Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pur Israar Mohabat (Episode 03)

Pur Israar Mohabat by Maria Awan

دل آویز حیریت سے منہ پر ہاتھ رکھے سامنے زمین پر بیٹھے مامون کو دیکھ رہی تھی۔ ۔۔ کندھوں تک آتے بال۔۔۔ گھنی شیو اور سنجیدہ چہرہ۔ ۔ وہ ایک خوش شکل نوجوان تھا کہیں سے بھی وہ ویسا نہیں تھا جیسا دل سوچ کر آئی تھی اس سے پہلے کے دل دوبارا سے کوئی بے تکی بات کرتی اعظم بول پڑا

معاف کرئیے گا مامون بابا ۔۔ یہ سلیم بھائی کی بیٹی ہے دل آویز۔۔۔ شہر سے آئیں ہیں اس لیئے شاید آپکو جانتی نہیں۔۔

اعظم نے شرمندگی سے کہا اور سر کُجھاتا ہوا دل کو دیکھنے لگا۔ ۔ مامون نے سر دائیں بائیں ہلا کر اسے تسلی دی

دل بیٹا آو باہر چلیں میں تمہیں بکریاں دیکھاتی ہوں۔ ۔ چلو شاباش۔ ۔

اعظم کی ماں جانتی تھیں کے دل کو جانور پسند ہیں اسی لیئے اس نے دل کو بچوں کی طرح بہلایا

مگرر۔ ۔۔

ارے ہاں اماں وہ خرگوش بھی ہیں وہ بھی دیکھائیں انہیں۔ ۔

دل نے کچھ بولنے لیئے منہ کھولا ہی تھا کے اعظم نے اسے چپ کروا دیا۔ ۔ وہ ونہیں کھڑے ہو کر برے برے منہ بنانے لگی۔ ۔ مامون نے نا چاہتے ہوئے بھی اپنا سر اٹھا کر اپنے سامنے کھڑی ہستی کو دیکھا۔ ۔ جو اسے مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی۔ ۔ مامون کو اپنی نظر اُس پر سے ہٹانا مشکل لگا وہ اپنی چھوٹی آنکھیں گھوما گھوما کر ناراضگی کا اظہار کر رہی تھی۔ ۔ اعظم کی والدہ اب اس کے بلکل پاس کھڑی اسے کچھ آہستہ آواز میں سمجھا رہی تھیں۔ ۔ اُس نے انکی بات سن کر کندھے اچکائے اور پھر مامون کی طرف دیکھا مامون بھی اُسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔ ۔۔ ایک دم دونوں کی نظریں آپس میں ٹکرائیں تو مامون نے گھبرا کر اپنی نظریں جھکا لیں۔ ۔۔ دل آویز ناچاہتے ہوئے بھی باہر چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زینت باجی آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔ ۔ اور نہ ہی مایوس ہونا ہے ۔۔۔ بس اللہ کا زکر زیادہ سے زیادہ کریں۔ ۔ ان شاءاللہ جلد ٹھیک ہو جائیں گی۔ ۔

مامون زینت کے پلنگ کے پاس کھڑا اسے تسلی دینے لگا

کیسے مایوس نہ ہوں مامون بابا۔ ۔ دل بند ہو رہا ہے میرا کوئی امید نظر نہیں آتی عجیب سا خوف ہر وقت سر پر منڈلاتا رہتا ہے۔ ۔۔

زینت نے تکلیف سے کہا

زینت باجی۔ ۔ اللہ پر کامل یقین ہی انسان کو مایوسی سے بچاتا ہے۔ ۔۔ اللہ کے کلام اور اسکے زکر پر مکمل یقین کریں تو سارے ڈر اور خوف ختم ہو جائیں گے مگر کامل یقین شرط ہے۔ ۔۔ موت ایک دن آنی ہے مگر اللہ کے حکم سے ہی آئے گی دنیا کی کوئی بھی طاقت اُسکی مرضی کےبنا کسی کو نہ زندگی بخش سکتی ہے نہ ہی موت۔ ۔۔ چاہے جتنا مرضی شیطانی عمل ہو۔۔ بس آپ اپنا ایمان کمزور مت کرئیے گا ۔۔ باقی میں بھی اللہ سے خصوصی دعا کرونگا وہ سنے گا ہم سب کی۔ ۔۔ جو کہا ہے ضرور پڑئیے گا۔ ۔۔ دم کیا ہوا پانی ہی پینا ہے آپ نے۔ ۔۔ اب میں چلتا ہوں اللہ آپ کی تکلیف دور کرے۔۔

مامون نے سنجیدگی سے اپنی بات مکمل کی اور اعظم کے ساتھ روم سے باہر نکل گیا

چائے پیئے بنا آپ نہیں جائیں گے مامون بابا۔ ۔۔ سلیم بھائی آئے تھے آپ سے ملنے مگر آپ مصروف تھے تو وہ دلاور کی طرف چلے گئے۔ ۔ وہ آنے والے ہونگے جب تک آپ چائے پی لیں۔ ۔

اعظم نے مامون کو روکتے ہوئے کہا

اچھا چلیں ٹھیک ہے۔۔۔

مامون کو ماننا ہی پڑا وہ دونوں ابھی بیٹھک کی طرف جانے ہی لگے تھے کے پیچھے سے دل کی آواز آئی

ایکس کیوزمی بابا جی۔۔۔

دل نے پھولی ہوئی سانس میں کہا۔۔ شاید وہ بھاگ کر ان کے پاس آئی تھی۔ ۔۔ مامون نے پلٹ کر دیکھا وہ گہرے سانس لیتے ہوئے خود کو نارمل کر رہی تھی اور وہ اپنی بھنوئیں تانے اسے دیکھنے لگا

کیا ہوا دل بیٹا سب خیر ہے؟

اعظم نے پریشانی سے پوچھا

جی جی سب خیر ہے مجھے آپ کے بابا جی۔ ۔ وہ کیا نام ہے ان کا ہاں مامون بابا سے کچھ باتیں کرنی ہیں اعظم بھائی۔ ۔۔

دل نے اعظم سے کہا اور اعظم دل کی یہ بات س کر گھبرا گیا

کک کیا بات کرنی ہے دل بیٹا ۔۔ مامون بابا ابھی مصروف ہیں۔ ۔

اعظم نے اسے ٹالنا چاہا

ارے اعظم بھائی آپ تو ایسے ڈر رہے ہیں جیسے میں پتا نہیں کیا کہہ دونگی انہیں۔ ۔

دل کو برا لگا

کوئی بھروسہ نہیں آپکا۔ ۔۔

اعظم منہ ہی منہ میں بڑبڑایا۔ ۔۔ جبکے مامون نے غور سے دل کو دیکھا۔ ۔

ٹھیک ہے اعظم بھائی آپ جب تک چائے بنوائیں تب تک میں ان محترما کی بات سن لوں۔ ۔

مامون نے آخر اعظم کی الجھن دور کی اور اسے جانے کا اشارا کیا۔ ۔ اعظم سر جھکا کر وہاں سے چلا گیا

جی تو کیا بات کرنی ہے آپکو؟

مامون نے سرسری سا پوچھا

ہممم سب سے پہلے آپ مجھے یہ بتائیں آپ اتنے ینگ سے ہیں آپکو برا نہیں لگتا سب آپ کو بابا کہتے ہیں۔ ۔ اب دیکھیں نا کوئی مجھے آنٹی کہے گا یا بُڑھیا کہے مجھے تو برا لگے گا آپ کو نہیں لگتا؟

دل نے بہت سنجیدگی سے سوال کیا جبکے مامون نا چاہتے ہوئے بھی مسکرانے پر مجبور ہو گیا۔ ۔ وہ آج دوسری بار دل سے مسکرا رہا تھا اور وہ خود بھی حیران تھا

ہمم تو اتنا اہم سوال کرنا تھا آپکو۔ ۔۔خیر مجھے بلکل برا نہیں لگتا بلکے مجھے اچھا لگتا ہے لوگ اپنی مرضی سے مجھے عزت اور احترام دیتے ہیں۔ ۔ بابا لفظ میں کوئی برائی نہیں۔ ۔ اس لفظ کا تعلق عمر سے نہیں عزت و احترام سے ہے۔ ۔۔ کسی کے بابا کہنے سے میں کوئی بُڑھا تو نہیں ہو گیا نا؟ تو پھر کیوں میں لوگوں کو ٹوکتا پھروں۔ ۔

بظاہر اس نے کافی سنجیدگی سے جواب دیا تھا گو کے مامون کو اسکا یہ سوال بہت فضول سے لگا تھا مگر پھر بھی ناجانے کیوں وہ جواب دے گیا

او آئی سی۔ ۔۔ ویسے آئی ڈونٹ بیلیو اون دس۔ ۔۔ اوہ میرا مطلب ہے میں ان سب باتوں پر یقین نہیں کرتی۔۔۔

دل نے اپنے سر پر ہاتھ مار کر کہا اسے یاد آیا کے وہ ایک گاوں کے بندے سے بات کر رہی ہے بھلا اسے کہاں انگلیش سمجھ آئے گی۔ ۔۔ مگر مامون اس کی اس ادا پر بس اسے دیکھے گیا۔ ۔۔

ہمارے شہر میں تو اب باقائدہ بابوں کو پکڑ پکڑ کر جیل میں ڈالا جا رہا ہے۔ ۔ بہت پاگل بناتے ہیں یہ لوگ۔ ۔۔ خیر مجھے بھی کوئی جادو کر کے دیکھائیں پتا تو چلے آپ کس قسم کے بابا ہیں۔ ۔ کہیں بچارے معصوم لوگوں کو پاگل تو نہیں بنا رہے۔۔۔۔

اپنی عادت کے مطابق وہ صاف گوئی سے پوچھنے لگی۔ ۔۔ مامون نے اپنا سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ اپنے لبوں تلے چھپائی

ہمممم کیا میں آپ کو کوئی جادو گر لگتا ہوں ؟؟ مس میں کسی کیوں پاگل بناوں گا میں کسی کو زبردستی تھوڑی بولاتا ہوں۔ ۔

ہاں مگر کچھ تو ایسا کریں۔ ۔ لائک آپ کہتے ہیں نا آپ لوگوں کے پاس سُپرپاورز ہیں۔ ۔ مطلب کے آمممم۔ ۔ ہاں کوئی طاقت ہے وہ طاقت دیکھائیں نا پھر؟؟

دل نے بچوں کی طرح فرمائیش کی

میرے خیال سے مجھے چلنا چاہیئے۔ ۔

مامون کو لگا وہ بلاوجہ اپنا وقت ہی ضائع کر رہا ہے

کیوں ڈر گئے نا آپ دیکھا آپ بھی ان معصوم لوگوں کو پاگل بنا رہے ہیں جب ہی تو بھاگ رہے رہیں ۔۔

دل نے خوش سے کہا۔ ۔ مامون نے حیران ہو کر دیکھا

میں آپ سے ڈرونگا۔ ۔۔

مامون نے شہادت والی انگلی سے اپنے چوڑے سینے کی طرف اشارہ کیا۔ ۔ دل کی نظر بھی اسکے سینے کی طرف گئی اور اسے احساس ہوا کے بھلا اتنا مضبوط انسان اس سے کیوں ڈرے گا۔ ۔۔

دیکھیں مس دل آویز۔ ۔۔ آپ کی تسلی کے لیئے میں بس اتنا کہوں گا میں کوئی جادو گر نہیں۔ ۔ میں بس اللہ کے کلام کو اس یقین سے پڑھتا ہوں کے اسی میں شفا ہے۔ ۔ اور جہاں تک بات ہے طاقت کی تو اللہ ہی یہ طاقت نوازتا ہے مجھ جیسے حقیر کی کیا مجال کسی کا علاج کر سکوں۔ ۔ باقی آپ مجھے پڑھی لکھی لگتی ہیں۔ ۔ اصلی اور نقلی کی پہچان آپ کو ہونی چاہیئے۔ ۔۔

مامون نے بہت نرمی سے اسے سمجھایا

اوہ ہاں۔ ۔ آئی کین انڈراسٹینڈ انگلیش۔۔۔ سو یو کین ٹاک ان انگلش ود آوٹ اینی وری۔ ۔۔

مامون نے جیسے یاد آنے پر اسے شرمندہ کرنا چاہا۔ ۔ دل ساری باتیں بھلائے مامون کے منہ سے اتنی صاف انگلیش سن کر حیران ہو گئی۔ ۔ وہ منہ پر ہاتھ رکھے اپنی حیریت کا اظہار کر رہی تھی۔ ۔ نہ جانے کیوں مامون کو وہ حد سے زیادہ معصوم لگی

آآ۔ ۔۔ آپ پڑھے لکھے بھی ہیں؟

دل نے حیریت پر قابو کرتے ہوئے پوچھا

جی۔ ۔ اس میں اتنا حیران مت ہوں۔ ۔ اب تو یہاں بہت سے بچے پڑھ رہے ہیں پڑھائی صرف شہروں میں نہیں ہوتی۔ ۔

مامون کو اسکا حیران ہونا برا لگا

نن نہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا وہ ایکچولی۔۔۔ اممم خیر اچھا لگا جان کر کے آپ ایجوکیٹڈ ہیں۔ ۔

دل آویز اب مامون سے متاثر ہوئی

ہممم۔ ۔۔

مامون نے ہنکارا بھرا اور دل کو دیکھنے لگا گویا پوچھ رہا ہو کے بات ختم ہو گئی تو میں جاوں مگر دل آویز کو آنکھوں کی باتیں کہاں سمجھ آتی تھیں

آمممم ویسے مجھے پتا نہیں کیوں تجسس سا ہو رہا ہے کے آپ کے بارے میں جانوں۔۔۔ ۔ آپ نے برا تو نہیں مانا میری کسی بات کا۔ ۔۔۔

مامون کے پڑھے لکھے ہونے کی وجہ سے سے دل آویز شاید اسکی عزت کرنے لگی

جی نہیں میں برا نہیں مانتا۔ ۔ اور جہاں تک آپ کے تجسس کی بات ہے تو محترمہ میں بھی آپ ہی کی طرح کا انسان ہوں۔۔ اینی ویز میرے خیال سے آپ کے سوال ختم ہو گئے ہیں؟

اتنی باتیں تو مامون نے عرصہ ہوا کسی سے نہیں کی تھیں۔ ۔ مگر دل سے اتنی باتیں کرنے کے باوجود بھی اس سے اجازت مانگ رہا تھا

آں ہاں وہ میں یہ کہنا چاہتی تھی کہ۔ ۔۔

دل نے اپنی بات شروع کی ہی تھی کے اعظم آگیا

مامون بابا۔۔۔ چائے بیٹھک میں رکھ دی ہے آپ آجائیں سلیم بھائی بھی آگئے ہیں۔۔

اعظم نے دل کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔۔ مامون نے ہاں میں سر ہلایا

آپ بھی آئیں نا دل بیٹا۔ ۔

اعظم نے اب دل کو دیکھتے ہوئے پوچھا

نہیں میں نے ابھی پی ہے چائے شکریہ۔ ۔

دل نے منع کیا اور پھر مامون پر ایک نظر ڈالتی ہوئی پلٹ کر واپس چلی گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کون ہے جس نے زینت باجی پر جادو کروایا ہے۔ ۔ یا اللہ میری مدد کر۔۔۔

مامون نے اپنے گرد ایک حسار سا بنایا اور گہرا سانس لے کر آنکھیں بند کیں۔ ۔ یہ کام وہ پہلی بار کر رہا تھا۔ ۔۔ تھوڑی دیر تک وہ مختلف زکر کرتا رہا۔ ۔ اسے ایک عجیب سی روشنی نظر آئی۔ ۔۔ وہ روشنی اتنی تیز تھی کے اس کا دل کیا وہ اپنی آنکھیں کھول دے۔ ۔ مگر زکر کے دوران یہ کرنا نا ممکن تھا۔ ۔ وہ ہمت کرتا ہوا اپنا زکر کرنے لگا۔ ۔ روشنی اب آہستہ آہستہ کم ہو رہی تھی۔ ۔ اسے ایک دم عجیب اور خوفناک سی ہنسی کی آواز آئی۔ ۔۔۔ جیسے ہی روشنی ختم ہوئی تو اسے بہت سے جانوروں کی کھوپڑیاں لٹکی ہوئی نظر آئیں۔ ۔ کھوپڑیوں میں سے تازہ خون نکل رہا تھا۔ ۔ جیسے ان جانوروں کو ابھی کاٹ کر رکھا ہو۔ ۔ وہ خون نیچے ٹپک رہا تھا۔ ۔ جہاں بہت سی عورتوں کے بال اور کچھ کپڑے پڑے تھے۔ ۔۔ مامون کی بند آنکھوں میں ایک تناو سا ابھرا۔ ۔۔ وہ اس ہنسی کے تعاقب میں اپنا سر ادھر اُدھر ہلانے لگا کے ایک دم سرخ آنکھیں اسکی آنکھوں کے سامنے آئیں۔ ۔ پھر وہ آنکھیں دور ہونے لگیں۔ ۔ اب مامون کو اسکا پورا چہرہ نظر آیا۔ ۔۔ آدھے سر پر بال اور آدھا سر گنجا تھا۔ ۔ آگے کے دو دانت سونے کے تھے عجیب وحشت سے بھری آنکھیں تھیں۔ ۔ اسکے چہرے کا رنگ حد سے زیادہ کالا تھا بلکل اسکے اعمالوں کی طرح۔۔۔۔۔ ایک آنکھ شاید پتھر کی تھی۔ ۔۔ عجیب بے ڈھنگا سا جسم تھا۔ ۔۔ مامون کو وہ انسان نما ہی کوئی مخلوق لگا۔ ۔۔ کوئی عام بندہ اسے دیکھتا تو یقیناً ڈر جاتا مگر مامون کو اس سے کوئی خوف نہ آیا۔ ۔۔ اب وہ گول گول گھومنے لگا۔ ۔۔ مامون کی آئی برو تن گئیں۔ ۔۔ اسے اسکا یہ رقص عجیب لگا تھا۔ ۔۔

ہاہاہاہا مرے گی وہ فکر نہ کرو ۔۔۔ چار دن ہیں اسکے پاس بس پھر تڑپ تڑپ کر مرے گی۔ ۔ کوئی بھی نہیں اسے آتش کے جادو سے بچانے والا۔ ۔۔ ہاہاہاہاہا۔ ۔۔

وہ اب ایک دم رک کر زور زور سے ہنستے ہوئے بولنے لگا۔ ۔

مامون کو حیرانی ہوئی وہ بات کس سے کر رہا ہے۔ ۔۔ تھوڑی ہی دیر میں دو لوگ اس کے شخص کے سامنے سر جھکائے آئے اور اسکے پاوں میں گر گئے۔ ۔ مامون کا دل کیا کے کاش وہ ان سر اٹھا کر دیکھ سکے۔ ۔ مگر جلد ہی مامون کی یہ خواہش پوری ہو گئی کیونکے وہ دونوں کھڑے ہو چکے تھے مامون کے سامنے اب ان دونوں کا چہرہ واضح تھا۔ ۔۔ مامون کو لگا اسے غلط فہمی ہوئی ہو۔ ۔ کیونکے یہ کوئی اور نہیں زینت کا بھائی دلاور اور اسکی بیوی تھے جو بظاہر دن رات زینب کی خدمت میں لگے تھے۔ ۔ مامون کی پیشانی پر بے تحاشہ شکنیں پڑنے لگیں۔ ۔۔

ہاہاہا جاو جا کر جشن مناو۔۔۔ کوئی اسے مجھ سے نہیں بچا سکتا کوئی بھی نہیں۔ ۔۔

یہ کہتے ہوئے وہ پھر سے اتنا قریب ہو گیا کے مامون کو اب صرف اس کی سرخ آنکھیں ہی نظر آرہی تھیں۔ ۔ دیکھتے دیکھتے وہ آنکھیں بھی غائب ہو گئیں اور اب پھر وہی تیز روشنی نظر آنے لگی۔ ۔ اس روشنی سے مامون کے سر میں شدید درد کی لہر اٹھی اور اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے اپنی آنکھیں کھول دیں

اوہ خدا اپنوں کی شکل میں بھیڑئیے۔ ۔۔ یا اللہ بیشک موت اور زندگی تیرے ہاتھ میں ہے۔ ۔ مگر مجھے اتنا حوصلہ اور ہمت دے کے میں اس شیطان سے مقابلہ کر سکوں۔۔۔

مامون نے دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے اور آمین کہہ کر اپنے چہرے پر پھیر لیئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آپ کو نہیں پتا دل باجی مامون بابا بہت ہی اچھے انسان ہیں۔ ۔ بچپن سے لے کر اب تک ہم نے اب تعریفیں ہی سنی ہیں۔ ۔ کسی شاہ بابا کے ساتھ رہیں ہیں انہی سے یہ علم سیکھا ہے۔ ۔

پچھلے پندرہ منٹ سے سمن اسے مامون کی تعریفوں کے قصیدے سنا رہی تھی جسے سن کر دل اب پک چکی تھی

اوہ بس رہنے دو۔۔۔ آنکھوں میں پٹی باندھ دی ہے ان بابا جی نے تمہارے۔ ۔ پہلی بات کہیں سے بابا وابا نہیں ہے وہ۔ ۔ اچھا خاصا ہنڈسم سا ینگ مین ہے۔ ۔ دوسری بات یہ علم کچھ نہیں ہوتا پاگل بناتے ہیں سب۔ ۔ کل تمہارے مامون بابا سے میں نے دو چار سوال پوچھے تھے ایسے سٹی گم ہو گئی تھی انکی۔ ۔۔

دل نے چٹکی بجا کر کہا۔ ۔۔دل شاید مامون کی زیادہ تعریفیں سن کر تنگ آگئی تھی اسی لیئے اب اپنی طرف سے دو باتیں لگا کر سمن کو سنا رہی تھی۔۔۔

سمن نے گھبرا کر دل آویز کے پیچھے دیکھا جہاں مامون سنجیدہ سا کھڑا اپنے بارے میں سب سن چکا تھا

وو وہ مامون بابا۔ ۔۔

اس سے پہلے سمن اسے مامون کی آمد کا بتاتی دل آویز نے اسے ٹوکا

جی ہاں وہ ہی مامون بابا۔ ۔۔ ہنہ میں نے کہا مجھے بھی تو دیکھائیں کوئی جادو اپنا یا جو بھی طاقت ہے اسکا کوئی ثبوط ہی دیں۔ ۔ وہ صاحب یہ والی بات ہی گول کر گئے میں بتا رہی ہوں تم معصوم لوگوں کو وہ پاگل۔۔۔

ارے مامون بیٹا تم یہاں کیوں کھڑے ہو اندر چلو نا۔ ۔ دل آگے سے ہٹو۔ ۔

دل کی آواز کو ایک دم بریک لگا۔ ۔۔ اسے لگا وہ اگلا سانس نہیں لے پائے گی۔ ۔۔ آنکھیں پھیلائے وہ آہستہ سے پلٹی جہاں سلیم اور مامون کھڑے تھے۔۔ سلیم نے مامون کو اندر بھیج دیا تھا جبکے خود باہر کسی سے مل کر اندر آئے مگر مامون کو ابھی تک ونہیں کھڑا دیکھا تو حیران ہوئے۔ ۔۔ دل نے شرمندہ ہو کر مامون کو دیکھا

وو وہ۔ ۔ مم میں آپکے بارے میں بات نہیں کر رہی تھی۔ ۔۔

دل کو کچھ سمجھ نہ آیا تو صاف جھوٹ کہہ دیا۔ ۔ مامون کو بے اختیار ہنسی آئی۔ ۔ اس نے اپنا سر جھکا کر بہت مشکل سے اپنی ہنسی کو کنٹرول کیا

کیسی باتیں کر رہی ہو دل۔ ۔ ہٹو سامنے سے ہمیں اندر جانے دو۔ ۔ اور سمن جاو اپنی اماں سے کہو مامون بابا آئے ہیں چائے کے ساتھ کچھ کھانے کو بھجیں۔ ۔

سلیم نے شاید دل آویز کی کوئی بات نہیں سنی تھی۔ ۔۔ سلیم کی بات سن کر وہ دونوں فوراً وہاں سے چلی گئیں۔ ۔ جبکے مامون سر جھٹکتا ہوا روم میں چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ کیا سمن کی بچی تم مجھے بتا نہیں سکتی تھی کے تمہارے مامون بابا پیچھے کھڑے ہیں۔ ۔

کچن میں سمن کے ساتھ کھڑی وہ غصے سے سمن کو دیکھ رہی تھی

بتانے تو لگی تھی مگر آپ بولتے ہوئے کسی کی سنتی کہاں ہیں۔ ۔

سمن نے ہمت کر کے سچ بول ہی دیا

اف ہووو۔ ۔ اب پتا نہیں تمہارے وہ مامون بابا کیا سوچ رہے ہونگے ۔۔ اور اگر اس نے بابا کو شکایت لگا دی تو۔ ۔ ایک تو تمہارے اس مامون بابا میں مینرز نہیں ہیں کیا بندہ دروازہ بجا کر اندر آجائے۔ ۔۔

دل آویز کو اب مامون پر غصہ آنے لگا

وہ تو ہمشہ دروازہ بجا کر ہی آتے ہیں جبکے اماں نے تو انہیں اپنا بیٹا بنایا ہوا اس کے باوجود وہ دروازہ بجا کر آتے ہیں مگر آج ابا ساتھ تھے انہوں نے خود پہلے مامون بابا کو اندر بھیج دیا۔ ۔ وہ تو سیدھا بیٹھک میں جاتے ہیں مگر ہم دونوں درمیان میں کھڑی تھیں اس لیئے وہ خاموشی سے کھڑے ہو گئے۔ ۔۔

سمن مامون کے خلاف کہاں کچھ سن سکتی تھی فوراً سے اس کے لیئے صفائی دینے لگی

ہاں تو بندہ خود اپنے منہ سے بول دیتا ہے کہ راستہ دے دیں۔ ۔ مگر نہیں انہیں تو جیسے مزا آرہا تھا ہماری باتیں چھپ کر سننے میں۔ ۔

دل نے منہ بنا کر کہا اور اپنا چائے کا کپ اٹھانے لگی

بس کریں کوئی بہت اچھی باتیں نہیں کر رہی تھیں جو وہ مزے لے کر سنتے۔ ۔۔

سمن نےباقی کپ ٹرے میں رکھے اور ساتھ میں نمکو بسکٹ بھی رکھنے لگی

بس تم تو چمچی ہو انکی۔ ۔۔ لگتا ہے تم سب پر جادو وادو پڑھ کر پھونک دیا ہے بابا جی نے۔ ۔۔

دل آویز نے مزاق کرتے ہوئے کہا

اچھا اب راستہ دیں میں یہ چائے دے آوں کمرے میں۔ ۔

سمن نے ٹرے پکڑ کر کہا۔ ۔ دل آویز کندھے اچکاتی ہوئی مزے سے وہاں سے چلی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *