Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pur Israar Mohabat (Episode 09)

Pur Israar Mohabat by Maria Awan

مامون نے ساری رات زکر میں گزاری۔۔۔ اسے نہیں معلوم تھا کے وہ اکیلا کیسے آتش جیسے شیطان کا مقابلہ کرے گا مگر اب اس کے دل و دماغ میں صرف ایک ہی جنون سوار تھا آتش کو ختم کرنے کا ۔۔ وہ اپنے ماں باپ کو کھو چکا تھا۔ ۔ مگر اب دل آویز کو کھونا اس کے بس میں نہیں تھا۔ ۔ پوری رات اس نے زکر کیا مگر اسے دل آویز کی طرف سے کوئی اشارہ نہیں ملا۔ ۔ اس نے یہ ہی سوچا کے یا تو آتش دل آویز کے اتنے پرانے خون کے چند قطروں سے کچھ کر نہیں سکا یا پھر مامون کے زکر اور دعاوں نے دل کو محفوظ رکھا ہوا ہے۔ ۔۔ مگر اس کے باوجود مامون کا دل اس بات کو ماننے کو تیار نہیں تھا کے آتش نے اب تک دل پر کوئی عمل نہ کیا ہو۔ ۔ وہ جانتا تھا اُس شیطان کو اس کے لیئے یہ سب کرنا مشکل نہ تھا۔ ۔ مامون نے بہت سوچنے کے بعد فیصلہ کیا کے اب اسے سلیم سے بات کر لینی چاہیئے تاکے وہ دل کی طرف سے مطمئن ہو سکے۔ ۔۔ یہ ہی سوچ کر وہ اعظم کی طرف چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کیا ہوا مامون بابا اتنے پریشان کیوں ہیں؟ ؟

اعظم نے کافی دیر سے خاموش بیٹھے مامون سے پوچھا

اعظم بھائی کیسے بتاوں آپکو۔ ۔۔ کیا آپ میری بات سلیم انکل سے کروا سکتے ہیں؟

جی بلکل کروا سکتا ہوں مگر ہوا کیا ہے آپ مجھے بتا سکتے ہیں میں کسی کو نہیں بتاونگا آپ جانتے ہیں۔۔۔

اعظم نے پریشانی سے پوچھا

وہ۔۔۔۔ وہ جو رومال آتش بابا کے ہاتھ لگا ہے اُس پر جو خون کے نشان تھے وہ میرے نہیں تھے۔ ۔۔

مامون نے سر جھکا کر بتایا

یہ تو اچھی بات ہے کے آپ کے نہیں تھے میں تو شکر کرتا ہوں رب کا ورنہ۔ ۔۔

وہ دل آویز کے تھے اعظم بھائی۔ ۔۔ کاش میری ہی ہوتے۔ ۔۔۔

مامون نے اعظم کی بات کاٹ کر کہا۔ ۔ اعظم ایک لمحے کے لیئے سکتے میں چلا گیا

کک کیا۔ ۔ دل آویز کے مم مگر کیسے آپ کے رومال پر اُن کے خون کے نشان۔۔؟؟

اعظم نے بی یقینی سے پوچھا

دراصل دل آویز نے ضد کی تھی جنگل دیکھنے کی۔ ۔ سلیم انکل نے مجھ سے ریکویسٹ کی تو میں انہیں لے گیا مگر وہاں دل آویز کے پاوں میں کچھ لگ گیا تھا تو اس کے پاوں سے تھوڑا خون بھی نکلا تھا وہ میں نے اپنے رومال سے صاف کیا تھا۔ ۔۔ اور وہی رومال دلاور بھائی کے ہاتھ لگ گیا۔ ۔۔۔

مامون نے مختصر بات بتائی

اوہ۔ ۔۔۔ تو کیا آپ نے وہ رومال دھویا نہیں میرا مطلب ہے سنبھال کر رکھا آپ نے وہ رومال۔ ۔۔۔

اعظم نے حیران ہو کر پوچھا

آمممم نہیں میں نے دھویا نہیں تھا ویسے ہی الماری میں رکھ دیا تھا مجھے کیا پتا تھا کے دلاور بھائی اس حد تک۔ ۔۔ خیر اب کل پوری رات میں نے زکر کیا مجھے صرف زینت باجی کی طرف سے اشارے ملے مگر دل آویز کی طرف سے کوئی اشارہ نہیں ملا ۔۔۔۔

مامون کے لہجے میں بہت فکرمندی تھی۔ ۔ وہ اعظم کو اپنے دل کا حال نہیں بتانا چاہتا تھا اور نہ ہی وہ جھوٹ بولتا تھا مگر اسکے لہجے کی پریشانی اسکا یہ راز فاش کر رہی تھی

زینت کے بارے میں کیا آیا آپکو۔ ۔؟

اعظم نے پہلے زینت کا پوچھا

کچھ خاص نہیں وہی۔ ۔۔ وہ روز عمل کر رہا ہے زینت باجی پر میں بہت کوشیش کرتا ہوں اسکے عمل کو ضائع کر سکوں مگر پتا نہیں کیوں کہاں غلطی ہو رہی ہے مجھ سے سمجھ نہیں آرہی۔ ۔۔

مامون نے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے کہا

مم مامون بابا ایک آخری امید آپ ہی ہیں ہماری اگر آپ ہی اسطرح۔ ۔۔۔

میں آخری امید نہیں ہوں اعظم بھائی۔ ۔۔ آپکو کتنی دفعہ کہا ہے ساری امیدیں اللہ سے لگائیں۔ ۔ میں صرف کوشیش کر سکتا ہوں۔ ۔ اگر اس نے زندگی لکھی ہے تو وہ ضرور ٹھیک کرے گا۔ ۔ اگر انکی زندگی اتنی ہی ہے تو میں چاہے لاکھ کوشیش کر لوں کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔ میں صرف کوشیش کر سکتا ہوں۔ ۔

مامون نے اعظم کو سختی سے ٹوکا

معاف کیجئے گا مامون بابا غلطی سے نکل گیا منہ سے۔ ۔۔ میں رب کی طرف سے بلکل نا امید نہیں ہوں وہ انصاف کرنے والا ہے۔ ۔۔ خیر اگر دل آویز کی طرف سے کوئی اشارہ نہیں آیا تو آپ اس کے لیئے اتنا پریشان کیوں ہیں؟

اعظم نے معنی خیز انداز میں پوچھا

یہ ہی تو پریشانی ہے کے آخر کیوں نہیں آیا۔ ۔ اسکی دو ہی وجہ ہو سکتی ہے یا تو آتش بابا کے عمل کے لیئے دل آویز کا خون بہت کم ہے یا پھر اس نے ابھی عمل شروع نہیں کیا۔ ۔ مگر مجھے تسلی نہیں ہو رہی وہ شیطان کچھ بھی کر سکتا ہے۔ ۔۔ کیا آپ میری بات کرواسکتے ہیں سلیم انکل سے میں ان سے پوچھنا چاہتا ہوں؟

مامون نے تفصیل بتائی

ہمممم ٹھیک ہے میں فون کرتا ہوں انہیں آپ پریشان نہ ہوں۔ ۔۔۔

اعظم نے اپنی جیب سے فون نکالا اور فون ملا کر کان پر لگا لیا۔ ۔ کافی بیلز جانے کے بعد بھی سلیم نے فون نہیں اٹھایا

فون نہیں اٹھا رہے شاید ابھی اپنے کام پر ہونگے۔۔۔ شام میں دوبارہ کر لیں گے۔ ۔

اعظم نے مامون کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی مامون بے دلی سے مسکرا دیا

اب آپ بتائیں دلاور بھائی کا کیا کرنا ہے۔ ۔ میں انہیں اسطرح نہیں چھوڑوں گا۔ ۔۔

اعظم نے کافی سنجیدگی سے کہا

دیکھیں اعظم بھائی دلاور بھائی نے اللہ کے خلاف جا کر ایک کام کیا ہے ۔۔۔ وہ کام جسے اللہ نے سختی سے منع کیا ہے تو سزا بھی وہ ہی دے گا آپ فکر نہ کریں بہت جلد آپکو معلوم ہو جائے گا اللہ بہت انصاف کرنے والا ہے۔ ۔۔

مامون نے اعظم کو نرمی سے سمجھایا

مم مگر زینت کا کیا ہو گا۔ ۔۔ وہ ٹھیک بھی ہو گی کے نہیں ۔۔۔

اعظم نے پریشانی سے پوچھا

میں فل حال کچھ نہیں کہہ سکتا میں نے اپنی طرف سے تمام کوشیش کر لی ہے۔ ۔ اب اللہ جو چاہے گا ہو گا وہی اس لیئے آپ پریشان نہ ہوں دعا کریں۔۔۔

مامون نے اعظم کو تسلی دی۔ ۔ مامون کو معلوم تھا کے زینت پر کیا جانے والا عمل حد سے زیادہ بڑھ گیا ہے اور اب مامون کے پاس اسکا کوئی توڑ نہیں مگر وہ یہ بات اعظم کو نہیں بتا سکا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلیم دل آویز کو یونیورسٹی سے پک کرنے آئے ۔۔ دل آویز بہت خوشی خوشی گاڑی میں آکر بیٹھی

کیا بات ہے آج اتنی خوش کیوں لگ رہی ہے میری بچی؟

سلیم نے مسکراتے ہوئے پوچھا

بس گیس کریں کیا بات ہو گی؟

دل آویز نے چہک کر پوچھا

آمممم۔ ۔۔ ارے تمہاری مارک شیٹ آنی تھی نا آج؟

سلیم کو ایک دم یاد آیا

جی بابا آگئی ہے میری مارک شیٹ اور آپ گیس کریں کتنی جی پی آئی ہو گی؟ ؟

دل آویز نے اپنی آئی بروز کو اوٹھا کر پوچھا

ہممم گیس کروں۔ ۔۔ زیادہ سے زیادہ 3.5 آئی ہو گی؟ ؟

سلیم نے سوچتے ہوئے جواب دیا

جی نہیں بابا۔ ۔۔۔ 3.8 آئی ہے۔ ۔ آپ نے ہلکا لیا ہوا ہے دل آویز کو۔ ۔۔

دل نے شوخ لہجے میں کہا

ارے واہ ماشاءاللہ اس بار تو ریکارڈ ہی توڑ دیا تم نے۔ ۔ مبارک ہو بہت۔ ۔۔

سلیم نے گاڑی چلاتے ہوئے خوشی سے کہا

تھینک یو بابا خالی مبارک نہیں چلے گی گفٹ دینا ہو گا۔ ۔۔

دل آویز کے لہجے سے ہی اسکی خوشی کا اندازہ ہو رہا تھا

ضرور ملے گا جو کہو گی وہ ملے گا۔ ۔ خوش۔ ۔۔

سلیم نے مسکرا کر دل کو دیکھا

جی بہت خوش ہوں۔ ۔

دل نے مسکرا کر جواب دیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔

ہاں اعظم تم نے کال کی تھی؟ یار میں دل آویز کو یونی سے لینے گیا تھا کال کا پتا نہیں چلا ۔۔ خیریت ہے سب؟ ؟

سلیم نے گھر پہنچ کر سب سے پہلے اعظم کو کال کی

جی سلیم بھائی الحمداللہ ابھی تک خیریت ہے آپ بتائیں سب ٹھیک ہے؟

اعظم نے پوچھا

ہاں ماشاءاللہ سے سب ٹھیک ٹھاک ہے۔ ۔ زینت کیسی ہے اب ؟

جی بس ویسی ہی ہے جیسی آپ چھوڑ کر گئے تھے بس دعا کریں اللہ اسکی مشکل آسان کرے۔ ۔۔

اعظم نے مایوسی سے کہا

میں بہت دعا کرتا ہوں اعظم۔۔۔ اللہ بہتر کرے گا پریشان نہ ہو۔ ۔۔

سلیم نے تسلی دی

ان شاءاللہ۔ ۔۔ اچھا سلیم بھائی یہ مامون بابا نے آپ سے بات کرنی ہے۔۔۔

ہاں ہاں کرواو ضرور۔ ۔۔

سلیم نے جواب دیا

اعظم نے اپنے کان سے فون ہٹا کر مامون کو دیا

اسلام و علیکم سلیم انکل ۔۔۔

واعلیکم و اسلام۔ ۔۔۔ کیسے ہو مامون؟

سلیم نے خوش اخلاقی سے پوچھا

میں الحمداللہ بلکل ٹھیک آپ کیسے ہیں؟

مامون نے پوچھا

میں بھی اللہ کا شکر ٹھیک ہوں۔ ۔ سب خیریت ہے نا مامون؟

سلیم جانتے تھے کے مامون بلاوجہ فون نہیں کرتا

جی بس خیریت ہی ہے۔ ۔۔ آممم آپ کے گھر میں سب کیسے ہیں؟ ؟

مامون کو سمجھ نہیں آتی کے وہ ڈائریکٹ دل آویز کے بارے میں کیسے پوچھے

اللہ کا شکر سب ٹھیک ہے ماشاءاللہ سے۔۔

سلیم نے جواب دیا

مامون خاموش رہا

کیا ہوا مامون تم پریشان ہو کیا؟

سلیم نے فکرمندی سے پوچھا

وہ مجھے پوچھنا تھا کے دل آویز کیسی ہیں؟

مامون نے گھبراتے ہوئے پوچھا کے کہیں سلیم اس کے بارے میں کچھ غلط نہ سوچے

بلکل ٹھیک ہے بلکے ابھی اُسے ہی یونی سے لے کر آیا ہوں ماشاءاللہ سے بہت اچھے مارکس آئے ہیں اس کے بہت خوش ہے آج۔ ۔۔

سلیم نے خوشی سے بتایا

اوہ اچھا یہ تو بہت اچھی خبر ہے۔ ۔ مبارک ہو۔ ۔۔

مامون کو تسلی ہوئی

ہاں بس پڑھائی کے لیئے بہت دیوانی ہے وہ۔ ۔۔ شکر ہے اس بار مارکس اچھے آگئے۔ ۔ خیر زینت کے بارے میں بتاو۔ ۔۔

سلیم نے پوچھا

آممم بس ویسی ہی ہیں۔۔۔ میں آپکو مل کر بتاونگا۔ ۔ کیا میں مل سکتا ہوں آپ سے مجھے ضروری بات بھی کرنی ہے آپ سے۔ ۔۔

مامون نے شہر جانے کا فیصلہ کیا۔۔ اعظم مامون کے اس فیصلے پر حیران ہوا

ہاں ضرور ملیں گے مگر آج کل مجھے چھٹی نہیں مل سکتی مگر میں کوشیش کرونگا کے جلد ہی مل جائے۔ ۔۔

سلیم نے فوراً ہامی بھری

نن نہیں اگر آپ برا نہ مانیں تو کیا میں آسکتا ہوں آپ کے شہر آپ سے ملنے؟

مامون نے پوچھا

ارے ہاں ضرور کیوں نہیں جب چاہو آو۔ ۔۔ مجھے بتا دو کب آوگے؟

سلیم نے خوشی سے کہا

جی ٹھیک ہے میں سیٹ کروا کر آپکو بتاتا ہوں۔ ۔۔

مامون کو تسلی ہوئی

ٹھیک ہے میں تمہیں آگے سے پک کرنے آجاونگا۔ ۔ انتظار رہے گا مجھے تمہارا ۔۔۔

سلیم نے دل سے کہا

جی بہت شکریہ ۔۔ اپنا خیال رکھیئے گا اللہ نگہبان۔ ۔۔

مامون نے مسکرا کر فون بند کیا اور اعظم کو اسکا فون واپس کر دیا

مامون بابا آپ خود شہر جائیں گے۔۔۔ ۔ جب سلیم بھائی کہہ رہے ہیں کے دل آویز بلکل ٹھیک ہے۔ ۔۔

اعظم نے حیران ہوتے ہوئے کہا

مجھے جانا ہو گا اعظم بھائی۔ ۔ مجھے سلیم انکل کو ساری بات بتانی ہے انہیں پتا ہونا چاہیئے تاکے وہ خبردار رہیں۔ ۔۔ فون پر کیسے بتاتا یہ سب انہیں سمجھ بھی نہیں آئی گی اور وہ پریشان بھی ہو جاتے اس لیئے میں نے سوچا جا کر بتا دوں مجھے بھی تسلی ہو جائے گی جب میں خود دل آویز سے مل لونگا۔ ۔۔۔

مامون نے گہرا سانس لے کر بتایا

آپ دل آویز کے لیئے اتنا پریشان ہیں کیا کہیں آپ دل آویز کو۔ ۔۔

نن نہیں آپ غلط سمجھ رہے ہیں میں جیسے زینت باجی کے لیئے پریشان ہوں ویسے ہی دل آویز کے لیئے ہوں۔ ۔

مامون نے فوراً وضاحت دی مگر اسے لگا جیسے زندگی میں پہلی بار وہ جھوٹ بول رہا ہو۔ ۔ سچ یہ ہی تھا کے اسے اس وقت سب سے زیادہ دل آویز کی فکر تھی یہاں تک کے خود سے بھی زیادہ۔ ۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دل بیٹا مامون آرہا ہے کل ہمارے گھر مجھ سے ملنے۔۔

سلیم نے دل کے ساتھ بیٹھتے ہوئے اسے بتایا

کیا۔ ۔۔ مامون۔ ۔ مطلب وہ مامون بابا؟ ؟

دل نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا

جی وہی مامون بابا۔ ۔۔ مگر آپکی ماما سے ڈر لگ رہا ہے وہ تو گاوں میں رہنے والے بندے کو گھر گھسنے نہ دیں۔ ۔ اور مامون سے تو خاص چِڑ ہے انہیں۔۔۔

سلیم نے پریشانی سے کہا

ہیں ں ں۔ ۔۔ چِڑ کیوں ہے؟ ؟

دل آویز نے پوچھا

بس وہ سمجھتی ہیں یہ مامون ہی ہے جو جادو ٹونے کرتا ہے اس لیئے بس اسے مامون کچھ خاص پسند نہیں ہے۔ ۔ اب مجھے ڈر ہے کہیں وہ مامون سے کوئی بدتمیزی نہ کرے۔ ۔۔

سلیم نے فکرمندی سے کہا

تو اس میں پریشانی والی کیا بات ہے ماما کو انکے میکے بھیج دیں خوشی خوشی چلی جائیں گیں۔ ۔۔

دل آویز نے چٹکی بجا کر مسئلے کا حل بتایا

اوہ ہاں یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں آپکی ماما کو تو بہانا چاہیئے وہاں جانے کا چلو شکر میں ایویں پریشان ہو رہا تھا یہ سوچ سوچ کر۔ ۔۔

سلیم نے ریلکس ہوتے ہوئے کہا

میرے ہوتے ہوئے آپکو ٹینشن لینے کی ضرورت نہیں۔ ۔ خیر یہ بتائیں وہ بابا جی آ کیوں رہے ہیں خیریت؟

ہاں بس کوئی ضروری بات کرنی ہے اسے مجھ سے شاید زینت کے حوالے سے یا کوئی اور بات کرنی ہو گی۔ ۔

سلیم نے جواب دیا

ہممم اچھا۔ ۔۔ تو پھر کھانے میں کچھ اسپیشل بنا لیتے ہیں کل کیا خیال ہے؟

دل آویز کو ناجانے کیوں دل ہی دل میں مامون کے آنے کی خوشی ہو رہی تھی

ہاں بلکل کچھ اچھا بنانا ہو گا اور میں آج ہی آپکی ماما کو انکے گھر چھوڑ دونگا تم کل چھٹی کر لو یونی سے اور بتا دو جو سامان لانا ہو۔ ۔۔

اوہ چھٹی کرنی ہو گی۔ ۔ چلیں کر لونگی کیا یاد کریں گے آپ۔ ۔ سامان میں آپکو میسج کر دونگی۔ ۔ فل حال ماما کو خوشخبری سنا دوں کے وہ نانو کے پاس جا رہی ہیں۔ ۔

دل آویز نے کھڑے ہو کر کہا اور روم کی طرف چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلی صبح سلیم مامون کے بتائے ہوئے وقت پر اسے لینے بس کے اڈے پر پہنچ گیا۔ ۔ دونوں ایک دوسرے سے گلے لگ کر ملے اور گاڑی میں بیٹھ گئے

اور سفر کیسا رہا تمہارا؟ ؟

سلیم نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے پوچھا

اللہ کا شکر آسان رہا ۔۔ آپ بتائیں میری وجہ سے پریشانی تو نہیں ہوئی آپکو۔ ۔۔

بلکل بھی نہیں بس اوفس سے چھٹی لی اور آگیا تمہیں لینے کوئی بھی مسئلہ نہیں ہوا۔ ۔۔

سلیم نے گاڑی چلاتے ہوئے بتایا

ہممم سلیم انکل کسی اچھی سی بیکری شاپ پر گاڑی روکیئے گا پلیزز مجھے کیک وغیرہ لینا ہے۔ ۔۔

ارے کس لیئے لینا ہے کیک رہنے دو اپنا ہی گھر سمجھو یار۔ ۔۔

سلیم نے منع کیا

نہیں پلیزز ویسے بھی دل آویز اتنے اچھے مارکس سے کامیاب ہوئی ہیں کیک یا میٹھائی تو بنتی ہے نا۔ ۔۔

مامون نے مسکرا کر کہا

ہاہاہا اچھا چلو تم کہتے ہو تو مان لیتا ہوں بس آگے ایک بیکری ہے وہاں روکتا ہوں گاڑی۔ ۔۔

سلیم نے ہنستے ہوئے کہا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سلیم نے مامون کو ڈرائنگ روم میں بیٹھایا اور خود دل آویز کو چائے بنانے کا کہنے چلے گئے۔ ۔ مامون بڑے سے صوفے پر بیٹھ کر ارد گِرد دیکھنے لگا۔ ۔۔ ڈرائنگ روم کافی جدید طریقے سے سجایا ہوا تھا۔ ۔ مامون کو احساس ہوا کے وہ اپنا دل کہاں لگا بیٹھا ہے۔۔۔

ہاں بھئی اب بتاو ایسی کیا ضروری بات ہے جو تمہیں اتنا پریشان کر رہی ہے۔ ۔؟؟

سلیم نے مامون کے سامنے بنے صوفے پر بیٹھ کر پوچھا

آممم بس وو وہ۔ ۔۔ اعظم بھائی کو دلاور بھائی کے بارے میں معلوم ہو گیا ہے۔ ۔۔ کافی سخت ناراض ہیں وہ آپس میں۔ ۔

مامون نے بات کا آغاز کیا

اوہ یہ تو برا ہوا کیسے پتا لگا اعظم کو۔ ۔ اور اب زینت کیسی ہے تمہیں کوئی امید نظر آتی ہے اس کے بچنے کی؟

سلیم نے پریشانی سے پوچھا

میں کیا کہہ سکتا ہوں۔ ۔ بہت کوشیش کرتا ہوں ان کے لیئے دو بار خود گیا ہوں انکا عمل توڑوانے مگررر کچھ خاص فرق نہیں پڑا مگر میں مایوس نہیں ہوں ۔۔۔ اعظم بھائی کو دلاور بھائی کے بارے میں میں نے ہی بتایا۔ ۔۔

مامون نے سنجیدگی سے کہا

تت تم نے ۔۔۔ مگر تم نے تو کہا تھا تم اس بات کا پردہ رکھو گے۔ ۔۔؟

سلیم نے حیران ہو کر پوچھا

جی ضرور پردہ رکھتا اگر وہ سدھر جاتے مگر۔ ۔۔ انہوں نے الٹا مجھ پر عمل کروانا شروع کر دیا ہے۔ ۔۔

مامون نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے بتایا

کک کیا۔ ۔۔ تم پر۔ ۔ اوہ گارڈ تم تو ٹھیک ہو نا مامون۔ ۔۔؟

سلیم نے پریشانی سے پوچھا

جی الحمدللہ اب تک ٹھیک ہوں۔ ۔ آتش بابا میرا فل حال کچھ نہیں بیگاڑ سکتا۔ ۔ اس شیطان نے دلاور کو کہا کے میرے کپڑے اور خون وغیرہ لا کر دے تاکے وہ مجھ پر عمل کر سکے۔ ۔۔ دلاور بھائی میرے آستانے سے کپڑے اور رومال چُرا کر لے گئے۔ ۔۔میرے رومال پر خون کے چند قطرے بھی تھے دلاور بھائی سمجھے کے شاید وہ خون کے نشان میرے ہیں مگرررر۔ ۔۔

مامون نے گہرا سانس لے کر سچ بتانے کا فیصلہ کیا

اس سے پہلے کے وہ پوری بات بتاتا سلیم کا فون بجنے لگا

اوہ ایم سوری مامون یہ اوفس والے کال کر رہے ہیں۔ ۔ پلیزز ایک منٹ دو مجھے۔ ۔۔

سلیم معزرت کرتا ہوا فون سنے روم سے باہر چلا گیا

سلیم کے جاتے ہی دل آویز چائے لیئے کمرے میں آ گئی

ارے بابا کہاں گئے۔ ۔۔؟؟

سلام کیئے بنا ہی دل آویز چائے کی ٹرے ہاتھ میں تھامے اندر آئی اور آنکھیں گھوما کر پوچھنے لگی

اسلام و علیکم۔ ۔ وہ ابھی فون سننے گئے ہیں۔ ۔۔

دل کو دیکھتے ہی مامون کے لب خود بخود مسکرانے لگے۔ ۔ اسے دیکھ کر مامون کو بہت سکون ملا جیسے اسکی ساری پریشانی ختم ہو گئی ہو۔ ۔

اوہ سوری میں نے سلام کرنا تھا بھول گئی ۔۔ خیر واعلیکم وسلام کیسے ہیں آپ؟ ؟

دل آویز شرمندہ ہوئی

میں الحمدللہ بلکل ٹھیک آپ کیسی ہیں؟ ؟

مامون نے پوچھا

میں تو بہت اچھی ہوں۔ ۔۔ اور گاوں میں سب ٹھیک ہیں۔ ۔ زینت باجی کیسی ہیں ؟؟

دل آویز نے چائے کا کپ اسے پکڑاتے ہوئے پوچھا

جی ویسی ہی ہیں جیسی آپ نے دیکھی تھیں۔ ۔

مامون نے اس کے چہرے سے نظر ہٹاتے ہوئے جواب دیا

اوہ۔ ۔ اتنا افسوس ہوتا ہے مجھے انکے لیئے۔ ۔۔ ارے یہ آپ لائے ہیں؟

دل آویز کی نظر ٹیبل پر پڑے شاپر پر پڑی

یہ آپکے لیئے کیک لایا ہوں۔ ۔ آپ بہت اچھے نمبرز سے پاس ہوئی ہیں نا اس لیئے۔ ۔۔

مامون نے وہ شاپر اٹھا کر دل آویز کی طرف بڑھایا

واو کیک کونسا فلیور ہے۔ ۔۔؟

دل آویز نے خوشی سے پوچھا

چاکلیٹ فلیور ہے سلیم انکل نے بتایا تھا کے آپکو یہ پسند ہے۔۔۔

مامون نے مسکرا کر کہا

تھینکس۔ ۔ ویسے آپکو کیسے پتا لگا میں اچھے مارکس سے پاس ہوئی ہوں۔ ۔

دل آویز نے مامون کو دیکھتے ہوئے پوچھا

بس جادو سے پتا لگا۔ ۔۔

مامون نے چائے کا گھونٹ بھرا

اوووو۔ ۔۔ آئی نو بابا نے بتایا ہوگا آپکو ابھی علی آئے گا نہ پورا کیک کھا جائے گا موٹو۔۔ خیر کیا بات کرنے آئے ہیں بابا سے۔۔۔

دل آویز نے مامون کو دیکھا۔۔ مامون اسی کو دیکھ رہا تھا

ہیلو بتائیں نا بابا سے کیا بات کرنے آئیں ہیں کوئی خاص بات ہے؟؟

مامون کو خاموش دیکھ کر دل نے دوبارا پوچھا۔۔ مامون نے ہوش میں آتے ہی اپنی نظریں اُس کے چہرے سے ہٹائیں

میں ایک وقت میں ایک ہی کام کر سکتا ہوں یا آپکی بات سن سکتا ہوں یا آپکو دیکھ سکتا ہوں۔۔ ایک ساتھ دونوں کام نہیں ہوتے مجھ سے۔۔

مامون نے نظریں جھکا کر آہستہ آواز میں کہا۔ ۔ دل آویز کو اس کی آدھی بات سمجھ آئی

کیا کہہ رہے ہیں اونچا بولیں نا۔ ۔؟؟

دل آویز نے غور سے مامون کو دیکھتے ہوئے پوچھا

کچھ نہیں آپ بتائیں کیا کہہ رہی تھیں۔ ۔۔

مامون نے سر جھٹک کر کہا اور پوری توجہ سے دل آویز کی بات سننے لگا

میں کیا کہہ رہی تھی ہاں یاد آیا مجھے تو آپ سے ایک بہت ضروری بات پوچھنی بہت دنوں سے مجھے یہ بات تنگ کر رہی ہے۔ ۔۔۔

دل آویز نے اپنے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ ۔ مامون نے پریشانی سے اسے دیکھا

کیا ہوا کونسی بات پریشان کر رہی ہے؟ ؟

مامون کے لہجے میں دل آویز کے لیئے فکر مندی تھی

ایچکولی۔ ۔ ہوا کچھ یوں کے پچھلے ہفتے مجھے کوئی رکشے والا کسی سنسان جگہ لے گیا وہاں ایک شخص نے مجھے بچایا اور میری ہیلپ کی۔ ۔ اب آپ زرا پتا لگا کر بتائیں وہ بندہ کون تھا۔ ۔؟؟

دل آویز نے سرگوشی میں پوچھا۔۔۔ مامون نے گہرا سانس لے کر اسے دیکھا اور دل ہی دل میں شکر کیا

اوہ تو یہ بات پریشان کر رہی ہے آپکو۔۔ میں کیسے پتا لگاوں کے وہ بندہ کون تھا۔ ۔ آپ نے دیکھا نہیں اسے۔ ۔۔؟

مامون نے لا پرواہی سے جواب دیا

زیادہ بنیں مت آپ تو کہتے ہیں آپکو سب پتا چل جاتا ہے تو اب ایک بندے کا پتا نہیں کرواسکتے۔ ۔ہنہ۔ ۔۔

دل آویز نے منہ بنا کر کہا

ارے میں نے کب کہا مجھے سب پتا لگتا ہے۔ ۔۔ آپ ملی ہونگی آپ کو پتا نہیں چلا وہ کون ہے تو مجھے کیسے پتا چلے گا۔ ۔؟؟

مامون نے کندھے اُچکا کر کہا

مگر مجھے پتا ہے وہ کون ہے۔ ۔ وہ آپ ہی تھے آئی ایم شیور۔ ۔

دل آویز نے دو ٹوک انداز میں کہا

اچھا آپ کیسے کہہ سکتی ہیں یہ کے وہ میں تھا؟

مامون نے دلچسپی سے پوچھا

کیونکے اسکی پلکیں آپ جیسی تھیں اتنی لمبی پلکیں یہاں کراچی کے لڑکوں کی نہیں ہوتیں۔ ۔۔ اور بال بھی آپ جیسے لمبے تھے۔ ۔۔ اب بتا دیں کے آخر آپ وہاں کیسے پہنچے آپ کو پتا کیسے چلا؟

دل آویز منت بھرے لہجے میں پوچھا

ہاہا تو کیا آپ مجھے اتنا غور سے دیکھتی ہیں؟ ؟

مامون نے دل آویز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا دک آویز اک پل کے لیئے گڑبڑا گئی

جتنی بیواقوف میں نظر آتی ہوں نہ اتنی ہوں نہیں سمجھے آپ۔ ۔ اب بتائیں شرافت سے۔ ۔۔

دل نے سختی سے کہا

میرا خیال ہے آپکو کوئی غلط فہمی ہوئی ہے میں تووو۔ ۔۔

اوہ سوری مامون زیادہ ٹائم لگ گیا۔ ۔ چلو شکر ہے دل چائے لے آئی مجھے لگا یہ پائے بنا رہی ہے۔ ۔۔

سلیم نے روم میں آتے ہی ہنستے ہوئے کہا۔ ۔ مامون نے دل ہی دل میں شکر کیا ورنہ دل آویز کے سوالوں کے جواب دینا آسان نہیں تھا

بابا آپکی چائے تو اب ٹھنڈی بھی ہو گئی۔ ۔ میں دوبارا گرم کر کے لاتی ہوں۔ ۔

دل آویز نے جھک کر چائے کا کپ اٹھایا

ہاں گرم کر کے لے آو مگر ساتھ میں جلدی سے کھانا تیار کر لو مامون نے شام میں واپس جانا ہے۔ ۔۔

سلیم نے دل آویز سے کہا

ارے اتنی جلدی کیوں رکیں ایک دن دو دن۔ ۔ ہمارا شہر دیکھ کر جائیں؟ ؟

دل آویز نے مروتاً کہا

نہیں بس ضروری کام سے ہی آیا تھا گھومنے نہیں آیا۔ ۔۔

مامون نے سنجیدگی سے جواب دیا

مرضی ہے آپکی۔ ۔۔ !

دل کندھے اچکا کر کہا اور وہاں سے چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں تو کیا کہہ رہے تھے تم کے تمہارے رومال پر جو خون کے قطرے تھے وہ کس کے تھے؟ ؟

سلیم نے دوبارا بات کا سلسلہ شروع کیا

جی وہ دلاور بھائی سمجھے کے میرا رومال ہے تو خون بھی میرا ہو گا مگر وہ میرا نہیں تھا۔ ۔۔

مامون سر جھکا کر کہا۔۔ کیسے وہ سلیم کو بتاتا کے وہ خون انکی اپنی بیٹی کا تھا

اوہ شکرررر۔ ۔ وہ خون تمہارا نہیں تھا میں تو ڈر گیا تھا۔ ۔ خیر اگر خون تمہارا نہیں تھا تو کس کا تھا ؟؟ اور پھر تم اتنے پریشان کیوں ہو؟

وو وہ خون۔ ۔۔ آممم وہ خون دل آویز کا تھا سلیم انکل۔ ۔۔

مامون نے ہمت کرتے ہوئے سچ بتایا

کک کیا۔ ۔ کیا کہہ رہے ہو مامون دل آویز کا خون تمہارے رومال پر کیسے تمہیں غلط فہمی ہوئی ہو گی۔ ۔۔

سلیم کو لگا ان کے سر پر کسی نے بم پھوڑ دیا ہو۔ ۔ وہ پریشانی سے اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑا ہو گیا

سلیم انکل پلیزز میری بات سنیں۔ ۔ رومال پر خون دل آویز کا ہی ہے آپ جانتے ہیں مجھے غلط فہمیاں نہیں ہوتیں۔ ۔ دراصل جس دن آپ لوگ جنگل گئے تھے اور دل آویز کے پاوں میں چوٹ آئی تھی اس وقت میں نے اس کا خون اپنے رومال سے صاف کیا تھا وہ ہی رومال دلاور کے ہاتھ لگ گیا۔ ۔۔

مامون نے تفصیل بتائی

اوہ نو۔ ۔ اب کیا ہو گا مامون۔ ۔تم جانتے ہو دل آویز نے میں میری جان ہے۔ ۔۔

سلیم نے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے کہا

کاش میں آپکو بتا سکتا کے اب میری جان بھی اُسی میں ہے۔ ۔۔

مامون نے دل میں سوچا

مامون مجھے بتاو خاموش کیوں ہو۔ ۔ مجھے بہت پریشانی ہو رہی ہے اگر آتش کے جادو کا اثر دل پر ہو گیا تو۔ ۔۔اللہ نہ کرے۔ ۔۔

سلیم نے گھبرا کر پوچھا

آپ یقین رکھیں انکل میں دل آویز کو کچھ نہیں ہونے دونگا ۔۔۔

مامون نے سامنے سے آتی دل کو دیکھا جو چائے کا کپ ہاتھ میں لیئے روم کی طرف آرہی تھی۔ ۔ مامون فوراً خاموش ہو گیا

بابا آپ کی چائے گرم ہو گئی یہ لیں۔ ۔۔

دل آویز نے سلیم کی طرف چائے کا کپ بڑھایا۔ ۔ سلیم گم سم سا ہو کر دل آویز کو دیکھنے لگا۔ ۔۔

بابا چائے پکڑیں کیا ہوا آپکو۔ ۔ اتنے پریشان سے کیوں لگ رہے ہیں۔ ۔؟؟

دل نے پریشانی سے پوچھا

آں ہاں میں ٹھیک ہوں لاو دو چائے۔ ۔۔

سلیم نے چائے کا کپ پکڑا اور مامون کو دیکھا۔۔ مامون نے گہرا سانس لے کر نظریں نیچے جھکا لیں۔ ۔ دل آویز حیران پریشان سی دونوں کو دیکھنے لگی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *