Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Episode 05)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Episode 05)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
مامون نے مجبوراً دل آویز کو جنگل دیکھانے کی ہامی تو بھر لی تھی مگر وہ صرف اسے وہ جگہ دیکھانے کے لیئے راضی ہوا تھا جو اس کے آستاے سے کافی ہٹ کر اور دور تھی۔ ۔ ظہر کی نماز کے بعد دل آویز بہت ہی خوشی خوشی تیار ہوئی۔ ۔ وہ بہت زیادہ ایکسائٹڈ تھی۔ ۔ سمن اور رشیدہ اسے اتنا خوش دیکھ کر حیران تھیں۔ ۔ سلیم ان دونوں کو بتا دیا تھے کے مامون نے دعوت دی ہے وہ اس کے گھر جائیں گے۔ ۔۔ مامون وعدے کے مطابق ظہر کی نماز ادا کر کے سلیم کو لینے ان کے گھر پہنچ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واووو۔ ۔۔ سو امیزینگ بابا اتنے سارے درخت ایک ساتھ۔ ۔ پہلی بار دیکھ رہی ہوں سچی۔۔ ۔
دل آویز نے جنگل میں آتے ہی ٹھنڈی ہوا کو اپنے اندر اتارا اور خوشی سے کہا
ہممم ظاہر ہے ہمارے شہر میں تو بس بڑی بڑی عمارتیں ہی نظر آتی ہیں۔ ۔ دیکھو درخت اور ہریالی دیکھنے سے انسان کتنا ریلکس ہوتا ہے نا۔۔۔
سلیم نے جواب دیا۔۔ مامون اپنے ہاتھ کمر پر باندھے ان دونوں کے پیچھے چل رہا تھا
یار بابا ہم لوگ یہاں کیمپینگ کریں بس ایک رات کے لیئے۔ ۔ میں دیکھنا چاہتی ہوں جنگل میں راتیں کیسے گزارتے ہیں انسان۔ ۔۔
دل آویز نے ایک دم پلٹ کر پوچھا۔ ۔ مامون نے چونک کر اسے دیکھا اور دل میں سوچا کے اب سلیم اس سے یہ فرمائیش نہ کر دے
پاگل ہو کیا۔ ۔ یہ بھلا رات گزارنے والی جگہ ہے۔ ۔ ہم جیسے شہروں میں رہنے والے لوگ جنگل میں ایک گھنٹے سے زیادہ نہیں رہ سکتے۔ ۔
سلیم نے فوراً منع کیا۔ ۔ مامون نے سکون کا سانس لیا
یہ کیا بات ہوئی یہ صاحب بھی تو یہیں رہتے ہیں نا۔ ۔ کیوں بابا جی آپ یہیں رہتے ہیں نہ پوری رات؟ ؟
دل نے مامون کو دیکھتے ہوئے شرارت سے پوچھا۔ ۔ اس کے بابا جی کہنے پہ مامون نے منہ بنایا
جی میں رہ سکتا ہوں یہاں مگر آپ نہیں۔ ۔
مامون نے دو ٹوک انداز میں جواب دیا
کیوں کیوں۔ ۔ آپ بھی انسان ہی ہیں نا۔ ۔۔
دل آویز نے بحث کی
انسان انسان میں فرق ہوتا ہے۔ ۔
مامون نے سنجیدگی سے کہا
کوئی فرق نہیں ہوتا۔ ۔۔۔ بابا سب انسان ایک جیسے اور برابر ہوتے ہیں نا۔ ۔؟؟
دل آویز نے سلیم سے پوچھا
ہاں ہوتے تو ہیں۔ ۔
سلیم نے لا پرواہی سے جواب دیا
دیکھا۔ ۔اور اگر آپکو یہ لگتا ہے کہ میں ڈرپوک ہوں تو آپ کی غلط فہمی ہے میں آپ سے زیادہ بہادر ہوں۔ ۔ میں ایک رات تو کیا ایک ہفتہ بھی رہ سکتی ہوں۔ ۔
دل آویز نے فخر سے کہا۔ ۔ مامون نے اسے اسطرح دیکھا جیسے کہہ رہا ہو تھوڑی کم چھوڑو۔ ۔۔ اور پھر سر جھکا لیا
بابا پلیززز آپ کو پتا ہے نا مجھے تِھرل کرنے کا کتنا شوق ہے پلیززز مان جائیں یقین کریں میرا یہ سفر یاد گار رہے گا۔ ۔۔
دل آویز نے سلیم کی منت کی
نہیں دل بیٹا یہ آسان نہیں ہے یہاں بہت عجیب سے جانور بھی ہوتے ہیں رات میں۔ ۔
سلیم نے اسے ڈرانا چاہا
میں نہیں ڈرتی کسی جانور وغیرہ سے۔۔
دل آویز نے منہ بنا کر جواب دیا۔ ۔۔ مامون جو سر جھکائے چل رہا تھا اسے کچھ رینگنے کی آواز آئی۔ ۔۔ اس نے سامنے دیکھا تو ایک چھوٹا سا سانپ رینگ رہا تھا۔ ۔ مامون مسکرانے لگا
بابا آپ کو پتا تو ہے آئی لو اینیملز۔ ۔۔ آپ جانتے ہیں نا میں لالبیگ سے بھی نہیں ڈرتی اور جو لڑکیاں لالبیگ سے نہیں ڈرتیں وہ بہت بہادر ہوتی ہیں۔ ۔۔
دل آویز نے ایک اور کوشیش کی
بیٹا یہاں پر آپکے فیوریٹ جانور نہیں ہیں بکریاں اور گائے وغیرہ یہاں خطرناک جانور ہوتے ہیں۔ ۔
سلیم نے اسے سمجھایا
میں ان سے بھی نہیں ڈروں گی میں تو کسی سے۔ ۔۔ ۔ آوچ۔ ۔ بابا سانپ۔۔۔
دل آویز کی نظر اس سانپ پر پڑی اور وہ ڈر کر سلیم کے پیچھے چھپ گئی۔ ۔ سلیم بھی گھبرا کر ونہیں رک گئے۔ ۔۔ جبکے مامون نے اپنی گردن موڑ کر اسے دیکھا
کیا ہوا ابھی تو آپ کہہ رہی تھیں کے آپ کو ڈر نہیں لگتا پھر۔۔
مامون جے اپنی مسکراہٹ چھپاتے ہوئے بظاہر سنجدیگی سے کہا
اوہ سانپ سے کون نہیں ڈرتا۔ ۔ ہٹائیں اسے یہاں سے بھاگائیں۔ ۔ یخ۔ ۔۔ کتنا عجیب سا ہے۔ ۔۔
دل آویز نے کانپتے ہوئے کہا۔ ۔ مامون سانپ کے سامنے کھڑا تھا۔ ۔ اس نے جھک کر سانپ کو اسکی گردن سے پکڑا
ایک منٹ ایک فوٹو لے لوں اس کی پلیززز۔ ۔۔
دل کو ایک دم خیال آیا وہ موبائل نکالنے لگی۔ ۔ مامون نے سانپ کی گردن کو تھوڑا دبایا اور اسے چھوڑ دیا۔ ۔ سانپ اب نڈھال ہو چکا تھا
دل آویز نے ایک ساتھ بہت سی تصویریں سانپ کی لیں
بس کرو دل۔ ۔ یہ بھی کوئی چیز ہے جس کی تصویر لی جائے۔ ۔۔ درختوں کی لو۔۔ ۔۔۔
سلیم نے اکتا کر کہا
ارے بابا جانی درختوں کی لے کر کیا کرونگی۔۔۔ دوستوں کو بتاونگی نا کے میں نے اتنے قریب سے سانپ دیکھا ہے۔ ۔۔
دل نے خوشی سے کہا
کیا یہ مر گیا۔ ۔ آپ نے اسے مار دیا کیا۔ ۔۔؟؟
دل کو ایک دم خیال آیا تو وہ مامون سے پوچھنے لگی
کیوں آپ نے اسے اپنے ساتھ لے کر جانا تھا۔ ۔؟
مامون نے جواب دیا
میں کیوں ساتھ لے کر جاونگی۔ ۔ میں تو یہ پوچھنا چاہ رہی ہوں آپ نے اسے مارا کیسے۔ ۔؟؟
دل نے مامون کو دیکھ کر پوچھا۔ ۔
میجیک سے۔ ۔
مامون نے جواب دیا۔ ۔ سلیم مسکرانے لگے
ہنہ میجیک… مجھے پتا ہے کیسے مارا ہو گا بچپن سے تو آپ یہاں رہتے ہیں سب جانور آپ کے دوست بن گئے ہونگے۔ ۔ وہ موی دیکھی ہے آپ نے موگلی؟ ؟
دل نے مامون کے سامنے کھڑے ہو کر پوچھا
جی نہیں میں یہ سب نہیں دیکھتا۔ ۔
مامون نے اکتا کر جواب دیا
اس میں یہ ہی تو ہے کے بچہ شروع سے جنگل میں رہتا ہے اور سب جانور اسکے فرینڈ بن جاتے ہیں بابا آپ نے تو دیکھی ہے نا۔ ۔
دل آویز نے سلیم سے پوچھا جو سانپ کو غور سے دیکھ رہے تھے
آں ہاں دیکھی ہے۔ ۔ بئی اب تم یہ فضول باتیں چھوڑو اور جو دیکھنا ہے جلدی دیکھو ہمیں واپس بھی جانا ہے۔ ۔۔
سلیم نے سختی سے کہا
اوہ اچھا بابا ناراض تو نہ ہوں۔ ۔ میں زرا تصویریں بنا لوں۔۔
دل نے اپنا فون نکالا اور آس پاس کی تصویریں بنانے لگی اور ساتھ ساتھ اپنی سیلفی بھی لے رہی تھی۔ ۔ پھر اس نے کچھ سوچتے ہوئے اپنے فون سے مامون کی تصویر لے لی جو سر جھکائے کسی گہری سوچ میں گم تھا۔ ۔مامون نے ایک دم چونک کر دل کو دیکھا
آپ نے میری تصویر کیوں لی؟
مامون نے سخت لہجے میں پوچھا
ویسے ہی سب کو دیکھاوں گی۔ ۔ کے یہ مامون جادو گر ہے اس نے سانپ مارا تھا۔۔
دل نے ہنستے ہوئے کہا
آپ ڈلیٹ کریں پلیززز۔ ۔۔
مامون کو اب دل پر غصہ آنے لگا
کیوں کروں میرا فون ہے۔ ۔۔
دل بیٹا کسی کی اجازت کے بنا تصویر لینا بد تمیزی ہوتی ہے۔ ۔ ڈلیٹ کرو فوراً۔۔۔۔
سلیم نے بھی غصہ کیا۔ ۔ دل ایک دم رونے والی ہو گئی۔ ۔ اس نے فوراً اپنے فون سے مامون کی تصویر ڈلیٹ کی اور پلٹ کر اپنے آنسوں روکنے لگی۔ ۔ دل کو اسطرح دیکھ مامون کو افسوس ہوا۔ ۔۔
سوری مامون بس اسکا بچپنا ابھی گیا نہیں ہے ۔ ۔۔
سلیم نے شرمندگی سے کہا
نہیں اٹس اوکے انکل۔ ۔۔ لگتا ہے ناراض ہو گئی ہیں۔ ۔
مامون کو پریشانی ہونے لگی
ہاہا یہ ناراض نہیں ہوتی بہت اچھی بچی ہے میری۔ ۔ ہے نا دل؟
سلیم نے اس کے نزدیک گئے
میں ناراض نہیں ہوں بابا بس برا لگا آپ نے ڈانٹا۔ ۔۔
دل نے منہ بنا کر کہا
ارے میرا بچہ کوئی بات نہیں چلو شاباش جلدی سے جو تصویریں بنانی ہے بنا لو کہیں شام نہ ہو جائے یہیں پر۔ ۔
سلیم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر کہا۔ ۔۔ دل سب کچھ بھول کر دوبارا سے اپنے کام میں مصروف ہو گئی
بابا میں اس درخت کے پاس جا رہی ہوں آپ پلیز میری ایک تصویر لیں۔ ۔۔
دل نے ایک قدرے جھکے ہوئے درخت کی طرف اشارا کر کے کہا اور اپنا فون سلیم کو دے کر وہاں جانے لگی
مگر وہاں بہت جھاڑیاں ہیں آپ کو کہیں چوٹ نہ لگ جائے۔ ۔۔
مامون نے اسے روکنا چاہا
دل نے منہ بنا کر اسے دیکھا اور اگنور کرتی ہوئی اس درخت کے نزدیک چلی گئی۔ ۔۔ مامون سر جھٹک کر اس کے پاس ہی کھڑا ہو گیا سلیم نے اسکی دو تین تصویریں لیں۔ ۔ دل خوشی خوشی واپس آنے لگی کے
آہ ہ ۔۔۔ آوچ
دل کے پاوں میں اسے چھبن کا احساس ہوا اور وہ لڑکھڑانے لگی مامون نے تیزی سے آگے بڑھ کر اسے پکڑا
دیکھا میں نے کہا تھا آپکو۔ ۔۔ چوٹ لگ گئی نا۔ ۔ یہاں بیٹھیں۔ ۔۔
مامون نے اسے سائیڈ پر بنے پتھر کی طرف بیٹھنے کا کہا۔ ۔
کیا ہوا مامون ٹھیک تو ہے یہ؟
سلیم بھی گھبرا کر اسکے پاس آیا
جی انکل میں دیکھ رہا شاید ان کے پاوں میں کچھ چھب گیا ہے۔ ۔
مامون گھٹنے کے بل دل کے سامنے بیٹھ گیا اور پھر اسکے پاوں سے احتیاط سے اسکی چپل اتاری۔۔۔اسکا پاوں اوپر کر کے دیکھنے لگا۔ ۔ تکلیف کے مارے دل نے سلیم کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ۔۔
اوہو۔ ۔ کانٹا لگ گیا ہے کافی بڑا کانٹا ہے ۔۔ مگر میں نکال دیتا ہوں ڈونٹ وری ہممم۔ ۔۔
مامون نے بہت نرمی سے کہا اور ایک ہاتھ سے اسکا پاوں پکڑ کر دوسرے ہاتھ سے بہت ہی احتیاط سے وہ کانٹا نکال دیا
آہ ہ۔ ۔
دل تکلیف کی وجہ سے کراہ کر رہ گئی۔ ۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں۔ ۔ مامون نے سر اٹھا کر اسے دیکھا تو اسے تکلیف میں دیکھ کر مامون کو بھی تکلیف محسوس ہوئی
پلیززز ریلکس۔ ۔۔ میں نے کانٹا نکال دیا ہے۔ ۔۔ آپ گھر جا کر اس پر کچھ لگا لیجئے گا۔ ۔۔ کیا بہت درد ہو رہا ہے آپکو۔ ۔۔؟
مامون نے فکرمندی سے پوچھا۔ ۔ دل نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا
دل بیٹا بتاو زیادہ درد ہے کیا ؟؟
سلیم نے بھی پوچھا
جی بابا جلن ہو رہی ہے۔ ۔۔
دل نے مشکل سے بتایا
اوہ ہو۔ ۔۔ اب کیا کریں مامون۔ ۔۔
سلیم نے پریشانی سے پوچھا
آممم میرا خیال ہے اب ہمیں واپس چلنا چائیے۔۔ گھر میں شاید کوئی آنمینٹ پڑی ہو۔ ۔اور یہ صبح تک بیڈ ریسٹ کریں گی تو بھی ان شاءاللہ پاوں ٹھیک ہو جائے گا۔ ۔۔
مامون نے اپنے کُرتے کی جیب سے رومال نکالا اور دل کا زخم صاف کیا جہاں خون کے چند قطرے تھے پھر اسکی چپل اسے پہنائی اور کھڑا ہو گیا
ہاں تم ٹھیک کہہ رہے ہو۔ ۔۔ چلو دل ہمت کرو اٹھو گھر چلیں۔ ۔
سلیم نے اسے سہارا دے کر اٹھایا
اففف بابا مجھ سے تو پاوں بھی زمین پر نہیں رکھا جا رہا۔ ۔۔
دل نے رونے والی شکل بنا لی
آپ رکھیں بھی مت۔ ۔ کہیں سوجھ نہ جائے آپ بس سہارا لے کر چلیں۔ ۔۔
مامون نے جواب دیا
ہاں دل مامون ٹھیک کہہ رہا ہے۔ ۔ سہارے سے چل لو گی نہ آپ؟ ؟ بس جنگل سے باہر نکل کر کوئی سواری دیکھ لینگے۔ ۔۔
سلیم نے اسے پیار سے سمجھایا۔ ۔۔ دل نے اپنا سر ہاں میں ہلایا اور سلیم کا ہاتھ پکڑ کر لنگڑاتے ہوئے چلنے لگی۔ ۔۔
تکیلف کم کرنے کے لیئے اس نے اپنا ہونٹ دانتوں تلے دبایا ہو ا تھا۔ ۔ مامون نے ایک نگاہ اس پر ڈالی۔۔۔ اسے بہت افسوس ہونے لگا۔ ۔۔ وہ دل کی تکلیف کا زمیدار خود کو سمجھنے لگا۔ ۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ تینوں جنگل سے باہر آگئے۔ ۔۔ سلیم آس پاس نگاہ دھوڑا کر سواری تلاش کرنے لگا
بابا وہ دیکھیں تانگہ کھڑا ہوا ہے۔ ۔۔ پلیز اس پر چلتے ہیں۔ ۔
دل سامنے کھڑے تانگے کو دیکھ کر خوش ہوئی
دل کیا تم بیٹھ جاو گی تانگے پر؟
سلیم نے پریشانی سے پوچھا
جی بابا بیٹھ جاونگی نو پرابلم۔ ۔۔
دل نے جوش سے کہا ۔۔
اچھا مامون سوری ہاں تمہیں اتنا ڈسٹرب کیا۔ ۔۔
سلیم مامون دیکھتے ہوئے کہا
کوئی مسئلہ نہیں انکل۔ ۔ آئیں میں آپ لوگوں کو تانگے پر بیٹھا دوں۔ ۔
مامون نے تانگے والے کو اشارہ کیا وہ تانگہ چلاتا ہوا انکے پاس آگیا۔ ۔
چلو دل بیٹھو ۔۔۔
سلیم نے دل کا ہاتھ پکڑے اسے اوپر بیٹھنے کا کہا۔ ۔۔ دل نے دوسرے ہاتھ سے تانگے کو پکڑا اور بیٹھنے لگی۔ ۔۔ مامون کی نظریں اس کے پاوں پر تھیں۔ ۔۔ دل بہت احتیاط سے تانگے پر بیٹھ گئی
تھینک یو مامون۔ ۔ ان شاءاللہ پھر ملاوات ہو گی۔ ۔۔
سلیم نے مامون سے ہاتھ ملا کر کہا اور آگے کی طرف جا کر تانگے پر بیٹھ گیا
اپنا خیال رکھئیے گا۔ ۔ پلیز پاوں پر زور مت دینا۔ ۔۔
مامون نے دل کو دیکھ کر فکر مندی سے کہا۔ ۔ دل نے اپنی نظریں اٹھا کر مامون کو دیکھا۔ ۔۔ اور تانگہ چلنے لگا۔ ۔۔ مگر مامون ونہیں کھڑا تانگے کو دیکھتا رہ گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ کیا ہو رہا مجھے۔ ۔۔ کانٹا اسے چبا اور تکلیف مجھے کیوں۔ ۔۔
مامون نے گہرا سانس لے کر سوچا
میں نے اسے ڈانٹا کیوں۔ ۔۔ اففف کیوں مجھے اتنی فکر ہو رہی اسکی۔۔۔۔
مامون نے گھبرا کر اپنا سر جھٹکا ۔۔ مگر اسکے باوجود دل آویز کا خیال اس کے زہن سے نہیں نکلا
وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اپنے آستانے میں آیا۔۔۔
مجھے اسے ڈانٹنا نہیں چاہیئے تھا اتنی معصوم سی خواہش تھی اسکی اور میں نے غصہ کیا ۔۔ کیا ہو جاتا اگر تصویر ڈلیٹ نہ کرواتا۔ ۔۔
وہ دل ہی دل میں افسوس کرنے لگا۔۔۔ اس نے اپنی جیب سے رومال نکالا۔ ۔ رومال پر چند قطرے خون کے لگے تھے۔ ۔ مامون نے بہت احتیاط سے وہ رومال سنبھال کر رکھ لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کے آدھے پہر مامون کی آنکھ ایک عجیب سے خواب کی وجہ سے کھل گئی۔ ۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا
شاہ بابا میرے خواب میں۔ ۔۔ کیا کہہ رہے تھے۔ ۔۔
وہ خواب یاد کرنے کی کوشیش کرنے لگا
اوہ کسی کتاب کا زکر کر رہے تھے۔ ۔ یقینً یہیں ہو گی۔ ۔
یاد آتے ہی وہ تیزی سے اٹھا اور کتاب ڈھونڈنے لگا۔ ۔ جیسے ہی وہ کتاب ملی وہ اسے کھول کر غور سے پڑھنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامون جنگل کی مخالف سمت نکل پڑا۔ ۔ کافی دیر چلنے کے بعد آخر کار اسے دور سے آگ جلتی ہوئی دیکھائی دی۔ ۔ ہر طرف سناٹا تھا۔ ۔ صرف چاند کی روشنی تھی جس سے مامون چاروں طرف دیکھ سکتا تھا۔ ۔ وہ ہمت کرتا ہوا آگ کی طرف جانے لگا۔ ۔۔ آگ کے پاس پہنچ کر اس نے غور سے دیکھا تو وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ ۔ آگ کے چاروں طرف کھوپڑیاں پڑی ہوئی تھیں۔ ۔۔ بہت غور کرنے کے بعد مامون کو اندازہ ہوا کے وہ انسانی کھوپڑیاں ہیں۔ ۔ مامون کو شدید غصہ آیا۔ ۔ وہ آگ کی سمت بڑھنے لگا کے اچانک ایک کھوپڑی مامون کے سر پر لگی ۔۔ درد کی شدت سے مامون اپنا سر پکڑ کر ونہی بیٹھ گیا۔ ۔ اسے احساس ہوا کے اس کے سر سے خون نکل رہا ہے۔ ۔ اس نے اپنا رومال نکالنا چاہا تو اسے یاد آیا کے وہ تو آستانے میں ہی چھوڑ آیا ہے۔ ۔۔ اپنی چادر کو زخم کی جگہ رکھ کر دبایا اور زکر کرنے لگا۔ ۔۔ چند منٹ یونہی گزر گئے ۔۔۔ جیسے ہی خون رکا مامون پھر سے کھڑا ہوا اور چلنے لگا۔ ۔ اس بار پھر ایک کھوپڑی اڑتی ہوئی مامون کی طرف آئی مگر اس بار مامون نے خود کو اس بچا لیا۔ ۔۔ ابھی مامون نے دو قدم بڑھائے ہی تھے کے ایک ساتھ تین کھوپڑیاں اڑ کر مامون کی طرف آئیں۔ ۔ مامون کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کیسے ان سے بچے وہ جلدی سے نیچے بیٹھ گیا مگر وہ کھوپڑیاں زمین پر گرنے کے بجائے ہوا میں ہی رک گئیں جیسے کسی نے تھام رکھی ہوں۔ ۔ مامون نے کھوپڑیوں کی طرف دیکھا اور مسکرا کر سلام کیا اسے کافی حوصلہ ہوا۔ ۔۔ پھر وہ سیدھا چلتا ہوا آگ کے پاس آیا۔ ۔۔ آگ میں جلتی ہوئی چیزوں کو غور سے دیکھنے لگا۔ ۔ اسے اپنے ارد گرد بہت عجیب و غریب آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی غصے میں چلا رہا ہو۔ ۔ مگر مامون بنا کسی خوف کے آگ پاس کھڑا رہا۔ ۔۔ وہ جانتا تھا یہ سب اسے خوفزدہ کرنے کے لیئے کیا جا رہا ہے اور اگر وہ خوف زدہ ہو گیا تو وہ مارا جائے گا۔ ۔۔ اسے اندازہ ہوا کے آگ میں بہت سے بال جل رہیں ہیں۔ ۔۔ آگ کے پاس ہی ایک برتن خون سے بھرا ہوا پڑا تھا جس میں کوئی کپڑا بگھویا ہوا تھا ۔۔ مامون نے آس پاس دیکھا اسے ایک لمبی سی لکڑی نظر آئی مامون نے اس لکڑی کی مدد سے آگ میں جلتے بال نکال لیئے۔ ۔ ساتھ ساتھ وہ زکر بھی کر رہا تھا۔ ۔۔ جیسے جیسے وہ بال نکالتا ویسے ویسے آگ کم ہوتی جاتی۔ ۔ یہاں تک کے آگ بجھ گئی۔ ۔ مامون نے وہ سارے بال اکھٹے کر کے ایک شوپر میں ڈالے۔ ۔۔ اور پھر خون سے بھرے برتن کو الٹ دیا۔ ۔۔ سارا خون زمین پر بہہ گیا۔ ۔ جیسے ہی برتن گرا مامون کو زور زور سے اپنے پاس کسی کے چلنے کی آوازیں آنے لگیں مگر وہ بنا کسی خوف کے اپنا کام کرتا رہا۔ ۔ اس نے خون میں لت پت وہ کپڑا اٹھایا اور اسے دوسرے شوپر میں ڈال لیا۔ ۔ اپنا کام مکمل کر کے وہ اطمینان سے اپنے جنگل کے راستے چلنے لگا۔ ۔۔۔ چند منٹوں بعد اسے ہوا میں روکی ہوئی کھوپڑیوں کے گرنے کی آواز آئی۔ ۔۔ وہ بہت خوشی سے اپنے آستنے میں لوٹ آیا۔ ۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل بیٹا پاوں کیسا ہے اب؟؟
جیسے ہی دل اپنی نیند پوری کر کے جاگی۔ ۔ ۔ سلیم نے اس سے فکرمندی سے پوچھا
جی بابا بہتر ہے۔ ۔ ویسے تو درد نہیں ہو رہا بس جب زیادہ زور دوں تو درد ہوتا ہے۔ ۔۔
دل نے انگڑائی لیتے ہوئے کہا
اوہ چلو یہ بھی ٹھیک ہو جائے گا بس تم زور مت دینا اس پاوں پر۔ ۔۔ اچھا اب اٹھ کر ناشتہ کر لو۔ ۔۔ آج اعظم نے دعوت میں بلایا ہے۔ ۔۔
سلیم نے اسے سہارا دے کر اٹھایا
اوہ اچھا۔ ۔۔ سب جائیں گے؟
دل نے پوچھا
ہاں سب ہی جائیں گے۔ ۔ تم واشروم سے ہو آو۔۔۔جاو شاباش۔ ۔۔
سلیم نے اسے واشروم کے دروزے تک چھوڑا
اوکے بابا۔ ۔۔
وہ سر ہلاتی ہوئی واشروم میں چلی گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعظم نے سب ہی رشتےداروں کی دعوت کا انتظام کیا تھا۔ ۔ وجہ یہ ہی تھی کے سب مل کر زینت کے لیئے دعا کر لیں۔ ۔ اور دوسری وجہ یہ بھی تھی کے زینت کا دل بہل جائے گا۔ ۔۔ سب ہی وقت پر پہنچ گئے تھے سب سے پہلے اجتماعی دعا کروائی گئی۔ ۔ اعظم نے مامون سے دعا کرنے کا کہا تو اس نے یہ کہہ کر منع کر دیا کے حب مسجد کے امام صاحب موجود ہیں تو وہ کروائیں۔ ۔ مسجد کے امام ایک بزرگ آدمی تھے مامون انکی بہت عزت کرتا تھا۔ ۔۔۔ دعا کے بعد کھانا لگا دیا گیا۔ ۔ عورتوں اور مردوں کا الگ الگا انتظام تھا۔ ۔ دل آویز کو سب ہی بہت پروٹوکال دے رہے تھے اور وہ بھی ہنس ہنس کر سب سے باتیں کر رہی تھی۔ ۔ اسے وہ سب عورتیں بہت پسند آئیں تھیں۔ ۔۔ لڑکیاں تو بس غور غور سے اسے ہی دیکھے جا رہی تھیں۔ ۔۔
آہستہ آہستہ مہمان جانے لگے۔ ۔۔ مامون زینت کے کمرے میں دم کرنے آیا
زینت باجی آج کیسی طبیعت ہے آپکی۔ ۔ کچھ بہتر محسوس ہوا؟
مامون نے دم کرنے کے بعد پوچھا
جی مامون بابا آج ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسے جان آگئی ہو۔ ۔ آج تو میں خود اٹھ کر بیٹھی ہوں۔ ۔
زینت نے خوشی سے بتایا
ہممم دیکھا آپ نے اللہ سے لگائی جانے والی امیدیں کبھی نہیں ٹوٹتیں۔ ۔۔
اعظم نے مسکرا کر کہا
ہاں مامون بابا آپ بلکل صحیح کہتے ہیں۔ ۔۔ اللہ آپ کو ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔ ۔۔
اعظم نے مامون کو دعا دی
آمین۔ اچھا زینت باجی اپنا خیال رکھیئے گا۔ ۔ اور پریشانی نہیں لینی۔ ۔۔ اللہ حافظ۔ ۔
مامون نے مسکرا کر کہا اور اعظم کو لیئے روم سے باہر آگیا
اعظم بھائی ایک بات کا خاص خیال رکھیں زینت باجی کے روم میں آپ کے علاوہ کوئی نا جائے سب کو منع کر دیں۔ ۔آپ کی بہن وغیرہ بھی نہیں۔ ۔ جو بھی کھانا وغیرہ دینا ہو آپ ہی دیں۔ ۔ آپ سمجھ رہیں نا میری بات؟
مامون نے روم سے باہر آتے ہی اعظم سے کہا
جج جی مامون بابا آپ جیسا کہیں گے ویسا کرونگا۔ ۔۔ بس میری زینت ٹھیک ہو جائے۔ ۔۔
اعظم نے فکرمندی سے کہا
ان شاءاللہ وہ بہت جلد ٹھیک ہو جائیں گیں۔ ۔ بس آپ نے لاپرواہی نہیں کرنی۔۔۔
مامون نے اسے سمجھایا
جی ٹھیک ہے۔ ۔
اعظم نے سر جھکا کر کہا
اچھا میں چلتا ہوں اب ان شاءاللہ پھر آونگا۔ ۔۔
مامون نے اعظم سے ہاتھ ملایا
آئیں میں آپ کو دروازے تک چھوڑ آوں۔ ۔
اعظم نے کہا
نہیں آپ مہمانوں کو دیکھیں میں چلا جاونگا۔ ۔ کوئی مسئلہ نہیں۔ ۔
مامون نے اسے ٹوکا۔۔ اعظم اس سے ہاتھ ملاتا ہوا وہاں سے چلا گیا۔ ۔ مامون دروازے کی طرف جانے لگا۔ ۔ اسے دل آویز کی باتیں کرنے کی آواز آئی۔ ۔ مامون کا دل کیا وہ دل آویز کو دیکھے اس کے پاوں پر لگے زخم کا پوچھے۔ ۔۔ بے بس ہو کر وہ اس طرف چلنے لگا جہاں سے دل کی باتوں کی آواز آرہی تھی۔ ۔۔
دل صحن میں ایک طرف بیٹھی سمن سے باتیں کرنے میں مصروف تھی۔ ۔۔ مامون نے پاس پہنچ کر مصنوعی کھانسی کی اور اپنی موجودگی کا احساس دلایا۔ ۔۔ سمن نے گھبرا کا سلام کیا اور اپنا دوپٹا سر پر ٹھیک کیا
آپ کا پاوں کیسا ہے اب؟
مامون نے دل کو دیکھتے ہوئے پوچھا
ہنہ آپ کو کیوں بتاوں آپ کوئی ڈاکٹر ہیں۔ ۔۔
دل نے منہ بنا کر جواب دیا وہ اب تک مامون پر غصہ تھی
ہممم یہ ہی سمجھ لیں۔۔ بتائیں پلیززز درد کم ہوا؟
مامون نے نرمی سے پوچھا
مجھے نہیں بتانا۔ ۔۔
دل نے کندھے اچکا کر کہا
اچھا میں خود دیکھ لیتا ہوں۔ ۔۔
مامون اس کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور اسکے پاوں سے چپل اتاری۔۔ سمن نے حیران ہو کر مامون کو دیکھا
ارے زبردستی ہے کیا؟؟
دل نے اپنا پاوں اسے کے ہاتھ سے چھوڑوانا چاہا۔ ۔۔ مگر مامون کی گرفت سخت تھی
ہممم چھوٹا سا دانا بن گیا ہے کانٹے والی جگہ پر۔ ۔۔۔ اس پر زور دینگی تو یہ سوجھ بھی سکتا ہے۔ ۔۔
مامون اسکے پاوں کو اپنے سامنے کیئے غور سے دیکھتے ہوئے کہنے لگا
سمن۔ ۔۔ تم اپنی دل باجی کی سکھائی کر دینا ہمممم۔ ۔
اس نے اپنے پاس کھڑی سمن سے کہا۔ ۔ سمن نے جلدی سے ہاں میں سر ہلایا
میں پریشان رہا آپ کی تکلیف کی وجہ سے۔ ۔ دعا کرونگا آپ کو کبھی کوئی تکلیف نہ ہو۔ ۔۔ اپنا خیال رکھا کریں بہت لاپرواہ ہیں آپ۔ ۔۔
مامون نے سرگوشی میں دل آویز سے کہا۔ ۔۔ دل آویز نے آنکھیں پھیلا کر حیران ہوتے ہوئے اسے دیکھا۔ ۔ مامون اسے دیکھ کر مسکرایا اور اسے چپل پہنا کر وہاں سے چلا گیا
