Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Episode 04)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Episode 04)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
دل آویز بظاہر تو مطمئن تھی مگر چائے پیتے ہوئے وہ مسلسل مامون کے بارے میں کی جانے والی باتوں کو سوچ رہی تھی۔ ۔ اسے عجیب سی بیچینی ہونے لگی اس کا دل کیا وہ مامون سے معافی مانگ لے۔۔۔ مگر اس میں اتنی ہمت بھی نہیں تھی کے اس کے سامنے اپنی غلطمی کا اعتراف کرتی۔ ۔۔ چائے ختم کر کے اس نے کپ ونہی رکھا اور اٹھ کر سمن کے پاس چلی گئی
سمن تم ناراض ہو کیا؟
سمن کو منہ پھلائے کام کرتا دیکھ کر دل نے پوچھا
نہیں جی ناراض تو نہیں ہوں مگر آپ نے مامون بابا کے بارے میں وہ سب بولا مجھے اچھا نہیں لگا بس۔۔
سمن نے منہ بنا کر کہا
ارے تو مجھے کیا پتا تھا وہ بندہ اسی وقت نازل ہو جائے گا۔ ۔ سچ کہوں تو مجھے بھی گلٹ سا محسوس ہو رہا ہے۔ ۔۔
دل نے شرمندگی سے کہا
ہنہ کیا سوچتے ہونگے وہ کے ہم ان کے بارے میں کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں۔ ۔۔
سمن نے افسوس کیا
اچھا زیادہ دکھی مت ہو۔ ۔ یہ ہی مسئلہ حل کرنے آئی ہوں میں۔ ۔
دل نے سمن کا ہاتھ پکڑ کر اسے کام کرنے سے روکا
کیسے حل کریں گی اب منہ سے نکلی بات بھی بھلا واپس ہوتی ہے۔ ۔۔
سمن نے اکتا کر کہا
ہاں ہو جاتی ہے اگر سامنے والا شرمندگی سے اپنی غلطی مان کے معافی مانگ لے تو۔ ۔۔
دل نے گہرا سانس لے کر کہا
کک کیا۔ ۔ آپ ان سے معافی مانگیں گیں؟ ؟ واقعی؟ ؟
سمن دل کی بات سن کر حیران ہو گئی
ہاں اب میں اتنی بھی بدتمیز نہیں ہوں کے کسی کی برائی کر کے اس سے معافی بھی نہ مانگوں بس اس وقت تم کچھ زیادہ ہی اپنے مامون بابا کی تعریفیں کیئے جا رہی تھی تو مجھے غصہ آ گیا۔ ۔۔۔ خیر چھوڑو وہ سب۔ ۔ تم نے بس ایک کام کرنا ہے۔ ۔ بابا کو کسی طریقے سے کمرے سے نکالنا ہے۔ ۔۔
دل آویز نے آخری بات زرا آہستہ آواز میں کہی
کیا ابا جی کو میں کمرے سے کیسے نکالوں گی۔ ۔۔؟؟
سمن نے پریشانی سے پوچھا
ارے میں بابا کے سامنے معافی کیسے مانگ سکتی ہوں۔ ۔ اگر بابا کو پتا لگا تو ناراض ہونگے۔ ۔۔ تم کوئی سا بھی بہانہ بنا کر بابا کو لے جانا روم سے یار۔ ۔۔
دل آویز نے اکتا کر کہا
کیسا بہانا کرونگی۔ ۔۔
سمن نے رازداری سے پوچھا
ارے بول دینا کے تمہاری امی بلا رہی ہیں یا کسی کا نام لے کر بول دینا کے فلاں ملنے آیا ہے۔ ۔۔
دل آویز نے مشورہ دیا
اور اگر اماں جی نے انہیں کہا کے میں نے تو بلایا ہی نہیں پھر۔ ۔؟؟
اوففف ہووو۔ ۔ تم اپنی امی سے کوئی ایسی بات کرو کے وہ خود ہی تم سے کہہ دیں بابا کو بلوانے کا اب اتنا تو خود سے سوچ لو حد ہے۔ ۔۔
دل آویز نے تھوڑے غصے سے کہا
آپ نا مجھے پٹوائیں گیں دل باجی۔ ۔۔ خیر میں کہہ دونگی اماں جی کو کچھ نہ کچھ۔ ۔۔۔۔
سمن نے آخر کار ہار مانتے ہوئے کہا اور دوبارا اپنے کام میں مصروف ہوگئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامون پتا لگا کچھ زینت پر کس نے یہ عمل کروایا ہے۔ ۔۔؟
سلیم نے فکرمندی سے پوچھا
ہممم سلیم انکل پتا تو مجھے لگ گیا ہے مگررر۔ ۔۔ میں چاہتا ہوں فل حال اعظم بھائی وغیرہ کو یہ بات ابھی نہ بتاوں۔۔
مامون نے گہرا سانس لیتے ہوئے کہا
اوہ ایسا کون ہے کیا کوئی رشتے دار ہے؟ ؟
سلیم نے بیچینی سے پوچھا
جی سلیم انکل۔ ۔۔ سمجھ نہیں آرہا کیسے بتاوں۔ ۔ صرف رشتے دار ہی نہیں وہ ان کا اپنا خون ہے۔۔۔
مامون نے افسوس سے کہا
وہ کوئی اور نہیں دلاور بھائی اور انکی بیوی ہیں۔ ۔۔
مامون نے سلیم کی طرف دیکھ کر کہا
مامون اپنی یہ سب باتیں اکثر سلیم سے ہی شیئر کرتا تھا واحد وہ ہی تھے جو مامون کو اپنے بچوں کی طرح ٹریٹ کرتے تھے
اوہ۔ ۔۔۔ دلاور۔ ۔ نو آئی کانٹ بلیو۔ ۔۔
سلیم نے حیران ہو کر کہا
پہلے میں بھی بہت حیران ہوا ۔۔ اگر کوئی انسان آکر مجھے یہ بتاتا تو شاید میں یقین نہ کرتا مگر یہ تو اللہ نے میرے دل میں ڈالا ہے اس لیئے میں اس پر کوئی شُبہ بھی نہیں کر سکتا۔۔۔
اففف کیسے کر سکتا ہے دلاور یہ۔ ۔ اور کیوں کرے گا تم نے کچھ پتا کیا۔ ۔۔؟
سلیم نے پریشانی سے پوچھا
نہیں ابھی یہ پتا نہیں کر سکا مگر ان شاءاللہ جلد پتا لگ جائے گا۔ ۔ میں آج شام جاونگا زینت باجی کی طرف وہاں دلاور بھائی بھی آئیں گے کوشیش کرونگا کچھ معلوم ہو سکے۔ ۔۔
مامون نے کہا
اچھا چلو میں بھی آجاونگا وہاں۔ ۔ تم چائے تو پیو نا ۔۔۔
سلیم نے چائے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
مامون نے خاموشی سے چائے کا کپ اٹھا لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابا جی ۔۔ وو وہ آپکو اماں جی بلا رہی ہیں۔ ۔۔ زرا انکی بات سن لیں۔ ۔۔
پلان کے مطابق سمن نے روم کا دروازہ بجاتے ہوئے کہا
کیا کام ہے پوچھ لو۔۔۔ تم نے بتایا نہیں میں مامون کے ساتھ ہوں۔ ۔
سلیم نے سمن کی طرف دیکھ کر کہا
نن نہیں وو وہ۔ ۔۔ شاید کوئی ضروری بب بات ہے۔
سمن نے گھبراتے ہوئے کہا۔ ۔ مامون نے چونک کر سمن کو دیکھا۔ ۔ وہ سمجھ گیا کے سمن جھوٹ بول رہی ہے
اچھا۔ ۔ مامون تم جانا مت میں بات سن کر آتا ہوں۔۔۔
سلیم نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا اور سمن کے ساتھ باہر نکل گئے۔ ۔۔ سلیم کے جاتے ہی دل آویز جلدی سے روم کے اندر آگئی
ہائے۔۔۔
روم میں آتے ہی دل آویز نے مسکرا کر کہا۔ ۔۔ مامون دل کو دیکھے بنا ہی مسکرایا۔۔۔ مگر وہ خاموش رہا
وو وہ مجھے آپ سے بات کرنی ہے۔ ۔۔
مامون کو خاموش دیکھ کر دل نے اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے کہا
جی کہیئے میں سن رہا ہوں۔ ۔۔
مامون نے اپنا چائے کپ خالی کر کے ٹیبل پر رکھا اور دل کو دیکھنے لگا
ایکچولی۔ ۔ ایم ساری۔ ۔۔
دل نے بہت ہمت کر کے کہا۔ ۔ ساری کا لفظ کہتے ہوئے اس نے زور سے اپنی آنکھیں بند کیں جیسے بہت مجبوری میں کر رہی ہو۔ ۔
ہممم مگر کس بات کی؟ ؟
مامون نے دل کی اس ادا پر مسکرا کر پوچھا
وہ ہی جو آپ نے میری باتیں سن لیں۔۔۔ ایکچولی میرا وہ مطلب نہیں تھا جو میں کہہ رہی تھی۔ ۔۔
دل آویز نے اپنی صفائی پیش کرنا چاہی
ارے مگر آپ نے تو اس وقت کہا تھا کے وہ سب آپ میرے بارے میں نہیں کہہ رہی تھیں؟ ؟
پتا نہیں کیوں مامون کا دل کیا وہ اسے تنگ کرے۔ ۔ اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے اس نے معصوم بنتے ہوئے پوچھا
اتنے بھی پاگل نہیں ہیں آپ کے آپکو پتا نہیں لگا کے میں کس کے بارے میں بات کر رہی تھی۔ ۔ ویسے لوگوں کی باتیں آپ معلوم کر لیتے ہیں اور یہ اتنی سی بات آپ کو پتا نہیں چلی۔۔۔ ہنہ میں مان ہی نہیں سکتی۔ ۔
دل آویز نے سر کو دائیں بائیں ہلاتے ہوئے کہا۔ ۔۔
اچھا۔ ۔۔۔ ایسا ہے تو آپ نے میرے بارے وہ سب کہا کیوں؟
مامون نے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا
بسسس۔ ۔۔ ایویں۔ ۔ سمن آپکی کچھ زیادہ ہی تعریفیں کر رہی تھی۔ ۔۔
دل نے کندھے اچکا کر کہا مامون اسے دیکھتا رہہ گیا
تو آپ کو کیوں برا لگ رہا تھا اگر وہ میری تعریف کر رہی تھی۔ ۔۔؟؟
مامون نے دلچسپی سے پوچھا
پتا نہیں کیوں اب اتنے بھی کوئی خاص نہیں ہیں آپ۔ ۔۔
دل دوبارا سے اپنی ٹون میں آچکی تھی اسے بھول گیا تھا کے وہ معافی مانگنے آئی ہے
تو میں نے کب کہا کے میں خاص ہوں۔ ۔۔؟؟
مامون نے اپنی بھویں اٹھا کر پوچھا
وو وہ پورا گاوں تو سمجھتا ہے نا۔ ۔ ویسے آپ کو اسطرح خاموشی سے کسی کی باتیں سنی نہیں چاہیئے تھیں۔ ۔
دل نے منہ بناتے ہوئے کہا
مگر میں نے جان بوجھ کر تو نہیں سنی۔ ۔
مامون نے صفائی پیش کی
مگر آپ بتا سکتے تھے نا اندر داخل ہوتے ہی۔ ۔
دل نے سختی سے کہا
میں کسی کی بات کو کاٹتا نہیں ہوں۔ ۔ اتنے مینرز ہیں مجھ میں۔ ۔
مامون نے مسکرا کر جواب دیا
اچھا کسی کے گھر آتے ہوئے دروازہ بجا کر آنا بھی مینرز ہی کہلاتا ہے۔ ۔۔
دل نے طنز کیا
میرے خیال سے آپ مجھ سے معافی مانگنے آئی تھیں ۔۔ نا کے میری غلطیاں مجھے بتانے۔ ۔۔؟؟
مامون نے اپنی مسکراہٹ چھپا کر سنجیدگی سے کہا
ہاں تو مانگ تو لی ہے معافی اب کیا آپ چاہتے ہیں میں ہاتھ جوڑوں۔ ۔
دل نے منہ بنا کر کہا
بلکل بھی نہیں میں تو بس یہ کہہ رہا ہوں کے مجھ سے پوچھ تو لیں کے میں نے آپ کو معاف کیا ہے یا نہیں۔ ۔۔
مامون نے کہا
یقینً آپ نے معاف کر دیا ہو گا ظاہر سی بات ہے کوئی اتنی بڑی غلطی تھوڑی ہے کے آپ معاف نہیں کریں گے۔ ۔۔
دل نے لاپرواہی سے کہا
اچھا۔ ۔۔
مامون ایک دم کُھل کر مسکرایا
ویسے کسی کی پیٹھ پیچھے برائی کرنا غلطی نہیں گناہ ہے ۔۔۔ آممم آپکو نہیں کہہ رہا یہ ویسے جینرل بات کر رہا ہوں۔ ۔
مامون نے اسے سمجھنا چاہا
میں نے کوئی برائی نہیں کی تھی میں تو ویسے ہی بس بات کر رہی تھی۔ ۔۔
دل نے کندھے اچکا کر کہا
یہ ہی غلطی کرتے ہیں ہم لوگ باتوں باتوں میں بہت سے گناہ کر دیتے ہیں اور۔ ۔۔
ارے دل بیٹا تم یہاں۔ ۔۔
سلیم ایک دم روم میں آئے۔ ۔۔ مامون کی بات ادھوری رہ گئی
آں ہاں وو وہ۔ ۔۔ بابا مم میں۔ ۔۔
دل ایک دم گھبرا کر کھڑی ہو گئی
سلیم انکل یہ کچھ پوچھنے آئیں تھیں مجھ سے۔ ۔۔
مامون نے دل کی گھبراہٹ دیکھ کر کہا
ہیں ں ں۔ ۔ یہ کیا پوچھنے آئی تھی؟
سلیم حیران ہوا
یہ ہی کے اگر کسی کی بات پیٹھ پیچھے کی جائے تو وہ غلطی ہوتی ہے یا گناہ۔ ۔
مامون نے مسکرا کر دل کی طرف دیکھا۔ ۔ دل نے اسے آنکھیں دیکھائیں
اچھا ہماری بیٹی بھی ایسی باتیں سوچتی ہے ماشاءاللہ۔ ۔۔
سلیم نے دل کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا
جی بابا بس ایسی باتوں کا پتا ہونا چایئے نا۔۔۔۔
دل نے معصوم بنتے ہوئے کہا
ویری گُڈ۔۔ جیتی رہو۔ ۔
سلیم نے مسکرا کر کہا۔ ۔۔ جبکے مامون نے نظر بھر کر دل کو دیکھا پتا نہیں کیوں وہ بار بار دل کو دیکھنے سے خود کو روک نہیں پایا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامون وعدے کے مطابق زینت کے گھر پہنچ گیا۔ ۔ وہاں زینت کو دیکھنے بہت سے رشتے دار آئے ہوئے تھے۔ ۔۔ ان میں دلاور اور اسکی بیوی بھی شامل تھے۔ ۔۔۔ سب مامون کے آتے ہی زینت کے روم سے نکل گئے۔ ۔ مامون نے معمول کے مطابق زینت پر دم کیا اور زکر کرنے لگا۔ ۔ زینت کی حالت ویسی ہی تھی وہ بلکل بستر پر لگ گئی تھی اور پہلے سے بہت کمزور ہو گئی تھی
زینت باجی آپ نے ہمت کیوں چھوڑ دی میں نے کہا تھا نا آپ نے مایوس نہیں ہونا۔ ۔۔
مامون نے سنجیدگی سے کہا
کیا کروں مامون بابا۔ ۔۔ کوئی امید بھی تو نظر نہیں آتی۔ ۔ نا جانے کون ہے جس نے میرے ساتھ یہ سب کیا۔ ۔ ہائے اللہ میں نے تو کبھی کسی کا برا نہیں چاہا۔ ۔۔ مامون بابا مجھے بتائیں کس نے کیا ہے یہ؟ ؟
زینت نے روتے ہوئے پوچھا
زینت باجی آپ ان باتوں کے بارے میں مت سوچیں آپ بس اپنی صحت یابی کا سوچیں۔۔۔ اللہ نے انسان کو اشراف المخلوقات بنایا ہے۔ ۔ بہت صبر اور ہمت والا بنایا ہے۔ ۔ اللہ اپنے بندوں سے بہت محبت کرتا ہے۔ ۔ پھر آپ کو امید نظر کیوں نہیں آتی۔ ۔۔؟؟ آپ کو امید صرف اللہ سے لگانی ہے اور اللہ سے لگائی ہوئی امید کبھی ٹوٹتی نہیں ہے زینت باجی۔ ۔۔
مامون نے اسے تسلی دی
مامون بابا سارا دن یہ ہی سوچتی رہتی ہے۔ ۔ میں اسے سمجھا سمجھا کے تھک گیا ہوں۔ ۔۔
اعظم نے پریشانی سے کہا
اعظم بھائی آپ انہیں مصروف رکھا کریں بس۔ ۔ باتیں کیا کریں اور ان کے سامنے قرآن پڑھا کریں زیادہ سے زیادہ۔ ۔۔
مامون نے اعظم سے کہا۔ ۔ اس نے سر ہاں میں ہلایا
اعظم بھائی اپنے سب رشتے داروں کو بلائیں میں انہیں چھوٹا سا بیان دینا چاہتا ہوں۔۔۔
اچھا جی میں ابھی بلا کر لاتا ہوں سب کو۔ ۔۔
اعظم نے سر ہلاتا ہوا باہر چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اللہ نے ہم انسانوں کو بہت سے اختیارات دیئے ہیں۔ ۔۔ ہم چاہیں تو اپنے لیئے جنت کے باغ جمع کر سکتے ہیں۔ ۔ اور اگر چاہیں تو دوزخ کی آگ جمع کر سکتے ہیں۔ ۔۔ اب ہمیں چننا ہے کے ہمیں کیا جمع کرنا ہے۔ ۔ یہ گاوں بہت عرصے سے ایک شیطانی عمل کا شکار ہو رہا ہے۔ ۔۔ ایک بات یاد رکھیں آپ سب۔ ۔ جو یہ شیطانی عمل کرواتا ہے وہ خود بھی بلکل اسی طرح مرتا ہے ہنہ دنیا میں اسکو زلت الگ ملتی ہے اور آخرت کی سزا الگ۔ ۔۔ آپ سب نے میرے والدین کی موت اپنی آنکھوں سے دیکھی ہے پھر ان لوگوں کی بھی جنہوں نے میرے ماں باپ پر وہ عمل کروایا تھا۔ ۔۔ کتنے بے بس تھے وہ لوگ مرتے دم تک معافی مانگتے رہے کیا ملا انہیں آخر کار خالی ہاتھ ہی یہاں سے گئے۔ ۔۔۔ آپ جانتے ہیں اللہ بہت رحیم ہے وہ چاہے تو بڑے سے بڑا گناہ معاف کر سکتا ہے مگر پھر بھی وہ سزا دیتا ہے صرف اس لیئے کے ہم سب اس سے عبرت حاصل کر سکیں۔ ۔۔ تو کیا ہم عبرت حاصل کرتے ہیں؟ ؟ کیوں بھول جاتے ہیں ہم اپنی اصلیت۔ ۔۔ کیوں ہم اپنوں کو اس حال میں پہنچا دیتے ہیں جہاں تکلیف کے علاوہ کچھ نہیں۔ ۔ کیا سمجھتے ہیں کے یہ سب کرنے کے بعد آپ سب سکون سے رہیں گے ؟؟ نہیں۔ ۔۔ وقت پلٹ کر آتا ہے وہی موت ہمیں بھی آنی ہے۔ ۔۔ موت کی سختی کو کم کریں۔ ۔ اس کو بڑھائیں نہیں۔ ۔۔
مامون نے بہت سنیجدگی سے اپنی بات مکمل کی اور طنز بھری نظروں سے دلاور کو دیکھا جو بظاہر سر جھکائے بیٹھا بہت غور سے یہ سب سن رہا تھا
آپ بلکل ٹھیک کہتے ہیں مامون بابا۔ ۔ نا جانے ہمارے گاوں سے یہ مصیبت کب ختم ہو گی۔ ۔ جس کو دیکھو چھوٹی چھوٹی باتوں پر شیطانی عمل کروانے بھاگتا ہے اللہ بچائے ہم سب کو۔ ۔۔
زینت کی ساس نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا
صحیح کہہ رہی ہو بہن اللہ ایسے لوگوں کا منہ کالا کرے اللہ ہماری زینت کو جلدی صحت یاب کرے۔ ۔۔
رشیبدہ نے بھی ہاں میں ہاں ملائی جبکے دلاور اسکی بیوی پہلو بدل کر رہ گئے
خیر آپ سب دعا کریں میں چلتا ہوں اب۔ ۔۔
مامون کھڑا ہوا۔ ۔ اس کے ساتھ سب کھڑے ہوئے
اللہ میری بہن کو جلدی ٹھیک کرے ۔۔ مامون بابا آپ کا بہت شکریہ۔ ۔۔
دلاور نے مامون کے سامنے کھڑے ہو کر کہا مامون نے ایک سنجیدہ نظر اس پر ڈالی اور چلا گیا جبکے دلاور اسکی نظروں سے گھبرا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آتش بابا ۔۔۔۔ ہمیں لل لگتا ہے کے مم مامون بابا کو ہمارا پتا لگ گیا ہے یا انہیں شک ہو گگ گیا ہے۔ ۔
دلاور گھٹنوں کے بل آتش بابا کے سامنے جھک کر بیٹھا تھا
ہاہاہاہاہا۔ ۔۔۔ مامون بابا۔ ۔۔۔ ہاہاہا وہ کل بچہ کیوں ڈرتے ہو اس سے۔ ۔۔ اس کا شاہ بابا میرا کچھ نہیں بیگاڑ سکا تو وہ میرا کیا بگاڑے گا۔ ۔ ہاہاہا ڈرو مت ۔۔۔۔ ڈرو گے تو مرو گے۔ ۔۔
آتش بابا عجیب طرح سے ہنسا اسکے آگے کے دانت چمکنے لگے وہ گول گول گھومنے لگا
جج جی بابا مم مگر مامون بابا۔۔
بسسسسس۔ ۔۔۔ نام نہ لے اسکا۔ ۔۔ اسے ختم کرنا میرے دائیں ہاتھ کا کام ہے مگررر ابھی اسے جینے دے۔ ۔۔
آتش بابا نے اپنے ہاتھ کا پنجا دیکھا کر دلاور کو مزید بولنے سے روکا
جج جی بابا۔۔۔
دلاور زمین پر جھکا۔ ۔۔ آتش بابا نے اس اپنا پاوں اسکے سر پر رکھا۔ ۔ دلاور اٹھ کر کھڑا ہوا اور سر جھکائے وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامون رات کے آدھے پہر میں آنکھیں بند کیئے کچھ پڑھنے میں مصروف تھا۔ ۔۔ آس پاس بہت گہری خاموشی تھی۔۔۔ ہلکے ہلکے ہوا چل رہی تھی۔۔ ہوا سے مامون کے کندھوں تک آتے بال ہل رہے تھے۔ ۔۔۔ ایک دم مامون کو ایک خوف ناک سی آواز آئی۔ ۔۔ مامون نے چونک کر آنکھیں کھولیں۔ ۔ ہر طرف بہت گھپ اندھیرا تھا۔ ۔۔ مامون نے اپنی پاس پڑی لالٹین جلائی اور کھڑے ہو کر اپنے ارد گرد دیکھا۔۔۔ اب وہ آواز اسے اپنے پیچھے سے آئی مامون نے جلدی سے پلٹ کر دیکھا مگر وہاں کچھ نہیں تھا۔ ۔۔ کون ہو۔ ۔۔؟؟ سامنے آو یوں چھپ کر مجھے ڈرا رہے ہو یا خود مجھ سے ڈر رہے ہو۔ ۔۔
مامون نے بنا کسی خوف کے کہا
ہاہاہا۔ ۔۔۔ مامون بابا۔ ۔۔۔ دور رہو۔ ۔۔ دوررررر بہت رہووو ہم سے۔ ۔۔
اسے چاروں طرف سے گونجتی ہوئی آواز سنائی دی
ہنہ۔ ۔۔ تم دور رہو۔ ۔۔۔ بہت تماشے کر لیئے اب تمہارا وقت ختم ہونے والا ہے۔ ۔۔
مامون نے غصے سے کہا۔۔۔ اپنی بات مکمل کرتے ہی آس پاس دیکھا اب وہاں خاموشی تھی مامون دوبارا بیٹھنے ہی لگا تھا کے اس کے اوپر درخت کا ایک بہت بھاری تنا گرنے لگا۔ ۔۔ بہت تیزی سے مامون وہاں سے ہٹا اور خود کو بچایا۔ ۔۔
جلدی سے مامون نے شاہ بابا کی ایک کتاب کھولی اور اس میں لکھے ہوئے ازکار پڑھنے لگا۔ ۔۔ اب اس کے آس پاس بہت تیز تیز چلنے کی آواز آ رہی تھی جیسے کوئی اپنا غصہ نکال رہا ہو۔ ۔ مامون تسلی سے زکر کرتا رہا اور تھوڑی دیر بعد وہ آوازیں آنا بند ہو گئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا مجھے وہ جنگل دیکھنا جہاں مامون بابا رہتا ہے۔۔۔پلیززز
دل آویز نے سلیم سے کہا
دل بیٹا وہ آپ سے بڑا ہے۔ ۔ رہتا ہے کیا ہوتا ہے۔ ۔ رہتے ہیں بولنا چاہیئے۔ ۔۔ خیر وہاں تم نہیں جا سکتی وہ تمہیں اجازت نہیں دے گا۔۔۔
سلیم نے اسے ٹالا
نہیں بابا آپ بات کریں گے تو وہ منع نہیں کرے گا۔ ۔ آئی مین منع نہیں کریں گے ے ے۔ ۔۔
دل نے بات بنائی
مجھے نہیں لگتا وہ مانے گا مگر خیر بات کر کے دیکھ لیں گے۔ ۔ مگر تم یہ بات فل حال کسی کو نہیں بتاو گی۔ ۔
سلیم نے جواب دیا
جی بابا بلکل کسی کو نہیں بتاونگی پکا۔ ۔۔۔
دل نے خوشی سے کہا
ہاں اور اپنی ماما سے تو زکر بھی مت کرنا بہت ناراض ہے مجھ سے فون بھی نہیں اٹھا رہی میرا۔ ۔۔
سلیم نے ہنستے ہوئے کہا
ہاں بابا بس اب تو وہاں جا کر ہی انہیں منائیں گے۔ ۔
دل نے افسردگی سے کہا
ابا جی یہ چائے پی لیں۔ ۔
سمن نے آکر سلیم کو چائے دی سلیم چائے پینے میں مصروف ہو گیا جبکے دل اپنے بال بنانے میں مصروف ہو گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامون بیٹا یہ جو ہماری بیٹی ہے نا اسے وہ جنگل دیکھنا ہے جہاں آپ رہتے ہیں۔ ۔۔
سلیم اور دل مامون کے سامنے بیٹھے تھے۔ ۔ سلیم نے مسکرا کر مامون سے پوچھا
آمممم سلیم انکل وہاں یہ کیسے جا سکتی ہیں۔ ۔۔
مامون نے چونک کر دل کو دیکھا
ارے کیوں نہیں جا سکتی بھئی۔ ۔
دل نے فوراً اعتراض کیا۔ ۔۔
دل بیٹا آپ چپ کرو میں بات کر رہا ہوں نا۔ ۔۔
سلیم نے دل کو چپ کروایا۔ ۔ دل منہ بنا کر چپ ہو گئی
دیکھو مامون بیٹا چھوٹی سی خواہش ہے اسکی پوری کر دو۔ ۔
سلیم نے دوبارا اصرار کہا
آپ جانتے ہیں میں آپ کی کوئی بات ٹالتا نہیں ہوں مگررر۔ ۔ وہاں انکا جانا ٹھیک نہیں ہے۔ ۔
مامون نے انہیں سمجھانا چاہا
ارے اسے بس ارد گرد کا دیکھا دینا میرا مطلب آس پاس کی جگہ دیکھا دینا۔ ۔۔
سلیم نے آنکھوں ہی آنکھوں میں مامون کو بات سمجھائی
اوہ اچھا۔ ۔ چلیں ٹھیک ہے پھر میں لے چلوں آپ دونوں کو۔ ۔ آممم ظہر کی نماز کے بعد چلیں گے ان شااللہ۔ ۔۔
مامون نے بات سمجھتے ہوئے فوراً ہامی بھری۔ ۔ جبکے دل ان دونوں کو مشکوک نظروں سے دیکھنے لگی۔
