238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 8

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

سُبْحَانَکَ اللّٰهُمَّ وَبِحَمْدِکَ، وَتَبَارَکَ اسْمُکَ وَتَعَالٰی جَدُّکَ، وَلَا اِلٰهَ غَيْرُکَ.

ترمذی، الجامع الصحيح، أبواب الصلاة، باب ما يقول عند افتتاح الصلاة، 1 : 283، رقم : 243

’’اے اﷲ! ہم تیری پاکی بیان کرتے ہیں، تیری تعریف کرتے ہیں، تیرا نام بہت برکت والا ہے، تیری شان بہت بلند ہے اور تیرے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔‘‘

(بےشک)

أَعُوْذُ بِاﷲِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ.

’’میں شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگتا / مانگتی ہوں۔‘‘

بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ.

’’اﷲ کے نام سے شروع جو نہایت مہربان ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔‘‘

مولوی نے اب نکاح پڑھانا شروع کردیا

عرش ملک ولد ظفر ملک صاحب میں نے آپ کا نکاح پچاس لاکھ روپے مہر مؤجل کے ایوز میں حسن صاحب بنت عمل حسن سے ساتھ کیا

آپ نے قبول کیا مولانا صاحب بولے

جی قبول کیا عرش بولا

اسی طرح مولانا نے دو بار اور پوچھا عرش نے قبول ہے کر لیا

اس کے بعد عرش سے نکاح نامے پر دستخط کروا دیۓ تھے

پھر حسن صاحب نکاح نامے کو لے کر عنیقہ کے پاس لے گۓ لیکن حسن صاحب کو پتہ نہیں تھا انکی عزت بچانے کے لیۓ ان کی چھوٹی بیٹی عمل بیٹھی ہوئی ہے

حسن صاحب کمرے میں آۓ تو عمل کا چہرہ گھنگٹ میں تھا حسن صاحب سمجھیں یہ عنیقہ ہے کیونکہ کسی کو بھی ابھی تک نہیں پتہ تھا سواۓ عرش اور مہناز صاحبہ کے عنیقہ چلی گئ ہے

حسن صاحب نے سب کو پیچھے کیا اور جاکر عمل کے ساتھ بیٹھ گۓ مولانا صاحب بھی سامنے والے صوفے پر بیٹھ گۓ اور نکاح پڑھانا شروع کیا

عمل نے جیسے قبول ہے کیا تو حسن صاحب کو ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی انکے سر پر ہتھوڑے مار رہا ہو انھیں سمجھ نہیں آرہی تھی یہ کیا ہو رہا ہے

مولانا صاحب نے نکاح پڑھا دیا تھا اب بس دستخط کروانے تھے لیکن حسن صاحب کے ہاتھ ہل ہی نہیں رہے تھے

احیان آگے ہوا اور اس نے نکاح نامے پر دستخط کرواۓ

مولانا صاحب کے پیچھے پیچھے سارے باہر نکل گۓ تھے سواۓ احیان اور حسن صاحب کے

عنیقہ کہاں ہے سب کے جاتے ساتھ ہی حسن صاحب فریدہ صاحبہ سے بولے

مجھے کیا پتہ ہے وہ کدھر چلی گئ فریدہ صاحبہ روتے ہوئے بولی

تم نے عمل کا نکاح مجھ سے پوچھے بغیر کیوں کیا اور کیا عمل راضی تھی اس نکاح کے لیۓ جو تم سب نے نکاح کروادیا

حسن صاحب بےبسی سے زمین پر بیٹھتے ہوئے بولے بابا آپ اٹھیں عمل ایک دم حسن صاحب کے پاس گئ

پیچھے پیچھے ہٹو حسن صاحب پیچھے ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے بولے

بابا میں نے کیا کیا ہے عمل اپنی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو لاتے ہوئے بولی

تمہاری بہن سے تو پوچھ کر نکاح کروا رہے تھے لیکن پھر بھی وہ بھاگ گئ تم سے تو پوچھا بھی نہیں ہے تم کیا کرو گی ہمارے ساتھ میں نہیں جانتا

حسن صاحب کے ان الفاظوں نے عمل کی زندگی تباہ کر دی تھی

کہ اسکے بابا اسکے بارے میں ایسا سوچیں گیں وہ سوچ نہیں سکتی تھی اب عمل نے بند آواز کے ساتھ ہی رونا شروع کردیا تھا احیان عمل کے پاس آیا اور اسے چپ رہنے کا کہا

کوئ بات نہیں عمل ابھی خالو پریشانی میں ہے اسلیۓ ایسا بول رہے ہیں احیان عمل سے بولا

کیوں بھائ میں نے ان سب کے لیۓ اتنی بڑی قربانی دی ایسے بندے سے نکاح کیا جو مجھے ردی برابر پسند نہیں تھا اور یہ مجھے کیا کہ رہے ہیں میں بھی بھاگ جاؤں گی

عمل نے یہ بول تو دیا تھا مگر یہ نہیں دیکھا تھا کے آگے پیچھے سارے کھڑے ہیں مہناز صاحبہ عرش ظفر صاحب سب کو عمل کی یہ بات پسند نہ آئی تھی

حسن صاحب خاموش تھے کیونکہ انکی بیٹی نے یہ بھی بول دیا تھا کہ اس نے ان کے لیۓ قربانی دی ہے

چلو آجاؤ عرش عمل کے پاس آتا ہوا بولا

عرش نے واسکٹ اتار کر پتہ نہیں کدھر پھینک دی تھی بال بھی سارے بکھرے ہوئے تھے آنکھیں اس قدر لال ہوئی تھی جیسے دس راتوں سے سویا نہ ہو اور ساتھ ہی عرش کا سر بھی بہت درد ہو رہا تھا

میں ابھی نہیں جاؤں گی آپ کے ساتھ عمل روتے ہوئے بولی

ہاں تمھیں ادھر چھوڑ دوں تاکہ تم بھی اپنی بہن کی طرح فرار ہو جاؤ عرش غصے سے بولا کیونکہ بحس کرنے کا اسکا بلکل بھی دل نہیں کر رہا تھا جتنی نفرت عمل کو عرش سے تھی اس سے کئ گناہ زیادا عرش کو عمل بھی زہر لگ رہی تھی

میں اپنی بہن کی طرح کیوں بھاگوں گی عمل ایسے بولی جیسے کوئی چھوٹا بچہ بولتا ہو

اوکے جی مامو اللہ حافظ عرش تیز آواز میں بولا اور ساتھ ہی بیڈ پر پڑی بڑی چادر اٹھائی اور عمل کے سر پر پھیلا دی اور ساتھ ہی اسکا منہ بھی چھپا دیا جیسے ہمارے اسلام میں بولا ہے

میں نہیں جاؤں گی عمل پھر سے چادر اتارتے ہوئے بولی

عرش نے زور سے اسکے منہ کو پکڑا

چپ عرش اتنا ہی بولا

اور اسے گھسٹتے ہوئے اپنے ساتھ لے گیا

سب دیکھتے رہ گۓ تھے عرش کو

جبکہ حسن صاحب کے سامنے انکی لاڈلی کو کوئ زبردستی لے گیا لیکن وہ کچھ نہیں کر پاۓ

آرت اور عنیقہ نے بھی نکاح کر لیا تھا اور اب آرت اسے اپنے گھر لے کر جارہا تھا

عنیقہ کو سمجھ نہیں آرہی تھی اسنے جو کیا وہ صیح تھا یا غلط کافی دیر سے سوچ سوچ کر آخر میں جو وہ بولی اگر وہ حسن صاحب سنتے تو کھڑے کھڑے مر جاتے

مجھے اپنے اور آرت کے بارے میں سوچنا چاہیے اپنی نئی زندگی کے بارے میں سوچنا چاہیے نہ کے فضول لوگوں کے بارے میں ویسے بھی یہ دنیا مطلبی ہے حتیٰ کہ ماما بابا بھی کیونکہ نکاح تو میرا اپنی ہی مرضی سے کروا رہے تھے عنیقہ دل میں بولی

کیا ہوا عنیقہ آرت بولا

کچھ نہیں عنیقہ مسکراتے ہوئے بولی

اچھا آرت بھی مسکرا کر بولا اور آج آرت کی شکل دیکھنے والی تھی جتنی خوشی اسکے چہرے پر تھی اسکا اندازہ کوئ نہیں لگا سکتا تھا

اور کل تک جس لڑکی کو اپنے ماں باپ کی مسکراہٹ اچھی لگتی تھی آج وہ سب اسے ایک ڈراما لگ رہا تھا

اور آرت کی مسکراہٹ اسے سکون دے رہی تھی

آرت انٹی انکل کے آئیں گیں نہ عنیقہ بولی

آجائیں گیں میں نے انھیں بتا دیا ہے آرت ڈرائیو کرتے ہوئے بولا

اچھا عنیقہ بولی

آرت عنیقہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنے ہونٹوں کے قریب لے گیا اور اسے چوما میری محبت آج میرے پاس جائیز طور پر ہے اور میں کتنا سکون میں ہوں اس بات کا کوئ اندازا نہیں لگا سکتا کیونکہ تمہارے آنے سے میری زندگی کے بہت سے کیا سارے مسلے حل ہوگۓ ہیں آرت بولا تو عنیقہ مسکرانے لگی

عرش نے ڈرائیو کرتے ہوئے ایکدم سے بریک لگائی جس وجہ سے عمل کا سر ٹھا کر کے ڈیز بورڈ کے ساتھ لگا

عرش نے جیسے بریک لگائی تھی اسکے ساتھ ہی پیچھے والی گاڑیوں نے بھی بریک لگائی جس میں عرش کے دوست تھے

اللہ عمل روتے ہوئے بولی پھر اپنے سر کو پکڑا

اپنا منہ بند نہیں کرسکتی کب سے روۓ جارہی ہو تمہارے اس رونے کی وجہ سے میرا دماغ کی شریان پھٹ جائے گی عرش اپنا چہرا عمل کے قریب کرتے ہوئے چیخ کر بولا

عرش کا یہ رویہ عمل نے پہلی بار دیکھا تھا اسلیۓ سامنے پڑے ٹشو نکال کر اپنے آنسو صاف کیۓ اور اپنی چادر نیچے کردی جس وجہ سے اس کا منہ چھپ گیا تھا

اور ایکدم چپ ہوگئ تھی کیونکہ عرش کا غصہ دیکھ کر حد سے زیادہ بگڑا بندا بھی ٹھیک ہو جاتا

عرش نے زور سے گاڑی کے اسٹیرنگ پر مکا مارا اور گاڑی سٹارٹ کر دی

آپ نے عمل کے ساتھ ایسے کیوں بات کی فریدہ صاحبہ بولی

تو کیسے بات کرتا میں بتاؤ ہاں حسن صاحب غصے سے بولے

اس نے ہمارے لیۓ نکاح کیا تھا اس کو دعاؤں میں رخصت کرنے کے بجائے طعنے دے کر بھیج دیا فریدہ صاحبہ افسوس سے بولی

جو لوگ بیٹیوں کو اوقات میں رکھتے ہیں نہ پڑھاتے نہیں ہے وہ سب ٹھیک کرتے ہیں ہم نے ضرورت سے زیادا پیار دیا تھا اسی لیۓ عنییقہ نے ہمیں مارنے میں کوئ قصر نہیں چھوڑی حسن صاحب دکھ بھرے لہجے میں بولے

نہیں خالو وہ زمانہ جاہلیت کا تھا جہاں بیٹیوں کو حقوق نہیں ملتے تھے

اور اگر کوئ اس دور میں ایسا کر رہا ہے تو یقیناً وہ بھی جاہل ہیں

آپ نے اپنی طرف سے اپنے حقوق پورے دیۓ ہیں سوائے اپنی بیٹی عمل کو

عمل کے لیۓ آپ نے کچھ نہیں کیا تھا آپ کے پاس عمل کو دینے کے لیۓ صرف ایک چیز تھی وہ تھی دعا جو آپ نے نہیں دی

ہر کوئ عزت عزت کر رہا ہے کوئ کہتا ہے فلانے نے میری عزت نہیں کی کوئ کہتا ہے میری بیٹی نے عزت خراب کردی کوئ کیا بول رہا کوئ کیا لیکن یہ لوگ نہیں جانتے عزت اور زلت دینے والا صرف اللہ تعالیٰ ہے احیان بولا

کیونکہ اسے بہت دکھ ہوا تھا حسن صاحب کی باتیں سن کر

فریدہ صاحبہ حسن صاحب خاموش ہوگئے تھے

کیونکہ ان کی ہر بات کا جواب احیان دے چکا تھا

عرش نے اپنی گاڑی گھر کے سامنے روکی

چلو اترو نیچے عرش بول کر خود بھی اتر گیا

لیکن جب عرش نے پیچھے اپنے دوستوں کو دیکھا تو ماتھے پر سلوٹے لائ کیونکہ وہ انکے کاموں کو اچھے سے جانتا تھا

چلو اپنے گھر کو کھسکو عرش اونچی آواز میں بولا

کیونکہ وہ تھوڑے دور کھڑے تھے

کیوں برو شمس بھی تیز آواز میں بولا اور ساتھ ہی آسمان کی طرف کلیشنکوف کو کیا اور فائرنگ اسٹارٹ کی

عرش کا سر آگے درد سے پھٹ رہا تھا اوپر سے فائرنگ کی آوازوں نے اسے آگ بگولہ کردیا

عمل گاڑی سے اترنے والی تھی جیسے فائرنگ کی آواز سنی تو ایکدم سے واپس دروازہ بند کردیا

عرش عمل کے پاس آیا پانچ منٹ سکون سے گاڑی میں بیٹھ جاؤ

اوکے عمل بولی عرش جانے لگا جب عمل نے پھر سے آواز دی

عرش بھائ

عرش ایکدم مڑا اور دانت پیستے ہوئے بولا کیا ہے

سوری عمل بھای بولنے پر بولی اور ساتھ ہی دوسری بات بھی کی وہ اپنا فون دیں

عرش کا فون اسکے ہاتھ میں ہی تھا اسلیۓ عمل کی طرف اچھالا

پاسورڈ عمل بولی

عنیقہ عرش بول کر چلا گیا

عنیقہ عمل نکل اتارتے ہوئے بولی

اور ساتھ ہی اپنے ڈرائیور کا نمبر ڈائل کرنے لگی

چلو یار اپنے گھر جاؤ میرے سر میں بہت درد ہے عرش اپنا سر خود ہی دباتے ہوئے بولا

یہ کلیشنکوف اتنی بھر بھر کر اس لیۓ نہیں لاۓ کے ہم اسے بھری ہوئی واپس لے جائیں ارسلان منہ بنا کر بولا (عرش کے دوستوں کو پتہ چل گیا تھا جس سے عرش نے نکاح کرنا تھا وہ لڑکی چلی گئ ہے لیکن پھر بھی سارے دوست اپنی بنائی ہوئی پلاننگ خراب نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو عرش کو اور بھی غصہ اتا سب پر)

کوئ رومال دے عرش شہزاد سے بولا جو ڈیشنگ پٹھان تھا اور اپنے پاس خوبصورت خوبصورت رومالے اکثر رکھتا تھا

شہزاد اپنی گاڑی کی طرف گیا اور وہاں سے ایک پیاری سی رومال نکالی اور عرش کی طرف اچھالی

عرش نے اس رومال کو پکڑا اور کس کر اپنے سر پر باندھی

پھر کلیشنکوف کو آسمان کی طرف کیا

پیچھے سے شمس نے اپنی گاڑی میں میوزک لگا دیا وہ بھی فل آواز میں

پھر عرش نے بنا ٹائیم ویسٹ کیۓ ایک ساتھ ہی پوری کی پوری میگزین خالی کردی

اور پیچھے ہی ارسلان شمس اور باقی دوستوں نے بھی مل کر بھی فائرنگ کرنے لگے

خالی ہوگئ بس عرش کلیشنکوف کو دیکھتے ہوئے بولا

ہاں جناب نظر آرہا ہے شہزاد ہنستے ہوئے بولا

عرش نے رومال اتاری اور شہزاد کی طرف

پھینک کر چلا گیا

گاڑی میں بیٹھی عمل نے عرش کی ویڈیو بنا لی تھی

چلو نکلو باہر عرش دروازا کھولتے ہوئے بولا

جی عمل باہر نکلتے ہوئے بولی

یہ ہمارا گھر ہے وہ بھی اتنا بڑا عنیقہ چہکتے ہوئے بولی

جی میری جان یہ تمہارا گھر ہے سامنا کھڑا آرت بولا جو آج کافی خوش اور خوبصورت لگ رہا تھا

آپ نے تو کہا تھا آپ کی فیملی بھی آجاۓ گی

کب تک آئیں گیں وہ لوگ عنیقہ بولی

ہاں یاد آیا وہ لوگ کچھ دنوں تک آئیں گیں کیونکہ کوئ مسئلہ بن گیا ہے

اچھا عنیقہ خفگی سے بولی کیونکہ وہ اتنے بڑے گھر میں اکیلے کیسے رہتی

یار ان سب باتوں کو چھوڑو مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے اسلیۓ میں باہر سے کچھ کھانے کو لے آتا ہوں تب تک تم میرے لیۓ اچھی سی دلہن بن جاؤ آخر کو ہماری شادی ہوئی ہے

آرت مسکراتے ہوئے بولا

آپ باہر سے کیوں لاۓ گیں کھانا باہر سے میں خود بناتی ہوں عنیقہ معصومیت سے بولی

پکا کھانا ہی کھلاؤ گی نہ آرت کنفرم کرتے ہوئے بولا کیونکہ وہ بہت نازک اور خوبصورت لگ رہی تھی اس کے چہرے ہاتھ سے لگتا ہی نہیں تھا کبھی اسنے کچن کی طرف رخ کیا ہو

جی بالکل وہ مسکراتے ہوئے بولی

چلو آجاؤ دیکھاتا ہوں کچن آرت عنیقہ کا ہاتھ پکڑ کر کچن میں لے گیا

اسلام علیکم میرب دلہن بنی بیٹھی ہوئی تھی عرش اور عمل کو دیکھ کر کھڑی ہوئ کہ میرے بھائ کا نکاح ہوا ہے اسلیۓ مبارکباد دوں

وعلیکم السلام عرش مسکراتے ہوئے بولا اور اس کا غصہ ایسے ختم ہوا تھا جیسے عرش کو کبھی غصہ آیا ہی نہ ہو میری گڑیا تو آج بہت پیاری لگ رہی ہے عرش میرب کے ماتھے کو چومتے ہوئے بولا

میرب مسکرانے لگی

بھائ بھابھی کہاں ہے میرب بولی

بیٹا برات آنے والی ہے مہناز صاحبہ میرب کو دیکھتے ہوئے بولی

عرش باہر چلا گیا تھا

میرب عرش کے نکاح میں شریک نہیں ہوئ تھی کیونکہ اسے پارلر جانا تھا اسکے علاوہ بھی سو کام تھے

آؤ عمل یہاں بیٹھو میرب عمل کو ساتھ بیٹھاتے ہوئے بولی

جی عمل میرب کے ساتھ بیٹھ گئ

یہ تم نے کیوں اتنی بڑی چادر اوڑھی ہوئی ہے میرب عمل سے بولی

میرا نکاح ہوگیا ہے آپ کے بھائ سے عمل منہ بنا کر بولی

وٹ میرب کا منہ پورا کا پورا کھول گیا تھا

جی عنیقہ پتہ نہیں کہاں چلی گئ تھی اسلیۓ عمل بولی

جب کہ میرب حیرانگی سے عمل کو دیکھ رہی تھی جس کو اس رشتے کے تقاضوں کا بھی نہیں پتہ تھا

میرب بالکل خاموش بیٹھ گئ تھی نہ عمل سے کوئ بات کر رہی تھی اور نہ ہی اسکے کسی سوال کا جواب دے رہی تھی

کیا بنا رہی ہو آرت کچن میں آتے ہوئے بولا

چکن بنا لیا ہے بس تھوڑی دیر میں پک جاۓ گا

سلیٹ بنا رہی ہوں وہ ابھی بول ہی رہی تھی جب آرت نے اسے پیچھے پکڑا اور اپنا چہرا اس کی گردن پر رکھا

یار تمہارا کام بہت لمبا ہو رہا ہے وہ ایسے انداز میں بول رہا تھا جیسے نشہ کیا ہو

آپ نے ڈرنک کی ہے عنیقہ گھبراتے ہوۓ بولی اور ساتھ ہی اس سے الگ ہوگئ

ہاں تھوڑی سی تم کیوں بھاگ رہی ہو آرت نے کھینچ کر واپس عنیقہ کو اپنے قریب کیا

اور اس کے بھکرے ہوئے بالوں کو سائیڈ پر کرنے لگا

آپ اس حالت میں میرے پاس نہیں آسکتے وہ روتے ہوئے بول کر باہر بھاگی

بات تو سنو آرت لڑکھڑاتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگا

میرب کی رخصتی کا شور اٹھ گیا تھا

اس لیۓ سارے لوگ جمع ہوگۓ تھے میرب کو لے کر باہر آئیں تو عرش نے میرب کے سر پر قرآن پاک کو پکڑا تھا

عرش میرب کے کندھے والے سائیڈ پر کھڑا تھا اور اسکے ساتھ آہستہ آہستہ چل رہا تھا میرب جب اپنی ماما کے گلے لگی تو وہ خودبخود رونا شروع ہوگئی تھی مہناز صاحبہ بھی رونے لگ گئ تھی کیونکہ اکلوتی چھوٹی بیٹی اس گھر سے جارہی تھی

ماما عرش مہناز صاحبہ کو سائیڈ پر کرتے ہوئے بولا

پھر ظفر صاحب سے بھی میرب ملی

اسکے بعد عرش نے میرب کو گاڑی میں بیٹھایا سبحان بھی بیٹھ گیا تھا

پھر ایک ایک کر کے ساری گاڑیاں روانہ ہو گئ

عرش بہت زیادہ تھک گیا تھا اور سر تو اسکا صبح سے ہی درد ہو رہا تھا

پھر عنیقہ سے تو وہ محبت کرتا تھا اسکا یوں بتاۓ بغیر چلے جانا

کسی اور کے لیۓ اسکو چھوڑ دینا یہ بات عرش کو کھاۓ جارہی تھی آخر کیوں ایسا کیا اس نے

اگر کسی اور کو پسند کرتی تھی تو میرے ساتھ ڈرامہ کیوں کیا

کتنی بار میں نے اسکے سامنے اپنی محبت کا اظہار کیا تھا اور وہ مسکراتی تھی

کیوں کیا اسنے میرے ساتھ

ایک لکیر آنسو کی عرش کے گال پر آئی جسے اسنے صاف کردیۓ تھے

عرش اکیلا بیٹھا ہوا تھا لون میں رات کی ٹھنڈک اسکے کُرتے کے آر پار ہورہی تھی

لیکن اسے کوئ فرق نہیں پڑ رہا تھا

عنیقہ میری محبت پاک تھی اسی لیۓ میں نے رشتہ بھیج کر نکاح کرنے کے لیۓ کہا تھا

لیکن شاید تمھیں میری محبت کا یقین نہیں تھا اسلیۓ تم نے میری جگہ کسی اور انتخاب کیا

عرش خود سے ہی بول رہا تھا کیونکہ وہ بیزار ہو گیا تھا تکلیف ہورہی تھی اسے

عرش ظفر صاحب نے آواز دی

جی بابا عرش کھڑے ہوتے ہوئے بولا

یہاں آؤ بیٹا ظفر صاحب بولے

جی عرش ظفر صاحب کے پاس گیا

بیٹا جو تمہارے نصیب میں نہیں ہے اسکے لیۓ کبھی افسوس نہیں کرنا بے شک وہ رب ہمیں ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرنے والا ہے

یہ جو بھی ہوا ہے نہ اس میں بہتری ہی ہوگی

جی بابا عرش نظریں نیچے جھکاتے ہوئے بولا

بیٹا اپنے کمرے میں جاؤ آرام کرو کل میرب کے سسرال ناشتہ بھی لے کر جانا ہے

اور عمل کے ساتھ کوئ مس بی ہیو مت کرنا ظفر صاحب سمجھا ہوۓ بولے

جی بابا عرش پھر سے بولا

شاباش جاؤ آرام کرو ظفر صاحب نے عرش کو اندر بھیج دیا

میرب کو ابھی ہی بیڈ پر بیٹھایا تھا اور ساتھ ہی سبحان اندر آگیا

ہاں جی جناب کیسی ہو سبحان گلہ کھنکار کر بولا

ٹھیک میرب نیچے دیکھتے ہوئے بولی

شرم آرہی ہے میرب سبحان حیرانگی سے بولا

میرب ہلکے سے مسکرانے لگی

یقین کرو تمہارا یہ روپ آج مجھے مار ہی ڈالے گا سبحان میرب کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولا

اور اس کی انگلی میں ایک خوبصورت سی رینگ پہنانے لگا

واہ یار آج تو میرا دل تم نےبہت خوش کردیا ہے سیدھے ہاتھ پر مہندی نہ لگا کر سبحان مسکراتے ہوئے بولا

ہاہاہا میرب ہنسنے لگی اور دوسرے ہاتھ کو سبحان کے منہ پر رگڑ دیا جس پر مہندی لگی ہوئی تھی

گندی گندی سبحان میرب کا ہاتھ پکڑ کر دیکھنے لگا جو مہندی سے بھری ہوئی تھی

میرب ابھی بھی ہنس رہی تھی

کوئ بات نہیں ایسے ہی آرجیسٹ کرلوں گا سبحان نے ایک ہاتھ میرب کا زور سے پکڑا پھر میرب کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا

اور جیولری کو اتارنے لگا

سبحان میں اتار لوں گی میرب ہاتھ چھوڑاتے ہوئے بولی

میری جان آج کے دن تو چپ کرو اس دن لڑکیاں بس شرماتی ہیں اور ایک تم ہو جو ابھی بھی بحس کر رہی ہو سبحان بولا

تمھیں کیسے پتہ آج کے دن لڑکیاں شرماتی ہیں میرب غصے سے بولی

کیونکہ میں نے پہلے بھی شادی کی تھی وہ کامیاب نہیں ہوئ اسلیۓ تمھیں پھنسا کر تم سے شادی کرلی سبحان ہنستے ہوئے بولا

سبحان میرب زور سے بولی

اوۓ آہستہ بولو باہر سارے بیٹھیں ہیں سبحان اسکے منہ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولا

میرب نے غصے سے ایک تھپڑ سبحان کے کندھے پر مارا

مزاق کر رہا ہوں میری پیاری بیوی میں نے مویز میں دیکھا ہے سبحان ہنستے ہوئے بولا تو میرب بھی ہنسنے لگ گئ

سبحان نے میرب کو لیٹایا اور اور خود اسکے اوپر جھکا

میرب نے اپنی آنکھیں بند کر دی تھی

سبحان نے میرب کی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیۓ میرب کانپنے لگ گئ تھی

میرب یار ایزی ہو جاؤ سبحان مسکراتے ہوئے بولا

یار سبحان ہٹو میرب روتا ہوا منہ بنا کر بولی

نہ میری جان سبحان نے اپنے ہونٹ میرب کے ہونٹوں پر رکھا پھر ہلکے سے نیچے والے ہونٹ پر بائیٹ کیا

سبحان میرب ہلنے لگ گئی تھی

سوری سوری سبحان نے آج میرب کو صیح کر کے تنگ کرنے کا سوچا ہوا تھا

سبحان یہ کیا ہے میرب اپنے ہونٹ پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولی

یہ ٹریلر ہے میری جان سبحان بولا

اور ساتھ ہی ہنسنے لگا

عمل بیڈ پر بیٹھی ہوئی تھی جب عرش روم میں آیا

تم کیوں ڈیکوریشن پیس بن کر بیٹھی ہوئی ہو یہاں عرش غصے سے بولا

مجھے کوئ شوک نہیں ہے بیٹھ کر آپ کا انتظار کرنے کا مجھے بھی سب نے کہا تھا ایسا بیٹھنے کو عمل غصے سے بول کر عرش کے پاس سے جانے لگی

عرش نے بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے اپنے سامنے کیا

اور ساتھ ہی عمل کے بالوں کو زور سے پکڑا

میرے سامنے زبان ترازی کرنے کی ضرورت نہیں ہے عرش عمل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا

میں نے کب زبان ترازی کی ہے عمل غصے سے بولی

آج کے بعد میں بولوں گا تم سنو گی سمجھیں کسی کے ساتھ فری نہیں ہوگی چاہے تمہارا احیان بھائ ہی کیوں نہ ہو عرش بولا

احیان بھائ میرے بھائ ہیں میرا اور ان کا رشتہ ایسا ہی رہے گا جیسے پہلے تھا عمل عرش سے بولی

عرش نے اب کی بار عمل کے بالوں کو اور بھی کس کر پکڑ لیا تھا عمل کیوں میرے ہاتھوں سے زایا ہونا چاہ رہی ہو عرش چیختے ہوئے بولا

میرے بال تو چھوڑیں عمل کے آنسو نکلنے لگ گۓ تھے کیونکہ عمل کو ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئ اسکے ایک ایک بال کو جڑ سے اکھاڑ رہا ہو

عرش نے زور سے اسے پیچھے دھکا مارا جس وجہ سے عمل نیچے گرتے گرتے بچی

تباہ کن ہے تمہاری بہن عرش افسوس سے بولا

میری بہن تباہ کن نہیں ہے عمل پھر سے بولی

عرش عمل کے قریب گیا اور اسکے بازو کو پکڑ کر پوری قوت سے اپنی انگلیاں عمل کے بازو میں پیس دی

“تباہ کن ہیں وہ لوگ”

“جو عشق کو قصور عشق بنا دیتے ہیں”

عرش کے یہ الفاظ عمل کو اندر تک توڑ چکے تھے

کیونکہ اسنے شروع سے یہ سنا تھا شوہر کو ہمیشہ اپنی بیوی سے محبت ہونی چاہیۓ کسی اور کا نام بیوی برداشت نہیں کرسکتی

عمل ہنستی تھی اور کہتی تھی کیوں نہیں کرسکتی میں کروں گی نہ

لیکن آج اسکا شوہر اسکے سامنے ہی اسکی بہن سے عشق کرتا ہے یہ اقرار عمل کو تکلیف دے رہا تھا

“بے شک” عرش عنیقہ سے محبت کرتا ہے لیکن نکاح میں اتنی طاقت ہوتی ہے وہ دو نفرت کرنے والوں میں بھی محبت ڈال دیتی ہے