Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pur Israar Mohabat (Episode 22)

Pur Israar Mohabat by Maria Awan

رضیہ باجی تھوڑا سا وقت دیں۔ ۔ میں کسی وکیل کا پتا کر رہا ہوں یہ سب کاغز آپ کے نام کروا دونگا جیسے ہی کوئی وکیل ملتا ہے۔ ۔۔

اعظم رضیہ کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھا اُس کی منت کرنے لگا

وکیل کیوں نہیں مل رہا تجھے؟ ؟

رضیہ نے منی بنا کر پوچھا

وو وہ سب چھٹی پہ ہیں آج ہڑتال ہے کوئی۔۔۔ لیکن زینت کا جو وکیل تھا اس نے کہا ہے کے وہ آج شام تک آجائے گا وہ جیسے ہی آئے گا میں آپکے پاس لے آونگا۔۔۔ آپ کے نام سب کروا دونگا۔ ۔

اعظم نے ڈرتے ہوئے کہا

ہمممم ٹھیک ہے پھر یہ سارے کاغزات مجھے دے کر جا۔ ۔۔ جب وہ آئے سیدھا یہیں آجانا۔ ۔۔

رضیہ نے سنجیدگی سے کہا

جج جی یہ لیں رکھ لیں آپ۔ ۔

اعظم کے لیئے اس وقت اپنی بہن کی جان بچانا بہت ضروری تھا۔ ۔۔ اسے یقین تھا کے مامون اس شیطان کا خاتمہ کردے گا۔ ۔ اور جب اس کا خاتمہ ہوا تو رضیہ بھی کسی کام کی نہیں رہے گی۔ ۔۔

🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋

مامون۔ ۔۔ میرے بچے آنکھیں کھولو۔ ۔۔؟

مامون کو لگا بہت دور سے کوئی آواز اس کے کانوں میں پڑ رہی ہے۔ ۔۔ ساتھ ساتھ کوئی اسکا چہرہ بھی تھپتھپا رہا تھا

مامون آنکھیں کھولو۔ ۔ تم اتنے کمزور نہیں ہو۔ ۔۔

اب کے آواز بہت قریب سے آئی مامون کو ہلکا ہلکا ہوش آنے لگا۔ ۔۔ مامون نے آہستہ آہستہ آنکھیں کھول دیں

شاہ بابا۔ ۔۔۔

مامون نے اپنے سامنے شاہ بابا کا چہرہ دیکھا تو اسے سکون سا ملا پھر اسے خیال آیا کہیں یہ کوئی چال نہ ہو۔ ۔ اس نے بسم اللہ پڑھ کر شاہ بابا کے نورانی چہرے کو چھوا

ہاں مامون یہ میں ہوں تمہارا شاہ بابا۔ ۔۔ اب اٹھو ہمت کرو۔ ۔

شاہ بابا نے مامون کو سہارا دے کر بیٹھایا۔ ۔ مامون نے بیٹھ کر اپنا سر تھام لیا۔۔ سر سے نکلتا خون خشک ہو چکا تھا مگر درد کی ٹھیس اب بھی اٹھ رہی تھی

مامون ہمت کرو۔ ۔۔ یہ امتحان ہے کمزور نہیں پڑنا۔ ۔

شاہ بابا اس کی پیٹھ تھپتھا کر کہا

جی شاہ بابا ان شاء اللہ۔ ۔۔

مامون نے مضبوط لہجے میں کہا اور کھڑا ہو گیا۔ ۔ کھڑے ہوتے ہی اسے دل آویز کا خیال آیا

دل آویز۔ ۔۔

وہ فوراً اپنے اردگرد دیکھنے لگا۔ ۔۔ مگر یہ وہ جگہ نہیں تھی جہاں وہ بے ہوش ہوا تھا

شاہ بابا دل میری دل آویز کہاں ہے۔ ۔۔ اوہ اس شیطان نے تو اب تک اس معصوم کو۔ ۔۔

مامون نے گھبرا کر پوچھا۔ ۔۔ دل آویز کو کھونے کے ڈر سے مامون کے ہاتھ کانپنے لگے۔ ۔۔

یہاں آو میرے پاس بیٹھو مامون۔ ۔!

شاہ بابا نے مسکرا کر اسے پاس بلایا۔ ۔۔

شاہ بابا وقت کم ہے کہیں وہ شیطان۔ ۔۔

مامون نے ٹالنا چاہا

مامون میں نے کہا یہاں آو۔ ۔۔

مامون کی بات کاٹ کر شاہ بابا نے سنجیدگی سے کہا۔ ۔ مامون سر جھکا کر ان کے پاس آگیا

میری بات غور سے سنو مامون۔ ۔۔ تمہیں معلوم ہے تمہارے عمل نے تمہارا ساتھ کیوں نہیں دیا۔ ۔۔ کیوں وہ شیطان تم پر حاوی ہو گیا؟

شاہ بابا نے نرم لہجے میں پوچھا

پپ پتا نہیں شاہ بابا میں نے وہ سب کیا جو مجھے کرنا چاہیئے تھا نا جانے مجھ سے کہاں غلطی ہوئی۔ ۔۔

مامون نے اپنا سر تھام کر کہا

میں بتاتا ہوں تمہاری غلطی۔ ۔۔ کہنے کو بہت چھوٹی غلطی ہے تمہاری مگر اس غلطی کا انجام بہت برا ہوتا ہے۔ ۔۔

شاہ بابا نے گہرا سان لے کر کہا

کک کونسی غلطی شاہ بابا؟

مامون نے حیران ہو کر پوچھا

نیت کی غلطی مامون۔ ۔۔ یہ جو نیت ہوتی ہے نا نیک عمل کو بھی ضائع کر دیتی ہے۔۔۔

شاہ بابا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا

مم میں سمجھا نہیں شاہ بابا؟

مامون نے پوچھا

دیکھو مامون۔ ۔۔ نیت سے عمل میں بہت فرق پڑتا ہے۔۔ جیسے ایک انسان زکوة دے۔۔۔ روزے رکھے صدقہ دے۔۔۔ یہ سب نیک عمل ہیں۔ ۔۔ مگر نیت یہ ہو کے میں لوگوں کو دیکھا دوں کے میرے پاس پیسا کتنا ہے۔ ۔ تو نیکی کے یہ سب عمل ضائع ہو جاتے ہیں۔ ۔۔ نیت تو ہزاروں سالوں کی ہوئی عبادت کو ضائع کر دیتی ہے اور کبھی کبھی دل سے نکلا ہوا اللہ کی عبادت میں ایک لفظ بخشیش کا سبب بن جاتا ہے۔ ۔۔۔ تم نے یہ سارا عمل صرف اس لیئے کیا کے تم دل آویز کو بچا سکو۔ ۔۔ اگر تم یہ نیت کر لیتے کے یہ عمل تم اللہ کے لیئے کر رہے ہو تو یقین کرو تمہارے عمل میں بہت طاقت ہوتی۔ ۔۔ دل آویز کو بچانے والا جزبہ اس شیطان کو مارنے پر حاوی ہو گیا۔ ۔ اور تم ہر قدم سوچ کر اٹھانے لگے کے کہیں اسے کوئی نقصان نہ ہو۔ ۔ اس عمل میں اللہ پر اندھا بھروسا کرنا ہوتا ہے مامون۔ ۔ اپنے عزیزوں کی قربانی دینی ہوتی ہے۔ ۔۔ اور پھر اللہ کی راہ میں تو ہمیشہ محبوب چیز ہی دی جاتی ہے۔ ۔

شاہ بابا نے سنجیدگی سے اسے سمجھایا

مامون نے شرمندگی سے سر جھکا لیا

میں یہ نہیں کہتا کے تم نے غلط کیا ۔۔۔ بس تمہاری نیت ٹھیک نہیں تھی۔ ۔۔ اللہ نے تمہیں آزمایا ہے مامون۔۔۔ اب تمہیں اس کی آزمائیش پر پورا اترنا ہے۔ ۔۔ نیت درست کرو اور مقابلہ کرو۔ ۔۔ انسانوں سے محبت کرنا بہت افضل ہے مگر انسان کی محبت کو اللہ کی محبت سے بڑھنے مت دو۔ ۔۔ سمجھ رہے ہو نا تم؟

شاہ بابا نے بہت میٹھے لہجے میں مامون کو سمجھایا

مجھے معاف کر دیں شاہ بابا مم میں صرف اسی کا سوچتا رہا پتا نہیں یہ دل اتنا بے بس کیوں ہو گیا تھا۔ ۔ مجھے معاف کر دیں۔ ۔

مامون نے سر جھکا کر بھیگے لیجے میں کہا

اللہ سے معافی مانگو۔ ۔۔ یقینً تم نے کوئی ایسی بات کی ہے جو اللہ کو پسند آئی ہے جب ہی تو وہ تمہیں دوسرا موقع دے رہا ہے اسے گنوانا مت۔۔۔

شاہ بابا نے مسکرا کر کہا

ہاں میں نے اس شیطان کو کہا تھا میں اس کے سامنے جھکوں گا نہیں یقینً اللہ کو یہی پسند آیا ہو گا۔ ۔

مامون نے گہرا سانس لے کر کہا

بیشک اللہ ہم سب کے دلوں کو با خوبی جانتا ہے۔ ۔۔ یہ لو میرے پانچ سال کی محنت۔ ۔۔ اسے اپنے گلے میں ڈال لو اور اس پانی کو اپنے ساتھ رکھنا۔ ۔۔

جی شاہ بابا میں اب اس شیطان کو ختم کر کے آونگا۔ ۔ انشاءاللہ۔ ۔

ان شاءاللہ۔ ۔ اب جاو اللہ تمہیں کامیاب کرے۔ ۔

شاہ بابا نے اس کے بکھرے بالوں کو سمیٹتے ہوئے کہا

دعا کرئیے گا شاہ بابا۔ ۔۔ اللہ نگہبان۔ ۔

مامون نے شاہ بابا کا ہاتھ تھام کر آنکھوں پر لاگیا اور آتش کے آستانے کی چل دیا

🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋

آتش اپنی جلائی گئی آگ کے گرد گول گول گھوم رہا تھا۔ ۔وہ شدید غصے میں تھا۔ ۔ شاہ بابا کا آنا اور مامون کو لے جانا اس کے لیئے بہت خطرے کی بات تھی۔ ۔۔ وہ اب سوچ رہا تھا کے اسے آگے کیا کرنا ہے۔ ۔۔ دل آویز اُسی طرح بے ہوشی کی حالت میں مٹی تلے دبی تھی صرف اسکا چہرہ باہر تھا باقی جسم مٹی میں چھپ چکا تھا۔ ۔

مامون آتش کے آستانے کی طرف مضبوطی سے قدم بڑھا رہا تھا۔۔۔ واقعی نیت کے بدلنے سے جو طاقت اور بہادری وہ محسوس کر رہا تھا وہ پہلے محسوس نہیں ہوئی تھی۔ ۔۔

آتش کے کچھ سوچنے اور کرنے سے پہلے ہی مامون اس کے آستانے میں آگیا حیریت کی بات یہ تھی کے اُسے مامون کے اندر آنے کی خبر ہی نہ ہوئی۔ ۔۔ مامون سب مشکلوں کو پار کرتا آتش کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا۔ ۔۔

تُو۔ ۔ پھر آ گیا۔ ۔۔ موت کے منہ سے نکلا ہے پھر بھی ڈھیٹ ہے اب میں تجھے اور اُس شاہ بابا دونوں کو ختم کرونگا۔ ۔۔

آتش غصے سے کہتا ہوا تیزی سے مامون ک طرف آیا مامون تسلی سے اپنی جگہ کھڑا رہا اس کا پورا دیہان صرف آتش پر تھا۔ ۔۔۔ آتش نے اپنے ہاتھ میں پکڑی رسی سے مامون پر وار کیا جسے مامون نے ایک ہاتھ سے پکڑ لیا۔ ۔ آتش وہ رسی اپنی طرف کھینچنے لگا مگر مامون کی گرفت اُس رسی پر بہت سخت تھی۔ ۔ آتش حیران تھا کے رسی نے اپنا اثر کیوں نہیں دیکھایا۔ ۔ مامون نے ایک جھٹکے سے رسی کو چھوڑا۔۔۔ آتش اس جھٹکے کے لیئے تیار نہیں تھا وہ منہ کے بل زمین پر گرا۔ ۔۔ مامون آہستہ آہستہ چلتا اس کے قریب آیا۔ ۔ آتش مامون کے قدموں میں گرا ہوا تھا۔ ۔ آتش نے غصے اپنا سر اٹھا کر مامون کو دیکھا۔ ۔ مامون کی آنکھیں حد درجہ سرخ تھیں۔ ۔ اس آنکھوں میں زرا برابر خوف نہ تھا۔ ۔۔ وہ بنا پلک جھپکائے آتش کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا

مم مجھ سے دور رہ۔ ۔۔ بتا رہا ہوں ختم کر دونگا میں تیری محبوبہ کو مار ڈالونگا۔ ۔۔

آتش کے پاس مامون کی کمزوری موجود تھی اس نے مامون کو ڈرانا چاہا

ہنہ۔ ۔۔ اب تو کچھ نہیں کر سکتا آتش۔ ۔۔ اللہ کے لیئے تو اپنی محبوب چیز ہی قربان کی جاتی ہے۔ ۔۔ بہت کھیل لیا تو نے مجھ سے یہ کھیل۔ ۔۔

مامون نے سنجیدگی سے کہا۔ ۔۔ آتش اٹھنے کی کوشیش کرنے لگا وہ خود کو گھسیٹ رہا تھا شاید اسے آگ کے پاس جانا تھا۔ ۔ مامون بھی اس کے پیچھے پیچھے قدم اٹھاتا چلنے لگا۔ ۔۔

مار ڈالو اس لڑکی کو مار دو۔ ۔۔

آتش نے چلاتے ہوئے کہا

اور پھر اُسی طرح دو سائے اپنا کام کرنے لگے۔ ۔۔ مامون نے گردن گھوما کر اُنہیں مٹی ڈالتے دیکھا اور اطمینان سے آتش کے پیچھے چلتا آگ تک پہنچ گیا۔ ۔ آتش نے ہاتھ بڑھا کر گوشت کا ایک ٹکڑا اٹھانا چاہا تو مامون نے اس کے بازو پر اپنا پاوں رکھ دیا اور زور سے دبانے لگا۔۔۔ درد کی شدت سے آتش کی چیخیں نکل گئیں۔ ۔ مامون نے آگ کی طرف دیکھا جو اب پہلے سے بہت ہلکی ہو چکی تھی۔ ۔ مامون اپنے ہاتھ میں پکڑا پانی آگ پر پھینکنے لگا۔ ۔ آتش تڑپتا ہوا اٹھنے کی کوشیش کرنے لگا مگر مامون کے پاوں کا زور اس قدر تھا کے وہ ہل بھی نہ سکا۔ ۔۔ مامون نے آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھا اور سارا پانی آگ پر ڈال دیا۔ ۔ جیسے ہی آگ بجھی وہ دو سائے بھی ہوا میں گم ہو گئے ۔۔ آتش اب بھی تکلیف میں تھا اس نے اپنے بچاو کے لیئے پاس پڑا چاقو اٹھا لیا۔ ۔ مامون کی نظریں اسی پر تھیں اس سے پہلے وہ چاقو اٹھا کر مامون پر حملہ کرتا مامون نے جھک وہ چاقو اس کے ہاتھ سے لیا اور اس کے دل میں گھُسا دیا۔ ۔۔ مامون بار بار وہ چاقو نکال کر اس کے سینے میں گُھسا رہا تھا۔ ۔ آتش کا جسم اسطرح سے کالا ہو گیا جیسے جل کر راکھ ہو گیا ہو۔ ۔ اُسکی لال آنکھیں نکل کر باہر آ چکی تھیں۔ ۔ مامون کو اس کے جسم میں سے عجیب سی بو آنے لگی۔ ۔ مامون نے سب سے پہلے ہاتھ اٹھا کر شکر ادا کیا اور پھر تیزی سے دل آویز کی طرف پلٹا ۔۔ دل آویز کا پورا وجود ہی تقریباً مٹی سے چُھپا ہوا تھا

دل۔۔۔

مامون نے بہت آہستہ آواز میں اسے پکارا۔ ۔

🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋
🌋

رضیہ اُس کالے علم پر کچھ پڑھتے ہوئے شاید کوئی عمل کر رہی تھی۔ ۔ اس نے بھی اپنے پاس آگ جلا رکھی تھی۔ ۔۔ کے اچانک آگ بجھنے لگی۔ ۔ رضیہ نے بہت کوشیش کی اس آگ کو دوبارا جلا سکے مگر وہ بجھتی ہی گئی۔ ۔ رضیہ کو یہ سب سمجھ نہ آیا وہ اپنی دھن میں پیچھے مڑی تو ایک عجیب سا جانور اسے اپنی لال آنکھوں سے گھور رہا تھا۔ ۔ اس کا پچھلا دڑھ کسی کالی گائے سے ملتا جلتا تھا جب کے آگے کا حصہ کسی انسان جیسا تھا۔ ۔ رضیہ اس سے بہت خوگزدہ ہو گئی

کک کون ہو تم ایسے کیا دیھ رہے ہو جانتے نہیں میں کون ہوں۔ ۔

رضیہ نے اپنے ڈر پر قابو پاتے ہوئے بظاہر سختی سے کہا

ہون ن ن ن ن ن۔ ۔۔

جانور غُرانے لگا اورچلتا ہوا رضیہ کے قریب آنے لگا

پیچھے رہو۔۔ مار ڈالوں گی جان سے بتا رہی ہوں۔ ۔

رضیہ نے ہاتھ میں بھاری پتھر اٹھا کر کہا۔ مگر جانور مسلسل چلتا ہوا اس کے پاس آرہا تھا رضیہ کو ایک دم سے جھٹکا لگا اور وہ زمین بوس ہو گئی۔ ۔۔

چچ چھوڑ دو مجھے دد دور ہو جاو۔ ۔

ڈر کے مارے رضیہ کی آواز کانپنے لگی۔ ۔ وہ بھاری جانور رضیہ کی ٹانگوں چڑھ کر کھڑا ہو گیا رضیہ درد سے چلا اٹھی مگر اس کی آواز سنے والا وہاں کوئی نہ تھا۔ ۔۔ وہ جانور رضیہ کی ٹانگیں کُچلنے لگا۔ ۔۔ رضیہ چیختی رہی مگر جانور کو رحم نہ آیا۔ ۔۔ رضیہ کی ٹانگیں مکمل طور پر ضائع کر کے وہ اسےچھوڑ کر کہیں غائب ہو گیا۔ ۔ رضیہ درد سے کراہنے لگی۔ ۔ اسکی ٹانگون سے عجیب سی بو آنے لگی۔ ۔

ہائے میرے اللہ۔ ۔ مجھے بچا لے آہ کوئی ہے۔ ۔۔؟؟

رضیہ اپنی بے جان ٹانگوں کو دیکھتے ہوئے رونے لگی۔ ۔۔

اس سے ایک انچ بھی ہلا نہیں جا رہا تھا اسی طرح تو اس نے زینت کی ٹانگیں بے جان کی تھیں

میں مر گئی میری ٹانگیں۔ ۔ آتش بابا خدا کا عزاب ہو تجھ پر ہائے مجھے بہکانے والا تو ہے۔ ۔ یا اللہ میرا موئی قصور نہیں۔ ۔

وہ اپنے سر پر زور زور سے ہاتھ مارتے ہوئے چلانے لگی۔ ۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے اندھیرا ہونے لگا۔ ۔ ۔ جہاں رضیہ موجود تھی وہاں اندھیرے میں نا جانے کتنے سانپ اور جانور نکلتے تھے۔ ۔۔۔ یہ سوچ کر ہی رضیہ خود کو گھسیٹنے کی کوشیش کرنے لگی۔ ۔ مگر اب بہت دیر ہو چکی تھی شاید معافی کے دروازے بند ہو چکے تھے۔ ۔ سب سے پہلے اسے سانپ نے ڈسا ابھی وہ اس تکیلف سے باہر نہیں آئی تھی کے وہاں جنگلی بلیاں اور کتے بھی آگئے اسکے جسم سے اٹھتی بو انہیں اس کی طرف مائل کر رہی تھی رضیہ اپنے پاس پڑے پتھر مارمار کر انہیں خود سے دور کرنے کی کویشش کر رہی تھی مگر وہ بہت زیادہ تھے ایک کتے نے حملہ کیا تو سب ہی اس پر جھپٹ پڑے۔ ۔۔ سامنے پڑے زمین کے کاغز ہوا سے اڑتے ہوئے بکھر گئے۔ ۔ رضیہ بے بسی سے ادھ کُھلی آنکھوں سے ان کاغزوں کو بکھرتے ہوئے دیکھ رہی جس کے لیئے اس نے سب کچھ برباد کیا تھا۔۔۔ مگر وہ اسے مرتے وقت بچا نہ سکے۔۔۔ رضیہ کو اپنے گناہوں کی معافی مانگنے سے پہلے ہی دنیا سے رخصت ہوگئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *