Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Episode 12)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Episode 12)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
مامون خود ہی سیدھا سلیم کے گھر پہنچ گیا۔ ۔ ایک بار وہ گھر دیکھ چکا تھا اس لیئے اس نے سلیم کو زحمت نہیں دی۔ ۔۔ سلیم نے اوفس سے چُھٹی لی تھی۔۔۔سلیم نے ہی دروازپ کھولا اور اپنے سامنے کھڑے مامون کو دیکھ کر خوش ہو گیا۔ ۔۔ دونوں آپس میں گلے ملے۔ ۔۔ سلیم مامون کو لیئے اندر آیا جہاں دل آویز بیڈ سے ٹیک لگائے آنکھیں بند کیئے لیٹی تھی۔ ۔ مامون کی نظر جیسے ہی دل آویز کے زرد چہرے پر پڑی تو مامون کے قدم ایک پل کو تھم سے گئے۔ ۔
کیا اس کے معصوم چہرے کو میری ہی نظر لگ گئی۔ ۔۔۔
مامون نے قرب سے سوچا۔۔۔۔ دل آویز کی یہ حالت دیکھ کر مامون اب حقیقتً پریشان ہو گیا تھا
کیا ہوا مامون اندر آو۔ ۔ دل آویز شاید سو گئی ہے ۔۔۔
سلیم نے مامون کو مخاطب کیا وہ خاموشی سے اندر آیا اور اپنی نظریں دل کے چہرے سے ہٹا لیں
دل بیٹا دیکھو مامون آیا ہے۔ ۔۔
سلیم نے جھک کر دل کے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا
دل نے آنکھیں کھول کومامون کو دیکھا اور ہلکا سا مسکرائی
اسلام وعلیکم کیسی ہیں آپ؟؟
مامون نے بھی مسکرانے کی کوشیش کی
ٹھیک تھی مگر پتا نہیں اچانک کیا ہو گیا۔ ۔۔ آپ کیسے ہیں۔ ۔
دل آویز اٹھ کر بیٹھ گئی۔ ۔ مامون اور سلیم بھی دل آویز کے سامنے پڑی کرسیوں پر بیٹھ گئے
الحمداللہ ٹھیک ہوں۔ ۔ کچھ بھی تو نہیں ہوا ہے آپکو۔ ۔ ۔ ان شاءاللہ جلد ٹھیک ہو جائیں گیں۔ ۔
مامون نے تسلی دی
ہممم مگر بابا مجھ سے زیادہ پریشان ہیں ۔۔۔ بابا کہتے ہیں مجھ پر کسی نے جادو کروایا ہے۔ ۔ مجھ پر کوئی جادو کیوں کروائے گا؟ ؟ میں نے تو کسی کو کچھ نہیں کہا۔ ۔
دل آویز نے معصومیت سے پوچھا
ہممم بس انسان بہت خود غرض ہو گیا ہے۔ ۔ مگر آپ فکر نہ کریں میں کچھ نہیں ہونے دونگا آپکو ان شاءاللہ۔ ۔۔
مامون زبردستی مسکرایا
اپنا ہاتھ آگے کریں۔ ۔۔
مامون نے کہا
دل آویز نے اپنا ہاتھ اسکے سامنے کیا۔ ۔ مامون نے اسکی شہادت کی انگی تھامی اور آنکھیں بند کر لیں۔ ۔
آنکھیں بند کرتے ہی مامون کے سامنے قبرستان آیا۔ ۔۔ مامون نے ارد گرد دیکھا تو وہاں سناٹا تھا۔ ۔ مامون قبروں سے بچتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔ ۔ ایک قبر پر ایک آدمی بیٹھا تھا قبر کی مٹی باہر پڑی تھی شاید جیسے ابھی کھودی ہو۔ ۔۔ مامون آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ہوا قبر کی طرف بڑھنے لگا کے ایک دم اس آدمی نے اپنی پوری گردن گھوما دی اور زور زور سے ہسنے لگا۔ ۔۔ مامون بنا کسی خوف کے چلتا رہا۔ ۔ اب اس آدمی کا سر تیزی سے گھومنے لگا صرف سر ہی گھوم رہا تھا دھڑ ونہیں تھا مگر مامون زکر کرتا ہوا اس کے نزدیک پہنچ گیا
کون ہو جاو یہاں سے۔ ۔۔
مامون نے سختی سے کہا
موت ہوں ہاہاہا تم دونوں کی موت ہوں۔ ۔۔
عجیب بھاری سی آواز میں اس آدمی نے جواب دیا ۔۔
مامون نے ضبط کرتے ہوئے قبر میں جھانکا وہاں دل آویز کا بے جان وجود پڑا تھا۔ ۔ مامون کے قدم لڑکھڑائے اور وہ بھی اس قبر میں گر گیا۔ ۔۔۔
مامون نے ایک دم اپنی آنکھیں کھول دیں۔ ۔ اس کی آنکھیں سرخ انگارہ ہو رہی تھیں وہ یک ٹک دل آویز کو دیکھنے لگا
بابا مجھے انکی آنکھوں سے ڈر لگ رہا۔ ۔۔
دل آویز نے اپنے پاس بیٹھے ہوئے سلیم کا ہاتھ تھام کر کہا
مامون سب ٹھیک ہے؟
سلیم نے پریشانی سے پوچھا
مامون نے دوبارہ آنکھیں بند کر کے کھولیں اور گہرا سانس لیا۔ ۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ بتاتا۔۔ فاطمہ ہاتھ میں سوپ کا باول لیئے روم میں آئیں مگر کسی اجنبی کو بیٹھے دیکھ کر سوالیہ نظروں سے سلیم کو دیکھنے لگیں۔ ۔۔ سلیم نے گھبرا کر مامون کو دیکھا مامون کھڑا ہوا اور سلام کیا
والیکم اسلام۔ ۔۔ میں نے ہہچانا نہیں آپکو؟ ؟
فاطمہ نے مسکرا کر پوچھا
یہ مامون ہے میں نے بلایا ہے اسے۔۔۔ دل آویز کے علاج کے لیئے۔ ۔۔
سلیم نے سنجیدگی سے بتایا
کیا مامون وہ گاوں والا مامون۔ ۔ میں نے آپ کو منع کیا تھا اب گاوں اور اس میں رہنے والے لوگوں کا زکر بھی نہیں سنا چاہتی آپ نے کیوں بلایا اسے۔ ۔۔ میں اپنی بچی کا علاج خود کروانگی۔ ۔ میں نے ایک آدمی کو بلا لیا ہے وہ کرے گا دل کا علاج۔ ۔۔
فاطمہ نے چلاتے ہوئے کہا
تم انسلٹ کر رہی ہو مامون کی۔ ۔۔ مجھے مامون کے علاوہ کسی پر اعتبار نہیں سمجھی تم۔ ۔ یہ ہی اسکا علاج کرے گا۔ ۔۔
سلیم بھی دھاڑا
آپ نے جو اپنی من مانی کرنی تھی کر لی۔ ۔ میرے منع کرنے کے باوجود آپ اس گھٹیا گاوں میں میری بچی کو لے کر گئے۔ ۔ وہاں سب جاہل لوگ رہتے ہیں دیکھ لیا آپ نے اسکا انجام۔ ۔ اب میں خود کروانگی دل کا علاج۔۔
فاطمہ نے غصے سے کہا دل نے پریشان ہو کر مامون کو دیکھا جو اپنا غصہ قابو کرنے کی کوشیش میں ہاتھوں کی مُٹھی بنائے کھڑا تھا مامون کو اپنے گاوں سے بہت پیار تھا۔ ۔۔ اسے اپنی بیعزتی برداشت تھی مگر گاوں کی نہیں صرف دل آویز کی خاطر وہ اپنے گاوں کی بیعزتی بھی برداشت کر رہا تھا
فاطمہ اب ایک لفظ مت بولنا ورنہ۔ ۔
سلیم نے دانت پیستے ہوئے کہا
ورنہ کیا۔ ۔۔
پلیززز آپ دونوں آپس میں مت لڑیں۔ ۔۔ سلیم انکل اگر کوئی ایسا ہے جو دل آویز کا علاج کر سکتا ہے تو مجھے اعتراض نہیں یہ ماں ہیں اپنی بچی کے لیئے اچھا ہی فیصلہ کرینگی۔ ۔ میرے خیال سے اب میرا مزید یہاں ٹہرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔۔۔
مامون نے سنجیدگی سے کہا اور بیگ اٹھا کر دل آویز کو ایک نظر دیکھا
میری دعائیں آپ کے ساتھ ہیں۔ ۔۔
مامون نے پیار سے کہا۔ ۔۔۔ دل آویز اسے روکنا چاہتی تھی مگر وہ بے بسی سے سر جھکا گئی۔ ۔۔ اس سے پہلے سلیم مامون سے معزرت کرتے مامون تیزی سے کمرے سے نکل گیا۔ ۔۔ سلیم نے غصے سے فاطمہ کو دیکھا اور مامون کے ہیچھے بھاگے
مامون مامون۔۔۔رکو۔۔
سلیم نے مامون کو پیچھے سے پکارا
میں شرمندہ ہوں تم سے۔ ۔ پلیززز مجھے معاف کر دو۔ ۔۔
مامون نے پلٹ کر سلیم کو دیکھا
کوئی بات نہیں انکل میرا مقصد صرف یہ ہے کے دل آویز ٹھیک ہو جائے باقی۔ ۔۔۔ میں اسی محلے کی مسجد میں جا رہا ہوں۔ ۔۔ کوئی کام ہو مجھے بتائے گا۔ ۔۔
مامون نے ہاتھ ملایا اور وہاں سے چلا گیا
















فاطمہ نے اپنے رشتے داروں کے بتائے ہوئے ایک بابا جی کو بلوا لیا۔ ۔۔ جو ایک درمیانی عمر کا آدمی تھا۔ ۔ ہلکی سی داڑھی اور لمبے بال تھے ہاتھوں کی ہر انگلی میں انگھوٹی پہن رکھی تھی اور گلے میں بہت تعویز لٹکائے ہوئے تھے۔ ۔ وہ بلکل ایل ملنگ لگ رہا تھا۔۔۔ دل آویز کو اسے دیکھ کر عجیب سا خوف آیا۔ ۔۔۔
تم سب کمرے سے جاو۔ ۔۔
اس آدمی نے سلیم اور فاطمہ سے کہا
ہم کیوں جائیں ہمارے سامنے کرو جو کرنا ہے۔ ۔۔
سلیم نے سختی سے جواب دیا اس آدمی نے غصے سے سلیم کو دیکھا
ارے سلیم چلیں آپ۔۔۔ بابا جی اکلیلے میں علاج کرینگے کسی کے سامنے یہ سب نہیں کر سکتے۔ ۔۔
فاطمہ زبردستی سلیم کا ہاتھ تھامے روم سے باہر لے گئی
اس آدمی نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ بند کی خوف کے مارے دل آویز کی آواز حلق میں ہی پھنس گئی۔ ۔۔۔ جتنا وہ ان سب چیزوں کے خلاف تھی آج یہ سب کروانے پر مجبور ہو گئی تھی دل آویز کو بے اختیار رونا آیا۔ ۔۔
اس آدمی نے دل آویز کے ماتھے پر اپنے دونوں ہاتھ رکھے اور کچھ بُڑبُڑانے لگا۔ ۔۔۔ دل آویز کی آنکھیں بوجھل ہونے لگیں۔ ۔۔۔ پھر وہ آدمی اپنے ہاتھ دل آویز کے چہرے سے پھیرتا ہوا کندھے پر لے آیا اور دونوں کندھوں کو زور سے پکڑ کر کچھ پڑھنے لگا۔ ۔۔۔ دل آویز پر عجیب سی غنودگی چاہنے لگی۔ ۔۔۔ اب وہ آدمی دل کے ساتھ کیا کر رہا ہے کہاں ہاتھ لگا رہا ہے دل کو کچھ پتا نہ لگا۔ ۔۔ جبکے روم سے باہر کھڑے سلیم بیچینی سے چکر کاٹ رہے تھے۔ ۔ آخر مامون بھی تو دم کرتا تھا۔ ۔ وہ کبھی تنہائی میں یہ سب نہیں کرتا تھا۔ ۔ سلیم کو یہ بات بہت پریشان کر رہی تھی۔ ۔۔ آخر سلیم کے صبر نے جواب دے دیا اور وہ جلدی سے روم کی طرف چلا گیا فاطمہ بھی اسکے پیچھے آگئی
سلیم جیسے ہی روم میں داخل ہوئے تو دل آویز پُرسکون سی ہو کر لیٹی ہوئی تھی کمرے کی لائٹ بھی جل رہی تھی اور وہ آدمی اپنی جیب سے تعویز نکال کر دل آویز کو پہنا رہا تھا
یی یہ کیا کر رہے ہیں آپ۔ ۔۔؟؟
سلیم نے تیزی سے آگے بڑھ کر پوچھا
یہ تعویز ہے یہ اسکی حفاظت کرے گا اسے اتارنا مت اگر یہ اتارا تو نقصان کا زمیدار میں نہیں ہونگا۔ ۔۔۔
اس آدمی نے جواب دیا اور اپنا سامان اٹھا کر چلا گیا سلیم کو نہ جانے کیوں وہ آدمی ٹھیک نہیں لگا فاطمہ اس آدمی کو دروازے تک چھوڑ کر واپس روم میں آئیں
کیا ہوا سلیم۔ ۔۔ پریشان کیوں ہیں؟
فاطمہ نے فکر مندی سے پوچھا
یہ آدمی مجھے ٹھیک نہیں لگا۔ ۔۔۔
سلیم نے سوچتے ہوئے جواب دیا
آپ کو بس گاوں والے جاہل لوگ ہی ٹھیک لگتے ہیں جن کی وجہ سے آج ہم مشکل میں ہیں۔ ۔۔ آج کل اسی طرح علاج ہوتا اس کا ۔۔۔۔۔
فاطمہ نے تیکھے انداز میں جواب دیا۔ ۔
ماما بابا۔ ۔۔
دل آویز نے آنکھیں کھول کر دونوں کو پکارا
میری بچی کیسی ہو میری جان ؟
فاطمہ دل آویز کے پاس بیٹھ کر پیار سے پوچھنے لگیں
اب اچھا فیل کر رہی ہوں ماما ریلکس ہو گئی ہوں جو گھبراہٹ پہلے ہو رہی تھی وہ نہیں رہی۔ ۔۔ کہاں گئے وہ۔ ۔۔؟
دل نے مسکرا کر بتایا۔ ۔۔ فاطمہ نے ایک طنزیہ نظر سلیم پر ڈالی
دیکھا میری جان کتنا اثر ہے انکے علاج میں۔ ۔ کل دوبارہ آئیں گے وہ۔ ۔ یہ تعویز کبھی مت اتارنا اچھا۔ ۔۔
فاطمہ نے اسکے گلے میں موجود تعویز کی طرف اشارہ کر کے کہا
کل آئیں گے اب۔ ۔۔ بہت اچھے تھے وہ۔ ۔۔
دل آویز نے مایوسی سے کہا سلیم نے چونک کر دل کو دیکھا۔ ۔۔ وہ آدمی کہیں سے ایسا نہیں تھا کے اچھا لگے پھر دل آویز اسکے لیئے اسطرح کیوں کہ رہی تھی
میں جانتی ہوں بہت اچھے بابا ہیں بہت سے لوگ ٹھیک کیئے ہیں انہوں نے اب تم کچھ کھا لو۔ ۔۔
فاطمہ نے پیار سے دل آویز کے بال ٹھیک کیئے جب کے سلیم کسی گہری سوچ میں گم رہے
















مامون نے مسجد میں پناہ لے لی۔۔۔ دل آویز کی طرف سے وہ مسلسل پریشان رہا اسکا بس نہیں چل رہا تھا وہ دل آویز کو وہاں سے اپنے ساتھ لے آتا ایک تو احساسِ ندامت بھی تھا کے کاش وہ اپنا رومال اسطرح نا رکھتا یا دل آویز کےخون کے نشان ہی صاف کر لیتا۔ ۔۔ آج اسے اپنی اس غلطی پر شدید غصہ آرہا تھا۔ ۔۔ واقعی یہ خیال یقینً شیطان نے ڈالا تھا جب ہی تو آج دل آویز مصیبت میں تھی۔ ۔ وہ کافی دیر سے مسجد میں آنکھیں بند کیئے بیٹھا تھا مسجد کے امام صاحب اسی کو دیکھ رہے تھے۔ ۔۔ مامون بہت الگ سا لگا تھا انہیں
بیٹا کہاں سے آئے ہو کراچی کے نہیں لگتے؟
امام صاحب نے نرمی سے پوچھا
مامون نے آنکھیں کھول کر انہیں دیکھا
جی گاوں سے آیا ہوں۔ ۔۔
مامون نے مختصر جواب دیا
اچھا۔ ۔۔ تو یہاں کوئی رشے دار رہتا ہے؟
نہیں بس کسی نے بلایا تھا اس لیئے آگیا۔ ۔۔
مامون کے لہجے میں اداسی تھی
اچھا۔ ۔۔ کچھ خاص سے لگتے ہو مجھے۔۔ کیا کوئی علم والے ہو۔ ۔۔؟
امام نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا
خاص تو نہیں بہت عام سا ہی ہوں۔ ۔ بس اللہ نے نوازہ ہے کچھ علم۔ ۔۔
مامون پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا
تو اتنے مایوس کیوں لگ رہے ہو؟
مایوس نہیں ہوں شرمندہ ہوں۔ ۔۔ اسکے دیئے علم کو نہ استعمال کرنا آرہا ہے نا ہی اس سے کسی کو فائدہ پہنچا پا رہا ہوں۔ ۔ شاید میں اس لائک نہیں تھا ۔۔۔
مامون نے اپنا سر ہاتھوں میں تھام کر کہا
ایسا نہیں ہے بیٹا وہ انہی کو چُنتا ہے جو اس لائک ہوتے ہیں بھلا وہ زات کبھی غلط چُناو کر سکتی ہے؟ ؟ بس تمہاری آزمائیش ہے صبر اور ہمت کی آزمائیش۔۔۔ شرمندہ مت ہو شکر کرو اور ہمت پکڑو پھر سے۔ ۔۔ ان شاءاللہ وہ کامیاب کرے گا۔ ۔۔
امام صاحب نے حوصلہ دیا۔۔۔ مامون امام کے پُر نور چہرے کو دیکھنے لگا
آپ سے مل کر اچھا لگا امام صاحب۔ ۔۔
مامون نے مسکرا کر کہا
مجھے بھی بہت اچھا لگا تم سے مل کر۔ ۔۔
امام صاحب نے مسکرا کر جواب دیا
کیا میں ایک دو دن یہاں رہہ سکتا ہوں۔ ۔؟
مامون نے ہمت کر کے پوچھا
یہ میرا گھر نہیں ہے اللہ کا گھر ہے جتنے مرضی دن چاہو رہو۔ ۔ میں تمہارے لیئے کھانا منگواتا ہوں۔ ۔
امام صاحب نے مامون کے کندھے تھپتھپائے اور مامون کے لیئے کھانا منگوانے چلے گئے
















مامون نے رات مسجد میں ہی گزاری امام صاحب رات کا کھانا دے کر گھر چلے گئے تھے۔۔مامون آدھی رات تک پڑھائی کرتا رہا۔ ۔۔ زکر کرتے کرتے اسکی آنکھ لگ گئی وہ کل سے مسلسل جاگ رہا تھا۔ ۔۔۔ مگر کچھ ہی گھنٹوں بعد وہ گھبرا کر اٹھ گیا۔ ۔۔ اپنے آس پاس دیکھا تو سناٹا تھا۔ ۔۔ اسے شدید گھبراہٹ ہوئی۔ ۔ اس نے اٹھ کر ایک ساتھ دو پانی کے گلاس پیئے اور اپنے خواب کے بارے میں سوچنے لگا۔ ۔۔ کل سے اسکی ملاقات سلیم سے نہیں ہوئی تھی۔ ۔۔ سلیم شاید دل کے پاس تھے اس لیئے مسجد بھی نہیں آئے نہ ہی مامون گیا۔ ۔ مگر پھر مامون نے فیصلہ کیا کے وہ دل آویز کو دیکھنے جائے گا۔ ۔۔ چاہے فاطمہ اسے دوبارہ زلیل ہی کیوں نہ کریں۔ ۔۔
















اور پھر مامون فجر کی نماز ادا کرتے ہی سلیم کے گھر کی طرف روانہ ہو گیا اس بار دروازہ علی نے کھولا ۔۔۔
علی بہت خوشی سے مامون سے ملا اور اسے اندر لے آیا مگر اندر آنے کے بعد اسکا سامنا سب سے پہلے فاطمہ سے ہوا جو ہاتھ میں تسبیح پکڑے کچھ پڑھ رہی تھیں مامون کو دیکھتے ہی غصے سے کھڑی ہو گئیں۔ ۔۔
تم ۔۔ تم گئے نہیں اپنے گاوں۔ ۔ کیوں آئے ہو واپس۔ ۔۔
فاطمہ نے غصے سے کہا
میں سلیم انکل سے ملنے آیا ہوں۔ ۔۔
مامون نے نرمی سے جواب دیا
ہنہ نہیں ہے وہ یہاں نہ میں چاہتی ہوں کے تم ان سے ملو۔ ۔۔
فاطمہ نے منہ بنا کر جواب دیا
جس بندے کو آپ بلا رہی ہیں وہ ٹھیک نہیں ہے دل آویز کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے اس لیئے۔ ۔۔
بس خاموش۔ ۔۔ گاوں کے جاہل لوگ تمہاری بات سنتے ہونگے مگر ہم پڑھے لکھے لوگ ہیں ۔۔
فاطمہ نے مامون کی بات کاٹ کر کہا
میں آپ سے تمیز سے بات کر رہا ہوں تو بہتر ہے آپ اسی طرح جواب دیں۔ ۔۔اگر آپ واقعی پڑھی لکھی ہیں تو۔ ۔۔
مامون کو عموماً اتنا غصہ آتا نہیں تھا اگر آتا بھی تھا تو وہ کنٹرول کر لیتا مگر فاطمہ کی باتوں پر اسے شدید غصہ آرہا تھا وہ چاہ کر بھی کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا
جو جس لائک ہوتا ہے اس سے اسی طرح بات کی جاتی ہے سمجھے۔۔۔ اور جس آدمی کے خلاف تم بول رہے ہو اس کے ایک ہی دم نے بہت اثر کیا ہے دل آویز آج بہت مطمئن اور ٹھیک ہے۔ ۔۔ ہنہ تم اگر کچھ کر سکتے تو زینت کو نہ بچا لیتے۔ ۔۔
فاطمہ نے طنزیہ کہا۔ ۔ مامون نے غصے سے اپنے ہاتھ کی مُٹھی بنائی
آپ حد سے بڑھ رہی ہیں۔ ۔ میں بہت عزت کرتا ہوں آپکی۔ ۔ زینت باجی کے لیئے میں جو کر سکتا تھا وہ کیا۔۔۔ بچانے والی زات اللہ کی ہے اور اب دل آویز کے لیئے بھی میں وہ سب کرونگا جو میں کر سکتا ہوں۔ ۔ بہت جلد آپ کی آنکھ سے یہ پٹی اتار دونگا۔ ۔۔ اللہ حافظ۔۔۔
مامون نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔ ۔ علی پریشا۔ سا ہو کر مامون کے پیچھے بھاگا
مامون بھائی ماما کی بات کا برا نہ مانیں وو وہ۔ ۔۔
کوئی بات نہیں علی۔ ۔۔ میں پھر آونگا تم بس سلیم انکل کو کہنا کے جتنی جلدی ہو سکے مسجد میں مجھ سے ملنے آجائیں میں ویٹ کر رہا ہوں۔ ۔
مامون نے پیار سے علی کے گھنے بالوں کو چھیڑا اور وہاں سے چلا گیا
















علی نے سلیم کے اٹھتے ہی ایک ایک بات سلیم کو بتائی ۔۔ سلیم کو بھی فاطمہ پر بہت غصہ آیا مگر وہ اس سے بحث میں الجھنے کے بجائے فوراً مامون کے پاس چلا گیا
آیم سوری مامون مجھے پتا چلا فاطمہ نے تم سے۔۔
سلیم نے شرمندہ سے لہجے میں کہنا چاہا
کوئی بات نہیں سلیم انکل آپ شرمندہ نہ ہوں پلیزز۔ ۔
مامون نے سلیم کی بات کاٹتے ہوئے کہا
میں نے آپ کو ایک ضروری بات بتانے کے لیئے بلایا ہے۔ ۔۔ جس آدمی سے آپ لوگ علاج کروا رہے ہیں وہ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہا۔ ۔۔
مامون نے پریشانی سے کہا
ہاں مامون مجھے بھی وہ بندہ صحیح نہیں لگا مگر فاطمہ مانتی ہی نہیں۔ ۔ اور اوپر سے دل آویز اسکی اتنی تعریفیں کر رہی ہے عجیب گم سم سی ہو گئی ہے جو بھی بات کرو اسکے جواب میں اس آدمی کا زکر کرنے لگتی ہے۔ ۔۔
سلیم نے تفصیل بتائی
وہ بہت گھٹیا انسان ہے۔ ۔۔ دل آویز کو جو تعویز اس نے پہنایا ہے وہ اسے نقصان پہنچا رہا ہے وہ بندہ دل آویز کو اپنا دیوانا بنا رہا ہے۔ ۔۔ وہ دل آویز کو اپنی طرف اتنا مائل کر دے گا کے آپ سب کو ساری زندگی اسکا محتاج ہونا پڑے گا۔ ۔ اب بھی وقت ہے۔۔۔ دل آویز کا وہ تعویز اتاریں اور اس آدمی کو فارغ کریں۔ ۔۔
مامون نے ایک ہی سانس میں ساری بات بتائی
اوہ تو جبھی وہ۔ ۔۔اللہ کیسے کیسے لوگ ہیں یہاں۔۔ ۔۔
سلیم نے پریشانی سے سر تھاما
سلیم انکل کسی بھی انسان پر بھروسا نہ کریں۔ ۔ جو ایک جوان لڑکی کے ساتھ تنہائی مانگے وہ کیسے ایک اچھا مسلمان ہو سکتا ہے۔ ۔۔ جن کے پاس علم ہو اور طاقت ہو وہ تنہایوں کے محتاج نہیں ہوتے۔ ۔۔ خیر جس وقت وہ آئے مجھے بلوا لیجئے گا۔ ۔۔ فاطمہ آنٹی کے سامنے رنگے ہاتھوں پکڑواونگا میں اسے۔ ۔۔
مامون نے سلیم کو تسلی دی۔ ۔ سلیم کو تھوڑی تسلی ہوئی اور واپس گھر چلے گئے
