Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Episode 02)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Episode 02)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
مامون سکندر شاہ بابا کے بتائے ہوئے علم کی حفاظت پوری ایمانداری سے کر رہا تھا اب تو گاوں کے کافی لوگ اسی کے پاس آتے تھے اور وہ بھی سب کی مدد بہت خوش اخلاقی سے کرتا تھا۔
مامون سکندر روز کی طرح زکر میں مصروف تھا بہت ہی کم لوگوں کو شاہ بابا کے آستانے کا معلوم تھا اس لیئے وہ زیادہ تر خود ہی دن میں دو تین دفعہ گاوں کا چکر لگا لیتا تھا
مم۔۔ مامون بابا۔ ۔۔
گاوں کا ایک شخص بھاگتا ہوا مامون کے پاس آیا اس کی سانس بھی پھولی ہوئی تھی۔ ۔۔ مامون نے اپنی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا اور سر کے شارے سے اس سے اسکا مسئلہ پوچھا
مامون بابا۔ ۔۔ زینت۔ ۔ مم میری بہن میں نے بتایا تھا نا آپکو اسکی ٹانگوں میں درد ہے ایک ہفتے سے۔ ۔ اسے ہسپتال بھی لے کر گئے تھے ڈاکٹر نے کہا سب ٹھیک ہے بس آرام کریں۔۔۔ مگر آج اسے عجیب سا دورہ پڑا ہے اسکی ٹانگیں ایک ساتھ چپکی ہوئی ہیں وہ حرکت بھی نہیں کر پا رہی ۔۔ مامون بابا آپ چلیں ایک بار اسے دیکھ لیں۔ ۔
اس آدمی نے تفصیل سے اپنی بات کی مامون نے ہاں میں سر ہلا کر جواب دیا اور گہرا سانس لیتا ہوا کھڑا ہو گیا۔
آستانے میں جا کر شاہ بابا کی لکھی ہوئی کتاب اٹھائی اور اس آدمی کے ساتھ چل پڑا تھوڑی ہی دیر میں وہ اس گھر میں داخل ہو گیا
مامون بابا آگئے جگہ بناو ان کے بیٹھنے کی۔۔
زینت کے شوہر اعظم نے آگے بڑھ کر ایک کرسی رکھی۔ ۔ مامون نے سب کو سلام کیا اور وہاں بیٹھ گیا
مامون بابا پتہ نہیں اچانک کیا ہو گیا ہے اسے۔ ۔۔
اعظم فکرمندی سے بولنے لگا
میں خود دیکھ لونگا اعظم بھائی آپ پریشان نہ ہوں۔۔
مامون نے نرمی سے اعظم کی بات کاٹی اور زینت کو دیکھنے لگا
کیا ہوا زینت باجی کہیں درد بھی ہے؟ ؟
مامون نے اب اپنی توجہ زینت پر کی طرف دی
مامون بابا ایسا لگتا ہے جیسے کسی نے میری ٹانگیں باندھ دی ہوں ۔۔ ایک دوسرے سے چپک کر رہہ گئی ہیں۔۔محسوس ہی نہیں ہوتا کے ٹانگیں ہیں بھی یا نہیں۔ ۔ درد تو کہیں نہیں ہے۔ ۔
زینت نے پریشانی سے کہا۔ ۔ مامون کو لگا جیسے وہ یہ باتیں پہلے بھی سن چکا ہو مگر کہاں اسے یاد نہ آیا۔ ۔ اس نے بس سر ہلایا اور آنکھیں بند کر لیں سب ہی خاموشی سے اسے دیکھنے لگے۔ ۔
آنکھیں بند کرتے ہی مامون کو اپنے باپ کی شکل نظر آئی۔ ۔ اسے ایک دم یاد آیا اس کے باپ کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ ۔ پھر وہ اپنے منہ ہی منہ میں کچھ پڑھنے لگا۔ ۔ اسے اپنی ماں کی شکل نظر آئی وہ بھی ٹانگیں تھامیں کچھ اسی طرح بول رہی تھیں۔ ۔ جیسے زینت نے ابھی بولا تھا۔ ۔ وہ مزید کچھ پڑھنے لگا۔ ۔۔ اب اسے ایک عجیب سی چیز نظر آئی مگر وہ اسے پہچان نہیں پایا شاید وہ کوئی خوفناک مخلوق تھی۔ ۔ مامون بنا کسی خوف کے زکر کرتا رہا پھر اسے احساس ہوا کے اس خوفناک چیز نے انسان کی شکل لے لی ہے اور وہ بہت ہی بے ڈھنگے انداز میں قہقہے لگا کر ہنس رہا ہے۔ ۔ اس انسان کی شکل واضح طور پر مامون کو نظر نہیں آئی۔۔ مگر تھوڑی دیر بعد مامون کو ایک بہت بھاری آواز سنائی دی
مرے گی یہ بھی کچھ بھی کر لو یہ بچنے والی نہیں ہاہاہاہا۔ ۔۔
وہ آواز اتنی بھاری تھی کے مامون کو لگا اس کے کان کے پردے پھٹ جائیں گے ۔۔ مامون نے گھبرا کر آنکھیں کھولیں تو سب ہی خوف زدہ سے ہو کر مامون کو دیکھ رہے تھے۔۔۔ مامون نے دو تین گہرے گہرے سانس لیئے اور پھر خاموش ہو کر غور کرنے لگا اب اسے سمجھ آنے لگی کے زینت پر بھی بلکل ویسا ہی جادو ہوا ہے جیسا اس کے ماں باپ پر ہوا تھا۔ ۔ غصے کی ایک لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی۔ ۔ خاموشی سے اپنی کیفیت پر قابو پا کر اس نے سب کو دیکھا جو اسی کے بولنے کے منتظر تھے
فکر کی بات نہیں ہے اعظم بھائی۔ ۔ میں آج سے ہی زینت باجی کے لیئے زکر شروع کر دونگا اگر اللہ نے چاہا تو بہت جلد یہ صحت یاب ہو جائیں گی۔ ۔
مامون نے صرف زینت کو تسلی دینے کے لیئے یہ بات کہی تھی ورنہ وہ جانتا تھا کے یہ کتنا خطرناک جادو ہے
شکر اللہ کا۔ ۔ میں بہت ڈر گیا تھا۔ ۔ اللہ آپکا ساتھ دے مامون بابا ۔۔
اعظم کو جیسے مامون کی بات سن کر اطمینان ہوا
آپ سب بس دو تین کام کریں۔۔ چاروں قُل ہر دو گھنٹے بعد پڑھ کر زینت باجی پر پھونک دیا کریں۔ ۔ اور زینت باجی آپ بھی جتنا زیادہ ہو سکے چاروں قُل پڑھ کر اپنے پر دم کرتی رہیں ۔۔ انکے آس پاس قرآن پاک لازمی رکھیں اور باوضو رہیں باقی میں بھی کوشیش کرتا ہوں اللہ کا حکم ہوا تو سب ٹھیک ہو جائے گا۔ ۔
مامون نے تفصل بتائی اور پھر کھڑا ہو گیا
ارے مامون بابا کہاں چلے چائے رکھی ہوئی ہے آپکے لیئے۔ ۔۔
زینت کے بھائی نے اسے روکتے ہوئے کہا
نہیں دلاور بھائی بس میں اب چلوں گا ۔۔ کوئی بھی مسئلہ ہو مجھے بتائیے گا۔۔۔
مامون نے سنجیدگی سے کہا اور اعظم کو اپنے ساتھ آنے کا کہا۔۔ اعظم اس کی آنکھوں کا اشارا سمجھتے ہوئے اسکے ساتھ چلنے لگا
اعظم بھائی ویسے تو اللہ ہر چیز پر قادر ہے مگر۔ ۔۔ زینت باجی پر میرے علم کے مطابق کسی نے بندش کروائی ہے۔ ۔ اب آپ اپنے آس پاس دیکھیں کون ہے جو یہ کروا سکتا ہے؟ ؟ باقی میں بھی اپنے علم کی حدود میں رہتے ہوئے خود بھی معلوم کرنے کی کوشیش کرونگا۔ ۔ آپ بس اللہ کے کلام پر یقین رکھیں اور زکر کرتے ہیں۔ ۔۔ ان شاءاللہ جلد ٹھیک ہو جائیں گی۔۔۔
مامون نے بہت طریقے سے زینت کے بارے میں بتایا۔۔ اعظم ایک دم پریشان ہو گیا
مم مامون بابا کون کرواسکتا ہے۔ ۔ اس گاوں میں تو ہمارے بہت سے سجن بھی ہیں دشمن بھی کس کس پر شک کروں ۔۔
اعظم نے جزباتی انداز میں کہا
اعظم بھائی جزبات سے کام نہیں لینا۔ ۔ کل میں پھر آونگا۔ ۔ جب تک آپ وہ کریں جو کہا ہے۔ ۔ باقی اللہ مالک ہے اس سے دعا کریں میں بھی کرونگا۔ ۔
مامون نے اعظم کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر تسلی دی اور ہاتھ ملا کر وہاں سے چلا گیا۔ ۔۔ پورے راستے وہ سوچتا رہا کے اس بار وہ کسی کو اسطرح کی موت مرنے نہیں دے گا۔ ۔ اسے بہت عرصے بعد آج شدت سے اپنے ماں باپ کی یاد آئی تھی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تمہارے سلیم ابا کا فون آیا تھا کل وہ آرہا ہے دل آویز کے ساتھ۔ ۔۔ گھر کی صفائی کر لو میں زرا بازار سے کھانے کا سامان لے آوں شہر کی بچی ہے چاول مرغی ہی کھاتی ہو گی۔ ۔
رشیدہ نے اپنی بیٹی سمن سے کہا
ہیں ں ں۔۔۔۔ واقی اماں جی دل باجی آرہی ہیں یوں اچانک۔ ۔۔
سمن نے خوشی سے چیختے ہوئے کہا۔ ۔ سلیم نے دل کے بارے میں اتنا کچھ بتایا تھا کے وہ بیچین تھی دل آویز سے ملنے کے لیئے۔ ۔۔
ہاں اس کی ماں کہاں آنے دیتی ہے لاہور گئے ہوئے تھے مجھے بھی آج ہی بتایا کے وہاں سے آرہے ہیں گاوں۔۔ اب کسی کو بتانا مت بس۔ ۔
رشیدہ بھی خوش تھی اس کے آنے سے انہوں نے اپنی چادر پہنی
اچھا اماں چاول کے ساتھ ساتھ کوئی چپس اور بسکٹ بھی لیتی آنا انہیں پسند ہے۔ ۔ میں جب تک صفائی کرتی ہوں۔ ۔
سمن نے باہر جاتی ہوئی رشیدہ سے کہا
ہاں ہاں سب لاونگی۔ ۔ تم دروازہ بند کر لو ۔۔
رشیدہ نے اونچی آواز میں جواب دیس اور گھر سے باہر چلی گئیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹے اثرات کا علاج تو مامون اب کافی اچھے سے کر لیتا تھا مگر جادو کا توڑ اس نے آج تک نہیں کیا تھا۔ ۔ نہ ہی اسے شاہ بابا ایسا کوئی علم دے کر گئے تھے۔ ۔ اسکے باوجود وہ اپنی پوری کوشیش کر رہا تھا کے زینت باجی کو اس تکلیف سے نکال سکے۔۔ پوری رات وہ شاہ بابا کی دی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا۔۔۔ کافی کچھ اسے معلوم ہوا تھا اس نے بنا کوئی وقت ضائع کیئے بغیر ہی اپنا زکر شروع کر دیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
واو بابا دیکھیں نا کتنی پیاری لگ رہی ہیں یہ فصلیں۔ ۔ آئی لوو دس۔ ۔۔
دل آویز سلیم سے باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے موبائل سے مسلسل تصویریں بنا رہی تھی۔ ۔ ہرے بھرے کھیت دیکھ کر وہ بہت خوش تھی۔
ہاں میری جان ابھی دیکھنا آگے کچے مٹی کے گھر بھی نظر آئیں گے۔ ۔ بہت اچھے لگے گے وہ بھی تمہیں ۔۔
سلیم نے ہنستے ہوئے کہا
سیریسلی بابا۔ ۔ تو کیا جس گھر میں ہم جا رہے ہیں وہ بھی مٹی کا ہوگا؟
دل آویز نے خوشی سے پوچھا
ہاں بلکل چھوٹا سا ہے مگر بلکل ویسا ہی ہے جیسا تم دیکھنا چاہتی ہو۔۔۔۔
سلیم جانتے تھے کے دل آویز نیٹ سے گاوں کے گھروں کی تصوریریں دیکھتی رہی ہے
اوہ بابا آئی ایم ویری ایکسائیٹڈ۔ ۔
دل آویز نے اپنے بال سمیٹتے ہوئے کہا۔ ۔ اور واقعی تھوڑی دیر بعد چھوٹے مگر خوبصورت مٹی کے گھر بنے نظر آئے۔ ۔۔ تقریباً سب ہی گھروں کے باہر بکریاں اور بھینسیں بندھی ہوئی تھی۔ ۔ دل آویز بس اپنا موبائل فون نکالے ویڈیو بنا رہی تھی کے اچانک اسے فون کی بیٹری لو ہو گئی
اوف ہو۔ ۔۔ ایک تو فون بند ہو گیا ہنہ۔ ۔
دل آویز نے اکتا کر فون اپنے بیگ میں رکھا
کوئی بات نہیں بیٹا ہم یہاں ہفتہ رکیں گے بناتی رہنا یہ سب۔ ۔۔ ویسے بھی گھر آنے والا ہے۔ ۔۔
سلیم نے اسے تسلی دی اور تھوڑی ہی دیر میں وہ لوگ اپنے مطلوبہ گھر کے سامنے موجود تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
گھر میں داخل ہوتے ہی دل آویز حیران رہہ گئی پورا گاوں ہی اس کے استقبال کے لیئے کھڑا تھا جبکے صبح کے نو بج رہے تھے۔ ۔۔ سب ہی اپنے کام چھوڑ کر دل آویز سے ملنے رشیدہ کے گھر جمع تھے۔ ۔ دل آویز بھی بہت خوشی خوشی سب سے مل رہی تھی
اچھا اب دل باجی کو بیٹھنے بھی دیں آپ لوگ۔۔ سفر کر کے آئیں ہیں آئیں دل باجی یہاں بیٹھیں۔ ۔
سمن اسے ایک کمرے میں لے آئی جہاں ایک چھوٹا سا صوفہ پڑا ہوا تھا۔ ۔ دل بھی ریلکس ہو کر اس صوفے پر بیٹھ گئی
آپکو پتا ہے دل باجی سلیم ابا آپ کے بارے اتنا کچھ بتاتے تھے مجھے آپکی باتیں سننے میں بہت مزا آتا تھا۔۔
سمن جو لگ بھگ دل آویز کی ہم عمر تھی اس سے بہت متاثر نظر آرہی تھی
اچھا بابا بھی نا بس۔ ۔ مگر مجھے تم سب کا نہیں پتا چلو اب تم سب بھی اپنا نام بتاو باری باری۔ ۔
دل آویز نے مسکرا کہا۔ ۔ سب ہی چھوٹی بڑی لڑکیاں شرماتے ہوئے اپنا نام بتانے لگیں۔ ۔ دل آویز سب سے اسطرح فرینک ہو گئی جیسے بہت دفعہ مل چکی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شام ہوتے ہی مامون خود اعظم کے گھر آگیا۔ ۔ اعظم نے فوراً اسے کمرے میں بیٹھایا۔ ۔۔۔ زینت کی حالت اب بھی ویسی ہی تھی۔۔۔
اعظم بھائی میں چاہتا ہوں تھوڑی دیر یہاں بیٹھ کر خاموشی سے زکر کروں۔ ۔ آپ سب خاموش رہیئے گا پلیزز۔ ۔
مامون نے اعظم، دلاور اور زینت کی ساس کی طرف دیکھ کر کہا۔ ۔ سب نے سر ہلا کر جواب دیا۔ ۔ مامون آنکھیں بند کرتے ہوئے زکر کرنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سمن بابا کہاں ہیں؟ ؟
دل آویز کو سمن نے سونے کے لیئے لیٹایا تھا مگر اسے خوشی کے مارے نیند ہی نہیں آرہی تھی وہ تھوڑی ہی دیر میں اٹھ کر پھر سے باہر آگئی
سلیم ابا تو اعظم بھائی کے گھر گئے ہیں مامون بابا سے ملنے۔ ۔
سمن نے ٹماٹر کاٹتے ہوئے بتایا
ہیں ں ں۔ ۔ یہ مامون بابا کون ہیں۔ ۔
دل آویز نے حیران ہو کر پوچھا
ارے بہت پہنچے ہوئے بابا ہیں ۔۔۔
سمن نےراز داری سے بتایا
کہاں پہنچے ہوئے ہیں؟
دل آویز نے نا سمجھی میں کہا
ارے مطلب بہت علم والے ہیں۔ ۔ یہاں گاوں میں کسی کو بھی کوئی دورہ پڑتا ہے نا تو انکی ایک پھونک سے ٹھیک ہو جاتا ہے۔ ۔۔
سمن نے اسے سمجھانے کی کوشیش کی۔ ۔ مگر دل آویز بے اختیار ہی زور زور سے ہنسنے لگی
ہاہاہاہا۔ ۔۔ واٹ ایک پھونک سے۔ ۔ او مائی گاڈ۔ ۔ مجھے دیکھاو اس بابا جی کو ایسا کیا ہے انکی پھونک میں۔ ۔
دل آویز نے مزاق اڑیا
نہ باجی۔ ۔ ایسے نہ بولیں بہت اچھے اور نیک ہیں مامون بابا۔ ۔
سمن نے شرما کر کہا
پاگل ہو کیا یہ بابے وابے کچھ نہیں ہوتے صرف بیوقوف بناتے ہیں تم جیسے معصوم لوگوں کو۔ ۔۔ ہمارے شہر میں تو ایسے بابوں کو پکڑ میں جیل میں ڈال دیتے ہیں۔ ۔
دل آویز نے منہ بناتے ہوئے کہا
توبہ کریں دل باجی ایسے نہ کہیں مامون بابا کو ۔۔ وہ اسطرح کے بابا جی نہیں ہیں وہ تو بس اللہ کے بندوں کی مدد کرتے ہیں۔ ۔۔
سمن کو دل کی بات سن کر برا لگا تھا
اچھا چلو ٹھیک ہے تم ایک بار مجھے اپنے اس بابا جی سے ملوا تو دو اٹھو نا۔ ۔
دل سمن کو بازو سے پکڑ کر اٹھانے لگی
اچھا رکیں تو کیا کر رہی ہیں ابھی تو وہ زکر کر رہے ہونگے۔ ۔
سمن نے اسے روکنا چاہا مگر وہ اب روکنے والی نہیں تھی زبردستی سمن کو گھسیٹتے ہوئے باہر لے گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارے دل آویز باجی آپ۔ ۔۔ بیٹھیں نا یہاں۔ ۔
زینت کی نند نے دل کو دیکھا تو مسکرا کر کہا
نہیں میں ٹھیک ہوں ایسے ہی۔ ۔ ۔ وہ جو بابا جی یہاں آئے تھے وہ چلے گئے؟
دل نے بے صبری سے پوچھا۔ ۔ اسے بہت جلدی تھی شاید بابا جی دیکھنے کی
آپ مامون بابا کی بات کر رہی ہیں؟ وہ تو زینت باجی کو دم کر رہے ہیں۔ ۔
زہنت کی نند نے بتایا
اوہ اچھا تو بس مجھے اس روم میں لے جاو۔ ۔ میں کچھ بولونگی نہیں۔۔۔ مجھے ایسے بابا دیکھنے کا بہت شوق ہے نا۔ ۔
دل آویز نے ایسے کہا جیسے کوئی عجوبہ دیکھنا ہو۔ ۔۔ وہ سمجھ رہی تھی کے کوئی لمبی داڑھی اور ہرے رنگ کے لباس میں بابا دیکھنے کو ملے گا
ارے مگر ابھی تو اماں نے منع کیا ہے کوئی اندر نہیں جا سکتا۔ ۔
زینت کی نند نے اسے منع کرنا چاہا
کچھ نہیں ہوتا تمہارے بابا کو میں کھا تھوڑی جاونگی۔ ۔ بس ایک تصوریر لونگی۔ ۔ اچھا چلو اب مجھے لے کر چلو۔ ۔
دل آویز بلکل ضدی بچوں کی طرح ضد کرنے لگی اور اسے پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئی۔ ۔ مجبوراً زینت کی نند کو اسے اس روم میں بھیجنا پڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روم میں آکر دل آویز نے چاروں طرف نظریں دھوڑائیں مگر اسے ویسا بابا کہیں نہیں نظر آیا جیسا وہ سوچ کر آئی تھی
کیا وہ تمہارے بابا جی غائب ہو گئے۔ ۔۔
اپنی طرف سے دل نے بہت ہلکی آواز میں سب سے کہا تھا مگر روم میں بیٹھے سب لوگ ہی چونک کر دل آویز کو دیکھنے لگے۔ ۔ دل آویز ایک دم شرمندہ ہو گئی
اوہ وہ ایکچولی میں بابا جی کو دیکھنے آئی تھی صرف۔۔ مگر یہاں تو کوئی بابا وابا نظر ہی نہیں آرہا۔ ۔ کیا وہ چکے گئے۔ ۔
دل نے معصوم بنتے ہوئے پوچھا۔ ۔ مامون نے دل کی آواز سنی تو تو بہت آہستہ سے اپنی آنکھیں کھول کر آواز کی سمت دیکھا۔ ۔۔ دل آویز آنکھیں مٹکا مٹکا کر سب کو دیکھ رہی تھی۔ ۔ مامون نے اپنی آنکھیں چھوٹی کر کے حیران ہونے کا تاثر دیا۔ ۔ کیونکے وہ پہلی بار دل آویز کو دیکھ رہا تھا
دل بیٹا آپ باہر جاو ابھی مامون بابا مصروف ہیں۔ ۔
اعظم نے جلدی سے مامون کی طرف دیکھا اور پھر دل سے کہا
مامون بابا۔۔ ہیں کہاں؟؟ مجھے تو یہاں کوئی بابا نظر نہیں آرہا کیا تمہیں نظر آرہا ہے سمن؟ ؟
دل آویز نے اکتا کر کہا۔ ۔ نا چاہتے ہوئے بھی مامون بہت ہلکا سا مسکرا دیا
میں ہوں مامون بابا۔ ۔۔
سمن کے جواب دینے سے پہلے ہی مامون نے اپنی بھاری آواز میں جواب دیا۔ ۔۔ حیرت کے مارے دل کا منہ کھل گیا۔ ۔۔ وہ تو کسی بہت ہی عمر رسیدہ انسان کو بابا سمجھ رہی تھی مگر مامون تو کہیں سے بابا نہیں لگ رہا تھا مامون دل آویز کو دلچسپی سے دیکھنے لگا
آ آپ۔ ۔۔ آپ کہاں سے بابا ہیں اتنے ینگ ہیں آپ تو۔ ۔ اففف۔ ۔۔
اپنی حیریت پر قابو کرتے ہوئے دل نے بہت مشکل سے کہا
مامون نے کوئی جواب نہ دیا بس ہلکا سا مسکرا کر سر جھکا لیا۔ ۔۔
