Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan NovelR50436

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan NovelR50436 Qasoor-e-Ishq Episode 23 (Last Episode)

238.4K
23

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Qasoor-e-Ishq Episode 23 (Last Episode)

Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan

ارسلان نے آتے ساتھ ہی صبا کو کھانا بنانے کا کہہ دیا تھا کیونکہ اسے بہت زیادا بھوک لگی تھی صبا بے چاری کو کچھ سمجھ بھی نہیں آرہی تھی کے وہ کیا کرے کیونکہ اسے مصالحے وغیرہ کچھ نہیں مل رہا تھا

ارسلان کے والدین کی وفات دو سال پہلے ہی ہوگئ تھی ایک بہن تھی جس کی شادی ہوگئی تھی ارسلان دوڑتا ہوا کچن میں آیا کھانا دے دو ارسلان ٹیبل پر زور زور سے ہاتھ مارتے ہوئے بولا

دوسری طرف صبا بے چاری پریشان اسکی شکل دیکھ رہی تھی یار صبا یہ نہ کہنا کہ کھانا تو تم نے بنایا ہی نہیں ارسلان پریشانی سے بولا

آپ نے مجھے کچھ دیا ہی نہیں بس اتنا کہ دیا کھانا بناؤ اور خود نکل گۓ صبا روتی ہوئی شکل بنا کر بولی

یار صبا میں بھوک سے مر رہا ہوں ارسلان بھی روتی ہوئی شکل بنا کر بول کر فریج کی طرف گیا اور وہاں سے فروٹس نکالنے لگا ارسلان کو شروع سے ہی بہت دبا کر بھوک لگتی تھی اسکا اندازہ ابھی صبا کو بھی ہوگیا تھا

لائیں میں کٹ کر دوں فروٹس کو

صبا آگے ہوتے ہوئے بولی

نہیں نہیں میری نئ نویلی دلہن میں ایسے ہی کھالوں گا ارسلان سیب کی بڑی بڑی بائیٹ لیتے ہوۓ بولا اور ساتھ ہی انگوروں کو بھی کھا رہا تھا صبا تو ارسلان کی خوراک اور پھر اسکا جسم دیکھ کر حیران ہوگئ تھی

ایسے کیا دیکھ رہی ہو ارسلان نے بولتے ساتھ ہی صبا کو اپنے قریب کھینچا

کچھ بھی تو نہیں صبا آگے پیچھے دیکھتے ہوئے بولی جھوٹی تم اپنے ہینڈسم شوہر کو دیکھ رہی ہو اور ساتھ ہی ساتھ اپنے اللہ کا شکر بھی ادا کررہی ہو ارسلان آنکھ مارتا ہوا بولا

شکر تو میں کررہی ہوں صبا بولی

یار مجھے ایسی ہی معصوم سی بیوی چاہیۓ تھی جو مجھے دیکھ کر شکر ادا کرے ارسلان نے بولتے ساتھ ہی صبا کو اپنے ہاتھ پر گرایا

میں گر جاؤں گی ارسلان

صبا ارسلان کو کالر سے پکڑتے ہوئے بولی

میری نئی نویلی دلہن تمھیں گرانے کے لیۓ نہیں پکڑا ارسلان خود بھی صبا پر جھکتے ہوئے بولا

ارسلان میں کہہ رہی ہوں ایسے دونوں بہت برا گرے گیں صبا ڈرتے ہوۓ بول رہی تھی کیونکہ ارسلان بھی اسکے اوپر جھک گیا تھا

اچھا چلو یہاں نہیں کرتا کچھ

روم میں جاتے ہیں ارسلان سیدھا ہوتے ہوئے بولا

جب کے صبا کی ٹانگیں کانپ رہی تھی ایک منٹ صبا دیوار پکڑتے ہوئے بولی ارسلان صبا کے قریب آیا اور کتنا صبر ارسلان منہ بنا کر بولتے ساتھ ہی اپنا انگھوٹھا اسکے ہونٹوں پر پھیرنے لگا صبا نے ایکدم ارسلان کے انگھوٹھے پر ہلکا سا بائیٹ کیا

اوئئ ارسلان ایکدم پیچھے ہٹا تم تو معصوم نہیں ہو ارسلان حیرانگی سے بولا تو صبا قہقہ لگاتے ہوئے ہنسنے لگی تم پر تو میں رحم کھا رہا تھا کے معصوم بچی ہے لیکن میں غلط تھا ارسلان نے بولتے ساتھ ہی صبا کو کھینچ کر اپنے قریب کیا اور بنا اسکو وقت دیۓ اسکے ہونٹوں پر جھک گیا

رویام کمرے میں آیا تو عنیقہ سر جھکائے بیٹھی ہوئی تھی

عنیقہ رویام نے آواز دی عنیقہ کے کانوں میں جیسے یہ آواز گئ اسنے ایکدم رویام کی طرف دیکھا

تم عنیقہ ڈرتے ہوئے بول کر ایکدم بیڈ سے اتری

ہاں میں رویام شرمندگی سے بولا

دیکھو مجھے چھوڑ دو اب تو میں نے وہ جگہ بھی چھوڑ دی ہے اور میرا نکاح بھی ہوگیا ہے عنیقہ روتے ہوئے بول رہی تھی عنیقہ میری بات سنو رویام عنیقہ کے پاس آتے ہوئے بولا لیکن عنیقہ ایکدم چیخنے لگی کیونکہ بےشک وہ اس جگہ سے نکل گئ تھی لیکن سب کا خوف ابھی بھی اسکے دل میں تھا

عنیقہ بات تو سنو یار رویام بولتے ہوئے آگے ہوا لیکن عنیقہ دوڑتے ہوۓ دروازے کے پاس بھاگنے

یار کیا چیز ہو تم رویام نے بولتے ساتھ ہی عنیقہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے کرسی پر زبردستی بیٹھایا اور خود بھی کرسی گھسیٹ کر اسکے قریب بیٹھا عنیقہ بس زور قطار سے رو رہی تھی رویام نے عنیقہ کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا عنیقہ نے ایکدم سے اسکا ہاتھ جھٹک دیا

میرا گھر مت تباہ کرو وہ ابھی آجائیں گیں عنیقہ روتے ہوئے بولی کیونکہ وہ سمجھ رہی تھی کہ اسکا کوئ اور شوہر ہے فرسٹ آف آل میں تمہارا شوہر ہوں میں نے تم سے نکاح کیا ہے رویام بولا

عنیقہ حیرانگی سے اسکی طرف دیکھ رہی تھی اور پھر عرش کے بارے میں سوچ رہی تھی کے اس نے اسکا نکاح کس سے کروایا ہے عنیقہ مجھ سے بہت بڑا گناہ ہوا ہے تم یقین کرو مجھے بہت افسوس ہوتا ہے کے کیوں میں غلط کاموں میں آیا لیکن تم دیکھو اللہ نے مجھے موقع دیا ہے اپنی غلطی درست کرنے کا اسی لیۓ میرا نکاح تم سے کروایا رویام بولتے ہوئے عنیقہ کے جلے ہوۓ ہاتھ پر بھی دھیان رکھ رہا تھا کے کہی یہ نہ زخمی ہوجاۓ

عنیقہ بلکل خاموش ہو گئی تھی کیونکہ اس کی زندگی واپس اسی موڑ پر آگئ تھی وہ ان سب لوگوں سے دور ہونا چاہتی تھی لیکن آج پھر انہی کے سامنے آگئ آج اسے اندازا ہوا تھا ہمارا رب کیا سے کیا کرسکتا ہے

عنیقہ ہم اپنی نئی زندگی کا آغاز کرسکتے ہیں پرانہ سب کچھ بھولا کر رویام بہت یقین سے بول رہا تھا

جب یہ مجھے اتنے عیبوں کے ساتھ تسلیم کرسکتا ہے تو میں کیوں نہیں اسکی ایک غلطی معاف کرسکتی عنیقہ دل میں بولی

عنیقہ میں اللہ پاک سے بھی وعدہ کرلیا ہے آئیندہ غلط جگہ پر نہیں جاؤں گا تم سے بھی وعدہ کرتا ہوں رویام نے بولتے ساتھ ہی عنیقہ کا جلے ہوۓ ہاتھ پر ہاتھ رکھ دیا

آہ ہ ہ عنیقہ ایکدم چیخی

اوپس سوری رویام ایکدم کھڑا ہوا اور بھاگ کر ٹیوب لایا پھر ڈھیر ساری عنیقہ کے جلے ہوۓ ہاتھ پر لگانے لگا

اچھا ہوا آتے آتے ٹیوب لاکر نیک کام کردیا رویام ٹیوب لگاتے ہوئے خود سے ہی بولا عنیقہ رویام کی طرف دیکھ رہی تھی جلن تو نہیں ہورہی رویام اب عنیقہ کو دیکھتے ہوئے بولا عنیقہ کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تھے اور نہ میں گردن ہلانے لگی۔

مجھے معاف کر دو پلیزززز رویام اپنی آنکھیں چھوٹی کر کے ریکوسٹ کرتے ہوئے بولا تو عنیقہ مسکرانے لگی

مجھے معاف کردیا رویام خوشی سے چیختے ہوۓ بولا

جی عنیقہ بولی

رویام نے ایکدم سے عنیقہ کے ماتھے پر محبت بھرے انداز میں ایک کس کی

رویام کے اسطرح کرنے پر عنیقہ نے زور سے اپنی آنکھیں بند کردی جو رویام دیکھ چکا تھا وہ ہنسنے لگ گیا

دو سال بعد💫💫

ان دو سالوں میں عرش نے عمل سے کئی بار رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن عمل نے ہر بار ہی رابطہ رد کر دیا

عرش ہم سب کا بندوبست کرلیا ہم لوگوں کو ماں باپ بھی بنا دیا اب اپنا کیا خیال ہے رویام عرش سے بولا جو اسکی تین ماہ کی بیٹی آیت کے ساتھ کھیل رہا تھا

یار میں خود مر رہا ہوں اس کے پیچھے لیکن اسے کوئ خیال نہیں ہے میرا عرش دکھ بھرے لہجے میں بولا کیونکہ اب اس کی برداشت بھی ختم ہوگئی تھی اور امید بھی وہ عمل کو زبردستی اسلیۓ نہیں لا رہا تھا کیونکہ اسنے آج سے دو سال پہلے حسن صاحب سے کہا تھا وہ ان تھرڈ کلاس مردوں میں سے نہیں ہے جو عورتوں کو دباتے ہیں ان کے ساتھ زبردستی کرتے ہیں

عنیقہ فیڈر ہلاتے ہوئے باہر آئ تاکہ آیت کو پلا دے کیونکہ دو گھنٹے سے اس نے فیڈر نہیں پیا تھا عرش چلو ادھر مجھے دو آیت میں اسے فیڈر دوں عنیقہ بولی اتنے آرڈر کیوں دیتی ہو عرش عنیقہ سے بولا اور ساتھ ہی آیت بھی پکڑائی

اسلام علیکم حسن صاحب اور فریدہ صاحبہ کمرے میں آتے ہوئے بولے وعلیکم السلام عنیقہ نے آیت کو بیڈ پر پھینکا اور خود دوڑ کر حسن صاحب کے گلے سے لگ گئ

عرش نے عنیقہ کو شادی کے چھ ماہ بعد حسن صاحب سے ملوایا کیونکہ اسکی چوٹیں زخم سب ٹھیک ہوگۓ تھے اور عرش نے عنیقہ اور رویام کو بھی سمجھا دیا تھا کے اسکے ماضی کی کوئ بات کسی سے بھی نہ کرے

اسلیۓ عنیقہ کے ماضی کے بارے میں گھر والوں کو بلکل نہیں پتہ تھا جس دن عنیقہ گھر والوں سے ملی تھی تو رورو کر حسن صاحب سے معافی مانگی پھر حسن صاحب کیسے اپنی بیٹی کو معاف نہ کرتے

عنیقہ تم بہت بدتمیز ہو میری بیٹی کو کیسے بیڈ پر پٹخ کرچلی گئ رویام آیت کو گود میں اٹھاتا ہوا بولا

تو میرے بابا آئیں ہیں میں نہ ملوں ان سے عنیقہ رویام کو دیکھتے ہوئے بولی آئیندہ میں تمھیں نہیں دوں گا اپنی بیٹی رویام اپنی چھوٹی سی بیٹی کو گود میں اٹھا کر بولا جو شکل میں بلکل اپنی ماما پر گئ تھی

نہ دیں میں بھی اپنے بابا کے گھر چلی جاؤں گی عنیقہ ہنستے ہوئے بولی یہاں پر رویام کی بریک لگ گئ کیونکہ وہ عنیقہ کے بغیر بیٹھ نہیں سکتا تھا آیت مجھے دو کچھ دیر تک میں اسے لے آؤں گا عرش آیت رویام سے لیتے ہوئے بولا ان دو سالوں میں عرش نے حسن صاحب سے کئی دفعہ بات کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ بات ہی نہیں کرتے تھے اسلیۓ عرش نے بھی بات کرنا چھوڑ دیا تھا عرش آیت کو لے کر نکلنے لگا جب حسن صاحب نے اسے آواز دی عرش ہم سب مل کر عمل کو لینے جائیں گیں حسن صاحب عرش سے بولے جو پیٹھ کیۓ کھڑا تھا جہاں اتنا صبر کیا ہے وہاں تھوڑا اور کرلوں گا عمل کے راضی ہونے کا عرش بنا پیچھے دیکھے بولا

عرش تمہارا بیٹا ہے وہ بھی چھے ماہ کا حسن صاحب عرش کے سر پر بمب پھوڑتے ہوئے بولے

کیا عرش ایکدم مڑ کر حیرانگی سے بولا

جی آپ کا بیٹا ہے وہ بھی پندرہ ماہ کا اسلیۓ ناراضگی تم دونوں میاں بیوی ختم کرو کیونکہ اب تم لوگ ماہ باپ بن گۓ ہو عمل تو چھوٹی ہے اسکی ضد ہم مانتے رہے اور تم ہو کے اس سے بات ہی نہیں کررہے حسن صاحب بولے

عرش کو بیٹے کا سن کر جھٹکا تو لگا تھا لیکن دنیا میں آۓ ہوۓ اسے پندرہ ماہ بھی ہوگۓ یہ اس کے لیۓ دوسرا زبردست ترین جھٹکا تھا

بتاؤ کیا ارادہ ہے پھر حسن صاحب بولے

مامو جان ارادے تو بہت ہیں عرش نے بولتے ساتھ ہی آیت واپس رویام کو دی اور خود فون نکال کر باہر نکل گیا

بابا ہم بھی چلیں عمل کو لینے وہ میڈم مجھے بھی دیکھ لے گی عنیقہ حسن صاحب سے بولی

ہاں بیٹا چلو تیاری کرو اپنی اور آیت کی ہم کل تک نکل جائیں گیں حسن صاحب مسکرا کر بولے

جی بابا عنیقہ نے فٹافٹ سے پیکنگ کرنا شروع کر دی یہ تک بھی گوارہ نہیں کیا کے اپنے شوہر سے پوچھ لے

حسن چلیں ہمیں بھی پیکنگ کرنی ہے فریدہ صاحبہ بولی کیونکہ انکی بیٹی نے انھیں لفٹ ہی نہیں دی تھی جب سے وہ آئی تھی

ارے ماما جانی آپ ناراض ہو گئ عنیقہ ہنستے ہوئے بول کر اپنی ماما سے لپٹ گئی

نہیں میں ناراض کیوں ہونگی فریدہ صاحبہ بولی

پتہ ہے ماما جی آپ کو جلن ہوتی ہے بابا سے عنیقہ ہنستے ہوئے بولی

تو فریدہ صاحبہ ہنسنے لگی اچھا بیٹا ہم جاتے ہیں آپ لوگ اپنی پیکنگ کرو اسکے بعد شام کو گھر ہی آجانا حسن صاحب بولے

اوکے بابا عنیقہ بولی

تو حسن اور مہناز صاحبہ نکل گۓ

عنیقہ تم کیوں جارہی ہو عمل کو لینے رویام عنیقہ کے پیچھے پیچھے گھومتے ہوئے بولا

کیا مطلب ہے آپ کا اپنی بہن کو لینے نہ جاؤں پورے دو سال بعد پاکستان آرہی ہے وہ عنیقہ بولتے ہوئے ڈریسنگ کی طرف گئ وہاں سے آیت کے لوشن وغیرہ سمیٹنے لگی جبکے رویام اسکے پیچھے پیچھے چل رہا تھا

یار ادھر میری بات سنو رویام عنیقہ کو اپنے قریب کرتا ہوا بولا

شرم کریں وہ آپ کی بیٹی ہمیں دیکھ رہی ہے عنیقہ رویام کے بالوں کو خراب کرتے ہوئے بولی

کوئ بات نہیں رویام اپنی بیٹی کی طرف دیکھتا ہوا بولا

یار نہ جاؤ نہ جس کی بیوی ہے وہ خود لے آۓ گا نہ رویام منہ بنا کر بولا

سوری جب سے آپ کے ساتھ شادی ہوئ ہے کہیں نہیں گئ آج تو لازمی جاؤں گی عنیقہ رویام کو پیچھے کرتے ہوئے بولی

اچھا پھر پورے ایک دن کے لیۓ جانا اگلے دن واپس آجانا رویام پورے ایک دن کو لمبا چوڑا کر کے بولا

جی بلکل عنیقہ جھوٹ بولی کیونکہ اسکا ارادہ پورا ایک ہفتہ رہنے کا تھا

پھر نکالو سارے کپڑے رویام بیگ خالی کرتا ہوا بولا رویام کپڑے رہنے دیں اس میں عنیقہ کپڑے پکڑتے ہوئے بولی

اپنے دو جوڑے لے جاؤ اور آیت کے تین اتنے بہت ہیں ایک دن کے لیۓ

رویام آپ بہت چالاک ہیں عنیقہ منہ بنا کر بولی

ہاہاہاہاہاہا رویام ہنسنے لگا

پرنس یہ کیا کررہے ہو تم عمل اپنے پندرہ ماہ کے بچے سے باتیں کرتے ہوئے بولی جو صرف اپنی چھوٹی سی ماما کو دیکھ کر ہاں ہوں کا جواب دے رہا تھا

پرنس اب اگر تم نے سیریلیک نہ کھایا تو میں تھپڑ ماروں گی عمل غصے سے بولی

ایسے کیسے تم مارو گی اسے تھپڑ میں تمہارا کباڑا کر دوں گی اگر تم نے پرنس کو ہاتھ بھی لگایا تو روباب دوڑ کر کمرے میں آتے ہوئے بولی

روباب دیکھو اسے جب میں کچھ نہ دوں کھانے کو تو منہ کھول کھول کر روتا ہے اور جب دوں تو کھاتا ہی نہیں ہے عمل رونے والے انداز سے بولی

تو میری جان بچے ایسے ہی تنگ کرتے ہیں کوئ تمہارے ساتھ لڑیں گیں تو نہیں نہ روباب سمجھاتے ہوئے بولی

اسے میں اسکے بابا کے پاس بھیج دوں گی وہ بھی جلدی عمل بیٹے کو دیکھتے ہوئے بولی

ہاں پتہ ہے بیچارہ جب سے آیا ہے تم یہی بولتی ہو روباب ہنستے ہوئے بول کر پرنس کے ساتھ کھیلنے لگی

عمل پرنس کے کپڑے چینج کرو اسے باہر لے کر جانا ہے روباب عمل سے بولی

اچھا عمل کھڑی ہوئی اور پرنس کو اپنی گود میں اٹھایا ہاۓ اللہ روباب آپی یہ تو دن با دن موٹا ہوا جارہا ہے عمل پرنس کو دیکھتے ہوئے بولی

کیوں روباب عمل کو دیکھتے ہوئے بولی

اسکا وزن اتنا زیادا ہوگیا ہے مجھ سے اٹھایا نہیں جارہا

عمل پرنس کی موٹی موٹی اور گلابی گالوں کو کھینچتے ہوئے بولی

یہ موٹا نہیں بلکے تم کمزور ہورہی ہو روباب عمل کو سناتے ہوئے بولی

اچھا عمل اپنے بیٹے کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولی سامنے والےکی نظر میں یہ ماں بیٹا نہیں بلکے عمل اور پرنس بہن بھائ لگتے تھے

روباب باہر کوئی آیا ہے عمل نے روباب سے بولا

اچھا میں دیکھتی ہوں تم جاؤ اسے چینج کرواؤ روباب بول کر باہر نکلی

موٹے پہلے تمہارے کپڑے نکالوں گی پھر جاۓ گیں واشروم نائ نائ کرنے عمل پرنس کو بیڈ پر لیٹا کر خود اسکے کپڑے نکالتے ہوئے باتیں کرنے لگی کیونکہ عمل کا لاڈلہ اسکے بغیر دو منٹ بھی نہیں بیٹھتا تھا

اسلام علیکم روباب عرش کو دیکھتے ہوئے بولی

وعلیکم السلام عرش بولا

اندر آئیں بھائ روباب بولی کیونکہ اس نے ہی عرش کو سارا ایڈریس دیا تھا

اتنی کیا موت پڑ گئ تھی جو اتنا نہیں ہوا کے ہمیں بتادو کے عمل کا بیٹا ہوا ہے عنیقہ اندر آتے ہوئے غصے سے روباب کو بولی

عنیقہ تممممم روباب حیرانگی سے بولی

جی باقی سب بھی آرہے ہیں میں عرش کے ساتھ تھی اسلیۓ جلدی آگئ عنیقہ اندر آتے ہوئے بولی اور آیت عرش کے ہی گود میں تھی

