238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 13

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

حسن عرش عمل کو یہاں سے بہت غصے میں لے کر گیا ہے فریدہ صاحبہ روتے ہوئے حسن صاحب سے بولی

کیوں وہ کیوں لے کر گیا ہے عمل کو حسن صاحب بھی پریشانی سے بولے

تو فریدہ صاحبہ نے ساری بات انھیں بتائ

اتنی سی بات کے لئے کوئ ایسی جاہلوں والی حرکت نہیں کرتا جیسی عرش نے کی ہے

اور نہ ہی میری بیٹی لاوارث ہے جو وہ اسے یوں گھسیٹ کر لے جاۓ گا اور اسکا کوئی پوچھنے والا نہیں ہے حسن صاحب غصے سے بولے

چلو آج ہی عمل کو لے کر آئیں گیں حسن صاحب فریدہ سے بولے

جی فریدہ صاحبہ بولی

عرش عمل کو گھسیٹتے ہوئے سیدھا روم میں لایا اور روم کو لوک کر دیا

میں نے اور میرے گھر والوں نے تم پر بہت ظلم کیۓ ہے نہ عرش عمل کو منہ سے دبوچتے ہوئے بولا

عرش آپ میری بات تو سنیں ایک بار عمل بہت مشکل سے بول پائ تھی

میں سنوں اب عرش نے عمل کے بالوں کو پکڑ اپنے چہرے کے نزدیک کیا جس سے اسکی گرم سانسیں عمل کے منہ پر پڑ رہی تھی

افسوس ہوتا ہے مجھے آپ پر کہ آپ نے مجھے ہر بار زلیل ہی کیا

اگر آپ کی بہن کو کوئ ایسے طعنے دے اور وہ آپ کو یا آپ کی ماما کو بتاۓ تو اس میں کیا غلط ہے آخر اپنے دل کا بوجھ ہی تو ہلکا کر رہی ہوتی ہے نہ

میری بہن بھاگ کر گئ ہے اسکے طعنے آپ نے آپ کے گھر والوں نے حتیٰ کے میرے گھر والوں نے بھی مجھے دیۓ ہیں میری غلطی کیا ہے اس میں جو میں اتنا سب کچھ برداشت کررہی ہوں

اتنی زلت اتنی مار مجھ پر ہی ہوتی ہے کیوں عمل روتے ہوئے بول رہی تھی

عرش عمل کا چہرا دیکھ رہا تھا جو رونے اور درد کی وجہ سے لال ہوگیا تھا

یقین کریں عرش اگر آپ کی بہن کو سبحان ایسے گھسیٹ کر لے جاتا تو آپ اسکو مار دیتے کیونکہ بھائ ہے نہ آپ دکھ ہوتا ہے اپنی بہن پر

میرا بھائ نہیں ہے اسی لیۓ تو ہر کوئ مجھے باتیں سناتا ہے بے عزت کرتا ہے اور گھسیٹ کر لے جاتا ہے عمل روتے ہوئے بیٹھ گئ تھی کیونکہ عرش نے اسکے بال چھوڑ دیۓ تھے وہ صرف اسکی باتیں سن رہا تھا

آپ کی اس حرکت سے میرے بابا کتنے پریشان ہوۓ ہونگیں اسکا اندازہ ہے آپ کو عمل چیختے ہوۓ بولی کیونکہ اب اسکا دل پریشان ہو رہا تھا حسن صاحب کے لیۓ

مجھ سے اتنے تنگ ہے تو کیوں رکھا ہے آپ نے مجھے اپنے پاس چھوڑ دیں مجھے

عرش حیران رہ گیا تھا عمل کے غصے سے پھر وہ گھٹنوں کے بل عمل کے پاس بیٹھا

عمل نہیں بتاتے اپنے سسرال کی باتیں کسی اور کو عرش دھیمے اور پیار بھرے لہجے میں بولا کیونکہ عمل کا غصہ آلریڈی بہت تیز تھا

وہ کوئ غیر نہیں ہیں عرش میری ماما ہے عمل ابھی بھی رو رہی تھی

اچھا اچھا تم چپ تو ہو جاؤ عرش عمل کو سینے سے لگاتے ہوئے بولا

عمل ہچکیاں لیتے ہوئے اپنے آنسو صاف کر رہی تھی

دیکھو عمل میں یہی کوشش کرتا ہوں کہ تم ہارٹ نہ ہو کیونکہ تم ابھی بہت چھوٹی ہو مجھ سے

میری اور تمہاری ایج میں بہت دیفرینس میں بہت بڑا ہوں تم سے

تمہارے لیۓ میں نے میرب کو بھی سمجھایا ہے کہ وہ تم سے بات نہ کرے

تمہاری کسی بھی غلطی سے میری بہن کا گھر خراب ہو سکتا ہے جو میں نہیں چاہتا

عرش آپ یہی چاہتے ہیں نہ میں اور آپ الگ ہو جائیں

میں خود بات کروں گی طلاق کی ظفر عمل بولنے والے والی تھی جب عرش نے اسکے ہونٹوں پر انگلی رکھ دی تھی

نہیں عمل پاگل ہو جو ایسی باتیں کررہی ہو عرش غصے سے بولا کیونکہ عرش غصے میں جو بولتا تھا وہ اسے خود سمجھ نہیں آتی تھی

تو آپ کیوں کہتے ہیں بار بار کہ میں عمل کو چھوڑ دوں گا عمل روتے ہوئے بولی

غلطی سے بولتا ہوں میرے منہ سے ہی نکل جاتا ہے عرش افسوس سے بولا

آپ میری قسم کھائیں آئیندہ ایسا لفظ استعمال نہیں کریں گیں اور اگر کردیا تو آپ مجھے چھوڑ دیں گیں عمل عرش کو دیکھتے ہوئے بولی

عمل پاگل ہو جو اتنی بڑی قسم دے رہی ہو عرش اب فل غصے میں آگیا تھا

عرش میں یہ لفظ بار بار نہیں سن سکتی کہ آپ مجھے چھوڑ دیں گیں

اگر آپ واقعی مجھے نہیں چھوڑنا چاہتے تو آپ کھائیں قسم آج عمل بولی

ٹھیک ہے عرش منہ موڑ کر بولا

ٹھیک نہیں قسم کھائیں عمل پھر سے بولی

اس ٹائیم عرش کو عمل بلکل بھی سولہ سال کی بچی نہیں لگ رہی تھی

قسم سے آئیندہ ایسا لفظ نہیں استعمال کروں گا عرش بول کر کھڑا ہوا۔

عمل خود بھی اب خوفزدہ ہوگئ تھی کہ اگر عرش نے ایک دفعہ بھی کچھ غلط کہ دیا تو کیا وہ اسے چھوڑ دے گا

عنیقہ اور آرت مل کر کیک کاٹنے لگے

آ کریں آرت عنیقہ آرت سے بولی جو اسکے فون کو یوز کررہا تھا

ہمم آرت نے منہ کھولا

عنیقہ کیک منہ تک لے جانے ہی لگی جب اسنے آرت کے چہرے پر کیک لگایا

عنیقہ یہ کیا کردیا آرت پیچھے ہوتے ہوئے بولا

ہاہاہا ہاہاہا کتنے پیارے لگ رہے ہیں آپ عنیقہ ہنستے ہوئے بولی

سچی آرت نے بولتے ساتھ ہی عنیقہ کو پکڑ کر اپنے قریب کیا اور سارا کیک جو اپنے منہ پر لگا تھا وہ سارا عنیقہ کے منہ پر بھی لگایا

آرت آپ بہت گندے ہیں عنیقہ پیچھے ہوتے ہوئے بولی

میری جان یہ جو بھی کچھ سیکھا ہے تم سے ہی سیکھا ہے اب کی بار آرت نے عنیقہ کو کمر سے پکڑتے ہوئے کہا

اچھا چلیں اب ہٹیں یہاں سے مجھے گفٹس دیکھنے دیں عنیقہ اپنے آپ کو چھوڑواتے ہوئے بولی

واہ میری جان رومانٹک موڈ میں تم کیسی بات کر رہی ہو آرت عنیقہ کے بالوں کی لٹ پیچھے کرتے ہوئے بولا جو بار بار اسکے گالوں سے ہونٹوں پر آرہی تھی

آرت وہ گرے کلر کا کیا ہے عنیقہ ایک بیگ کی طرف اشارا کرتے ہوئے بولی جس میں سے کوئی سوٹ باہر نکلا ہوا تھا

آج شام میں نے اور تم نے باہر جانا ہے اس لیۓ ڈریس لایا ہوں آرت بولا اور ساتھ ہی اسکے نرم و ملائم ہونٹوں پر جھکا

کافی دیر سے وہ عنیقہ کے ہونٹوں پر جھکا تھا اب وہ مدہوشی میں جارہا تھا جب عنیقہ صوفے پر بیٹھنے لگی کیونکہ اسے سانس نہیں آرہا تھا ٹانگیں بھی اسکی شل ہوگئ تھی کھڑے رہنے سے

آرت ایکدم پیچھے ہٹا کیونکہ عنیقہ کی حالت خراب ہو گئی تھی

آرت کے پیچھے ہٹتے ساتھ ہی عنیقہ اپنی سانسوں کا تسلسل برابر کرنے لگی

سوری آرت ہنستے ہوئے بولا اور ساتھ ہی اپنے ہونٹوں کو صاف کیا

آپ بہت برے ہیں عنیقہ منہ بنا کر بولی

تم خود ہی کریٹ کرتی ہو رومانٹک سین آرت بولا

میں نے تو جسٹ کیک لگایا تھا آپ کے منہ پر عنیقہ منہ بنا کر بولی

تو میرے لیۓ اتنا ہی بہت ہے آرت بولا

عنیقہ چپ ہو گئ

اچھا جلدی سے تیار ہو جاؤ جانا ہے ایک پارٹی پر آرت شرٹ اتارتے ہوئے بولا

تاکہ دوسری شرٹ پہن لے

کیوں آرت پارٹی کس چیز کی ہے عنیقہ بولی

یار وہاں جائیں گیں تو پتہ چل جاۓ گا پارٹی کس چیز کی ہے آرت بولا

اچھا عنیقہ اٹھتے ہوئے بولی

عنیقہ وہ سامنے ڈریس پڑا ہے وہ پہن لو

آرت اپنی شرٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے بولا

اچھا عنیقہ بول کر ڈریس کی طرف گئ اور کھول کر دیکھنے لگی

آرت فراک تو بہت اچھی ہے بٹ دوپٹہ نہیں ہے اسکے ساتھ عنیقہ بولی

بے بی اسکے ساتھ ڈوپٹہ کون پہنتا ہے آرت بولا

میں پہنتی ہوں آرت عنیقہ غصے سے بولی

عنیقہ جس پارٹی پر ہم جارہے ہیں وہاں لڑکیاں نہیں پہنتی اسلیۓ تم بھی نہ پہنو کیونکہ ان کمفرٹیبل فیل کرو گی انُ کے درمیان آرت بول کر باہر جانے لگا

عنیقہ اونلی ٹن منٹز ہیں تیار ہوکر باہر آؤ

یور ٹائیم سٹارٹ ناؤ آرت بول کر چلا گیا

عنیقہ منہ بنا کر ڈریس چینج کرنے واشروم چلی گئ

کہاں ہے عرش حسن صاحب تیز آواز میں بول کر اندر آئیں

کیا ہوا حسن ظفر صاحب بولے جو کے لاؤنج میں تھے

اپنے بیٹے کو بلائیں حسن صاحب ظفر صاحب کی بات کو اگنور کرتے ہوئے بولے

اچھا بلا لیتے ہیں لیکن تم تو بیٹھو ظفر صاحب حسن صاحب کو بیٹھاتے ہوۓ بولے

جاؤ میرب بھائ کو بلا کر لاؤ ظفر صاحب میرب سے بولے

جی بابا میرب بولتے ساتھ ہی گئ

عرش اب میرب آپی تو مجھے کچھ نہیں کہیں گی نہ عمل بولی

نہیں کیونکہ میں نے اسے منع کردیا ہے تم سے بات کرنے سے عرش بولا

اچھا عمل بولی

ٹک ٹک ٹک میرب نے دروازے کو کھٹکٹایا

جاؤ عمل دروازہ کھولو عرش عمل سے بولا جو بیڈ پر پاؤں پھلا کر لیٹی ہوئی تھی

جی عمل بولی اور ساتھ ہی کھڑی ہو گئی

آجاؤ نیچے تمہارے بابا آئیں ہیں میرب مسکراتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی عمل کی گالوں کو بھی کھینچا

جی عمل باہر آنے لگی تم نہیں زرا اپنے شوہر سے کہو اسے بھی بلاوا آیا ہے میرب بولی جس کے چہرے پر بلا کی خوشی تھی (حسن صاحب کو غصے میں دیکھ کر)

عمل سمجھ گئ تھی کہ مسئلہ کیا ہے عرش بابا آئیں ہیں عمل مڑتے ہوئے عرش سے بولی جو فائلز کھولے بیٹھا تھا

اووووو عرش مسکراتے ہوئے بولا کیونکہ آج جو بھی اسنے کیا تھا اسکا سامنا کرنے کی باری آگئ تھی

عمل بھی مسکرانے لگی

عرش اور عمل جیسے نیچے آۓ تو حسن صاحب کھڑے ہو گئے

کیا کہ رہے تھے تم کے تمہارے باپ کے سامنے ایک دفعہ کہوں کے عرش سے کہو عمل کو چھوڑ دے تو تم چھوڑ دو گے حسن صاحب بولے

جبکے عرش نظریں نیچے کیۓ کھڑا تھا کیونکہ جو اسنے کیا تھا اسکی غلطی تو بھگتنی ہی تھی

دوسری طرف ظفر صاحب اپنے بیٹے کی حرکت پر غصے سے آگ بگولے ہوگۓ تھے

چھوڑ دو میری بیٹی کو ابھی اسی وقت طلاق دو حسن صاحب بولے

کیا کہ رہے ہو تم حسن ظفر صاحب غصے سے بولے

ظفر میری بیٹی کوئ فالتو نہیں ہے جو وہ اس پر ایسے حکمرانی کرے گا حسن صاحب بولے

حسن تمہاری بیٹی میری میرب جیسی ہے میں کبھی بھی اسکا گھر خراب ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا

آج کے بعد اگر تمھیں کسی شکایت کا موقع ملا تو اسکا زمے دار میں ہوں آئیندہ عمل کے ساتھ کوئ مس بی ہیو نہیں کرے گا اور رہی بات عرش کی تو اس سے تو میں پوچھتا ہوں ظفر صاحب عرش کو دیکھتے ہوئے بولے

ظفر تمہارے کہنے سے عرش ٹھیک نہیں ہو جاۓ گا یہ میری بیٹی کو زلیل کرتا رہے گا حسن صاحب بولے

نہیں مامو جان میں دوبارا ایسا کبھی بھی نہیں کروں گا عمل کو ہمیشہ خوش رکھنے کی کوشش کروں گا پکا عرش ایک دم بولا

میرب عرش کی طرف حیرت سے دیکھ رہی تھی۔

جو اتنے مزے سے یہ بول رہا تھا

حسن صاحب خاموش ہوگۓ

کیونکہ عمل بھی خاموش تھی اس نے ایک دفعہ بھی یہ نہیں کہا تھا کہ میں عرش کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی

حسن ٹینشن مت لو اگر آئیندہ عرش نے عمل کے ساتھ کوئ بھی بدتمیزی کی تو میں اسے گھر سے نکال دوں گا لیکن عمل کو تمہارے گھر نہیں بھیجوں گا ظفر صاحب مسکراتے ہوئے بولے

بابا آپ اس کے لیۓ بھائ کو نکال دیں گیں میرب ایکدم سیخ پا ہوتے ہوئے بولی

تم چپ کرو میرب عرش میرب سے بولا

عمل اب عرش سے ہٹ کر اپنے بابا کے پاس کھڑی ہوگئ تھی

ٹھیک ہے ظفر میری بیٹی میں پہلے اللہ کے اور اسکے بعد تمہارے سپرد کر کے جارہا ہوں کیونکہ مجھے تمہارے علاؤ اپنی بہن پر بھی بھروسہ نہیں ہے حسن صاحب منہ پر بولے مہناز صاحبہ کے

جو ایک دفعہ بھی عمل کے حق میں نہیں بولی تھی

اچھا ابھی بیٹھ جاؤ ڈنر کر کے جانا بیٹھیں آپ بھی بھابھی ظفر فریدہ صاحبہ سے بھی بولے

نہیں ہمیں جانا ہے ٹائیم نہیں ہے حسن صاحب انکار کرتے ہوئے بولے

عمل تم بھی ہمارے ساتھ ہی چلو فریدہ صاحبہ عمل سے بولی

میں عمل ایکدم گھبرا گئ تھی فریدہ صاحبہ کے اسطرح بولنے سے

عرش عمل کی طرف اشارہ کرنے لگا کے نہیں جانا

ماما میں اور عرش کل آئیں گیں عمل عرش کے چہرے کو زہن میں رکھتے ہوئے بولی کیونکہ وہ بہت منت بھرے انداز میں اسکو آنکھوں سے سمجھا رہا تھا

ٹھیک ہے کل دونوں کی دعوت ہے گھر پر لازمی آنا فریدہ صاحبہ عرش کو دیکھتے بولی

اوکے عرش سر ہلاتے ہوئے بولا

آرت گاڑی میں بیٹھا عنیقہ کا ویٹ کررہا تھا

عنیقہ باہر آئ تو اسنے فراک کے اوپر دوپٹہ پہنا ہوا تھا کسی اور ڈریس کا

لیکن وہ میچنگ کررہا تھا

آرت کے ماتھے پر سلوٹے آگئ تھی عنیقہ کو دیکھ کر

وہ گاڑی میں بیٹھی تو آرت نے بنا کچھ کہے ڈرائیو کرنا شروع کر کردی

عنیقہ سمجھ گئ تھی آرت کا موڈ آف ہوگیا ہے لیکن وہ پریشان تھی آخر کون سا ایسا شوہر ہوگا جو اپنی بیوی کو پردے سے روکے گا

آرت آپ ناراض ہیں عنیقہ آرت کو بازو سے پکڑ کر اپنا سر رکھتے ہوئے بولی

عنیقہ میرا ہاتھ چھوڑو ایکسیڈنٹ ہوجاۓ گا آرت بولا

سوری نہ عنیقہ بولی

آرت چپ رہا

آرت اگر آپ نے ایسے ہی موڈ آف رکھا تو میں پارٹی اچھے سے انجوائے نہیں کر پاؤں گی پھر نہ کہنا کے میں نے اچھا نہیں کیا عنیقہ بولی

نہیں نہیں عنیقہ ایسا نہیں کرنا آرت بولا

اوکے عنیقہ مسکرانے لگی

آرت نے ایک کلب کے آگے گاڑی روکی

آرت یہ کیسی جگہ پر آپ مجھے لائیں ہیں عنیقہ مسکراتے ہوئے بول رہی تھی لیکن اس سے مسکرایا نہیں جارہا تھا

عنیقہ ٹرسٹ می بہت مزہ آتا ہے یہاں آرت بولتے ساتھ ہی باہر نکلا اور ساتھ ہی عنیقہ کو بھی گاڑی سے باہر نکالا

آرت میں ایسی گھٹیا جگہ پر کبھی نہیں آئ اور نہ کبھی آؤں گی عمل ہاتھ چھوڑواتے ہوئے بولی

عنیقہ یہ گھٹیا جگہ نہیں ہے آرت بولا

آرت یہاں عزت دار گھر کی لڑکیاں نہیں آتی کیونکہ یہاں پر آنے والا ہر مرد حوس کا پوجاری ہے عنیقہ پریشانی سے بولی

عنیقہ میں نے نکاح کیا ہے میں تمہارے ساتھ ہی ہوں تمہارے جیسی ہی لڑکیاں اندر ہیں گھبرا کیوں رہی ہو آرت بولتے ساتھ ہی عنیقہ کو اندر لے گیا

ماما میں نے کہا تھا نہ عمل جتنی ماصوم ہے لگتی ہے اتنی ہی شاطر ہے دیکھا کیسے بھائ اور آپ کی عزت کروا دی مامو سے

میرب ہنستے ہوئے بولی کیونکہ وہ بہت خوش تھی کہ آج جو بھی ہوا ہے بہت اچھا ہوا ہے

تم چپ کرو میرب میرا بھائ ہے جسے مجھ پر ہی بھروسہ نہیں ہے مہناز صاحبہ دکھ بھرے لہجے میں بولی

آج بھروسہ ختم پھر آہستہ آہستہ عزت بھی ختم ہو جائے گی

اور پھر ایک دن رشتہ ہی ختم ہو جاۓ گا آپ کا اور آپ کے بھائی کا کیونکہ عمل ہے ہی منہوس کے جہاں جاۓ گی گند ہی کرے گی میرب بولی

مہناز صاحبہ میرب کو دیکھنے لگی

ماما ویسے جلد ہی آپ کا بیٹا بیوی کا جورو کا غلام بننے والا ہے میرب ہنستے ہوئے بولی

اسلام علیکم سبحان گلہ کھنکار کر سلام کرتے ہوئے بولا

وعلیکم السلام کیسے ہو بیٹا مہناز صاحبہ کھڑے ہوتے ہوئے بولی

جبکے میرب نے منہ بنا کر فون اٹھایا اور نہ ہی سلام کا جواب دیا

اللہ کا کرم آپ کیسی ہیں آنٹی سبحان بولا

میں بھی ٹھیک بیٹھو مہناز صاحبہ صوفے پر بیٹھنے کا اشارا کرتے ہوئے بولی

جی سبحان بیٹھا

آپ لوگ بیٹھ کر باتیں کریں میں آتی ہوں مہناز صاحبہ سبحان سے بولی

جی سبحان مسکراتے ہوئے بولا

تو مہناز صاحبہ باہر چلی گئ

جبکے میرب ایسی ایکٹنگ کررہی تھی جیسے یہاں کوئ ہو ہی نہ

اٹھو میرب گھر چلیں سبحان بولا

پہلے تمہاری جاہل بہن اور اس کے پینڈو بچے چلے جائیں پھر میں آجاؤں گی میرب بولی

میں کہ رہا ہوں گھر چلو سبحان دانت پیستے ہوئے بولا

نہیں جانا تمھیں سمجھ آتی میرب بولی

میری بات یاد رکھنا میرب جو لڑکیاں شادی کے بعد بھی اپنے میکے سے ٹیوشن لینا نہیں چھوڑتی وہ جلد ہی سسرال والوں سے طلاق کی ڈگری لے لیتی ہیں

سبحان بول کر چلا گیا لیکن اسکے الفاظ میرب کی سمجھ سے باہر تھے

عرش اور عمل کب سے بیٹھے ہوئے تھے روم میں لیکن بات بلکل نہیں کی تھی عمل کو تو ایسی چپ لگی تھی جیسے اسکے منہ پر ایلفی لگائ ہو

عمل اٹھو بک لے کر آؤ عرش بولا

عرش میرا موڈ نہیں ہے میتھ کرنے کو لیکن اگر آپ زبردستی سمجھائیں گیں تو بھی سمجھ نہیں آۓ گی عمل سچ بولی

کیونکہ جب تک عمل کا کوئ کام کے لیۓ موڈ نہ بنے تب تک وہ نہیں کرتی تھی چاہے وہ زبردستی ہی کیوں نہ کرواۓ

اوکے پھر میرے لیۓ چاۓ بنا کر لاؤ عرش بولا

اچھا عمل بنا کچھ کہے چاۓ بنانے چلی گئ

عمل ناراض ہے کیا مجھ سے عرش خود سے ہی بولا

عنیقہ اور آرت کلب میں آگۓ تھے

اندر آئیں تو میوزک لگا ہوا تھا

ہر طرف لڑکا لڑکی چپک چپک کر ڈانس کررہے تھے

تو کچھ شراب پی رہے تھے ہر طرف گمراہی تھی

سب گمراہ ہوۓ تھے کسی کو نہیں ہوش تھا وہ یہاں کیا کیا گناہ کررہے ہیں

عنیقہ کی تو طبعیت خراب ہو رہی تھی یہاں کے شور اور لوگوں کی گندی حرکتوں سے

بیٹھو عنیقہ آرت ایک چئیر کی طرف اشارا کرتے ہوئے بولا

عنیقہ رونے والا منہ بنا کر بیٹھ گئ

اور ساتھ ہی آرت بھی بیٹھ گیا

آرت اور عنیقہ کے سامنے ایک لڑکی اور دو آدمی بیٹھے ہوئے تھے

ان دنوں آپ لوگوں نے بہت کردی ویسے آرت ایک آئی برو اٹھاتے ہوئے بولا اور ساتھ ہی سمائل لڑکی کو پاس کی

لڑکی تو پھیل کر بیٹھ گئ تھی کہ آرت مسکرایا ہے اسے دیکھ کر

کیونکہ آرت تھا ہی اتنا خوبصورت کے ہر لڑکی کا دل اپنی طرف کھینچتا تھا

یہ کون ہے مسٹر لڑکی بولی

میری وائف آرت مسکراتے ہوئے بولا

اووووو لڑکی بھی مسکرائی ان کی مسکراہٹ عنیقہ کو بلکل سمجھ نہیں آرہی تھی

عنیقہ میں آتا ہوں آرت کھڑا ہوتے ہوئے بولا

عنیقہ نے اسکا ہاتھ پکڑا

نہیں عنیقہ منت والے انداز میں بولی

میم آپ کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے ہم آپ کے ساتھ ہی ہیں ایک آدمی بولا

آپ لوگوں سےہی تو ڈر لگ رہا ہے عنیقہ دل میں بولی

ہمممم عنیقہ نے سر ہلایا اور ساتھ ہی آرت کا ہاتھ بھی چھوڑ دیا

آرت جیسے گیا تو اسکے پیچھے وہ لڑکی بھی ایسکیوز کر کے چلی گئ

آپ کا نیم کیا ہے آدمی عنیقہ سے بولا

(عنیقہ) عنیقہ بولی اور دل میں ہی اپنے آپ کو کوس رہی تھی کہ کیوں آئ ہے وہ یہاں

عمل چاۓ کے کر آئ اور عرش کی سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی

پھر دوسری طرف لیٹ گئ

عمل صرف چاۓ عرش ویسے ہی تنگ کرتے ہوئے بولا کیونکہ چاۓ اسنے پینی نہیں تھی کیونکہ وہ صرف مہناز صاحبہ کے ہاتھ کی بنی چیزیں کھاتا تھا

آپ چاۓ کے ساتھ کچھ بھی نہیں لیتے میں نے ابھی پوچھا ہے مہناز پھوپھو سے عمل بولی

ہمم صیح کہ رہی ہو عرش لمبی سانس لیتے ہوئے بولا

اب پی لیں چاۓ عمل بولی

پی لوں گا تمھیں کیا ٹینشن ہے

اوکے عمل نے بول کر منہ موڑ لیا عمل ناراض ہو عرش عمل کو اپنی طرف کرتے کھینچتے ہوئے بولا

نہیں عمل بیٹھنے لگی جب عرش نے اسے اٹھنے نہیں دیا

تو پہلے کی طرح باتیں کیوں نہیں کررہی عرش عمل کے قریب ہوتے ہوئے بولا

پہلے کی طرح اب کچھ بچا بھی تو نہیں عمل خفگی سے بولی

سوری عرش عمل کی گردن پر تل دیکھتے ہوئے بولا جو اسے گستاخی کرنے پر مجبور کر رہا تھا

اٹس اوکے اب پیچے ہٹیں عمل عرش سے بولی کیونکہ وہ کافی زیادا اسکے اوپر جھکا ہوا تھا

عرش بنا پیچھے ہٹے اسکی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیۓ

پیچھے ہٹیں عمل اس دن کی طرح آج بھی عرش کو پیچھے کرنے لگی لیکن آج وہ پیچھے نہیں ہٹا بلکے عمل کے ہاتھوں کو زور سے پکڑ لیا تاکے وہ اسے سینے سے پیچھے نہ ہٹائے

عرش عمل کی گردن سے آہستہ آہستہ اسکے ہونٹوں کی طرف جارہا تھا

عرش میں بابا کو بتاؤں گی آپ گندی حرکتیں کررہے ہیں عمل غصے سے بولی

تم اپنے بابا کو بتاؤ گی عرش حیرانگی سے بولا

جی اور آپ کے بابا کو بھی عمل دھمکی دیتے ہوئے بولی۔

عمل میرا بچہ ایسی باتیں کسی کو نہیں بتاتے عرش عمل سے بول کر

اس کے ہونٹوں پر جھک گیا

عمل اپنی گردن ہلانے لگی تاکہ عرش اس سے پیچھے ہٹ جاۓ

عرش خوب عمل کے ہونٹوں سے اسیر ہونے کے بعد پیچھے ہٹا

اور عمل کی شکل دیکھنے لگا

جو لال ہونے کے ساتھ رونے والی بھی ہوئ تھی

عمل میں نے کچھ برا نہیں کیا تم میری بیوی ہو اور یہ حق مجھے اللہ نے دیا ہے جس طرح میں نے تمھیں اس دن بھی بتایا تھا عرش عمل کو سمجھاتے ہوئے بولا

وہ چپ تھی اور ایک دم اپنے منہ پر کمبل ڈال دیا کیونکہ اسے عرش کے سامنے اب شرم آرہی تھی

عرش نے باتوں باتوں میں چاۓ اٹھا کر سپ لیا تو اسے اچھی لگی

واؤ عمل تم تو کافی اچھی چاۓ بناتی ہو عرش تیز آواز میں بولا لیکن عمل نے کوئ جواب نہیں دیا

عرش نے تیز آواز میں قہقہہ لگایا جو پورے کمرے میں گونجا

سبحان کدھر چلا گیا ہے مہناز صاحبہ روم میں آتے ہوئے بولی

جن کے پیچھے میڈ نے پوری ٹرالی لائ تھی جو کھانوں سے بھری ہوئی تھی

چلا گیا ہے وہ میرب فون یوز کرتے ہوئے بولی

چلاگیا وہ بھی بغیر بتاۓ تم نے روکا کیوں نہیں اسے مہناز صاحبہ بولی

ہاں ماما چلا گیا اور وہ نہیں روک رہا تھا اب اسکے پاؤں تو نہیں پکڑ سکتی تھی نہ میرب غصے سے بولی

اچھا کھانا کھاؤ گی مہناز صاحبہ میرب سے بولی

نہیں میری طبیعت صیح نہیں ہے دل نہیں کررہا کچھ بھی کھانے کو میرب بولی

اچھا لے جاؤ اسے مہناز صاحبہ میڈ سے بولی

جی میڈ لے گئ

عرش اور عمل ناشتہ کر رہے تھے جب مہناز صاحبہ آئ

عمل تم نے اپنی ماما کے گھر جانا ہے نہ

جی عمل مہناز صاحبہ کو دیکھتے ہوئے بولی

تمہارے لیۓ فینسی ڈریس اور جیولری میں نے روم میں بھجوا دیا ہے وہ پہن کر جانا مہناز صاحبہ بولی

ٹھیک ہے عمل بولی

ماما میرب کہاں ہے عرش بولا

بیٹا وہ روم میں ہے رات کو اسکی طبیعت خراب تھی اسلیۓ سو نہیں پائ تھی

ابھی سوئی ہوئی ہے اسلیۓ میں نے اسے نہیں جگایا مہناز صاحبہ بولی

تو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں اسے عرش بولا

نہیں تم دونوں حسن کے ہاں جاؤ میں سبحان کو کال کرتی ہوں وہی اسے لے جاۓ گا مہناز صاحبہ بولی

اوکے عرش بولا کیونکہ عمل کو لے جانا بھی بہت ضروری تھا

عمل نے اپنا ڈریس پہن لیا تھا جو مہناز صاحبہ نے اسے دیا تھا جبکہ عرش واشروم میں شاور لے رہا تھا

عمل نے اپنے بالوں کو ڈرائیر سے خشک کیا اور اس کے بعد بالوں پر برش لگانے لگی

عمل ٹاول دو مجھے عرش واشروم سے تیز آواز میں بولا کیونکہ ایک ہی ٹاول اندر ہینگ ہوا تھا جو عمل باہر لے آئ تھی

میں کیوں دوں آپ کو عمل رات والا سین یاد کرتے ہوئے بولی جب عرش ہنس رہا تھا اس پر

عمل یار دو نہ عرش منت کرتے ہوئے بولا

جو رات کو آپ نے حرکت کی تھی اس پر سوری کہیں عمل آرڈر دیتے ہوئے بولی

نہیں دو گی ٹاول عرش بولا

نہیں عمل بھی آگے سے سیدھا جواب دیتے ہوئے بولی

میں ایسے ہی باہر آجاؤ گا عرش دھمکی دیتے ہوئے بولا

دے رہی ہوں عمل رونے والا منہ بنا کر بولی

کیونکہ ابھی پھر عرش ہنس رہا تھا اس پر

عمل نے عرش کو ٹاول پکڑا دیا اور ساتھ ہی عرش کا جو ہاتھ باہر تھا اس پر زور سے چٹکی کاٹی

عمل تمھیں تو میں باہر آکر سیدھا کرتا ہوں عرش بولا

ہاہاہا اب عمل ہنس رہی تھی

عمل جولیری پہن رہی تھی

جب عرش وائیٹ شلوار اور اوپر بنیان پہنے باہر آیا

بڑی بدتمیز ہو گئی ہو عمل عرش قمیص پہنتے ہوئے بولا

عمل نے ایسے اگنور کیا جیسے بہری بیٹھی ہوئی ہے

عرش اپنی قمیص کے بازو کے بٹن کو بند کررہا تھا اور عمل کو بھی دیکھ رہا تھا جو بیڈ پر پڑے اپنے دوپٹے کو اٹھا رہی تھی

عرش نے دیکھا جو ڈریس اسنے پینا ہے اسکا گلہ بہت ڈیپ ہے

عرش چلتا ہوا عمل کے پاس آیا اور اسے اپنی طرف سیدھا کیا

عرش اب کیا ہے عمل پریشانی سے بولی کیونکہ وہ سمجھ رہی تھی اب پھر کچھ نہ کردے

سیفٹی پن ہے عرش عمل سے بولا

جی ڈریسنگ کے ڈرور میں ہے عمل بولی

عرش گیا اور سیفٹی پنز نکال کر لایا

اور اسکے شولڈر والی سائیڈ پر لگانے لگا

گلہ دیپ تھا تمہارا اسلیے سیفٹی پنز لگائ ہے اب آرام سے اٹھنا بیٹھنا

اگر اسی طرح اچھلتی کودتی رہی تو کھل جاۓ گی اور تمھیں لگ جاۓ گی عرش عمل کو نصیحت کرتے ہوئے بولا

جی عمل بولی

اور ساتھ ہی عرش نے عمل کے گالوں پر کس کی