Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Episode 15)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Episode 15)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
کیا ہو گیا ہے دلاور کس بات کی بیچینی ہے۔ ۔۔ مجھے لگتا ہے تو پاگل ہو رہا ہے۔ ۔۔
دلاور کی بیوی رضیہ نے دلاور کی باتوں سے تنگ آکر کہا
نہیں رضیہ تجھے ابھی نظر نہیں آ رہا مگر مجھے سب نظر آرہا ہے۔ ۔ یہ دیکھ ہر طرف آگ ہے۔ ۔۔ میری قریب آ رہی ہے دن بہ دن۔ ۔۔ اور وہ زینت روز رات میں آکر میرا گلا دباتی ہے تُو اندھی ہو گئی مگر مجھے سب نظر آرہا ہے۔ ۔
دلاور نے اپنے سر کے بال نوچتے ہوئے کہا
بس چپ کر جا صبح سے تیری ان باتوں نے میرا دماغ کھا لیا ہے۔ ۔۔ ہنہ تجھ پر اس مامون نے جادو کر دیا ہے بدلہ لے رہا ہے وہ تجھ سے مگر میں بھی اسے کامیاب ہونے نہیں دونگی۔ ۔۔ اور وہ تیری بہن زینت منہوس ماری مرتے مرتے اپنی ساری جائداد شوہر کے نام کر گئی ویسے ہوش نہیں تھا پر جائداد دینے لے لیے ٹھیک ہو گئی۔ ۔ اب میں ان لوگوں کو سکون سے رہنے نہیں دونگی دیکھنا آتش بابا سے ان کا پورا خاندان ختم کروانگی۔ ۔۔
رضیہ نے نفرت سے کہا
نن نہیں آتش بابا کک کے پاس نہ جج جانا وو وہ انسان نہیں ہے۔ ۔۔ نن نہیں جانا اس کے پاس وو وہ شیطان ہے ہاں وو خود بھی آگ میں جج جلتا ہے ہمیں بھی جلائے گا رضیہ نن نہیں جانا۔ ۔۔
دلاور نے خوف سے اس کے آگے ہاتھ جوڑے
تو پاگل ہو گیا دلاور۔ ۔ آتش بابا سے طاقت ور اس گاوں میں کوئی نہیں ہے۔ ۔۔ ایک بار مامون کو ختم کر دیں پھر یہ سارے گاوں والے ہماری مُٹھی میں ہونگے۔ ۔۔
رضیہ کی آنکھوں میں عجیب سی چمک تھی جیسے وہ نہیں اس کے اندر آتش بول رہا ہو
ہیں۔ ۔۔ یی یہ کیسی بب باتیں کر رہی ہے رضیہ۔ ۔۔ طاقت تت تو صرف اللہ کی ہے تت تو سنبھل جا ابھی بھی ورنہ سس سب برباد ہو جائے گا ہاں۔ ۔۔ مم مامون بابا کی بات مم مان لے وو وہ اللہ کا بندہ ہے آتش ایک شیطان ہے۔ ۔۔
دلاور نے رضیہ کو سمجھانا چاہا
ہنہ آتش بابا بول عزت کر انکی۔ ۔۔ تُو نے آتش بابا کا ساتھ چھوڑ دیا ہے نا اس لیئے تیری یہ حالت ہے ورنہ آج تو بلکل ٹھیک ہوتا۔ ۔ خیر اب یہ کھانا کھا لے مجھے دوبارہ نہ کہنا پڑے۔۔۔
رضیہ نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلی گئی
















دل آویز کو بہت مشکل سے نیند آئی تھی ۔۔ عجیب بیچینی تھی اسے۔ ۔۔ فاطمہ مسلسل اس کے کا سر دباتے ہوئے چاروں قُل کا ورد کر رہی تھی۔ ۔۔
جیسے ہی دل آویز گہری نیند میں گئی تو فاطمہ نے سوچا وہ اب نماز ادا کر لے۔ ۔ دل پر چادر ڈال کر وہ خود وضو کرنے چلی گئیں۔ ۔۔۔
فاطمہ کے جانے کے چند لمحوں بعد ہی دل خوف سے کانپنے لگی ۔۔۔ یہاں تک کے اسکی سانس روکنے لگی۔ ۔ دل نے بہت کوشیش کی کے وہ کسی کو آواز دے سکے مگر اسے ایسا لگا جیسے کسی نے اسے جکڑ رکھا ہو۔ ۔ فاطمہ وضو کر کے جیسے ہی واپس روم میں آئیں تو انہیں دل آویز کانپتی ہوئی نظر آئی۔۔۔ فاطمہ نے دل کا ہاتھ پکڑا جو بہت ٹھنڈا ہو رہا تھا۔۔۔ فاطمہ نے غور کیا تو انہیں محسوس ہوا کے دل کی سانس روک رہی ہے اسکا پورا چہرہ لال ہو گیا تھا فاطمہ نے گھبرا کر دل آویز کو جنجھوڑنا شروع کر دیا
دل آنکھیں کھولو دل کیا ہوا میری جان سانس لو۔ ۔۔
فاطمہ زور زور سے دل کو پکارنے لگیں۔ ۔فاطمہ کی آواز سن کر سمن اور رشیدہ بھی اندر آ گئے
اوہو۔ ۔ دل باجی کو کیا ہو گیا چھوٹی امی۔ ۔ ؟؟
سمن نے پریشانی سے پوچھا
پتا نہیں اسے سانس نہیں آرہی کچھ کرو۔ ۔ یہ آنکھیں بھی نہیں کھول رہی۔ ۔ جاو سلیم کو بلا کر لاو۔ ۔۔
فاطمہ نے چیختے ہوئے کہا
جج جی میں ابھی لائی۔۔۔
سمن تیزی سے باہر گئی۔ ۔ سلیم اعظم کے گھر تھا۔۔۔ مامون بھی ونہیں موجود تھا
ابا جی دل باجی آنکھیں نہیں کھول رہیں انکا سانس بھی نہیں آرہا آپ جلدی آئیں۔ ۔ ۔
سمن نے جلدی سے بتایا۔ ۔ سلیم کے کھڑے ہونے سے پہلے ہی مامون کھڑا ہوا وہ تینوں آگے پیچھے تیزی سے دل آویز کے پاس پہنچے۔ ۔۔ فاطمہ ابھی بھی دل کے پاس بیٹھ کر اسے اٹھانے کی کوشیش کر رہی تھیں
پلیزز مجھے جگہ دیں۔ ۔
مامون نے فاطمہ سے کہا۔ ۔ فاطمہ نے فوراً مامون کو جگہ دی۔ ۔۔ مامون نے دل کو دیکھا جسکا چہرہ بہت زیادہ لال ہو چکا تھا اور پھر اسکا ہاتھ تھاما جو بہت ٹھنڈا ہو رہا تھا۔۔۔مامون نے آنکھیں بند کیں اور دم کرنے لگا۔ ۔۔ دل آویز کا چہرہ اور ہاتھ دوبارہ سے نارمل ہونے لگے۔۔ دم ختم ہونے سے پہلے ہی دل آویز نے ایک دم لمبی سانس بھر کر اپنی آنکھیں کھولیں اور کھانسنے لگی
مامون نے سکون کا سانس لیا اور دل آویز کا ہاتھ چھوڑ دیا
دل میری جان کیا ہوا تھا تمہیں آنکھیں کیوں نہیں کھول رہی تھی۔ ۔۔
فاطمہ نے آگے بڑھ کر دل آویز کو گلے لگایا
مم مام وو وہ۔ ۔۔ وہ۔ ۔۔
دل آویز نے فاطمہ کے لگے لگ کر بولنے کی کوشیش کی مگر اس سے کچھ بولا ہی نہ گیا
سلیم انکل۔ ۔ آممم آپکے علاوہ ان سب کو کہیں کے یہ روم سے چلے جائیں میں دل آویز سے کچھ پوچھنا چاہتا ہوں۔ ۔
مامون نے آہستہ آواز میں سلیم سے کہا سلیم نے سر ہلایا
فاطمہ رشیدہ تم ابھی فل حال جاو مامون دل آویز کو دیکھ لے اس سے پوچھ لے کے کیا ہوا تھا پھر آجانا۔ ۔۔
سلیم نے سب سے کہا
نہیں میں اپنی بچی کو چھوڑ کر کہیں نہیں جاونگی۔ ۔۔
فاطمہ نے جواب دیا
پلیززز تھوڑی دیر کے چلی جاو میں ہوں اسکے پاس سمن جاو اپنی چھوٹی امی کو باہر لے جاو۔ ۔۔
سلیم نے سمن سے کہا۔ ۔ سمن اور رشیدہ بہت مشکل سے فاطمہ کو روم سے باہر لے گئیں
کیا ہوا تھا آپ کے ساتھ کیا کوئی ڈراونا خواب دیکھا آپ نے ؟
مامون نے فاطمہ کے جاتے ہی دل آویز سے نرمی سے پوچھا
مم میں وو وہ ایک قبر۔ ۔۔ مم مجھے بب بہت ڈر۔۔۔
دل آویز ہچکیاں لیتے ہوئے بولنے کی کوشیش کرنے لگی ابھی بھی وہ خوفزدہ تھی
ریلکس دل۔۔۔ مجھے دیکھیں میری طرف دیکھ کر بات کریں اب یہاں کوئی نہیں ہے وہ ایک خواب تھا اب آپ کو کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا آپ مجھے بتائیں کس نے آپکو ڈرایا ہے۔ ۔؟؟
مامون نے پیار سے پوچھا۔ ۔ دل نے اسکی طرف دیکھا تو وہ دل کو دیکھ کر نرمی سے مسکرا دیا دل کو حوصلہ ہوا
وہ میں اسی جنگل میں تھی جہاں آپ ہمیں لے کر گئے تھے۔ ۔۔ میرے پیچھے ایک عحیب سا آدمی بھاگ رہا تھا مجھے پکڑنے کے لیئے بہت گندھا تھا عجیب اففف مجھے اس سے ڈر لگ رہا تھا۔ ۔۔ مم میرے ساتھ کوئی نہیں تھا نہ مم مانا نہ بابا ۔۔ مم میں ڈر کر بھاگ رہی تھی تو ایک قبر کی طرح گھڈا تھا جو مجھے بھاگتے ہوئے نظر نہیں آیا اور مم میں گر گئی۔ ۔ اور وہ آدمی مجھ پر مٹی ڈالنے لگا مجھے زندہ دفنانے لگا میرا سانس رک رہا تھا میں مر رہی تھی اور وہ ہنس رہا تھا۔ ۔ اس نے مجھ پر بہت ساری مٹی ڈال دی اور میں دفن ہو گئی۔ ۔ مجھے لگا میں مر جاونگی۔ ۔۔مم مگر پھر کسی نے میرا ہاتھ پکڑ کر مجھے نکال دیا اور پھر میری آنکھ کھل گئی۔ ۔ مممگر وہ آدمی اس کی شکل مجھے بھول نہیں رہی مجھے بہت ڈر لگ رہا۔۔۔
دل آویز پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ ۔ مامون کا دل کیا وہ اسے اپنے سینے سے لگا کر چپ کروائے مگر وہ بے بس تھا
انکل پلیززز انہیں چپ کروائیں۔ ۔۔
مامون نے سلیم نے سے کہا سلیم نے اٹھ کر دل آویز کو گلے لگایا اور اسے چپ کروانے لگے
آپکو وہ آدمی کچھ نہیں کہہ سکتا۔۔۔ وہ صرف آپکو ڈرا رہا ہے۔ ۔۔ اب جب بھی ڈر لگے تو اس ڈر سے بھاگیں مت بلکے اس کے سامنے ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ ۔ کوشیش کیا کریں جب بھی خوف محسوس ہو آیت الکرسی یا چاروں قُل کا ورد کریں۔ ۔ نہ صرف آپکا ڈر ختم ہو گا بلکے ڈرانے والا خود بھی کمزور پڑ جائے گا۔ ۔۔ آپکو میری بات سمجھ آرہی ہے نا دل آویز؟ ؟۔
مامون نے پیار سے اسے سمجھایا
مم مگر کیسے؟؟ اس وقت انسان کے پاس سوچنے کا وقت ہی کہاں ہوتا ہے۔ ۔ خوف تو ایک ایسی کیفیت جس پر ہمارا بس کہاں چلتا ہے۔ ۔۔
دل نے خود کو سنبھال کر مامون سے سوال کیا
انسان کا بس ہر چیز پر چلتا ہے۔ ۔ ہم سب سے افضل مخلوق ہیں اپنے رب کی۔ ۔۔ ہر چیز ہمارے اختیار میں ہے بس مکمل یقین اور ایمان ہونا چاہیئے۔ ۔۔ آپ اس بار خود سے عہد کریں کے اب اگر آپکو اسطرح کا کوئی خواب آیا چاہے کوئی بھی آپکو مار ہی کیوں نا رہا ہو آپ ہمیشہ اللہ کے نام ورد کریں گیں۔۔۔
مامون نے اسے سمجھایا
ہاں میں کوشیش کرونگی۔۔
دل نے سر جھکا کر کہا
گُڈ۔ ۔۔ میں آپکو ایک پانی دونگا جب نیند آئے اس سے پہلے وہ پانی تھوڑا سا ضرور پینا ہے۔ ۔۔ ٹھیک ہے؟
مامون نے کہا
اوکے۔۔
دل نے سر ہلا کر کہا
آپ تو بہت بہادر ہیں کسی جانور سے بھی نہیں ڈرتیں اور آپکو تو جنگل میں کیمپینگ بھی کرنی تھی نا۔ ۔ جنگل میں تو ایسی مخلوقات سے مقابلہ کرنا پڑتا ہے۔ ۔۔ اسطرح ڈریں گیں تو کیسے رہیں گیں؟ ؟
مامون نے مسکرا کر اسے چھیڑا اور اسے اسکی کی گئیں باتیں یاد کروائیں۔ ۔ وہ چاہتا تھا کے اُس کے دماغ سے یہ خواب جلد از جلد نکل جائے اسی لیئے باتوں کو طول دے رہا تھا
مم میں ڈرتی نہیں ہوں مگر ایسے مخلوق سے تو کوئی بھی ڈر سکتا ہے نہ۔ ۔۔
دل نے معصومیت سے کہا۔۔۔ مامون کو دل پر ٹوٹ کر پیار آیا
مگر میں تو نہیں ڈرتا۔ ۔۔
مامون نے مسکرا کر کہا
آپکو تو جادو آتا ہے اس لیئے آپ بچ جاتے ہیں۔ ۔
دل نے منہ بنا کر کہا
ہاہا وہ ہی جادو تو آپکو بتا رہا ہوں۔ ۔ اللہ کا زکر کیا کریں یہ جادو کی طرح آپکا ڈر اور خوف دور کر دے گا۔ ۔۔
مامون کو دل کی بات پر بے اختیار ہنسی آئی ۔۔ سلیم بھی مسکرانے لگے۔۔ ۔ آج کتنے دن بعد دل پہلے کی طرح بحث کر رہی تھی
تو اگر میں یہ سب پڑھنے کی کوشیش کرونگی تو میں ٹھیک ہو جاونگی۔ ۔۔
دل نے مامون کو دیکھ کر پوچھا
بلکل ٹھیک ہو جائیں گیں بس اس یقین کے ساتھ پڑھنا ہے کے دنیا میں سب سے بڑی ذات صرف اللہ کی ہے اور وہ ہی بچانے والا ہے۔ ۔۔
مامون نے سمجھایا
ہممم میں اب یہ ہی کرونگی اور ڈرونگی بھی نہیں ۔۔۔
دل نے مسکرا کر کہا
ہمم ویری گُڈ ۔۔۔ آپ واقعی بہت بہادر لڑکی ہیں۔ ۔ اپنا خیال رکھیئے گا اللہ حافظ۔ ۔
مامون کو دل کی طرف سے تسلی ہوئی تو وہ اُس پر ایک نظر ڈالتا وہاں سے چلا گیا
















رات کا آدھا پہر تھا مامون زکر میں مصروف تھا کے اعظم بھاگتا ہوا سکے پاس آیا
مامون بابا۔ ۔۔۔ وو وہ دلاور۔۔۔
اعظم نے پھولی ہوئی سانس میں کہا
کیا کوا انہیں ؟
مامون نے فوراً آنکھیں کھول دیں
وہ اپنے کھوٹھے سے گر کر مر گیا۔ ۔۔ اسکی بیوی پاگلوں کی طرح چلا رہی ہے۔ ۔۔ پورے محلے میں خوف پھیلا دیا ہے اس نے عجیب جنونی ہو رہی ہے۔ ۔۔
اوہ۔ ۔۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔۔۔ چلیں میں دیکھتا ہوں۔ ۔۔
مامون کو تھوڑا دکھ ہوا مگر وہ جانتا تھا ایسوں کاموں کا انجام ایسا ہی ہوتا ہے۔ ۔۔
















تم سب مرو گے دیکھنا۔ ۔ کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑونگی۔ ۔۔ مامون بھی نہیں بچا سکے گا تم لوگوں کو۔ ۔ آتش بابا کی طاقت کے آگے مامون کی طاقت بہت چھوٹی ہے۔ ۔۔
رضیہ سلیم کے گھر کے باہر کھڑے ہو کر چلا چلا کر بول رہی تھی۔ ۔ فاطمہ اور رشیدہ نے خوف کے مارے دروازہ نہ کھولا جب کے سلیم اپنے غصے کو قابو کر رہا تھا ورنہ اسکا دل کر رہا تھا وہ اسی وقت اسے جان سے مار دے
ہاہاہا تمہاری بیٹی سے شروعات ہو گئی ہے سب سے پہلے وہ مرے گی کیونکے اسی میں تو مامون بابا کی جان بسی ہے دیوانہ ہو گیا وہ تم لوگوں کی دل آویز کا۔ ۔۔
رضیہ جنونی انداز میں چلا رہہ تھی۔ ۔ سلیم سے اور برداشت نہ ہوا وہ دروازہ کھول کر باہر نکل گئے
کیا بکواس کر رہی ہو۔ ۔ ہوش میں تو ہو۔ ۔
سلیم غصے سے دھاڑے
میں ہوش میں ہوں تم لوگ ہوش میں نہیں ہو۔ ۔۔ تمہارے مامون بابا نے ایویں وہ رومال سنبھال کر نہیں رکھا تھا وہ محبت کرنے لگا ہے دل آویز سے۔ ۔ سن لو تم سب بھی جو بہت نیک بنتا ہے نا وہ اندر ہی اندر اس بے حیا لڑکی سے محب۔ ۔۔
اس سے پہلے وہ اپنی بات مکمل کرتی ایک زور دار تھپڑ نے اسے چپ کروا دیا۔۔ وہ تھپڑ اتنا زوردار تھا کے وہ چکرا کر رہہ گئی سب گاوں والوں نے حیران ہو کر دیکھا
آپکی ہمت کیسے ہوئی یہ سب بکواس کرنے کی۔ ۔۔ آپ بیوہ ہوئیں ہیں اسی سے کچھ سیکھ جائیں۔ ۔ اللہ نے آپکو ایک اور موقع دیا ہے مگر آپ۔۔۔ آپ اپنی ان بیہودہ باتوں سے گاوں والوں کو پریشان کر رہی ہیں۔ ۔۔
مامون غصے سے دھاڑا۔۔۔ آج زندگی میں پہلی بار مامون نے کسی پر ہاتھ اٹھایا تھا
کیوں کیا میں جھوٹ کہہ رہی ہوں میں۔ ۔ کیا تم اس شہر کی لڑکی سے محبت نہیں کرتے وہ بے ہودہ لڑکی تمہاری۔ ۔۔۔
رضیہ ڈھیٹوں کی طرح پھر سے آگے بڑھ کر چیخنے لگی
آپ میرے ہاتھ سے قتل ہو جائیں گیں۔۔ اب اگر آپ نے اس کا زکر بھی کیا تو میں آپکو جان سے ماردونگا۔ ۔۔ میرے صبر کو اور مت آزمائیں دفعہ ہو جائیں یہاں سے۔ ۔ ۔۔
مامون نے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بنا کر خود کو اس کا گلا دبانے سے روکا
ہاہاہا۔ ۔۔ تم سب دیکھنا۔ ۔ تمہارا مامون بابا عشق و عاشقی میں پڑ گیا ہے اور بہت جلد اسکا انجام تم سب دیکھو گے۔ ۔۔ میں تمہیں تباہ کر دونگی مامون یاد رکھنا۔ ۔۔
رضیہ نے نفرت سے کہا اور ہجوم کے درمیان سے راستہ بناتی ہوئی وہاں سے چلی گئی۔ ۔۔ مامون نے گہرا سانس لے کر سب کو دیکھا جو مامون کو ہی دیکھ رہے تھے۔
آپ سب دلاور بھائی کے جنازے کا انتظام کریں پلیززز۔۔۔
مامون نے سختی سے کہا۔ ۔ سب وہاں سے جانے لگے۔ ۔ مامون نے پلٹ کر سلیم کو دیکھا جو ابھی بھی سکتے کے عالم میں مامون کو دیکھ رہے تھے۔ ۔۔
سلیم انکل یہ۔ ۔۔
مامون نے اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہا
کیا تمہاری وجہ سے دل آویز اس مشکل میں ہے؟
سلیم نے سختی سے مامون کی بات کو کاٹ کر پوچھا
مامون نے گہرا سانس لے کر سر جھوکا لیا
اوہ تو تم دل آویز سے۔ ۔۔ اور وہ شیطان تم سے دشمنی نکالنے کے لیئے میری بچی کا استعمال کر رہا ہے۔ ۔۔ اففف مامون یہ کیا کر دیا تم نے مجھے یہ امید نہیں تھی تم سے۔ ۔۔
سلیم نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا
یقین کریں انکل اگر مجھے معلوم ہوتا کے دل آویز میری وجہ سے اس مشکل میں پھنسے گی میں یہ سب ہونے سے پہلے ہی خود کو ختم کر لیتا۔۔۔ میرا بس چلتا تو میں اپنی زندگی سے وہ لمحے ہی نکال کر باہر پھیک دیتا جس دن میرے دل میں دل آویز کے لیئے یہ جزبات آئے۔ ۔۔ آپ جانتے ہیں میں۔ ۔۔ میں آپ سے زیادہ فکر مند ہوں۔ ۔۔ پلیزز سلیم اکل میرا ساتھ دیں۔ ۔۔ اس وقت ہم دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہے۔ ۔۔
مامون نے نرمی سے سلیم کو سمجھایا۔ ۔۔ سلیم نے ایک نظر اسے دیکھا اور غصے سے وہاں سے چلے گئے۔۔۔ سلیم کے اس روئیے سے مامون کو بہت دکھ ہوا۔
















رضیہ دلاور کا آخری دیدار کر کے سب کچھ چھوڑ کر آتش کے پاس چلی گئی
آتش بابا میرا شوہر کو کھا گیا وہ مامون وہ بچارا مامون کء ڈر سے ہی مر گیا۔ ۔ آپ مار ڈالیں اسے میں آج سے آپکی غلام ہوں۔ ۔۔
رضیہ نے روتے ہوئے کہا
ہاہاہاہا۔ ۔۔ تو تیرا پاگل شوہر مر گیا۔ ۔ سیدھی بات ہے جو ڈر گیا وہ مر گیا۔ ۔ اگر تُو بھی ڈرے گی مرے گی۔ ۔۔
آتش نے اہنی آنکھیں نکالتے ہوئے کہا
نن نہیں میں اس مامون سے نہیں ڈرتی۔ ۔ جیسا آپ نے کہا تھا میں نے ویسا ہی کیا ہورے گاوں کے سامنے اسے اور اسکی محبت کو زلیل کر کے آئی ہوں ان وہ منہ دیکھانے کے قابل نہیں رہا۔ ۔۔
رضیہ نے اپنا کارنامہ بتایا
واہ واہ۔ ۔۔ بہت اچھا کیا۔ ۔ اب تُو دیکھ میں ایسا وار کرونگا کے مامون خود تڑپتا ہوا تیرے پاس آئے گا۔۔۔
آتش نے تالی بجاتے ہوئے کہا
ہاں بس میں چاہتی ہوں مامون میرے سامنے تڑپ تڑپ کے مر جائے۔۔۔
رضیہ نے دانت پیستے ہوئے کہا
ہاہاہا تڑپ رہا ہے بہت تڑپ رہا جب اپنی محبوبہ کو دیکھتا ہے تو بہت تڑپتا ہے بچارا۔ ۔۔ اب تُو جا اور تماشا دیکھ۔ ۔۔
آتش نے اسے جانے کا اشارہ کیا اور وہ سر جھکائے وہاں سے چلی گئی۔ ۔
















دلاور کے نمازِ جنازہ کے بعد مامون نے سب گاوں والوں کو اکھٹا کیا تاکے وہ درس سے سکے۔۔
آج آپ سب کے سامنے ہی ہے کے اللہ نے کس طرح اپنا انصاف دیکھایا ہے۔ ۔۔ جب ہم اس سے مقابلا کرنے لگتے ہیں تو وہ ہمیں اسی طرح دنیا اور آخرت میں زلیل و خوار کرتا ہے۔ ۔۔ یہ دنیا کا مال کچھ بھی نہیں ہے۔ ۔ اصل مال تو دین کا علم ہے۔۔ اللہ سے دنیا کے مال کی خواہش نہ کریں جتنی لالچ کریں گے اتنا بے سکون رہیں گے۔۔ آپ جانتے ہیں ہم جب دعا مانگتے ہیں اور وہ قبول نہیں ہوتی تو ہم یہ سوچ کر خود کو تسلی دیتے ہیں کے شاید اللہ نے اس سے زیادہ بہتر سوچا ہے ہمارے لیئے۔۔۔ اور بیشک اللہ بہتر سے نوازتا بھی ہے۔۔ مگر جب ہم اللہ سے اسکے دین کے علم کی دعا مانگتے ہیں تو اِس دعا کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا کیونکے اس دعا سے زیادہ بہتر اور کیا ہوگا سب سے بہتریں دعا دین کا علم اور پر عمل کرنے کی توفیق مانگنا ہے۔ ۔۔اس سے لیئے بس یہ دعا مانگیں یہ کبھی رد نہیں ہوتی ۔۔۔ اپنی زندگیوں کو دین کے علم سے روشن کریں دنیا کا مال یہیں رہ جائے گا آپکے سامنے ہی دلاور بھائی نے کیا کچھ نہیں کیا وہ مال حاصل کرنے لے لیئے مگر آج۔۔۔ خیر اللہ ان پر اپنا رحم کرے۔۔۔
مامون نے گہرا سانس لے کر دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے
مامون بابا کیا آپ واقعی محبت جیسے چکر میں پڑ گئے ہیں۔۔۔؟؟
گاوں کے ایک آدمی نے تیزی سے پوچھا مامون نے سر اٹھا کر اسے دیکھا
آپ کا اس بات سے کیا تعلق ہے چاچا جی۔۔۔
مامون کو اسکا یہ سوال بہت زہر لگا
کیوں نہیں ہے ایک آپ ہی ہیں جس کی وجہ سے آتش بابا سے ہم محفوظ ہیں اگر آپ بھی ان چکروں میں پڑ گئے اور اپنی پیری چھوڑ دی تو ہم کہاں جائیں گے۔۔۔
اس آدمی نے جواب دیا
پہلی بات آپ سب میری وجہ سے نہیں اس پاک رب کی وجہ سے محفوظ ہیں جس پر آپ سب کا ایمان ہے۔۔ دوسری بات یہ کہ۔ ۔۔یہ میرا بہت ذاتی معاملہ ہے نہ تو میں یہ گاوں چھوڑ کر کہیں جاونگا اور نہ ہی آپ لوگوں کو۔۔ اور ہاں آتش جیسے شیطان کو ختم کر کے ہی میں چین سے بیٹھوں گا۔۔ خیر اب آپ سب دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائیں اور دلاور بھائی کے لیئے دعا کریں۔۔۔
مامون نے سنجیدگی سے کہا سب دعا کرنے لگے
















سلیم کو یہ تو معلوم ہو گیا تھا کے مامون کے دل میں دل آویز کے لیئے کوئی جزبہ ہے۔۔ مگر یہ ہی جزبہ دل کے لیئے مشکل بن گیا ہے یہ وہ بات آج پتا لگی تھی ۔۔ انہیں اس دن پر افسوس ہو رہا تھا جب وہ دل آویز کو لے کر اس گاوں آئے۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں تنہا بیٹھے آگے کے بارے میں سوچ رہے تھے کے سمن تیزی سے روم میں آئی۔۔۔
ابا جی دل باجی۔۔۔
سمن نے پریشانی سے کہا
سلیم جلدی سے اٹھ کر دل کے روم کی طرف بھاگے۔۔
دل آویز اپنے بال چہرے پر پھلائے عجیب طرح سے ہنس رہی تھی رشیدہ خوفزدہ سی کھڑی تھیں اور فاطمہ بار بار دل کے پاس جانے کی کوشیش کر رہی تھیں
دل میری جان یی یہ کیا کر رہی۔۔۔
سلیم نے پاس آنے کی کوشیش کی
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ ہاہاہاہا۔۔۔
دل بھاری آواز میں ہنسنے لگی۔۔ رشیدہ نے سمن کو اشارہ کیا کے وہ مامون کو بلا کر لائے۔۔ سمن تیزی سے روم سے باہر نکل گئی
دل آویز بیٹا۔۔ دیکھو میں آپکا بابا۔۔۔ اسطرح مت کرو مجھے اپنے پاس آنے دو۔۔
سلیم آہستہ آہستہ قدم اٹھاتے اس کے پاس آرہے تھے
ہممممممم۔۔۔۔
دل آواز نے گہرا سانس لیا
سلیم دل کے بلکل پاس پہنچ کر زور زور سے قُل پڑھنے لگا ۔۔ دل نے ایک زور دار تھپڑ سلیم کے منہ پر مارا۔۔ تھپڑ میں اتنی شدت تھی کے سلیم لڑکھڑا کر زمین بوس ہو گیا فاطمہ تیزی سے سلیم کے پاس پہنچ اسے اٹھانے لگیں۔۔۔
دل آویز بہت غور غور سے کمرے کو دیکھنے لگی۔۔ ایک جگہ اسے چھُری پڑی نظر آئی وہ اپنی جگہ سے اٹھی اور چُھری کو ہاتھ میں لے لیا۔۔۔ خوف کے مارے فاطمہ اور رشیدہ کی چیخیں نکل گئیں۔۔۔ سلیم نے دوبارہ کھڑے ہونے کی کوشیش کی۔۔۔
ہاہاہا سب مریں گے۔۔۔ آتش بابا کسی کو نہیں چھوڑے گا ہاہاہا۔۔۔
دل آویز زور زور سے ہنستے ہوئے کہنے لگی۔۔۔۔ اتنی دیر میں مامون سمن کے ساتھ روم میں آیا۔۔ دل کے ہاتھ میں چھُری دیکھ کر وہ بھی گھبرا گیا۔۔۔ سلیم اور فاطمہ مامون کی طرف دیکھنے لگے۔۔ دل آویز نے وہ چھُری مامون کو دیکھائی
آجا۔۔۔ بچا لے اپنی محبوبہ کو۔۔۔ ہاہاہا۔۔۔
دل آویز نے گاتے ہوئے کہا۔۔ مامون نے دائیں بائیں سر ہلا کر دل آویز کو روکنا چاہا ۔۔ وہ عجیب بے بسی محسوس کر رہا تھا۔۔۔ کیا کرے اور کیا نہ کرے اگر اسکے آگے بڑھنے سے یہ چُھری دل آویز نے اپنے گلے میں پھیر لی تو۔۔۔۔ یہ سوچ کر ہی مامون کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔۔۔
