Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan NovelR50436 Qasoor-e-Ishq Episode 3
Rate this Novel
Qasoor-e-Ishq Episode 3
Qasoor-e-Ishq by Bint-e-Shah Jahan
عرش نے گاڑی گھر کے کار پوریچ میں کھڑی کی اور بغیر گاڑی کا دروازا بند کیۓ گھر میں داخل ہوا
سیدھا میرب کے روم میں گیا
میرب عرش دروازا کھولتا ہوا بولا
میرب فون پر بات کر رہی تھی عرش کو دیکھ کر فون کو رکھ دیا
کس سے بات کر رہی تھی عرش میرب کو دیکھتے ہوئے بولا
فرینڈ تھی آپ اتنی جلدی آگۓ میرب بولی
ہاں چلو تمہاری بھابھی کے گھر جانا ہے
عرش مسکراتے ہوئے بولا
بھابھی میرب پریشانی اور خوشی کے ملے جلے تاثرات سے بولی
جی چلو میڈم عرش بول کر باہر نکل گیا
عرش کے جاتے ہی میرب نے لمبا سانس لیا
یہ ہمارا گھر ہے وہ بھی اتنا بڑا لڑکی چہکتے ہوئے بولی
جی میری جان یہ تمہارا گھر ہے سامنا کھڑا لڑکا بولا جو کافی خوبصورت خوبرو نوجوان تھا
آپ نے تو کہا تھا آپ کی فیملی بھی ساتھ ہوگی وہ کہاں ہے
وہ ابھی یہاں نہیں ہیں کچھ دن تک سب آجاۓ گیں یار ان سب باتوں کو چھوڑو مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے اسلیۓ میں باہر سے کچھ کھانے کو لے آتا ہوں تب تک تم میرے لیۓ اچھی سی دلہن بن جاؤ آخر کو ہماری شادی ہوئی ہے
وہ مسکراتے ہوئے بولا
آپ باہر سے کیوں لاۓ گیں کھانا باہر سے میں خود بناتی ہوں لڑکی معصومیت سے بولی
پکا کھانا ہی کھلاؤ گی نہ لڑکا کنفرم کرتے ہوئے بولا کیونکہ وہ بہت نازک اور خوبصورت لگ رہی تھی اس کے چہرے ہاتھ سے لگتا ہی نہیں تھا کبھی اسنے کچن کی طرف رخ کیا ہو
جی بالکل وہ مسکراتے ہوئے بولی
چلو آجاؤ دیکھاتا ہوں کچن وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر کچن میں لے گیا
عمل میں بول کر آ گئ ہوں
کے ماما بابا کی مرضی ہوگی اس لیۓ تمہارے بولنے سے کچھ نہیں بدلے گا عنیقہ غصے سے بول کر کھڑی ہوگئی
عنیقہ میری بہن ناراض نہیں ہو میں تو جسٹ تمھیں بتا رہی ہوں اگر تمہیں کوئ پروبلم نہیں ہے تو مجھے بھی نہیں ہے میں تو چاہتی ہوں میری بہن خوش رہے عمل مسکراتے ہوئے بولی
سچی عنیقہ ہنستے ہوئے بول کر عمل کو اپنے گلے سے لگایا
اسلام علیکم میرب اور عرش بلند آواز میں سب کو سلام کرتے ہوئے بولے
وعلیکم السلام آگۓ حسن صاحب مسکراتے ہوئے بولے
جی مامو جان میرب مسکرا کر بولی اور اگلا سوال بھی کر ڈالا
مامو کدھر ہے عنیقہ اور عمل
بیٹا وہ اپنے روم میں ہے حسن صاحب بولیں
کیونکہ مہناز بیگم اور فریدہ بیگم کچن میں رات کے کھانے کا بندوبست کر رہی تھی جبکے ظفر صاحب اپنے بچو کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے
او آگئ عنیقہ اور عمل
میرب ایکدم تیز آواز میں بولی
ہاہاہا اچھا حسن صاحب اور ظفر ہنستے ہوئے بولے
میرب آپی عمل دوڑ کر میرب سے گلے ملی
میرب ہنسنے لگی اور اس سے ملی
کیسی ہو آپ عمل عرش آپ پر زور دیتے ہوئے بولا کیونکہ عمل نے اسے بتایا تھا کہ وہ عزت انہی کو بخشتی ہے جو اسے بھی بخشے
میں ٹھیک آپ کیسے ہیں عرش بھائ عمل بھی آپ اور عرش بھائ پر زور دیتے ہوئے بولی ظاہر کر رہی تھی کے میں بھی کچھ بول رہی ہوں
الحمدللہ عرش بولا
آؤ عنیقہ ادھر بیٹھو میرب اپنے لیفٹ سائیڈ والی جگہ چھوڑتے ہوئے بولی
جبکے رائیٹ سائیڈ پر عرش بیٹھا ہوا تھا
آئیں ظفر صاحب ہم روم میں جاۓ کیونکہ یہاں بیٹھ بیٹھ کر تھک گۓ ہیں حسن ظفر سے بولے
جی جی صیح بولا ہے ظفر صاحب بولیں
اور ساتھ ہی وہ دونوں اندر چلے گۓ
عنیقہ پیپر کیسے ہو رہے ہیں میرب پوری کی پوری عنیقہ کی طرف مڑی اور پیٹ اسکی عرش کی طرف تھی
میرے پیپرز اچھے ہوئے ہیں بس تین رہ گۓ ہیں عنیقہ بولی
جبکے عمل ان تینوں کی شکل دیکھ رہی تھی
کیا بنا رہی ہو لڑکا کچن میں آتے ہوئے بولا
چکن بنا لیا ہے بس تھوڑی دیر میں پک جاۓ گا
سلیٹ بنا رہی ہوں وہ ابھی بول ہی رہی تھی جب لڑکے نے اسے پیچھے پکڑا اور اپنا چہرا اس کی گردن پر رکھا
یار تمہارا کام بہت لمبا ہو رہا ہے وہ ایسے انداز میں بول رہا تھا جیسے نشہ کیا ہو
آپ نے ڈرنک کی ہے لڑکی گھبراتے ہوۓ بولی اور ساتھ ہی اس سے الگ ہوگئ
ہاں تھوڑی سی تم کیوں بھاگ رہی ہو اس نے کھینچ کر واپس لڑکی کو اپنے قریب کیا
اور اس کے بھکرے ہوئے بالوں کو سائیڈ پر کرنے لگا
آپ اس حالت میں میرے پاس نہیں آسکتے وہ روتے ہوئے بول کر باہر بھاگی
بات تو سنو لڑکا لڑکھڑاتے ہوئے اس کے پیچھے بھاگا
ارے واہ واہ عمل تیز آواز میں بولی
تو عرش میرب اور عنیقہ اس کی طرف دیکھنے لگے
کیا ہوا عنیقہ بولی
تم لگی رہو میرب کے ساتھ اور یہ جناب فون پر اور میں ماصوم شکل دیکھوں آپ سب کی عمل غصے سے بولی تو عرش اور میرب ہنسنے لگ گۓ
عمل خاندان میں سب کزنوں سے چھوٹی تھی اس وجہ سے اسے لاڈ پیار بھی بہت ملا ہے
یہی پیار لاڈ کے نتیجے سے وہ اپنے نخرے بھی سب سے اٹھواتی
عمل یار ناراض تو نہ ہو یہ دیکھو میں نے فون بھی رکھ دیا ہے عرش فون اپنے سائیڈ پر رکھتے ہوۓ بولا
عمل کچن میں آؤ فریدہ صاحبہ نے عمل کو کچن میں آنے کا کہ دیا
نہیں نہیں بھائ لگے رہے آپ سب سب میں جارہی ہوں اپنی ماما کی ہیلپ کروانے عمل بول کر کچن میں چلی گئی
بھائ ایسکریم کھانے جائیں میرب بولی
اوکے چلتے ہیں عرش بولا
میں جاکر عمل کو بھی بلا لیتی ہوں میرب بول کر کچن میں چلی گئی
عنیقہ اور عرش اب اکیلے تھے عنیقہ بھی اٹھنے لگی جب عرش نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ پر رکھ دیا
چھوڑیں میرا ہاتھ میرب اور عمل آجاۓ گیں عنیقہ پریشانی سے بولی
نہیں آتی ماۓ ڈئیر فیوچر وایف عرش ہنستے ہوئے بولا اور ساتھ ہی عنیقہ کے ساتھ جڑ کر بیٹھ گیا
عنیقہ کی گال اور کان ایکدم بہت گرم ہوگۓ تھے اور ہاتھ بالکل ٹھنڈے یخ ہوگۓ تھے عنیقہ کول ہو جاؤ کچھ بھی نہیں کر رہا عرش عنیقہ کی حالت دیکھتے ہوئے بولا
جو دیکھنے والی ہوئ تھی
نہیں عنیقہ بولی
کیا نہیں عرش مسکراتے ہوئے بولا
کیونکہ عنیقہ بہت زیادہ بوکھلا گئے تھی
عرش نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر اپنی پوکٹ سے ایک رینگ نکالی
پھر عنیقہ کی فنگر میں پہنانے لگا
یہ کیوں پہنائی آپ نے عنیقہ اپنی فنگر میں رینگ دیکھتے ہوئے بولی
اس لیۓ کیونکہ تم نے مجھے ایکسیپٹ کیا
عنیقہ مسکرانے لگی
مجھے بھی کوئ گفٹ دے دو عرش مانگتے ہوئے بولا کیونکہ ایسے تو عنیقہ نے دینا نہیں تھا
میرے پاس تو کچھ بھی نہیں ہے عنیقہ بولی
اوکے عرش منہ بنا کر بولا
عنیقہ کو عرش کا یوں ناراض ہونا بالکل پسند نہیں آیا اس لیۓ ایکدم بول پڑی
آپ نہ میری یہ چھوٹی رینگ اپنی چین میں ڈال لیں بہت پیاری لگے گی چین عنیقہ آئیڈیا دیتے ہوئے بولی
واؤ عنیقہ بڑی عقل مند ہو عرش مسکرا کر بولا
یہ لیں عنیقہ رینگ دیتے ہوئے بولی
میں نے رینگ تمھیں خود پہنائی اس لیۓ تم بھی یہ رینگ میری چین میں خود ڈالو عرش مسکرا کر بولا
اور اپنی چین آگے کی اور خود بھی تھوڑا آگے ہوا
عنیقہ تھوڑی سی پیچھے کو کھسکی
یہ لو چین عرش بولا
ہاۓ میری پھوٹی قسمت ویسے ہی بولا عنیقہ دل میں بولی اور عرش کی چین کھولنے لگی جو کھولنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی
ایسے نہیں کھولے گی آگے ہو جاؤ عرش ہنستے ہوئے بولا
عنیقہ آگے ہوئ اور اسکے گلے کی چین کھولنے لگی
کافی دیر بعد اس کا لوک کھولا عنیقہ نے فٹافٹ اپنی چھوٹی سی رینگ اسکی چین میں ڈالی اور بند کرنے لگی
چین کا لوک بند کرنے کی باری آئی تو اسنے ڈرامے شروع کردیۓ
کیسی چین پہنی ہے آپ نے کھولنے کا وقت آیا تو کھول نہیں رہی تھی بند کرنے کی باری آئی تو بند نہیں ہورہی
عنیقہ غصے سے بولی
اب مہنگی چین بنوائی ہے اس کا لوک ایسا تو نہیں بن واؤ گا جو اگلے ہی دن کھول کر گر جاۓ عرش بولا
عنیقہ نے اپنا سر عرش کے سینے کے پاس کیا اور دانتوں سے لوک کو بند کرنے لگی
یہ کیا ہو رہا ہے عمل کچن سے نکل کر باہر آئ تو سین ہی کچھ اور تھا
عنیقہ ایسی چھلانگ لگا کر کھڑی ہوئ جیسے کسی مجرم کو پولیس والے پکڑنے آتے ہیں
کچھ نہیں میری چین نہیں بند ہورہی تھی مجھ سے تو عنیقہ نے ہیلپ کردی عرش مسکرا کر بولا
اچھا اچھا عمل ایسے منہ بنا کر بولی جیسے واقعی ہیلپ ہو رہی تھی
میں کہنے آئ تھی ماما کہ رہی ہیں کھانا بن گیا ہے سو آپ لوگ کھانا کھالیں ایسکریم کھانے کے لیۓ نہیں جاسکتے
اچھا عنیقہ بول کر فٹافٹ نکل گئ تا کے پھر نہ پھنس جاۓ عرش کے ساتھ
عنیقہ یار اب یہ نہ کہنا میں نے پڑھنا ہے عمل لیٹتے ہوئے بولی
عرش کی فیملی رات کا ڈنر اور نکاح کے بارے میں ڈسکشن کر کے چلے گۓ تھے
تو پڑھنا ہی ہے میری بہن کل پیپر ہے میرا چھٹی بھی کوئ نہیں آئ عنیقہ خفگی سے بولی
عنیقہ رات کے پونے بارہ ہوگۓ ہیں عمل بولی کیونکہ عنیقہ نے لائٹ لگانی تھے
ہاں تو میں کونسا کسی اور کے گھر میں بیٹھی ہوئی ہوں جو لائٹ لگاؤں گی تو وہ ڈسٹرب ہوجاۓ گیں
میں تو اپنے بابا جانی کے گھر ہوں عنیقہ فخر سے بولی
او اچھا ویسے جلدی جانے والی ہو پرایوں کے گھر عمل ہنستے ہوئے بولی
اچھا اب چپ ہو جاؤ مجھے پڑھنے دو عنیقہ عمل کو چپ کرواتے ہوئے بولی
اچھا ٹھیک ہے نہیں کرتی بات جاؤ عمل نے غصے سے بول کر کمبل منہ پر ڈال دیا
ہاہاہا عمل جانو اب ناراض ہو گئ ہے کیونکہ جناب کو چپ کروا کر اسکی شان میں گستاخی ہوگئ ہے اب دو تین دن تک کوئ بات نہیں کرے گی مجھ سے عنیقہ عمل کی عادتوں کا بتاتے ہوئے ہنسنے لگی اور ساتھ ہی اس پر سے کمبل ہٹا کر خود بھی اندر گھسی پھر عمل کے ساتھ چپک گئ
سوری عنیقہ مناتے ہوئے بولی
اب جاؤ پڑھو نہیں کرتی ڈسٹرب آپ کو عمل آپ کرتے ہوئے بولی
اللہ اتنی عزت عنیقہ ہنستے ہوئے بولی
جی عمل بولی
چل میری بہن مجھے راث نہیں ہے یہ عزت
پتہ تھا مجھے عمل بھی ہنستے ہوئے بولی
چلو ہٹو اب تم راضی ہو گئی ہو اب میں نے پڑھنا ہے عنیقہ کمبل سے باہر نکل کر بولی
کیونکہ عنیقہ شروع سے ہی پڑھائی کے ساتھ کوئ کمپرومائز نہیں کرتی تھی
پڑھو اللہ کامیاب کرے پیپر میں بھی اور عرش بھائ کی محبت میں بھی عمل ہنستے ہوئے بول کر کمبل میں گھس گئ
عرش کے نام سے اچانک عنیقہ کی نظر اپنے ہاتھ کی طرف گئ جہاں عرش کی پہنائی گئی رینگ تھی
عنیقہ رینگ دیکھ کر مسکرانے لگی
عنیقہ پیپر دے کر کینٹین میں آگئ کیونکہ اسے بہت زورو کی بھوک لگی تھی
صبح کی اذانوں تک پڑھتی رہی پھر بنا کچھ کھاۓ پیے پیپر دینے نکل گئ
پیپر لکھ لکھ کر اسکا لیفٹ ہینڈ بہت زیادہ درد کر رہا تھا
عنیقہ بچپن سے ہی لیفٹ ہینڈ سے لکھنے کے آدھی تھی اور اب بھی اسکا یہی حال تھا
عنیقہ کاؤنٹر پر گئ وہاں سے دہی بھلے اور کولڈرنک کی سلپ بنا کر ایک لڑکے کے پاس گئ جو سب چیزیں پیک کررہا تھا
عنیقہ نے سلپ اسے پکڑائی اسنے فٹافٹ چاٹ کی پلیٹ بنائ اور کولڈرنک عنیقہ کو دی
بھائ زرا چاٹ مصالحہ زیادہ ڈالنا عنیقہ چاٹ مصالحہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی
اس نے چاٹ مصالحہ بھر بھر کر دو چمچ ڈال کر عنیقہ کو دے دیۓ
عنیقہ چیزے لے کر ٹیبل پر بیٹھ گئ
اور چاٹ کے ساتھ پورا پورا انصاف کرنے لگی
میم مجھے فارمولے بھی یاد ہیں اور دو یونٹ بھی آتے ہیں کیونکہ وہ اس فارمولے کے ساتھ ہی سولو ہوتے ہیں عمل میتھ کی کتاب لے کر ٹیچر کے سامنے کھڑی تھی
بیٹا صرف دو یونٹ ہی نہیں بلکے سارے یونٹ انہیں فارمولے سے حل ہوتے ہیں
باۓ دا وے سناؤ ٹیچر بولی
عمل نے فر فر سارے فارمولے یاد سنائیں
سب عمل کے لیۓ کلیپ کرے کیونکہ اج وہ بہت اچھا یاد کر کے آئ ہے ٹیچر خوش ہوتے ہوۓ بولی
زمل بیٹھ جائیں آپ اپنی سیٹ پر ٹیچر زمل کو واپس عمل کو بھیجتے ہوئے بولی
اوکے تھینکو میم زمل بیگ اٹھا کر اپنی جگہ پر چلی گئ
عمل بھی دوڑ کر اپنی چئیر پر واپس آئ
عرش کو رات میں ہی کال آئ تھی کے اس کو مٹینگ کے سلسلے میں ملتان جانا ہے
اور فلائیٹ بھی رات تین بجے کی تھی اس لیۓ عرش نے گھر آتے ساتھ ہی دو بجے کا الارم لگایا اور سو گیا
تا کے تھوڑی بہت ہی نیند پوری ہوجاۓ
اور وہ اپنی مٹینگ اٹینڈ کرسکے
عنیقہ کالج کے گیٹ کے باہر کھڑی تھی کیونکہ اسکی بس نے آنا تھا
ایک لڑکا جو کافی دیر سے اپنی گاڑی میں بیٹھا عنیقہ کو گھور رہا تھا
وہ گاڑی سے نکل کر باہر آیا وائیٹ ٹی شرٹ بلیک جینز ہاتھ میں موبائل اور اسی ہاتھ میں ائیر فونز بھی پکڑے تھے
لمبا دراز قد ہلکی ہلکی داڑھی جو سنہرے رنگ کی تھی اور اسی طرح اسکے بال بھی
وہ چلتا ہوا عنیقہ کے پاس آیا اور آدھے فٹ کے فاصلے پر اس سے دور کھڑا ہوا
موبائل نکال کر سکرین کو دیکھنے لگا
عنیقہ دھوپ پر کھڑی تھی جس کی وجہ سے اس کی سفید گالیں لال ہورہی تھی ماتھے پر ہلکا ہلکا پسینا بھی آگیا تھا
اسلام علیکم لڑکا اتنی آواز میں بولا جتنا عنیقہ سن سکتی تھی
عنیقہ نے اگنور کیا کیونکہ ایسے لفنگے روز اس کے کالج کے سامنے آتے رہتے تھے
عنیقہ میں آپ سے ہی بات کر رہا ہوں
عنیقہ نے ایکدم اس لڑکے کی طرف دیکھا جو باظاہر فون پر لگا تھا لیکن بات عنیقہ سے ہی کر رہا تھا
کون ہیں آپ اور میرا نام کیسے پتہ ہے عنیقہ غصے سے بولی
میرا نام آرت (Arit)ہے
اور ایک سال سے آپ کے پیچھے آتا ہوں نام تو پتہ ہوگا نہ
ایک سال سے عنیقہ ہلکی سی آواز میں بولی
عنیقہ میں نے آپ سے بات کرنی ہے آرت بولا
لیکن مجھے آپ سے کوئ بات نہیں کرنی عنیقہ غصے سے بول کر اپنی بس میں چلی گئ
جب کے آرت اداس ہو گیا کیونکہ ایک سال سے وہ عنیقہ کو فالو کر رہا تھا
کبھی کچھ بولنے کی ہمت ہی نہیں ہوئ تھی آرت میں
آج اپنے آپ میں خوب ہمت جمع کر کے وہ آیا تھا لیکن عنیقہ نے انکار کر دیا
