Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Episode 19)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Episode 19)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
مامون نے تہجد ادا کی اور آرام کرنے کی غرض سے اپنی چادر بچھا کر لیٹ گیا۔ ۔ ابھی چند ہی لمحے ہوئے تھے کے دل آویز چیختے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی۔
کیا ہوا دل آویز۔۔۔
مامون تیزی سے اٹھ کر اس کے پاس آیا
وو وہ یی یہ کھڑکی اسے بند کر دیں وو وہاں کک کوئی ہے۔ ۔۔
دل آویز گہرے گہرے سانس لے کر بولنے لگی
وہاں کوئی نہیں ہے دل۔ ۔ دیکھو یہاں صرف میں ہوں۔ ۔۔
مامون نے اس کے دونوں ہاتھ تھام کر کہا
نن نہیں آپکو نظر نہیں آرہا میں نے ابھی دیکھا ہے۔ ۔۔۔
دل آویز نے ڈر کر کہا
آپ نے کوئی خواب دیکھا ہے۔ ۔۔ ریلکس میں ابھی دم کر دیتا ہوں آپ بہتر محسوس کریں گیں۔ ۔
مامون نے پیار سے بہلاتے ہوئے کہا
دل آویز خوفزدہ نظروں سے کھڑکی کی طرف دیکھتی رہی
اب آپ لیٹ جائیں اور آرام کریں میں یہیں ہوں آپکے پاس۔ ۔۔
مامون نے نرمی سے کہا اور خود سامنے پڑی کُرسی پر بیٹھنے لگا
نن نہیں آپ یہاں میرے پاس بیٹھیں۔۔۔
دل آویز نے ایک دم مامون کا ہاتھ کھینچ کر اسے اپنے پاس بیٹھا لیا اور ڈر کر اسکے سینے سے لگ گئی۔ ۔۔ مامون کا تو گویا سانس لینا مشکل ہو گیا
آمممم دل پلیززز کچھ نہیں ہوتا۔۔۔ مم میں آپ کے پاس ہی ہوں۔ ۔
دل آویز کو اپنے اتنا قریب پاکر مامون کو ایک خشگوار سا احساس ہونے لگا۔ ۔۔ مگر اگلے ہی لمحے اسے اپنے کیئے گئے وعدے یاد آگئے اس نے بہت مشکل سے دل آویز کو خود سے الگ کیا
آپ یہاں سے کہیں نہیں جائیے گا۔ ۔۔
دل آویز نے معصومیت سے کہا
میں کہیں نہیں جا رہا۔ ۔ کسی اور موقع پر یوں پاس آتی تو۔۔۔ خیر آپ بے فکر ہو جائیں۔ ۔ میں جاگ رہا ہوں کوئی بھی آپ تک نہیں آسکتا ۔۔۔ لیٹ جائیں شاباش۔ ۔
مامون نے بچوں کی طرف اسے بہلایا اور اس کے کندھوں سے پکڑ کر لیٹا دیا۔ ۔۔ دل آویز نے مامون کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا جیسے اسے ڈر ہو کے وہ کہیں چلا نہ جائے۔ ۔ مامون اسکے تکیئے والی سائیڈ پر بیٹھ گیا جبکے دل دوبارا سے سونے کی کوشیش کرنے لگی
















آج اگر یہ کام نہ ہوا نہ معافی۔ ۔ تو یاد رکھنا تیرا پورا گھر برباد کر دونگی۔ ۔۔
رضیہ نے معافی کو خونخوار نظروں سے گھورتے ہوئے کہا
جج جی مم میرا کیا قصور ہے میں نے تو پوری کوشیش کی تھی رضیہ باجی۔ ۔
معافی نے ڈرتے ہوئے کہا
آج کسی بھی طرح کچھ بھی کر کے یہ کپڑے دل تک پہنچا دے سمجھی۔ ۔۔
رضیہ نے ہاتھ میں پکڑا ایک خوبصورت سا جُوڑا اسکی طرف کیا
اگر انہوں نے یہ بھی لیجانے سے منع کر دیا تو۔ ۔۔
معافی نے ڈرتے ہوئے پوچھا
تو سمجھ لے میں اپنے ساتھ ساتھ تجھے بھی ختم کر دونگی۔ ۔ اب جا۔ ۔۔
رضیہ نے چلاتے ہوئے کہا معافی ڈر کر وہاں سے چلی گئی
















کل رات کیا ہوا تھا ڈر کیوں گئی تھی؟ ؟
مامون نے ناشتا ختم کرتے ہی پوچھا
پتا نہیں عجیب سا خواب آیا تھا یاد ہی نہیں آرہا اب۔۔۔
دل آویز نے بے دلی سے ناشتا کرتے ہوئے بتایا
ہممم۔۔۔ رات کو سونے کی دعائیں پڑھیں تھیں؟
مامون نے پوچھا
اوہ یس۔ ۔۔ وہ تو میں بھول ہی گئی تھی کل رات اتنی جلدی میں نیند آئی کے یاد ہی نہیں رہا۔ ۔۔ اسی لیئے میں ڈر گئی تھی۔ ۔۔
دل نے سر پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا
اور آپکا یہ ڈر میرے لیئے امتحان بن گیا تھا۔ ۔۔
مامون نے معنی خیز انداز میں کہا
کیا مطلب؟ ؟
دل نے چونک کر پوچھا
اب آپ ڈرتے ہوئے میرے گلے لگ جائیں گیں تو میں اپنے وعدے کیسے نبہاونگا ؟؟
مامون نے مسکرا کر کہا
وو وہ بے خیالی میں ہو گیا ورنہ۔ ۔۔
دل آواز نے گڑبڑا کر کہا
ہاہا بے خیالی آپکی تھی اور اگر میں بے اختیار ہو جاتا تو؟ ؟
مامون مخنے شرارتی نظروں سے اسے دیکھا
تو ۔۔۔۔ تو میری ماما ہی آپ سے نبٹ لیتیں۔ ۔۔
دل آویز نے بھی چھیڑا۔ ۔۔
امم ہنہ۔ ۔۔ ہر وقت اپنی ماما کی دھمکی مت دیا کریں خیر دیکھ لیں گے اُنہیں بھی۔ ۔۔۔
مامون نے طنزیہ کہا
لیٹس سی۔ ۔۔ خیر ماما لوگ کب آئیں گے؟ ؟
دل نے پوچھا
آجائیں گے تھوڑی دیر تک۔ ۔
دل آویز آپ آج یہاں سے کہیں نہیں جائیں گیں جو بھی کرنا ہے اسی کمرے میں رہ کر کریں۔ ۔۔ اوکے؟ ؟
مامون نے سنجیدگی سے کہا
جی میں یہیں ہوں آپ فکر نہ کریں۔ ۔
دل آویز نے یقین دلایا
ہممم گُڈ۔ ۔۔
مامون مسکرایا اور اپنی مخصوص جگہ کی طرف چلا گیا
















ؑباجی بہت دل سے بنایا ہے میں نے بی بی کے لیئے۔ ۔۔ شادی کے بعد تو بندہ نئے کپڑے پہنتا ہی ہے۔ ۔۔
معافی نے بہت پیار سے فاطمہ سے کہا جو دل آویز کے پاس جانے کے لیئے تیار ہو رہی تھی
معافی۔ ۔۔۔ تمہارے صاحب نے منع کیا ہے کچھ بھی باہر کا نہیں لے کر جانا۔ ۔۔
فاطمہ نے ٹالنا چاہا
بی بی جی یہ باہر کا تھوڑی ہے میں نے خود بنایا ہے اتنی محنت سے ایک دن میں۔ ۔ اور پھر یہ کوئی کھانے کی چیز بھی نہیں ہے۔۔ اب بھلا کپڑوں سے کیسا ڈر۔ ۔۔
معافی نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا
معافی میں مجبور ہو۔ ۔۔
کیا ہو گیا فاطمہ ابھی تک تیار نہیں ہوئی جانا نہیں ہے کیا؟
سلیم نے اندر آتے ہوئے پوچھا
جی بس میں تو تیار ہوں یہ معافی نے سوٹ سیا ہے دل کے لیئے۔ ۔ کہہ رہی دل آویز کے لیئے لے جائیں۔۔۔
فاطمہ نے سلیم کو بتایا
اوہو معافی تمہیں پتا ہے نا فل حال کچھ بھی نہیں لے جا سکتے۔ ۔ مامون نے منع کیا ہے۔ ۔۔
سلیم نے نرمی سے منع کیا
سلیم بھائی یہ کونسا کوئی کھانے کی چیز ہے مامون بابا نے تو بس کھانے کی چیز لانے سے منع کیا ہے۔ ۔ ۔ خیر اتنی محنت سے بنایا ہے میں نے۔ ۔ دل باجی کو میرے ہاتھ کے سوٹ پسند بھی بہت تھے سوچا ان کے لیئے بھی بنا دوں۔ ۔ چلیں جیسے آپ کی مرضی۔۔۔
معافی نے مایوسی سے کہا اور پلٹنے لگی
اچھا روکو۔ ۔۔ دے دو یہ سوٹ میں اسے دے دونگا خوش۔ ۔۔
سلیم کو معافی پر ترس آیا۔ ۔ ایک تو وہ بہت پرانی کام والی تھی دوسرا سلیم نے سوچا کے سوٹ لے جانے سے کیا ہو گا ویسے بھی مامون نے زیادہ کھانے پینے کی چیز سے منع کیا تھا۔ ۔۔اسی لیئے انہوں نے معافی کے ہاتھ سے سوٹ لے لیا۔ ۔ سوٹ دیتے ہوئے معافی کے ہاتھ ایک پل کو کانپے ضرور مگر پھر اپنے اکلوتے بیٹے کا سوچ کر اس نے سوٹ سلیم کو تھاما دیا
















سلیم اور فاطمہ جب دل آویز کے پاس پہنچے تو مامون زکر میں مصروف تھا۔ ۔ دونوں نے اسے ڈسٹرب کرنا مناسب نہیں سمجھا۔ ۔۔ وہ دونوں اندر دل آویز کے پاس چلے گئے دل آویز جو بہت دیر سے بور ہو رہی تھی ان دونون کو دیکھ کر خوش ہو گئی اور دونوں سے گلے لگ کر ملی
ماما ابھی آپکو ہی یاد کر رہی تھی۔ ۔۔
دل نے خوشی سے کہا
میری جان تم نے یاد کیا ہم آ گئے۔ ۔ اب بتاو کیسی طبیعت ہے؟
فاطمہ نے پیار سے اسکا ماتھا چومتے ہوئے کہا
بلکل ٹھیک۔۔ بابا یہ آپ کے ہاتھ میں کیا ہے؟
دل آویز نے سلیم کے ہاتھ میں پکڑا شوپر دیکھ کر پوچھا
بئی یہ تمہاری سہیلی معافی نے سوٹ دیا ہے تمہارے لیئے رکھ لو بہت اسرار کر رہی تھی۔۔۔
سلیم نے وہ سوٹ دل آویز کی طرف کیا
واو۔ ۔ زبردست بہت اچھی ہے وہ۔ ۔۔
دل نے خوشی سے وہ جُوڑا نکالتے ہوئے کہا
اچھا ابھی رکھ لو اسکو بعد میں دیکھ لینا مامون کو دیکھا کر فل حال میں مامون سے مل لوں۔ ۔
سلیم نے دل آویز کو ٹوکتے ہوئے کہا
اوکے بابا۔۔
دل نے مسکرا کر کہا۔ ۔
بئی بہت منع کیا اسے مگر آخر کار ہمیں لینا ہی پڑا یہ سوٹ۔ ۔
فاطمہ نے سوٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
ہاں ماما بہت اچھے کپڑے سیتی ہے وہ۔ ۔ بہت محنت کرتی ہے کہتی ہے اپنے اکلوتے بیٹے کو پڑھنا ہے اس نے۔ ۔۔
دل آویز نے سوٹ پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا
اللہ کرے پڑھ لکھ جائے وہ بھی اور گاوں کے لوگ بھی۔ ۔۔
فاطمہ نے دعا دی
ماما اس میں سے کتنی پیاری سی خوشبو آرہی ہے۔ ۔
دم آویز نے اس جوڑے کی خوشبو سونگھتے ہوئے کہا
ہاں میں بھی سوچ رہی تھی یہ خوشبو کہاں سے آرہی ہے۔۔۔
فاطمہ نے بھی گہری سانس لے کر اس خوشبو کو محسوس کیا
دل آویز ز ز۔ ۔ دل آویز ز ز۔ ۔۔۔ یہاں دیکھو۔ ۔۔
ایک دم دل آویز کو لگا کسی نے اسے پکارا ہے وہ ارد گرد دیکھنے لگی۔ ۔۔
کون ہے۔ ۔ ؟
دل کو لگا سامنے بنی کھڑکی میں کوئی کھڑا ہے۔ ۔ دل اس کھڑکی کے پاس جانے لگی۔ ۔۔ اس پر خشبو کا عجیب سا نشا ہونے لگا۔۔۔۔
میں ہوں تمہاری دوست آجاو میرے پاس۔ ۔
ایک عجیب سی شکل کی عورت نے کھڑکی سے اپنا چہرہ اندر کی طرف کرتے ہوئے کہا۔ ۔ فاطمہ ایک دم ڈر گئیں اور تیزی سے اٹھ کر دل کی طرف جانے لگیں تا کے اسے روک سکیں مگر ان سے چلا ہی نہ گیا جیسے کسی نے انہیں باندھ لیا ہو۔ ۔۔ انہوں نے چاہا کے دل کو آواز دیں مگر آواز بھی ان کے منہ میں دب کر رہ گئی
کون ہو تم ۔۔؟
دل آویز کسی ٹرانس میں چلتی ہوئی بلکل اس کے پاس آگئی
میں ہوں۔۔۔۔۔۔ تمہاری موت۔ ۔۔!
اس عورت نے ایک دم دل آویز کا ہاتھ پکڑا ۔۔ فاطمہ نے بہت زور لگایا کے وہ اٹھ سیکں مگر ان کے حواس کام کرنا چھوڑ گئے۔ ۔۔ اور فاطمہ ایک دم وہیں بے ہوش ہو کر گر گئیں
















مامون کو زکر کرتے ہوئے عجیب سی بیچینی اور گھبراہٹ سی محسوس ہوئی۔ ۔ اس نے ایک دم آنکھیں کھول کر گہرا سانس لیا۔ ۔ سلیم سامنے سے اسی کے پاس آرہا تھا
سلیم انکل۔ ۔۔ دل۔ ۔۔
مامون منہ ہی منہ میں بُڑبُڑایا
وہ یک ٹک اپنے قریب آتے سلیم کو دیکھنے لگا
کیا ہوا مامون یو اوکے؟
سلیم نے اس کے پاس پہنچ کر اس سے پوچھا۔ ۔۔ مامون کی آنکھیں خطرناک حد تک سرخ ہو رہی تھیں
دل آویز کہاں ہے؟
وہ اپنی ماما کے پاس ہے ابھی انہیں روم میں چھوڑ کر آیا ہوں۔ ۔
سلیم نے تسلی سے بتایا
کیا آپ کچھ لائے ہیں اس کے لیئے؟ ؟
مامون نے جلدی سے پوچھا
ہاں وو وہ ایک سوٹ لایا تھا۔ ۔۔ معافی نے تحفہ دیا ہے۔ ۔۔
سلیم کو مامون کے سوالوں سے گھبرا ہٹ ہونے لگی۔ ۔۔ اسے بھی لگا جیسے کچھ غلط ہوا ہو۔ ۔
اففف منع کیا تھا نا میں نے آپکو۔ ۔
مامون ایک دم کھڑا ہوا
ارے فکر مت کرو میں نے کہہ دیا ہے کے تم سے پوچھ کر ہی پہنے گی وہ۔ ۔
سلیم نے جلدی سے صفائی پیش کی
اوہ۔ ۔۔۔ پہننا تو دور کی بات یہاں لانا بھی نہیں تھا۔ ۔
مامون نے غصے سے اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بنائیں اور بھاگتا ہوا روم کی طرف گیا۔ ۔۔ سلیم نے بھی اسکے پیچھے دوھوڑ لگا دی۔ ۔۔
جیسے ہی مامون کمرے میں داخل ہوا تو اس کے قدم لڑکھڑا گئے۔۔۔ فاطمہ زمین پر بے ہوش پڑی تھیں جبکے دل وہاں موجود نہیں تھی۔ ۔
سلیم نے فاطمہ کو دیکھا تو تیزی سے اسکے پاس بیٹھ کر اسے جگانے لگا
فاطمہ آنکھیں کھولو کیا ہوا تمہیں ۔۔ فاطمہ دل آویز کہاں ہے اٹھو پلیززز۔ ۔۔
سلیم نے فاطمہ کے چہرے کو تھتھپاتے ہوئے کہا
فاطمہ نے آہستہ سے آنکھیں کھولیں۔ ۔
سس سلیم ہم ہماری بیٹی کو وہ ایک عورت عجیب سی۔ ۔ وہ لے گئی۔ ۔۔
فاطمہ نے ہوش میں آتے ہوئے کہا
کون لے گئی اور یہاں کیسے آئی؟
مامون نے پاس آکر پوچھا
پپ پتا نہیں کہاں سے آئی۔ ۔ اس کھڑکی میں سے جھانک رہی تھی۔ ۔ پپ پھر میں نے بب بہت کوشیش کی کے دل کو روک سکوں مم مگر مجھ سے ہلا ہی نہیں گیا۔ ۔۔
فاطمہ نے ہمت کرتے ہوئے بتایا ورنہ انکا اپنا دل اس وقت بہت خوف سے کانپ رہا تھا
اففف۔ ۔ وہ جُوڑا کہاں ہے جو دل آویز کو آپ نے دیا تھا؟
مامون نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر پوچھا
وو وہ۔۔۔۔ ہاں وہ تو دل کے ہاتھ میں تھا۔ ۔ اُس میں سے عجیب سی خشبو آ رہی تھی۔ ۔
فاطمہ نے سوچتے ہوئے کہا
میں نے آپ لوگوں کو منع کیا تھا نا پھر بھی آپ ۔۔۔۔
مامون غصے سے اپنی جگہ سے کھڑا ہو گیا۔۔۔ سامنے پڑے پانی کے جگ سے سے گلاس بھر کر پانی پیا ورنہ جتنا شدید غصہ اسے اس وقت آرہا تھا وہ کچھ بھی کر دیتا۔ ۔۔
فاطمہ ٹھیک سے بتاو وہ عورت یہاں سے دل آویز کو کہاں لے کر گئی ہے کیسی تھی وہ۔ ۔ اس نے کیا کہا کچھ تو بتاو۔ ۔؟؟
سلیم نے پریشانی سے پوچھا
وہ اس کھڑکی پر تھی سلیم۔ ۔۔ جب دل اس کے پاس جا رہی تھی تو میں بے ہوش ہو گئی۔ ۔ اس کے بعد مجھے نہیں پتا کے وہ کیسے لے کر گئی ہے دل کو۔ ۔۔ پلیززز کچھ کریں میری بچی کو بچا لیں۔ ۔۔
فاطمہ نے روتے ہوئے کہا۔ ۔ سلیم نے بے بس نظروں سے مامون کو دیکھا جو کسی گہری سوچ میں گم تھا
اوہ خدایا۔ ۔ کل دل آویز کے خواب میں آیا تھا اور میں نے توجہ نہیں دی۔ ۔۔اففف اتنی بڑی غلطی میں کیسے کر سکتا ہوں۔ ۔۔
مامون نے اپنے بال نوچتے ہوئے سوچا
نہیں میں کمزور نہیں پڑوں گا۔ ۔ میں اپنی غلطی سے سیکھوں گا۔ ۔۔ میں آخری سانس تک مایوس نہیں ہونگا۔ ۔ اب وقت آگیا ہے کے اس شیطان کا مقابلہ سامنے آکر کیا جائے۔ ۔ میں لڑوں گا اس سے۔ ۔ ان شاءاللہ اب اسے نہیں چھوڑوں گا۔ ۔۔
مامون نے دل میں مضبوط ارادہ کیا ۔۔۔ سلیم اور فاطمہ پُر امید نظروں سے مامون کو دکھنے لگے۔۔
