Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Episode 21)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Episode 21)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
ہاتھ میں اپنی دو قسم کی مخصوص تسبیح لیئے اور دوسرے ہاتھ میں پانی کی بوتل پکڑے وہ قبرستان سے باہر آگیا۔ ۔۔ سورج ابھی مکمل طور پر بادلوں کی اوٹ سے باہر نہیں نکلا تھا۔ ۔۔ چڑیاں چہچہاتے ہوئے ادھر سے اُدھر چکر کاٹ رہی تھیں۔ ۔۔ مامون نے صبح کی ٹھنڈی ہوا کو گہرا سانس لے کر خود میں اتارا اور پھر سے چلنے لگا۔ ۔ سلیم نے دور سے ہی مامون کو دیکھ لیا اور بھاگتا ہوا سکے پاس آیا شاید وہ کافی دیر سے مامون کا انتظار کر رہا تھا
مامون۔ ۔۔ کہاں تھے تم ساری رات میں ایک پل کے لیئے بھی سکون سے بیٹھ نہیں سکا مجھے بتاو دل آویز کہاں ہے کیا وہ ٹھیک ہے نا؟
سلیم نے بے چینی سے پوچھا۔ ۔ مامون نے سر اٹھا کر سلیم کو دیکھا
وہ واپس آئے گی ان شاءاللہ میں اُسے ہی لینے جا رہا ہوں۔ ۔۔ آپ سب دعا کریں کے میں کامیاب لوٹوں۔ ۔۔
سلیم کی حالت دیکھ کر مامون نے تسلی دی اور آگے بڑھ گیا۔ ۔ سلیم پیچھے سے پکارتا رہ گیا
















رضیہ بہت بہادری سے اعظم کے گھر داخل ہوئی۔۔۔
اعظم کہاں ہے تو۔ ۔۔
رضیہ نے چلاتے ہوئے کہا
اعظم جو پوری رات کا جاگا ہوا تھا ابھی سونے کے لیئے لیٹا ہی تھا کے ایک دم گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔ ۔۔ اعظم کی ماں اور بہنیں بھی گھبرا کر باہر نکلیں۔ ۔
رضیہ تو یہ کس طرح بلا رہی ہے اعظم کو۔ ۔۔؟
اعظم کی ماں نے غصے سے پوچھا
چپ کر۔ ۔۔ اگر کوئی بھی ہمارے بیچ میں بولا تو اسکا وہی حال ہو گا جو زینت کا ہوا سمجھی۔ ۔۔
رضیہ نے گھورتے ہوئے کہا۔ ۔۔ اعظم کی چھوٹی بہن نے اپنی ماں کا ہاتھ تھام کر اسے چپ رہنے کا کہا۔۔ آج رضیہ کی آنکھوں میں کچھ ایسا عجیب سا تھا کہ وہ سب ڈر کر پیچھے ہو گئیں۔ ۔۔ اعظم اپنے کمرے سے باہر آگیا
کیا بات ہے؟ کیوں آئی ہو تم یہاں؟
اعظم نے غصے سے آگے آتے ہوئے کہا
زینت کی زمین آج شام تک میرے نام کر دے ورنہ۔ ۔۔
رضیہ نے اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دھمکایا
ورنہ کیا ہاں۔۔۔۔ کیا کرو گی؟ ؟
اعظم نے مزید غصے سے کہا
ہممممم۔ ۔۔۔۔
رضیہ نے غصے سے ہنکارا بھرا اور آگے ہو کر اس کی بہن کے بال پکڑ لیئے
آ۔ ۔۔ بھاہ جی۔ ۔ مم میرے بال۔ ۔۔
اعظم کی بہن درد سے چیخنے لگی۔ ۔ اِس سے پہلے کے اعظم اسکے بال چُھوڑواتا رضیہ نے اس کے بالوں کا ایک گُھچھا سا کاٹ لیا۔ ۔
یہ کک کیا کر رہی تم رضیہ خدا کا خوف کر۔ ۔۔۔!
اعظم کی ماں نے بڑھ کر اپنی بچی کو گلے لگایا
دیکھو رضیہ۔۔۔ میری بہن کو کوئی نقصان مت پہنچانا۔ ۔۔ جو تم کہو گی میں کرونگا۔ ۔
اعظم کو مجبوراً ہتھیار ڈالنے پڑے
آج شام تک زمین میرے نام ہو جانی چاہیئے ورنہ اِسکا حال بھی زینت جیسا کرونگی۔ ۔۔
رضیہ نے غصے سے اپنی بات مکمل کی اور کچھ سنے بنا وہاں سے چلی گئی۔۔۔ اعظم پریشانی سےاپنا سر تھام کر بیٹھ گیا
















جیسے ہی مامون آتش کے آستانے کے نزدیک پہنچا تو ایک ڈھانچہ اُچھلتا ہوا اس کے پاس آنے لگا۔ ۔ اُسکو اچھلتا دیکھ کر مامون کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔ ۔۔ اس ڈھانچے کے پیچھے سے وہ دو جسم نمودار ہوئے جو زینت کی قبر کھُود رہے تھے اور اب مامون کے غلام تھے۔ ۔۔ ۔ انھوں نے بہت آرام سے آکر ڈھانچے کو اسطرح پکڑا کے اس کی ہڈیاں ایک دوسرے سے جدا ہو گئیں۔ ۔۔ مامون دوبارا چلنے لگا۔ ۔ مامون ان سب چیزوں کے لیئے پہلے سے تیار تھا۔ ۔۔ وہ اللہ کا زکر کرتا ہوا آگے بڑھتا رہا۔۔۔ مامون اپنی نظریں آتش کے آستانے پر جمائے چل رہا تھا کے اب اسکا راستہ روکنے کے لیئے ایک سیاہ رنگ کی بلی آگئی۔ ۔۔ وہ مامون کے سامنے کھڑے ہو کر عجیب طرح سے آواز نکالنے لگی۔ ۔۔ مامون نے اس پر زیادہ توجہ نہ دی اور تھوڑا سائیڈ پر ہو کر نکلنے لگا۔ ۔۔ وہ بلی بھی فوراً مامون کی طرف ہوئی اور اس پاوں پر لپٹنے لگی مامون نے غصے سے اسکی دُم پر پاوں رکھ دیا وہ بلی بری طرح تڑپنے لگی۔ ۔ مامون اس وقت تک اپنے پاوں پر زور دیتا رہا جب تک کے وہ بلی بے جان نہ ہو گئی۔ ۔ ۔ جیسے ہی وہ بلی تڑپ تڑپ کر بے جان ہوئی مامون نے اس کے اوپر سے پاوں ہٹایا اور اپنے راستے جانے لگا
















مم میری بچی کہاں ہے سلیم پوری رات بھی گزر گئی اور وہ نہیں آئی۔ ۔۔ خدا کے لیئے اسے میرے پاس لے آو۔۔۔
فاطمہ نے روتے ہوئے سلیم کے آگے ہاتھ جوڑے
دعا کر فاطمہ۔ ۔ مامون کامیاب لوٹے اور ہماری بچی کو صحیح سلامت لے آئے۔ ۔۔ دعا کرو بس۔ ۔۔۔
سلیم نے سر جھکا کر بھیگے لہجے میں کہا
فاطمہ بہن۔ ۔۔ اللہ کے آگے رو کر فریاد کرو۔ ۔ وہ ماں کی دعا لازمی سنتا ہے۔۔۔ چلو آو وضو کرو دعا کرو۔ ۔۔
رشیدہ نے آگے بڑھ کر فاطمہ کو تھاما
ہاں وہ ماں کی دعا سنتا ہے۔۔ مم میں دعا کرتی ہوں تم لوگ بھی کرو۔ ۔۔ تم بھی تو ماں ہی ہو۔ ۔۔
فاطمہ نے اپنے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہا۔ ۔ اگر کوئی اور لمحہ ہوتا جب فاطمہ اس بات کا اعتراف کرتی تو شاید سب ہی حیران رہ جاتے۔ ۔۔ مگر اس وقت سب کو دل آویز کی فکر تھی۔ ۔ رشیدہ فاطمہ کو سہارا دے کر غسل خانے کی طرف لے گئیں۔ ۔۔















ہاہاہا آ رہا اس کا عاشق۔ ۔۔ ہنہ ایسا سبق سیکھاونگا کے آئندہ میرے بارے میں سوچ کر بھی ڈر جائے گا۔ ۔ ہاہاہا۔۔۔
آتش اپنے پیلے دانتوں کی نمائیش کرتا ہوا ہنسنے لگا
دل آویز کو اُس نے اپنے سامنے لٹایا ہوا تھا اور اس کے سامنے ہی آگ جل رہی تھی جس میں آتش بار بار کچھ گوشت کے ٹکڑے ڈال رہا تھا
آتش نے گہرے گہرے سانس لے کر آنکھیں بند کیں اور منہ ہی منہ میں کچھ بُڑبُڑانے لگا۔ ۔۔
مامون بلا آخر بہت سی روکاوٹوں کو پار کرتا ہوا آتش کے آستانے تک پہنچ ہی گیا۔ ۔ جیسے ہی مامون نے آتش کے آستانے کی دہلیز پر قدم رکھا آتش نے فوراً اپنی آنکھیں کھول دیں
ہاہاہاہاہا مجھے معلوم تھا تو آئے گا۔ ۔ ہاہاہا مجھے پتا تھا کے وہ سب تجھے نہیں روک سکیں گے۔ ۔۔ آہ مامون۔ ۔۔ اپنی بربادی کی طرف خود چل کر آیا ہے۔ ۔۔۔
آتش زور زور سے ہنستا ہوا کھڑا ہو گیا۔ ۔۔ مامون نے اسکی سیاہ رنگت والے چہرے کو نفرت سے دیکھا
ہنہ مجھے اب تم بھی نہیں روک سکتے آتش۔ ۔۔ اس معصوم کو چھوڑ دو مجھ سے مقابلہ کرو اتنے بہادر ہو تو اس کا سہارا مت لو۔ ۔۔
مامون نے اپنی بھاری آواز میں جواب دیا
ہاہاہاہا اسے چھوڑ دوں۔ ۔۔ چلو چھوڑ دونگا بتاو مجھے کیا ملے گا؟ ؟
آتش کمینگی سے ہنستا ہوا بولا
کیا چاہتے ہو تم؟ ؟
مامون غصے سے دھاڑا
تجھے مار کر مجھے کچھ بھی حاصل نہیں ہو گا۔ ۔ کل ایک اور مامون میرے سامنے کھڑا ہو جائے گا۔ ۔۔ اس لیئے میں چاہتا ہوں کے تو میرا غلام بن جائے میرا ہر حکم مانے۔ ۔۔
آتش نے سنجدگی سے کہا
ہنہ۔ ۔۔ مارنے آیا ہوں یا مرنے آیا ہوں۔ ۔۔ ۔ جھکنے نہیں آیا۔ ۔۔
مامون نے بھی سنجیدگی سے جواب دیا
اچھا۔ ۔۔۔ اب تو یہ تجھ پر ہے کے اس لڑکی اور اپنی زندگی چاہتا ہے یا۔ ۔۔
آتش نے دل کی طرف اشارہ کیا۔ ۔۔ مامون کو محسوس ہوا کے آتش کے پیچھے سے دو سائے نکل کر آگے آئے ہیں۔ ۔ ان دونوں نے دل آویز کو اپنے ہاتھوں میں اٹھا لیا۔۔۔ایک پل کو مامون کے دل کی دھڑکن رک گئی مگر فوراً ہی اس نے خود کو سنبھال لیا
آتش۔ ۔۔۔ میں نے کہا اس معصوم کو چھوڑ دو۔ ۔ مجھ سے مقابلہ کرو۔ ۔۔ مجھے مارنا ہے تو میں سامنے ہوں تمہارے۔ ۔۔ اسے چھوڑ دو ورنہ۔ ۔۔
مامون نے غصے سے اپنے ہاتھوں میں پکڑی تسبیح پر زور دیا
ہاہاہاہا۔ ۔۔ ہائے یہ عشق۔ ۔۔ ویسے لڑکی ہے بڑی مست۔ ۔۔ بووووت ت ت پیاری ہے۔۔۔۔ جب ہی تم جیسے کا ایمان بھی ڈگمگا گیا۔ ۔۔ اب تو یہ میری رانی بن۔ ۔۔
آتش اپنی ایک آنکھ دباتے ہوئے خباثت سے بولا
بس بہت ہو گیا۔ ۔۔ لگتا ہے تم اب زبان کی بات نہیں مانوں گے۔ ۔۔
مامون غصے سےاسکی بات کاٹی اور آگے بڑھا۔ ۔۔ آتش نے اسی وقت آگ میں ایک گوشت کا ٹکڑا ڈالا وہ آگ ایک دم تیز ہو کر بڑھ گئی یہاں تک کے مامون کی چادر کو پکڑ میں لے لیا مامون نے فوراً اپنی ہاتھ میں پکڑی بوتل کا پانی وہاں ڈالا وہ آگ اسی وقت بُجھ گئیی
ہاہاہاہا اب بھی مو قع دے رہا ہوں مامون بابا۔ ۔۔ مت کر مجھ سے مقابلہ مارا جائے گا۔ ۔۔
آتش نے ہنستے ہو کہا
ہنہ موت تو آنی ہی ہے آج آئے گی تو مجھے فخر ہو گا۔ ۔۔
مامون نے ایک تسبیح اپنے گلے میں ڈالی اور دل آویز کی طرف جانے لگا اس سے پہلے کے وہ اُس تک پہنچتا ایک دم بہت سی کھُوپڑیاں مامون کی طرف گرنے لگیں۔ ۔ جنہیں اُنہی دو بنا سر والے جسموں نے اپنے ہاتھوں سے روک لیا۔ ۔ مامون نے انہیں دیکھ کر ہلکا سا سر جھکا کر شکریہ کیا۔ ۔۔ اور دل آویز کی طرف چلنے لگا۔ ۔ دل آویز زمین سے تھوڑا اوپر ہوا میں اٹھی ہوئی تھی۔ ۔۔ مامون کے نزدیک آتے ہی ان دو سائے نما شخص نے دل آویز کو ایک دم چُھوڑ دیا جس سے وہ زمین پر زور سے گری۔ ۔۔ مامون تڑپ کر جلدی سے اس کے پاس آیا۔ ۔
دل ۔۔۔ دل آویز۔ ۔۔!
مامون نے اس کا سر اپنے ہاتھوں میں لیا ۔۔ مامون کا دل کیا وہ دل آویز کو لے کر یہاں سے غائب ہو جائے مگر ابھی اسے مقابلا کرنا تھا۔ ۔۔ مامون نے دل آویز کے چہرے سے نظر ہٹا کر اپنی لال ہوتی آنکھوں سے آتش کو دیکھا جو مزے سے مامون اور دل آویز کو ہی دیکھ رہا تھا جیسے ان دونوں کی محبت کے لمحوں کو انجوائے کر رہا ہو۔ ۔
ہاہاہا۔ ۔۔ اتنی ٹڑپ۔ ۔ وہ کہتے ہیں نا کسی نا کسی کی جان اپنے علاوہ بھی کسی اور چیز میں ہوتی ہے۔ ۔ تو تیری جان اس ننھی سی چڑیا میں ہے۔ ۔۔ افففف مامون اپنے ساتھ ساتھ اسکو بھی خطرے میں ڈال دیا۔ ۔۔ہاہاہا۔۔۔۔
آتش نے گوشت کا ٹکڑا اپنے منہ میں ڈالا اور چباتے ہوئے ہنسنے لگا۔۔۔ مامون نے آنکھیں بند کرکے کچھ پڑھا اور ایک دم دل آویز کو چھوڑ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔ آتش کے پاس آکر اس نے اپنی پوری قوت سے بوتل میں بچے ہوئے پانی کو آتش کے چہرے پر ڈالنا چاہا۔ ۔ مگر ایسا لگا جیسے کسی نے بہت زور دار پھونک ماری ہو اور پانی اپنا رخ بدل کر دوسری طرف گر گیا۔ ۔۔ مامون نے غصے سے اپنے ہاتھ کی مُٹھی بنائی
ہاہاہاہا بس بہت ہو گیا یہ ڈراما۔ ۔ ابھی کل کا بچہ ہے تو۔ ۔ مان لے میرا مقابلہ نہیں کر سکتا میرا مقابلہ تو تیرا شاہ بابا نہ کر سکا۔ ۔۔
آتش نے زور زور سے ہنستے ہوئے کہا شاہ بابا کے زکر پر مامون کو شدید غصہ آیا
خبردار جو اُنکا نام بھی اپنی گندی زبان سے لیا۔ ۔۔
مامون نے چلا کر کہا
ہاہاہا۔ ۔۔ ہاہاہاہا۔ ۔۔ بچارا۔ ۔۔
آتش گول گول گھومتے ہوئے پاگلوں کی طرح ہنسنے لگا
مامون کو اپنا پانی ضائع ہونے پر شدید غصہ آیا وہ اپنی پوری ہمت سے چلتا ہوا آتش کے پاس آیا اور اسے پکڑنا چاہا
ہاہاہا۔ ۔۔ تو میرا کچھ نہیں بیگاڑ سکتا مامون۔ ۔۔ میں تیری سوچ سے بھی زیادہ طاقت ور ہوں۔ ۔۔
آتش نے مامون کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں زور سے تھام لیا۔ ۔ مامون کو لگا اس کے ہاتھ پر کسی نے آگ کا شعلہ رکھ دیا ہو۔ ۔ آتش کا ہاتھ اس قدر گرم تھا کے مامون کو تکلیف ہونے لگی۔ ۔۔ جس ہاتھ میں مامون نے تسبیح لپیٹی تھی مامون نےا س ہاتھ سے آتش کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ۔ آتش ایک دم لڑکھڑا کر پیچھے ہوا۔ ۔۔۔ مامون نے اپنا ہاتھ دیکھا وہ سرخ ہو رہا تھا۔ ۔۔ آتش کو مامون کے چھونے سے شاید تکلیف کا احساس ہوا تھا جب ہی وہ اپنا ہاتھ پکڑے غصے سے مامون کو دیکھنے لگا
ختم کر دو اسے ابھی کے ابھی۔ ۔۔ یہ مرنے ہی آیا ہے۔ ۔۔
آتش نے سر اوپر اٹھا کر کہا جیسے اوپر کوئی بیٹھا ہو
ایک دم مامون پر بہت سی چمکادر نما پرندوں نے حملا کر دیا مامون خود کو اُن کے وار سے بچاتا ہوا پیچھے ہو گیا۔۔۔ وہ بنا سر والے دو جسم تیزی سے مامون کے آگے آگئے سب کی سب چمکادروں نے ان دو جسموں کو نوچ ڈالا دیکھتے ہی دیکھتے وہ دونوں جسم اپنی جان ہار گئے۔ ۔۔ مامون نے گہرا سانس لے کر خود کو نارمل کیا۔ ۔۔ اور زکر کرتا ہوا دوبارا سے آگے بڑھنے لگا۔ ۔۔ اسے ایک دم اپنے پیچھے سے ایک آواز آئی
مامون میرے بیٹے۔ ۔۔
مامون نے پلٹ کر دیکھا تو اس کی ماں ہاتھ پھیلائے کھڑی تھی
اماں جی۔ ۔۔!
مامون کے منہ سے بے اختار نکلا وہ مامون کو اپنی طرف آنے کا اشارا کرنے لگی مگر مامون کو فوراً احساس ہوا کے یہ اسکی ماں نہیں ہے وہ تو مر چکی ہے وہ اسطرح سامنے نہیں آئیں گیں۔ ۔۔ مامون نے سر جھٹکا اور دوبارا اسی طرف پلٹ گیا جہاں آتش کھڑا تھا۔ ۔۔
مم مامون۔ ۔۔ !
مامون کو اب دل کی آواز آئی مامون نے فوراً پلٹ کر دیکھا دل آویز کے گلے میں ایک رسی بندھی ہوئی جیسے کوئی اسکا گلا دبا رہا ہو اور اسکی آنکھیں ابل کر باہر آرہی تھیں ۔۔۔ مامون کو تو اپنی سانس روکتی ہوئی محسوس ہوئی
دل۔ ۔
مامون نے بے اختیار ہو کر اسکی طرف ایک قدم اٹھایا۔ ۔۔
مگر اگلے ہی پل وہ رک گیا اسے یاد آیا دل آویز تو دوسری طرف تھی۔ ۔۔ مامون نے گردن موڑ کر اُس طرف دیکھا جہاں پہلے دل آویز موجود تھی۔ ۔۔ اور اب بھی دل آویز وہاں پر اُسی طرح لیٹی تھی۔ ۔۔ مامون نے دل میں شکر کیا کے وہ بہکنے سے بچ گیا ورنہ شاید آج اور ابھی وہ مر جاتا۔ ۔۔ مامون کو پلٹتے دیکھ کر آتش کو غصہ آیا۔ ۔ اور وہ غصے میں خود مامون کی طرف بڑھا۔ ۔ مامون بھی اپنے قدم جماتا ہوا سکی طرف آنے لگا۔ ۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے آکر غصے سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔ ۔ آتش نے ایک دم مامون کا گلا زور سے پکڑ لیا۔ ۔۔۔ مامون اپنے دونوں ہاتھوں سے اسے چُھڑوانے لگا۔ ۔۔ مگر آتش کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ ۔۔ مامون نے کوشیش کر کے اپنے گلے میں ڈالی ہوئی تسبیح ایک ہاتھ سے اتاری اور آتش کے گلے میں ڈال دی۔۔ آتش جو غصے سے پاگل ہو رہا تھا اسے اس بات کا خیال ہی نہیں رہا کے مامون کیا کر رہا ہے جیسے ہی مامون نے اس کے گلے میں تسبیح ڈالی آتش ایک دم کھانستا ہوا پیچھے ہوا۔ ۔۔ وہ تڑپتا ہوا گول گول گھومنے لگا جیسے اس کا سانس گھٹ رہا ہو۔ ۔۔ مامون تیزی سے اُس طرف آیا جہاں آگ جل رہی تھی اور اس کی لگائی آگ بجھانے لگا۔۔۔ آگ میں موجود ایک ایک گوشت کے ٹکڑے کو نکالنے لگا۔ ۔ اسی آگ سے ہی آتش کو طاقت ملتی تھی اگر یہ آگ بجھ جاتی تو آتش کچھ بھی نہ تھا۔ ۔۔ آتش نے کھانستے ہوئے مامون کو آگ بجھاتے دیکھا تو ہمت کرتا ہوا اپنا مخصوص پانی پینے لگا۔ ۔۔ پانی پیتے ہی اس سانس ٹھیک ہونے لگی اس نے ایک جھٹکے سے اپنے گلے میں ڈالی گئی تسبیح کو توڑ ڈالا۔ ۔ تسبیح کے دانے بکھرتے ہوئے مامون کے پاس آگئے۔ ۔ مامون نے جلدی جلدی آگ کو بجھانے لگا۔ ۔ آتش نے غصے سے ایک کھوپڑی اٹھائی اور مامون کے سر پر دے ماری۔ ۔۔ مامون کے سر سے تیزی سے خون بہنے لگا۔ ۔ مامون درد کی شدت سے سر تھام کر بیٹھ گیا
آ آ۔ ۔۔۔ مجھے مارے گا۔ ۔ تو اب دیکھ میں پہلے تیرے سامنے اسے ماروں گا پھر تجھے۔ ۔ پہلے سوچا تھا تجھے آرام سے ختم کرونگا مگر اب میں تجھے تڑپا تڑپا کے مارونگا دیکھ پہلے اپنی محبوبہ کو مرتے ہوئے۔ ۔۔
آتش نے ایک ساتھ تین چار بار مامون کے سر پر وار کیا۔ ۔ تکلیف سے مامون کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔ ۔۔ آتش مامون کو چھوڑ کر دل آویز کی طرف آیا ۔۔ مامون نے بہت مشکل سے آنکھیں کھول کر آتش کو دیکھا جو کچھ بڑبڑاتا ہوا دل آویز کو اٹھا کر ایک کھودی ہوئی قبر میں ڈال رہا تھا۔ ۔۔
مامون تڑپ کر اٹھنے لگا۔۔۔ اسے اپنا وہ خواب یاد آنے لگا۔ ۔۔ مامون اپنا سر تھامے اونچی آواز میں زکر کرتا ہوا لکھڑا کر چلنے لگا۔ ۔۔ مامون کے پہنچنے سے پہلے ہی آتش نے دل آویز کو اس قبر میں پھینک دیا۔ ۔ مامون اپنی پوری طاقت لگا کر گھسیٹتا ہوا چل رہا تھا۔ ۔۔ آتش سر کو اوپر نیچے ہلا کر کچھ کہا جیسے کسی کو کوئی کام کرنے کا کہا ہو۔ ۔۔ اور پھر ایک دم دو سائے دل آویز کی قبر پر مٹی ڈالنے لگے۔ ۔۔ مامون اپنا درد بھلائے اور تیزی سے اس طرف آنے لگا۔ ۔۔ مامون کے ہاتھ پاوں اسکا ساتھ نہیں دے رہے تھے مگر زکر کی طاقت سے وہ چل رہا تھا۔ ۔۔ آتش دل آیز کو زندہ قبر میں دفن ہوتے دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگا۔ ۔۔ مامون کے قبر کے پاس پہنچتے ہی آتش نے ایک بار پھر اسکے کے سر پر زور دار وار کیا ۔۔ مامون وہیں لھکڑا کر گر گیا۔ ۔۔ مامون نے اپنی آدھ کھولی آنکھوں سے دل آویز کو دیکھا جس کا آدھا جسم مٹی سے ڈھک چکا۔ ۔۔ اور ابھی بھی اس پر مٹی ڈالی جا رہی تھی۔ ۔۔
یا اللہ مدد۔ ۔۔۔
مامون نے گہرا سانس لے کر دل سے دعا مانگی۔ ۔۔
آتش منہ پھاڑے مامون کو دیکھتے ہوئے ہنس رہا تھا۔ ۔۔ مامون نے تڑپ کر آخری بار دل آویز کو دیکھا اور پھر مامون کی آنکھیں بند ہونے سے پہلے مامون کو دل آویز کا وہ ہنستا مسکراتا چہرہ نظر آیا۔۔۔۔
