Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Episode 18)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Episode 18)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
مامون ناشتے سے فارغ ہو کر اپنی مخوص جگہ پر بیٹھ کر زکر کرنے لگا۔ ۔۔ دل آویز پہلے تو اسے دیکھتی رہی کے وہ کر کیا رہا ہے۔ ۔ پھر وہ بور ہونے لگی۔ ۔ اسکا دل کیا وہ تھوڑا جنگل ہی دیکھ لے۔ ۔ ویسے بھی مامون کے ہوتے ہوئے اسے ڈر بلکل بھی نہیں لگ رہا تھا۔ ۔۔ وہ خاموشی سے روم سے باہر آئی اور آہستہ آہستہ چلتے ہوئے مامون کے پاس سے گزر گئی۔ ۔۔ اُس نے پلٹ کر دیکھا تو مامون اسی طرح آنکھیں بند کیئے اپنے زکر میں مصروف تھا۔ ۔۔
ہنہ ویسے کہتے ہیں مجھے پتا لگ جاتا ہے جو بھی میرے پاس سے گزرے۔ ۔ اور ابھی میرے جانے کا پتا بھی نہیں چلا۔ ۔۔
دل آویز نے دل میں سوچا اور پھر خاموشی سے ارد گرد لگے درختوں کو دیکھتے ہوئے چلنے لگی۔ ۔۔ وہ جنگل کی خوبصورتی میں اس قدر کھو گئی کے اسے احاس بھی نہ ہوا کے وہ آستانے سے کتنی دور نکل آئی ہے
چلتے چلتے اسے محسوس ہوا کے کسی کے چلنے کی آواز آئی ہو۔ ۔۔ دل ایک دم خوفزد ہو گئی۔ ۔۔
اوہ یہ میں کہاں آگئی۔ ۔۔آستانا کہاں رہ گیا۔ ۔۔ مامون۔۔۔۔
دل آویز نے آہستہ سے مامون کو آواز دی مگر وہاں دل کے علاوہ اور کوئی نہ تھا۔ ۔ مگر دل کو لگا جیسے اسے کوئی دیکھ رہا ہو۔ ۔۔ دل آویز بنا سوچے سمجھے پلٹ کر واپس چلنے لگی۔ ۔ وہ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے چل رہی تھی کے اچانک کسی نے اسکا بازو پکڑ کر اسکا رخ اپنی طرف کیا۔ ۔۔ اور وہ بری طرح کسی کے سینے سے ٹکرائی۔ ۔۔
بے اختیار ہی دل آویز کے منہ سے ایک چیخ نکل گئی
کس سے پوچھ کر نکلی ہو یہاں۔ ۔ منع کیا ہے نا آستانے سے باہر کہیں نہیں جانا۔ ۔۔
مامون نے غصے سے اسے جھنجھوڑتے ہوئے دھاڑا۔ ۔
آہ مامون آپ ہیں۔ ۔ مم میں ڈر گئی کے پتا نن نہیں۔ ۔
دل آویز نے اپنی سانس بہال کرتے ہوئے کہا
خاموش۔ ۔ مجھے بتاو کے وہاں سے نکلی کیوں۔ ۔۔؟؟
مامون نے غصے سے اسکے بازو پر دباو ڈالتے ہوئے کہا۔ ۔
مامون اپنا زکر ادھورا چھوڑ کر آیا تھا جسکی وجہ سے وہ شدید غصے میں تھا۔ ۔اسکی آنکھیں اس وقت شدید سرخ ہو رہی تھیں۔ ۔ دل آویز نے اپنا سر اٹھا کر مامون کو دیکھا تو اسے اسکی آنکھوں سے خوف آنے لگا۔ ۔
مم مامون مم مجھے ڈر لگ رہا ہے آپ سے۔ ۔ مم میرا بازو چھوڑیں درد ہو رہا ہے۔ ۔۔
دل اپنا بازو اسکے ہاتھ سے چُھوڑوانے کی کوشیش کرنے لگی
ڈر۔ ۔ درد۔ ۔۔ ہنہ۔۔ اگر اسی طرح کی غلطیاں کرتی رہی تو اندازہ ہے کے مجھے کتنا درد ہو گا یہ سوچا ہے آپ نے۔ ۔۔
مامون نے ایک جھٹکے سے اسکا بازو آزاد کیا۔ ۔ اور گہرا سانس لے کر خود نارمل کیا
وو وہ مجھے لگا آپ مجھے روک لیں گے مگر آپکو تو پتا بھی نہیں چلا۔ ۔۔
دل نے اپنی حق میں صفائی پیش کی
ہنہ دل میں کوئی جادو گر نہیں ہوں۔ ۔۔ مجھے احساس ضرور ہو جاتا ہے مگر جب میں اپنی پڑھائی میں مصروف ہوں تو پلیزز ایسی غلطی مت کریں۔ ۔ زکر کو ادھورا چھوڑ کر آنا مناسب نہیں۔ ۔۔ اور تھوڑا صبر نہیں ہو رہا تھا جہاں جانا ہے میرے ساتھ جائیں۔ ۔۔
مامون نے سخت لہجے میں کہا
آیم سوری۔۔ میں بہت بور ہو رہی تھی اس طرح اکیلے ویران جگہ پر۔ ۔ اس لیئے۔ ۔۔
دل آویز کی آواز لڑکھڑانے لگی جیسے ابھی رو دے گی۔ ۔ مامون کو اس پر ترس آیا
اوہ۔ ۔ دل۔ ۔ میں پریشان ہو گیا تھا۔ ۔۔ سمجھنے کی کوشیش کریں۔ ۔۔ یوں تنہا نکلنا فل حال ٹھیک نہیں ہے۔ ۔۔ میں آپکو کھونا نہیں چاہتا چھوٹی سی غلطی کتنا بڑا نقصان کر سکتی ہے آپکو اندازہ نہیں ہے۔ ۔۔ آپ سمجھ رہی ہیں نا؟ ؟
مامون نے اب نرمی سے سمجھایا
ہممم آیم سوری۔۔۔۔
دل نے شرمندگی سے سر جھاکا کر کہا
پلیزز سر نہ جھکائیں۔۔۔ یہاں دیکھیں۔ ۔ رونا نہیں ہے۔ ۔۔
مامون کو احساس ہوا کے دل سر جھکائے رونے لگی ہے اُس نے اپنے ہاتھ سے اسکا چہرہ اوپر کیا
مم میں آپکو پریشان نہیں کرنا چاہتی مگر میں ۔۔۔ میں یوں ایک جگہ بند نہیں رہ سکتی۔ ۔
دل آویز کو شدت سے وہ دن یاد آنے لگے جب وہ ایک آزاد پرندے کی طرح گھومتی تھی۔ ۔۔۔ آنسوں اسکی آنکھوں سے بہہ کر گالوں پر آگئے
اوہ پلیززز روئیں مت۔ ۔۔میں بہت بور بندہ ہوں شاید۔ ۔۔
مامون نے اسکے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا
دل آویز۔ ۔۔ بس چند دن انتظار کر لیں ان شاءاللہ سب کچھ پھر سے ویسا ہی ہو جائے گا۔ ۔۔
مامون نے پیار سے اسے سمجھایا
دل میری طرف دیکھیں۔ ۔۔
مامون نے اسے اپنی طرف متوجہ کیا
جی۔ ۔۔ میں سمجھ رہی ہوں آئندہ نہیں کرونگی وعدہ۔۔۔
دل آویز نے مسکرا کر کہا
تھینک یو۔ ۔۔ اب چلیں واپس۔ ۔۔؟
مامون نے بھی مسکرا کر کہا
ہممم چلیں۔۔۔
مامون نے دل کا ایک ہاتھ مضبوطی سے اپنے ہاتھ میں تھاما اور دونوں ساتھ ساتھ چلنے لگے
ماما بابا نہیں آئے مجھ سے ملنے۔ ۔۔؟؟
دل آویز نے پوچھا
کہہ تو رہے تھے آئیں گے شاید لنچ تک آنے کا ارادہ ہے۔ ۔
مامون نے ارد گرد دیکھتے ہوئے کہا
ہممم دل کر رہا ہے ان سے ملنے کا بہت۔ ۔۔
دل آویز نے کہا
میری اب ملاقات ہوئی تو ان سے کہ دونگا کے ملنے آجائیں۔۔
مامون نے جواب دیا
تھینکس۔ ۔
دل کو تسلی ہوئی
آپکو پتا ہے۔ ۔ یہاں اس جگہ آپکے پاوں پر زخم ہوا تھا۔ ۔ اور پھر میں نے آپکا وہ زخم اپنے رومال سے صاف کیا تھا۔ ۔۔
مامون نے رک کر ایک جُھکے ہوئے درخت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا
اوہ۔ ۔۔ آپکو یاد ہے۔ ۔ ہاں یہ وہی جگہ ہے۔ ۔۔
دل آویز کو بھی یاد آگیا
آپ نے اپنے رومال سے صاف کیا تھا مگر کیوں۔ ۔؟؟
دل آویز نے حیران ہو کر پوچھا
بس۔ ۔۔ پتا نہیں اس وقت کیا ہوا تھا زخم آپکے ہوا تھا اور تکیلف مجھے محسوس ہوئی تھی۔ ۔ عجیب ہے نا؟ ؟
مامون نے دل کو دیکھ کر پوچھا
اچھا اس وقت مجھے تو ایسا نہیں لگا کے آپکو بھی تکیلف ہو رہی ہے۔ ۔۔
دل آویز نے طنزیہ کہا
کیسے بتاتا۔ ۔۔ اتنا بے باک نہیں ہوں نا۔ ۔۔ مگر اس دن مجھے معلوم ہو گیا تھا کے آپ نے زبردستی میرے دل میں گُھس آئی ہیں۔ ۔ بہت روکا خود کو کے ان چکروں میں نہ پڑوں مگر آپ نے تو کوئی راستہ ہی نہیں چھوڑا تھا۔ ۔۔
مامون نے مسکرا کر بتایا
اوووو زبردستی۔ ۔۔ مجھے تو معلوم بھی نہیں کے میں آپ کے دل میں بھی آگئی ہوں۔ ۔۔
دل آویز نے مزاق میں بات اڑائی
جناب اُس وقت آپ صرف دل میں ہی تھیں۔ ۔ مگر اب بیوی بننے کے بعد آپ دل ،دماغ، روح اور جسم پر بھی قبضہ کر چکی ہیں۔ ۔
مامون نے ہاتھ پھیلا کر دل کے کندھے پر رکھا
آمممم کچھ زیادہ ڈئلاگ نہیں جھاڑتے آپ۔ ۔۔
دل نے سمٹ کر کہا
بلکل بھی نہیں یہ ہی حقیقت ہے میں جھوٹ نہیں بولتا۔۔
مامون نے مضبوط لہجے میں کہا
باتیں کرتے کرتے وہ دونوں آستانے میں آگئے مامون نے دل کو ایک کتاب پڑھنے کو دی جس میں کچھ وضائف لکھے تھے اور خود دوبارہ سے اپنی مخصوص جگہ پر چلا گیا
















یہ کیا ہے رضیہ باجی۔ ۔؟؟
معافی جو کے رشیدہ کے گھر کام کرنے آتی تھی اس نے رضیہ کے ہاتھ میں پکڑی بوتل کو دیکھتے ہوئے پوچھا
یہ کیا ہے اس بات سے تیرا کوئی مطلب نہیں۔ ۔ بس تو نے موقع دیکھ کر یہ دل آویز کی کسی ایسی چیز پر چھڑکنا ہے جو اس کے ماں باپ اسکے لیئے لے کر جائیں گے۔۔۔
یی یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں۔ ۔۔ مم میں یہ نہیں کر سکتی۔ ۔۔
معافی نے منع کرنا چاہا
تو ٹھیک ہے کل تیرا بچہ تیری آنکھوں کے سامنے تڑپے گا۔ ۔۔
رضیہ نے اپنے ہاتھ میں موجود اُسکے بچے کے کپڑے دیکھاتے ہوئے کہا
رضیہ باجی خدا کا خوف کریں آپ کن کاموں میں پڑ گئی ہیں اللہ کی سخت مار۔۔ ۔۔
چپ کر جو کہہ رہی ہوں وہ کر ورنہ۔ ۔۔
رضیہ نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا
اچھا۔ ۔۔ مم مگر میرے بچے کو کچھ نہ کہنا۔ ۔
معافی نے ڈرتے ہوئے کہا۔۔ جب سے زینت اور دلاور کی موت ہوئی تھی گاوں کے کافی لوگ رضیہ سے ڈرنے لگے تھے
کچھ نہیں ہو گا اسے۔ ۔ میرا وعدہ ہے۔ ۔ کام کرنے کے بعد آنا تیرے بچے کے کپڑے تجھے واپس کر دونگی۔ ۔۔
رضیہ نے جواب دیا اور بوتل پکڑا کر وہاں سے چلی گئی
















یہ تمہارے ہاتھ میں کیا ہے فاطمہ؟ ؟
فاطمہ ہاتھ میں کھانے کے ٹفن لیئے دل آویز سے ملنے کے لیئے تیار کھڑی تھیں
یہ دل کے لیئے بریانی بنائی ہے میں نے سوچا اس کے ساتھ مل کر کھاونگی۔ ۔۔
فاطمہ نے بتایا
مگر مامون نے منع کیا ہے کے باہر سے کوئی بھی چیز کھانے کے لیئے دل کو نہیں دینی۔ ۔۔
سلیم نے کہا
مگر یہ میں نے خود اپنے ہاتھ سے بنائی ہے اس میں کچھ نہیں ہے حد ہو گئی۔ ۔۔
فاطمہ کو یہ سن کر غصہ آیا۔ ۔ بہت محنت سے انہوں نے دل آویز کے لیئے کھانا بنایا تھا
جو بھی ہو۔ ۔ میں یہ رزک نہیں لے سکتا تم یہ سب فل حال یہیں رہنے دو۔ ۔۔ جب وہ ٹھیک ہو جائے گی تب جو دل چاہے اسکے لیئے بنانا۔ ۔۔
سلیم نے فاطمہ کے ہاتھ سے ٹفن لے کر پلنگ پر رکھ دیئے
اففف یہ کیا بات ہوئی۔ ۔ کیا مامون کو ہم پر بھی اعتبار نہیں حد ہے۔ ۔۔
فاطمہ نے اکتا کر کہا
بات اعتبار کی نہیں ہے احتیاط کی ہے خیر چلو اب دیر ہو رہی ہے۔ ۔۔
سلیم نے جلدی سے کہا اور وہاں سے چلا گیا۔ ۔ فاطمہ بھی اس کے پیچھے چلنے لگی
















سلیم اور فاطمہ دل آویز سے ملنے آئے تو وہ تینوں کتنی ہی دیر ایک دوسرے سے گلے لگ کر روتے رہے ۔۔۔ دل آویز کا یوں ہچکیوں سے رونا مامون سے دیکھا نہیں جا رہا تھا مگر وہ خود پر ضبط کرتا خاموش رہا
ماما اتنی دیر سے کیوں آئی ہیں۔۔ میں کب سے ویٹ کر رہی تھی بہت یاد آرہے تھے آپ دونوں۔ ۔
دل آویز نے فاطمہ کے ہاتھ تھام کر کہا
میری جان میں تمہارے لیئے بریانی بنا رہی تھی بس اسی چکر میں دیر ہو گئی۔ ۔۔
فاطمہ نے دل آویز کے گال پر ہاتھ رکھ کر کہا
واو بریانی۔ ۔ کہاں ہے؟
دل آویز نے خوشی سے پوچھا
ہنہ۔ ۔ وہ تمہارے بابا نے مجھے لانے نہیں دی۔ ۔ کہنے لگے مامون نے منع کیا ہے۔ ۔۔
فاطمہ نے منہ بنا کر کہا
مم مگر کیوں۔۔ آپ نے خود بنائی تھی تو لے آتیں۔ ۔
دل آویز کو دکھ ہوا
میری جان ایک بار ٹھیک ہو جاو پھر جو کہو گی جب کہو گی کھلاونگا۔ ۔
سلیم نے پیار سے اسکے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا
ہمم اوکے بابا۔ ۔۔
دل نے اداسی سے مسکرا کر کہا
ارے تم نے کھانا کھایا ہے یا نہیں؟
فاطمہ نے پریشانی سے پوچھا
جی ماما بھوک کچھ خاص نہیں تھی پھر بھی اِنہوں نے زبردستی کھلا دیا۔ ۔
دل نے مسکرا کر بتایا
چلو اچھی بات ہے۔ ۔۔ تم دونوں باتیں کرو میں مامون کے ساتھ بیٹھتا ہوں۔ ۔
سلیم نے کہا اور مامون کے ساتھ روم سے باہر آگئے
کل سے کیا کیا تم نے دل بیٹا ؟
سلیم کے جاتے ہی فاطمہ نے پوچھا
کچھ بھی نہیں ماما بہت بور ہوتی رہی۔ ۔ بس آپ سب کی یاد آ رہی تھی علی سے بات ہوئی آپکی؟
دل آویز نے اداسی سے بتایا
ہاں ہوئی تھی وہ بھی بہت اداس ہے۔ ۔ بس جلدی سے ٹھیک ہو جاو ان شاءاللہ پھر یہ سب چھوڑ چھاڑ کر ہم واپس اپنے گھر چلیں گے پھر سے ویسی زندگی گزاریں گے ان شاء اللہ
فاطمہ نے اسے تسلی دی
ان شاءاللہ ماما۔ ۔
بیٹا تم اس پلنگ پر سوئی تھی؟
فاطمہ جس پلنگ پر بیٹھی تھیں اِس کی طرف دیکھ کر پوچھا
جی ماما یہیں سو گئی تھی میں۔ ۔
دل نے بتایا
تو مامون بھی کیا یہیں؟ ؟
فاطمہ نے گھبراکر پوچھا
نن نہیں ماما وہ تو نیچے سوئے تھے۔ ۔ اور پتا نہیں سوئے بھی تھے کے نہیں ۔۔ میں تو کل بہت گہری نیند سوئی۔ ۔۔
اوہ اچھا۔ ۔۔ دیکھو دل میری جان میری بات غور سے سنو۔ ۔ تم بہت معصوم ہو۔۔ تم جانتی ہو نا ہم نے کتنی مجبوری میں تمہاری شادی کی ہے۔۔۔
فاطمہ نے دل کا ہاتھ تھام کر کہا
جی ماما آئی نو۔ ۔۔
تو بیٹا مامون کی باتوں میں مت آنا۔ ۔ میرا مطلب ہے اگر وہ زیادہ پاس آنے کی کوشیش کرے تو تمہیں فاصلہ رکھنا ہے۔ ۔ یہ بات یاد رکھنا کے تم یہاں صرف علاج کروانے آئی ہو۔ ۔ اوکے؟
فاطمہ نے اس کے ہاتھ پر دباو ڈالتے ہوئے پوچھا جیسے وعدہ لے رہی ہوں
جی ماما میں جانتی ہوں۔ ۔۔
دل نے سر جھکا کر کہا
بس میری جان یہ جگہ تمہارے لائق نہیں ہے۔ ۔۔ مامون عام انسانوں کی طرح کبھی زندگی نہیں گزار سکتا اس لیئے تمہارا اور اسکا ایک ساتھ زندگی گزارنا نہ ممکن ہے۔ ۔۔تمہیں اس کے قریب نہیں جانا اور نہ اسکے ساتھ دل لگانا۔ ۔ وعدہ کرو دل تم میری بات مانوں گی؟
فاطمہ نے دل آویز کا چہرہ اوپر کیا اور اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا
جج جی ماما۔ ۔۔ مم میں کیسے رہ سکتی ہوں یہاں۔ ۔ میں آپ سب کے بنا جی ہی نہیں سکتی۔ ۔۔
دل نے پھیکی سی ہنسی ہنس کر کہا۔ ۔ فاطمہ نے اسے گلے لگا لیا
















آ۔ ۔۔آ۔ ۔۔۔۔ میں نے کہا تھا اب کوئی گڑبڑ نہ ہو۔ ۔۔ میرا عمل ضائع کروا دیا۔ ۔۔۔۔ ہممممم اب سزا ملے گی تجھے۔ ۔۔۔
آتش کو جب معلوم ہوا کے جس کھانے پر معافی نے چھڑکاو کیا تھا وہ کھانا دل آویز تک نہیں پہنچا تو وہ غصے سے بھڑک گیا
آ۔۔۔ آتش بب بابا۔ ۔ مم میں نے تت تو پوری کوشیش کی مم مگر وہ لوگ کھانا لے کر ہی نن نہیں گئے۔ ۔ ایی ایک موقع اور دیں۔ ۔ مم میں وعدہ کرتی ہوں اب ب۔ ۔ ایسا نن نہیں ہو گا۔ ۔۔
خوف کے مارے رضیہ کی ٹانگیں کانپنے لگیں۔ ۔۔
آہ ہ ہ۔ ۔ ایک موقع۔ ۔۔ ایک موقع کسی کو نہیں ملتا بس ایک دن۔۔ ایک دن ہے تیرے پاس کچھ بھی کر کے وہ کام کر ورنہ پرسوں جو تیرا حال ہو گا وہ دنیا دیکھے گی۔ ۔ جا دفع ہو جا۔ ۔۔
آتش نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا۔ ۔ رضیہ فوراً وہاں سے چلی گئی
















شام گئے دونوں دل آویز کے ساتھ بیٹھ کر باتیں کرتے رہے جب کے مامون اپنے عمل میں مصروف رہا۔ ۔۔ دل آویز سے مل کر سلیم کو بہت تسلی ہوئی۔ ۔ انہیں دل آویز بلکل ٹھیک لگی۔ ۔۔ فاطمہ بھی اسے دیکھ کر مطمئن تھیں۔ ۔۔
جب اندھیرا چھانے لگا تو سلیم اور فاطمہ نے دل آویز کو گلے لگا کر الوداع کیا۔ ۔۔ جبکے سلیم نے مامون کو زکر کرتے دیکھا تو اسے ڈسٹرب کیئے بنا وہاں سے چلے گئے
















رات میں مامون زکر سے فارغ ہو کر دل کے پاس آیا۔ ۔ وہ گالوں پر ہاتھ رکھے کمرے میں موجود ایک بڑی سی کھڑکی کے سامنے کھڑی کسی سوچ میں گم تھی
آہممم۔ ۔ کیا ہوا کن خیالوں میں ہیں؟ ؟
مامون نے مصنوعی کھانسی کھانستے ہوئے کہا
آں۔ ۔ ہاں کہیں نہیں بس ویسے ہی۔ ۔ آپ فارغ ہو گئے۔ ۔۔؟
دل آویز نے چونک کر اسے دیکھا
جی ہو گیا آپکو نیند آ رہی تو لیٹ جائیں۔ ۔ میں اب یہیں بیٹھوں گا۔ ۔
مامون نے کہا
ہممم آ تو رہی ہے نیند۔ ۔۔
دل آویز نے سوچتے ہوئے کہا
پھر سوچنا کیسا سو جائیں؟
مامون نے پوچھا
اوکے۔ ۔ آپ کو نیند آ جاتی ہے نیچے؟
دل آویز نے پلنگ کی طرف آتے ہوئے پوچھا
جی بہت اچھی آتی ہے۔ ۔
مامون نے مسکرا کر کہا
ہمممم آپ سوتے بھی تو بہت لیٹ ہیں۔ ۔
دل آویز اب پلنگ پر بیٹھ گئی
جی مجھے زیادہ سونے کی عادت نہیں رہی۔ ۔۔ آئیں آپ پر دم کر دوں۔ ۔
مامون نے اُسکا ہاتھ تھاما اور آنکھیں بند کیں۔ ۔۔ دل آویز مامون کو دیکھنے لگی۔ ۔۔ دل آویز کو مامون کا ایک ایک نقش بہت اچھا لگا۔ ۔ اسکا دل کیا کے وہ مامون کی بند پلکوں کو چھو کر دیکھے۔ ۔۔ ابھی وہ اپنا ہاتھ آگے کر ہی رہی تھی کے اسے فاطمہ کی باتیں یاد آنے لگیں اس نے گھبرا کر اپنا ہاتھ پیچھے کر لیا اور خود کو دل ہی دل میں کوسنے لگی۔ ۔۔ مامون نے اسکے چہرے پر پھونک ماری اور اسکا ہاتھ چھوڑ دیا
چلیں اب آپ سو جائیں۔ ۔ اپنی ماما کی باتوں کو پھر کبھی سوچ لیجئے گا۔ ۔۔
مامون نے مسکرا کر کہا۔ ۔ مامون کو دم کرتے ہوئے محسوس ہو گیا تھا کے دل آویز اسے چھونا چاہتی ہے۔ ۔ اور اسے اندازہ تھا کے آج یقینً فاطمہ نے دل آویز کو اُس سے دور رہنے کا کہا ہو گا۔ ۔۔۔
دل آویز نے چونک کر اسے دیکھا
آآ آپ۔ کو کیسے پیسے پتا کے۔ ۔۔
دل نے حیران ہو کر پوچھا
آپکا یہ معصوم چہرہ سب بتا دیتا ہے۔ ۔۔ خیر سو جائیں۔ ۔
مامون نے پیار سے اس کے گال تھپتھپاتے ہوئے کہا
اوکے گُڈ نائیٹ۔ ۔۔!
دل نے گھبرا کر کہا اور چادر سر تک اوڑھ کر لیٹ گئی۔ ۔
مامون اسے دیکھ کر مسکرا دیا
