Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pur Israar Mohabat (Episode 16)

Pur Israar Mohabat by Maria Awan

مامون میں اتنی ہمت نہیں تھی کے وہ زیادہ دیر بیٹھ کر زکر کرتا۔۔ زخم کی وجہ سے وہ کافی کمزوری محسوس کر رہا تھا۔ ۔ مگر اس کے باوجود اس نے اپنی ہمت سے زیادہ پڑھائی کی۔ ۔۔ اللہ کے آگے دل آویز کے لیئے بہت دعائیں کیں۔ ۔ بار بار دل آویز کا وہ اجنبی چہرہ اسکی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا۔ ۔۔ زندگی میں پہلی بار اسے موت سے خوف مسحوس ہوا تھا۔ ۔ وہ بھی اپنی موت نہیں دل آویز کی موت سے ۔۔۔ وہ زکر سے فارغ ہو کر ایک درخت کے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔ اسے محسوس ہوا کے جنگل میں کوئی آ رہا ہے۔ ۔۔ اس نے تھوڑا سا اٹھ کر دیکھا تو اُسے سامنے اعظم کے ساتھ سلیم اور فاطمہ آتے ہوئے نظر آئے۔ ۔۔۔ مامون نے ان کے استقبال میں کھڑے ہونے کوشیش کی تو سلیم نے دور سے ہی ہاتھ کے اشارے سے اُسے روک دیا۔ ۔۔ مامون دوبارہ اسی طرح بیٹھ گیا۔ ۔ اعظم اور سلیم نے اس سے ہاتھ ملا کر سلام کیا

اب کیسی طبیعت ہے مامون؟

سلیم نے پوچھا

جی الحمداللہ بہت بہتر ہوں۔ ۔۔ آپ بتائیں سب ٹھیک ہے؟

مامون نے دل کا نام لینے سے گریذ کیا۔ ۔ جب سے سب کو دل آویز سے اسکی محبت کا علم ہوا تھا۔۔۔مامون خود کو مجرم سا سمجھنے لگا تھا۔۔۔

ہاں ہم بھی الحمداللہ ٹھیک ہیں۔ ۔۔ بس تم سے ضروری بات کرنے آئے ہیں اگر تم مصروف نہیں ہو تو؟

سلیم نے سنجیدگی سے پوچھا

جی ضرور کریں میں سن رہا ہوں۔ ۔؟

مامون نے ایک نظر فاطمہ پر ڈالی جو منہ بنائے کبھی جنگل کو دیکھ رہی تھی اور کبھی سامنے بنے اس کمرے کو دیکھ رہی تھی جس میں دل آویز کو اپنی آنے والی زندگی کے چند دن رہنا تھا۔ ۔ اتنا چھوٹا سا کمرہ دیکھ کر فاطمہ کو عجیب سا دکھ ہونے لگا۔۔

وو وہ۔ ۔۔ ہم یہاں تمہاری اور۔ ۔۔ دل آویز کی شادی کی بات کرنے آئیں ہیں۔ ۔۔ جیسے تم نے کہا کے اب دیر کرنا مناسب نہیں تو اس لیئے ہم چاہتے ہیں کے جلد از جلد یہ نکاح ہو جائے۔ ۔۔

سلیم نے گہرا سانس لے کر کہا۔ ۔ مامون نے اپنا سر جھکا لیا

مگر اس کے لیئے ہماری کچھ شرائط ہیں۔۔

فاطمہ نے تیکھے لہجے میں کہا

شرائط کیسی شرائط؟ ؟

مامون نے حیران ہو کر اپنا جھکا سر اٹھا کر فاطمہ کو دیکھا

جیسے کے تم جانتے ہو ہم یہ نکاح بہت مجبوری میں کر رہے ہیں۔ ۔ اگر دوسری کوئی صورتِ حال ہوتی تو میں کبھی اپنی بچی کو ایسے گاوں اور ایسی جگہ رخصت نہ کرتی اس سے اچھا وہ کنواری رہ جاتی۔ ۔۔

فاطمہ نے نفرت سے کہا۔۔۔اعظم کو مامون کے لیئے ایسے الفاظ سن کر غصہ آنے لگا

بھابی آپ مامون بابا کے بارے میں ایسے۔ ۔۔

اعظم نے فاطمہ کی بات کاٹ کر غصے سے کہا

اعظم بھائی کہنے دیں انہیں۔۔۔

مامون نے اعظم کو نرمی سے ٹوکا۔ ۔

فاطمہ بہتر ہے کے تم وہ بات کرو جو کرنے آئی ہو۔ ۔

سلیم نے بھی فاطمہ کو سختی سے ٹوکا

ہنہ۔ ۔۔ خیر ہم یہ شادی صرف دل آویز کے علاج کی وجہ سے کر رہے ہیں۔ ۔۔ تمہیں وعدہ کرنا ہو گا کے تم اس شادی کے بارے میں کسی کو نہیں بتاو گے۔ ۔ اس شادی کی خبر اس چھوٹے سے جنگل اور گاوں سے باہر نہیں جانی چاہیئے۔ ۔۔

فاطمہ نے پہلی شرط بتائی

آپ اس بات کی فکر نہ کریں میں اپنی ضمانت دیتا ہوں کے اس شادی کا زکر کسی سے نہیں کرونگا۔ ۔۔

مامون نے سنجیدگی سے جواب دیا

دوسری شرط یہ ہے کے تم میری دل آویز کو اس تمام عرصے میں ہاتھ نہیں لگاو گے۔۔۔ میرا مطلب ہے تم دل آویز سے کوئی میاں بیوی والا رشتہ قائم نہیں کرو گے۔ ۔۔

فاطمہ نے صاف لفظوں میں اپنی شرط بتائی مامون نے چونک کر سر اٹھایا

یہ کیسی شرط ہے۔ ۔۔ میں ایک عام سا بشر ہوں۔ ۔ جو میرے نکاح میں ہو گی میں اسے خود سے دور کیسے رکھ سکتا ہوں۔ ۔

مامون نے فوراً انکار کیا

تمہیں یہ کرنا ہوگا ۔۔۔ ویسے بھی یہ شادی صرف تب تک ہی رہے گی جب تک دل ٹھیک نہیں ہو جاتی اس کے بعد تمہارے اور ہمارے راستے الگ ہونگے۔ ۔۔

فاطمہ نے مامون کی بات کاٹتے ہوئے سختی سے کہا

معاف کیجئے گا آپ نکاح جیسی عظیم سنت کو کھیل نہ بنائیں۔ ۔۔ میاں بیوی کے ایک دوسری کے اوپر کچھ حقوق اور فرائض ہوتے ہیں۔ ۔ میں مانتا ہوں آپ دل سے اس رشتے کے لیئے راضی نہیں ہیں مگر اس کا ہر گز مطلب نہیں کے میں آپ سے ایسے وعدے کروں جنہیں نبھانا میرے بس میں نہ ہو۔ ۔۔

مامون نے سختی سے جواب دیا۔ ۔ غصے کی شدت سے اسکی آنکھیں لال ہونے لگیں۔ ۔

تم جانتے ہو ہم یہ شادی کس مجبوری میں کر رہے ہیں ورنہ میں اپنی بیٹی کی شادی تم جیسے انسان سے کبھی نہ کروں جس کی نہ تو کوئی ڈھنگ کی کمائی ہو اور نہ ہی گھر۔ ۔۔۔

فاطمہ کو مامون کی بات سن کر شدید غصہ آیا۔ ۔۔ اعظم نے بہت مشکل سے خود کو کچھ کہنے سے روکا

میری کمائی دنیا کے حساب سے تو شاید صفر ہو گی۔ ۔ مگر دین کے حساب سے صفر نہیں ہے۔ ۔۔ اور آپکو پتا ہے اصل کمائی کیا ہے۔ ۔ دین کا علم ہی اصل کمائی ہے۔ ۔ باقی رہی بات گھر کی تو گھر تو آپکا بھی نہیں ہے۔ ۔۔کیونکے اصل گھر ہماری قبر ہے آپ خود بتائیں کیا آپ ساری زندگی اسی دنیا میں اپنے گھر میں رہیں گیں؟ کل جب آپ نہیں ہونگی تو وہ گھر کسی اور کا ہو گا تو اگر اس حوالے سے دیکھیں تو آپکا بھی اپنا کوئی گھر نہیں وہ کہتے ہیں نا۔ ۔۔

ملے خاک میں اہلِ شاں کیسے کیسے

مکیں ہو گیٔے لا مکاں کیسے کیسے

ہوئےناموَر بے نشاں کیسے کیسے

زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

مامون نے مسکرا کر نرمی سے شعر کہنے کے انداز میں کہا

ہنہ مجھے معلوم ہے میں تم سے باتوں میں نہیں جیت سکتی مگر یہ بھی سچ کے ہر انسان کو رہنے کے لیئے گھر اور جینے کے لیئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ۔ اگر تمہیں میری یہ شرط منظور ہے تو ٹھیک ہے ورنہ میں ہر گز دل آویز کی شادی تم سے نہیں کرونگی۔ ۔۔

فاطمہ نے ضدی لہجے میں کہا

آپ خود سوچیں۔ ۔ میرے لیئے یہ سب کیسے ممکن ہے میں۔ ۔۔

مامون میرے خیال ہے فاطمہ ٹھیک کہہ رہی ہے۔ ۔ یہ شادی مجبوری کی وجہ سے کی جاری ہے۔۔۔ ویسے بھی دل آویز کی حالت ایسی نہیں کے تم اس کے ساتھ کوئی تعلق بنا سکو۔ ۔۔ اور مجھے نہیں لگتا تم اتنے کمزور ہو کے۔۔۔

سلیم نے مامون کی بات کاٹتے ہوئے کہا اور فاطمہ کی سائڈ لی

سلیم انکل میں جانتا ہوں اگر میں وعدہ کروں تو یہ وعدہ بھی میں ساری زندگی نباہ سکتا ہوں چاہے اس کے لیئے مجھے خود پر جتنا بھی جبر کرنا پڑے مگر میری ان سب باتوں کا مقصد یہ ہے کے نکاح کوئی مزاق نہیں ہے یہ ایک زمہ داری کا نام ہے اور پھر میں دل آویز سے محب۔ ۔۔

مامون اظہار کرتے کرتے رک گیا

رک کیوں گئے کہو نا۔ ۔ اسی محبت کی وجہ سے آج میری بچی اس حال میں ہے۔ ۔ ہنہ اب بھی تمہیں اپنی محبت کی ہی پڑی ہے۔ ۔۔ یہ سب تم کھیل کھیل رہے ہو تاکے دل آویز کا جسم پا۔ ۔

فاطمہ سوچے سمجھے بغیر غصے میں جو منہ میں آیا بولنے لگی

پلیزززز۔ ۔۔ اس کے آگے ایک لفظ نہیں کہیئے گا۔ ۔ آپکے لیئے شاید نکاح کے رشتے کی حقیقت صرف ایک جسم کا حاصل کرنا ہے مگر میرے لیئے ایسا نہیں ہے۔۔۔

مامون نے غصے سے اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر کہا۔ ۔ جب وہ شدید غصے میں ہوتا تو اسی طرح خود پر قابو پاتا

تو ٹھیک ہے نا جب تمہاری نظر میں نکاح کا رشتہ محض جسم پانا نہیں تو پھر یہ وعدہ کرتے ہوئے اتنا ڈر کیوں رہے ہو۔ ۔ کیا خود پر بھروسہ نہیں ہے۔ ۔۔ ہنہ اپنی محبت کے لیئے اتنا نہیں کر سکتے۔ ۔۔

فاطمہ نے ایموشنل بلیک میل کیا

کرنے کو میں سب کر سکتا ہوں۔ ۔۔ خیر اگر آپ کی یہ سب شرطیں ہیں تو میری بھی ایک شرط ہے۔ ۔ ۔ اگر آپ وہ مان لیتی ہیں تو پھر میں بھی وعدہ کرنے لے لیئے تیار ہوں۔ ۔

مامون نے تھک کر کہا وہ جان گیا تھا کے اب بحث کرنا بیکار ہے

کیسی شرط؟

فاطمہ نے پوچھا

دل آویز کے ٹھیک ہونے کے بعد یہ فیصلہ دل آویز خود کرے گی کے اسے میرے ساتھ رہنا ہے یا نہیں ۔۔ جو فیصلہ وہ کرے گی مجھے وہی منظور ہو گا۔ ۔۔

مامون نے فاطمہ کو دیکھتے ہوئے کہا

ہنہ دل آویز وہ ہی چاہے گی جو میں کہوں گی ۔۔ خیر مجھے تمہاری اس شرط پر کوئی اعتراض نہیں میں وعدہ کرتی ہوں۔ ۔ اب تم بھی وعدہ کرو کے دل آویز کو علاج کی غرض کے علاوہ ہاتھ بھی نہیں لگاو گے۔ ۔۔

فاطمہ نے مامون کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا

ٹھیک ہے مجھے آپکی یہ شرط قبول ہے ۔۔۔

مامون نے مضبوط لہجے میں کہا

تو ٹھیک آج ہی نکاح پڑھوا لیتے ہیں۔ ۔۔ اعظم تم نکاح خواہ اور گواہوں کا بندوبست کرو بس خاموشی سے یہ کام کرنا کسی کو پتا نہ چلے۔ ۔ جب تک میں دل آویز کو سمجھانے کی کوشیش کرتا ہوں۔ ۔ تم کیا کہتے ہو مامون؟

سلیم نے پلان بنا کر مامون سے رائے لی

ہممم۔ ۔۔ ٹھیک ہے میں بھی چلتا ہوں آپ لوگوں کے ساتھ۔ ۔۔مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ ۔

مامون نے کھوئے ہوئے لہجے میں جواب دیا۔۔ اس کے اپنے دل کی کیفیت عجیب سی ہونے لگی۔ ۔ دل آویز اسکی زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی تھی جسے اس نے اپنے دل میں بسایا تھا اس سے شادی کا تو اس نے سوچا بھی نہ تھا مگر اب یوں اچانک وہ اسکی بن رہی تھی۔ ۔ یہ احساس اس کے لیئے بہت نیا اور عجیب تھا۔ ۔ وہ تو ٹھیک سے خوش بھی نہیں ہو پا رہا تھا ۔۔۔ پتا نہیں کب تک یہ رشتہ قائم رہے گا۔ ۔۔ یہ بات سوچ کر اسے اداسی بھی ہو رہی تھی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

نکاح بہت ہی خاموشی اور سادگی سے ہوا۔ ۔ دل آویز تو اپنے ہواسوں میں نہیں تھی اس سے جو جو کہا جاتا وہ ایک روبوٹ کی طرح کر رہی تھی۔ ۔۔۔ مغرب کی نماز کی ادائیگی کے بعد دل آویز کو مامون کے ساتھ رخصت کرنے کا وقت آگیا

اپنے وعدے مت بھولنا مامون۔ ۔۔ اب میری بچی کی زندگی اور عزت تمہارے پاس امانت ہے اس میں خیانت مت کرنا۔ ۔۔

فاطمہ نے ایک بار پھر اپنی شرط یاد کروائی

مجھے معلوم ہے جب میں ایک زبان دے دوں تو اس سے مُکرتا نہیں ہوں آپ بے فکر رہیں۔ ۔

مامون نے گہرا سانس لے کر جواب دیا

میں دل آویز سے ملنے تو آسکتی ہوں؟

فاطمہ نے پوچھا

جی آسکتی ہیں۔ ۔۔ مجھے اعتراض نہیں۔۔ بس زرا خیال رہے کے بہت خاموشی سے وہاں آیئے گا اور پلیززز جو سامان دینا ہے وہ ابھی دے دیں بعد باہر سے کوئی سامان نہیں لایئے گا۔۔

مامون نے احتیاط بتائی

ہممم ٹھیک ہے۔ ۔۔ میری بچی کا خیال رکھنا مامون یہ میری اکلوتی بیٹی ہے میں اسے کھونا نہیں چاہتی۔ ۔۔

فاطمہ کی آواز بھرا گئی

آپ دعا کریں ۔۔ ماں کی دعا عرش ہلا دیتی ہے۔۔۔ ان شاءاللہ دل آویز کو کچھ نہیں ہو گا۔۔

مامون نے نرمی سے کہا

سلیم دل آویز کو اچھے سے چادر میں چھپائے روم سے باہر لائے۔ ۔ مامون نے ایک نظر اسے دیکھا اور سر جھکا لیا۔ ۔۔ اور پھر دل آویز کو مامون کے ساتھ رخصت کر دیا۔ ۔۔

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مجھے تجھ جیسے نوکروں کی ضرورت نہیں ۔۔۔ کسی کام کی نہیں ہے تو دفعہ ہو جا۔ ۔۔

آتش غصے سے سامنے دیکھتے ہوئے دھاڑا ۔۔ جب کے رضیہ نے حیران ہو کر سامنے دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا آتش کسی اور مخلوق سے بات کر رہا ہے یہ سوچ کر رضیہ کو عجیب سا خوف محسوس ہوا

ہنہ ایک موقع دوں۔ ۔ میں کسی موقع نہیں دیتا جو کام نہ کر سکے وہ میرے کسی کام کا نہیں راکھ بنا دونگا میں تجھے۔ ۔۔

آتش نے ہاتھ میں پکڑے پانی پر کچھ پڑھتے ہوئے آگ میں چھڑک دیا۔ ۔۔

ہاہاہاہا جل اب اس آگ میں۔۔۔ مامون کو نہیں مار سکی وہ کل کا بچہ میرا مقابلہ کر رہا ہے۔ ۔ تو کیا اب میں خود اسے مارنے جاوں ۔۔ تم سب کو کس لیئے قید کیا ہے میں نے۔ ۔ مرو تم لوگ جل کر مرو۔ ۔۔

آتش آگ کے گرد گول گول گھومنے لگا اور ساتھ ساتھ عجیب طرح سے قہقہے لگا رہا تھا۔ ۔ رضیہ نے ڈر کے مارے اپنا خشک حلق تر کیا

تُو۔ ۔۔ تُجھے زندہ رہنا ہے یا اس طرح مرنا ہے بتا۔ ۔۔

ایک دم آتش رضیہ کے سامنے کھڑا ہو کر پوچھنے لگا

جج جی آتش ش ش۔۔۔ بب بابا مجھے زندہ رہنا ہے۔ ۔ مم میں مامون کو مارنا چاہتی ہوں۔ ۔

رضیہ نے ڈر کر کہا

ہنہ ۔۔۔ مامون کو مارنا چاہتی ہے۔ ۔۔ ایسے نہیں مرے گا وہ۔ ۔۔ مجھ سے مقابلہ کر رہا ہے وہ۔ ۔۔ آہ۔ ۔۔ شادی کر لی اس نے اس لڑکی کے سے ساتھ ۔۔ اب اسے اپنے پاس رکھے گا ہمیں اس کے قریب بھٹکنے نہیں دے گا۔ ۔۔۔

آتش نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا

کک کیا۔ شش شادی کر لی مامون نے۔ ۔ وہ بھی اس شہر کی لڑکی کے ساتھ۔ ۔ توبہ توبہ کتنا نیک بنتا تھا۔ ۔۔

رضیہ نے حیران ہوتے ہوئے کہا

ہاہاہا۔ ۔ نیک۔ ۔۔ وہ نیک ہے تو کیا ہوا مجھ سے زیادہ طاقت ور تو نہیں ہے۔ ۔ اب دیکھنا میں کیا کرتا ہوں۔ ۔ تُو میرے حکم کا انتظار کر سمجھی۔ ۔۔

آتش نے اپنی لال آنکھیں اس پر گاڑتے ہوئے کہا

جج حاضر ہوں میں آپکے لیئے ہر وقت حاضر۔ ۔

رضیہ نے جلدی سے سر جھکا کر کہا

ہمممم ابھی مزے کرنے دے اسے۔ ۔۔ ہاہاہا اب جا تو یہاں سے ۔۔۔

آتش نے رضیہ کو ہاتھ کے اشارے سے باہر جانے کو کہا وہ سر جھکائے وہاں سے چلی گئی

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مامون نے بہت احتیاط سے دل آویز کو تھام کر اپنے پلنگ پر بیٹھایا۔ ۔۔۔ اور پھر اسکی چادر کا پلو ہٹا کر اسے دیکھنے لگا

دل۔۔ دل آویز تم ٹھیک ہو نا؟ ؟

مامون نے گم سم اور اداس بیٹھی دل آویز سے پوچھا

آں ہاں۔ ۔۔ یہ سب کیا ہو رہا ہے مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا۔۔۔

دل آویز نے چونک کر پوچھا

میں جانتا دل آویز یہ سب تمہارے لیئے بہت الگ اور عجیب ہے مگر۔ ۔۔۔

مامون نے اپنے ارر گرد نظر دوھوڑا کر چھوٹے سے کمرے کو دیکھا۔ ۔۔

ہنہ میں مانتا ہوں میرے پاس بہت اچھا سا بیڈ نہیں ہے مگر یہ پلنگ ہے اس پر بھی پرسکون نیند آجاتی ہے ۔۔۔ میرے پاس بہت اچھا سا کچن نہیں ہے مگر چولہا ہے اس پر کھانا بن جاتا ہے۔ ۔ چھوٹا سا آستانہ ہے میرا بہت بڑا گھر نہیں ہے۔۔۔ یہاں شاید خواہشات کے مطابق کچھ نہیں مگر ضرورت کے تحت سب موجود ہے ۔۔۔۔

مامون نے سر جھکا کر بتایا

دل ۔۔۔۔ دل آویز آپ مجھے بہت عزیز ہیں بہت زیادہ۔ ۔۔

مامون نے اسکا ہاتھ تھام کر محبت سے کہا

میں نے کبھی سوچا نہیں تھا میں بھی کسی سے۔ ۔۔ خیر شاید اللہ نے یوں ہی لکھی تھی۔ ۔۔ دل آویز آپ کچھ کہنا چاہتی ہیں۔ ؟؟

مامون نے نرمی سے پوچھا

مم میں مجھے بات کرنا ہی بھول گیا میں کیا باتیں کرتی تھی کچھ یاد ہی نہیں آرہا۔ ۔۔ میرے ساتھ کیا ہوا ۔۔ کیا ہو رہا ہے کچھ بھی سمجھ نہیں آرہا۔ ۔۔ آپ مجھے بتائیں کیا میں مرنے والی ہوں؟ ؟

دل آویز نے اپنی خالی اور ویران آنکھوں سے مامون کو دیکھا

اللہ نہ کرے دل۔ ۔۔ افف ایسی باتیں مت کریں۔ ۔۔ آپکو کچھ نہیں ہو گا۔ ۔ مم میں۔ ۔۔ میں نے یہ سب آپکو بچانے کے لیے ہی کیا ہے۔ ۔ یہاں کوئی بھی نہیں ہے دیکھیں سب ٹھیک ہے یہاں۔ ۔۔

مامون نے گہرا سانس لے کر کہا

وہ سامنے درخت نظر آرہے ہیں۔ ۔ پتا ہے جب میں پہلی بار اس جنگل میں آیا تھا تو ان درختوں کو دیکھ کر ڈر گیا تھا۔ ۔ مگر اب مجھے یہ درخت سب سے زیادہ حسین لگتے ہیں۔ ۔۔ دیکھنا آپ کے بھی سارے ڈر ختم ہو جائیں۔ ۔ اللہ نے ہم انسانوں کو علم دے کر دوسری مخلوقات سے افضل کر دیا ہے۔ ۔۔ یہ علم ایک ایسی طاقت ہے جس سے انسان نہ صرف دنیا فتح کر سکتا ہےبلکے آخرت میں بھی مقام بنا سکتا ہے۔ ۔۔ یہ جو علم ہے نا یہ اللہ سے قریب کر دیتا ہے۔ ۔ اور پھر جو اللہ سے قریب ہو جائے اسے دنیا کی کسی مخلوق سے ڈر نہیں لگتا۔ ۔۔ دل آویز آپ بھی اللہ کے قریب ہو جائیں اسکا زکر کریں پھر کسی چیز سے آپکو ڈر نہیں لگے گا۔ ۔۔

مامون نے بہت پیار سے اسے سمجھایا

اللہ کا زکر۔ ۔۔ کیسے کرتے ہیں؟

دل آویز نے پوچھا

ہممم۔۔۔اللہ کا زکر ہر حال میں کرتے ہیں اٹھتے بیٹھتے سوتے جاگتے۔ ۔۔۔ اس کی نازل کی ہوئی کتاب پڑھتے ہیں اسے سمجھتے ہیں۔ ۔ اسے اسکے مختلف ناموں سے پکار پکار کر باتیں کرتے ہیں۔۔۔۔ اس پر کامل ایمان رکھتے ہیں۔ ۔۔اس پاک ذات کے حوالے سے ایک باریک بال کی طرح کا شک بھی اپنے دل میں نہیں لاتے۔ ۔۔

مامون نے مسکرا کر اسے بتایا

یہ تو بہت مشکل سا لگ رہا ہے۔ ۔۔

دل آویز نے معصومیت سے کہا

ہاں مشکل تو ہے ۔۔ اتنی بڑی ذات کے قریب ہونا کوئی آسان کام تو نہیں۔ ۔۔ سوچیں جب آپکا اگزام ہوتا ہے آپ اپنی ٹیچر سے ملنے کے لیئے کتنی بھاگ دھوڑ کرتی ہیں۔ ۔۔ وہ ٹیچر جو صرف دنیاوی ایگزام لے رہی ہے تو پھر اس زات کا قُرب جو نہ صرف اس دنیا بلکے آخرت کا بھی امتحان لیتا ہے اسکا قُرب بنا کسی محنت کے کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟؟

ہممم ٹھیک کہہ رہے آپ۔ ۔۔ وہ تو بہت بڑا ہے۔۔۔ آپ مجھے سیکھائیں وہ سب جس سے اللہ کا قرب حاصل ہو جائے؟

دل آویز نے پوچھا

ہممم کیوں نہیں میں سب سیکھاونگا۔ ۔۔ فل حال آپ جلدی سے ٹھیک ہو جائیں۔ ۔۔

مامون نے مسکرا کر کہا

میں کب ٹھیک ہونگی؟ ؟

دل آویز نے پوچھا

جب اللہ نے چاہا۔ ۔۔ وہ ہی شفاء دیتا ہے بس آپ نے اس سے مایوس نہیں ہونا۔ ۔۔

مامون نے مسکرا کر کہا

نیند آرہی ہے؟ ؟

مامون نے دل کے معصوم سے چہرے کو نرمی سے چھوتے ہوئے پوچھا

نیند۔۔ نن نہیں مجھے سونا نہیں ہے۔ ۔ بہت عجیب سے لوگ آتے ہیں میرے خواب میں۔ ۔

دل نے ڈرتے ہوئے کہا

اب نہیں آئیں گے۔۔ میرا یقین کریں۔۔ ایسا کرتے ہیں کے آپ سو جائیں میں یہاں آپکے سامنے بیٹھ جاتا ہوں پھر تو آپکو ڈر نہیں لگے گا نا؟

مامون نے مسکرا سامنے پڑی کُرسی کی طرف اشارہ کیا

نہیں پھر نہیں لگے گا۔ ۔ مگر آپ نہیں سوئیں گے؟ ؟

دل آویز نے فکرمندی سے پوچھا

نہیں۔۔۔ میں اب کیسے سو سکتا ہوں۔ ۔

مامون نے گہرا سانس لے کر کہا

کیوں آپکو کیا ہوا؟

دل آویز نے پریشانی سے پوچھا

محبت۔ ۔ محبت ہو گئی ہے مجھے وہ بھی آپ سے۔ ۔۔

مامون نے اسکی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔ ۔ دل آویز نے گھبرا کر نظریں جھکا لیں۔ ۔۔

آہ۔ ۔ خیر آپکو فل حال تنگ نہیں کرونگا اب آپ یہاں آرام سے لیٹ جائیں۔ ۔۔

مامون نے اٹھ کر اُسے کندھوں سے تھاما اور لیٹانے لگا

اور آنکھیں بند کر کے سو جائیں میں آپ پر دم کر دیتا ہوں اس سے آپکو بہت اچھے خواب آئیں گے۔ ۔۔ ہممم۔۔

مامون نے اس کے اوپر چادر دی

تھینک یو۔ ۔۔ آممم جب میں سو جاوں تو آپ بھی سو جائیے گا۔ ۔۔

دل آویز نے مسکرانے کی کوشیش کی

میرے سونے کی فکر نہ کریں مجھے عادت ہے جاگنے کی۔۔۔ آپ آنکھیں بند کریں۔ ۔۔

مامون نے آہستہ سے اسکی آنکھون کو چھوا۔ ۔۔ دل آویز نے آنکھیں بند کیں۔ ۔۔

مامون اس کی بند آنکھوں کو دیکھتے ہوئے دم کرنے لگا۔ ۔ دل آویز کب نیند کی وادیوں میں اتر گئی اسے پتا ہی نہ چلا جب کے مامون اسی طرح اس پاس بیٹھا اسے دیکھنے لگا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *