Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Episode 17)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Episode 17)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
دل آویز تو پُرسکون ہو کر سو گئی مگر مامون اس کے پاس بیٹھ کر اپنی عبادت کرتا رہا۔ ۔ مامون کے پاس دوسرا کوئی پلنگ نہیں تھا۔ ۔ اور زیادہ دیر بیٹھنے سے اسکے زخم میں پھر سے درد ہونے لگا تھا۔ ۔۔ اُس نے ایک نظر سوئی ہوئی دل آویز پر ڈالی اور خود اپنی چادر نیچے بچھا کر لیٹ گیا۔ ۔
















اب کیا کرنا ہے آتش بابا وہ دونوں تو مزے سے رہ رہے ہیں۔ ۔۔ ہنہ مامون کی تو لاٹری نکل آئی ۔۔۔ سوچا تھا کے دل کے ماں باپ بدزن ہو جائیں گے مگر الٹا اپنی بچی کی شادی اسی سے کر دی۔۔ بے شرم کہیں کے۔ ۔۔۔
رضیہ نے نفرت سے کہا
ہاہاہاہا تجھ جیسی عورتیں بس اسی بات سے جلتی ہو۔ ۔۔ دو دن کے مزے ہیں اُس کے۔ ۔۔ پھر سر پکڑ کر روئیں گے سب کے سب۔ ۔۔ ہاہاہا۔ ۔۔ نظر رکھ اُس کی ماں پہ یقینً وہ اپنی بچی سے ملنے جائے گی۔ ۔۔
آتش نےاپنے مخصوص طریقے سے کہا
ہمممم میری نظریں اسی پر ہیں ۔۔۔ آپ جیسا حکم کریں گے میں ویسا کرونگی۔ ۔۔
رضیہ نے سر جُھکا کر کہا
شاباش۔ ۔۔ تجھے بہت کچھ ملے گا اس سب کے بدلے۔ ۔۔ گاوں والے تیرے محتاج ہو جائیں گے۔ ۔ ڈریں گے لوگ تجھ سے جیسے مجھ سے ڈرتے ہیں۔۔۔۔
آتش نے رضیہ کا ہاتھ پکڑ کر اس کی کلائی میں دھاگا باندھا۔۔۔ اور پھر اس پر پانی چھڑکنے لگا
جا اب تجھے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تو میرے حسار میں ہے۔۔۔
آتش نے پورے پانی کا چھڑکاو کر کے کہا
مہربانی آتش بابا میں ساری زندگی آپکی غلام بن کر رہوں گی۔۔۔
رضیہ سر جھکائے خوشی سے کہا
















صبح فجر کی نماز سے پہلے مامون نے دل آویز کو اٹھانے لگا
اٹھیں دل آویز۔ ۔۔ وضو کر لیں آزان کا وقت ہونے والا ہے۔۔۔
وہ بہت نرمی سے دل کے بالوں میں انگلیاں چلاتے ہوئے اسے اٹھا رہا تھا
ہممم کونسی نماز۔۔۔؟؟؟
دل نے بہت مشکل سے آنکھیں کھول کر پوچھا
فجر کی نماز ۔۔آپ وضو کر لیں تاکے میں بھی نماز کے لیئے تسلی سے جا سکوں۔۔۔
مامون نے مسکرا کر کہا
مگر مجھے تو بہت نیند آرہی ہے۔۔۔
دل آویز نے منہ بنا کر کہا
یہ نیند نہیں ہے غفلت ہے۔۔ کوشیش کریں ایک بار اٹھنے کی۔۔ وضو کرنے کی دیر ہے پھر دیکھنا یہ نیند کیسے بھاگ جائے گی۔۔۔
مامون نے اسکا ہاتھ پکڑ کر اسے بیٹھایا
امممم اتنے دنوں بعد تو اچھی سی نیند آئی تھی سونے دیتے میں اٹھ کر پڑھ لیتی۔۔۔
دل آویز نے سستی سے کہا
میری پیاری دل آویز۔۔۔ جو نیند نماز قضا کروا دے وہ اچھی کیسے ہو سکتی ہے؟ اور پھر اس بات کی بھی تو کوئی گرانٹی نہیں کے اٹھنا بھی نصیب ہوتا ہے یا نہیں۔۔
مامون نے دل کے گالوں کو بہت محبت سے چھوا
تو آپ یہ کہنا چاہ رہے ہیں کے میں مرنے والی ہوں۔۔؟؟
دل آویز نے اپنی آنکھیں رگڑتے ہوئے پوچھا
اللہ نہ کرے۔۔۔
مامون نے فوراً اسے ٹوکا
کیوں اتنی پیاری آنکھوں کو تکلیف دے رہی ہیں چلیں شاباش وقت نکل رہا ہے مجھے مسجد بھی جانا ہے ۔۔۔
مامون نے اسکے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا تاکے وہ دوبارا آنکھیں نہ رگڑے
واٹ مسجددد۔۔ تو کیا میں یہاں اکیلی رہوں گی نن نہیں مجھے ڈر لگے گا میں آپکے ساتھ جاوں گی۔۔۔
دل آویز نے ڈر کر کہا
یہاں آپ اکیلی نہیں ہیں بلیو می۔۔ اور پھر اللہ تو ہر جگہ ہوتا ہے نا۔۔ اسی لیئے کہہ رہا ہوں وضو کریں نماز ادا کریں ڈر بھی نہیں لگے لگا۔۔۔ پلیززز گیٹ اپ۔۔۔
مامون نے اسے تھوڑا سا اپنی طرف کھینچ کر کھڑا کیا
مم مگر وہ کوئی پھر سے آگیا مجھے مارنے تت تو میں۔۔۔
دل آویز نے خوفزدہ نظروں سے مامون کو دیکھا
کوئی نہیں آ سکتا یہاں۔۔ یاد ہے آپکو آپ تو بہت بہادر تھیں آپ نے کہا تھا کے آپکو اس جنگل میں کیمپنگ کرنی ہے۔۔۔؟؟
مامون اسے باتوں میں لگائے واشروم کی طرف لیجانے لگا
ہمم وہ تو یاد ہے۔۔۔
دل آویز نے سوچتے ہوئے جواب دیا
تو پھر اب کیا ہوا وہی جنگل ہے یہ۔۔ اور اللہ نے آپکو ایک رات نہیں بلکے بہت سی راتوں کا موقع دیا ہے کے یہاں رہ کر انجوائے کریں۔۔
مامون نے مسکرا کر کہا
مگر اُس وقت کی بات کچھ اور تھی۔۔۔
دل آویز نے اداسی سے کہا
یہاں دیکھیں میری طرف۔۔۔
مامون نے اپنے ہاتھوں سے اسکے چہرے کا رخ اپنی طرف کیا
کیا مجھ پر بھروسا ہے؟
مامون نےا سکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
جی ہے۔۔
دل آویز نے فوراً جواب دیا
تو پھر ڈر اور خوف کو دور کر لیں۔۔ جب تک میں زندہ ہوں نا آپکو کسی بھی چیز سے نہیں ڈرنا۔۔۔ ہممم۔۔؟
مامون مسکرا کر پوچھا
ہممم ٹھیک ہے۔۔۔
دل آویز نے بھی مسکرا کر جواب دیا
ماشاءاللہ بہت پیاری مسکراہٹ ہے آپکی تو۔۔۔
مامون نے بے اختیار ہی نرمی سے اسکے مسکراتے لبوں کو چھوا
آممم وو وہ میں وضو کرنے جاوں۔۔۔
دل آویز اسکے چھونے پر گھبرا گئی اور بلاوجہ اِدھر اُدھر دیکھنے لگی۔ ۔ مامون اسکے لال ہوتے چہرے کو دیکھ کر مسکرانے لگا
جی جائیں اور نماز پڑھ کر وہ جو سامنے تسبیح رکھی ہے اس پر جو آپکو اللہ کا نام یاد ہو وہ ورد کرئیے گا۔ ۔ جب تک میں نماز ادا کر کے آتا ہوں۔ ۔۔
مامون بات مکمل کرتے ہی وہاں سے چلا گیا۔ ۔ جب کے دل آویز اپنے دل کو سنبھالتے ہوئے چھوٹے سے واشروم میں چلی گئی۔
















دل کیسی ہے مامون اور تم اسے اکیلا کیوں چھوڑ آئے؟
سلیم نے نماز ادا کرتے ہی مامون سے پوچھا
وہ بلکل ٹھیک ہے۔ ۔ اور اب اِسی طرح اُسے اِس ڈر سے نکالنا ہوگا۔۔ ۔ یہ ڈر ہی ہے جو انسان کو اسکی موت سے پہلے مار دیتا ہے۔ ۔ اس لیئے بہتر ہے وہ کچھ دیر اکیلی رہ کر اپنا ڈر دور کریں۔ ۔ باقی آپ پریشان نہ ہوں وہاں اسے کوئی خطرہ نہیں۔ ۔ جتنی فکر آپکو اسکی ہے اتنی مجھے بھی ہے۔ ۔۔
مامون نے سلیم تو تسلی دی
بس ساری رات اس کے بارے میں ہی سوچتا رہا ۔۔۔ اللہ کرے وہ ٹھیک ہو جائے جلد از جلد۔ ۔۔ کیسے رہی گی وہ ایک ویران جنگل میں۔ ۔ وہ تو محفلوں کی عادی ہے۔ ۔
سلیم نے دکھ سے کہا
محفلوں کا عادی نہیں ہونا چاہیئے سلیم انکل۔ ۔ بنا کسی مقصد کی محفلیں تو دل کو مردہ کر دیتی ہیں۔ ۔ تنہائی ہی انسان کی اصل ساتھی ہے۔ ۔ وہ تنہا آیا تھا اور تنہا جائے گا۔ ۔ اس تنہائی سے ڈرنا نہیں چاہیئے۔ ۔۔
مامون نے نرمی سے سمجھایا سلیم ہاں میں سر ہلانے لگے
وہ تم ٹھیک کہ رہے ہو مگر باپ ہوں نا۔ ۔ بیچینی تو ہو گی۔ ۔۔
بیشک ہو گی میں سمجھ سکتا ہوں۔ ۔ بس آپ خود کو یہ سوچ کر تسلی دیں کے اب وہ اُسکی حفاظت میں ہے جو ستر ماوں سے بھی زیادہ پیار کرتا ہے۔ ۔۔
مامون نے کہا
شکریہ مامون ۔۔۔ کوشیش کرونگا کے میرا ایمان بھی تمہاری طرح مضبوط ہو جائے۔ ۔۔ یہ ڈر اور یہ خوف نکل جائے۔ ۔۔
سلیم نے سر ہلاتے ہوئے کہا
مامون بابا یہ آپ دونوں کے لیئے ناشتا ہے ۔۔ آج ہماری طرف سے ناشتا کر لیں۔ ۔۔
اعظم بھاگتا ہوا مامون کے پاس آیا اور ناشتے کا سامان اُسکی طرف بڑھایا
ارے اعظم بھائی اس سب کی کیا ضرورت تھی۔ ۔ بہت شکریہ آپکے خلوص کا۔ ۔۔
مامون نے مسکرا کر شکریہ کیا
کوئی مسئلہ نہیں ہے مامون بابا آپ کا کھانا بھی میں ہی بھجوانگا۔ ۔۔
اعظم نے سر جھاکا کر کہا
نہیں اعظم بھائی کھانا میں خود بنا لونگا۔ ۔ آپ پلیزز زحمت نہیں کریئے گا ویسے بھی میں چاہتا ہوں باہر سے کچھ نہ ہی آئے تو بہتر ہے۔ ۔ کچھ پتا نہیں کتنے دشمن آس پاس گھوم رہے ہیں۔ ۔۔
مامون نے سنجیدگی سے منع کیا
او اچھا۔ ۔ جیسے آپکو بہتر لگے مامون بابا ۔ ۔۔
اعظم نے ہاں میں سر ہلا کر کہا
میں تو خود سوچ رہا تھا کے کھانا بھی لے آونگا اور مل بھی لونگا دل سے۔ ۔ ۔
سلیم نے مامون سے کہا
سلیم انکل آپ ملنے آئیں موسٹ ویلکم مگر کچھ لائیں مت۔ ۔۔ بس کچھ عرصے تک احتیاط کریں اس کے بعد جیسے آپکا دل کرے آپ کریں۔ ۔
مامون نے جواب دیا
ہممم ٹھیک ہے چلو اب تم جاو فل حال دل کے پاس وہ انتظار کر رہی ہو گی تمہارا۔ ۔۔
سلیم نے مامون کے کندھے تھپتھپا کر کہا
جی میں چلتا ہوں۔ ۔ اللہ نگہبان۔ ۔۔
مامون نے دونوں سے ہاتھ ملایا اور چلا گیا
















ہنہ پہلے تو اعظم خود ناشتا لے کر جا رہا تھا۔ ۔ اب اس نے مامون کو کیوں دے دیا ناشتا۔۔۔۔
رضیہ نے غصے سے اپنے سامنے کھڑے ایک گاوں کے شخص سے کہا
مم مجھے کیا پتا رضیہ باجی میں نے جو دیکھا بتا دیا۔ ۔۔
اس شخص نے ڈرتے ہوئے جواب دیا
اچھا اب جا نظر رکھ سلیم پر وہ کب جائے گا دل سے ملنے۔ ۔ یہ پکڑ پیسے ۔۔ اچھی خبر لائے گا تو اس سے ڈبل دونگی۔ ۔۔
رضیہ نے اس شخص کے ہاتھ میں چند ہزار رکھ کر کہا
بب بہت شکریہ۔ ۔ مولا خوش رکھے جی۔ ۔۔
وہ شخص پیسے دیکھ کر خوش ہو گیا اور وہاں سے چلا گیا۔
















اسلام و علیکم۔ ۔۔
مامون نے اپنے آستانے میں آکر دل آویز کو سلام کیا
والیکم و اسلام۔ ۔۔
دل نے مسکرا کر جواب دیا
ہمم کیا سوچا جا رہا تھا۔ ۔؟؟
مامون نے ہاتھ میں پکڑا ناشتے کا سامان سائیڈ پر رکھا
کچھ خاص نہیں ویسے ہی سوچ رہی تھی زندگی کتنی جلدی بدل جاتی ہے نا۔ ۔۔ یہاں آتے وقت سوچا بھی نہیں تھا کے یوں اسطرح زندگی یہیں گزرنے لگے گی۔ ۔ ماما کو جتنی اس جگہ سے نفرت تھی اللہ نے ونہیں آنے پر مجبور کر دیا اُنہیں۔ ۔۔
دل آویز نے سوچتے ہوئے کہا
ایسا ہی ہوتا ہے۔ ۔۔ جس چیز سے ہم دور بھاگ رہے ہوتے ہیں وہ تیزی سے ہمارا پیچھا کرتی ہوئی ہمارے سامنے آجاتی ہے۔۔۔ اور پھر اللہ کہتا ہے کے ہو گا وہی جو میں چاہوں گا۔ ۔ ہم انسان اس کے سامنے بے بس ہیں۔ ۔۔
مامون دل آویز کے سامنے بیٹھ کر اسے سمجھانے لگا
ہممم واقعی۔۔ ویسے آپکی باتیں کافی اچھی ہیں۔ ۔ مجھے واقعی ڈر نہیں لگا آج۔ ۔۔ ۔
دل آویز نے مامون کو دیکھتے ہوئے کہا
دیکھا میجک۔ ۔۔
مامون نے ہنستے ہوئے کہا
ویسے آپکو تو مجھ پر یقین ہی نہیں تھا۔ ۔ دیکھیں آج آپ میرے پاس ہیں۔ ۔
مامون اسے تنگ کرنا چاہا
زیادہ خوش فہم مت بنیں۔ ۔ مجبوری میں آئے ہیں ہم۔ ۔۔
دل آویز نے اترا کر کہا
اممم ہممم۔۔ آئی تو آپ اپنی مجبوری سے ہیں مگر اب ہم آپکو یہاں سے ساری زندگی جانے نہیں دینگے۔ ۔۔
مامون نے اُسے مزید تنگ کیا
اچھا۔ ۔ لگتا ہے ایک بار پھر آپکو ماما سے ملوانا پڑے گا۔ ۔۔
دل آویز نے اپنی ایک آنکھ دباتے ہوئے چھیڑا
اوہوووو۔ ۔ میں تو بھول ہی گیا۔۔۔ معافی چاہتا ہوں فل حال میرا کوئی ارادہ نہیں اُن سے ملنے کا۔ ۔
مامون نے ہاتھ کھڑے کرتے ہوئے کہا
ہاہاہا اتنا ڈرتے ہیں آپ ماما سے۔ ۔۔
دل آویز کو مامون پر ہنسی آئی مامون نے اسے ہنستے ہوئے غور سے دیکھا
ڈرتا نہیں ہوں آپکی وجہ سے بہت عزت کرتا ہوں انکی۔ ۔ بس کہیں گستاخی نہ ہو جائے اس لیئے چاہتا ہوں ملاقات کم ہو۔ ۔۔
مامون نے جواب دیا
اچھا چلیں مان لیا۔ ۔۔ خیر کیا مجھے کچھ کھانے کو نہیں ملے گا۔ ۔۔؟؟
دل آویز کو اب پراٹھوں کی خشبو آنے لگی
اوہ۔ ۔ آپکی باتوں میں تو میں بھول ہی گیا۔ ۔ یہ اعظم بھائی نے ناشاتا بھجوایا ہے۔ ۔ آپ بیٹھیں میں انہیں پلیٹس میں نکال کر لاتا ہوں۔ ۔۔
مامون نے ناشتے کا سامان لیئے وہاں سے چلا گیا۔ ۔۔
















یہ پانی پکڑ جیسے ہی موقع ملے دل آویز کے کپڑے یا کھانے پر ہلکا سا چھڑکاو کر دینا۔ ۔۔ یہ ہمارا راستہ بنائے گا جنگل میں جانے کا ہاہاہاہا۔ ۔۔
آتش نے ہاتھ میں پکڑی پانی جیسی بوتل رضیہ کو تھامائی
یی یہ ہے کیا آتش بابا اس سے ہو گا کیا؟ ؟
رضیہ نے تجسس کے مارے پوچھا
تجھے اس سے مطلب جو کہا ہے وہ کر بس۔ ۔۔
آتش نے غصے سے اسے گھور کر کہا
معافی چاہتی ہوں۔ ۔۔ جیسا آپ نے کہا ویسا ہو جائے گا۔ ۔
رضیہ نے گھبرا کر کہا
ہمممم اس کام کو بہت احتیاط سے کرنا ہے۔ ۔۔ مامون کے ہاتھ نہ لگے بس۔ ۔
آتش نے سختی سے کہا
جی میں کر دونگی یہ کام۔ ۔۔
رضیہ نے سر جھکا کر کہا
اب جا۔ ۔۔
آتش نے اسے ہاتھ کے اشارے سے جانے کو کہا
رضیہ الٹے پاوں چلتی ہوئی وہاں سے چلی گئی
















مزے کا بنایا ہے ناشتا۔ ۔ ویسے تو میں اتنا ہیوی ناشتا نہیں کرتی پر آج اچھا لگ رہا ہے۔ ۔۔
دل آویز نے کھاتے ہوئے کہا۔ ۔ مامون نے مسکرا کر اسے دیکھا مگر خاموشی سے اپنا ناشتا کرتا رہا
آمممم ماما کبھی اپنے لیئے بناتی تھیں پر مجھ سے نا یہ پورا نہیں کھایا جاتا۔ ۔۔
دل آویز نے منہ نوالا ڈالتے ہوئے کہا۔ ۔۔ مامون اسے بہت پیار سے دیکھ رہا آج اسے دل آویز وہی پورانی والی دل لگی جو نان اسٹاپ بولتی تھی
آپ تو روزانہ یہ ہی ناشتے کرتے ہونگے نا۔ ۔ ؟
دل آویز نے مامون سے پوچھا
جی ہاں۔ ۔
مامون نے مختصر سا جواب دیا
ہاں یہاں گاوں کے لوگ۔ ۔ آہممم آہممم۔ ۔
دل آویز کو ایک دم کھانسی لگ گئی مامون نے جلدی سے پانی کا گلاس بھر کر دل کے منہ کو لگایا
آہمممم۔ ۔۔ اففف حلق میں لگ گیا۔۔۔۔
دل نے پانی پی کر کہا
کھاتے ہوئے بولے گیں تو ایسا ہی ہو گا نا؟ ؟
مامون نے مسکرا کر کہا
کیا مطلب؟
دل آویز نے تیکھے انداز میں پوچھا
کھانا خاموشی سے کھاتے ہیں۔ ۔ تاکے وہاں جائے جہاں اسے جانا ہے۔ ۔ اگر باتیں کریں گیں تو آپکا نوالا راستہ بہک جائے گا اور حلق میں لگ جائے گا اس لیئے یہ سنت بھی ہے کے کھاتے وقت خاموش رہا جائے۔ ۔۔
مامون نے اسے بلکل بچوں کی طرح سمجھایا
تو میں کونسا پہلی بار کھانا کھاتے ہوئے باتیں کر رہی تھی۔ ۔ میں تو اکثر کھاتے ہوئے باتیں کرتی ہوں۔ ۔۔
دل آویز نے کندھے اچکا کر کہا
بہت ہی بہتریں کام کرتی ہیں آپ۔ ۔۔ کوئی انعام ملنا چاہیئے آپکو تو۔ ۔۔
مامون نے مسکراہٹ دباتے ہوئے کہا
ایسی بھی کوئی بات نہیں ہے۔ ۔ میں تو بس یہ بتا رہی تھی کے آج سے پہلے تو کھانسی نہیں آئی اسطرح۔ ۔۔وہ جو آپ مجھے مسکرا مسکرا کر دیکھ رہے تھے نا اسکی وجہ سے آئی ہے مجھے یہ کھانسی۔ ۔۔
دل آویز نے لاپرواہی سے کہا۔ ۔۔۔ مامون سر کُجھانے لگا
اوہ تو میری وجہ سے آپکو کھانسی آئی۔ ۔ آئندہ نہیں دیکھونگا اسطرح کھاتے وقت۔ ۔ ظاہر ہے آپکو تکیلف تو نہیں دے سکتا۔ ۔۔
مامون نے اس کے نزدیک ہوکر کہا
آممم اچھا ناشتا تو پورا کر لیں۔ ۔
دل آویز نے مامون کی نظروں سے گھبرا کر کہا
بس میں کھا چکا آپ کھائیں۔ ۔ کہیں تو میں اپنے ہاتھوں سے کھلا دوں۔ ۔؟؟
مامون نے جھک کر اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا
نہیں شکریہ میں خود کھا سکتی ہوں۔ ۔
دل آویز نے فوراً نوالا توڑنے لگی۔ ۔۔ جبکے مامون کا دل کیا وہ یہیں بیٹھ کر بس دل آویز سے باتیں کرتا رہا۔ ۔۔ مگر ابھی اسے بہت کچھ کرنا تھا۔ ۔۔ وہ سر جھٹک کر دل آویز کے پاس سے اٹھ گیا۔۔۔
