Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pur Israar Mohabat (Episode 08)

Pur Israar Mohabat by Maria Awan

دل آویز اس وقت اونچی کمیز اور گھیر والی شلوار پہنے ہوئے تھی دوپٹا گلے میں لٹک رہا تھا۔ ۔ بالوں کو چھوٹے کلپ سے پیچھے باندھ رکھا تھا۔ ۔ مامون کو دل آویز پر بہت غصہ آیا۔ ۔ مامون نے سوچا کے اس کے سمجھانے کا دل آویز پر کوئی خاص اثر نہیں ہوا جب ہی وہ دوپٹا گلے میں ڈالے ہوئے تھی۔۔

یہ جو چیز ہے نا۔۔۔ گلے میں ڈالنے کے لیئے نہیں ہوتی مس۔ ۔۔ اس سے خود کو ڈھکا جاتا ہے۔ ۔ اس بات کو اگر نہیں سمجھے گیں تو بہت سے اسطرح کے شکاری آپ کی طرف آئیں گے۔ ۔۔

مامون نے دل آویز کے دوپٹے کا پلو پکڑ کر غصے سے کہا

آ آپ کون ہیں۔ ۔۔؟؟

دل آویز نے اٹکتے ہوئے پوچھا اس کا سارا دیہان مامون کی لمنبی پلکوں اور لال آنکھوں پر تھا

آممم۔ ۔۔ آج سے اپنا محافظ سمجھ لیں۔ ۔

مامون نے سر ہلاتے ہوئے کہا

کک کون محافظ۔۔۔ ایکس کیوزمی آپ اپنا چہرہ دیکھائیں اور اپنا ٹھیک طرح سے تعارف کروائیں ۔ ۔۔ ؟؟

دل آویز نے خود کو سنبھالتے ہوئے تیکھے لہجے میں پوچھا

میڈم میں نے آپکی مدد کی ہے آپ بجائے مجھے تھینکس کہنے کے مجھ سے سوال جواب کر رہی ہیں۔ ۔۔

مامون نے بھی اسی لہجے میں جواب دیا

ہاں تو مجھے جب تک صحیح بات پتا نہیں چلے گی میں آپکو تھینکس کیسے کر سکتی ہوں۔ ۔ ہو سکتا ہے آپ نے یہ سب ڈراما خود کیا ہو اور اینڈ ٹائم پر مجھے بچانے آگئے تاکے میں آپ سے متاثر ہو جاوں۔ ۔۔

دل آویز نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا

اوہ۔ ۔۔ کیا سوچ ہے آپکی۔ ۔۔ اگر میں نے آپکو صرف متاثر ہی کرنا ہوتا تو چہرہ دیکھا دیتا یوں گم نام سا ہو کر آپکو متاثر نہ کرتا خیر آپ سے اسی جواب کی امید تھی۔ ۔۔

مامون گہرا سانس لے کر افسوس سے کہا

کیا مطلب امید تھی آپ ہیں کون ؟؟ مجھ سے چہرہ کیوں چھپا رہے ہیں؟ ڈرتے ہیں مجھ سے۔ ۔؟؟

دل آویز نے لڑاکا عورتوں کی طرح پوچھا۔ ۔ ۔ ۔

کیا کروں اسکی تو بتمیزی بھی مجھے پیاری لگتی ہے۔ ۔ مامون دل ہی دل میں سوچتے ہوئے مسکرانے لگا

جناب میں ڈروں گا آپ سے کیا سوچ کر ایسی باتیں کر لیتی ہیں آپ۔ ۔ آپ کے سامنے میں نے ایک اچھے خاصے بندے کو مار مار کر مردہ بنا دیا ہے اور آپ کہہ رہی ہیں میں آپ سے۔ ۔۔

مامون نے دل آویز کو اوپر سے نیچے دیکھتے ہوئی کہا۔۔ دل آویز کو شرمندگی ہونے لگی

خیر اب چلیں یہاں سے اس سے پہلے کے کوئی آ جائے۔ ۔ اور ہاں آئندہ یوں اکیلے آنے جانے سے گریز کریئے گا۔ ۔ جب آپ کی یونی کی بس چلتی ہے تو اس میں گھر جائیں یوں تنہا کسی غیر کے ساتھ جانا مناسب نہیں ۔۔۔

مامون اُس پر روب جماتے ہوئے کہا

ہنہ آپ کون ہوتے ہیں مجھ پر حکم چلانے والے مسٹر۔ ۔۔آپ بھی تو ایک غیر ہی ہیں۔ ۔۔ اور ویسے بھی میری یونی کے پوئنٹس بہت دیر سے چلتے ہیں آج کلاس جلدی ختم ہو گئی تھی اس لیئے میں اکیلے نکل گئی۔ ۔

دل آویز نے ناراضگی سے جواب دیا

تو آپ اپنے گھر سے کسی کو فون کر کے بلا لیتیں۔ ۔۔ اینی ویز بس احتیاط کیا کریں آج کل کے حالات آپ جانتی ہیں۔ ۔

مامون نے اب نرمی سے اسے سمجھانے کی کوشیش کی

بابا کا فون ہی ٹوٹ گیا تھا ورنہ میں انہیں ہی بلاتی کال کر کے۔ ۔۔ خیر تھینک یو آپ صحیح وقت پر آگئے۔ ۔۔

دل آویر نے سر جھکا کر شکریہ کہا اور اپنا بیگ پکڑے چلنے لگی مامون بھی اسکے پیچھے چلنے لگا۔۔ دونوں نے یونی تک کا راستہ خاموشی سے طے کیا

آپ کو کیسے پتا لگا کے میں اس مشکل میں ہوں۔ ۔؟؟ آپ ہیں کون بتا کیوں نہیں رہے۔ ۔۔؟؟

یونی سے تھوڑے فاصلے پر کھڑے ہو کر دل آویز نے دوبارا پوچھا

کیسے پتا کیا۔ ۔ اور ہوں کون۔ ۔ ان سب باتوں کا جاننا میرے خیال سے آپ کے لیئے ضروری نہیں ہے اب آپ اپنی یونی جائیں اور وہاں کی بس چلنے کا انتظار کریں اُس پر گھر جایئے گا اوکے۔ ۔۔

مامون نے سنجیدگی سے کہا اور دل کو دیکھنے لگا۔ ۔ گرمی کی وجہ سے دل کے گال لال ہو رہے تھے ۔۔ مامون کا دل کیا وہ اس کے گالوں کو چھوئے ۔۔۔ مگر فوراً ہی اُس نے سر جھٹکا اور نیچے جھکا لیا

ہنہ عجیب سے انسان ہیں آپ تو۔ ۔۔ ایسا مت کریں پلیزز بتائیں نا آپ کون ہیں میں بلاوجہ بے چین رہوں گی یہ سوچ سوچ کر۔ ۔۔

دل آویز نے منت کی

اچھی بات ہے آپ کو بھی تھوڑا بے چین ہونا چاہیئے خیر میں چلتا ہوں اب۔ ۔۔ اپنا خیال رکھا کریں اللہ حافظ۔ ۔۔

مامون نے معنی خیزی سے کہا اورآخری نظر اس پر ڈالی۔۔

مم مگر۔۔۔۔

دل آویز نے اسے روکنا چاہا مگر مامون دوسری طرف پلٹ کر چلنے لگا۔ ۔۔ دل آویز پیچھے سے پکارتی رہ گئی مگر مامون ان سنی کرتا وہاں سے چلا گیا

یہ کون ہو سکتا ہے۔ ۔ اتنا سنا ہوا اور دیکھا ہوا کیوں لگ رہا ہے۔ ۔ اس کی آنکھیں۔ ۔۔ امممم کون ہے۔ ۔۔۔

دل آویز وہیں کھڑے ہو کر سوچنے لگی

اوہ کہیں یہ مامون بابا۔ ۔۔ آنکھیں ویسی ہی تھیں۔ ۔ مگر وہ یہاں کیسے۔ ۔ نن نہیں وہ اتنی دور سے یہاں آ ہی نہیں سکتا اسے تو راستے بھی نہیں معلوم ہونگے۔ ۔۔

دل آویز دل ہی دل میں سوچتے ہوئے یونی کی طرف چلنے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مامون جسطرح آیا اس طرح خاموشی سے واپس لوٹ گیا۔ ۔ سب سے پہلے وہ اعظم کے گھر زینت کا پوچھنے گیا

ارے مامون بابا آپ آبھی گئے۔ ۔۔

اعظم نے خوشی سے مامون کے گلے لگتے ہوئے کہا

جی شکر اللہ کا۔ ۔۔

مامون نے مسکرا کر جواب دیا

سب ٹھیک تھا نا؟

اعظم نے بیٹھتے ہوئے پوچھا

جی شکر ہے میں بہت وقت پر پہنچ گیا تھا سب ٹھیک رہا آپ بتائیں زینت باجی کسی ہیں؟ ؟

بس وہ تو زندہ لانش سی بن گئی ہے۔ ۔۔ اب تو کوئی بات بھی نہیں کرتی ۔۔ کیا کروں مامون بابا مجھ سے اسکی یہ حالت دیکھی نہیں جاتی۔ ۔۔

اعظم نے اپنی آنکھوں میں آئی نمی صاف کرتے ہوئے کہا

حوصلہ کریں اعظم بھائی آپ کو ہمت اور صبر سے کام لینا ہیں۔ ۔۔ اللہ ہمارا امتحان لیتا ہے۔ ۔ آپ فکر نہ کریں اللہ بہتر کرے گا۔ ۔۔

مامون نے تسلی دی

آئیں زرا زینت باجی کی طبیعت کا پوچھ لوں۔ ۔۔

مامون کھڑے ہوتت ہوئے کہا اعظم بھی اس کے ساتھ کھڑا ہوا اور دونوں زینت کے روم کی طرف چکے گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مامون اپنے آستانے میں آیا تو اسکے ساتھ ہی دل آویز کا خیال بھی اسکے دل میں آیا۔ ۔۔ اسے بچانے کے بعد اور اسے دیکھ لینے بعد مامون کو عجیب سا سکون ملا تھا۔۔۔چپ چاپ بیٹھ کر وہ دل آویز کی باتیں سوچ سوچ کر مسکراتا رہا۔ ۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے اپنا رومال نکالنے الماری کی طرف گیا۔ ۔۔ ہر طرف ڈھونڈ لینے کے باوجود اسے وہ رومال نہ ملا

کہاں چلا گیا یہاں ہی تو رکھا تھا۔ ۔

مامون نے گھبرا کر اپنے سارے کپڑے الماری سے نکال لیئے مگر اسے وہ رومال نہ ملا۔ ۔ مامون نے چونک کر اپنے کپڑوں کو دیکھا وہاں ایک جوڑا کم تھا۔ ۔ مامون کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا اور پھر اسے دلاور اور ارشد کا اپنے پاس آنا یاد آیا۔ ۔ دلاور نے بہانا بنا کر مانون کو آستانے سے نکالا تھا ۔۔

مامون نے اپنی تسبیح اٹھائی اور اپنی زکر والی جگہ پر بیٹھ کر زکر کرنے لگا… ایک ایک کر کے سارے منظر اسے صاف نظر آنے لگے۔ ۔ غصے کی شدت سے مامون کھڑا ہو گیا

اوہ دلاور بھائی آپ میری سوچ سے بھی زیادہ گھٹیا ہیں۔ ۔ اگر دل آویز کو ہلکا سا بھی کچھ ہوا نا تو آپ کو نہیں چھوڑوں گا۔ ۔ ۔۔

اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے وہ سوچنے لگا۔ ۔۔ پھر تیزی سے جنگل سے باہر جانے والے راستے پر چلنے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابا وہ کون ہو سکتا ہے۔ ۔ مجھے تو بلکل مامون جیسا لگا۔ ۔ آپ پوچھیں نا اس سے۔ ۔؟؟

دل آویز نے اپنے ساتھ ہونے والے واقعہ کی تفصیل سلیم کو بتائی۔ ۔ سلیم بھی اسکی بات سن کر پریشان ہو گئے

وہ جو بھی ہو بیٹا مجھے اس بات کک فکر ہے آخر وہ رکشے والا تمہیں ایسے کیسے اتنی سنسان جگہ لے گیا کیا تم اتنی لا پرواہ ہو خود سے۔ ۔۔ ؟؟

سلیم نے پریشانی سے پوچھا

نہیں بابا بس مجھے کچھ سمجھ ہی نہیں آئی اس وقت ایسا لگا اس نے مجھے ٹریپ کر لیا ہو۔۔۔

دل نے شرمندہ ہو کر جواب دہا

مگر دل بیٹا آپ بچی نہیں ہو لڑکی ہو پتا ہے نا شہر کے حالات کا۔ ۔ آپ کو بہت دیہان سے جانا چاہیئے ۔۔ اگر اتنی مجبوری ہے تو ہمیشہ رش والی جگہ سے جایا کرو۔ ۔ اگر خدا نہ کرے تمہیں کچھ ہو جاتا تو۔ ۔۔

سلیم نے دل کو اپنے گلے لگا کر کہا

بابا کچھ ہو ا تو نہیں ہے نا۔۔اور اتنا پریشان نہ ہوں آئی پرامس اب ایسا نہیں کرونگی۔ ۔۔

دل نے سلیم کو تسلی دیتے ہوئے کہا۔ ۔۔

اچھا آپ بتائیں نا وہ کون ہو سکتا ہے جو میری مدد کےلیئے آیا؟ ؟

دل کی سوئی ونہیں اٹکی ہوئی تھی

وہ جو بھی تھا فرشتا بن کر آیا تمہارے لیئے۔۔۔ مگر وہ مامون نہیں ہو سکتا وہ تو کبھی کسی شہر گیا ہی نہیں تو تمہاری یونی کیسے آسکتا ہے وہ بھی اتنا دور۔ ۔۔ امپاسبل بیٹا۔ ۔

سلیم نے اسے سمجھایا

ہمم تو پھر کو ہو سکتا ہے وہ۔ ۔۔

دل پھر سے اسی کے بارے میں سوچنے لگی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مامون فوراً اعظم کے گھر گیا اور اسے لے کر دلاور کے گھر پہنچ گیا۔ ۔ اعظم اب تک اس بات سے لا علم تھا کے جادو کروانے والا کوئی اور نہیں زینت کا اپنا بھائی دلاور ہے۔ ۔۔ دلاور نے جیسے ہی درواز کھولا تو مامون کو غصے میں دیکھ کر گھبرا گیا

دلاور بھائی میں چپ تھا آپ کے کارنامے کسی کو نہیں بتائے تھے کے اللہ نے جب آپکا پردہ رکھا ہے تو میں کیوں سب کو بتاوں مگر آپ اس لائک نہیں ہیں۔ ۔۔۔

مامون غصے سے دھاڑا

کک کیا کہہ رہے ہیں مم مامون بابا آ آپ کس بارے میں بب بات کر رہے ہیں۔ ۔۔

دلاور نے گھبراتے ہوئے پوچھا

اعظم حیران سا مامون کو دیکھنے لگا آج سے پہلے اسنے مامون کو اتنا غصے میں نہیں دیکھا تھا

آپ جانتے ہیں سب جانتے ہیں میں کس بارے میں بات کر رہا ہوں۔ ۔۔ آپ نے پہلے زینت باجی پر وہ کالا علم کروایا اور جب مجھے معلوم ہو گیا تو آتش بابا کے ساتھ مل کر مجھ پر بھی علم کروانا چاہتے ہیں کس قدر گھٹیا انسان ہیں آپ ۔۔۔۔

مامون نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔ اعظم نے چونک کر مامون کو دیکھا

یہ آپ کیا کہہ رہیں مامون بابا دلاور نے زینت پر ۔۔۔ آپ کو غلط فہمی ہوئی ہو گی۔ ۔

اعظم نے بی یقینی سے کہا

یی یہ کیا کہہ رہے ہو لڑکے ایسا کچھ نہیں ہے۔ ۔ الزام مت لگاو ہم پر۔ ۔۔

دلاور کی بیوی مامون کے منہ سے سچ سن کر فوراً اس کے سامنے آئی

ہنہ میں آپکے منہ نہیں لگنا چاہتا آپا۔ ۔ بہتر ہے کے اس وقت آپ نہ ہی بولیں۔ ۔

مامون نے سنجیدگی سے کہا

کیوں نا بولوں میرے شوہر پر الزام لگا رہے ہو۔ ۔۔ کوئی ثبوط ہے تمہارے پاس؟

دالاور کی بیوی مامون کے سامنے ڈٹ کر بولی

ثبوط مجھ سے مانگ رہی ہیں۔ ۔۔ ہنہ شرم کریں آپ دونوں پر خدا نے رحمت کی ہے مسلمان بنا کر بھیجا ہے تو کیوں خود کو کفر میں دکھیل رہے ہیں۔ ۔۔ کیوں دوزخ کی آگ اپنے لیئے جمع کر رہے ہیں۔ ۔ دلاور بھائی تھوڑا سا تو خیال کرتے آپکی بہن ہیں وہ۔ ۔۔

مامون نے افسوس سے کہا

مجھے پوری بات بتائیں مامون بابا۔ ۔ آخر آپ کو کیسے پتا کے دلاور نے۔ ۔۔

اعظم ٹوٹے ہوئے لہجے میں پوچھا

آپ جانتے ہیں میں اپنے علم سے پتا کروا لیتا ہوں۔ ۔ مگررر میں خود گیا تھا زینت باجی کا علم توڑنے انکے کپڑے انکے بال آتش بابا کے پاس تھے اور یہ سب چیزیں اسے کوئی اور نہیں یہ دیتے ہیں۔۔

مامون نے نفرت سے دلاور کو دیکھا اعظم کو لگا اسکے پاوں کے نیچے زمین ہل گئی ہو۔۔۔

ہنہ جب میں نے پتا کروا لیا تو انہوں نے مجھ پر بھی علم کروانے کا سوچا مگر یہ یاد رکھیں دلاور بھائی اگر آپ کی وجہ سے کسی ایک بھی معصوم کو تکلیف پہنچی نہ تو میں آپکو اپنے ہاتھوں سے خود ختم کرونگا یہ میرا وعدہ ہے۔ ۔

مامون نے غصے سے دلاور کو دیکھتے ہوئے کہا

جو کرنا ہے کرو۔ ۔۔ ہم نہیں ڈرتے تم سے لگتا ہے تم آتش بابا کو جانتے نہیں ہو۔ ۔۔

دلاور کی خاموشی بیوی سے برداشت نہ ہوئی وہ آگے بڑھ کر بولنے لگی

آپ شاید اللہ کے انصاف کو نہیں جانتی۔۔۔

مامون نے دانت چباتے ہوئے کہا

کک کیوں کیا دلاور یہ سب کس لیئے۔ ۔۔ بھلا کوئی اپنی بہن کے ساتھ۔ ۔۔۔

اعظم کے لہجے مین دکھ تھا بی یقینی تھی

کوئی بہن نہیں وہ اسکی۔ ۔ سوتیلی بہن ہے اور اب جو ہونا تھا ہو گیا جو۔ ۔۔

چپ ہو جا رضیہ خدا کے لیئے چپ ہو جا۔ ۔۔ چلی جا یہاں سے۔ ۔۔

دلاور نے اپنی بیوی کی بات کاٹتے ہوئے اسکے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا

علی کے ابا تجھے ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ۔۔

بس کر دے جا یہاں سے اب۔ ۔۔

دلاور نے غصے سے کہا وہ منہ بناتی ہوئی وہاں سے چلی گئی

کیوں دلاور بھائی زینت تو آپ کی سگی بہن ہے نا۔ ۔۔

اعظم نے حیران ہو کر پوچھا

نہیں۔ ۔ زینت میری سگی بہن نہیں ہے میری ماں نے دوسری شادی کی تھی۔۔ زینت کی ماں تو زینت کو پیدا کرتے ہی مر گئی تھی۔ ۔۔ میری ماں نے زینت کے باپ سے شادی کی۔۔ زینت کے باپ کی جان زینت میں تھی۔ ۔ وہ ہر وقت زینت زینت کرتا تھا۔ ۔ میری ماں بظاہر تو زہنت کے ساتھ اچھا ہی سلوک کرتی رہی مگر دل سے زینت کو اپنی بیٹی نہ مان سکی۔ ۔۔ پھر جب زینت کا باپ مرنے والا ہوا تو اس نے ساری جائیداد اور زمینیں زینت کے نام لگاوا دیں۔ ۔ زینت اس وقت پندرہ یا سولہ سال کی تھی۔ ۔ ہم نے اس سے یہ بات چھپائی میری ماں چاہتی تھی کے ساری زمینیں میرے نام ہو جائیں مگر یہ ناممکن تھا زینت کی شادی کے بعد ہمیں سب کچھ اسکے حوالے کرنا تھا قانونی طور پر۔ ۔ پھر زینت کی شادی کے بعد ساری زمینیں اسکو مل جاتی اور ہم خالی ہاتھ رہ جاتے۔ ۔۔ بہت کوشیش کی کے زینت کی شادی نہ ہو مگر تم نے زبردستی اس سے شادی کر لی۔ ۔۔ اب رضیہ کو ڈر تھا کے شادی کے بعد زینت کو اپنی جائیداد کا خیال نہ آجائے ایک دو بار زینت نے زکر بھی کیا مجھ سے ۔۔ اس لیئے رضیہ ہی مجھے آتش بابا کے پاس لے گئی۔ ۔ اب ہم آتش بابا کے علم میں ایسا پھنس چکے ہیں کے چاہ کر بھی نہیں نکل سکتے۔ ۔۔۔

دلاور نے شرمندگی سے سر جھکا کر ساری بات بتائی

ایک بار ہم سے تو کہتے۔ ۔ زینت کی کیا میں اپنی زمینیں بھی تمہارے نام کر دیتا۔۔۔ افففف یہ کیا کر دیا دلاور بھائی۔ ۔ ۔میری زینت مر رہی ہے ۔۔۔۔

اعظم نے اپنا سر تھام کر کہا

مامون بابا خدا کے لیئے کچھ کریں۔ ۔ زینت کو بچا لیں۔۔۔۔

اعظم نے مامون کی منت کی

اللہ سے مدد مانگیں اعظم بھائی۔ ۔

مامون نے اعظم کو تسلی دی

افسوس تو اس بات کا ہے کے۔ ۔۔ اپنا ایک گناہ چھپانے کے لیئے آپ دوسرا گناہ کرنے چلے ہیں۔ ۔ آپ نے میرے کپڑے اور رومال بھی اس شیطان کو دیا ہے۔ ۔ اس رومال پر لگا خون میرا نہیں تھا دلاور بھائی مگر خیر میں جانتا ہوں مجھے کیا کرنا ہے۔ ۔۔

مامون نے سنجیدگی سے دلار کو دیکھتے ہوئے کہا

مامون بابا میں ان عورتوں کی باتوں میں آگیا تھا۔۔۔ آتش بابا بہت خطرناک بندہ ہے اگر میں اسکی باتیں نہیں مانوں گا تو وہ میرا پورا خاندان ختم کر دے گا۔ ۔۔

دلاور نے روتے ہوئے کہا

یہ صرف آپکے ایمان کی کمزوری ہے ورنہ آتش بابا اس رب کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے ۔۔۔ خیر میرے دل میں آپ لوگوں کے لیئے کوئی رحم نہیں ہے مگر دعا کریں آپ کی اس غلطی کی سزا کسی اور معصوم کو نہ ملے ورنہ۔۔۔۔

مامون نے اپنی شہادت کی انگلی اٹھا کر دھمکی دی۔ ۔ اور غصے سے وہاں سے چلا گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دلاور کی بیوی رضیہ کو جب معلوم ہوا کے دلاور نے مامون کو سب بتا دیا ہے تو وہ خود آتش بابا کے پاس گئی

آتش بابا وہ میرا میاں مامون بابا کی باتوں میں آگیا وہ ڈر گیا اس سے اسی لیئے اس نے سب کچھ بتا دیا۔ ۔ اب کیا ہو گا؟

رضیہ نے ڈرتے ہوئے پوچھا

ہاہاہا مجھے سب پتا ہے۔ ۔۔ تیرا بندہ شکل سے ہی ڈرپوک لگتا تھا مجھے۔ ۔ فکر نہ کر مامون تم لوگوں کا کچھ نہیں بیگاڑ سکتا۔۔۔ میں نے مامون پر عمل شروع کر دیا ہے۔ ۔۔ یہ اسکا رومال ہے مگر اس پر لگے خون کے قطرے اس کے نہیں۔ ۔ یہ کسی لڑکی کے ہیں۔ ۔۔ مامون نے بہت سنبھال کر رکھے ہوئے تھے۔ ۔۔ ہاہاہا میں نے اپنے چیلوں سے پتا کروایا ہے یہ اسی لڑکی کے ہیں جو شہر سے آئی تھی۔ ۔۔ ہاہاہا

آتش نے بے حودگی سے ہنستے ہوئے کہا اور مامون کا رومال اپنے ناک کے پاس لیجا کر سونگھنے لگا۔ ۔۔۔

جج جی مطلب وہ دل آویز رشیدہ کی سوتیلی بیٹی۔ ۔ اسکے خون کے قطرے مامون بابا کے رومال پر یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ ۔۔

رضیہ بے ہقینی سے آنکھیں پھاڑے آتش بابا کو دیکھنے لگی

یہ ہو گیا وہ اس لڑکی کے خواب دیکھنے لگا ہے۔ ۔۔ ہاہاہا کیا کہتا ہے وہ کے مجھے ختم کرے گا۔ ۔ مجھ سے ڈرتا نہیں ہے وہ۔ ۔۔ اب میں اسے ڈرا ڈرا کر مارونگا۔ ۔۔

آتش نے غصے سے لال ہوتی آنکھوں سے رضیہ کو گھورا وہ ڈرا کر پیچھے ہوئی

اپنے بندے سے کہہ دے اگر اب اس نے مامون کو کچھ بھی بتایا تو وہ اگلی سانس نہیں لے سکے گا سمجھی۔ ۔۔

آتش بابا نے چنگارتے ہوئے کہا اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا

جج جی آتش بابا وہ آئندہ ایسا کچھ نہیں کرے گا بس جلدی سے زینت کا معاملہ ختم کر دیں۔۔۔

رضیہ بھی ڈر کر کھڑی ہوئی

ہو گیا اسکا معاملہ ختم ۔۔۔۔۔ اب تو جا۔ ۔۔

آتش نے اپنا ہاتھ اٹھا اسے جانے کا اشارہ کیا اور سر ہلاتے وہاں سے چلی گئی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مامون کو شدت سے اپنے رومال کی کمی محسوس ہو رہی تھی اسے صرف یہ ڈر تھا کے کہیں آتش کو دل آویز کے بارے میں پتا نہ چل جائے۔ ۔۔ کافی دیر سوچنے کے بعد مامون نے خود آتش کے آستانے پر جانے کا فیصلہ کیا۔ ۔۔

سب سے پہلے اس نے وضو کیا اور پھر کچھ وضائف پڑھے اور پانی پر دم کر دیا۔ ۔ اپنی سب تیاری کرنے کے بعد اس نے پانی کی بوتل ہاتھ میں لی اور جنگل سے نکل گیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کافی اندھیری رات تھی مامون نے چلتے چلتے ایک نظر آسمان کی طرف سر اٹھا کر دیکھا تو چھوٹے چھوٹے ستارے جگمگا رہے تھے۔ ۔ چاند کسی بدل کی اوٹ میں چھپا ہوا تھا شاید اسی لیئے آج روشنی قدرے کم تھی۔ ۔

یا اللہ تیری مدد کے بنا میں کچھ نہیں کر سکتا۔ ۔۔ میرا ساتھ دینا۔۔۔

مامون نے دل ہی دل میں دعا کی اور پھر سے چلنے لگا۔ ۔۔

آتش بابا کا آستانہ اسے دور سے نظر آیا وہاں ہمشہ کی طرح آگ جل رہی تھی۔ ۔ مامون نے گہرا سانس لیا اور زکر کرتا ہوا آگے بڑھنے لگا وہ جانتا تھا کے ابھی اس پر حملہ ہو گا اس لیئے وہ پہلے سے ہی تیار تھا۔ ۔۔ ابھی دو قدم آگے بڑھا ہی تھا کے کافی ساری کھوپڑیاں اس کی طرف گرنے لگیں۔ ۔ مامون نے جلدی سے بوتل کی مدد سے پانی چھڑکاو کیا۔ ۔۔ وہ کھوپڑیاں مامون کے پاس آنے سے پہلے ہی نیچے گر گئیں۔ ۔۔ مامون نے اللہ کا شکر کیا اور آگے بڑھنے لگا۔ ۔۔ کے ایک دم مامون کے سامنے ایک عجیب سا جانور آگیا۔ ۔۔ اس کا منہ بلکل ایک گائے جیسا تھا مگر اسکا پچھلا حصہ نہیں تھا۔۔ اس جانور کے منہ کے نیچے ہی ٹانگیں تھیں جن سے وہ جانور تیزی سے چلتا ہوا مامون کی طرف آرہا تھا۔ ۔ مامون جانتا تھا کے بہت سی چیزیں اسے ڈرانے آئیں گیں مگر وہ بنا خوف کے خود بھی اس جانور کی طرف چلنے لگا۔ ۔۔ مامون کے قدم اس جانور سے زیادہ تیز چلنے لگے۔ ۔۔ جانور کی رفتار کم ہونے لگی اب جانور شاید مامون سے ڈرنے لگا تھا مامون بلکل اس پاس پہنچ گیا۔ ۔ اور نفرت سے کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔ ۔۔ جانور نے اپنی دونوں ٹانگیں ہوا میں اٹھا کر مامون پر حملہ کرنا چاہا جیسے مامون نےتھوڑا سائیڈ پر کھسک کر ناکام بنا دیا مامون نے تیزی سے اس جانور کی دونوں ٹانگون کو اپنے ہاتھوں سے پکڑا اور موڑنے لگا وہ جانور تکلیف سے عجیب و غریب سی آوازیں نکالنے لگا۔ ۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ جانور ایک دم بے جان سا ہو گیا مامون نے اسے خود سے دور پھینکا اور آگ کی طرف چلنے لگا۔ ۔ اس نے ایک دائرے کی شکل میں پانی سے چھڑکاو کیا اور آگ میں غور سے دیکھنے لگا۔ ۔ پہلے کی طرح آج بھی اس میں کپڑے جل رہے تھے۔ ۔ ان میں سے کچھ کپڑے عورتوں کے تھے اور کچھ مردوں کے۔ ۔ مامون اس آگ پر پانی ڈالتا اور ساتھ ساتھ اونچی آواز میں زکر کرتا رہا۔ ۔۔ بہت سے عجیب سے جانور مامون کو کی طرف بڑھنے لگے مگر جو دائرہ مامون نے بنایا تھا وہ اسے پار نہ کر سکے۔ ۔۔ جیسے جیسے آگ بُجھ رہی تھی جانوروں کی آوزیں بھی مدہم ہو رہی تھیں۔ ۔ بلا آخر وہ آگ بُجھ گئی مامون سب کپڑوں کو دیکھنے لگا ۔۔ ان میں اس کا ایک جوڑا بھی تھا مگر اس میں اسکا رومال نہ تھا۔ ۔۔ مامون پریشانی سے اپنا رومال ڈھونڈنے لگا اسے ایک برتن میں خون بھرا ہوا نظر آیا۔ ۔ اس نے برتن الٹایا تو اس میں اسکا رومال بھی تھا مامون نے فوراً رومال کھول کر دیکھا تو رومال بلکل صاف تھا وہاں کوئی بھی خون کا قطرہ نہ تھا۔ ۔ مامون نے غصے سے اپنے ایک ہاتھ کی مُٹھی بنا کر دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر ماری۔ ۔۔

اففف آتش بابا میں نہیں چھوڑوں تجھے۔ ۔۔

مامون نے غصے سے چلا کر کہا

مامون نے سب کپڑوں کی ایک گھٹڑی بنائی اور جس راستے سے وہ آیا تھا اسی راستے سے جانے لگا کے اچانک اسے اپنے پیچھے آتش بابا کی آواز آئی۔ ۔ اس نے پلٹ کر دیکھا تو سامنے ایک ہڈیوں کا ڈھانچہ سا کھڑا تھا

کیوں مرنا چاہتا ہے جوانی میں۔ ۔ چلا جا میرے راستے سے ورنہ بہت بری موت مرے گا۔ ۔۔

اس ڈھانچے میں سے آتش کی آواز آرہی تھی

مرے گا تو شیطان۔ ۔۔ بہت زندگیاں برباد کر لی تو نے اب تیری باری ہے۔ ۔۔

مامون نے بنا کسی خوف کے جواب دیا

ہاہاہاہا۔ ۔۔۔ میں مروں گا ہاہاہا بھلا شیطان بھی مرتا ہے۔ ۔۔ بہت پیار ہو گیا تجھے اس لڑکی سے دو دن میں ۔۔ہاہاہا۔ ۔۔

وہ ڈھانچہ عجیب طرح سے اوپر نیچے ہو کر اچھلنے لگا جیسے ڈانس کر رہا ہو۔ ۔۔ مامون کو سخت غصہ آیا اس نے ہاتھ میں پکڑی بوتل کا سارا پانی اس ڈھانچے پر اوچھال دیا ایک دم ہی ڈھانچے کی ساری ہڈیاں الگ ہو کر نیچے گر گئیں۔ ۔۔ مامون نے اس پر تھوکا اور پلٹ کر واپس چلنے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دل آویز یونیورسٹی جانے کے لیئے تیار ہو رہی تھی اپنے ہونٹوں پر لپ گلوز لگا کر اس نے خود کو آئنے میں دیکھا تو اسے ایک دم سے اسی انجان آدمی کی بات یاد آئی۔ ۔ کچھ سوچ کر مسکراتے ہوئے اس نے اپنا دوپٹا اچھی طرح سر پر لیا

ہماری بیٹی تیار ہو گئی؟ ؟

سلیم اس کے روم دروازہ بجاتے ہوئے اندر آئے

جی بابا ایک دم ریڈی چلیں؟

دل آویز نے مسکرا کر جواب دیا

ماشاءاللہ سر پر دوپٹا لینا شروع کر ہی دیا میری گُڑیا نے۔ ۔۔

سلیم نے اس کے سر ہاتھ رکھ کر کہا

جی بابا اب نہیں اتارونگی۔ ۔۔ ان شاءاللہ

دل نے ایک عزم سے کہا

ان شاءاللہ۔ ۔۔چلو پھر چلیں دیر ہو رہی ہے۔ ۔۔

سلیم اور دل دونوں ایک ساتھ روم سے باہر چلے گئے۔ ۔۔ اس واقعے کے بعد سے سلیم اب خود دل کو یونی تک چھوڑتا تھا جبکے وہ واپس پوئنٹس پر ہی آتی تھی۔۔

سلیم نے دل آویز کو یونی کے دروازے پر ڈراپ کیا۔ ۔۔ دل آویز کو سب ہی جانتے تھے وجہ اسکی باتیں تھیں۔ ۔۔

وہ اپنے دھن میں کلاس کی طرف جا رہی تھی ۔۔۔اس کے دونوں طرف خوبصورت سی کیاریاں تھیں جن میں خوبصورت پھول لگے تھے۔ ۔۔

اچانک دل آویز کے سامنے ایک بلی آگئی دل آویز چلتی رہی کے جب وہ اس پاس جائے گی تو بلی ہٹ جائے گی۔ ۔ مگر وہ بلی بلکل درمیان میں کھڑی دل آویز کو گھور رہی تھی۔۔ آویز حیران ہوئی عموماً بلیاں خود ہی ڈر کر راستے سے ہٹ جاتی ہیں۔ ۔۔ دل تھوڑا سائیڈ پر ہو کر وہاں سے جانے لگی کے اس بلی نے ایک لمبی جمپ لگائی اور دل آویز کے قدموں میں بیٹھ کر عجیب سی آواز نکالی۔ ۔ آواز کسی بلی کی نہیں تھی بہت ہی بھاری آواز تھی ۔۔ خوف کے مارے دل آویز کی چیخ نکل گئی۔۔دل کی چیخ سن کر پیچھے کھڑا گارڈ تیزی سے اسکے پاس آیا

کیا ہوا دل بیٹا؟

گارڈ نے خوف سے کانپتی ہوئی دل سے پوچھا

وو وہ یی یہ بلی عجیب سی آ آواززز ۔۔ آ آپ نے سنی اسکی آواز۔ ۔۔

دل نے اپنے سے تھوڑے فاصلے پربیٹھی بلی کی طرف اشارہ کیا جو اب سکون سے بیٹھی اپنے پاوں اپنی زبان سے چاٹ رہی تھی

میں نے تو کوئی عجیب سی آواز نہیں سنی۔۔۔ آپکا وحم ہو گا ویسے اکثر بلیاں کچھ عجیب آوازیں نکالتی ہیں آپ ڈریں مت اپنی کلاس میں جائیں میں بلی کو بھگا دیتا ہوں۔ ۔۔

گارڈ نے دل کو تسلی دی۔ ۔۔ دل سر ہلا کر وہاں سے جانے لگی۔ ۔ گارڈ نے بلی کو ڈرانے کے لیئے اپنے ہاتھوں سے تالی بجائی بلی ڈرتی ہوئی پودوں کے پیچھے چلی گئی دل آویز دل ہی دل میں حیران ہوئی اسے تو کبھی بلی کتوں وغیرہ سے ڈر نہیں لگتا تھا اور آج وہ اس س ڈر گئی۔

کیسی آواز تھی اس بلی کی کے مجھے خوفزدہ کر گئی۔ ۔۔

دل نے منہ ہی منہ میں کہا اور پھر سر جھٹک اپنی گردن موڑ کر دیکھا تو وہ بلی اسی طرح بیچ میں بیٹھی دل آویز کو اپنی لال آنکھوں سے گھور رہی تھی دل کو دوبارہ اس سے ڈر لگنے وہ تیزی سے قدم اٹھاتی اپنی کلاس کی طرف چلی گئی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *