Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Last Episode)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Last Episode)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
دل آویز کو ہوسپٹل سے ڈرسچارج کر دیا گیا۔ ۔ فاطمہ چاہتی تھیں کے جلد از جلد وہ اس گاوں سے دل آویز کو لے جائیں۔ ۔ مامون نے اس کے بعد دل آویز سے کوئی بات نہیں کی ۔۔ وہ ہوسپٹل سے سیدھا مسجد گیا اور رضیہ کے نمازِ جنازہ میں شرکت کی۔ ۔ مامون کے کہنے پر سب کو رضیہ کا چہرہ دیکھایا گیا مقصد صرف لوگوں کو عبرت کا درس دینا تھا۔ ۔۔ رضیہ کا دیدار کرتے ہی سب نے کانوں کو ہاتھ لگایا۔ ۔۔ بے اختیار ہی سب کے منہ سے اللہ اکبر نکلا۔ ۔۔ بیشک سب سے بڑی اور طاقت ور ذات اللہ کی ہے۔ ۔۔
دوسری طرف سلیم کو اس بات کا افسوس تھا کے وہ مامون کے لیئے چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکے ایک وجہ تو فاطمہ کی ضد تھی اور دوسری اور اہم وجہ یہ تھی کے وہ خود بھی نہیں چاہتے تھے کے دل آویز اس گاوں میں رہے اور وہ بھی جنگل میں۔ ۔۔ مگر وہ مامون اور دل آویز کی علیحدگی بھی نہیں چاہتے تھے۔ ۔۔ یہ ہی سوچ کر انہوں نے مامون سے بات کرنے کا فیصلہ کیا شاید مامون ان کے ساتھ گاوں چھوڑ کر شہر رہنے پر مان جائے
















سلیم موقع ملتے ہی مامون کے پاس پہنچ گیا
مامون مجھے ایک بات کرنی ہے تم سے؟
سلام دعا کے بعد سلیم نے کام کی بات شروع کی
جی انکل میں سن رہا ہوں۔ ۔
سلیم نے سنجیدگی سے کہا
میں تمہاری اور دل اویز کی علیحدگی نہیں چاہتا۔۔۔ مگر میں یہ بھی نہیں چاہتا کے دل آویز اس ویرانے میں اپنی زندگی گزارے۔ ۔۔
سلیم نے بات کا آغاز کیا
میں سمجھا نہیں۔۔۔ انکل آپ کُھل کر کہیں جو کہنا چاہتے ہیں؟
مامون نے ادب سے کہا
مامون بیٹا میں چاہتا ہوں تم یہ گاوں چھوڑ کر ہمارے ساتھ شہر میں رہو۔ ۔ یقین کرو وہاں تم دونوں کو کوئی الگ نہیں کر سکے گا۔ ۔۔
سلیم نے محبت سے کہا
معافی چاہتا ہوں انکل میرے لیئے یہ ناممکن ہے۔ ۔۔ یہ گاوں نہیں میرا گھر ہے اور رخصتی لڑکوں کی نہیں لڑکیوں کی ہوتی ہے۔ ۔۔ میں بھی آپکو یقین دلاتا ہوں یہاں دل آویز کو کوئی مسئلہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اب ہم دونوں کو کوئی جدا کر سکتا ہے۔ ۔۔
مامون نے مضبوط لہجے میں جواب دیا
میں تمہارے ساتھ زبردستی تو نہیں کر سکتا مگر خیر سوچنا ضرور اس بارے میں۔۔۔۔ آخر دل آویز بھی تو گاوں میں نہیں رہنا چاہتی۔ ۔۔
سلیم نے افسردگی سے کہا
کیا یہ آپ سے دل آویز نے خود کہا ہے؟
مامون نے چونک کر پوچھا
نہیں مگر مجھے ایسا ہی لگتا ہے۔ ۔۔
سلیم نے کندھے اچکا کر کہا
ایسا نہیں ہے اُسے یہ گاوں بہت پسند ہے بس آپ لوگوں کی محبت کے آگے مجبور ہو گئی ہے خیر ہوگا وہی جو اللہ چاہے گا۔ ۔۔ آپ اس بات کے لیئے پریشان نہ ہوں۔ ۔
مامون نے پھیکی سی ہنسی ہنستے ہوئے کہا۔ ۔۔ سلیم بھی افسردگی سے مسکرا دیئے
















اسی دن شام کو دل آویز کی روانگی تھی۔ ۔۔ گاوں کے سب لوگ دل آویز سے ملنے کے لیئے جمع تھے۔ ۔۔ مگر دل آویز کو جس کا انتظار تھا وہ اب تک نہیں آیا تھا۔ ۔۔ دل آویز کو لگا کے شاید اس نے مامون کو بہت سخت ناراض کر دیا ہے۔ ۔۔ اور یہ سوچ کر دل آویز بہت پریشان سی رہی۔ ۔۔ آخر ایک بار تو ملنے آجاتا۔ ۔۔۔ دل آویز سب سے بہت بے دلی سے ملی۔ ۔۔۔ سمن اور رشیدہ نے دل آویز کو بہت سے تحفے دیئے۔ ۔۔ فاطمہ پہلی بار رشیدہ سے گلے لگ کر ملیں اور اپنے روئیے کی معافی بھی مانگی جسے رشیدہ نے کھلے دل سے معاف کر دیا۔ ۔۔ گاڑی میں سمان بھی رکھا جا چکا تھا۔ ۔ سب ہی ملنے آئے سوائے مامون کے یہ بات سب نے ہی نوٹ کی۔ ۔۔ مگر فاطمہ نے اس بات پر شکر کیا۔ ۔۔ دل آویز کو عجیب سی بیچینی ہو رہی تھی۔ ۔۔۔ دل آویز کچھ سوچتے ہوئے سلیم کے پاس گئی
بابا وو وہ۔ ۔۔۔ مم مامون نہیں آئے ملنے آپ نے انہیں بتایا تھا ہمارے جانے کا؟ ؟
دل آویز نے آخر کار ججھکتے ہوئے مامون کا پوچھ ہی لیا
ہاں بیٹا میں بھی اُسی کا انتظار کر رہا تھا۔ ۔۔ میرے خیال سے وہ نہیں آئے گا۔ ۔ کیا تم جانا چاہتی ہو اس سے ملنے؟
سلیم نے دل آویز سے پوچھا
جج جی بابا وو وہ مجھے شکریہ کرنا تھا انکا۔ ۔۔
دل آویز نے سر جھکا کر جواب دیا
ہممم چلو میں لے چلتا ہوں۔ ۔ اپنی ماما کو مت بتانا آجاو جدلی سے۔ ۔۔
سلیم نے دل آویز سے آہستہ آواز میں کہا۔ ۔۔ دل آویز نے اچھی طرح سر پر دوپٹا لیا اور فاطمہ سے نظر بچاتی ہوئی سلیم کے پیچھے چلنے لگی

















دل آویز اور سلیم جب مامون کے پاس پہنچے تو وہ نفل ادا کر رہا تھا دونوں نے بیٹھ کر اسکا انتظار کیا۔ ۔ مامون نے سلام پھیرا اور دعا مانگی اور پھر ان دونوں کی طرف پلٹا
اسلام وعلیکم۔ ۔!
مامون نے سلیم کی طرف دیکھتے ہوئے سلام کیا۔ ۔۔ جیسے وہ دل آویز کو دیکھنا ہی نہ چاہتا ہو
والیکم اسلام کیسے ہو مامون؟
سلیم نے مسکرا کر پوچھا
جی الحمداللہ۔۔۔ آپ کیسے ہیں؟
مامون نے مروتاً پوچھا۔ ۔ دل آویز کو محسوس ہوا کے مامون اُسے اگنور کر رہا ہے جیسے وہ یہاں موجود ہی نہ ہو
میں بھی الحمداللہ ٹھیک ہوں۔ ۔ آج ہماری واپسی ہے تم شاید مصروف تھے اس لیئے ہم نے سوچا ہم ہی آجائیں ملنے۔ ۔۔
سلیم نے مسکرا کر کہا
نہیں کچھ خاص مصروف تو نہیں تھا بس۔۔۔ خیر اچھا کیا آپ لوگ آگئے۔ ۔۔ چائے بناوں آپ کے لیئے۔۔۔
مامون چاہ کر بھی مسکرا نہ سکا وہ بہت سنجیدہ تھا
آمم نہیں چائے کا تکلف مت کرو۔ ۔ دل بیٹا آپ مامون سے مل لو میں زرا جنگل کی تازہ ہوا میں واک لوں۔ ۔
سلیم نے جان بوجھ کر دونوں کو تنہا ملنے کا موقع دیا۔ ۔
سلیم کے جاتے ہی مامون نے اپنا سر جھکا لیا جب کے دل آویز مامون کو ہی دیکھ رہی تھی
آپ ناراض ہیں مجھ سے۔ ۔۔
دل آویز نے ڈرتے ہوئے پوچھا
جی نہیں ۔۔۔
مامون نے بنا دیکھے جواب دیا
تو اسطرح بات کیوں کر رہے ہیں ؟ آئی مین اتنا اگنور کیوں کر رہے ہیں؟
دل آویز نے فکر مندی سے پوچھا
اچھا آپکو یہ محسوس ہوتا ہے؟
مامون نے طنزیہ کہا
جی ہوتا ہے کیوں کیا میں کچھ محسوس نہیں کر سکتی؟
دل آویز نے منہ بنا کر کہا
اچھا تو پھر میری محبت محسوس نہیں ہوئی آپکو؟
مامون نے سر اٹھا کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
مامون۔ ۔۔ مم میں بہت مجبور ہو گئی ہوں۔ ۔ جب بابا نے گاوں میں شادی کی تھی ماما تب سے بابا سے ناراض رہتی ہیں۔۔۔ وہ بہت دکھی رہتی ہیں۔ ۔ میں انہیں اپنی وجہ سے مزید پریشان نہیں کر سکتی مگر ٹرسٹ می میں آہستہ آہستہ ماما کو منا لونگی۔ ۔۔
دل آویز نے مامون کو سمجھانا چاہا
ہممم واقعی ماں کو دُکھ دینا بھی نہیں چاہیئے۔ ۔۔ میں آپ کی خوشی اور فیصلے میں ہی خوش ہوں۔ ۔ آپ یوں پریشان نہ ہوں۔ ۔۔
دل آیز کو پریشان دیکھ کر مامون کا سارا غصہ ختم ہو گیا
مامون جو سب آپ نے میرے لیئے کیا اس سے میں آپکی محبت کا اندازہ لگا سکتی ہوں۔۔۔ آپکی محبت نے میرے دل کو بھی چھوا ہوا۔۔۔ ایسا نہیں ہے کے مجھے آپکا احساس نہیں۔۔ مگر مجھے تھوڑا وقت دیں میں ماما کو سمجھا کر واپس آپ کے پاس ہی لوٹوں گی۔ ۔۔
دل آویز نے مسکرا کر یقین دلایا
ان شاءاللہ۔ ۔۔ شکریہ دل آویز آپ کی اس بات نے مجھے بہت سکون دیا ہے۔ ۔۔ میں شدت سے آپکا انتظار کرونگا۔ ۔
مامون نے بھی مسکرا کر جواب دیا
اوکے اب دیر ہو رہی ہے بابا ویٹ کر رہے ہونگے اپنا خیال رکھئیے گا۔ ۔۔
دل آویز اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی مامون بھی اسکے سامنے کھڑا ہو گیا
اپنا بھی بہت خیال رکھئیے گا۔ ۔۔
مامون نے دل آویز کو دیکھ کر کہا
اوکے اللہ حافظ۔ ۔
دل آویز نے اداسی سے کہا
ہممم اللہ حافظ۔ ۔۔
مامون کو بھی عجیب سی اداسی ہونے لگی
دل آویز پلٹ کر واپس جانے والے راستے پر چلنے لگی
دل۔ ۔۔
مامون نے اختیار ہی اُسے پکارا
دل نے پلٹ کر دیکھا
بہت یاد آوگی تم۔۔۔۔
مامون اداسی سے مسکرایا
آپ بھی۔ ۔۔
دل کو لگا وہ ایک سیکنڈ بھی روکی تو رو دے گی۔ ۔ وہ تیزی سے چلتی ہوئی سلیم کے پاس چلی گئی۔ ۔ مامون اسے جاتا دیکھتا رہا۔ ۔۔
















دل آویز کے جانے کے بعد مامون کی وہ ہی روٹین شروع ہو گئی وہ زیادہ تر زکر میں ہی خود کو مصروف رکھتا تھا۔ ۔۔ مگر اس کے باوجود دل آویز کی یاد اسے اداس رکھتی۔۔۔ اعظم روز ہی اس سے ملنے آتا۔ ۔ مامون اس سے دل آویز کا پوچھتا۔۔ سلیم نے دو تین دفعہ ہی اعظم کو فون کر کے اپنی خیریت کا بتایا تھا۔ ۔۔ پورے سات دن گزر گئے تھے نا مامون کی دل سے بات ہوئی نہ ہی دل آویز نے کانٹیکٹ کیا۔ ۔ کیسے کرتی مامون کے پاس کوئی فون تو تھا نہیں۔ ۔۔
دوسری طرف فاطمہ دل آویز کو ہر وقت گاوں میں زندگی گزارنے کے نقصانات یاد کرواتی رہتیں۔ ۔۔ جنہیں دل بس ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتی۔ ۔ اسے مامون ہر پل یاد آتا تھا۔ ۔۔ مگر وہ چاہ کر بھی مامون سے رابطہ نہ کر سکی۔ ۔۔
















مامون بابا یہ خط آیا ہے آپکے لیئے کوئی کوٹ کا کاغز لگتا ہے۔ ۔۔
اعظم نے ایک لفافہ مامون کو دیا۔ ۔ مامون نے اسے غور سے دیکھا اور پھر اسے پھاڑ کر اندر سے کاغز نکالا اور پڑھنے لگا۔۔۔ جیسے ہی اُس نے وہ پڑھا اسکی پیشانی پر بل پڑھنے لگے۔ ۔۔
کیا ہوا مامون بابا سب ٹھیک ہے؟
اعظم نے پریشانی سے پوچھا
ہنہ۔ ۔ خُلع کے کاغزات ہیں مس دل آویز کی طرف سے۔ ۔۔
مامون نے غصے سے کاغز کو اپنے ہاتھ میں موڑ لیا
اوہ۔ ۔۔ وو وہ ایسا کیسے کر سکتی ہیں۔ ۔۔
اعظم بھی پریشان ہوا
اعظم بھائی آپ میری بات کروا سکتے ہیں دل آویز سے پلیزز۔ ۔۔
مامون نے پوچھا
جج جی میں کروادنگا بات سمن سے دل آویز کا نمبر مل جائے گا۔ ۔۔
اعظم نے ہاں میں سر ہلا کر کہا
















اعظم نے دل آویز کا نمبر ملا کر مامون کو فون دے دیا اور خود تھوڑا دور کھڑا ہو گیا۔ ۔۔ کافی ساری بیلز جانے کے بعد دل آویز نے فون اٹھا ہی لیا
ہیلو۔ ۔۔
دل کی آواز آئی
دل۔۔۔ میں بات کر رہا ہوں مامون۔ ۔۔
مامون نے سنجیدگی سے کہا
مامون آپ۔ ۔۔ اوہ آپ ہی کو یاد کر رہی تھی۔ ۔ کیسے ہیں آپ آپ نے تو پلٹ کر پوچھا بھی نہیں۔ ۔
دل آویز نے گلا کیا
ہنہ۔ ۔ آپ تو جیسے میری یاد میں مر رہی ہیں نا۔ ۔۔
مامون نے تلخی سے کہا
کیا ہوا مامون آپ اس طرح کیوں کہہ رہے ہیں؟
دل آویز کو اسکے لہجے کی تلخی محسوس ہوئی
اگر آپ نے مجھ سے طلاق ہی لینی تھی تو مجھے آسرا اور امید کیوں دے کر گئیں۔ ۔ میں یہاں گن گن کر دن گزار رہا ہوں آپ کے بغیر کہ کب آپ مجھ سے رابطہ کرینگی۔ ۔ مگر اب جب رابطہ ہوا بھی تو ایسا۔۔
مامون نے غصے سے کہا
مامون کسی باتیں کر رہے ہیں کیا ہوا ہے مجھے سمجھ نہیں آرہا؟
دل آویز نے نا سمجھی سے پوچھا
خلع کا پیپر ملا مجھے آپ کی طرف سے اور آپکو میری باتیں سمجھ نہیں آرہیں۔ ۔
مامون نے سختی سے جواب دیا
خُلع کا پیپر میں نے۔ ۔۔ یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں میں کہاں سے بھیجوں گی۔ ۔۔ آپکو غلط فہمی ہوئی ہے مامون۔ ۔۔
دل نے حیران ہو کر جواب دیا
ہنہ کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی ہے دل آویز یہ پیپر اس وقت میرے ہاتھ میں ہے۔ ۔۔
مامون نے تلخی سے کہا
اوہ تو کیا ماما نے۔ ۔۔ ہاں مامون یہ ماما نے کیا ہو گا مجھے اس سب کا پتا بھی نہیں ہے آئی پرومس۔ ۔۔
دل آویز نے اپنی صفائی میں کہا
بس دل آویز اور امتحان مت لیں میرا آپ نے کہا تھا آپ اپنی ماما کو سمجھائیں گیں۔ ۔ تو کیا آپ اپنی ماما کو یہ سمجھا رہی ہیں کے انہوں نے خُلع کا نوٹس بھیج دیا۔۔۔ پلیزز ایک فیصلہ کر لیں اب آپ میرے ساتھ رہنا ہے یا اپنی ماما کے ساتھ۔۔ اگر آپ اپنی ماما کو نہیں سمجھا سکتیں تو مجھے بتا دیں میں آپکو آزاد کر دونگا۔ ۔۔
مامون نے غصے سے کہا اور فون بند کر دیا۔ ۔۔ دل آویز اسے پکارتی رہ گئی۔
















کیوں کیا ماما آپ نے ایسا؟
دل آویز نے تھکے ہوئے لہجے میں فاطمہ سے پوچھا
تمہاری بھلائی کے لیئے ہی کیا ہے میں نے دل۔۔ میری جان کیا فائدہ ایسے رشتے کا آخر کب تک اسطرح اس کے نام کے ساتھ قید رہو گی بہتر ہے اس تعلق کو ختم کر دو۔ ۔۔
فاطمہ نے سخت لہجے میں کہا
یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ ماما۔ ۔ آپ جانتی ہیں اس شخص نے میرے لیئے کیا کیا کیا ہے۔ ۔ اس نے اپنی جان پر کھیل پر مجھے بچایا ہے اور میں اُسے اِسطرح چھوڑ دوں۔ ۔۔
دل آویز نے افسوس سے کہا
ہنہ اگر اس نے بچایا ہے تو یہ بھی مت بھولو کے اسی کی وجہ سے تم اس مسئلے میں پھنسی تھی۔ ۔ دیکھو دل میری جان بات کو سمجھنے کی کوشیش کرو۔ ۔ مامون میں بظاہر کوئی خرابی نہیں ہے میں جانتی ہوں وہ تم سے محبت کرتا وہ اچھا لڑکا ہے مگر وہ گاوں تمہارے لائق نہیں ہے اور پھر مامون کا جو رہن سہن ہے تمہارے لیئے بہت مشکل ہو جائے گی اس لیئے بہتر ہے اسے بھول جاو اور اب یہاں اپنی نئی زندگی کی شروع کرو۔ ۔۔
فاطمہ نے پیار سے اسے سمجھایا
ماما اب اسے بھولنا میرے لیئے آسان نہیں ہے آپ سمجھنے کی کوشیش کریں پلیزز۔ ۔۔
دل آویز سر تھام کر بیٹھ گئی
میری بات کان کھول کر سن لو دل۔ ۔ میرے مرنے کے بعد ہی تم اس گاوں میں جا کر رہ سکتی ہو میرے جیتے جی ایسا نہیں ہوگا۔ ۔۔ اور ہاں مامون کو تمہیں طلاق دینی ہی ہو گی بہتر ہے کے تم خود کو اس بات کے لیئے تیار کر لو۔ ۔۔
فاطمہ نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلی گئی
















یہ دل کہاں ہے ناشتا نہیں کرنا اس نے؟
سلیم نے ناشتا شروع کرنے سے پہلے پوچھا
بابا وہ تو کل سے ہی اپنے روم میں بند ہیں۔ ۔۔
علی نے کندھے اچکا کر جواب دیا
جاو بولا کر لاو اُسے۔ ۔۔
سلیم نے علی سے کہا۔ ۔۔ علی دل کو اٹھانے گیا مگر چند منٹوں میں ہی وہ بھاگتا ہوا واپس آیا
بابا وو وہ آپی کچھ سن نہیں رہیں شاید بے ہوش ہو گئی ہیں۔ ۔۔
علی نے گھبرا کر کہا
کیا۔ ۔۔
سلیم اور فاطمہ بھاگتے ہوئے دل کے روم کی طرف گئے
















مامون کو جیسے ہی دل کی حالت کا پتا لگا وہ اسی وقت شہر کے لیئے روانہ ہو گیا۔ ۔۔
ڈاکٹر کا کہنا تھا کے کسی زہنی دباو کی وجہ سے دل آویز بے ہوش ہوئی تھی مگر اب وہ پہلے سے ٹھیک تھی۔ ۔۔ سلیم نے دل سے بہت پوچھا کے آخر ایسی کیا بات ہوئی ہے جو وہ اتنی پریشان ہے۔ ۔۔ مگر سلیم کو کسی نے کچھ نہ بتایا۔ ۔۔
مامون سیدھا دل آویز کے پاس ہوسپٹل پہنچ گیا۔ ۔۔ سب سے پہلے اس کا ٹکراو سلیم سے ہی ہوا
انکل کیا ہوا ہے دل کو۔ ۔۔؟
مامون نے پریشانی سے پوچھا
کچھ نہیں بس بے ہوش ہو گئی تھی اب ٹھیک ہے ماشاءاللہ۔۔
سلیم نے اسے تسلی دی
کیوں بے ہوش ہو گئی تھی؟
مامون کو تسلی نہیں ہوئی
پتا نہیں ڈاکٹرز کہتے ہیں کوئی پریشانی ہے اسے۔ ۔۔ اب پتا نہیں کیا ہوا ہے کوئی مجھے کچھ بتا نہیں رہا۔ ۔۔
سلیم نے فکرمندی سے کہا
اوہ۔ ۔۔ آپ نے اپنی زوجہ محترمہ سے نہیں پوچھا؟
مامون نے دانت پیس کر کہا
کیا مطلب فاطمہ نے کچھ کہا ہے؟
سلیم نے چونک کر پوچھا
سلیم انکل فاطمہ آنٹی نے دل آویز سے دھوکے سے خلع کے پیپر سائن کروا کر مجھے بھیج دیئے ہیں۔ ۔۔ وہ طلاق کروانا چاہتی ہیں ہماری جب کے۔۔۔۔ اففف اس دن غصے میں میں نے بھی دل کو ڈانٹ دیا۔ ۔۔ وہ اسی لیئے اتنی اپ سیٹ ہو گئی کے۔۔
مامون کو اب خود پر غصہ آنے لگا
اوہ۔ ۔۔ فاطمہ نے مجھ سے پوچھنا بھی ضروری نہیں سمجھا۔ ۔۔ اندر آو مامون۔ ۔۔
سلیم نے سنجیدگی سے کہا دونوں دل آویز کے روم کی طرف چل دیئے
















جو مجھے مامون نے بتایا وہ سچ ہے کیا؟
سلیم فاطمہ کے سر پر کھڑا پوچھنے لگا
جی میں نے بھیجا ہے وہ پیپر جب اُنہوں نے ساتھ زندگی گزارنی ہی نہیں ہے تو بہتر ہے طلاق ہو جائے۔ ۔۔
فاطمہ نے لاپرواہی سے جواب دیا
تم کون ہوتی ہو اتنا بڑا فیصلہ اکیلے کرنے والی۔ ۔۔
سلیم غصے سے دھاڑا
ہنہ میں ماں ہوں اسکی۔ ۔۔
فاطمہ نے بھی اونچی آواز میں کہا
یہ دل آویز کی زندگی ہے اسکا فیصلہ وہ خود کرے گی سمجھی تم۔ ۔۔
سلیم نے چلا کر کہا
وہ بچی ہے اسے نہیں معلوم کے اس کے لیئے کیا ٹھیک ہے۔ ۔ میں اسکا بھلا ہی کر رہی ہوں۔ ۔۔
فاطمہ نے بھی غصے سے جواب دیا
اوہ خدایا پلیزز ماما بابا آپ لوگ اسطرح لڑیں مت۔ ۔۔ پلیززز۔۔
دل آویز نے اپنا سر تھام کر کہا۔ ۔۔ مامون تڑپ کر اسکے پاس آیا
دل۔۔ پلیززز کیوں خود کو ازیت دے رہی ہو۔ ۔ میں اور تم اب الگ نہیں رہ سکتے۔۔۔
مامون نے اسکے ہاتھ تھامے
دور رہو میری بیٹی سے۔ ۔ یقینً تم نے کوئی جادو کیا ہو گا اس پر ورنہ اتنی جلدی محبتیں نہیں ہوتیں۔ ۔۔
فاطمہ نے مامون کو سختی سے کہا
ہنہ کیا ہے جادو۔ ۔ نکاح پر سائن کیا ہے میں نے اور اس نے۔ ۔ بیوی ہے میری اور شاید آپ بھول رہی ہیں کے میں نے آپ سے ایک شرط رکھی تھی۔ ۔ دل آویز اگر میرے ساتھ رہنا چاہے گی تو میں اسے ہر گز خود سے الگ نہیں کرونگا۔ ۔۔
مامون نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا
یہ تمہارے ساتھ نہیں رہنا چاہتی یہ بتا چکی ہے تمہیں بس اسے طلاق دو ابھی۔ ۔
فاطمہ نے غصے سے کہا
اگر یہ اسے طلاق دے گا تو میں تمہیں طلاق دونگا یہ یاد رکھنا۔ ۔۔
سلیم نے روبدار آواز میں کہا۔ ۔ فاطمہ نے حیرانگی سے سلیم کو دیکھا دل آویز تو جیسے سکتے میں ہی چلی گئی
بب بابا۔ ۔۔
ؑبس بیٹا بہت ہو گئی اسکی من مانی۔ ۔۔ ساری زندگی میں اسے اس بات کا یقین دلاتا آیا ہوں کے میں اس سے بہت محبت کرتا ہوں مگر اس نے ایک بار بھی مجھ سے مشورہ نہیں کیا۔ ۔ اب فیصلہ تمہارا ہے فاطمہ طلاق ہوگی تو دونوں کو ہو گی۔ ۔۔
سلیم نے گویا سب کے سر پر بمب پھوڑ دیا
سلیم۔ ۔ آپ ہوش میں تو ہیں اس لڑکے کی خاطر آپ مجھے۔ ۔۔
فاطمی نے دکھ سے کہا
میں اس کی خاطر نہیں اپنی بیٹی کی خاطر کہہ رہا ہوں۔۔ تم نے اسکی حالت دیکھی ہے وہ اتنی بڑی مشکل سے بچ کر آئی ہے فاطمہ اور تم اِسے مزید امتحان میں ڈال رہی ہو۔ ۔ زہنی پریشانی دے دے کر تم مار دو گی اسے۔ ۔۔ دونوں کو ایک دوسرے سے محبت ہے اور زندگی گزارنے کے لیئے محبت ہی سب سے ضروری ہے۔ ۔ اس لیئے اپنی ضد چھوڑ دو۔ ۔۔
سلیم نے اب قدرے نرمی سے سجھایا۔ ۔ فاطمہ روتے ہوئے وہاں سے چلی گئیں۔ ۔ ماممون نے بھی افسوس سے سر جھکا لیا
















اور پھر آخر کار فاطمہ کو اپنی ضد چھوڑنا ہی پڑی۔ ۔ کچھ کام سلیم کی دھمکی نے کیا اور کچھ دل آویز کی حالت نے۔ ۔ مگر وہ دل سے ابھی بھی راضی نہ تھیں۔ ۔۔۔ مامون کے لیئے اتنا ہی کافی تھا کے اب دل اس کے پاس رہے گی۔ ۔۔ سلیم نے اسی دن سب رشداروں کو بلا کر دعوت کا انتظام کیا۔ ۔ سب کے یہ سب بہت حیران تھے۔۔۔مگر سب نے دل کو اچھے نصیب کی دعا دی یوں ایک چھوٹی سی تقریب کے بعد دل آویز اگلے دن مامون کے ساتھ رخصت ہو گئی
















یی یہ کہاں سے آئیں؟
دل آویز نے جیسے ہی جنگل میں قدم رکھا اس کے اوپر کچھ پھول کی پتیاں گرنے لگیں۔ ۔۔
یہ آپ کے استقبال کے لیئے ہیں۔ ۔!
مامون نے مسکرا کر کہا
مم مگر یہ پھینکی کس نے میرا مطلب ہے یہاں تو کوئی نہیں ہے۔ ۔۔
دل آویز نے آس پاس دیکھتے ہوئے کہا
آمم آپ اسے میجک سمجھ لیں۔ ۔۔
مامون نے مسکراہٹ چھپاتے ہوئے کہا
جی نہیں کوئی میجیک نہیں آتا آپکو۔ ۔۔
دل آویز نے منہ بنا کر کہا
ہاہا اصل میجک تو آپکو آج پتا لگے گے میرے۔ ۔۔
مامون نے دل کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا
اچھا۔۔۔ مثلاً کونسے؟
دل آویز نے شرارتً پوچھا
وہ میں الفاظوں میں نہیں بتا سکتا ۔۔۔
مامون نے اسکے ہاتھ پر دباو دے کر کہا۔۔۔ دل آویز نے مسکرا کر نظریں جھکا لیں۔ ۔۔
مامون اسے لیئے آستانے میں آگیا۔ ۔۔
یی یہ کیا۔ ۔۔؟؟
دل مزید حیران ہوئی۔ ۔ کمرے کا تو نقشہ ہی بدلا ہوا تھا۔ ۔ اب اس پلنگ کی جگہ خوبصورت سا بیڈ تھا جو کے گلاب کی پتیوں سے سجھا ہوا تھا۔ ۔۔
پسند آیا؟
مامون نے پیار سے پوچھا
یس بہت زیادہ۔ ۔۔ مگر اب یہ کیسے اور کب کیا آپ نے؟
دل آویز نے گلاب کی پتیاں اپنے ہاتھ میں لیئے سونگھنے لگی
جب سارا معملہ سیٹ ہو گیا تھا تو میں نے اعظم بھائی سے کہا کے یہ سب کر دیں اور انہوں کر دیا۔ ۔۔ بہت دوست یار ہیں انکے۔ ۔۔ خیر آپکو پسند آیا محنت وصول ہو گئی۔ ۔۔ اب سب سے پہلے ہم نفل ادا کرینگے اوکے؟
مامون نے دل آویز کو کندھوں سے پکڑ کر بیٹھنے سے روکا
اوکے۔ ۔۔
دل نے ہاں میں سر ہلایا
















بہت مشکلوں کے بعد آخر مجھے میرا انعام مل ہی گیا۔ ۔۔
مامون نے دل آویز کا چہرہ اپنے ہاتھ میں لے کر کہا
ہممم واقعی اب تو میں نے بھی توبہ کر لی تھرلز سے۔ ۔۔
دل آویز نے مسکرا کر کہا
آمم ہممم۔ ۔۔ ابھی تو اصل تھرلز شروع ہونگے کیونکے اب آپکو یہاں میرے ساتھ زندگی گزانی ہے۔ ۔۔۔
مامون نے دل کا ہاتھ تھام کر کہا
آپ کے ساتھ مجھے اب کوئی مشکل مشکل نہیں لگتی۔ ۔۔
دل آویز نے مامون کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا
اور مجھے اب اپنی ہر مشکل بھی بہت پیاری لگنے لگی ہے۔ ۔۔ دل میں نے سوچا ہے کے کیوں نا ہم شیطان کا مقابلہ عمل سے زیادہ علم سے کریں۔ ۔۔ بیشک شیطان علم والوں سے زیادہ خوفزدہ رہتا ہے۔ ۔ عبادت بھی ضروری ہے مگر ہمیں اب اس گاوں میں رہنے والے بچوں کو علم دینا ہو گا تاکے کل کوئی شیطان کا ساتھ نہ دے اور شیطان خود با خود ہی دم توڑ دے۔ ۔۔
مامون نے دل آویز کو نرمی سے سمجھایا
ہممم صحیح کہہ رہے ہیں آپ۔ ۔۔ ہمیں اب اپنی آنے والی نسلوں کو سنوارنا چاہیئے۔ ۔۔ جب ہر بچہ علم حاصل کر لے گا نا تو شیطان اسے بہکا نہیں سکے گا۔ ۔ واقعی علم بہت بڑی طاقت ہے۔ ۔۔۔
دل آویز نے بھی مامون کی ہاں میں ہاں ملائی
اسی لیئے میں نے اعظم بھائی سے کہا ہے گاوں کے سب بچوں کو یہاں لائیں۔ ۔ ۔ پہلے میں انہیں دینی علم دونگا پھر تم انہیں دنیاوی علم دینا اسطرح مجھے یقین ہے کے ایک دن یہ گاوں والے آتش جیسے شیطان صفت لوگوں سے ڈرنے کے بجائے انکا مقابلہ کریں گے۔ ۔۔۔
مامون نے گہرا سانس کے کر کہا
ہممم ان شاءاللہ۔ ۔۔ یہ تو بہت اچھا سوچا ہے آپ نے۔۔ میں یہ ہی سوچ رہی تھی کے میں سارا دن کرونگی کیا مگر اب تو آپ نے مجھے ایک میشن دے دیا۔ ۔۔ میں آپ کے ساتھ ہوں مامون۔ ۔۔
دل آویز نے مسکرا کر کہا
اور تمہارا ساتھ میری زندگی ہے دل۔ ۔۔۔ زندہ تو میں پہلے بھی تھا مگر تمہارے پاس ہونے سے زندگی محسوس بھی ہوتی ہے ۔۔۔
مامون نے اسکا چہرہ ہاتھوں میں تھام کر کہا۔۔۔ دل آویز نے نظریں جھکا لیں
بہت تنگ کیا ہے آپکی والدہ نے مجھے۔ ۔۔ آہ۔ ۔۔۔ اب تو حساب لینے کا وقت آگیا ہے۔ ۔۔
مامون نے مسکرا کر معنی خیز لہجے میں کہا
آپکا حساب کتاب ماما سے بنتا ہے مجھ سے نہیں ۔۔ جا کر ان سے کریں حساب ۔۔۔
دل آویز نے شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا
اچھا جناب مگر ان سے زیادہ آپکی اس شرارت بھری مسکراہٹ نے تنگ کیا ہے مجھے اسکا حساب تو اب آپ ہی سے لونگا نا۔ ۔۔
مامون نے نرمی سے اسکے ہونٹ چھوئے۔ ۔۔ دل آویز نے اپنا سر جھکا لیا۔۔۔ مامون نے گہرا سانس لے کر اپنے لب دل آویز کی پیشانی پر رکھ دیئے۔ ۔۔۔ دل آویز نے آنکھیں موند کر اپنا آپ مامون کے حوالے کر دیا۔ ۔۔ دونوں کے ملن پر چاند بھی بادلوں کی اوٹ میں چھُپ گیا۔ ۔۔
















اٹھ جائیے محترمہ۔ ۔ آپ تو ایسے سوئی ہوئی ہیں جیسے آپ بہت دونوں سے جاگ رہی تھیں۔ ۔۔
مامون کافی دیر سے دل کو جگا رہا تھا مگر وہ بار بار اسکا ہاتھ جھٹک کر دوبارہ سو جاتی۔۔۔
آمم ہممم۔ ۔۔ آج اتنے دونوں بعد ہی تو اتنے سکون کی نیند آئی ہے مگر آپ مجھے سونے ہی نہیں دے رہے۔۔۔۔
دل آویز نے منہ بنا کر کہا
ہاہاہا۔۔ اب آپکو روز سکون کی نیند آئے گی میرے پہلو میں جو سویا کرو گی۔ ۔۔ چلو شاباش اٹھ جاو نماز کا وقت نکل رہا ہے۔ ۔۔
مامون نے پیار سے اسے اٹھا کر بیٹھایا دل آویز اسکے بازو کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئی۔ ۔۔
مامون ضروری ہے اتنی صبح صبح نماز پڑھی جائے۔ ۔۔
دل نے جمائی روکتے ہوئے کہا۔ ۔۔
بلکل بہت ضروری جس طرح سانس لینا ضروری ہے اسی طرح نماز وقت پر ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ ۔۔
مامون نے اپنے دونوں بازو اُسکے ارد گرد لپٹ کر اسے خود میں بھینچا
مجھے عادت ہی نہیں ہے اتنی صبح صبح اٹھنے کی۔ ۔۔
دل آویز کو مامون کی آغوش میں سکون سا ملا
جناب اسکا مطلب ہے کے بچوں کے ساتھ مجھے آپکی کلاس بھی لینی پڑے گی۔ ۔۔ چلو شاباش اٹھو۔ ۔۔
مامون نے اسکے بالوں سے ڈھکے سر پر بوسا دیا اور اسے اٹھانے لگا۔ ۔۔ دل آویز کو مجبوراً اٹھنا پڑا۔۔
















اعظم گاوں کے بہت سے بچوں کو لیئے مامون کے آستانے پر آگیا۔ ۔۔ دل آویز کو سب بچوں کو دیکھ کر بہت خوشی ہوئی۔ ۔۔ مامون نے واقعی دل آویز کو بھی بچوں کے ساتھ ہی بیٹھا لیا۔ ۔۔۔ مامون نے سر اٹھا کر درختوں کے بیچ سے نظر آتے آسمان کو دیکھا
یااللہ مجھے اب اس سفر میں بھی کامیاب کرنا۔۔۔!
مامون نے دل سے دعا کی۔ ۔۔ سورج کی خوبصورت شعاعیں درختوں کے بیچ میں سے اپنی جگہ بناتی ہوئیں دل آویز کے چہرے پر پڑ رہی تھیں۔ ۔ مامون نے بہت محبت سے دل آویز کے مسکراتے چہرے پر نظر ڈالی اور اللہ کا نام لے کر پہلا سبق پڑھنے لگا۔ ۔۔۔
مامون اور دل آویز مل کر یہ علم کی دولت باٹنے لگے۔ ۔۔ بیشک اگر سب ہی علم والے ہو گئے تو کل کوئی بھی شیطان اپنے عمل میں کامیاب نہیں ہو سکتا ۔ ۔۔
فرمانِ رسول ﷺ ہے
”شیطان پر ایک فقیہ (عالم) ہزار عابد سے بھاری ہے“۔
سنن الترمذی/العلم 19 (2681)، (تحفة الأشراف: 6395)
