Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan NovelR50436 Qasoor-e-Ishq Episode 5
Rate this Novel
Qasoor-e-Ishq Episode 5
Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan
عنیقہ نے جب آرت کے میسجز کھولے تو اس کے رنگ پھنگ آڑ گۓ تھے
کیونکہ آرت نے اس کی پکچرز بھیجی تھی اور جو پکچرز آرت نے بھیجی تھی وہ عنیقہ کے پاس تھی ہی نہیں کیونکہ کچھ پکچرز میں وہ بیٹھی کچھ پی رہی تھی تو کچھ میں باتیں کر رہی تھی اور روڈ پر کھڑی ہونے والی پکچرز بھی تھی
آرت نے میسج بھی بھیجا ہوا تھا
پلیز عنیقہ مجھے غلط نہیں سمجھنا میں تم بہت محبت کرتا ہوں اس لیۓ تمہارے ہر مومنٹ کی پکچرز بنائ
عنیقہ پلیز کل پیپر کے بعد مجھ سے ملنے آنا میں نے تم سے کچھ ضروری باتیں کرنی ہے پلیزززز
عنیقہ کو کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے
عمل سے بات کرو یا نہیں عنیقہ دل میں سوچنے لگی
ایسا کرتی ہوں ملتی ہی نہیں اللہ جانے کیسا انسان ہے عنیقہ خودہی سے بولی
پھر عرش کے میسجز کھولے
عنیقہ یار کم سے کم بندہ بول ہی کر چلا جاتا ہے میں کب سے تمہارے میسج کا انتظار کر رہا ہوں
اور ایک تم ہو جسے احساس ہی نہیں ہے اور ساتھ ہی سیڈ ایموجیز بھیجے عنیقہ ہنسنے لگی اور ساتھ میسج بھی ٹائیپ کرنے لگی
سوری عرش میں بزی تھی پیپر ہیں نہ اسلیۓ عنیقہ نے جھوٹ بولا
اور اپنا لکھا ہوا میسج بھیج دیا
میسج سینڈ کرنے کی دیر تھی عرش کا بھی میسج آگیا
ویری گڈ اسی طرح تیاری کرو اللہ نہ کرے اگر اچھے نمبر نہ آئیں تو مامو کہیں گیں میری وجہ سے ہوا ہے
ویسے بھی شادی کے بعد میں میں خود تمھیں پڑھاؤ گا
اچھا عنیقہ نے مسکراتے ہوئے میسج ٹائپ کیا
کتنے پیپر رہ گۓ ہیں تمہارے عرش نے پھر میسج سینڈ کیا
دو عنیقہ نے میسج سینڈ کیا
جمعے کو ہمارا نکاح ہوگا عنیقہ پھر کچھ دنوں تک رخصتی انشاللہ عرش نے خوش ہوتے ہوۓ میسج سینڈ کیا
انشاللہ عنیقہ نے میسج سینڈ کیا
یار میں نے تمھیں شاپنگ بھی کروانی ہے
جی میرے ساتھ ساتھ میرب نے بھی کرنی ہے عنیقہ نے میسج سینڈ کیا
بالکل وہ بھی کوئ بھولنے والی چیز ہے عرش نے ہنسنے والے ایموجیز سینڈ کیۓ
ہاہاہا عنیقہ بھی ہنسنے لگی
اسی طرح دونوں اپنے آنے والے مستقبل کی باتیں کرنے لگے
اسلام علیکم خالہ جان احیان نے کال کی تھی وہ رات بھی بارا بجے
وعلیکم السلام بیٹا خیریت تو ہے نہ اتنی رات کو کال کی فریدہ صاحبہ سوئی ہوئی آواز میں بولی
جی جی بالکل خیر خیریت ہے بس میں گیٹ کے پاس کھڑا ہوں گارڈ بھی نہیں ہے اس لیۓ گیٹ کھول دیں احیان مسکراتے ہوئے بولا
تم باہر ہو فریدہ صاحبہ ایکدم کھڑے ہوتے ہوئے بولی
جی
پھر باہر نکلی انہی کے حسن صاحب بھی باہر نکلیں
میرب اپنے روم میں بیٹھی ہوئی سبحان سے باتوں میں مصروف تھی
میرب کل میری بہنیں اور امی آئیں گیں تمہارے گھر
اسلیۓ اپنے گھر والوں سے صبح ہوتے ہی بات کرلو سبحان کال میں بولا
سبحان مجھے تو اتنا ڈر لگ رہا ہے میرب پریشانی سے بولی
ڈرنے کی کیا ضرورت ہے اپنی ماما کو بتادو اور میرب یہ کام جلدی کرنا کیونکہ میرے گھر والوں کے سامنے کوئ ایسی بات نہ ہو جاۓ جسکی وجہ سے وہ برا مان جائیں سبحان بولا
مطلب میرب بولی
مطلب وطلب چھوڑو جو بولا ہے وہ لازمی کرنا
سبحان میرب بول ہی رہی تھی جب مہناز بیگم اندر آگئی
کون ہے سبحان مہناز بیگم سپاٹ لہجے میں بولی کیونکہ انھوں نے سبحان کا نام سن لیا تھا
میرب نے ایکدم سے کال کاٹ دی
ماما آپ یہاں بیٹھیں میرب اپنی جگہ سے کھڑی ہو کر مہناز صاحبہ کو بیٹھاتے ہوئے بولی
مہناز صاحبہ بیٹھ گئ
بولو اب مہناز صاحبہ بولی
ماما سبحان کل میرے لیۓ رشتہ بھیجیں گیں
کیا مہناز صاحبہ حیرانگی سے بولی
ماما بہت اچھی فیملی ہے سبحان کی کل ویسے بھی آرہی ہے فیملی آپ دیکھ لیجیۓ گا
اور اگر مجھے وہ لوگ پسند نہیں آئیں پھر نہ کر دوں مہناز صاحبہ بولی
میرب خاموش تھی اسکی خاموشی دیکھ کر مہناز صاحبہ سمجھ گئ تھی وہ شادی سے انکار کرنا ہی نہیں چاہتی اسلیۓ بنا کچھ کہے وہ چلی گئ
بیٹا اس رات کو کیا ضرورت تھی آنے کی صبح آجاتے حسن صاحب بولیں
خالو اگر میں کل آتا تو عمل نے میرے ساتھ بات نہیں کرنی تھی دو تین ماہ
بیٹا وہ تو نہ سمجھ ہے اسے ہم سمجھا سکتے ہیں اسکی اتنی باتیں مت مانا کرو حسن صاحب پیار سے بولے
کوئ بات نہیں اپنا بھائ سمجھتی ہے عمل مجھے احیان مسکرا کر بولا
بیٹا میں تمہارے لیۓ کھانا گرم کرتی ہوں بیٹھ جاؤ فریدہ صاحبہ بولی
نہیں نہیں خالہ جان میں کھا کر آیا ہوں
بس عمل سے ابھی مل لوں ورنہ صبح مجھے دیکھ کر کہے گی آپ ابھی آئیں ہے اور پھر ناراض ہی رہے گی
ہاہاہا اچھا چلے جاؤ فریدہ صاحبہ بولی
احیان نے دروازا ہلکے سے کو کھٹکھٹایا
عنیقہ جاگ رہی تھی وہ سمجھی ماما ہوگی اسلیۓ دروازا کھولا
احیان بھائ آپ دروازا کھولتے ہی عنیقہ کا منہ کھول گیا تھا
شششش احیان نے اسے آہستہ بولنے کو کہا
آجاؤ اندر احیان دروازے پر کھڑا تھا اسلیۓ اجازت لینے لگا
بالکل عنیقہ سائیڈ پر ہوتے ہوئے بولی
احیان اندر آیا تو عمل سوئی ہوئ تھی اسکا چہرہ دیکھ کر احیان مسکرانے لگا
پھر اسے دور سے ہی آواز لگائ
عمل
عمل کے کانوں میں جیسے ہی احیان کی آواز آئ اسنے ہلکی سی آنکھ کھولیں کے شاید بہت یاد کرنے کی وجہ سے خواب آگیا ہو
احیان عمل کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا
احیان بھائ عمل چیختے ہوۓ ایکدم کھڑی ہوئ
اور احیان کے گلے لگی جیسے بہنیں بھائیوں کو کافی عرصے بعد دیکھ کر خوشی سے لگتی ہیں
آپ آگۓ مجھے یقین نہیں آرہا عمل احیان کو دیکھتے ہوئے بولی
بالکل عمل کوئ حکم کرے اور ہم اس پر عمل نہ کریں ایسا ہوسکتا ہے کیا احیان مسکرا کر بولا
قسم سے احیان بھائ دنیا کے بیسٹ بھائیوں میں بھی آپ کو شمار کروں تو کم ہے عمل چہکتے ہوئے بولی جبکے عنیقہ دونوں کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی
اچھا جی اور تم بھی تو میری سب سے اچھی بہن ہو احیان بولا
بھائ بیٹھ جائیں عنیقہ بولی
نہیں اب سو جاؤ کافی رات ہوگئ ہے اب صبح ملے گے احیان بولا
اوکے عنیقہ بولی
پھر احیان باہر نکل گیا
اب خوش ہوگئ تم عنیقہ عمل سے بولی
خوش نہیں بہن بہتتتتت خوش عمل بہت کو لمبا کرتے ہوئے بولی
ہاہاہا اچھا ایسے ہی خوش رہنا عنیقہ عمل کو دعا دیتے ہوئے بولی
آمین
آج عرش کی فلائیٹ تھی شام کی اسنے گھر واپس آنا تھا
اسی وجہ سے وہ اپنی پیکنگ کر رہا تھا
اور رات ہی میں مہناز صاحبہ نے اسے کال میں جلدی آنے کے لیۓ کہ دیا تھا
عنیقہ پیپر دے کر نکلی تو آرت باہر کھڑا اسی کا انتظار کر رہا تھا
عنیقہ نے جیسے آرت کو دیکھا واپس کالج میں جانے لگی تاکہ حسن صاحب کو کال کر کے انہی کے ساتھ گھر جاۓ
آرت چار پانچ قدم اٹھاتے ہوئے عنیقہ کے پاس پہنچ گیا
اور اسے روکا
عنیقہ میں نے رات کو میسج کیا تھا تمھیں
صرف آدھے گھنٹے کے لیۓ میرے ساتھ آجاؤ
سوری میں نہی آسکتی عنیقہ واپس جانے لگی
صرف ایک بار صرف ایک بار میری بات سن لو آرت منت بھرے لہجے میں بولا
تم چاہتے کیا ہو عنیقہ غصے سے بولی
تمھیں آرت بے باقی سے بولا
شٹ اپ عنیقہ غصے سے بولی
آجاؤ عنیقہ دیکھو سب دیکھ رہے ہیں آرت لوگوں کو دیکھتے ہوئے بولا
آرت جو بات کرنی ہے گاڑی میں بیٹھ کر کرو گے
کہیں لے کر نہیں جاؤ گے عنیقہ بولی
اوکے آرت ایک دم مان گیا
عنیقہ اسکی گاڑی کی طرف گئ
آرت نے فٹافٹ فرنٹ سیٹ کا دروازہ کھولا تو عنیقہ بیٹھ گئ اور سارے قُل پڑھے ایتلکرس پڑھی یاللہ اپنے حفظ و امان میں رکھنا عنیقہ دل میں بولی
آرت نے بھی اپنی سیٹ سنبھالی اور گاڑی سٹارٹ کردی
یہ کہاں لے کر جارہے ہو میں نے کیا تھا تم سے عنیقہ ڈرتے ہوۓ بولی
زیادہ دور نہیں لے کر جارہا قریبی کیفےٹیریا میں لے کر جارہا ہوں
آرت ڈرائیو کرتے ہوئے بولا
لیکن میں نے بھی کچھ بولا تھا عنیقہ شیشے کے باہر دیکھتے ہوئے بولی
عنیقہ تم نے سارے قُل پڑھیں ہے نہ اپنے اللہ پر بھروسا رکھو کچھ بھی نہیں ہو گا آرت اللہ کا نام لیتے ہوئے بولا
آخر کس انسان کو اپنے پروردگار پر بھروسہ نہیں ہو گا
بس اللہ تعالیٰ کا نام سنتے ہی عنیقہ خاموش ہو گئی
عمل احیان کے ساتھ شاپنگ مال آئ ہوئ تھی
اور دے ڈڑادم شاپنگ کر رہی تھی
احیان بھائ اب بتاۓ بھی کیا لوں عمل لیڈیز بوتیک میں کھڑی تھی اور پریشان تھی کیا لے
عمل تمہارے پاس ہر ڈیزائن کے کپڑے موجود تو ہیں پھر کیوں لے رہی ہو
احیان عمل کو دیکھتے ہوئے بولا جو کافی بیزار اور پریشان لگ رہی تھی
بھائ ایسے نہ بولا کریں مجھے بالکل اچھا نہیں لگتا
عمل منہ بنا کر بولی
او اچھا سوری احیان مسکرا کر بولا
جی
چلیں اِنھیں چھوڑیں عنیقہ کے نکاح کے لیۓ کپڑے لے لیتے ہیں عمل بولی
رائیٹ احیان اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے بولا
عنیقہ اور آرت کیفےٹیریا میں بیٹھے ہوئے تھے
ویٹر بھی آرڈر لینے آگیا تھا
عنیقہ آرڈر کرو آرت ریلکس ہوتے ہوئے بولا
نو تھینکس عنیقہ دانت پیستے ہوئے بولی
اوکے مجھے دیں آرت نے مینیو لیا اور آرڈر کیا
ویٹر چلا گیا
بولو کیوں بلایا ہے عنیقہ آگے پیچھے دیکھتے ہوئے بولی
کیونکہ عنیقہ کو اپنا ہارٹ فیل ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا
عنیقہ یار میری فیملی یہاں نہیں ہے میں اکیلا رہتا ہوں
یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے عنیقہ آرت کو بیچ میں ٹوکتے ہوئے بولی
بول رہا ہوں ویٹ تو کرو آرت بولا
اچھا جلدی بولو عنیقہ بیتابی سے بولی
میری فیملی نہیں آسکتی تمہارے گھر اگر میں خود آجاؤں تو مناسب ہوگا
میرے گھر تم کیوں آؤ گے عنیقہ حیرانگی سے بولی
تمہارے رشتے کے لیۓ آرت بولا۔
میرا نکاح ہے پرسو سمجھے اور جس سے میرا نکاح ہو رہا میری مرضی کے مطابق ہو رہا ہے
عنیقہ میں اچھے سے جانتا ہوں تمہارا رشتہ ہوگیا ہے
عنیقہ وہ تم سے محبت کرتا ہوگا لیکن تم نہیں کرتی تم نے صرف اپنے گھر والوں کی وجہ سے ہاں کی ہے
عنیقہ میری بات غور سے سنو
جس سے تمہارا رشتہ ہوا ہے اسکی محبت صرف وقتاً ہے جو شادی کے بعد کم ہوجاۓ گی
اور پھر آہستہ آہستہ ختم ہو جاۓ گی
وہ شروع سے تمہارے ساتھ رہا ہے کبھی اسنے ایک دفعہ بھی کہا کے میں تم سے محبت کرتا ہوں
نہیں نہ گاڑی میں تمہارا ہاتھ پکڑا اور کہ دیا میں تم سے محبت کرتا ہوں رشتہ بھیج رہا ہوں ہاں کردینا
اور پھر اسی دن رشتہ بھی بھیج دیا
یہ تک نہیں پوچھا تم راضی ہو یا نہیں
عنیقہ حیران تھی اسے یہ باتیں کیسے پتہ چلی ہیں یہ باتیں عمل کو بھی نہیں پتہ تھی
عنیقہ میں تم سے بول رہا ہوں آرت عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولا جو گم سم ہوئ تھی
ہاں عنیقہ ایکدم ہوش میں آئی
جو بھی ہے عرش نے رشتہ بھیجا اور عزت سے مجھے لے کر جارہا ہے
تمہاری طرح مجھے تصویریں نہیں بھیج رہا اور نہ ہی مجھے ہوٹلوں میں گھوما رہا
عنیقہ غصے سے بولی
میں نے تمھیں تصویریں اس لیۓ نہیں بھیجی کے تمھیں بلیک میل کر سکوں اور نہ ہی ہوٹلوں میں گھوما رہا ہوں
میں تمھیں بتانے آیا ہوں کے میں تم سے عشق کرتا ہوں
اور تب تک تمہارے گھر کے باہر کھڑا رہوں گا جب تک تم عرش کے ساتھ نکاح نہ کرلو
کیونکہ میری محبت اتنی کمزور نہیں ہے کے میں ابھی سے ہی پیچھے ہٹ جاؤں
اٹھو تمھیں لے کر جاؤں تمہارے گھر آرت کھڑا ہوا عنیقہ بھی اسی کے ساتھ کھڑی ہو گئی
پھر آرت باہر نکل گیا
جبکے عنیقہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کے کون ٹھیک ہے یہ یا عرش
سبحان کی فیملی آگئ تھی
سمبل کے بچے بھی آۓ ہوۓ تھے
سارے لاؤنچ میں بیٹھے ہوئے تھے
ظفر صاحب آفس تھے
مہناز بیگم باہر آئ تو بچے کبھی گلدان کو اٹھا رہے ہیں
تو کبھی شیشے کی ٹیبل کے اوپر سے ڈیکوریشن پیس اٹھا رہے ہیں
اسلام علیکم مہناز صاحبہ نے سب سے سلام کیا
وعلیکم السلام ممتاز صاحبہ نے اور باقی سب نے بھی سلام کا جواب دیا
مہناز صاحبہ ان کے سامنے ہی بیٹھ گئی
آپ کے دو بچے ہیں مہناز صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی
جی سمبل ایک نخرا دیکھاتے ہوئے بولی
مہناز صاحبہ پہلی ہی نظر میں اسکی نیچر سمجھ گئ تھی
جبکے سویرا آنکھیں پھاڑے پورے گھر کو دیکھ رہی تھی
اور ممتاز صاحبہ نارمل بی ہیو کر رہی تھی
ہمیں ہماری بچی دیکھا دیں تو مہربانی ہوگی ممتاز صاحبہ مسکراتے ہوئے بولی
جی دیکھا بھی دیں لڑکی سمبل بولی
اچھا مہناز صاحبہ بول کر میرب کے روم میں گئ
عرش بھی آگیا تھا شکل سے ہی بہت زیادا تھکا ہوا لگ رہا تھا
امبر نہ کر نہ عادل نے رخ کر اپنی چھوٹی بہن کو تھپڑ مارتے ہوئے بولا
امبر چھوٹے سے گھوڑے کو چھیڑ رہی تھی
جو کے ڈیکوریشن کے لیۓ رکھا ہوا تھا
عادل پیچھے ہو جاؤ سویرا غصے سے بولی
جبکے سمبل نے کوئ آواز نہیں نکالی اپنے بیٹے کو
کے مت مارو چھوٹی بہن ہے
عرش سیدھا روم میں جانے لگا اچانک لاؤنچ میں بیٹھی خواتینوں کو دیکھا تو انکو سلام کر کے سیدھا اپنے روم میں گیا
کیونکہ عرش کو بالکل اندازہ نہیں تھا کے اسکی بہن کے لیۓ ایسا رشتہ آۓ گا
میرب مجھے یہ لوگ زرا برابر پسند نہیں آۓ
اور دیکھ لینا تمہارے بابا اور بھائ کو بھی پسند نہیں آئیں گے اور وہ نہ کر دیں گیں
ماما میں سبحان کے علاؤہ کسی سے شادی نہیں کروں گی
میرب منہ پر بولی کیونکہ اگر وہ آج نہیں بولی تو ساری زندگی کے لیۓ سبحان سے دور ہو جائے گی
میرب میری بات یاد رکھنا اگر تم نے اس رشتے کے لیۓ ہاں کردی تو میں تمہاری رخصتی عرش کے نکاح والے دن ہی کردوں گی
مہناز صاحبہ غصے سے بولی
میرب کل کی طرح چپ ہی رہی
