Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pur Israar Mohabat (Episode 06)

Pur Israar Mohabat by Maria Awan

زینت کو ٹھیک ہوتا دیکھ کر دلاور پریشان ہوا تھا۔ ۔۔ وہ پریشانی کے عالم میں آتش بابا کے پاس آیا

آتش بابا آپ نے کہا تھا زینت تو ایک ہفتے میں مردہ ہو جائے گی مگر وو وہ تو اب خود سے بیٹھنے لگی ہے۔ ۔۔

دلاور آتش بابا کے سامنے گھٹنوں کے بل سر جھکائے بیٹھا تھا

ہنہ۔ ۔۔ وہ کل کا بچہ۔ ۔ میرا سارا عمل ضائع کر گیا۔ ۔۔ مامون بابا نے مجھ سے مقابلہ کیا اب اسے اِس کی قیمت چکانی پڑے گی۔ ۔۔ اب میں اسے نہ زندوں میں چھوڑوں گا نہ مردوں میں۔ ۔۔

آتش اپنی لال خوفناک آنکھوں سے دلاور کو گھورتے ہوئے بولا

آتش بابا وہ روز زینت کو دیکھنے آتا ہے روز کوئی عمل کرتا ہے۔ ۔ مجھے تو شک ہے کے اسے معلوم ہو گیا ہے کے یہ عمل ہم نے کروایا ہے۔ ۔۔

دلاور نے ڈرتے ہوئے کہا

ہاہاہاہا۔ ۔۔ اسے معلوم ہو بھی جائے تو بھی وہ تمہارا کچھ نہیں بیگھاڑ سکتا۔ ۔۔ مگر اب تم لوگوں کو پہلے میرا کام کرنا ہوگا۔ ۔

آتش نے اپنے سامنے جلتی آگ میں کچھ پھینکا جس سے آگ بھڑک گئی۔ ۔۔ دلاور ڈر کر پیچھے ہوا

جج جی آتش بابا حکم کریں۔ ۔۔

دلاور نے اسکے سامنے ہاتھ جوڑے

مامون کا کوئی کپڑا چاہئیے مجھے اور اسکا بال۔ ۔۔ اور ہاں خون بھی چاہیئے مجھے اسکا۔ ۔۔

آتش بابا اپنی جگہ سے کھڑا ہوا

کپڑے اور بال تو میں لے آونگا کسی طرح مم مگر خخ خون۔ ۔۔ خون کیسے لاونگا۔ ۔۔؟

دلاور نے ہکلاتے ہوئے پوچھا

جیسے مرضی لا۔ ۔۔ اسے چوٹ پہنچا۔ ۔۔ اسکا خون اپنے کپڑے سے صاف کر اور وہ لے آ۔ ۔ بس ایک ہفتہ دیتا ہوں میں۔ ۔۔ ایک ہفتے میں یہ کام نہ کیا تو اپنے انجام کا دمیدار تو خود ہو گا۔۔۔

آتش نے جھک کر دلاور کے بال اپنی مٹھی میں جکڑے دلاور نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کیں

جج جی ہو جائے یی یہ کام۔ ۔۔ آپ کا حکم سر آنکھوں پپ پر۔ ۔۔۔

دلاور نے ڈرتے ہوئے کہا

ہممم اب جاو یہاں سے۔ ۔۔ زینت کی فکر چھوڑ دو وہ بس اپنی زندگی کے آخری دن گن رہی ہے۔ ۔ مامون نے میرا عمل ضائع کر کے غلطی کی ہے اب زینت کو ایسی سزا دونگا کے مامون سمجھ بھی نہیں پائے گا۔ ۔ جاو یہاں سے اب۔ ۔۔

آتش نے ایک جھٹکے سے اس کے بال چھوڑے اور خود آگ کے گرد چکر لگانے لگا۔۔ دلاور اپنا خشک حلق تر کرتا ہوا وہاں سے چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مامون زکر سے فارغ ہو کر اپنے پلنگ پر لیٹ گیا۔ ۔۔ جیسے ہی اس نے آنکھیں بند کیں اس کی آنکھوں کے سامنے دل آویز کا چہرہ آگیا۔ ۔ مامون نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں اور اٹھ کر بیٹھ گیا

یی یہ کیا ہو رہا ہے میرے ساتھ۔ ۔ میں ایسا تو نہیں تھا۔ ۔ اففف ہر وقت میں اسے کیوں سوچنے لگا ہوں۔ ۔ میرا دل میرے اختیار سے باہر کیوں ہو رہا ہے۔ ۔ میں نے تو کبھی کسی سے اتنی باتیں نہیں کیں۔ ۔ مگر اس سے تو میرا دل کرتا ہے میں باتیں کرتا ہی رہوں ۔۔ یا اللہ یہ کیا ہو رہا۔ ۔ اگر یہ شیطانی خیلات ہیں تو مجھے اپنے ایمان میں رکھ۔۔۔ مجھے بہکنے سے بچانا میرے مالک۔ ۔

مامون نے ہاتھ اٹھا کر دعا مانگی اور گہرا سان لے کر دوبارہ لیٹ گیا۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دل بیٹا سارا سامان پیک کر لیا ہے نا آج شام ہمیں لازمی نکلنا ہے آپکی ماما بہت سخت ناراض ہیں۔۔۔۔

سلیم نے دل آویز سے پوچھا

جی بابا آلموسٹ سب کچھ پیک ہے بس سمن نے کچھ تحفے دینے ہیں وہ رہ گئے ہیں۔ ۔ باقی گاوں کی کافی ساری عورتوں نے کچھ نہ کچھ دیا ہے آپ کو پتا ہے اعظم بھائی کی ماما نے مجھے اتنا پیارا سا پراندہ دیا ہے۔۔۔ رکیں میں آپکو دیکھاتی ہوں۔۔۔۔

دل آویز نے خوشی سے بتایا اور پراندہ لینے روم میں گئی

یہ دیکھیں بابا اتنا اچھا لگا مجھے کہہ رہی تھیں خود اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے انہوں نے میرے لیِئے۔ ۔۔

دل نے سلیم کو پراندہ دیکھاتے ہوئے بتایا

ہاں بہت پیارا ہے مگر آپ کو یہ پہننا کہاں آتا ہے۔ ۔

سلیم نے مسکرا کر جواب دیا

اسی لیئے میں نے سوچا آج ہی پہن لوں سمن باندھے گی میرے یہ پراندہ۔ ۔ آنٹی بھی خوش ہو جائیں گیں۔ ۔

دل نے پراندے کو پیار سے دیکھتے ہوئے کہا

اچھا چلو مگر وقت پر ریڈی ہو جانا ۔۔۔ میں نے رشیدہ اور سمن کو بتا دیا یے باقی تم نے جو پیک کرنا ہے کر لو میں زرا ایک چکر دلاور کے لگا آوں۔ ۔

سلیم نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا

بابا اعظم بھائی کے گھر مجھے لے کر جایئے گا میں نے آنٹی کو پراندہ پہن کے دیکھانا ہے۔۔ ۔

دل آویز نے پیچھے سے آواز دے کر بولا

اچھا لے جاونگا تم تیار ہو جاو۔ ۔

سلیم نے پلٹے بغیر جواب دیا اور گھر سے نکل گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلیم اور دل آویز اعظم کے گھر ملنے آئے۔ ۔ دل آویز اعظم کی والدہ کے ساتھ بیٹھ کر انہیں پراندہ دیکھانے لگی۔ ۔ یوں تو دل کے بال زیادہ لمبے نہیں تھے مگر سمن نے بہت اچھے سے پراندہ باندھا تھا۔ ۔ دل پراندہ پہن کر خود کو ہواوں میں اڑتا محسوس کر رہی تھی وہ بہت خوش تھی بار بار اپنا پراندہ آگے کر کے اسے گُھماتی اور ہنسنے لگتی۔ ۔ سب ہی اس کی باتوں کو انجوائے کر رہے تھے۔ ۔جبکے سلیم زینت سے ملنے اس کے روم میں چلا گیا جہاں مامون پہلے سے موجود تھا

اسلام و علیکم سلیم انکل۔ ۔۔

سلیم کو اندر آتے دیکھ کر مامون نے اٹھ کر سلام کیا

والیکم اسلام۔ ۔ کیسے ہو مامون؟

سلیم نے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا

الحمداللہ بلکل ٹھیک آپ بتائیں؟

مامون نے اپنے ساتھ بیٹھنے کا اشارہ کیا

الحمدللہ ٹھیک تم کیسے ہو اعظم؟

سلیم نے زینت کے پاس بیٹھے اعظم سے پوچھا

میں بھی ٹھیک جی رب کا شکر ہے۔ ۔۔

اعظم نے مسکرا کر جواب دیا

کیا ہوا کیسی طبیعت ہے زینت کی اب؟ ؟

سلیم نے سوتی ہوئی زینت پر نظر ڈال کر پوچھا

بس کل ٹھیک تھی مگر آج پھر سے وہ ہی درد ابھی مامون بابا نے دم کیا ہے تو سکون سے سوئی ہے۔ ۔۔

سلیم نے دکھی لہجے میں کہا

اوہ اللہ مکمل شفاء دے زینت بیٹی کو۔ ۔۔ جوان جہان ہے پتا نہیں کیوں لوگ دشمنی نے اتنے اندھے ہو جاتے ہیں۔ ۔ خیر مامون بیٹا کوئی خبر ملی آخر کب تک یہ اس تکیلف میں رہے گی؟ ؟

سلیم نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے پوچھا

اللہ شفاء دینے والا ہے انکل میں کوشیش کر رہا ہوں آپ دعا کریں اللہ مجھے کامیاب کرے اور میں یہ گاوں اس شیطان سے پاک کر سکوں۔ ۔

مامون نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بناتے ہوئے کہا

ان شاءاللہ مامون۔ ۔ بیشک ہار شیطان کی ہی ہوتی ہے کب تک وہ بچے گا۔ ۔۔ میری دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ ۔۔

سلیم نے مامون کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا

شکریہ سلیم انکل۔ ۔

اچھا ہوا تم یہیں مل گئے آج ہماری واپسی ہے سوچا گاوں کا چکر لگا لیں۔۔۔ شکر تم سے بھی ملاقات ہو گئی۔ ۔۔

سلیم نے مامون کو دیکھتے ہوئے کہا

آ آج۔ ۔ اتنی جلدی آپ لوگ جا رہے ہیں۔ ۔

مامون کی آواز اٹکنے لگی

کہاں یار ہفتے سے اوپر ہو گیا ہے۔ ۔۔ دل کا تو ابھی بھی جانے کا موڈ نہیں تھا مگر اسکی یونیورسٹی اوپن ہو گئی ہے اور ہماری زوجہ محترمہ بھی اب کافی ناراض ہو گئی ہیں۔۔۔

سلیم نے مسکرا کر بتایا

مامون خاموش رہا اسے عجیب سی اداسی ہونے لگی۔ ۔۔۔

دروازہ نوک ہوا اور اعظم کی والدہ اور دل کمرے میں آئیں

اسلام و علیکم!

دل آویز نے سلام کیا

والیکم اسلام دل بیٹا اندر آو۔ ۔

اعظم نے اپنی جگہ سے کھڑے ہو کر جواب دیا جبکے مامون اپنا سر جھکائے بیٹھا رہا

اوہ زینت باجی سو رہی ہیں۔ ۔

دل نے زینت کو دیکھتے ہوئے پوچھا

ہاں بس ابھی سوئی ہے ۔۔

سلیم نے جواب دیا

ہممم۔ ۔

دل نے ایک نظر سر جھکائے بیٹھے مامون کو دیکھا

یہ دیکھو اعظم جو میں نے پراندہ بنا کر دل کو دیا تھا کتنا جج رہا ہے اس پر۔ ۔ ۔

اعظم کی والدہ نے دل کا پراندہ پکڑ کر آگے کی طرف کیا

ارے ہاں کتنا اچھا لگ رہا دل بیٹا۔۔۔

اعظم نے مسکرا کر کہا دل خوشی سے پراندہ گھومانے لگی۔ ۔۔ خود کو بہت روکنے کے باوجود بھی مامون دل کو دیکھنے پر مجبور ہو گیا۔ ۔۔ دل اپنی معصوم سی مسکراہٹ کے ساتھ مامون کو خود سے بیگانہ کر گئی۔ ۔

ماشاءاللہ۔ ۔۔

مامون کے منہ سے بے اختیار نکلا دل نے چونک کر مامون کو دیکھا جو اسے یک ٹک دیکھ رہا تھا دل کو آج مامون کے دیکھنے کا انداز کچھ الگ سا لگا۔ ۔۔ مامون نے گھبرا کر اپنی نظریں نیچے جھکائیں

ہاں بئی ماشاءاللہ بول دیں میری بچی کو کہیں نظر نہ لگ جائے۔ ۔۔

سلیم نے پیار سے دل آویز کو دیکھتے ہوئے کہا

ماشاءاللہ سلیم بھائی بہت اچھی بچی ہے۔ ۔۔ ایسا دل لگاتی ہے کے بندہ بور ہی نہیں ہوتا بہت پیاری باتیں کرتی ہے۔ ۔۔

اعظم کی والدہ نے دل کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا دل اپنی اتنی تعریف سن کر شرمانے لگی

آپ سب خود اتنے اچھے ہیں سچ میں دل ہی نہیں کر رہا جانے کا۔ ۔۔

دل نے اداسی سے کہا

بس بیٹا جانا تو پڑتا ہے۔ ۔ مگر ہم پھر آئیں گے ان شاء اللہ۔۔

سلیم نے اسے بہلایا

کیا ہوا مامون کس سوچ میں گم ہو؟

سلیم نے گم سم بیٹھے مامون سے پوچھا

ہمم۔ ۔۔ نہیں بس ویسے ہی۔ ۔۔ آممم کتنے بجے تک نکلنا ہے آپ لوگوں نے؟

بس یہ ہی کوئی چھ بجے تک۔ ۔۔

سلیم نے گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے بتایا

اچھا۔ ۔ پھر تو تھوڑا سا ٹائم رہ گیا ہے۔ ۔۔

مامون نے اداسی سے کہا

ہاں بس میرے خیال سے اب ہمیں گھر چلنا چاہیئے۔ ۔ زینت کو ہماری طرف سے پیار اور سلام دینا۔ ۔ اسے کہنا کے ہم اس کے لیئے بہت دعا کر رہیں ہیں۔ ۔۔

سلیم نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا

جی سلیم بھائی بس دعاوں کی ضرورت ہےاللہ آپ لوگوں کو بھی خیر سے اپنی منزل تک پہنچائے۔ ۔۔

اعظم نے سلیم سے گلے ملتے ہوئے کہا۔ ۔ مامون بھی کھڑا ہو گیا ۔۔ وہ دل آویز دیکھنے سے گریز کر رہا تھا

اچھا مامون اپنا بہت خیال رکھنا اور رابطے میں رہنا اچھا۔۔

سلیم نے مامون کو گلے لگایا۔۔ مامون اداسی سے مسکرا دیا

آپ پھر کب آئیں گے؟

مامون نے الگ ہوتے ہوئے پوچھا

جب آپ اپنا آستانا دیکھانے کا وعدہ کریں گے۔ ۔۔

سلیم کے بولنے سے پہلے ہی دل نے جواب دیا

ٹھیک ہے اب آپ جب آئیں گی میں وہاں لے کر جاونگا آپکو۔ ۔

مامون نے نہ چاہتے ہوئے بھی وعدہ کر لیا

ہائے سچ میں۔ ۔۔۔

دل ایک دم بچوں کی طرح خوش ہوئی

کیا مامون تم اسکی باتوں میں آ رہے ہو۔ ۔ اب ان کی والدہ محترمہ انہیں کبھی نہیں آنے دینگی۔ ۔ یہ تو میں اس بار دھوکے سے لے آیا۔۔۔۔

سلیم نے ہنستے ہوئے کہا

بابا۔ ۔۔ مجھے نہیں پتا میں آونگی ایک بار اور۔ ۔

دل نے ضد کی

اچھا بئی جب کی تب دیکھ لیں گے اب گھر چلتے ہیں۔ ۔ اچھا آپا اپنا خیال رکھئیے گا۔۔۔

سلیم نے جھک کر اعظم کی والدہ سے پیار لیا انہوں نے سر پر ہاتھ پھیر کر دعا دی

اچھا بیٹا اللہ تمہارا نصیب اچھا کرے ۔۔ چاند سا دولہا دے اور نیک اولاد دے۔ ۔۔

اعظم کی والدہ نے دل سے گلے ملتے ہوئے دعا دی

ارے ابھی تو بہت ٹائم ہے دولہا آنے میں۔ ۔ ابھی آپ دوسری دعائیں دیں۔ ۔

دل نے مسکرا کر کہا

کیوں۔۔ پگلی لڑکیوں کے لیئے بس یہ ہی دعا کرتے ہیں بیٹا۔۔

اعظم کی ماں نے اسے ٹوکا

ہممم اچھا جیسے آپ کو صحیح لگے۔ ۔۔

دل نے منہ بنایا

اچھا اعظم انکل اللہ حافظ۔ ۔

دل نے آگے بڑھ کر اعظم سے سر پر پیار لیا۔ ۔ مامون کی نظر ایک بار پھر دل کی طرف اٹھ گئیں۔ ۔

اوکے مامون بابا جی۔ ۔ ہمارے لیئے بھی دعا کریئے گا کہ ماما ہمیں گھر میں گُھسنے دیں۔ ۔۔

دل نے شرارت سے مانون کو دیکھتے ہوئے کہا۔ ۔ مامون دھیرے سے مسکرا دیا

آئی ہوپ آپ اپنا وعدہ نہیں بھولیں گے۔ ۔؟؟

دل نے مامون کو دیکھتے ہوئے پوچھا

کبھی نہیں میں کیسے بھول سکتا ہوں اب آپکو۔ ۔۔

مامون نے اداسی سے کہا

جج جی؟ ؟

دل کو لگا اس نے کچھ غلط سنا ہے

میرا مطلب ہے مجھے وعدہ یاد رہے گا۔ ۔

مامون نے بہت مشکل سے اپنی نظر دل آویز کے چہرے سے ہٹائی

ہمم اچھا۔ ۔ اللہ حافظ۔۔۔

دل نے سب کو دیکھتے ہوئے کہا

اللہ حافظ۔ ۔۔

سب نے ایک ساتھ جواب دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ کیسے اپنے آستانے میں پہنچا اسے کچھ خبر نہیں تھی۔ ۔۔ بس اسے لگ رہا تھا دنیا ویران سی ہو گئی ہے۔ ۔۔ ۔ عجیب سی اداسی اسکے پورے وجود میں پھیل گئی تھی۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی وہ بار بار دل کو یاد کر رہا تھا۔ ۔ وہ اس گاوں سے جا رہی ہے۔۔ اس سے دور۔ ۔ پتا نہیں پھر کب وہ دل کو دیکھ سکے گا۔ ۔ دیکھ بھی سکے گا یا نہیں۔ ۔ یہ سوچ اسے پاگل کر رہی تھی۔ ۔ اپنے سر کو جھٹک کر اس نے اپنا رومال ریک سے نکالا اور اس پر لگے خون کے قطروں کو چھونے لگا

یہ کیا ہو گیا ہے مجھے۔ ۔۔ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کے کوئی لڑکی میرے دل کو بھی چھوئے گی۔ ۔۔ آہ۔ ۔ یا اللہ مجھے کبھی بھٹکنے مت دینا آمین۔ ۔

مامون نے خون کے قطروں کو پیار سے چھوا اور گہرا سانس لے کر وہ رومال واپس سنبھال کر رکھ لیا۔ ۔۔ گھڑی میں وقت دیکھا تو چھ بجنے میں صرف آدھا گھنٹا تھا۔ ۔ مامون کو گھبراٹ سی ہونے لگی۔ ۔ کچھ سوچتے ہوئے وہ اپنے آستانے سے باہر آگیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دل آویز سب سے مل رہی تھی۔ ۔ اسکی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔ ۔ بہت اداسی ہو رہی تھی اسے سمن اندر صحن میں بیٹھی رو رہی تھی۔ ۔ دل اس پاس اندر گئی اور اسے گلے لگایا

اب کب آئیں گی دل باجی؟

سمن نے روتے ہوئے پوچھا

اب تم آنا میرے شہر بس میں نے بول دیا ہے رشیدہ آنٹی کو اب جب بابا آئیں گے تو تم نے ساتھ آنا ہے۔ ۔

دل نے سمن کو الگ کرتے ہوئے کہا

ان شاءاللہ جی ضرور۔۔۔ مگر آپ بہت یاد آئیں گیں۔ ۔

سمن نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

تم سب بھی مجھے بہت بہت یاد آوگے۔ ۔

دل نے اداسی سے کہا

ارے مامون بابا یہاں۔۔۔۔

سمن نے سامنے کھڑے مامون کو دیکھ کر کہا مامون ان دونوں سے تھوڑے فاصلے پر کھڑا سلیم سے مل رہا تھا۔ ۔ سلیم مامون سے ملنے کے بعد سامان رکھوانے لگے ۔۔ مامون آہستہ سے قدم اٹھاتا دل کے پاس آکر ٹہر گیا

آپ۔ ۔ آپ یہاں کیسے ؟

دل نے حیران ہو کر پوچھا

بس ویسے ہی یہاں سے گزر رہا تھا تو سوچا ایک بار پھر مل لوں۔۔۔

مامون نے دل کو ایک نظر بھر کر دیکھا اور سر جھکا لیا

اچھا مگر ابھی تو آپ سے ملاقات ہوئی تھی۔ ۔ خیر کوئی بات نہیں۔ ۔

دل نے اپنے بال جھٹکتے ہوئے کہا۔ ۔ دل کے بالوں کی خوشبو مامون کو محسوس ہوئی

دل آپ دوپٹا کیوں نہیں لیتیں سر پر۔ ۔؟؟

مامون نے ایک دم سر اٹھا کر پوچھا

ججج جی ی ی۔ ۔۔

دل اسکے اس سوال پر حیران ہوئی۔ ۔ سمن بھی کافی حیران ہوئی کیونکے مامون نے کبھی کسی کو اسطرح ٹوکا نہیں تھا

میری مرضی۔ ۔

دل نے کندھے اچکا کر جواب دیا شاید اسے مامون کا یہ سوال اچھا نہیں لگا تھا

آپکی مرضی کیسے۔ ۔۔ زندگی تو اللہ کی امانت ہے تو مرضی آپکی کیسے ؟؟ کیا آپ اپنی مرضی سے اگلا سانس لے سکتی ہیں ؟

مامون نے نرمی سے پوچھا

آممم آئی تھینک اٹس ویری پرسنل ۔۔ میرے پرینٹس نے مجھ سے ایسا کبھی سوال نہیں کیا تو آپ۔ ۔۔

میں جانتا ہوں میرا کوئی حق یا فرض نہیں بنتا کے آپ سے یہ سب کہوں۔ ۔ میں خود بھی حیران ہوں کے میں کیوں اس بات کی فکر کر رہا ہوں مگر مجھے فکر ہو رہی ہے۔ ۔۔ میں چاہتا ہوں آپ سر ڈھک کر چلیں تاکے اللہ اپنی رحمت آپ پر فرمائے۔ ۔۔ میں نہیں جانتا کے میں خود کتنا نیک ہوں۔ ۔ ہو سکتا ہے اللہ کے ہاں آپ زیاد قریب ہوں آپکی نیکیاں مجھ سے زیادہ افضل ہوں۔۔۔ مگر بس میں اتنا جانتا ہوں کے جب عورتوں پر پردے کا حکم نازل ہوا تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کے وہ پہچانی جائیں اور انہیں کوئی تنگ نہ کرے ۔۔ مطلب وہ پہچانی جائیں کے وہ مسلمانوں کی عورتیں ہیں تو صاف ظاہر ہے کے مسلمان اور غیر مسلم عورتوں میں سب سے بڑا فرق پردے کا ہے۔ ۔ ہر کوئی اب دل کھول کر شکل دیکھ کر آپکے مسلمان ہونے کا اندازہ نہیں لگا سکتا اس لیئے سر ڈھک کر چلنا اور پردہ کرنا بہت ضروری عمل ہے۔ ۔۔

مامون نے دل آویز کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔ دل آویز بنا پلک جھپکائے مامون کی باتیں سن رہی تھی۔۔

پلیززز میری کسی بات کا برا مت مانیئے گا۔ ۔۔ میرا مقصد آپکو ہرٹ کرنا نہیں صرف علم دینا ہے۔ ۔ باقی عمل کرنا یا نا کرنا آپکا اپنا فیصلہ ہے۔ ۔۔

مامون نے بہت نرمی سے دل کو سمجھایا۔ ۔مامون کو خود بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کے وہ یہ سب دل سے کیوں کہہ رہا ہے اس نے آج تک کسی سے ایسی بات نہیں کی تھی مگر نجانے کیوں وہ یہ سب دل آویز سے کہ گیا۔ ۔ دل آویز بنا پلک جھپکائے مامون کی باتیں سن رہی تھی

نن نہیں مجھے برا نہیں لگا ایکچولی کبھی اس بات پر دیہان ہی نہیں دیا نہ ہی کبھی ضرورت محسوس ہوئی اینی ویز تھینکس میں کوشیش کرونگی کے ایٹلیسٹ دوپٹا سر پر لے لیا کروں۔ ۔

دل نے مامون کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا

چلو دل بیٹا دیر ہو رہی ہے۔ ۔

سلیم نے پاس آکر دل کو مخاطب کیا

جج جی بابا۔ ۔

دل مامون کی باتیں سن کر کافی سنجیدہ سی ہو گئی

اچھا مامون اپنا بہت خیال رکھنا اور مجھے بتاتے رہنا زینت کے بارے میں۔ ۔

سلیم نے ایک بار پھر مامون سے ہاتھ ملایا۔ ۔ مامون نے خاموشی سے سر ہلا دیا۔ ۔ سمن اور دل باہر نکل گئے جہاں سب اپنے اپنے گھروں کے دروازوں سے نکل کر انہیں دیکھ رہے تھے۔ ۔ دل نے سب کو دیکھتے ہوئے اداسی سے ہاتھ ہلایا۔ ۔

دل نے ایک نظر مامون کو دیکھا وہ اسی کو دیکھ رہا تھا۔ ۔ دل اسے دیکھ کر مسکرائی اور پلٹ کر گاڑی میں بیٹھ گئی۔ ۔۔ مامون کو لگا پوری دنیا میں وہ تنہا رہ گیا ہو۔ ۔ جیسے بہت قیمتی چیز اس سے دور جا رہی ہو۔ ۔۔ اس کا دل کیا وہ اسے روک لے۔ ۔۔ مگر وہ بے بس سا اسے جاتا دیکھتا رہا۔ ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *