیبل پر رکھتے ہوۓ بولی

اسلیۓ کیونکہ میں تمہارا شوہر ہوں

اوو اچھا تو آپ کی یہ غلط فہمی بھی میں دور کر دوں گی خلا نامہ بھیج کر عمل ہاتھ باندھتے ہوئے بولی

عمل تمہارا دماغ تو خراب نہیں ہوگیا عرش عمل کے ہاتھ کو پکڑتے ہوئے بولا

میرا ہاتھ چھوڑیں عمل عرش کو دیکھ کر چلا کر بولی

تو عرش نے ایکدم چھوڑ دیا

حسن اور فریدہ صاحبہ بھی باہر آگۓ

دیکھو عمل میں نے معافی مانگی ہے نہ اور بار بار مانگوں گا مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوگیا ہے کیوں مجھے چھوڑ کر یہاں آئ ہو عرش عمل کو پیار سے بولا

جائیں یہاں سے آپ عمل عرش سے پیچھے ہٹتے ہوئے بولی

تمھیں لیۓ بغیر میں یہاں سے کہیں نہیں جاؤں گا عرش سیریس انداز میں بولا

نفرت ہے مجھے آپ سے آپ کی تھرڈ کلاس محبت سے جو اپنی ماں اور بہن کی باتوں میں آکر میری عزت نفس کو تار تار کر دیتا ہے اور بعد میں اکر معافی مانگ لیتا ہے

کیا تھا آپ کو پہلے بھی معاف اب میں کوئ فرشتہ نہیں ہوں جو بار بار آپ کی غلطیوں کو معاف کر دوں

اور جہاں تک مجھے لگتا ہے نہ جو کچھ آپ نے میرے ساتھ کیا ہے وہ غلطی نہیں بلکے جان بوجھ کر کیا ہے کیونکہ اگر آپ ابھی اپنے غصے پر قابو نہیں پاسکتے تو بعد میں کیا کریں گیں عمل عرش سے بولی جو اس سے نظریں تک نہیں ملا رہا تھا

اب آپ یہاں سے جائیں کیونکہ آپ کو دیکھ کر مجھے وہ سب کچھ یاد آ جاتا ہے جو آپ نے میرے ساتھ کیا ہے عمل روندھی ہوئی آواز میں بولی

عمل پلیززز مجھے معاف کر دو عرش اپنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا

عمل عرش کو اور اسکی آواز کو اگنور کرکے کمرے میں چلی گئ

کیا سوچا تم نے سبحان

سمبل سبحان کو باہر آتا ہوا دیکھ کر بولی

آپ ہاں کردیں میں نکاح کے لیۓ تیار ہوں سبحان سمبل اور اپنی بہن سویرا کو دیکھتے ہوئے بولا

بھائ آپ میرب آپی کے ہوتے ہوۓ دوسری شادی کررہے ہیں سویرا حیرانگی سے بولی

ایک تو تمہاری چونچ کبھی بند نہیں ہوتی سمبل سویرا کو دیکھتے ہوئے بولی

میں تو بس بات کررہی تھی سویرا منہ بنا کر بولی

تم بات بھی نہ کیا کرو جاؤ یہاں سے سمبل سویرا کو بھیجتے ہوئے بولی

ٹھیک ہے جارہی ہوں سویرا غصے سے بول کر دوسرے کمرے میں چلی گئی

سبحان کل سادگی سے نکاح کر لیں سمبل سبحان سے پوچھنے لگی

جو آپ کو بہتر لگے وہی کرنا سبحان بول کر باہر نکل گیا

امی دیکھا کیسے آپ کے بیٹے کو منا لیا میں نے سمبل خوشی سے بولی

ہممم ممتاز صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی

امی لڑکی تو بہت اچھی ہے کیونکہ دو سال سے اپنے بھائ کے گھر بیوہ بیٹھی ہے لیکن مجال ہو جو اسکی آواز میں نے سنی ہے

دیکھیۓ گا امی اس گھر کو بھی جنت بنا کر رکھے گی سمبل خوشی سے بولی

اللہ کرے جیسا تم بول رہی ہو ویسا ہی ہو ممتاز صاحبہ بولی

انشاللہ اللہ کے حکم سے ایسا ہی ہوگا

سمبل مسکراتے ہوئے بولی

عرش ڈھابے میں پریشان بیٹھا ہوا تھا

یااللہ تیرے بندے سے تو میں معافی مانگ چکا ہوں اور مانگ بھی رہا ہوں لیکن انسان ہے نہ اتنا بڑا ظرف نہیں کے معاف کردے

لیکن میرے اللہ پاک تو مجھے معاف کردیں کیونکہ تو نے فرمایا ہے کہ میں اپنے حقوق تو معاف کرسکتا ہوں لیکن اپنے بندوں کے نہیں عرش دل میں سوچ رہا تھا

اب اپنا سر نیچے کیۓ چپ کر کے کچی زمین کو دیکھنے لگا

عرش بھائ چاۓ کاکا چاۓ لاتے ہوئے بولا

بیٹھو تم بھی ادھر عرش کاکے کو ساتھ بیٹھاتا ہوا بولا

میں تو اپنی چاۓ لایا ہی نہیں کاکا ٹرے کو الٹ پلٹ کرتے ہوئے بولا

تو کیا ہوا شئیر کرلیں گیں مل کر عرش مسکراتے ہوئے بولا

اچھا جی کاکا بھی خوشی سے بولا

جی بلکل عرش مسکراتے ہوئے بولا

تو کاکا اسکے بیٹھ گیا

عرش نے اور کالے نے مل کر ایک ہی کپ میں چاۓ پی پھر کاکے کو اسکے ابو نے آواز دی کے اور بھی کسٹمر آئیں ہیں انکو بھی دیکھے

عرش بھائ یا تو آپ اپنے گھر جائیں یا پھر اپنی جیکٹ پہن لے کیونکہ سردی بہت ہے چھوٹا سا کاکا اپنے ہاتھوں کو مسلتے ہوئے بولا

اوو جناب آپ نے بھی نہیں پہنا کچھ بھی عرش کاکے سے بولا

آپ دیکھنا ابھی ابو مجھے کتنا ڈانٹیں گیں اسلیۓ جیکٹ پہنوں گا کاکا منہ بنا کر بولا

کاکے منہ نہیں بناتے سب کے ابو جو بھی کہتے ہیں وہ ہمارے بھلے کے لیۓ ہی کہتے ہیں عرش کاکے کا بنا ہوا منہ دیکھ کر بولا

میری تو عادت ہے منہ بنانے کی کاکا ہنستے ہوئے بولا جس کی وجہ سے ٹوٹے ہوئے دانت نظر آئیں

عرش کو اس بچے کی سمائیل بہت زیادہ پسند تھی

اچھا میں گیا کاکا بول کر بھاگ گیا عرش نے مسکراتے ہوئے اپنا فون نکالا کیونکہ اس کے نمبر پر کال آرہی تھی

کدھر ہے تو شمس بولا

یار ڈھابے میں بیٹھا ہوں عرش بولا

چل میں ارسلان رویام آرہے ہیں شمس بولا کیونکہ وہ جانتا تھا عرش کس ڈھابے میں بیٹھتا ہے

کیا کرو گے آکر ویسے بھی اتنی سردی ہے عرش مغرب کا وقت دیکھتے ہوئے بولا

اوو چل اتنے جوان جان ہیں ہم لوگ ہمیں کیوں سردی لگے گی شمس ہنستے ہوئے بولا

اچھا چل آجا پھر دس پندرہ منٹ میں عرش مسکراتے ہوئے بولا

اوک کے شمس نے اوکے پر زور دیتے ہوئے بول کر کال کاٹ دی

اب میں عمل کو تنگ نہیں کروں گا ایک نہ ایک دن میرا اللہ اسکا دل میرے لیۓ موم کردے گا عرش بولا

اور پھر سامنے دیکھنے لگا جہاں اندھیرا ہونے کی وجہ سے روڈ پر لگی لائیٹس اون ہوگئ تھی

اور ڈھابے میں لوگ بھی کم ہورہے تھے

ہیلو

شمس ہاتھ لہراتا ہوا اندر آیا اور اسکے پیچھے رویام اور ارسلان بھی آرہے تھے جن کے ہاتھوں میں لکڑیاں بوتل میں پٹرول اور ہاتھ میں ماچس تھی

باپ کا کوئ ولیمہ ہے جو اتنی تیاریوں کے ساتھ آۓ ہو عرش کھڑا ہوتے ہوئے بولا سب سے

ہم تیری طرح مضبوط نہیں ہیں جو اتنی سردی میں بغیر جیکٹ اور جوگر کے بیٹھیں ارسلان عرش کے پاؤں کی طرف دیکھتے ہوئے بولا

ہاں تو فون پر تو ہی بکواس کررہا تھا ہم جوان ہیں ہمیں سردی نہیں لگتی اور یہ جتنی تیاری ہے نہ یہ ساری تیری ہے عرش شمس کی طرف دیکھتا ہوا بولا

جو عرش کے پاؤں کے پاس آگ لگا رہا تھا

میں جانتا ہوں عرش تو بہت سمجھ دار ہے شمس عرش کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے بولا

عرش واپس بیٹھ گیا

یہ لے میرے شہزادے رویام عرش کے کندھوں پر گرم شال پھیلاتے ہوئے بولا

ویسے مجھے ضرورت نہیں ہے عرش مسکراتے ہوئے بولا

جانتا ہوں عرش صاحب رویام مسکراتے ہوئے بولا

عرش یہ کمینہ تیرے نکاح پر نہیں آیا تھا پتہ ہے کے نہیں شمس کھڑا ہوتے ہوئے بولا اور نیچے آگ اسنے لگادی تھی

اوو بھائ بس اتنی آگ بہت ہے جو تو نے نیچے لگائ ہے رویام ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا

تو عرش اور ارسلان ہنسنے لگے

ابھی تک تو میں نے چنگاری بھی نہیں لگائ شمس سنجیدگی سے بولا

جب چنگاری لگ گئ تو آگ کی کیا ضرورت ہے کیونکہ آگ بھی تو چنگاری سے ہی لگتی ہے نہ رویام سب کو دیکھتے ہوئے بولا

پوئینٹ ارسلان بولا

اوۓ پوئینٹ کے بچے منہ بند رکھ شمس ارسلان سے بولا

چل بے ادھر سے ارسلان بھی جواب دیتے ہوئے بولا وہ کہاں اپنی بیستی برداشت کرنے والوں میں سے تھا

اچھا اب بس کرو تم سب عرش موبائل نکالتے ہوئے بولا

ادھر دے زرا فون گیم کھیلوں رویام عرش سے فون چھینتے ہوئے بولا

مردود انسان اپنا فون کدھر ہے عرش رویام سے بولا

اسکی بیٹری ختم رویام ہنستے ہوئے بولا

تیرے باپ سے بات کرتا ہوں تجھے بھی آفس بھیجے کیونکہ گیم کھیل کھیل کر اور آوارہ گردیاں کرکے تو بہت خراب ہو رہا ہے عرش ہنستے ہوئے بولا

رویام ہنسنے لگا

عرش بھابھی راضی ہوئ ہے شمس مسکراتے ہوئے بولا

تجھے کیسے پتہ وہ ناراض ہے عرش حیرانگی سے بولا

بس تجھ عاشق کو یہاں دیکھ کر اندازا ہوگیا ہم کنواروں کو شمس دکھ بھرے لہجے میں بولا

بکواس بند کر اور بتا کیسے پتا چلا تجھے عرش ابھی بھی سیریس تھا

اوو بتاتا ہوں بھائی غصہ کیوں ہو رہا ہے شمس ڈرنے والی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا

میں دن کو تیرے گھر گیا تھا تو آنٹی سے پتہ چلا کے بھابھی ناراض ہو کر گئ ہے اسلیۓ عرش اسے لینے گیا ہے شمس بولا

عرش خاموش ہو گیا

اب بتا بھی کیا ہوا بھابھی کا شمس پھر سے بولا

نہیں مانی تیری بھابھی

(لفظوں کی آبرو کو گنواؤ نہ یوں شمس

جو مانتا نہیں اسے کہنا فضول ہے)

عرش منہ بنا کر بولا

میں سناؤں گا بھابھی کو تیرا یہ شعر شمس ہنستے ہوئے بولا

اوۓ وہ نہیں مان رہی تو میں اپنے اللہ سے عمل کو مانگوں گا کیونکہ انسان کے سامنے ہمارے ہر الفاظ زایا ہی ہیں عرش جلدی میں بولا

اوووووووو اتنی محبت سارے ایک ساتھ بولے

بکواس نہیں کرو یار عرش مسکراتے ہوئے بول رہا تھا لیکن اسکا غصہ سب کو سمجھ آرہا تھا

ہاہاہا سارے ہنسنے لگے

اوۓ یہ لڑکی کون ہے رویام ایکدم سیدھا ہوتے ہوئے بولا

تو میرے فون میں گھر والوں کی پیکچرز کیوں دیکھ رہا ہے عرش غصے سے بول کر اپنا فون لینے لگا

بات تو سن یہ ہے کون رویام دھڑکتے ہوئے دل سے بولا

عرش نے فون کی سکرین پر دیکھا تو عنیقہ کی تصویر تھی میرب کی مہندی والے دن کی

تو اسے نہیں جانتا سارے فون پر گرتے ہوئے بولے

نہیں رویام بولا

کیونکہ عرش کا رشتہ جب عنیقہ سے ہوا تھا تب وہ ملک سے باہر تھا پڑھائ کے سلسلے میں

یہ میری سالی ہے عرش بیٹھتا ہوا بولا

یہ کیا ہوتا ہے رویام عجیب سا منہ بنا کر بولا

بچے جب تیری بیوی آۓ گی تو تجھے سارے رشتوں کی پہچان ہوجاۓ گی ارسلان ہنستے ہوئے بولا

اسٹوپڈ گایز رویام غصے سے بولا

بتاؤ یہ کون ہے

یہ عرش کی بیوی یعنی عمل کی بہن ہے جس سے عرش نکاح کرنے والا تھا لیکن یہ کہی اور چلی گئ اسلیۓ عرش نے اسکی چھوٹی بہن سے شادی کرلی

شمس ساری انفارمیشن دیتا ہوا بولا

عرش ایک بات بتاؤں رویام لال ہوتے ہوئے بولا

بول عرش آگ کے آگے اپنے ہاتھ سیکھتے ہوئے بولا۔

یہ لڑکی اب کوٹھے میں ہے رویام عرش سے دور کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔

کیا بکواس کی ہے عرش کھڑا ہوتے ہوئے بولا

ہاں قسم سے لیکن مجھے نہیں پتہ تھا یہ تیری کزن ہے رویام کو وہ دن یاد آگیا جب عنیقہ سے وہ کلب میں ملا تھا

تو کوٹھے میں کیا کرنے گیا تھا عرش نے بولتے ساتھ ہی رویام کے منہ پر ایک زوردار مکا مارا

ارسلان اور شمس ایکدم کھڑے ہوگۓ اور عرش کو پکڑنے لگے

یار عرش کیا کررہا ہے سب دیکھ رہے ہیں شمس عرش کو پیچھے کرتے ہوئے بولا