238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 10

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

عرش میرج ہال پہنچا تو سارے گیسٹ آۓ ہوۓ تھے

میرب اور سبحان بھی سٹیج پر بیٹھے ہوئے تھے لیکن عمل نہیں تھی

عرش نے آگے پیچھے نظریں دوڑائیں کہ مہناز صاحبہ کہاں ہونگی

وہ ایک کونے میں کسی گیسٹ سے باتیں کر رہی تھی

عرش سیدھا مہناز صاحبہ کے پاس گیا

اسلام علیکم عرش نے سامنے کھڑی بڑی عمر کی خاتون اور آدمی کو سلام کیا

وعلیکم السلام کیسے ہو بیٹا بزرگ آدمی بولا

الحمداللہ عرش بولا اور ساتھ ہی مہناز صاحبہ سے مخاطب ہوا

ماما بات کرنی ہے عرش بولا

اچھا مہناز صاحبہ بولی

آپ لوگ انجوائے کریں میں آتی ہوں مہناز صاحبہ بولی

جی جی ساتھ ہی عورت بھی بولی

تو مہناز صاحبہ سائیڈ پر ہوگئ

بولا کیا ہوا عرش مہناز صاحبہ بولی

عمل کہاں ہے عرش بولا

وہ برائیڈل روم میں بیٹھی ہوئی ہے کیا وہ تمہارے ساتھ نہیں آئ مہناز صاحبہ بولی

نہیں میں لینے گیا تھا لیکن وہ احیان کے ساتھ چلی گئ تھی

عرش دیکھو شادی سے پہلے عمل احیان سے فری ہوتی تھی ہمیں کوئ مسئلہ نہیں تھا

لیکن اب وہ تمہاری بیوی ہے تمہارے نکاح میں ہے اسے سمجھاؤ کہ یہ حرکتیں بند کردے جو وہ احیان کے ساتھ کرتی ہے

جو بھی ہے بیٹا بےشک عمل احیان کو اپنا بھائ مانتی ہے لیکن لوگ نہیں مانتے لوگوں کی نظر میں احیان عمل کا صرف کزن ہے

اور کزنوں سے اتنا فری ہونا کوئ اچھی بات نہیں ہے مہناز صاحبہ عرش سے بولی

ماما میں نے سمجھایا تھا اسے لیکن یہ بہت ڈھیٹ ہے اسے زبان کی سمجھ نہیں آتی عرش غصے سے بولا

اس معاملے میں میں کچھ نہیں کرسکتی اگر زبان کی نہیں سمجھتی تو کوئ اور طریقہ اپناؤ مہناز صاحبہ بول کر چلی گئ

جبکہ عرش سیدھا برائیڈل روم میں گیا

امی آپ دیکھ رہی ہیں میرب کو کسطرح بے شرموں کی طرح ہنس رہی ہے سمبل میرب کو دیکھتے ہوئے بولی

چپ کر جاؤ سمبل مہمان بیٹھے ہوئے ہیں ممتاز صاحبہ آہستہ آواز میں بولی

امی آپ خود سٹیج پر جائیں اور اسکے منہ کو تالہ لگائیں اگر میں گئ تو آپ پھر مجھے باتیں سنائیں گی سمبل میرب کو خونخوار نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی

سمبل تم اپنے بچو کو دیکھو اسکو چھوڑ دو ممتاز صاحبہ بولی

میں بتا رہی ہوں امی ابھی سے پٹا ڈال کر رکھیں ورنہ سبحان کو لے کر سائیڈ پر ہوجاۓ گی میرب پھر ہاتھ ملتی رہ جائیں گی آپ سمبل بول کر سٹیج کی طرف چلی گئ

صیح کہ رہی ہے سمبل ممتاز صاحبہ سوچتے ہوۓ بولی

امی اس امبر کو اٹھائیں خود میں کوئ اسکی ماں یا یا نوکرانی نہیں ہوں جو اسے کھلاؤں پلاؤں سلاؤں سویرا نے غصے سے بول کر امبر کو ممتاز صاحبہ کے گود میں پھینکا

ارے سویرا آرام سے ممتاز صاحبہ امبر کو گود میں ٹھیک سے بیٹھاتے ہوۓ بولی

امی دیکھیں نہ سمبل کو مجھے کہتی ہے سٹیج پر نہ آؤ

کیوں نہ جاؤں میں سمبل روتا ہوا منہ بنا کر بولی

تمہاری منگنی ہوئ ہے سویرا تمہارے سسرال والوں نے منع کیا ہے

امی میں نہیں جاتی سمبل کہ پاس ابھی مجھ پر اتنے آرڈر چلاتی ہے بعد میں تو میرا بیڑا غرق کردی گی

(سویرا کی منگنی سمبل کے دیور فیضان سے ہوئ تھی )

تو کیا کرنا ہے تم نے ممتاز صاحبہ غصے سے بولی

کچھ نہیں سویرا غصے سے بول کر اٹھ گئ

کیونکہ وہ اس سے زیادہ نہیں بول سکتی تھی

عرش روم میں آیا تو عمل نے گولڈن کلر کا گاؤن پہنا اور چہرے پر لائٹ میکپ بالوں کو کرل کر کے آگے رکھے ہوۓ تھے

عرش آیا تو غصے میں تھا لیکن عمل کو دیکھ کر اس کا سارا غصہ اتر گیا تھا

اسے بھی کوئ کچھ کہ سکتا ہے بھلا عرش کے دماغ میں میسج سا آیا

لیکن عرش نے ایکدم سے اسے جھٹلایا

اور اسکے پاس گیا

میری بات تو تمھیں سمجھ نہیں آتی ہے نہ عرش عمل کے قریب ہوتے ہوئے بولا

کیوں کیا ہوا عمل پیچھے ہوتے ہوئے بولی

میں نے منع کیا تھا نہ احیان سے ملنا جلنا ختم کرو

عرش میں نہیں گئ تھی احیان بھائ کے ساتھ وہ خود مجھے لینے آگۓ تھے عمل چئیر پر گرتے ہوئے بولی

کیونکہ اسے کل کی رات یاد آگئی تھی جب عرش نے اسکے بالوں کو پکڑا تھا

عرش نے اپنا پاؤں چئیر کے نیچے والے ہینڈل پر رکھا اور اسکے اوپر جھکنے لگا

دھرم سے ڈھیر ساری لڑکیاں اندر آگئ لیکن عرش کو عمل کے قریب دیکھ کر ایکدم شرمندہ ہوگئ جبکے عرش ایکدم پیچھے ہٹا اور بنا روکے باہر نکل گیا

کیا بات ہے عمل لڑکیاں ہنستے ہوئے بولی

کیوں کیا ہوا عمل بولی

چلو بعد میں بتاؤں گی کیا ہوا ابھی باہر چلو سب ویٹ کر رہے ہیں

اچھا جی عمل بولی

سمبل مسکراتے ہوئے سٹیج پر آئ اور میرب کے منہ کے آگے کھڑی ہوئ اور اسکے بالوں کو سیٹ کرنے لگی

سب کو لگ رہا تھا نند بھابھی کے بالوں کو سیٹ کر رہی ہے لیکن ایسا بلکل نہیں تھا

میرب اتنا ہنسو نہیں اور نہ ہی اتنا بولو کیونکہ ہمارے خاندانوں کی دلہنیں ایسی اچھل کود نہیں کرتی جیسے تم کر رہی ہو سمبل آہستہ سے بولی اور سبحان کو بھی دیکھنے لگی

جبکے سبحان چپ ہوگیا تھا کیونکہ وہ نہ تو بہن کو خاموش کروا سکتا تھا اور نہ ہی بیوی کو کچھ بول سکتا تھا

سبحان پلیزز اگر میں صبح سے لحاظ کر رہی ہوں تو اسکا یہ مطلب نہیں ہے کہ میں ساری زندگی برداشت کروں گی پہلے بھی میں نے آپ کی بہن کو سمجھایا ہے اپنے کام سے کام رکھے اور ابھی بھی میں یہی کہ رہی ہوں کہ سمبل اپنے کام سے کام رکھے میرب بھی بنا لحاظ کیۓ بولی

میرب سمبل کا غصہ ساتویں آسمان پر چلا گیا تھا جب سبحان بولا

سمبل آپ میرب کے ہر کام سے دور رہا کریں اور ابھی چپ ہو جائیں سبحان بولا

مجھے چپ کروا رہے ہو سمبل چیختے ہوۓ بولی

سارے لوگ حیرانگی سے سمبل کو دیکھنے لگے

جبکے ممتاز صاحبہ مہناز اور عرش پریشان ہوگۓ تھے کہ اسے کیا ہوگیا ہے

سمبل تماشہ لگانے کی ضرورت نہیں ہے سبحان دانت پیستے ہوئے بولا اور ساتھ ہی کھڑا ہو گیا جبکہ میرب آرام سے بیٹھی ہوئی تھی

مبارک ہو میرے بھائ تمھیں نئ زندگی ہم سے غلطی ہوگئی تمہاری خوشیوں میں شریک ہوکر معاف کر دو ہمیں سمبل روتے ہوئے سٹیج سے نیچے اتری اور اپنی بیٹی کو ممتاز صاحبہ کی گود سے کھینچ کر عادل کا ہاتھ پکڑ کر ہال سے نکل گئ

سبحان بھی سمبل کے پیچھے جانے لگا تھا لیکن میرب نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا ت

مہمان ہیں یہاں میرے اسلیۓ بیٹھ جاؤ میرب مسکراتے ہوئے بولی

سبحان واپس بیٹھ گیا لیکن سارے لوگ حیرانگی سے انکو دیکھ رہے تھے کہ آخر ہوا کیا ہے انکے بیچ

عرش کے ساتھ عمل بھی کھڑی تھی وہ بھی کافی پریشان ہو گئ تھی

عرش کیا ہوا ہے آپی کے ساتھ عمل پریشانی سے بولی

اپنی بکواس بند رکھو عرش بولا

عمل چپ ہوگئ کیونکہ عرش کا یہ رویہ عمل کو ہی برداشت کرنا تھا

عمل کافی اداس ہوگئ تھی کیونکہ نہ ماما نہ بابا اور نہ ہی عنیقہ تھی

سب کے سب میرب کے پاس جارہے تھے

اور اگر کوئ عمل کے پاس آتا بھی تو عرش کہ دوست ہوتے

اور اس سے مل کر ان کو مبارکباد بعد دے کر چلے جاتے

عمل بیٹھی ہوئی تھی اور دعا کر رہی تھی جلدی سے ریسپشن ختم ہو وہ گھر جاۓ

اسلام علیکم

شانزہ ہاتھوں میں گلدستہ لیۓ آئ عرش کی (اسسٹنٹ)

وعلیکم السلام عرش مسکراتے ہوئے بولا

جبکہ عمل شانزہ کو دیکھ رہی تھی

آپ نے سلام کا جواب نہیں دیا شانزہ عمل کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی

وعلیکم السلام عمل مسکراتے ہوئے بولی

کیسی ہیں آپ شانزہ نے پھر سے سوال کیا

ٹھیک ہوں آپ کیسی ہیں عمل بولی

میں بھی ٹھیک

شادی مبارک ہو آپ کو شانزہ بولی

بابا عمل خوشی سے ایکدم کھڑے ہوتے ہوئے بولی اور شانزہ کو اگنور کرتے ہوئے بنا مہمانوں کو دیکھے اپنا گاؤن اٹھا کر حسن صاحب کے پاس گئ