بیٹھیں آپ لوگ روباب بولی عمل کدھر ہے عرش بولا بیٹھنے کی زحمت ہی نہیں کی

ہاں جاؤ میرے بھائ کو اسکی بیوی دیکھاؤ عنیقہ روباب کو دیکھتے ہوئے بولی

اوکے جی روباب نے عرش کو عمل کا کمرا دیکھایا عرش اندر جیسے گیا تو عمل بیڈ پر بیٹھی اپنے پرنس کو پیمپر پہنا رہی تھی جو ٹانگیں مار مار کر پیمپر ہی نہیں پہن رہا تھا عرش کھڑا اسے ہی دیکھ رہا تھا اور اسکا دل کررہا تھا زور سے وہ عمل کو ہگ کرے کیونکہ دو سال بعد اپنی بیوی کو دیکھ رہا تھا

پرنس میں نے مارنا ہے تمھیں عمل پرنس سے ایسے باتیں کررہی تھی جیسے وہ سب کچھ سمجھ رہا ہو

حد سے زیادہ بدتمیز ہو تم پرنس عمل نے بولتے ساتھ ہی ہاتھ اٹھایا تاکہ وہ ڈر جاۓ عرش چھلانگ مارتے ہوۓ پاس آیا اور اپنے بیٹے کو پکڑ لیا

میرے بیٹے کو تم مار کیسے سکتی ہو عرش عمل کو دیکھتے ہوئے بولا جو پہلے کی نسبت اور بھی کمزور ہوئ تھی عمل تو آنکھیں پھاڑے اپنے سامنے عرش کو دیکھ رہی تھی جو پہلے کی نسبت تھوڑا کم ڈیشنگ ہوا تھا کیونکہ ان دو سالوں میں اس نے اپنی کئیر بلکل چھوڑ دی تھی ۔

عمل کو سمجھ نہیں آرہی تھی وہ کیا کرے پھر اچانک بنا کچھ کہے وہ باہر نکلنے لگی جب عرش نے اسکا ہاتھ پکڑ لیا پرنس تو عرش کی گود میں آیا دو منٹ تک خاموش رہا پھر اچانک منہ کھول کر رونے لگ گیا پرنس کے رونے سے عرش نے ایکدم عمل کو کھینچ کر بیڈ پر بیٹھایا اور اسکی گود میں پرنس کو ڈالا پرنس ابھی بھی لگاتار روئ جارہا تھا چپ کرواؤ اسے عرش عمل سے بولا

آپ جائیں میں نے فیڈ کروانا ہے اسے عمل پرنس کو دیکھتے ہوئے بولی

ہاں عرش ایکدم حیران ہوتے ہوئے بولا جب عمل کی گھوری سے ایکدم سیریس ہوا سوری عرش نے بول کر دوسری طرف منہ کر دیا اب کرواؤ میرے بیٹے کو فیڈ عرش بولا

عمل پرنس کو فیڈ کروانے کے بعد بیڈ پر لیٹانے لگی

مڑ جاؤں عرش عمل سے بولا

جی عمل بول کر کھڑی ہوئ عرش مڑا تو اسکا گولو مولو بیٹا سورہا تھا

آپ بیٹھے اپنے بیٹے کے پاس عمل بول کر جانے لگی جب عرش نے اسکا ہاتھ پکڑا

اور خود اسکے گھنٹوں کے بل بیٹھ کر اسکے ہاتھوں کو پکڑا عمل اب یہ ناراضگی ختم کر دو عرش منت بھرے لہجے میں بولا عمل کو بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا عرش اسکے پاؤں کے پاس بیٹھا تھا کیونکہ ہمارے اللہ کا فرمان ہے شوہر مجازی خدا ہے اسی لیۓ تو وہ یہی کوشش کررہی تھی کے کسی کو یہ نہ پتہ چلے کہ عرش نے عمل کو مارا ہے

عرش اٹھ جائیں عمل عرش کو اٹھاتے ہوئے بولی پھر عرش کھڑا ہوا یار عمل سوری عرش اب عمل کا چہرا اپنی طرف اوپر کرتے ہوئے بولا تو عمل اسکے سینے سے لگ گر رونے لگ گئ

آپ آۓ کیوں نہیں مجھے لینے آپ کو مجھ سے محبت ہے ہی نہیں آپ ابھی بھی اپنے اس موٹے کے لیۓ آئیں ہیں عمل روتے ہوئے بولی جارہی تھی جبکے عرش عمل کی باتوں پر مسکرا رہا تھا میرے بیٹے کو موٹا نہیں کہو وہ تو بس تھوڑا سا ہیلدھی پے عرش پرنس کو دیکھتے ہوئے پیار سے بولا جو آرام سے سورہا تھا

اور رہی بات تمہاری تو یہ مجھے پتہ ہے کہ میں کیسے رہ رہا تھا تمہارے بغیر عرش عمل سے بولا جو اسکے سینے سے لپٹی ہوئی تھی

ہاں لیکن تم بہت خوش رہی ہو میرے بغیر ہر چیز سے بے خبر کے وہاں پر شوہر ٹھیک ہے بھی یا نہیں عرش اب عمل کو ٹونڈ مارتے ہوئے بولا

“کون کہتا ہے تیری یاد سے بے خبر ہوں میں

میری آنکھوں سے پوچھ میری رات کیسے گزرتی ہے “

عمل نے ہلکی آواز میں عرش کو شعر سنایا

ارے واہ میری محترمہ کو شعر و شاعری بھی آگئ ہیں عرش ہنستے ہوئے بولا تو عمل بھی مسکرانے لگی

اچھا بتاؤ نہ میرے بیٹے کا کیا نام رکھا ہے عرش اب عمل کو پرنس کے پاس لے جاتے ہوئے بولا

میں نے ابھی تک اسکا نام نہیں رکھا عمل پھر پرنس کی گالیں کھینچتے ہوئے بولی

میں کیا کہوں تمھیں عمل لائک سیریسلی عرش حیرانگی سے بولا کیونکہ بچہ آیا دنیا میں پندرہ ماہ ہوگۓ اور یہاں اسکا نام ہی نہیں رکھا ہاں تو میں نے بھی اسلیۓ نہیں رکھا تھا کیونکہ مل کر سوچ کر اتفاق سے رکھنا تھا ایک ہی تو بیٹا ہے ہمارا عمل منہ بنا کر بولی

یعنی کے تم میرا انتظار کررہی تھی عرش پھر سے مسکراتے ہوئے بولا

جی جی عمل پرنس کے موٹے موٹے ہاتھوں سے کھیلتے ہوئے بولی اچھا پھر پندرہ ماہ تک تم نے اسے کس نام سے پکارا عرش بولا

میں اسے پرنس کہہ کر بلاتی ہوں کیونکہ یہ ماما کا پرنس ہے شہزادہ ہے جانو ہے عمل پرنس کو اٹھاتے ہوئے بولی کیونکہ وہ جاگ چکا تھا اور اپنی ماما کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا

یار مجھے بہت برا لگ رہا ہے عرش بولا

کیوں عمل سمجھ رہی تھی بیٹے کا نام نہیں رکھا اسلیۓ عرش کو برا لگ رہا ہے

تم تو سارا پیار اسے ہی دے رہی ہو تو میں کیا کروں گا عرش منہ بنا کر بولا

اوو اچھا آپ کو برا نہیں بلکے جلن ہورہی ہے اور دیکھیۓ گا عرش یہ جلن روز ہوگی عمل ہنستے ہوئے بولی

ایسے کیسے جلن ہوگی تم اسے پیار کرنا میں تمھیں کروں گا عرش نے بولتے ساتھ ہی عمل کی گال کھینچے اور ساتھ ہی اس پر کس بھی کی

سچی میں مجھے جلن نہیں ہوگی تم ایسے ہی پیار کرتی رہو اپنے بیٹے کو عرش بولا اور ساتھ ہی اپنی ہنسی کو بھی کنٹرول کرنے لگا کیونکہ عمل اپنے بیٹے سے بھی زیادا لال ہوگئ تھی ہاں تو چلو اب نام کی ڈسکشن کرتے ہیں عرش عمل سے بولا

جی عمل بس اتنا بول کر پرنس کی طرف دیکھنے لگی آصف نام کیسا ہے عرش عمل کو دیکھتے ہوئے بولا

عرش یہ نام نہیں کوئ اچھا سا نام جو میرے پرنس پر سوٹ بھی کرے ۔

اوکے عرش سوچنے لگا یار آہل نام کیسا ہے اس نیم کا مینگ ہے شہنشاہ پلس حکمران عرش خوشی سے ضضض1بولا

آہل عمل نے پرنس کو اس نام سے پکارا تو وہ عمل کی طرف دیکھ ہی نہیں رہا تھا

پرنس عمل نے اب ہنستے ہوئے نام لیا تو اسنے جھٹ سے عمل کی طرف دیکھا

ہاہاہاہاہاہا عمل ہنسنے لگی اسکی حرکت پر

عمل باہر تمہارے لیۓ ایک سرپرائز ہے جاؤ جاکر دیکھو عرش مسکراتے ہوئے بول کر آہل کو اپنی گود میں اٹھانے لگا

لیکن جیسے آہل کو گود میں اٹھایا وہ منہ کھول کر رونے لگ گیا

عرش کا منہ بن گیا کے اسکا بیٹا اسے ہی نہیں جانتا

کوئ بات نہیں آپ کا آہل آپ کے ساتھ عادی ہوجاۓ گا عمل عرش کو تسلی دیتے ہوئے بولی اور ساتھ ہی آہل کو بھی اپنے ساتھ باہر لے گئ

عمل جیسے باہر آئ تو سب بیٹھیں ہوۓ تھے

ماما عمل نے سب سے پہلے فریدہ صاحبہ کو پکارا جو اپنی بیٹی کو دیکھ کر کھڑی ہوگئی عمل بھاگ کر انکے پاس گئ اور ان سے ملنے لگی عمل کو دیکھ کر سارے کھڑے ہو گئے فریدہ صاحبہ سے ملنے کے بعد عمل حسن صاحب سے ملی پھر مہناز صاحبہ نے عمل کو آواز دی

بیٹا اپنی مامی سے نہیں ملو گی مہناز صاحبہ دکھی انداز میں بولی

کیوں نہیں ملوں گی عمل ہنستے ہوئے بول کر مہناز صاحبہ کے پاس آئ اور ان سے بھی گلے ملی

آپ لوگوں نے اس موٹے کو پہچانا عمل ہنستے ہوئے بولی اور ساتھ ہی مہناز صاحبہ کے پاس بیٹھی

جی بلکل یہ ہماری عمل کا موٹا بیٹا ہے مہناز صاحبہ ہنستے ہوئے بول کر آہل کو اٹھانے لگی

عمل عنیقہ نے پیچھے سے آواز دی عمل نے جیسے یہ آواز سنی ایکدم کھڑی ہوئ اور ساتھ ہی چیختے ہوئے اسکے پاس گئ

عنیقہ میں بے ہوش ہو جاؤں گی تمھیں دیکھ کر عمل ہنستے ہوئے بول رہی تھی کیونکہ آج کا دن اسکا بیسٹ دن تھا لیکن عنیقہ نے آکر اس دن کو بیسٹ سے ہٹا کر ٹریپل بیسٹ کردیا تھا

