Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Episode 07)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Episode 07)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
مامون کی باتیں سوچتے ہوئے دل آویز نے راستے میں ہی اپنے سر پر دوپٹا اوڑھ لیا۔ ۔۔ دوپٹا لینے کے بعد اسے واضح طور پر ایک فرق محسوس ہوا لوگ تو اسے اسی طرح دیکھ رہے تھے مگر اب انکی نگاہ سے وہ چِڑ نہیں رہی تھی اسے ایسا لگ رہا تھا اب وہ نگاہیں اسے دیکھ تو رہی ہیں مگر مایوسی سے پلٹ بھی رہی ہیں۔ ۔ سلیم نے جب دل آویز کو دوپٹا سر پر لیتے ہوئے دیکھا تو وہ خوش ہوا
ارے ماشاءاللہ میری بچی نے سر پر دوپٹا لے لیا۔ ۔۔
سلیم نے دل کے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
جی بابا۔ ۔ ایکچولی جب میں آ رہی تھی تو آپ کے مامون بابا نے کہا تھا دوپٹا سر پر لینا چاہئے سو مجھے کچھ غلط بھی نہیں لگا اس لیئے میں نے لے لیا۔ ۔۔
دل نے لا پرواہی سے جواب دیا
ہممم مامون بہت اچھی باتیں کرتا ہے۔ ۔ اتنی عمر نہیں ہے اسکی۔ ۔ اس عمر کے لڑکے تو لڑکیوں کے خواب دیکھتے ہیں مگر مامون بہت الگ ہے۔ ۔ مامون نے گاوں والوں کو بہت بدلہ ہے۔۔۔ دل بیٹا ورنہ یہ سب گاوں والے تو عجیب سے شرک میں مبتلا تھے۔ ۔۔ مامون ہر جمعے کسی نا کسی کے گھر جا کر درس دیتا ہے جسے سن کر گاوں والے بہت بدل گئے ہیں۔ ۔ مگر اب بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو انہی گناہوں میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ۔۔ شاید ان کے دلوں پر اللہ نے مُہر لگا دی ہے۔ ۔۔ بس دعا کرو مامون کو اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت میں رکھے۔ ۔۔
سلیم مامون کے بارے میں بتاتے ہوئے بہت جزباتی ہو گئے جیسے انہیں مامون بہت عزیز ہو۔ ۔ ان کےلہجے میں مامون کے لیئے بہت پیار اور عزت تھی۔ ۔ ایک پل کو تو دل آویز حیران ہوئی کے اسکے بابا نے پہلے کبھی مامون کا زکر نہیں کیا اور اب ۔۔۔ مگر پھر اسے مامون سے تھوڑی جلن بھی محسوس ہوئی
ہممم دیٹس گُڈ بابا مگر آپ کو نہیں لگتا مامون ابھی اتنا ینگ ہے وہ کیسے۔۔۔ آئی مین جس طرح وہ لوگوں کا علاج کر رہا ہے وہ سب کیسے پاسبل ہے۔ ۔ ۔۔ اب جیسے زینت باجی کو ہی دیکھ لیں مجھے لگتا ہے انہیں ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی ضرورت ہے مگر گاوں والے سب مامون پر بھروسا کر رہے ہیں۔ ۔۔
دل آویز نے چِڑتے ہوئے کہا۔ ۔ اپنے بابا کے منہ سے کسی اور لے لیئے اتنی تعریف سن کر اسے کچھ خاص اچھا نہیں لگا تھا
نہیں بیٹا زینت کے مرض کا علاج ڈاکٹرز کے پاس نہیں ہے ۔۔ جب بھی کوئی مامون کے پاس آتا ہے مامون اسے سب سے پہلے یہ ہی کہتا ہے کے ڈاکٹر کو دیکھائیں۔ ۔ اگر ڈاکٹرز کو مرض کی سمجھ نہیں آتی تب وہ اپنا علاج شروع کرتا ہے۔ ۔ اور دوسری بات مامون بہت ہی سمجھدار بچہ ہے اور پڑھا لکھا بھی ہے اس لیئے وہ جو فیصلہ کرتا ہے بلکل ٹھیک کرتا ہے۔ ۔۔
سلیم نے پیار سے دل کو سمجھایا
ہنہ آپ تو کچھ زیادہ ہی متاثر لگ رہیں اپنے مامون بابا سے۔ ۔۔۔
دل نے منہ بناتے ہوئے کہا
ہاہا۔ ۔ تم اسے آپکے مامون بابا کیوں کہتی ہو۔ ۔۔ ؟
سلیم نے ہنستے ہوئے پوچھا
ہاں تو آپ کے ہی ہیں میں تو انہیں بابا تسلیم کرتی ہی نہیں۔ ۔۔
دل نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا
ویسے بابا آپ نے تو مجھے کبھی نہیں کہا کے سر پر دوپٹا لو۔ ۔۔
دل نے اپنے گال پر انگلی رکھتے ہوئے پوچھا
بس پتا ہی نہیں چلا کے میری بچی بڑی ہو گئی ہے۔ ۔۔ اور دوسری بات میرا ماننا یہ ہے کے میری بچی اپنی مرضی سے یہ سب کرے اور دل سے کرے۔۔ ۔
سلیم نے مسکرا کر جواب دیا دل آویز نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا اور باہر سے گزرتے ہوئے نظارے دیکھنے لگی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامون اداسی سے اپنے آستانے میں آیا اور ایک بار پھر دل آویز کو سوچنے لگا۔ ۔۔ اُسکا بحث کرنا ۔۔۔ اُسکا منہ پھولا کر ناراض ہونا۔ ۔ غرض کے اسکی ہر ادا اسکی آنکھوں کے سامنے تھی۔ ۔۔ بے اختیار ہی اس نے اپنا رومال نکالا اور دل آویز کے لگے خون کے قطروں کو اپنی انگلیوں سے چھونے لگا۔ ۔۔ اس دن کا منظر فوراً سے اسکی آنکھوں کے سامنے آگیا۔ ۔ مامون کو لگا جیسے دل کا پاوں ابھی بھی اس نے اپنے ہاتھ میں تھام رکھا ہو۔ ۔۔ وہ اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کو پھیلا کر بہت پیار سے دیکھنے لگا۔۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے مامون اپنا ہاتھ اپنے ہونٹوں کے پاس لیجانے لگا۔ ۔ مگر ایک دم ہوش میں آتے ہی اس نے اپنا سر جھٹکا
لاحول ولا قوه الله بالله علی عظیم۔ ۔
مامون نے منہ ہی منہ کہا اور فوراً رومال سمیٹ کر واپس رکھا۔۔۔
اوففف کیا کر رہا ہوں میں۔۔ . اس قدر بے بسی۔۔ اب یہ کیسا جادو ہے۔۔۔ اسکا تو توڑ میرے پاس بھی نہیں ہو گا۔۔۔
مامون نے مسکرا کر سوچا اور اٹھ کر وضو کرنے لگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلاور بھائی سوچ لیں مامون بابا کے آستانے میں جاکر یہ سب کرنا کہیں کچھ گڑبڑ نہ ہو جائے۔۔۔
دلاور نے اپنے پڑوسی کو لالچ دے کر مامون کے کپڑے چورانے میں مدد مانگی
ارے ارشد کچھ نہیں ہوگا ۔۔ مامون کیا کر سکتا ہے۔۔ آتش بابا کے سامنے تو وہ بچہ ہے۔ ۔۔ بس تم نے وہ کرنا ہے جو میں نے کہا ہے باقی میرا کام ہے اور ہاں یہ بات اگر تم نے کسی کو بتائی تو تم جانتے ہو آتش بابا کو اس نے تیرا حشر کر دینا ہے۔ ۔۔
دلاور نے اپنے پڑوسی کو ڈراتے ہوئے کہا
جج جی دلاور بھائی میں کر لونگا بس آپ بھی زرا دیہان سے کرئیے گا مامون بابا بہت عقل مند ہے کہیں اسے شک نہ ہو جائے۔ ۔۔
ارشد نے دلاور کو خبردار کیا
کچھ نہیں ہو گا۔ ۔ تم فکر نہ کرو۔ ۔
دلاور نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے تسلی دی۔ ۔
دونوں اپنا پلان پھر سے ایک دوسرے کو بتانے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما پلیززز مان جائیں نا یار۔ ۔ اتنا غصہ۔ ۔۔
دل آویز کب سے ہاتھ جوڑے اپنی ماں کے سامنے کھڑی معافی مانگ رہی تھی مگر اسکی ماں بہت سخت ناراض تھی
تم نے میری نافرمانی کی ہے دل۔ ۔۔ منع بھی کیا تھا وہاں مت جانا مگر تمہیں میری پرواہ کہاں ہے۔ ۔ تمہیں تو بس اپنے باپ سے پیار ہے۔ ۔ کیا فائدہ ایسی اولاد کا۔ ۔۔
فاطمہ نے اپنے دوپٹے کے پلو سے ناک پونچھتے ہوئے کہا
اففف ماما ایسی بات نہیں ہے۔ ۔ آپ تو میری جان ہیں میرا سب کچھ بس بابا نے موقع ہہ نہیں دیا سوچنے کا۔ ۔۔
دل نے پیار سے فاطمہ کے گلے میں بازو ڈال کر کہا اور ساری توپوں کا رخ سلیم کی طرف کر دیا
آپ جانتے ہیں سلیم کے مجھے وہ گاوں اور وہاں کے لوگ سخت نا پسند ہیں مگر آپکو نہ پہلے میری پرواہ تھی نہ اب۔ ۔۔
فاطمہ نے خاموشی سے کھڑے سلیم کی طرف دیکھ کر کہا
میری پیاری بیوی جان۔ ۔۔ اب وہ گاوں ویسا نہیں رہا سب بہت بدل گئے ہیں۔ ۔ بلکے میں تو کہتا ہوں اگلی دفعہ تم بھی ہمارے ساتھ چلنا۔ ۔
سلیم نے شرارتاً کہا۔ ۔۔ دل آویز مسکرانے لگی
ہنہ اگلی دفعہ اگر آپ دونوں کو جانا ہوا تو میرا قُل کروا کر جایئے گا۔ ۔ سمجھے آپ لوگ۔ ۔۔
فاطمہ نے غصے سے دل کے ہاتھ جھٹکے
توبہ کریں بیگم آپ کے بنا ہم جی کر کیا کریں گے۔ ۔ اب بس معاف بھی کر دیں۔۔
سلیم نے مسکرا کر فاطمہ کا چہرہ اپنے ہاتھ سے اوپر کیا
آہممم میرے خیال سے مجھے یہاں سے جانا چاہیئے۔ ۔ اوکے بابا گُڈ لک۔ ۔
دل نے ایک آنکھ دباتے ہوئے کہا ۔۔ فاطمہ نے شرم کے مارے چہرہ جھکا لیا۔ ۔ سلیم فاطمہ کو دیکھ کر مسکرانے لگے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامون بابا وہ میری بچی ایک دم عجیب سی آوزیں نکال رہی ہے۔ ۔۔ جلدی چلیں اسے ایک بار دیکھ لیں۔ ۔۔
ارشد اور دلاور گھبرائے ہوئے مامون کے پاس آئے۔ ۔ دوپہر کا وقت تھا مامون دن کا کھانا کھا کر تھوڑا آرام کرتا تھا۔ ۔
کیا ہوا ارشد بھائی۔۔ کیسی آوازیں۔ ۔؟؟
مامون نے بیٹھتے ہوئے پوچھا
بس پتا نہیں ڈر رہی تھی ایک دو دن سے مجھے لگا شاید ڈراونا خواب دیکھ لیا ہو گا مگر اب عجیب سی آوازیں نکال رہی ہے۔ ۔
ارشد نے پریشانی سے کہا
جی مامون بابا مجھے لگتا ہے اس پر سایا ہو گیا ہے کسی کا۔ ۔ جب ہی میں اسے آپ کے پاس لے آیا فوراً۔ ۔۔۔
دلاور نے بھی ارشد کی ہاں میں ہاں ملائی
آممم اچھا۔ ۔ چلیں میں دیکھتا ہوں۔۔۔۔
مامون نے اپنے کندھوں پر چادر ڈالی اور وہ اپنے چھوٹے سے کمرے سے باہر نکل آیا
ارشد نے دلاور کو دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں اشارہ کیا
دلاور کمال کی اداکاری کرتے ہوئے اپنی جیبوں میں ہاتھ ڈال کر کچھ ڈھونڈنے لگا
اوہ مجھے لگتا ہے میری بائیک کی چابی کہیں گر گئی ہے۔ ۔
دلاور نے آس پاس دیکھتے ہوئے کہا
اوہو۔ ۔ جب آپ مامون بابا کے کمرے مِیں گئے تھے جب وہ چابی آپکے ہاتھ میں ہی تھی۔ ۔ کہیں انکے روم میں تو نہیں گر گئی۔ ۔
ارشد نے پریشانی سے کہا
اوہ ہو سکتا ہے۔ ۔ آپ لوگ چلیں میں دیکھتا ہوں۔ ۔۔
دلاور نے زمین پر نظر دھوڑاتے ہوئے کہا۔ ۔ مامون کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا
ہاں دلاور بھائی آپ ڈھونڈ لیں مامون بابا آپ پلیزز چلیں میرے ساتھ میری بچی۔ ۔۔
ارشد نے پریشانی سے کہا۔ ۔ مامون نے ایک گہری نظر دلاور پر ڈالی اور پھر کچھ سوچتے ہوئے ارشد کے ساتھ چلا گیا۔ ۔ جبکے دلاور تیزی سے مامون کے روم میں آیا اور اسکے کمرے میں مامون کے کپڑے تلاش کرنے لگا۔ ۔۔ چند ہی منٹوں میں اسے ایک چھوٹے سے ڈبے میں مامون کا کرتا شلوار مل گیا۔ ۔۔ دلاور نے خوش ہوتے ہوئے کپڑوں کو سمیٹا۔ ۔ ابھی وہ ڈبا بند کرنے ہی لگا تھا کے اسے مامون کا رومال نظر آیا
ہیں ں ں۔ ۔ خون کے قطرے۔ ۔۔ یہ تو مامون بابا کا رومال ہے۔ ۔ یقینً یہ خون بھی اسی کا ہو گا۔ ۔۔
دلاور کو لگا اسکا آدھا کام ہو گیا۔
واہ یہ تو کمال ہو گیا اتنے آرام سے مامون بابا کا خون مل گیا۔ ۔۔
اس نے جلدی سے رومال اپنی جیب میں رکھا اور آستانے سے باہر آگیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔
مامون ارشد کی چھوٹی بیٹی کو دیھ کر آیاتو اسے عجیب سا احساس ہوا کیونکے اسکی بیٹی بظاہر بلکل ٹھیک تھی ۔۔ ارشد نے بہانا بنا دیا کے تھوڑی دیر پہلے عجیب سی آوازیں نکال رہی تھی اب ٹھیک ہے۔ ۔۔ مامون کو کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا۔ ۔۔ وہ واپس اپنے آستانے میں آ گیا
ارشد بھائی کی بیٹی تو بلکل ٹھیک تھی۔ ۔۔ اور دلاور بھائی وہ اس کے ساتھ آئے۔ ۔ اوہ پھر انکی چابی یہاں گر گئی۔ ۔ کہیں دلاور بھائی نے کوئی چال تو نہیں چلی۔ ۔ اوہ خدایا کہیں وہ شاہ بابا کی کتابیں تو نہیں لے گئے۔ ۔۔
مامون کا سب سے قیمتی سرمایا وہ کتابیں تھیں جو شاہ بابا نے امانت رکھوائیں تھیں۔ ۔ مامون تیزی سے اٹھا اور اپنا ریک کھول کر چیک کرنے لگا۔ ۔ سب کتابیں دیکھ اس نے سکون سے گہرا سانس لیا۔ ۔
ساری کتابیں تو اپنی جگہ پر ہیں۔ ۔ تو پھر یہ سب ان دونوں نے کیوں کیا۔ ۔ کیا میرا وحم ہے یا۔ ۔۔ کچھ تو گڑبڑ ہے مگر کیا ہے مجھے سمجھ کیوں نہیں آرہا۔ ۔۔
مامون نے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے سوچا
اللہ مالک ہے ۔۔۔ وہ جو مرضی کریں میرے رب کی مرضی کے بنا کچھ نہیں کر سکتے۔ ۔۔
مامون نے خود کو تسلی دی اورشاہ بابا کی دی گئی ایک کتاب کھول کر پڑھنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بابا آپ کا فون ہی ڈیڈ ہو گیا ہے۔ ۔ آئی تینک اسے کسی شاپ والے کو دیکھائیں۔ ۔ شاید پانی وغیرہ چلا گیا ہے۔ ۔۔
دل آویز سلیم کا فون چیک کرتے ہوئے کہنے لگی
اوہو۔ ۔۔ اچھا دو تم میں کسی موبائل شاپ میں دیکھاونگا فون۔ ۔۔
سلیم نے دل سے اپنا فون واپس لیا اور گھر سے باہر چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامون روز کی طرح زکر سے فارغ ہو کر سونے کے لیئے لیٹ گیا۔۔۔ مگر وہ کافی دیر تک کروٹیں بدلتا رہا۔ ۔۔ دل آویز کا معصوم چہرہ بار بار اس کی آنکھوں کے آگے آرہا تھا۔۔۔ صرف تین دن ہوئے تھے دل کو دیکھے ہوئے مگر اسے لگ رہا تھا جیسے صدیاں گزر گئیں ہوں۔ ۔۔ کروٹیں بدلتے بدلتے آخر کار نیند اس پر مہربان ہو ہی گئی اور وہ نیند کی وادیوں میں چلا گیا۔ ۔۔ مگر یہ مہربانی چند لمحوں کی تھی۔۔۔ وہ ایک دم ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا اور گہرے سانس لینے لگا۔ ۔ اپنی کیفیت پر قابو پا کر وہ اپنے خواب کے بارے میں سوچنے لگا
دل آویز۔ ۔۔ اور وہ آدمی کون تھا جو دل کو لے کر جا رہا تھا۔ ۔ دل اتنی پریشان کیوں تھی۔ ۔ کہیں دل کسی مصیبت میں تو نہیں۔ ۔ اللہ نہ کرے۔ ۔ اففف کونسی جگہ آئی ہے میرے خواب میں۔ ۔
مامون نے اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھام کر سوچا
ہاں۔ ۔ اسکی یونیورسٹی۔ ۔۔ اوہ۔ ۔۔
مامون کو ایک دم پورا خواب ٹھیک سے یاد آگیا
کل تو اتوار ہے وہ یونیورسٹی تو نہیں جائے گی۔ ۔ مطلب پرسوں۔ ۔۔ کیا میں دل کے بارے میں زیادہ سوچ رہا ہوں یا واقعی اسکے ساتھ کچھ غلط ہونے والا ہے۔ ۔۔
مامون نے گھبرا کر سوچا
نہیں زکر کے بعد کوئی خواب بلاوجہ نہیں آتا مجھے۔۔۔۔ یقینً اسکے ساتھ کچھ برا ہونے والا ہے۔ ۔ یا اللہ اسے اپنی حفاظت میں رکھنا۔ ۔۔ مجھے صبح ہی سلیم انکل کو بتانا چاہیئے۔ ۔۔
مامون نے دل ہی دل میں سوچا۔ ۔۔ اب اسے دل آویز کی پریشانی ہونے لگی پوری رات اسکی اسی پریشانی میں گزر گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فجر کے فوارً بعد ہی مامون اعظم سے ملا
اعظم بھائی سلیم انکل کو فون کریں مجھے بہت ضروری بات کرنی ہے ان سے۔ ۔۔
مامون نے پریشانی سے کہا
اس وقت۔ ۔ مامون بابا اس وقت تو شاید وہ سو رہے ہوں۔ ۔۔
اعظم نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا
آپ چیک تو کریں شاید جاگ رہے ہوں۔ ۔۔
مامون نے ضد کی
جی اچھا مگر سب خیر تو ہے نا؟
اعظم بھی مامون کو دیکھ کر پریشان ہوا
جج جی بس ایک بہت ضروری بات کرنی ہے۔ ۔۔
اچھا میں کر رہا ہوں فون۔ ۔
اعظم نے فون پر نمبر ملایا اور فون کان پر لگایا
فون تو بند آرہا ہے مامون بابا ۔۔
اعظم نے فون کان سے ہٹاتے ہوئے کہا
اوہ۔ ۔ بند کیوں ہے۔ ۔۔؟
مامون نے گھبرا کر اپنا ماتھا مسلا
آپ مجھے بتائیں بات کیا ہے۔ ۔۔
اعظم نے دوبارا پوچھا
مجھے خواب آیا ہے رات میں۔۔ خواب نہیں بتا سکتا مگر دل آویز کے بارے میں تھا وہ کسی خطرے میں ہے مجھے لازمی سلیم انکل سے بات کرنی ہے۔۔۔
مامون نے پریشانی سے بتایا
اوہ اللہ خیر کرے جی۔ ۔ میں بار بار کرتا ہوں فون شاید مل جائے۔۔۔پریشان نہ ہوں آپ۔ ۔۔
اعظم نے مامون کو تسلی دی اور دوبارا کال ملانے لگا
ابھی بھی بند ہی ہے ۔۔ پتا نہیں کیوں۔۔ شاید سو رہے ہوں۔ ۔ آپ گھر چلیں ناشتا کرتے ہیں زینت کو دم بھی کر دجیئے گا جب تک شاید وہ شہر والے بھی جاگ جائیں۔ ۔۔
اعظم نے مامون کو مشوارہ دیا
ہممم ٹھیک کہتے ہیں آپ۔۔۔ چلیں گھر چلتے ہیں۔ ۔
مامون اعظم کے پیچھے چلنے لگا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پتا نہیں کیا ہو گیا ہے سلیم بھائی کا فون اب تک بند ہے ایسا تو کبھی نہیں ہوا ۔۔۔
اعظم نے پتا نہیں کتنی ہی دفعہ سلیم کا نمبر ملا کر کوشیش کی مگر ہر بار نمبر بند آتا
اوہ۔ ۔۔ میرے خیال سے مجھے شہر جانا چاہیئے۔ ۔۔ اگر کہیں کچھ غلط ہو گیا تو۔ ۔ اللہ نہ کرے۔ ۔۔
مامون وہ خواب سوچتے ہی گھبرا گیا
آپ خود جائیں گے؟؟ مگر کیسے؟
اعظم نے حیران ہو کر پوچھا
چلا جاونگا۔ ۔ آپ میری سیٹ کروا دیں۔ ۔۔ مجھے میرا خواب یاد ہے میں آرام سے اسکے پاس پہنچ جاوں گا۔ ۔ وقت کم ہے میرے پاس آپ بس کوئی گاڑی یا بس کی سیٹ کروا دیں جلد از جلد ۔۔۔
مامون نے جلدی سے فیصلہ کیا
آ آ اچھا۔ ۔ سیٹ تو میں ابھی کروا دیتا ہوں۔ ۔ بس کے اڈے والے سب ہی جانتے ہیں مجھے مگر آپ ایک بار پھر سوچ لیں۔ ۔
اعظم نے مامون کو سمجھانا چاہا
کیا سوچ لوں میں اعظم بھائی اگر سلیم انکل کا فون بند ہی رہا تو۔ ۔۔ میں یہ رزک نہیں لے سکتا۔ ۔۔
مامون نے سختی سے کہا
وہ تو میں سمجھ رہا ہوں مگر آپ دوسرا طریقہ بھی تو استعمال کر سکتے ہیں نا۔ ۔ میرا مطلب ہے اپنے علم کے زریعے دل بیٹی کی مدد کر دیں۔ ۔۔
اعظم نے مشورہ دیا
نہیں اعظم بھائی میں نے شاہ بابا سے وعدہ کیا تھا اپنے ذاتی مقصد کے لیئے یہ علم استعمال نہیں کرونگا۔ ۔ جہاں تک میرے بس میں ہے میں وہ کرونگا ہاں اگر اس میں کامیاب نہ ہوا تو مجبوراً میں وہ علم استعمال کرونگا مگر فل حال جتنا میں کر سکتا ہوں وہ تو کروں۔ ۔۔ آپ بس فوراً میری سیٹ کروائیں جتنی جلدی ہو سکے۔ ۔۔
مامون نے دو ٹوک انداز میں کہا اور وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسری طرف دلاور مامون کا ایک جوڑا اور رومال لے کر آتش بابا کے پاس پہنچ گیا
واہ بہت جلدی کام کر لیا تو نے۔ ۔۔۔
آتش بابا نے دلاور کے ہاتھ سے کپڑے پکڑتے ہوئے کہا
جی بس آپ حکم کریں اور میں نہ کروں ایسا ہو سکتا ہے۔ ۔۔
دکاور نے خوش آمد کی
ہاہاہاہاہا۔ ۔۔ تمہارے پاس اور کوئی چارہ بھی نہ تھا۔ ۔ یہ کیا اس کے بال کہاں ہیں۔ ۔۔؟
آتش نے کپڑے دیکھتے ہوئے پوچھا
وو وہ تو ابھی نہیں لا سکا مگر ایک دو دن میں وہ بھی لے آونگا جی ۔۔۔
دلاور نے گھبرا کر کہا
ہمم کوئی بات نہیں۔ ۔ یہ خون کے قطرے مامون بابا کے ہیں۔ ۔۔۔
آتش نے رومال پر لگے قطروں کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا
جج جی انہی کے ہیں۔ ۔
دلاور نے جواب دیا
آتش بابا نے رومال اپنے ناک کے پاس کیا اور سونگھا
مجھے نہیں لگتا۔ ۔۔ پر خیر جس کے بھی ہیں مامون کے پاس سے ملے ہیں نا۔ ۔ ہاہاہا یہ بھی کام آئیں گے بہت۔ ۔ خیر جاو اب تم یہاں سے۔ ۔۔
آتش بابا نے اپنے سامنے پڑی کالے بکرے کی کھوپڑی کے دو حصے کیئے
جج جی وو وہ آتش بابا زینت کا قصہ کب ختم ہو گا؟ ؟
دلاور نے ڈرتے ہوئے پوچھا
سمجھ کے ہو گیا۔ ۔۔ اب جا۔ ۔۔۔
آتش نے اپنی لال انگارہ آنکھوں سے دلاور کو گھورا وہ ڈر کر جلدی سے کھڑا ہوا چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعظم نے ایک گھنٹے بعد کی ہی بس کی سیٹ کر وا دی جو ٹھیک ساڑھے دس بجے کراچی پہنچ گئی۔ ۔۔ مامون نے رکشے والے کو روک کر یونیورسٹی کا نام بتایا۔ ۔ رکشے والے نے تقریباً ایک گھنٹے میں مامون کو دل آویز کی یونیورسٹی کے باہر اتار دیا۔ ۔ مامون نے دل کی یونیورسٹی کے باہر کھڑے ہو کر سب راستوں کا جائزہ لیا مگر اسے وہ پھولوں والی شاپ نظر نہیں آئی جو اسکے خواب میں آئی تھی۔ ۔۔
افف یہ ہی تو جگہ تھی۔ ۔ پھر کہاں ہے وہ شاپ۔ ۔۔
مامون نے اپنے ارد گِرد نظر دھوڑائی
وقت کم ہے۔ ۔ افف بارہ بجنے والے ہیں۔ ۔
مامون نے اپنی گھڑی میں وقت دیکھا یہ وہی وقت تھا جو اس کے خواب میں آیا تھا۔ ۔ مامون نے سامنے کھڑے گارڈ سے پھولوں والی شاپ کا پوچھا اس گارڈ نے بتایا کے وہ اسکے پچھلے دروازے کی طرف ہے۔ ۔ مامون نے فوراً اس راستے کی طرف دھوڑ لگائی۔ ۔ اسے سامنے ہی وہ شاپ نظر آ گئی مامون نے سکون کا سانس لیا اور اسکے سامنے جاتی ہوئی سنسان سڑک کی طرف تیز تیز چلنے لگا اور اپنا چہرہ ایک کپڑے سے چھپا لیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ آپ کہاں لے آئیں ہیں مجھے۔ ۔۔ دور ہٹو ورنہ میں پولیس کو کال کردونگی۔ ۔
دل آویز نے اپنے بیگ میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔ ۔ رکشے والا خباثت سے ہنسنے لگا
ہاہاہا یہاں کوئی تمہاری مدد کے لیئے نہیں آئے گا سمجھی شرافت سے اپنا سب کچھ مجھے دو ورنہ جان سے مار دونگا۔ ۔۔
رکشے والے نے اپنی گن نکال کر دل کی طرف کی۔ ۔۔ دل نے گھبرا کر اسے دیکھا دل آویز کو لگا آج اسکی زندگی کا آخری دن ہے
تت تمہیں جو چاہیئے مجھ سے لے لو مم مجھے جانے دد دو پپ پلیززز۔۔۔۔
دل نے ڈرتے ہوئے منت کی
ہاہاہاہا۔ ۔جانے دوں ۔۔ اتنی اچھی چڑیا کو جانے دوں ابھی تو تمہیں اپنے ساتھ لے کر جانا ہے چلو بیگ دو اپنا۔ ۔۔
رکشے والا آگے بڑھ کر دل آویز سے بیگ چھینے لگا۔ ۔ کے ایک دم رکشے والے کے سر پر ایک بھاری پتھر سے وار ہوا۔ ۔ رکشے والے نے اپنی گن پر گرفت مضبوط کی اور پلٹ کر دیکھا۔ ۔۔
کک کون ہے تو ثالے۔ ۔۔
اس سے پہلے کے رکشے والا گن لوڈ کرتا مامون نے اسکا ہاتھ پکڑ کر موڑ دیا اور وہ ایک آواز کے ساتھ ٹوٹ گیا۔ ۔ درد سے رکشے والے کی چیخیں نکل گئیں۔ ۔۔
دل آویز نے حیرت سے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنا چہرہ کپڑے سے چھپا رکھا تھا اور وہ بہت محارت سے رشکے والے کی دھلائی کر رہا تھا۔۔
کافی دیر تک اس رکشے والے کو مار کر مامون سیدھا ہوا اور چلتا ہوا دل کے سامنے کھڑا ہوا۔ ۔ اسے اوپر سے نیچے دیکھا۔ ۔
شدید غصے کی وجہ سے اسکی آنکھیں لال ہو گئیں۔ ۔۔ دل آواز نے اسکی آنکھوں سے ڈر اپنے خشک لبوں پر زبان پھیری۔ ۔۔ دل آویز کو رکشے والے سے زیادہ اس شخص کی آنکھوں سے خوف آیا۔ ۔۔
