Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pur Israar Mohabat (Episode 13)

Pur Israar Mohabat by Maria Awan

وہ ہی شخص اپنے مقررہ وقت پر دوبارا دل آویز کا علاج کرنے آیا اور اُسی طرح اس نے سلیم اور فاطمہ کو روم سے جانے کا کہا۔ ۔ سلیم مامون کو اس کے آنے کا وقت پہلے ہی بتا چکا تھا۔ ۔۔

پانچ منٹ میں ہی مامون سلیم کے گھر موجود تھا فاطمہ نے مامون کو دیکھا تو پھر سے آگ بگولا ہو گئی

سلیم اسے آپ نے کیوں بُلایا ہے۔ ۔۔

فاطمہ نے دانت پیستے ہوئے آہستہ آواز میں کہا مگر سلیم نے فاطمہ کو ہاتھ کے اشارے سے چپ کروا دیا

خاموش رہو تم۔۔ کسی مقصد سے ہی بُلوایا ہے۔ ۔۔ مامون پلیزز تم دیکھو وہ آدمی کیا کر رہا ہے۔ ۔۔

سلیم نے مامون سے کہا

جی آپ خود بھی آکر دیکھ لیں۔ ۔۔

مامون نے فاطمہ کو دیکھتے ہوئے کہا اور دل آویز کے روم کی طرف چلا گیا۔ ۔۔ مامون دبے قدموں روم میں داخل ہوا اور لائٹ جلا دی کمرہ ایک دم روشن ہو گیا۔ ۔ مامون کے پیچھے سلیم اور فاطمہ بھی تھے۔ ۔۔ جیسے ہی کمرے میں روشنی ہوئی تو وہ شخص گھبرا کر کھڑا ہو گیا۔ ۔۔ مامون نے دل کی طرف دیکھا تو اپنی نظریں فوراً اس پر سے ہٹا لیں کیونکے دل آویز کی جس حالت میں تھی وہ اس پر نظر نہیں ڈال سکتا تھا۔ ۔ وہ شخص دل آویز کے پیٹ پر نہ جانے کس قسم کی لکریں بنا رہا تھا۔ ۔ دل کو اس حالت میں دیکھ کر فاطمہ اور سلیم کے پاوں سے زمین ہی نکل گئی فاطمہ نے تیزی سے آگے بڑھ کر دل آویز کی کمیز ٹھیک کی اور اس پر چادر ڈالی جبکے مامون کا دل کیا وہ اس شخص کے ٹکڑے ٹکڑے کر دے مامون غصے سے اسکی طرف لپکا اور اس کی گردن پکڑ کر اسے دیورا کے ساتھ لگا دیا

گھٹیا زلیل انسان یہ سب کیا ہو رہا تھا۔ ۔۔ ؟؟

مامون نے اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نفرت سے پوچھا

یی یہ علاج کا حصہ ہے چھوڑو مجھے۔ ۔۔ کون ہو تم۔ ۔۔

وہ آدمی مشکل سے بولا۔ ۔۔

دل آویز نیم غنودگی میں تھی اس نے مامون کو دیکھا

ماما یہ انہیں کیوں مار رہا یہ بندہ میرا علاج کر رہا ہے بہت اچھے ہیں انہیں چھوڑ دیں۔ ۔۔ ماما روکیں اسے۔ ۔۔

دل آویز نے فاطمہ سے کہا۔ ۔ سلیم اور فاطمہ نے حیران ہو کر دل آویز کو دیکھا کیونکے وہ اتنا تو جانتے تھے کے دل آویز کو کوئی اسطرح چُھوئے چاہے وہ واقعی علاج کیوں نہ کر رہا ہو دل آویز اس بہتر مرنا پسند کرے گی۔ ۔ مامون نے دل کی بات سن کر اسے دیکھا اور اس بندے کو چھوڑتا ہوا دل کے پاس آیا۔ ۔ دل نے مامون کی آنکھوں میں دیکھا تو وہ خوفزدہ ہو گئی مامون نے جھک کر اسکے گلے سے تعویز کو پکڑ کر ایک جھٹکے سے توڑ دیا۔ ۔۔۔ دل آویز نے ایک دم گہرا سانس لیا۔ ۔۔ جیسے کسی چیز سے آزاد ہوگئی ہو۔ ۔۔

یہ کیا کر رہے ہو تم اسکا تعویز کیوں اتارا تم جانتے نہیں میں کون ہوں میں تمہیں ختم کر سکتا ہوں۔ ۔۔

اس شخص نے غصے سے مامون کی طرف دیکھتے ہوئے کہا ۔۔ ۔ مامون نے پلٹ کر ایک بار پھر اس گردن پکڑ لی

تم مجھے نہیں جانتے کے میں کون ہوں۔ ۔۔

مامون نے اپنی سرخ انگارہ نظریں اس پر گاڑتے ہوئے کہا ۔۔۔

مامون کی آنکھوں میں کچھ ایسا تھا کے وہ شخص بھی ایک پل کے لیئے ڈر سا گیا

تت تم کون ہو چچ چھوڑو مجھے آہ۔۔۔

مامون کی گرفت اتنی سخت تھی کے اس بندے کی سانس بند ہونے لگی

نہیں چھوڑوں گا جان سے مار دونگا ہمت کیسے ہوئی اسے ہاتھ لگانے کی۔ ۔۔

مامون نے دانت پیستے ہوئے کہا۔ ۔۔

مامون چھوڑ دو مر جائے گا یہ یہیں۔ ۔ میں نہیں چاہتا اس شیطان کی موت یہاں ہو۔ ۔

سلیم نے اٹھ کر مامون سے کہا

انکل میں اسے زندہ نہیں چھوڑ سکتا۔ ۔۔

مامون نے اپنی گرفت اُس شخص کی گردن پر اور سخت کی

مامون بات کو سمجھو خامخواہ میں پولیس کیس بن جائے گا۔ ۔ ہم بعد میں اس سے نپٹ لیں گے۔ ۔

سلیم نے مامون کو نرمی سے سمجھایا

مامون نے ایک جھٹکے سے اُسکی گردن چھوڑ دی۔ ۔۔ وہ بری طرح کھانسنے لگا۔ ۔۔ مامون نے اس شخص کی جیبوں میں موجود تمام تعویز اور چیزیں نکال کر انکے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے

یہ کیا کر رہے ہو۔ ۔۔ مت کرو یہ میں نے بہت محنت سے بنائیں ہیں۔ ۔۔

اُس بندے نے مامون کی منت کرتے ہوئے کہا۔۔ ۔ مامون نے اس کے ہاتھ اور گلے میں موجود سب تعویز اور انگھوٹیاں اتار کر پھینک دیں

یہ مت بھولنا کے میں نے تمہیں چھوڑ دیا ہے آئندہ اگر کسی بھی لڑکی کے ساتھ ایسا کیا تو آخری سانس لینے کا بھی موقع نہیں دونگا۔ ۔۔ تمہاری یہ سب چیزیں میرے پاس ہیں تو یاد رکھنا میری نظریں تم پر ہونگی۔ ۔۔ اب جاو یہاں سے۔۔۔

مامون نے غصے سے کہا۔۔۔ وہ شخص تیزی سے وہاں سے نکل گیا۔ ۔۔ دل آویز حیران پریشان سی ہو کر مامون کو دیکھنے لگی جو گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کر رہا تھا

یہ سب کیا کر رہا تھا دل کے ساتھ اور اگر وہ یہ سب کر رہا تھا تو دل نے ہمیں کیوں نہیں بتایا۔ ۔۔؟

فاطمہ نے مامون سے پوچھا۔ ۔ انہیں احساس ہو رہا تھا کے آج وہ اپنی ضد کی وجہ سے دل آویز کی عزت کھو دیتیں

اُس نے دل آویز پر ایسا جادو کیا کے یہ اس کی دیوانی ہو جائے اور بس اسی کی تعریف کرے۔۔۔ ایسے لوگوں کا اور کوئی بس تو چلتا نہیں اس لیئے یہ لوگ مریض اور اسکے گھر والوں کو اسطرح ٹریپ کرتے ہیں کے انہیں غلط اور صحیح کی پہچان ہی نہیں رہتی اور پھر کچھ آپ جیسے پڑھے لکھے لوگ بھی ان جیسوں کی باتوں میں آجاتے ہیں۔ ۔۔

مامون نے فاطمہ کو دیکھتے ہوئے طنزیہ کہا فاطمہ نے شرمندگی سے سر جھکا لیا

دل بیٹا اس نے آپ کے ساتھ کیا کیا۔ ۔ آپ ٹھیک تو ہو نا؟

سلیم نے دل سے پوچھا

پتا نہیں بابا مجھے کچھ بھی یاد نہیں آرہا۔۔۔ کون تھا وہ؟ ؟

دل نے گم سم سے انداز میں پوچھا

بس بیٹا تھا کوئی شیطان صفت آدمی شکر اللہ کا تم ٹھیک ہو۔ ۔۔

سلیم نے دل آویز کے ماتھے پر بوسا دے کر کہا

دل آویز کہیں اور کوئی تعویز تو نہیں پہنایا اس نے آپ کو؟

مامون نے دل آویز کے سامنے بیٹھتے ہوئے نرمی سے پوچھا

نن نہیں پتا نہیں مجھے یاد نہیں آرہا۔ ۔

دل نے سوچتے ہوئے جواب دیا

اب کیا ہو گا مامون کیا میں بھی زینت باجی کی طرح مر جاون۔ ۔۔

شیش اللہ نہ کرے۔ ۔۔

مامون نے بے اختیار ہی دل آویز کے ہونٹوں پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسکو چپ کروا دیا۔ ۔ سلیم اور فاطمہ نے چونک کر مامون کو دیکھا۔ ۔ مامون کو جب احساس ہوا تو اس نے فوراً اپنا ہاتھ اس کے ہونٹوں سے ہٹا لیا ۔۔۔ مگر دل کی بات سن کر اسے عجیب سی گھبراہٹ ہونے لگی۔۔ اسکا دل کیا وہ یہاں سے بھاگ جائے۔

وو وہ مم میں تھوڑی دیر میں دوبارا آونگا آیم سوری۔ ۔۔

مامون بنا کسی کو دیکھے تیزی سے وہاں سے چلا گیا۔ ۔۔

آج سلیم سے مامون کی نظروں میں دل کے لیئے پیدا ہونے والی محبت چھپ نہ سکی تھی۔ ۔

مگر نجانے کیوں سلیم کو یہ جان کر اطمینان سا ہوا تھا۔ ۔ جبکے فاطمہ اور بیچین ہو گئی۔

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

مامون سلیم کے گھر سے نکل کر تیزی سے مسجد آگیا اور گہرے سانس لینے لگا۔۔۔ دل نے تو صرف ایک بات کی تھی مگر اس کے باوجود مامون کو لگا اسے سانس لینے میں مشکل ہو رہی ہے۔ ۔۔ اسکا دل کیا وہ چیخے روئے مگر وہ ایسا کچھ نہیں کر سکتا تھا سوائے صبر کے۔ ۔۔ مسجد میں بچھی ہوئیں صفوں پر وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور سر جھکا لیا اسے دل آویز کا وہ ہنستا مسکراتا چہرہ شدت سے یاد آیا جب وہ گاوں آئی تھی کتنی زندہ دل تھی زندگی سے بھر پور اور اب دو دن میں ہی مُرجھا سی گئی تھی اگر آج دل آویز کے ساتھ وہ شخص کچھ غلط کر دیتا تو مامون ساری زندگی خود کو معاف نہ کر پاتا۔ ۔۔

امام صاحب نے مامون کو اسطرح بیٹھے دیکھا تو پریشانی سے اسکے پاس آئے

کیا ہوا بیٹا سب ٹھیک ہے نا؟

امام نے فکرمندی سے پوچھا

نہیں وہ ٹھیک نہیں تو کچھ ٹھیک نہیں ہے۔ ۔

مامون نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں کہا

کون ٹھیک نہیں ہے؟ ؟

امام صاحب نے مامون کی کمر سہلاتے ہوئے پوچھا

وو وہ۔ ۔۔ کک کوئی نہیں۔ ۔۔

مامون کو احساس ہوا کے وہ دل کا نام اسطرح کسی کے سامنے نہیں لے سکتا اس لیئے وہ خاموش ہو گیا

کیا بہت محبت کرنے لگے ہو اس سے۔ ۔؟؟

امام صاحب نے مسکراتے ہوئے پوچھا مامون نے چونک کر انہیں دیکھا

نن نہیں۔ ۔۔ آمممم ایسا کچھ نہیں ہے۔ ۔۔

مامون نے گھبرا کر نظر چرائی

کیوں جھوٹ بول رہے ہو جب کےتم جھوٹ بول ہی نہیں سکتے۔ ۔۔ ورنہ اس پہلے بھی تو کتنے لوگوں کا علاج کیا ہو گا تم نے مگر کیا اتنے بے بس اور ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئے ہو آج سے پہلے؟

امام صاحب نے نرمی سے پوچھا

نہیں آپ صحیح کہہ رہے مگر میں بھی کیا کروں اسے تکلیف میں دیکھتا ہوں تو سب بھولنے لگتا ہوں۔ ۔ عجیب سا محسوس ہوتا ہے مجھے۔ ۔ مجھے لگتا ہے میں ہی زمیدار ہوں اسکی حالت کا۔ ۔ ۔ میں کمزور پڑ جاتا ہوں اسکے سامنے۔ ۔۔

مامون نے سر ہاتھوں میں تھام کر آخر کار اقرار کر ہی لیا

آہ۔ ۔۔ یہ ہی مسئلہ ہے تم نے اسے اپنی کمزوری بنا لیا ہے اسی لیئے تم کمزور پڑ جاتے ہو۔ ۔ اگر تم اسے اپنی طاقت بناو گے تو یقین کرو حالات کا مقابلہ کر لو گے۔ ۔ بجائے اس بات پر پچھاتاو کے یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ہے یہ سوچو کے آخر اس میں کیا مصلحت ہے۔ ۔ اللہ تم سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے۔ ۔۔ جب ہمارا رب ہم سے کوئی بڑا کام لینا چاہتا ہے نا تو سب سے پہلے ہماری محبوب چیز کو آزمائش میں ڈالتا ہے۔ ۔۔ اب تم خود سوچو تمہیں یہ کمزوری طاقت کیسے بنانی ہے۔ ۔۔ تم اسے بچانے کے لیئے کس حد تک جا سکتے ہو اور یہ بھی سوچو کے وہ رب تم سے کیا چاہتا ہے؟ ؟

امام صاحب نے مامون کو بہت نرمی سے سمجھایا۔ ۔ مامون نے بہت غور سے انکی سب باتیں سنیں اور سوچنے لگا

ہممم آپ صحیح کہہ رہے ہیں مجھے کمزور نہیں پڑنا۔ ۔ میں اسے اپنی طاقت بناونگا۔ ۔۔ ہاں میں سمجھ گیا۔ ۔ اللہ چاہتا ہے میں اس شیطان کو ختم کر دوں جب ہی تو اس نے میری سب سے محبوب چیز کو میرے لیئے آزمائش بنایا ہے۔ ۔ ہمممم میں کمزور نہیں پڑوں گا میں آخری سانس تک لڑونگا۔۔۔ آپ کا بہت شکریہ امام صاحب۔ ۔۔

مامون نے مسکرا کر کہا اسکے دل سے ایک دم بوجھ سا ہٹ گیا۔ ۔۔ شاید یہ سب ایسے ہی لکھا تھا۔ ۔۔ مامون ایک نئے عزم کے ساتھ کھڑا ہوا۔۔۔ اب وہ تمام جزبات پر وہ قابو پا چکا تھا۔ ۔ امام صاحب سے گلے ملنے کے بعد وہ سلیم کے گھر کی طرف روانا ہو گیا

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

مامون اب مجھے بتاو آخر کیا حل ہے ؟؟ کیا کرنا ہے۔ ۔ دل آویز کچھ بولتی ہی نہیں اسے ایک چپ سی لگ گئی ہے۔ ۔ ہر وقت میں یا فاطمہ اسی کے پاس ہوتے ہیں مجھے ڈر لگنے لگا ہے اب۔۔۔۔

سلیم نے مامون کو دل کی حالت کا بتایا جو کے وہ پہلے سے سب جانتا تھا

آمممم اسکا ایک ہی حل ہے سلیم انکل۔ ۔۔

مامون نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

ہاں کہو میں سب کرنے کو تیار ہوں بس میری بچی بچ جائے۔۔۔۔

سلیم نے فوراً پوچھا

دل آویز کو گاوں لے کر جانا ہوگا۔ ۔ میرا عمل میرا علم سب ونہیں موجود ہے میں یہاں رہ کر وہ سب نہیں کر سکتا جو اپنے آستانے میں کر سکتا ہوں۔ ۔ اور اب میں کوئی رزک نہیں لینا چاہتا۔۔۔

مامون نے ہمت کرتے ہوئے کہا

اوہ۔ ۔۔ گاوں۔ ۔ مم مگر فاطمہ نہیں مانے گی وہ تو گاوں کے نام سے ہہ چِڑتی ہے۔ ۔۔

سلیم نے دائیں بائیں سر ہلاتے ہوئے کہا

آپ کو انہیں منانا پڑے گا میں آج واپس جا رہا ہوں۔ ۔ آپ کو جلد ہی دل آویز کو گاوں لانا پڑے گا۔ ۔۔ اس سے پہلے کے دیر ہو جائے۔ ۔۔

مامون نے مضبوط لہجے میں کہا اور کھڑا ہو گیا

میں دل آویز پر دم کرنا چاہتا ہوں ؟

مامون نے سوالیا نظروں سے سلیم کو دیکھتے ہوئے پوچھا

آں ہاں آو ۔۔۔

سلیم نے چونک کر جواب دیا اور مامون کو لیئے دل آویز کے روم میں آگئے جہاں فاطمہ دک آویز کا سر اپنی گود میں رکھے اسے دبا رہی تھیں

مامون نے روم میں آکر سلام کیا

فاطمہ نے سر کے اشارے سے جواب دیا ایک طرف وہ مامون سے شرمندہ تھیں مگر گاوں والوں کی نفرت اب بھی انکے دل میں موجود تھی

دل آویز کے دم کرنا ہے۔۔۔

سلیم نے فاطمہ کو دیکھتے ہوئے کہا

آو مامون بیٹھو۔ ۔۔

سلیم نے مامون کو بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ ۔ ۔ مامون نے صرف ایک نظر دل آویز پر ڈالی جو آنکھیں بند کیئے لیٹی تھی۔ ۔۔ پھر مامون نے آنکھیں بند کیں اور دم کرنے لگا

دم سے فارغ ہو کر اس نے سلیم کو مخاطب کیا

سلیم انکل۔ ۔۔ میری بات پر جلد ہی عمل کرئیے گا۔ ۔ میں اب چلتا ہوں اللہ حافظ۔ ۔

مامون کھڑا ہوا

میں تمہیں بس اسٹاپ تک ڈراپ کر دیتا ہوں مامون۔ ۔۔

سلیم بھی اسکے ساتھ کھڑے ہوئے

نہیں انکل اسکی زحمت نہ کریں آپ بس انکا خیال رکھیں ان شاءاللہ پھر ملاقات ہو گی۔ ۔ اللہ حافظ۔ ۔۔

مامون نے پلٹ کر فاطمہ کو دیکھ کر اللہ حافظ کہا اور وہاں سے چلا گیا

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

میں ہر گز دل آویز کو گاوں نہیں بھیجونگی۔ ۔۔

جب سلیم نے دل آویز کو گاوں لیجانے کی بات کی تو توقع کے مطابق فاطمہ فوراً بِگڑ گئیں

دل آویز علاج کے لیئے گاوں جارہی ہے۔ ۔ ایک بار اسکا علاج ہو جائے اسکے بعد میں اسے وہاں کبھی نہیں لے کر جاونگا بس۔ ۔۔

سلیم نے سختی سے کہا

ہنہ جہاں سے یہ بیماری لے کر آئی ہے وہاں سے علاج کیسے ہو سکتا ہے۔ ۔۔ سلیم ایک غلطی آپ کر چکے ہیں اب دوبارہ وہی غلطی مت کریں پلیززز۔۔۔

فاطمہ نے تنگ آکر اپنے ہاتھ جوڑے

ایک غلطی تم بھی کر چکی ہو۔۔۔۔ اور اب ہمارے پاس کوئی دوسرا اوپشن نہیں ہے اس لیئے بہتر ہے کے جو میں کہہ رہا ہوں مان جاو۔ ۔

سلیم نے دو ٹوک انداز میں کہا

اففف کیوں آپکو سمجھ نہیں آتی وہ گاوں۔ ۔۔

تمہیں کیوں سمجھ نہیں آرہی۔۔۔ اب اس گاوں میں ہی اسکا علاج ہو سکتا ہے۔ ۔ دیکھ لیا ہے نا تم نے یہاں کے بندے پر بھروسا کر کے کیا نکلا وہ اگر ہماری بچی کی عزت آج محفوظ ہے تو اسی گاوں کے لڑکے کی وجہ سے محفوظ ہے۔ ۔۔ اب بس کرو گاوں والوں سے نفرت کرنا۔ ۔ اپنی بچی کی خاطر کچھ دن بھول جاو کے وہ گاوں ہے بس یہ سمجھو وہ ایک ایسی جگہ ہے جہاں تمہاری بیٹی کا علاج ہو سکتا ہے۔ ۔۔

سلیم نے غصے سے فاطمہ کی بات کاٹتے ہوئے کہا

تو ٹھیک ہے میں بھی جاونگی آپ کے ساتھ اس بار۔ ۔۔

فاطمہ نے مبجوراً ہامی بھرتے ہوئے کہا

مجھے اس بات پر کوئی اعتراض نہیں۔ ۔ میں کل صبح کی سیٹ کروا رہا ہوں۔ ۔۔ علی کو اپنی امی کی طرف چھوڑ دو کچھ دن۔ ۔۔

سلیم نے سکون کا سان لیا کے فاطمہ کو منانے کے لیئے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی۔ ۔۔۔

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

اگلے ہی دن مامون کے پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی سلیم دل آویز اور فاطمہ کے ساتھ گاوں پہنچ گیا۔ ۔۔ رشیدہ اور سمن نے بہت اچھی طرح فاطمہ اور دل آویز کا استقبال کیا مگر فاطمہ کچھی کچھی سی رہی۔۔ اسے ویسے ہی رشیدہ سے بہت چِڑ تھی۔ ۔ آخر وہ سوتن جو تھی۔

سمن نے دل آویز کو دیکھا تو اسے جی بھر کر رونا آیا۔ ۔ دل آویز بہت مشکل سے سب سے مسکرا کر ملی۔ ۔ اتنے سے سفر نے ہی اسکی حالت بہت خراب کر دی تھی۔ ۔ رشیدہ نے کھانے پر اچھا خاصا احتمام کیا تھا۔ ۔ سب نے مل کر کھانا کھایا۔ ۔ دل آویز سے زیادہ دیر بیٹھا نہ گیا تو فاطمہ اسے اپنے ساتھ لیئے روم میں آگئیں۔ ۔ جبکے سلیم سب سے پہلے اعظم کی طرف گیا تاکے زینت کی تعزیت کر سکے

🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁
🍁

مامون کو دل آویز کے آنے کی خبر ہو گئی تھی۔ ۔۔ وہ مطمئن تھا اور بہت پُر امید بھی۔ ۔۔ اس نے سوچ لیا تھا چاہے اب اس کی جان بھی چلی جائے مگر وہ آتش کو زندہ نہیں چھوڑے گا۔ ۔۔ اس کے لیئے وہ پوری رات ہی شاہ بابا کی دی گئی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا۔۔ بیشک عمل بہت مشکل تھے مگر مامون کا ارادہ بھی بہت مضبوط تھا۔

اسکے دل میں شدید خواہش جاگی کے وہ ایک نظر دل آویز کو دیکھ آئے مگر اب اسے اپنے تمام جزبات پر قابو پانا تھا کیونکے یہ عمل جزبات سے کرنے والا نہیں تھا۔ ۔۔ اس نے اپنی خواہش کو اپنے اندر دفن کیا اور وضو کرنے لگا اسے اپنا یہ عمل آج سے ہی شروع کرنا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *