Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pur Israar Mohabat (Episode 10)

Pur Israar Mohabat by Maria Awan

مسٹر مامون آپ نے میرے بابا سے کیا کہا ہے جو یہ اتنے پریشان نظر آرہے ہیں مجھے؟ ؟

دل آویز نے تیکھے لہجے میں پوچھا

میں نے آممم میں نے یہ کہا ہے کے۔ ۔۔۔

مامون بات بنانے کے لیئے سوچنے لگا

کے۔ ۔۔؟؟ کیا کہا ہے بتائیں نا؟ ؟

دل آویز نے بیچینی سے پوچھا

کے آپ کا جو ریزلٹ آیا ہے وہ چیٹنگ سے آیا ہے ورنہ یہ سب آپکی محنت کا نتیجہ نہیں ہے۔۔۔

مامون کو مجبوراً جھوٹ بولنا پڑا۔ ۔۔ سلیم نے چونک کر مامون کو دیکھا مامون نے آنکھوں ہی آنکھوں میں سلیم کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا

واٹ ٹ ٹ۔ ۔۔ آپ نے یہ بات سوچی بھی کیسے۔ ۔۔ اپنے جیسا سمجھ رکھا آپ نے؟ ؟ ہنہ بابا ہی از لائنگ۔ ۔ آپ کو تو پتا ہے میں کبھی چیٹنگ نہیں کرتی اور بھلا فائنلز میں چیٹنگ کرنا کوئی آسان کام ہو تا ہے۔ ۔۔

دل آویز نے صفائی پیش کی

اوہ مطلب چیٹنگ کرنا مشکل کام ہوتا ہے اگر آسان ہوتا تو یقینً آپ کرتیں۔ ۔؟

مامون جان بوجھ کر دل آویز کو تنگ کرنے لگا تا کے سلیم خود کو سنبھال سکیں

مجھے کوئی ضرورت نہیں ہے چیٹنگ کی الحمداللہ میں اپنی محنت سے ہی اتنے اچھے مارکس لے لیتی ہوں۔ ۔۔ اور بئی دا وے آپ کو کیسے پتا میں چیٹنگ کرتی ہوں یا پھر چیٹنگ سے پاس ہوئی ہوں؟ ؟

دل آویز نے اپنی توپوں کا رخ مامون کی طرف کیا۔ ۔ اب وہ باقئدہ اپنی قمر پر ایک ہاتھ رکھے مامون کو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہی تھی

آممم مجھے اپنے جادو سے پتا لگا۔ ۔۔ اور میرا جادو مجھ سے جھوٹ نہیں بولتا۔۔

مامون ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا

فیل بلکل فیل ہے آپ کا جادو مجھے تو پہلے ہی شک تھا کے آپ پاگل بنا رہے ہیں گاوں والوں کو کوئی بابا وابا نہیں ہیں آپ ۔۔ ہنہ بلکل غلط جادو ہے آپکا جھوٹ بتا رہا ہے آپکو۔ ۔۔

دل آویز نے دائیں بائیں سر ہلا کر غصے سے کہا۔۔۔ مامون کی مسکراہٹ گہری ہو گئی

اچھا تو پھر آئیں میں ابھی دوبارا کر لیتا ہوں یہاں بیٹھیں۔۔۔۔

مامون نے اسے اپنے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا ۔۔ وہ چاہتا تھا کے کسی طرح وہ دل آویز پر کیئے جانے والے عمل کا پتا لگا سکے۔ ۔ سلیم بھی مامون کی یہ چال سمجھ گئے

ہاں دل بیٹا ابھی پتا لگ جائے گا تم بیٹھو مامون دم کرے گا تو سب کلیئر ہو جائے گا۔ ۔۔

سلیم نے مامون کی ہاں میں ہاں ملائی

بابا۔ ۔ آپ انکی بات کا یقین کر رہے ہیں ارے آپ کو پتا تو ہے میں کبھی چیٹنگ کر سکتی ہوں کیا؟ ؟

دل آویز نے حیران ہو کر سلیم کو دیکھا

اگر آپ نے چیٹنگ نہیں کی تو ڈر کیوں رہی ہیں میرے سامنے بیٹھنے سے۔ ۔

مامون نے اسے چِڑانے کے لیئے کہا

ہنہ ڈرتی ورتی نہیں ہوں میں کسی سے۔ ۔ اس میں کیا ہے کریں جو کرنا ہے۔ ۔۔

وہ ہی ہوا دل آویز فوراً سے جزباتی ہو گئی اور مامون کے سامنے بیٹھ گئی۔ ۔ مامون بھی گہرا سانس لے کر اپنی جگہ پر بیٹھ گیا سلیم دل آویز سے تھوڑا ہٹ کر بیٹھ گئے۔ ۔

اپنی سیدھے ہاتھ کی شہادت کی انگلی پلیزز میرے سامنے کریں۔ ۔۔

مامون صوفے پر تھوڑا آگے کھسک کر بیٹھا

کیوں بئی میں انگلی کیو ں آگے کروں؟ ؟

وہ دل آویز ہی کیا جو آرام سے بات مان جائے ویسے بھی اس کی مامون سے ہٹ گئی تھی اور اب اوپر سے اسکے مطالبات۔ ۔۔

بیٹا جیسا وہ کہہ رہا ویسا کرو دل آویز ہر بات پر سوال نہیں کرتے۔ ۔۔

سلیم نے قدرے سنجیدگی سے کہا دل نے برا سا منہ بنا کر مامون کے سامنے اپنی انگلی کی ۔۔ مامون نے اسکے ناخن سے انگلی کو تھاما اور آنکھیں بند کر کے دل ہی دل میں زکر کرنے لگا۔ ۔۔جب کے دل آویز نے نا سمجھی میں اسے دیکھنے لگی۔ ۔۔ مامون کی لمنبی پلکوں نے اسکی آنکھوں کو ڈھکا ہوا تھا اور اسکی پلکوں میں ہلکی ہلکی حرکت ہو رہی تھی۔۔ دل آویز بہت غور سے مامون کی ہلتی ہوئی پلکوں کو دیکھ رہی تھی۔ ۔۔

اور پھر مامون کو وہ ہی بلی نظر آئی مامون نے گہرا سانس لے کر آنکھیں کھول دیں۔۔۔۔ دل آویز جو غور سے مامون کی آنکھوں کو ہی دیکھ رہی تھی ایک دم ڈر کر اپنی انگلی مامون کے ہاتھ سے چُھوڑائی اور سلیم کو دیکھنے لگی۔ ۔ کیونکے مامون کی آنکھیں بہت خطرناک حد تک لال ہو رہی تھیں جیسے اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا ہو

بابا انکی آئیز کو کیا ہوا۔ ۔۔

دل آویز نے ڈرتے ہوئے پوچھا

مامون نے اپنی آنکھوں کو زور سے بند کیا اور کھولا تاکے وہ نارمل ہو سکے

آممم۔ ۔۔ وہ میری آنکھیں اس لیئے لال ہوئی ہیں کے۔ ۔ آپ ٹھیک کہ رہی تھیں اور میرا جادو جھوٹ بول رہا تھا۔۔۔

مامون نے خود پر ضبط کرتے ہوئے مسکرا کر کہا۔ ۔۔ دل آویز نے ڈرتے ہوئے دوبارا مامون پر نظر ڈالی تو اب اسکی آنکھوں میں وہ سُرخی نہیں تھی دل آویز نارمل ہو گئی۔ ۔

ہممم تو بتائیں اب کیا کہا ہے آپ کے جادو نے۔ ۔۔۔

دل آویز نے جیسے ہی اسے مسکراتے دیکھا تو فوراً پوچھا۔۔۔ مامون دل آویز کے چہرے کے ایک ایک نقش کو دیکھنے لگا

ہیلو بتائیں بھی کہاں کھو گئے ہیں آپ۔ ۔۔

دل آویز نے اسکی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی۔۔ سلیم نے پریشانی سے پہلو بدلا

آں ہاں۔ ۔۔ بتایا تو ہے۔۔ آپ صحیح کہہ رہی تھی حیرت ہے میرے جادو نے پہلی بار مجھے غلط بتایا ۔۔۔۔

مامون نے ہوش میں آتے ہی اپنی نظریں جھکا لیں

ہنہ سی بابا۔ ۔۔ میں نے کہا تھا نا اور آپ بھی مجھ پر شک کرنے لگے تھے۔ ۔ میں آپ سے بات نہیں کرونگی۔ ۔۔

دل نے منہ پھولا کر کہا

ایم سوری بیٹا میں تو بس ری کنفرم کرنا چاہ رہا تھا اچھا ناراض مت ہو اب میں اپنی بیٹی کو منہ مانگا انعام دونگا۔ ۔۔

سلیم نے زبردستی مسکراتے ہوئے کہا

پکا وعدہ ؟؟

دل نے اپنی ہتیھلی سلیم کے سامنے پھیلا کر کہا

ہاں میری جان پکا وعدہ۔ ۔۔

سلیم نے اسکا ہاتھ تھام کر کہا

اور آپ۔۔۔ آپ کو بھی ایٹلیسٹ مجھ سے سوری کرنی چاہیئے پتا نہیں ایسے کتنی بار آپ کے اس جادو نے بچارے لوگوں پر الزام لگایا ہوگا۔ ۔۔

دل آویز نے سر جھکائے بیٹھے مامون کو دیکھ کر کہا

ایم سوری۔ ۔ آئی ایم ایکسٹریملی سوری دل آویز۔ ۔۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔ ۔

مامون نے سر اٹھائے بنا سوری کیا

سوچوں گی آپ کی سوری کے بارے میں۔۔۔ دل تو نہیں کر رہا ایکسیپٹ کروں۔ ۔۔

دل نے منہ بنایا

دل وہ شرمندہ ہے نا آئی تنک آپکو معاف کر دینا چاہیئے۔ ۔۔

سلیم نے مامون کی سائیڈ لی

آپ کہہ رہے ہیں اس لیئے جانےدے رہی ہوں ورنہ جو الزام انہوں نے لگایا ہے نا مجھ پر۔ ۔۔ میں کبھی معاف نہ کرتی۔ ۔ خیر اٹس اوکے۔ ۔۔

دل آویز نے ایسے کہا جیسے احسان کر رہی ہو۔ ۔۔

تھینک یو سو مچ۔ ۔۔

مامون نے سنجیدگی سے کہا

دل اب جاو لنچ کی تیاری کرو اور دیکھو تمہارا بھائی ابھی تک اسکول سے کیوں نہیں آیا ۔ ۔۔

سلیم نے دل کو وہاں سے بھیجنے کے لیئے بہانا بنایا

اوکے بابا میں دیکھتی ہوں۔۔۔

دل آویز وہاں سے چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا مامون تمہیں کچھ پتا چلا؟؟

سلیم نے دل کے جاتے ہی مامون سے پوچھا

جی۔ ۔۔۔

مامون نے بہت مشکل سے جواب دیا

کک کیا ۔۔۔؟؟ کیا پتا چلا ہے مامون مجھے بتاو میری بیٹی ٹھیک ہے نا؟

سلیم نے بیچینی سے پوچھا

فل حال بلکل ٹھیک ہے مگر۔ ۔۔۔

مامون نے گہرا سانس لے کر خود کو ریلکس کیا

مم مگر کیا مامون مجھے سب کچھ بتاو جلدی سے ورنہ میرا دل پھٹ جائے گا۔ ۔۔

سلیم نے پریشانی سے کہا

انکل پلیز خود کو سنبھالیں۔ ۔۔

مامون اٹھ کر سلیم کے پاس بیٹھا

اس شیطان نے عمل شروع کر دیا ہے مگر وہ ابھی دل آویز کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ۔۔

مامون نے نظریں چُراتے ہوئے بتایا

کیا۔ ۔ عمل شروع کر دیا۔۔۔ اور خدایا۔ ۔۔

سلیم نے اپنا سر پکڑ لیا

پلیززز خود کو سنبھالیں۔ ۔۔ میری بات غور سے سنیں۔ ۔۔ آتش بابا نے عمل ضرور شروع کیا ہے مگر اسکا عمل بہت کمزور ہے وہ دل آویز کو ڈائریکٹلی کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا وہ زیادہ سے زیادہ اسکو ڈرائے گا مگر وہ جسمانی یا روحانی نقصان نہیں پہنچا سکتا شاید اس لیئے کے دل آویز کا خون اُس مقدار میں نہیں تھا جتنا اسے اپنے شیطانی عمل کے لیئے چاہیئے تھا۔ ۔۔

مامون نے تفصیل بتائی

تت تو کک کیا میری بیٹی جلدی ٹھیک ہو جائے گی نا اسے کچھ نہیں ہوگا۔ جیسے زینت کو۔ ۔۔

سلیم نے زینت کا سوچتے ہی اپنی آنکھیں بند کیں

اللہ نہ کرے۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہو گا سلیم انکل بس اللہ پر بھروسا کریں ۔۔۔ آپکو چند دن بہت احتیاط کرنی ہو گی۔ ۔۔

مامون نے نرمی سے سلیم کا ہاتھ پکڑ کر کہا

کیسی احتیاط مامون؟ ؟

سلیم نے مامون کو دیکھتے ہوئے پوچھا

دل آویز کو چند دنوں تک گھر سے باہر نہ جانے دیں۔ ۔ یونیورسٹی سے بھی چھٹی لے لیں۔ ۔ اور اسے کسی طرح یہ بات سمجھا دیں کے کوئی بھی باہر کی چیز نہ کھائے خاص طور پر میٹھا نہ کھائے۔ ۔۔ اور اپنے بال باندھ کر رکھے۔ ۔۔ باقی میں پانی دم کر کے دونگا اسے وہی پلائیے گا اور اسے خود بھی کہیں کے چاروں قُل کا ورد زیادہ سے زیادہ کرے ۔۔ اور آپ بھی جب اسکے سامنے ہوں یہ قُل پڑھتے رہیں۔۔۔۔۔۔ ان شاءاللہ یہ عمل ضائع ہو جائے گا بہت جلد۔ ۔۔اور اب میں آتش بابا کو یہ سب دوبارہ کرنے نہیں دونگا ان شاءاللہ۔ ۔۔

مامون نے مضبوط لہجے میں کہا

ان شاءاللہ۔ ۔ میں کوشیش کرتا ہوں کے دل آویز کو ان سب سے منع کروں۔ ۔ ایک تو وہ لا پرواہ بہت ہے ۔۔ خیر میں اسکا خود خیال رکھوں گا۔ ۔ تم بھی اسکے لیئے دعا کرنا۔ ۔

سلیم کو مامون کی باتیں سن کر تھوڑی تسلی ہوئی

میں ہر پل دل آویز کے لیئے خصوصی دعا کرونگا۔ ۔ میں بہت شرمندہ ہوں سلیم انکل میری وجہ سے دل آویز پر مشکل آئی۔ ۔۔۔ مجھے معاف کر دیں۔ ۔۔

مامون نے شرمدگی سے سر جھکا کر کہا

نہیں مامون مشکلیں اور آسانیاں تو صرف اللہ کی طرف سے آتی ہیں تمہارے خلوص پر مجھے رتی برابر شک نہیں ہے بس اللہ ہمیں اس آزمائش سے نکالے۔۔۔۔

سلیم نے مامون کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی

آمین۔۔۔۔

مامون نے دل سے آمین کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلیم کا چھوٹا بیٹا علی بھی اسکول سے آگیا۔ ۔ وہ میٹرک کلاس کا طالبِ علم تھا۔ ۔۔ مامون سے مل کر اُس سے خوب باتیں بنانے لگا۔ ۔ مامون بس خاموشی سے اسکی باتوں پر مسکراتا رہا تھوڑی ہی دیر میں دل آویز نے کھانا تیار کرکے ٹیبل پر سجا دیا اور چاروں نے مل کر کھانا کھایا۔ ۔۔

مامون نے کھانا کھاتے ہی سلیم سے جانے کی اجازت مانگی۔

سلیم انکل اب مجھے گاوں واپس جانا ہے۔ ۔۔اعظم بھائی ویٹ کر رہے ہونگے۔ ۔ زینت باجی پر دم بھی کرنا ہے۔ ۔۔

ہممم ٹھیک ہے میں تمہیں بس کے اڈے تک ڈراپ کر دیتا ہوں۔ ۔۔ مگر مامون مجھ سے کانٹیکٹ میں رہنا۔۔۔ مجھے بتاتے رہنا پلیززز۔ ۔۔

سلیم نے فکرمندی سے کہا

جی آپ بلکل پریشان نہ ہوں ریلکس رہیں اور شکر کریں عمل بہت کمزور ہے بہت جلد ضائع ہو جائے گا بس آپ کو وہ سب احتیاط کرنی ہے جو میں نے بتائی ہیں۔ ۔۔

مامون نے سلیم کو دوبارہ یاد دلایا

ہاں تم فکر مت کرو میں دل کو اچھے سے سمجھا دونگا۔۔۔۔

سلیم نے تسلی دی

چلیں پھر مجھے ڈراپ کر دیں۔ ۔۔

مامون اپنی جگہ سے کھڑا ہوا

ہممم آو ۔۔ عجیب سا ماحول ہو گیا کاش تم ایک دو دن روکتے میں تمہاری مہمان نوازی کرتا۔ ۔۔

سلیم نے شرمندگی سے کہا

کوئی بات نہیں ویسے بھی اتنا ٹائم ہی کہاں ہوتا ہے۔ ۔۔ چلیں۔ ۔۔

مامون نے باہر نظر دھوڑائی کے شاید دل آویز نظر آجائے

ہاں چلو۔ ۔۔

سلیم نے باہر کی جانب قدم بڑھائے مامون بھی ان کے پیچھے چلنے لگا

دل بیٹا۔ ۔ علی۔۔۔ مہمان جا رہا ہے آکر خدا حافظ کر دو۔ ۔۔

سلیم نے لانج میں پہنچ کر دونوں کو آواز دی

جی بابا۔ ۔ ارے مامون بھائی آپ اتنی جلدی جا رہے ہیں ایک دو دن تو رکیں۔ ۔۔ میرا میچ ہے کل دیکھ کر جائے گا۔ ۔۔

علی ہاتھ میں بیٹ پکڑے مامون کے پاس آیا۔ ۔ دل آویز بھی کچن سے اپنے ہاتھ صاف کرتی ہوئی باہر آئی

اوہو۔ ۔ اس بار تو نہیں رُک سکتا مگر ان شاءاللہ دوبارہ آیا تو ضرور دیکھوں گا۔ ۔۔

مامون نے مسکرا کر جواب دیا

اچھا چلیں صحیح ہے۔ ۔۔

علی نے ہاتھ آگے کیا

اوکے اپنا خیال رکھنا ہمم۔۔۔

مامون نے اس سے ہاتھ ملا کر کہا

دل تم بھی گُڈ بائے کر دو بیٹا۔ ۔۔

سلیم نے خاموش کھڑی دل کو مخاطب کیا

اوکے خدا حافظ۔۔۔ وہاں سب کو میری طرف سلام کہیئے گا۔ ۔۔۔

دل نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔ مامون کو لگا دل آویز ابھی تک اس سے ناراض ہے۔۔ مامون کو بیچینی ہوئی

لگتا ہے آپ ابھی تک مجھ سے ناراض ہیں۔۔ اسطرح سفر پر جانے والوں سے ناراض نہیں ہوتے۔ ۔۔۔

مامون نے یچینی سے اسے دیکھتے ہوئے کہا

نہیں میں کیوں ناراض ہونگی۔ ۔۔

دل نے کندھے اچکا کر کہا

اچھا واقعی؟ ؟ پھر آپ کے چہرے سے کیوں لگ رہا ہے کے آپ ناراض ہیں۔ ۔۔

مامون نے اس کے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے کہا

بس ویسے ہی تھوڑا برا سا لگ رہا تھا۔ ۔ خیر اٹس اوکے۔ ۔۔

دل نے مامون کو دیکھا اور مسکرائی

تھینک یو۔ ۔۔

مامون کو اسے مسکراتا دیکھ کر تسلی ہوئی۔ ۔ وہ دل آویز کو جی بھر کر دیکھنا چاہتا تھا مگر خود پر ضبط کرتے ہوئے بس سرسری سی نظر اس پر ڈالی اور اللہ حافظ کرتا ہوا رخصت ہو گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔

گاوں پہنچ کر وہ سب سے پہلے اعظم کے پاس گیا اور اسے ساری تفصیل بتائی۔ ۔۔

شکر رب سوہنے دا اس نے دل آویز کی حفاظت کی۔ ۔۔

اعظم نے ساری بات سن کر شکر کیا

بیشک۔ ۔۔ اور آگے بھی وہ اسکی حفاظت کرے گا ان شاءاللہ چلیں میں زینت باجی پر دم کر دوں۔ ۔۔

مامون اور اعظم ایک ساتھ کھڑے ہوئے اور زینت کے روم کی طرف چلے گئے

ابھی مامون زینت کے دم کر ہی رہا تھا کے ایک بچہ بھاگتا ہوا زینت کے روم میں آیا اعظم نے اس بچے کو پکڑ کر چپ رہنے کا اشارہ کیا۔ ۔ مامون دم سے فارغ ہوا تو بچے کی طرف دیکھا

کیا ہوا کاشی پریشان کیوں ہو؟

مامون نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس سے پوچھا

وو وہ جی میرا بھائی منہ سے جھاگ نکال رہا ہے مامون بابا۔ ۔ اس کی گردن بھی مُڑ رہی ہے اس پر سایہ ہو گیا ہے آپ جلدی سے اسکو دیکھ لیں امی بلا رہی ہیں آپکو۔ ۔۔

بچے نے سانس لیئے بنا جلدی سے بتایا

اوہ اچھا چلو پھر۔ ۔

مامون فوراً کھڑا ہوا اور بچے کے ساتھ باہر نکل گیا اعظم بھی سوئی ہوئی زینت پر ایک نظر ڈال کر مامون کے پیچھے چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مامون جب کاشی کے گھر پہنچا تو اسکا بڑا بھائی عجیب آوازیں نکال رہا تھا۔ ۔ ہاتھ پاوں مڑ رہے تھے۔ ۔۔ مگر مامون کے پہنچتے ہی اسکے ہاتھ پاوں ٹھیک ہونے لگے اور وہ بچہ ہوش میں آنے لگا

مامون بابا دیکھیں جی تیسری دفعہ پڑ گیا ہے یہ دورہ اسکو۔ ۔۔ باہر کی کوئی کسر ہو گئی ہے میرے بچے کو۔ ۔ کچھ کریں اسے ٹھیک کر دیں مامون بابا۔۔۔

کاشی کی ماں نے روتے ہوئے کہا

میں کو ن ہوتا ہوں ٹھیک کرنے والا اللہ سے دعا کریں۔ ۔ باقی میں دیکھتا ہوں کے کیا ہوا اسے آپ تھوڑا سائیڈ پر ہوں۔ ۔

مامون گاوں والوں کو لازمی اللہ سے دعا کرنے کا کہتا تھا کیونکے وہ جانتا تھا گاوں والوں کا ایمان ابھی اتنا مضبوط نہیں کہیں وہ مامون کو ہی پوجنے نہ لگیں۔۔۔ مامون نے ہانپتے ہوئے بچے کا ہاتھ پکڑا اور اپنی آنکھیں بند کر کے زکر کرنے لگا۔ ۔۔ تھوڑی دی بعد مامون نے آنکھیں کھولیں اور بچے کی ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہنے لگا

اسے کوئی باہر کی کسر نہیں ہے ماسی۔ ۔ اسے دورے پڑنے لگے ہیں مرگی کی طرح کے دوڑے۔۔ پچھلے ہفتے اس کے سر پر کوئی گہری چوٹ آئی ہو گی۔ ۔۔ اسی وجہ سے یہ ہو رہا ہے۔ ۔ آپ اسے ہسپتال لے کر جائیں۔ ۔۔

مامون نے بتایا

ایسا کیسے ہو سکتا ہے مامون بابا آپکو غلط فہمی ہوئی ہے دوبارہ دیکھیں یہ بہت عجیب آوازیں نکال رہا تھا وہ آوازیں انسانوں جیسی نہیں تھیں مامون بابا۔ ۔۔اسے کوئی سایہ ہی ہو گیا ہے۔ ۔۔

کاشی کی ماں کو مامون کی بات سن کر تسلی نہیں ہوتی

کیا آپکو اللہ کا کلام اتنا کمزور لگتا ہے کے میں وہ پڑھ کر بھی غلط بیانی کرونگا؟ ؟ میں آپ سے کہہ رہا ہوں ماسی اسے کوئی کسر یا سایہ نہیں ہے۔ ۔ اس کے سر پر ایسی جگہ چوٹ لگی ہے اسے یہ دورے پڑنے لگے ہیں۔ ۔ آپ بیشک اپنے بچے سے پوچھ لیں اسے پچھلے ہفتے کہاں اور کیسے چوٹ لگی تھی۔ ۔۔

مامون نے سنجیدگی سے جواب دیا

ہاں اماں بھائی کو چوٹ لگی تھی وہاں اسکول میں جو لکڑی والی کرسی ہے اس پر اسکا سر لگا تھا۔ ۔

کاشی نے اپنی ماں کو بتایا

ہائے میرے اللہ۔ ۔ تو مامون بابا اسکا علاج تو ہے نا۔ ۔؟؟

کاشی کی ماں نے پریشانی سے پوچھا

جی یہ تو اب ڈاکٹر ہی بتائے گا آپ اسے ہسپتال لے جائیں ان شاءاللہ یہ ٹھیک ہو جائے گا میں بھی اسے دم کر دیتا ہوں۔ ۔

مامون نے انہیں تسلی دی اور بچے پر دم کرنے لگا۔۔۔۔ دم سے فارغ ہو کر وہ کھڑا ہوا

ماسی ضروری نہیں ہوتا کے ہر چیز کو یہ سمجھا جائے کے وہ سایہ ہے یا جادو ہے کچھ بیماریاں ایسی بھی ہوتی ہیں جو بظاہر ہمیں عجیب ہوتی ہیں جو بیماری نہیں لگتیں۔۔۔ وہ دماغی بیماریاں ہوتی ہیں۔ ۔ اس کے لیئے ڈاکڑ کے پاس جانا ضروری ہوتا ہے۔ ۔ باقی اللہ کے کلام میں بھی بہت شفاء ہے۔ ۔ ساتھ ساتھ وہ بھی پڑھ کر دم کرتی رہنا میں پھر چکر لگاوں پریشان نہ ہونا آپ۔ ۔۔

مامون نے انہیں سمجھایا اور وہاں سے چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جیسے ہی اعظم اور مامون کاشی کے گھر سے باہر نکلے ان دونوں کی نظر سامنے سے آتے دلاور پر پڑی اُس دن کے بعد سے آج اِن دونوں کا سامنا دلاور سے ہوا تھا۔ ۔ اعظم نے دلاور کو دیکھ کر نفرت سے منہ پھیر لیا جبکے مامون نے بہت سنجیدگی سے اسے دیکھا

مامون بابا۔ ۔ اعظم۔ ۔۔ میری بات سنیں خدارا۔ ۔۔

دلاور تیزی سے انکے پاس آیا اور منت بھرے لہجے میں کہا

جی کہیں۔ ۔۔؟

مامون نے دلاور کو دیکھے بنا پوچھا

میں بہت شرمندہ ہوں۔ ۔ مجھے پوری پوری رات نیند نہیں آتی مامون بابا۔ ۔ مم میں بہت ڈرتا ہوں۔ ۔ مجھے پوری رات آگ جلتی ہوئی نظر آتی ہے میرا جسم جلنے لگتا ہے ایسا لگتا ہے جیسے حقیقت میں وہ آگ مجھے جلا رہی ہو۔ ۔۔

دلاور نے روتے ہوئے کہا

یہ آگ آپ نے خود لگائی ہے دلاور بھائی۔ ۔۔ پہلے آپ اللہ سے معافی مانگیں آپ نے اس کے کاموں میں مداخلت کی ہے۔ ۔ آپ نے شیطان کا ساتھ دیا ہے اس لیئے پہلے اللہ سے معافی مانگیں۔۔۔

مامون نے سختی سے کہا

مم میں مانگتا ہوں مگر وہ سنتا نہیں ہے میری۔۔ میں اپنا دماغی توازن کھو رہا ہوں ۔۔ مجھ پر رحم کھائیں مم میرے لیئے دعا کریں مامون بابا۔ ۔۔ اعظم میرے بھائی مجھے معاف کر دو۔ ۔۔

دلاور نے دونوں کے آگے ہاتھ جوڑے

دلاور بھائی جو ازیت آپ نے زینت باجی کو دی ہے وہ آپ کی اس ازیت سے بہت زیادہ ہے۔ ۔ بہتر یہ ہی ہے کے دنیا میں ہی اسکی سزا کاٹ لیں ورنہ آخرت میں جو سزا ملے گی وہ کبھی ختم نہیں ہو گی۔ ۔۔ باقی میں آپکے لیئے دعا گو ہیں کے آپ کو اللہ معاف کر دے۔ ۔۔

مامون بہت ہمت اور ضبط کر کے دلاور کو دعا دی۔ ۔۔ مگر اعظم نے ایک نفرت بھری نظر دلاور پر ڈالی اور وہاں سے چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مامون فجر کی نماز ادا کرنے کے بعد اعظم کے گھر گیا اور زینت پر دم کیا۔ ۔ آج اسے محسوس ہوا جیسے زینت اپنے آخری سانس لے رہی ہو۔ ۔۔ مامون نے دُکھ سے زینت کے چہرے پر ایک نظر ڈالی اور کھڑا ہو گیا

اعظم بھائی آج آپ زینت باجی کے پاس بیٹھے رہیں ہو سکتا ہے یہ ہوش میں آئیں اور آپ سے باتیں کریں۔۔

مامون نے اعظم سے کہا

کیا واقعی زینت ہوش میں آجائے گی وہ ٹھیک ہو جائے گی مامون بابا؟ ؟

اعظم نے ایک امید سے پوچھا

اعظم بھائی زینت باجی کے لیئے دعا کریں کے اللہ انہیں اس تکلیف سے نجاد دے۔ ۔ میں چلتا ہوں۔ ۔

مامون نے نظر چُرا کر کہا اور تیزی سے وہاں سے چلا گیا۔ ۔ وہ کیسے بتاتا کے اب زینت میں زندگی نہیں بچی۔ ۔۔ شاید وہ اس چراغ کی طرح ایک بار روشن ہو جو بُجھنے سے پہلے روشن ہوتا ہے۔ ۔۔ مامون کو زینت کے لیئے بہت دُکھ ہوا تھا مگر جو اس کے بس میں تھا اس نے وہ سب کیا۔ ۔ آج اسے شدت سے شاہ بابا کی یاد آئی۔ ۔ ہو سکتا ہے وہ یہاں ہوتے تو زینت پر کیئے جانے والے جادو کا توڑ کر لیتے۔ ۔۔ مگر اب تو بہت دیر ہو گئی تھی۔ ۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *