238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 22

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

مہناز صاحبہ میرب کو خاموش کروا رہی تھی جب کمرے میں حسن صاحب اور فریدہ صاحبہ داخل ہوۓ

اسلام علیکم حسن صاحب بولے اور میرب کے پاس گۓ

وعلیکم السلام مہناز صاحبہ زمین کو دیکھتے ہوئے بولی

مامو جان میرب روتے ہوئے بولی تو حسن صاحب نے میرب کو اپنے سینے سے لگایا

بیٹا اتنا کیوں رو رہی ہو چپ ہو جاؤ حسن صاحب پریشانی سے بولے

ماموں میں نے عمل کے ساتھ بہت غلط کیا اسے فضول میں طعنے دیۓ یہاں تک کے اس پر ہاتھ بھی اٹھایا حالانکہ اسکی کوئ غلطی نہیں تھی ماموں جان کاش میں عمل کے ساتھ اس دن بدتمیزی نہ کرتی جھگڑا نہ کرتی تو میں سیڑھیوں سے بھی نہ گرتی

اور آج میرا گھر بھی تباہ نہ ہوتا میرب روتے ہوئے بولی جارہی تھی لیکن اب کوئ فائیدہ نہیں تھا کیونکہ جو کچھ عمل کے ساتھ اسنے کیا تھا اسکی سزا اسے مل گئ تھی عرش دروازے پر کھڑا میرب کی آواز سن رہا تھا

(یہ سب کچھ تمہاری وجہ سے ہوا ہے تم میرب کے بچے کی قاتل ہو اپنی بہن کو بھاگا نے میں بھی تمہارا اپنا ہاتھ ہے )

عرش کو بھی اپنے بولے ہوۓ سارے الفاظ یاد آرہے تھے جو جو اسنے عمل کے سامنے کہے تھے

بیٹا کچھ نہیں ہوتا یہ سب کچھ تمہارے نصیب میں لکھا تھا پریشان نہ ہو حسن صاحب میرب کو خاموش کرواتے ہوئے بولے کیونکہ وہ اسے تکلیف میں نہیں دیکھ پارہے تھے

میرب روتے روتے ایکدم واپس بےہوش ہوگئ تھی

میرب کیا ہوا مہناز صاحبہ آگے ہوتے ہوئے بولی لیکن میرب خاموش تھی بھائ صاحب ڈاکٹر کو بلائیں مہناز صاحبہ روتے ہوئے بولی

تو حسن صاحب جیسے ڈاکٹر کو بلانے کے لیۓ نکلے عرش سامنے کھڑا تھا

حسن صاحب اسے اگنور کر کے باہر چلے گئے

آپ لوگوں نے پیشنٹ سے کیا کہا تھا ڈاکٹر میرب کا چیک اپ کرنے کے بعد اپنے ماتھے پر سلوٹے لاتے ہوئے بولی

گھر کا معاملہ ہے عرش ڈاکٹر سے بولا

آپ لوگ پیشنٹ کو گھر کے ہر معاملے سے دور ہی رکھیں تو اچھا ہوگا ابھی ان کو ہوش آیا ہے اور آپ لوگوں نے انہیں ٹینشنیں دینا شروع کر دی ہے اگر انھیں کچھ ہوگیا تو اسکا زمے دار کون ہوگا ڈاکٹر غصے سے بولی کیونکہ ڈاکٹر کو بلکل امید نہیں تھی یہ ایسی لاپرواہی کریں گیں

ڈاکٹر سوری ہم معذرت خواہ ہیں آپ یہ بتائیں ابھی میرب کیسی ہے حسن صاحب بولے

دیکھیں پیشنٹ ابھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہے آپ انھیں اچھا سا اچھا ماحول دیں تاکہ وہ جلدی سے ریکور کرے اور آپ لوگ انھیں ہوسپٹل سے لے جائیں کیونکہ یہاں پر بھی رہنے سے پیشنٹ ٹھیک نہیں ہوتا ڈاکٹر حسن صاحب سے بولی

تھینکیو سو مچ ڈاکٹر حسن صاحب مسکراتے ہوئے بولے

ویلکم ڈاکٹر بھی مسکراتے ہوئے بول کر باہر نکل گئ

مہناز میرب میرے گھر جاۓ گی حسن صاحب بولے

بھائ آپ لوگ ایسے ہی پریشان ہونگیں رہنے دیں مہناز صاحبہ بولی

ہم کیوں پریشان ہونگیں ہماری اپنی ہی بچی ہے میرب حسن صاحب بولے

پھر مہناز صاحبہ خاموش ہو گئی

مامو مجھے معاف کردیں عرش بولا کیونکہ اسے اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہو رہا تھا

تم کس چیز کی معافی مانگ رہے ہو حسن صاحب بولے

مامو میں نے آپ کا بھروسہ توڑا عمل کو خوش نہیں رکھ سکا جیسا مجھے رکھنا چاہیۓ

بیٹا تم نے میرا بھروسہ توڑا ہے تو میں تم سے اس قدر ناراض ہوں سوچو جس کا دل تم نے توڑا ہے اسکا کیا حال ہوگا

اسکی تو ساری امیدیں وابستہ ہی تمہارے ساتھ تھی تم نے عمل کے ساتھ اچھا نہیں کیا حسن صاحب بول کر باہر نکل گۓ

فریدہ صاحبہ بھی جانے لگی جب مہناز صاحبہ نے آواز دی

بھابھی

تو فریدہ صاحبہ واپس مڑی

عمل کہاں ہے مجھے اس سے خود بات کرنی ہے مہناز صاحبہ زمین کی طرف دیکھتے ہوئے بولی کیونکہ جب سے حسن اور فریدہ صاحبہ آۓ تھے مہناز کی نظر ہی نہیں اٹھ رہی تھی

میری بیٹی کو کچھ وقت کے لیۓ اکیلا چھوڑ دیں تاکہ اسکا دل کا بوجھ ہلکا ہوجاۓ فریدہ صاحبہ بول کر چلی گئ

حریم یار میں نہیں لگاؤں گی یہ ٹیوپ میرا ہاتھ بہت جلتا ہے اس سے عنیقہ روتے ہوئے بول رہی تھی

کیسے نہیں لگاؤ گی یہ ٹیوپ

لگاؤ گی نہیں تو ہاتھ ٹھیک کیسے ہوگا حریم بول کر بیڈ پر چڑھ گئ

ہوجاۓ گا ٹھیک تمھیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے عنیقہ ٹیوپ کو دیکھتے ہوئے بولی جو حریم اسکے پاس لارہی تھی

یہ کھانا کدھر لے کر جارہا ہے تو شمس ارسلان سے بولا جس کے ہاتھ میں شاپر ہی شاپر تھے

اندر لے کر جارہا ہوں اور کدھر لے کر جاؤں گا ارسلان حیرانگی سے بولا

مجھے دے میں لے کر جاؤں اندر شمس ایکدم کھڑا ہوتے ہوئے بولا

بیٹھو آرام سے کھانا باہر سے لاتے ہوئے موت پڑ رہی تھی اور اب اندر جانے کے لیۓ گھوڑے جیسے اسپیڈ پکڑی ہے ارسلان بولا

بھائ نہیں ہے دے دے مجھے کھانا شمس بولا کیونکہ بڑی مشکل سے اسے کمرے میں جانے کا موقع ملا تھا

لے پکڑ مر ارسلان نے غصے سے بول کر ٹرے کو ٹیبل پر پٹخ کر رکھا

یہ چیز میرے عزیز شمس خوشی سے بول کر کھڑا ہوا اور زور سے ارسلان کی گال پر ایک کس کی

اے پیچھے ہٹ گندہ انسان ارسلان نے بولتے ساتھ ہی اپنی گال پر ہاتھ پھیرا

زیادا اوقات سے نکلنے کی ضرورت نہیں ہے تجھے شمس ہنستے ہوئے بولا

چل چل ارسلان بھی ہنستے ہوئے بولا

پھر شمس اندر چلا گیا

حریم یہ کھانا آپ لوگوں کے لیۓ شمس بولا

جی حریم نے ایکدم دوپٹہ اپنے سر پر لپیٹا جو سلک کر اسکے کندھوں پر آیا تھا

حریم نے فٹافٹ ٹرے شمس کے ہاتھ سے لی

آپ کا ہاتھ کیسا ہے شمس عنیقہ سے بولا

ٹھیک ہے بھائ عنیقہ بولی

اچھا بھوک تو زیادہ نہیں لگی تھی

شمس مسکراتے ہوئے بولا حریم کو بہت عجیب لگ رہا تھا جو شمس اس طرح کھڑا ہو کر فضول باتیں کرنے لگ گیا تھا

عمل اٹھو یار کب سے اس کمرے میں بند رہو گی روباب کمرے میں آتے ہوئے بولی

اور ساتھ ہی کمرے کی لائٹ بھی اون کی

ہاۓ میرے اللہ اے عمل یہ آنکھوں کے ساتھ کیا کیا ہے روباب پریشانی سے بولی کیونکہ عمل کی آنکھیں رونے سے بہت زیادہ لال ہوگئ تھی

وہ مجھے نیند نہیں آرہی تھی شاید اس وجہ سے لال ہوگئی ہیں عمل بیٹھتے ہوئے بولی

یہ بے وقوف کسی اور کو جاکر بنانا روباب غصے سے بولی

روباب عمل کی خالہ زاد بیٹی تھی جو خود بھی یہاں پڑھائی کے سلسلے سے ائ ہوئ تھی

روباب میں آپ کو بےوقوف کیوں بناؤں گی عمل بولی

میں ابھی کال کرتی ہوں خالہ جان کو کے تم تو یہاں بہت زیادہ رو رہی ہو روباب نے بولتے ساتھ ہی اپنا فون نکالا

روباب اگر آپ نے ایسا کچھ بھی کیا تو میں سے بہت سخت قِسم کی ناراض ہو جاؤں گی عمل دھمکی دیتے ہوئے بولی

یار عمل اگر میں نے تمہارا نہ بتایا تو تم اپنا بیڑا غرق کر دو گی روباب بولی

میں نہیں کرتی اپنا بیڑا غرق آپ اٹھیں باہر چلتے ہیں عمل مسکراتے ہوئے بول کر کھڑی ہوئ

روباب بھی ساتھ ہی اسکے کھڑی ہوگئ

عمل اور روباب بلڈنگ سے باہر آۓ تو سردی بہت زیادا تھی

ہاۓ روباب آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا باہر اتنی سردی ہوگی عمل اپنے ہاتھ رگڑتے ہوئے بولی

یار شام میں بہت زیادہ سردی ہو جاتی ہے روباب بھی اپنے ہاتھوں کو کوٹ کی پاکٹ میں ڈالتے ہوئے بولی

جبکے عمل جاکر ایک بینچ پر بیٹھ گئ اور سردی سے لطف اندوز ہونے لگی

عرش میرب کو حسن صاحب کے گھر چھوڑنے کے بعد اب اپنے فلیٹ کی طرف نکل گیا

ہیلو عرش شمس سے کال پر بولا

بول کیا ہوا شمس بولا

رویام سے بول کے مولوی کو لے کر آۓ فلیٹ میں وہ بھی دس منٹ میں کیونکہ میں بھی پہنچنے والا ہوں عرش بولا

اچھا اوۓ رویام چل جا مولوی صاحب کو لے کر آ شمس نے ساتھ ہی بیٹھے رویام کو بھی بتا دیا

خود جا رویام ہلکی آواز میں بولا جو عرش سن چکا تھا

فون دے اس کمینے کو عرش شمس سے بولا

یہ لے بات کر عرش سے شمس ہنستے ہوئے رویام کو فون پکڑاتے ہوئے بولا

رویام نے فون لیا

صیح ہے بغیرتیاں کر اسکے بعد جواب بھی دے تیری وجہ سے میں اس عورت کو جواب نہیں دے سکا کیونکہ میرا اپنا دوست ہی ان غلیظ کاموں میں شامل تھا عرش رشیدہ کو یاد کرتے ہوئے بولا کیونکہ اس نے جو بھی کہا تھا سب صیح کہا تھا

یار غلطی ہوگئی تھی مجھ سے رویام افسوس سے بولا

اب جو غلطی تو نے کی ہے وہ صیح کرنی ہے کے بھی نہیں عرش بولا

کرنی ہے صیح رویام بولا

چل جا پھر بلا کر لا مولوی کو تب تک میں بھی آرہا ہوں عرش بولا

اچھا رویام نے بولتے ساتھ ہی کال کاٹ دی

سب لاؤنچ میں بیٹھے ہوئے تھے

اور عرش مولوی کو سارا کچھ بتا رہا تھا ان لڑکیوں کے بارے میں

اس طرح اب لڑکیاں ہمارے پاس ہیں آپ سے مشورہ ہے کہ لڑکیوں کے ساتھ کیا کریں عرش نہایت ادب کے لہجے میں مولانا صاحب سے بات کرہا تھا

آپ لوگوں نے جو کیا ہے وہ قابل تعریف ہے آج کل ہمارے معاشرے میں اگر کوئ غلط کام ہوتا ہے تو اسے سدھارنے کے بجائے اس میں خود بھی انسان ملوث ہو جاتا ہے

اب رہی بات لڑکیوں کی تو ہم اگر لڑکیوں کو یتیم خانے میں بھیج بھی دیتے ہیں تو وہاں پر ہمیں یقین نہیں ہے کے ان کی عزتیں محفوظ ہوگی یا نہیں کیونکہ جوان لڑکیاں ہے وہ

مولانا صاحب اس کا کوئ دوسرا حل عرش بولا

جی جی بلکل دوسرا حل بھی ہے ان لڑکیوں سے اگر کوئ نکاح کرتا ہے تو ان کے گھر بھی آباد ہوجاۓ گا جس سے انکی زندگی بہت اچھی گزر جاۓ گی مولوی صاحب بولے

نکاح عرش سوچتے ہوئے بولا

میں نکاح کروں گا شمس بولا

ماشااللہ مولانا صاحب خوشی سے بولے میں بھی نکاح کروں گا ارسلان بولا ماشااللہ اللہ پاک آپ لوگوں پر کرم کرے اور آپ لوگوں کی آنے والی زندگی خوشیوں سے بھر دے رویام ابھی تک خاموش تھا سب اس کے منتظر تھے کہ وہ کیا کہتا ہے

رویام آپ کا کیا ارادا ہے عرش رویام سے بولا

میں تو نکاح کے لیۓ تیار ہو جاؤں گا لیکن وہ ہوگی رویام پریشانی سے بولا

جی بلکل ہوجاۓ گی عرش کھڑا ہوتے ہوئے بولا تاکہ عنیقہ کے پاس جاۓ

اچھا رویام بس اتنا بولا

عرش روم میں چلا گیا

مولانا صاحب آپ سے بات کرنی ہے رویام شرمندگی سے بولا اسے سمجھ نہیں آرہی تھی وہ بات کیسے شروع کرے

جی بولیں مولانا صاحب بولے

آگر کوئ شخص زنا کرے اور یہ جانتے بوجھتے ہوئے بھی یہ گناہ ہے اور اگر بعد میں وہ اللہ سے ڈر جاۓ اپنے گناہوں کی معافی مانگیں تو اسکی معافی ہمیں مل سکتی ہیں رویام بولا

جی بلکل ہمارا پروردگار بہت رحیم و کریم اسکی شان و شوکت بہت اونچی ہے وہ تو چاہتا ہی یہی ہے کے اسکا بندہ اس سے اپنے گناہوں کی معافی مانگیں

اور ہمارے معاشرے میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو گناہ تو کرتے ہیں لیکن جب انکا دل معافی مانگنے کو کرتا ہے تو وہ اسلیۓ بھی نہیں مانگتے کے ہم نے تو اتنے گناہ کیۓ ہیں ہمیں اللہ کبھی بھی معاف نہیں کرے گا جبکہ ایسا بلکل بھی نہیں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے

سورۃ الزمرہ ، آیت نمبر53 میں

قُلۡ یٰعِبَادِیَ الَّذِیۡنَ اَسۡرَفُوۡا عَلٰۤی اَنۡفُسِہِمۡ لَا تَقۡنَطُوۡا مِنۡ رَّحۡمَۃِ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ یَغۡفِرُ الذُّنُوۡبَ جَمِیۡعًا ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ۔

ترجمہ: (اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف سے لوگوں سے) کہہ دو کہ اے میرے بندو! جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے تم اللہ کی رحمت سے نا امید نہ ہو جاؤ، بالیقین اللہ تعالٰی سارے گناہوں کو بخش دیتا ہے، واقعی وہ بڑی، بخشش بڑی رحمت والا ہے

مولانا صاحب بہت ہی شفقت سے رویام کو پوری بات سمجھاتے ہوئے بولے

آپ کا بہت بہت شکریہ رویام مسکراتے ہوئے بولا کیونکہ اسکے دل میں بہت بوجھ تھا کے اللہ مجھے معاف کرے گا بھی یا نہیں اب وہ بوجھ رویام کا بلکل ختم ہوگیا تھا مولانا صاحب کی باتوں سے

عنیقہ تم سے بات کرنی ہے عرش اندر آتے ہوئے بولا

جی عنیقہ بیٹھتے ہوئے بولی

عنیقہ میں تمھیں اس طرح مامو کے سامنے نہیں لے جاسکتا اور نہ ہی میں انھیں یہ بتا سکتا ہوں کے تم کن کن حالات سے گزری ہو

میں تمھیں مامو کے سامنے ہنستا ہوا اور خوش باش لے کر جانا چاہتا ہوں تاکہ انھیں کبھی افسوس نہ ہو کے میری بیٹی نے کیا کردیا اپنے ساتھ عرش عنیقہ کو بات سمجھاتے ہوئے بول رہا تھا

جی عنیقہ بولی

اگر میں تمہارا نکاح کروا دوں وہ بھی اپنے دوست سے تو تمھیں کوئ مسئلہ تو نہیں ہوگا کیونکہ ایسے نہ تو تم ساری زندگی رہ سکتی ہو اور نہ ہی تمہارے ساتھ کی لڑکیاں عرش بولا

عرش کیا وہ ہم طوائفوں سے نکاح کرلیں گیں عنیقہ دکھ بھرے لہجے میں بولی

عنیقہ ایسا غلیظ لفظ میں تمہارے منہ سے دوبارا نہ سنو سمجھی

تم طوائف نہیں ہم سب کی عزت ہو عرش بولا

جیسا تمھیں مناسب لگے ویسا کرو کیونکہ اب میرا ہر فیصلہ اپنے بھائ پر ہے عنیقہ مسکراتے ہوئے بولی

شاباش عرش بھی مسکرایا جی گڑیا آپ کا کیا خیال ہے عرش اب حریم کی طرف مڑا

میں کیا کہوں بھائ حریم پریشانی سے بولی

کیا آپ اپنے بھائ پر بھروسہ کریں گی عرش بولا

آپ ہی کی وجہ سے آج ہم یہاں ہے پھر آپ پر بھروسہ نہ کرنے کا کوئ سوال پیدا ہو ہی نہیں سکتا حریم مسکراتے ہوئے بولی

تو ٹھیک ہے آج ہی آپ لوگوں کا نکاح ہوگا عرش بولا

ٹھیک ہے دونوں بولی

مامو آپ یہ سب کیوں لا رہے ہیں میرب کھانے پینے کی چیزوں کو دیکھتے ہوئے بولی جو حسن صاحب پانچ پانچ منٹ بعد لارہے تھے

بیٹا اپنی جان بناؤ تمہارے میں کچھ ہے ہی نہیں حسن صاحب میرب کی صحت دیکھتے ہوئے بولے

مامو جان میری جان اور صحت اس دن بنے گی جس دن عمل سے میں اپنے گناہوں کی معافی مانگ لوں گی میرب بولی

بیٹا آپ کو معافی مانگنے کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ آپ سے ناراض ہی نہیں ہے حسن صاحب میرب کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے

مامو پلیززز مامی بھی ناراض ہیں عمل بھی ناراض ہے ان کی ناراضگیاں دیکھ دیکھ کر میں مر جاؤں گی میرب روتے ہوئے بولی

ارے بیٹا تمہاری مامی کدھر ناراض ہے تم سے فریدہ صاحبہ اندر آتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی میرب کے پاس گئ

میرب حیرانگی سے ان کی طرف دیکھ رہی تھی

کے اتنا بڑا ظرف آخر کس کا ہوسکتا ہے

مامی پلیزز عمل سے میری بات کروا دیں تاکہ میرے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاۓ میرب روتے ہوئے بولی

اچھا میرا بچہ میں ابھی آپ کی بات کرواتی ہوں عمل سے فریدہ صاحبہ بولی

شمس کا نکاح حریم کے ساتھ ارسلان کا نکاح صبا کے ساتھ اور عنیقہ کا نکاح رویام کے ساتھ ہوگیا تھا

دو لڑکیوں کا نکاح مولانا صاحب نے اپنے بیٹوں کے ساتھ بھی کروادیا کیونکہ دوسروں کے لیۓ بھی مثال دینی تھی

عرش میں اپنی بیوی کو لے کر جارہا ہوں شمس خوش ہوتے ہوۓ بولا

حوصلہ رکھ اتنی جلدی کس چیز کی ہے عرش بولا

نہیں یار نیک کام میں دیر نہیں کرنی چاہیۓ کبھی شمس مسکراتا ہوا بولا تو عرش ہنسنے لگ گیا جا لے جا لیکن کبھی حریم کو شکایت کا موقع نہ دئ عرش بولا

تیری بہن ہے مجھے بھی پتہ ہے اسلیۓ اسے کبھی ٹینشن نہیں دوں گا شمس بول کر کمرے میں چلا گیا میں بھی لے جاؤں صبا کو ارسلان شرمانے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولا

لے جا عرش ہنستے ہوئے بولا

جی جناب آپ کا کیا خیال ہے عرش اب رویام کی طرف آتے ہوئے بولا

میں لے کر جارہا ہوں اپنی بیوی کو رویام بولا۔

یہ مجھ سے پوچھ رہا ہے یا بتا رہا ہے عرش رویام کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے بولا

اپنی امانت لے کر جاتے ہوئے پوچھا نہیں جاتا رویام بولا

یہ تو بہت اچھی بات ہے لیکن تو جا میں اسے خود لے آؤں گا عرش بولا

عنیقہ کو ابھی تک پتہ نہیں چلا تھا جس سے اسکا نکاح ہوا ہے وہ کلب والا ہی لڑکا ہے

چل صیح ہے میرے گھر لے آ عنیقہ کو میں انتظار کروں گا رویام بول کر نکل گیا

اللہ جی عنیقہ کا دل میرے لیۓ صاف کر دینا کیونکہ میں توبہ کر چکا ہوں ہر غلط کاموں سے اور آگے بھی کرتا رہوں گا بس یااللہ پاک ہم سب کو توفیق دے تاکہ ان غلط کاموں سے بچتے رہے رویام ڈرائیو کرتے ہوئے بول رہا تھا کیونکہ اب وقت آگیا تھا عنیقہ کا سامنا کرنے کے لئے

عمل ایک بات پوچھوں روباب اور عمل چل رہی تھی جب روباب بولی

بولیں عمل مسکراتے ہوئے بولی

اس طرح تم کب تک عرش سے دور رہو گی مطلب فیصلہ تو کرنا ہی ہوگا تمھیں کے

ساتھ رہنا ہے یا نہیں روباب ہچکچاتے ہوئے بولی تاکہ عمل کو برا نہ لگ جاۓ

روباب میں عرش سے کبھی خلا نہیں لے سکتی اور ہاں کبھی ان کے ساتھ بھی نہیں رہ سکتی کیونکہ آگے عمل خاموش ہوگئ

کیونکہ کیا روباب مسکراتے ہوئے بولی عمل بلکل خاموش تھی اور تیز تیز چلنا شروع کردیا ہماری چھوٹی سی عمل کو محبت ہوگئ ہے کیا روباب بولی

پتہ نہیں عمل بول کر اندر چلی گئ

اسلام علیکم خالہ روباب فریدہ صاحبہ سے کال پر بولی

وعلیکم السلام بیٹا عمل فون نہیں اٹھا رہی فریدہ صاحبہ پریشانی سے بولی

جی خالہ میں اسے تھوڑی دیر کے لیۓ باہر لائ تھی اسلیۓ اسکا فون گھر رہ گیا تھا روباب بولی اچھا عمل نے کیا کہا عرش کے بارے میں فریدہ صاحبہ بولی

آنٹی مجھے نہیں لگتا وہ کبھی عرش سے خلا لے گی روباب بولی

اچھا فریدہ صاحبہ پریشانی سے بولی

عمل گھر آئ تو اسنے اپنے فون پر کم از کم گیارہ مسڈ کالز دیکھی وہ بھی حسن صاحب کی

عمل نے فٹافٹ حسن صاحب کو فون کیا

بابا آپ نے اتنی ڈھیر ساری کالز کی خیریت تو ہے نہ عمل پریشانی سے بولی

اسلام علیکم بچے حسن صاحب سلام کرتے ہوئے بولے

عمل تو اتنی ڈھیر ساری مسڈ کالز دیکھ کر پریشانی میں سلام کرنا بھی بھول گئ

وعلیکم السلام عمل مسکراتے ہوئے بولی بابا اب بتاۓ بھی آپ نے اتنی کالز کی

بیٹا میرب تم سے بات کرنا چاہتی ہے حسن صاحب بولے

اچھا بابا فون دیں انھیں عمل خوشی سے بولی بجاۓ اسکے کے منہ بناتی کے میں نے میرب سے بات نہیں کرنی

اسلام علیکم میرب آپی عمل اسی انداز میں بولی جیسے شادی سے پہلے بولتی تھی

وعلیکم السلام میرب اپنے آنسوؤں کو کنٹرول کرتے ہوئے بولی

کیسی ہیں آپ

میں ٹھیک نہیں ہوں عمل میرب روتے ہوئے بولی

آپی آپ روۓ تو نہیں عمل پریشانی سے بولی

عمل میں نے تمہارے ساتھ بہت زیادتیاں کی ہے جس کی سزا مجھے میرب رب نے دے دی ہے میرب روتے ہوئے بولی

آپی آپ نے کوئ زیادتی نہیں کی اور جو تکلیفیں آپ کو ملی ہیں وہ ساری آپ کے نصیب میں تھی آپ کیوں اتنا رو رو کے خود کو ہلکان کررہی ہیں عمل میرب کو سمجھاتے ہوئے بولی

عمل مجھے معاف کر دو ورنہ میرا ضمیر مجھے ختم کردے گا میرب رو رہی تھی کیونکہ اس سے سب کچھ چھین گیا تھا

میرب آپی میں ناراض ہی نہیں ہوں آپ سے عمل بولی لیکن میرب اسی طرح مسلسل رو رہی تھی

اچھا میں نے معاف کردیا ہے آپ کو اب پلیزز چپ کریں آپ بابا کو فون دیں جلدی کریں عمل بولی

میرب نے روتے ہوئے حسن صاحب کو فون دیا

بابا آپ دیکھیں نہ میرب آپی کتنا رو رہی ہے انھیں خاموش کروائیں عمل خود رونے والے انداز میں بولی

اچھا اچھا میرا بچہ تم تو حوصلہ رکھو حسن صاحب عمل سے بولے

میں ٹھیک ہوں آپ دیکھیں میرب آپی کو دیکھیں عمل نے بول کر کال کاٹ دی

عرش عنیقہ کو رویام کے گھر لے آیا تھا اور ابھی وہ رویام کے ہی بیڈ روم میں بیٹھی ہوئی تھی دیکھو عنیقہ وعدہ کرو آج سے تم اس گھر کو اچھے سے سنبھالو گی اس گھر کو جنت بناؤ گی عرش عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولا کیونکہ عرش بھی جانتا تھا عنیقہ کو رویام کے بارے میں ابھی تک نہیں پتہ

جی عنیقہ بولی

عنیقہ غلطیاں تو سب سے ہوتی ہیں انسان تو ہے ہی خطاؤں کا پتلا اسلیۓ ہمیں ہر چیز کو درگز کرنا چاہیۓ

اسلیۓ تم ہر کسی کی غلطیوں کو معاف کرنا سیکھو عرش رویام کی سفارش کررہا تھا ڈھکے چھپے الفاظوں میں

عرش ایسی باتیں کیوں کررہے ہو عنیقہ پریشانی سے بولی

اچھی نصیحتیں سب کو کرنی چاہیے عرش مسکراتے ہوئے بولا تو عنیقہ بھی مسکرانے لگی

چلو اب اپنے بھائ کو اجازت دو عرش مسکراتے ہوئے کھڑا ہوا

عرش یہاں پر کوئ آنٹی یا لڑکی نہیں ہے عنیقہ رویام کی ماما اور بہنوں کا پوچھتے ہوئے بولی

وہ دراصل یہاں پر نہیں ہے پاکستان سے باہر ہیں صرف رویام ہی یہاں ہے عرش بولا

اچھا عنیقہ بولی

حریم کمرے میں بیٹھی تھک گئ تھی لیکن شمس ابھی تک نہیں آیا تھا وہ باہر اپنے گھر والوں سے بات کررہا تھا

کبھی اسکے چیخنے کی ہلکی سی آواز کمرے میں آتی تو کبھی اسکے گھر والوں کی حریم تو دعائیں کر کر کے تھک گئ تھی کہ اللہ پاک خیر کرے

کافی دیر بعد شمس اندر آیا

اور حریم کے سامنے بیٹھ گیا اسلام علیکم شمس محبت بھرے لہجے میں بولا وعلیکم السلام حریم ہلکی آواز میں بولی آپ کے پرنٹس خوش نہیں ہیں ہماری شادی پر حریم ڈرتے ہوئے بولی کیونکہ اب اس میں ہمت نہیں تھی کچھ بھی برداشت کرنے کی

نہیں نہیں میرے گھر والوں کو کوئ مسئلہ نہیں ہے ہماری شادی سے بلکے انھیں فخر ہو رہا ہے اپنے بیٹے پر شمس شوخ لہجے میں بولا تو حریم کی سانس میں سانس آئ تم کیوں اتنی گھبرائی ہوئی ہو شمس حریم سے بول رہا تھا ساتھ ہی اسکا حجاب بھی کھولنے لگا آج حریم کو خوشی ہورہی تھی کسی کو اپنے قریب آتے ہوئے دیکھ کر کیونکہ وہ اسکا شوہر تھا نہ کے کوئ عام مرد میں گھبرا نہیں رہی حریم پھر اسی طرح ہلکی آواز میں بولی تو میری جان تیز آواز میں بولو شمس نے بولتے ہوئے حریم کا دوپٹہ سائیڈ پر رکھا کیا بولوں حریم نیچے دیکھتے ہوئے بولی کیونکہ اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا

چلو کچھ بھی نہ بولو کیونکہ اب تمھیں بولنے کا موقع ہی نہیں ملے گا شمس حریم کے ہونٹوں پر فوکس کرتے ہوئے بولا تو حریم کا چہرہ فق سے لال ہوگیا

شمس نے اپنے ہونٹوں کو حریم کے ہونٹوں پر رکھا اور حریم نے کوئ حرکت نہیں کی شمس کافی دیر تک جھکے رہنے کے بعد پیچھے ہٹا ایک بات کہوں شمس بولا جی حریم بیڈ کی چادر دیکھتے ہوئے بولی یار تمھیں جب میں نے فرسٹ ٹائیم دیکھا تھا نہ اسی دن سے تم نے میرے دل کے گھر میں قدم رکھ دیا تھا شمس سچ بولا کیونکہ حریم اسے پہلے دن سے ہی اچھی لگی تھی

حریم مسکرانے لگی