عمل کے لیۓ آج سب ٹھیک ہو گیا تھا پہلے تو وہ اپنی زندگی سے بیزار ہوگئ تھی

سب بیٹھ کر باتیں کرنے لگے جب روباب آئ اور سب سے کہا کہ کھانا لگ گیا ہے

عمل تم جاکر عرش کو بھی بلا لو کھانے کے لیۓ روباب بولی

جی عمل مزے سے عرش کے پیچھے گئ

عرش چلیں باہر آئیں کھانا کھالیں عمل عرش کو ہلاتے ہوئے بولی جو لیٹا ہوا تھا کیونکہ آج کل عرش کی مصروفیات میں بہت اضافہ ہوا ہوا تھا

عرش اٹھ ہی نہیں رہا تھا جب عمل نے عرش کی گالوں کو کھینچا کیونکہ عرش نے بھی اسکی گالیں کھینچی تھی

عرش نے عمل کا ہاتھ پکڑ کر زور سے بیڈ پر پھینکا اور خود اسکے قریب ہوا

ایسے کیوں کیا تم نے عرش عمل کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولا

بدلہ لیا ہے اپنا عمل معصومیت سے بولی

چلو پھر کس بھی کرو کیونکہ میں نے کس بھی کی تھی نہ عرش بولتے ساتھ ہی آگے ہوا لیکن اس وہ اپنی گالوں کو نہیں بلکے ہونٹوں کو آگے کررہا تھا

عرش کوئ اندر آجاۓ گا عمل دروازے کو دیکھتے ہوئے بولی جو تھوڑا سا کھلا تھا

آنے دو اور ویسے بھی ہسبنڈ وائف کے روم میں کوئ ایسے منہ اٹھا کر نہیں آتا عرش عمل کے اور بھی قریب ہوتے ہوئے بولا

عرش چھوڑ دیں نہ عمل منت سے بولی

یار نہیں آج نہیں چھوڑوں گا دیکھو تم خود ٹائیم ویسٹ کررہی ہو عرش عمل سے بولا

گھر جاکر اپنا بدلہ پورا لے لوں گی پکا عمل عرش کو پیچھے کرنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی

نہ بابا نہ یہی پر اپنا بدلہ پورا کرو عرش عمل سے ضد کرتا ہوا بولا

آپ بلکل اچھے نہیں ہیں عمل منہ بنا کر بولی

کوئ بات نہیں عرش ہنستے ہوئے بولا اچھا پھر آنکھیں بھی بند کریں اور سائڈ پر بھی ہوں عمل عرش کو سائیڈ ہونے کا بولتے ہوئے بولی

ہاں میری جان تاکہ تم آرام سے بھاگ جاؤ عرش عمل کی چالاکیاں سمجھتے ہوئے بولا

نہیں بھاگوں گی پکا وعدہ عمل وعدہ کرتے ہوئے بولی

اچھا جی عرش پھر پیچھے ہٹا آنکھیں بھی بند کیں عمل پھر سے بولی تو

عرش نے اپنی آنکھیں بھی بند کردی عمل نے عرش کی گال پر ہلکے سے ہونٹوں کو رکھ کر ایکدم دروازے کی طرف بھاگی

عمل یہ تم نے چیٹنگ کی ہے عرش منہ بنا کر بولا

جی نہیں میں نے اپنا بدلہ پورا کردیا ہے عمل مسکراتے ہوئے بول کر باہر نکل گئ

سب پاکستان واپس آگۓ تھے اب عمل عرش اور مہنازصاحبہ گھر پہنچے تو ظفر صاحب اور میرب لاؤنچ میں بیٹھے انہی کا ویٹ کر رہے تھے عمل اندر آئ تو انہی کو دیکھنے لگی میرب مسکراتے ہوئے عمل کے پاس آئ اور اس سے ملی عمل بھی خوش ہوتے ہوۓ اس سے ملی ظفر صاحب عمل کے پاس آۓ اور اسکے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے بولے بیٹا غلطیاں بڑوں سے بھی ہوتی ہیں ابھی وہ بول ہی رہے تھے جب عمل بولی ہر پرانی باتوں کو بھول جائیں اور اس موٹے کو دیکھیں عمل ہنستے ہوئے بیٹے کو آگے کرتے ہوئے بولی تو عرش سمیت سارے ہنسنے لگے

عمل اپنے کمرے میں بیٹھی کچھ سوچ رہی تھی جب عرش آہل کو لے کر روم میں آیا

کیا سوچ رہی ہو میری محبوبہ جو ہوش ہی نہیں ہے کے روم میں کوئی آیا ہے عرش عمل کو سوچ میں گم ہوا دیکھ کر بولا

عرش آپ نے آہل کو یہ ساری چیزیں کیوں لے کردی عمل عرش کے ہاتھوں میں ڈھیر ساری چیزیں دیکھتے ہوۓ بولی میری جان میں جانتا ہوں یہ سب کچھ آہل نہیں کھا سکتا یہ سب کچھ تمہارے لیۓ لایا ہوں عرش ہنستے ہوئے بولا تو عمل بھی ہنسنے لگی

عرش بیڈ پر بیٹھ کر آہل سے باتیں کرنے لگا جب عمل بولی عرش میرب آپی اب ویسی نہیں ہیں جیسے پہلے ہوتی تھی عمل خفگی سے بولی کیا مطلب عرش بولا

مطلب یہ کے پہلے میرب آپی بہت خوش رہتی تھی اور اب اگر مسکراتی بھی ہیں تو ہمارے لیۓ ہی مسکراتی ہیں عمل دکھ سے بولی

میں بھی اس بات پر بہت پریشان ہوں دو سال ہوگۓ ہیں لیکن وہ ابھی تک سبحان کو نہیں بھولی جب کے سبحان اب باپ بھی بن گیا ہے عرش دکھی انداز میں بولا

عرش ایک بات کہوں عمل بولی کیونکہ وہ ڈر رہی تھی کے عرش کو برا نہ لگ جاۓ

بولو عرش عمل کے قریب بیٹھتے ہوئے بولا

اگر ہم احیان بھائ کے ساتھ میرب آپی کی شادی کروا دیں وہ بہت اچھے ہیں وہ ہمیشہ میرب آپی کو خوش رکھیں گیں عمل فٹا فٹ بات پوری کرتے ہوئے بولی

عرش سوچنے لگا

بتائیں نہ آپ عمل عرش کو ہلاتے ہوئے بولی

یار اگر تمہارے احیان بھائ راضی ہے تو میرب کو میں کر لوں گا عرش عمل سے بولا

ارے احیان بھائ تو راضی ہی راضی ہیں عمل نے بولتے ساتھ ہی فون اٹھایا اور کال کی

کافی دیر تک وہ فون پر لگی باتیں کرتی رہی پھر دوبارہ کسی کے نمبر پر کال کی پھر ادھر بھی گپے لگاتی رہی عرش اپنے بیٹے کے ساتھ لیٹا ہوا تھا انتظار کر کر کے تھک گیا تھا کے وہ ابھی بس کرے گی فون پر ابھی کرے گی لیکن عمل بس ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی ۔عرش اور آہل انتظار کرتے کرتے سو گۓ تھے

تقریباً گھنٹے بعد عمل نے فون بند کیا تو عرش اور آہل کو سوتا دیکھ کر مسکرانے لگی

تین ماہ بعد:

عرش جب سے تمہارا یہ پرنس آیا ہے نہ تم نے میری آیت کو پیار کرنا چھوڑ دیا ہے عنیقہ منہ بنا کر بولی جبکے عمل بیٹھی آیت کو پیار کررہی تھی

میرب دلہن بنی اسٹیج پر بیٹھی اور ساتھ ہی احیان بھی دلہا بن کر بیٹھا ہوا تھا

ہال میں سب پہنچ چکے تھے سواۓ ارسلان اور شمس کے جس کا انتظار سب کررہے تھے

عنیقہ تم خفا کیوں ہوتی ہو یہ میرے پرنس کی پرنسس ہے عرش آیت کو اپنے پاس لیتا ہوا بولا اور اوپر کی طرف اچھالنے لگا

عرش میری بیٹی گر جاۓ گی عنیقہ ڈر کے مارے ایکدم کھڑی ہوگئ بیٹھ جاؤ عنیقہ جب عرش میرے موٹے بیٹے کو نہیں گرنے دیتا تو تمہاری اس سمارٹ سی بیٹی کو کہاں گراۓ گا عمل عنیقہ سے ہنستے ہوۓ بولی

تو عنیقہ واپس بیٹھی

اسلام علیکم حریم سیدھا عنیقہ کے پاس آتے ہوۓ بولی

وعلیکم السلام عنیقہ اور عمل ایک ساتھ کھڑی ہوئ اور حریم سے ملی

عنیقہ یہ کون ہے عمل بولی کیونکہ اسے عنیقہ کے ماضی کا کچھ پتا نہیں تھا

یہ میری بیسٹ فرینڈ ہے عنیقہ حریم کو دیکھتے ہوئے بولی

اچھا عمل حریم کو دیکھ کر مسکرانے لگی

جب کے عرش اور شمس آہل آیت کو لے کر سائیڈ پر ہوگۓ تھے

حریم کی ابھی تک کوئ اولاد نہیں ہوئ تھی لیکن کچھ ہی دن رہ گۓ تھے انھیں ماما بابا بننے کے لیۓ

صبا تم اندر جاؤ میں آتا ہوں ارسلان گاڑی میں بیٹھا ہوا تھا اور صبا کو بھیج رہا تھا نہیں آپ بھی اندر آئیں میں اکیلی نہیں جاتی صبا ضد کرتے ہوۓ بولی

ارسلان گاڑی سے اترنے لگا کیونکہ وہ جانتا تھا اُسکے بغیر صبا نہیں جاۓ گی

پکڑے مریم کو بھی صبا ارسلان سے بولی

دو دو مجھے میری مریم ارسلان کی ایک سال کی بیٹی تھی جو ماما بابا کے ہوتے ہوۓ ایک قدم بھی زمین پر نہیں رکھتی تھی

اور مریم کا نام بھی صبا کی پسند پر ہی رکھا گیا تھا

عمل آہل کو لے لو عرش عمل کو اپنے پاس بلاتا ہوا بولا ۔

عمل اپنا بھاری لہنگا اٹھا کر عرش کے پاس آئی۔

عرش ایک تو آپ کے کہنے پر میں خود دلہن بن گئ ہوں اوپر سے آپ مجھے کہ رہے ہیں آپ کے اس موٹے کو بھی اٹھاؤں عمل منہ بنا کر بولی

تو میری جان تم سے کہ کون رہا ہے کے میرے پرنس کو اٹھاؤ میں خود ہی اسے اٹھاؤں گا تم بس روم میں آجاؤ عرش چہکتے ہوئے بولا جبکے عمل عرش کو بہت سخت قِسم کا گھورنے لگی

اور عرش مسکرانے لگا

مہناز صاحبہ اپنی فیملی کو دوبارہبآباد دیکھ کر اللہ کا شکر ادا کرنے لگی اور ساتھ ہی میرب کی آنے والی زندگی کے لیۓ دعائیں بھی کرنے لگی