عرش کو عمل کی یہ حرکت بلکل پسند نہیں آئ اسلیۓ وہ شانزہ سے بولا

آگئ تم مجھے امید نہیں تھی ویسے کہ آؤ گی عرش مسکراتے ہوئے بولا

آپ کے نکاح میں تو شامل نہیں ہوسکی لیکن ریسپشن میں شامل نہ ہوتی یہ تو غلط ہوتا نہ شانزہ مسکراتے ہوئے بولی

ہاہاہاہا رائیٹ عرش بولا

عمل جاتے ساتھ ہی حسن صاحب کے سینے سے لگ کر رونے لگی

بابا آپ آئیں ہیں مجھے یقین نہیں آرہا عمل روتے ہوئے بولی

مجھے معاف کر دو میری بچی میں نے تمھیں بہت ڈانٹا تھا حسن صاحب افسردگی سے بولے

بابا آپ کیوں معافی مانگ رہے ہیں میں جانتی تھی آپ غصے میں ہیں اسلیۓ ایسا بولا

عمل گلے لگ کر ہی بولی

کیونکہ وہ اپنے بابا کو محسوس کر رہی تھی

چلو میری طرف دیکھو حسن صاحب عمل کا چہرا اوپر کرتے ہوئے بولا

تو عمل انکی طرف دیکھنے لگی

بہت پیاری لگ رہی ہے میری بچی اب رونا نہیں حسن صاحب عمل کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولے

تو عمل نے اپنے آنسو صاف کیۓ اور حسن صاحب عمل کا ہاتھ پکڑ کر سٹیج کی طرف لے گۓ

آرت اٹھیں عنیقہ ٹرے میں چیزیں لاتے ہوئے بولی

ہمم آرت سوئی ہوئی آواز میں بولا

اٹھیں بھی ورنہ چاۓ ٹھندی ہوجاۓ گی

عنیقہ آرت کے اوپر سے کمبل ہٹاتے ہوئے بولی

یارررررر آرت غصے سے بولا

عنیقہ آرت کو اور اسکا رویہ دیکھنے لگی اور ایک ہی پل میں اسے اپنا فیصلہ غلط لگنے لگا

کیا ہوا عنیقہ آرت عنیقہ کی شکل دیکھتے ہوئے بولا جو کافی پریشان لگ رہی تھی

کچھ نہیں عنیقہ بولی

یار میں مزاق کر رہا تھا بتاؤ کیا لائ ہو آرت بیٹھتے ہوئے بولا اور اپنا رویہ بلکل ٹھیک کیا

آرت پلیز آئیندہ مجھ سے ایسے بات مت کرنا عنیقہ بولی

کیسے آرت حیرانگی سے بولا

مجھے کبھی ڈانٹنا نہیں اور نہ ہی غصے میں بات کرنا کیونکہ میں ان چیزوں کی عادی نہیں ہوں عنیقہ روتے ہوئے بولی

آرت ایکدم عنیقہ کے پاس گیا

اور اسکے ہاتھ سے ٹرے کے کر ٹیبل پر رکھا اور عنیقہ کو اپنے گلے سے لگا لیا

سوری میری جان آرت عنیقہ کی کمر کو سہلاتے ہوئے بولا

یار میری تو عادت ہے ایسے بات کرنے کی اور تم پاگل کو دیکھو کیسے مجھ سے ناراض ہو گئ ہو آرت ہنستے ہوئے بولا

اور ساتھ ہی اسے بیڈ پر بیٹھایا اور چاۓ کا کپ عنیقہ کو پکڑایا عنیقہ نے اپنے آنسوؤں کو صاف کیا اور کپ پکڑا

روؤ تو نہیں یار آرت عنیقہ کے آنسو صاف کرتے ہوئے بولا

عنیقہ مسکرانے لگی

ریسپشن ختم ہوگیا تھا مہمان بھی نکل گۓ تھے اپنے اپنے گھروں کو

مہناز صاحبہ لاؤنچ میں پریشان بیٹھی تھی جب عرش انکے پاس آیا

ماما یہ میرب کی نند نے کیا ڈرامہ لگایا تھا عرش بیٹھتے ہوئے بولا

پتہ نہیں کیا مسئلہ ہوگیا تھا انکے درمیان مجھے خود سمجھ نہیں آیا مہناز صاحبہ بولی

ماما میں اسلیۓ پریشان نہیں تھا کہ ان کا سٹیٹس مڈل ہے بلکہ میں اسلیۓ پریشان تھا کہ انکے بیچ میں میرب ارجسٹ نہیں کر پاۓ گی اور دیکھا آپ نے یہی ہوا ہے عرش بولا

پتہ نہیں بیٹا تمہاری اپنی بہن کی پسند تھی مہناز صاحبہ بولی

عرش خاموش تھا

ماما آپ چاۓ بنا کر میرے روم میں بھجوا دیں میرے سر میں بہت درد ہے عرش بولا

بھیجو اپنی بیگم کو نیچے میں اسے چاۓ بنانا سیکھا دیتی ہوں جس طرح کی تم پیتے ہو کیونکہ آج سے تمہارے سارے کام وہ کرے گی مہناز صاحبہ بولی

ماما اگر آپ نے چاۓ بنا کر دینی ہے تو بنا دیں ورنہ میں کسی فالتوں لوگوں کے ہاتھ کی چاۓ نہیں پیتا عرش بول کر کھڑا ہوا

عرش وہ تمہاری بیوی ہے اس پر تمہارا حق ہے سمجھ رہے ہو کہ نہیں مہناز صاحبہ بولی

عرش افسوس سے اپنی ماما کو دیکھنے لگا اور سیدھا روم میں چلا گیا

جبکہ مہناز صاحبہ کچن میں چلی گئ کیونکہ چاۓ انہوں نے ہی بنانی تھی اپنے لاڈلے کے لیۓ

عرش روم میں آیا تو عمل اپنے کپڑے نکال رہی تھی

اوۓ ادھر آؤ عرش اونچی آواز میں بولا

جی عمل کبرڈ کے پاس کھڑے ہوتے ہوئے بولی

یہاں آؤ عرش اپنے پاس آنے کا اشارا کرتے ہوئے بولا

اچھا عمل چلتے ہوئے عرش کے سامنے آئ

بولیں عمل بولی

تمہارا احیان بھائ تمھیں کیوں لینے آیا تھا اور اسے کس نے بتایا تھا کہ تم پارلر گئ ہو عرش ہاتھ باندھتے ہوئے بولا

وہ کیوں آئیں تھے اور انھیں پارلر کا کس نے بتایا تھا میں نہیں جانتی عمل بولی

اچھا تو تم نہیں جانتی عرش بولا

جی عمل بولی کیونکہ وہ سچ میں نہیں جانتی تھی

ٹھیک ہے جاؤ عرش عمل سے بولا

عمل دوڑتے ہوۓ واشروم میں گئ

کیونکہ وہ سمجھی تھی عرش پھر اسے کچھ نہ کچھ کہے گا

عمل کے جاتے ساتھ ہی عرش صوفے پر بیٹھ گیا

اسنے عمل کو اسلیۓ کچھ نہیں کہا تھا کیونکہ وہ اسکی شکل سے سمجھ گیا تھا یہ سچ بول رہی ہے

تمھیں کیا ضرورت تھی سمبل کو جواب دینے کی سبحان میرب کو دیکھتے ہوئے بولا جو ٹاول سے اپنا منہ پونچھ رہی تھی

مجھ سے کسی کی بکواس برداشت نہیں ہوتی اسلیۓ تمہاری بہن کو سمجھا دیا

میرب اب ٹاول رکھ کر ہاتھوں پر لوشن لگانے لگی

میرب وہ بکواس نہیں کر رہی تھی بلکہ وہ صیح تو کہ رہی تھی کہ اتنا مت ہنسو کیونکہ ہمارے خاندان میں اسے معیوب سمجھا جاتا ہے

سبحان بولا

سبحان اپنی بہن کی لینگویج دیکھی تھی تم نے مجھ پر آرڈر چلا رہی تھی وہ میرب مجھ لفظ پر زور دیتے ہوئے بولی

میرب ایسے کیسے چلے گا سبحان پیار سے بولا

کیا مطلب کیسے چلے گا ایسے ہی چلے گا جیسے ابھی چل رہا ہے میرب بولی

میرب اسکا مطلب یہ لڑائ جھگڑے روز چلیں گیں سبحان بولا

شاید ہوسکتا ہے لیکن اگر تم اپنی بہن کو سمجھاؤ تو ایسا نہیں ہوگا

میرب سمبل تم سے بڑی ہے میں اور تم کل انکے گھر جائیں گیں اور ان سے سوری کریں گیں سمجھی سبحان بولا

سوری وہ بھی میں کبھی بھی نہیں میرب ہنستے ہوئے بولی

اگر تم ان سے سوری نہیں کرو گی تو مجھ سے بھی بات کرنے کی ضرورت نہیں ہے سبحان غصے سے بول کر روم سے چلا گیا

نہ کرو میرب اونچی آواز میں بولی

تاکہ سبحان سنے

عنیقہ اور آرت آج شاپنگ کے لیۓ آۓ تھے کیونکہ عنیقہ کے پاس پہننے کو کوئ کپڑے نہیں تھے

اسلیۓ آرت اسے شاپنگ پر لایا تھا

یہ والا ڈریس لو آرت ایک ٹاپ اٹھا کر دیتے ہوئے بولا جو بہت ہی نامناسب تھا دیکھنے اور پہننے دونوں میں

میں نے ایسے ڈریس کبھی نہیں پہنے عنیقہ بولی

یار میں کون سا تمھیں پہنا کر باہر گھوماؤں گا

یہ تو جسٹ تم میرے لیۓ پہنو گی آرت مسکراتے ہوئے بولا

آپ کے لیۓ عنیقہ کپڑوں کو دیکھتے ہوئے بولی

بلکل اب خالی اسے نہیں دیکھو اور بھی چیزیں لینی ہیں آرت بولا

ہممم عنیقہ بولی

تمھیں اگر یہ کپڑے پسند نہیں تو ہم رکھ دیتے ہیں آرت ٹاپ رکھتے ہوئے بولا

نہیں نہیں اب آپ ہی تو میرے سب کچھ ہیں آپ کے لیۓ تو پہنے ہیں یہ کپڑے پہن لوں گی عنیقہ مسکراتے ہوئے بولی

مطلب ڈن آرت کپڑوں کو دیکھتے ہوئے بولا

ڈن عنیقہ ہنستے ہوئے بولی اور ساتھ ہی آگے چلی گئ اور کپڑے دیکھنے

ارے میرب تم آئ ہو مہناز صاحبہ اپنی صاحب زادی کو دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی

جی میرب بھی مسکراتے ہوئے بولی

ماشاءاللہ میری بچی کتنی پیاری لگ رہی ہے مہناز صاحبہ ڈائینگ ٹیبل سے کھڑے ہوتے ہوئے بولی اور میرب کو گلے سے لگایا

عرش اور عمل بھی کھڑے ہوگۓ تھے کیونکہ یہ سب ایک ساتھ ناشتہ کر رہے تھے

بھائ سے نہیں ملو گی عرش مسکراتے ہوئے میرب سے بولا

بھائ سے نہیں ملی تو کس سے ملوں گی میرب بولتے ساتھ ہی عرش کے گلے لگی

بھائ کی گڑیا عرش پیار سے بولا

اسلام علیکم میرب آپی عمل مسکراتے ہوئے خود آگے بڑھی کیونکہ میرب کا ارادہ عرش سے ملنے کے بعد بیٹھنے کا تھا

وعلیکم السلام بیٹھ جاؤ اپنا ناشتہ کرو میرب عمل سے بولی

عمل جو گلے ملنے کے لیۓ آگے ہوئ تھی وہ واپس اپنی جگہ پر بیٹھ گئ

آؤ میرب تم بھی بیٹھو ناشتہ کرو ہمارے ساتھ مہناز صاحبہ بولی

جی میرب بول کر چئیر پر بیٹھ گئ

ماما بابا کہاں ہیں میرب آگے پیچھے دیکھتے ہوئے بولی

ان کو کوئ کام تھا اسلیۓ صبح جلدی چلے گۓ تھے مہناز صاحبہ جوس کا سپ لیتے ہوئے بولی۔

اچھا

میرب کل تمہاری نند کو کیا ہو گیا تھا عرش بریڈ پر جیم لگاتے ہوئے بولا

تمہاری بھابھی بھاگ گئ ہے اسی بات کے طعنے مار رہی تھی

میرب بولی

عمل جو ناشتہ کررہی تھی میرب کی بات سن کر چمچ پلیٹ پر واپس رکھ دی

اس کا ہمارے گھر سے کیا لینا دینا ہے عرش بولا

بھائ اگر عنیقہ بھاگ گئ تھی تو آپ کو کیا ضرورت تھی عمل سے نکاح کرنے کی

اگر آپ نے نکاح نہ کیا ہوتا تو میں کہ دیتی کے ہمارا کوئ لینا دینا نہیں تھا ان سے

لیکن آپ نے اس سے نکاح کر کے میرے لیۓ اور پریشانیاں کھڑی کردی ہے

میرب عمل کو دیکھتے ہوئے بولی

گڑیا تمہارے لیۓ ہی میں نے اس سے نکاح کیا تھا عرش بولا

رہنے دیں بھائ پہلے دن ہی میرا اتنا بُرا اثر ہوا ہے ان پر میرب غصے سے بولی

تو کیا کرتا میں نکاح نہ کرتا تب بھی مسئلہ تھا اور کرتا تب بھی

عرش بولا

بھائ جو ہونا تھا وہ ہوگیا ہے لیکن پلیز عمل اب بچپنے سے باہر آجاؤ احیان کے ساتھ پھرنا ٹُرنا بند کرو

کل بھی تم اسکے ہاتھ میں ہاتھ دے کر ہال میں داخل ہوئی تھی جانتی ہو میرے سسرال والوں نے کتنی باتیں بنائ ہیں اس بات پر میرب جھوٹ بولی

جبکہ عمل تو حیرانگی سے میرب کو دیکھ رہی تھی جو صاف جھوٹ بول رہی تھی کہ احیان کہ ہاتھ میں ہاتھ دے کر میں کب آئ تھی

وہ تو کزنوں کے ساتھ اندر آئ تھی کیونکہ احیان ڈراپ کر کے باہر سے ہی چلا گیا تھا

آپی میں تو احیان بھائ کے ساتھ ہال میں داخل نہیں ہوئ تھی عمل بولی

عمل کا مقصد میرب کو جھوٹا دیکھانا نہیں تھا

تو تمہارا کہنے کا کیا مطلب ہے میں جھوٹ بول رہی ہوں میرب غصے سے بولی

نہیں آپی میں نے ایسا کب کہا ہے عمل پریشانی سے بولی

عرش یہ اپنی بہن کے نقش و قدم پر چل رہی ہے میں تمھیں پہلے بتا رہی ہوں

دیکھو زرا میرے منہ پر جھوٹ بول رہی ہے یہ

میرب ٹیبل سے جگ اٹھا کر نیچے پھینکتے ہوئے بولی

آپی آپ غصہ کیوں ہو رہی ہیں میں تو صرف بتا

عمل بول ہی رہی تھی جب عرش بولا

عمل اپنی بکواس بند کرو اور روم میں جاؤ عرش غصے سے بولا

عمل چپ کر کے روم میں چلی گئ تھی

جبکہ مہناز صاحبہ میرب کو چپ کروانے لگی جو رو رہی تھی