Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pur Israar Mohabat (Episode 11)

Pur Israar Mohabat by Maria Awan

دل آویز بیٹا یہاں آو میری بات غور سے سنو۔ ۔۔

سلیم نے دل کو اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا

جی بابا کہیں؟

دل نے بیٹھتے ہوئے پوچھا

تم کل سے یونیورسٹی نہیں جاوگی۔ ۔ بلکے کہیں بھی نہیں جاو گی بس ایک ہفتے تک گھر میں رہنا اوکے؟

سلیم نے نرمی سے کہا

کیوں بابا سب خیریت ہے؟ ؟

دل نے حیران ہو کر پوچھا

ہاں میری جان سب ٹھیک ہے بس تم نے جب سے رکشے والے کا واقعہ سنایا ہے میں ڈر سا گیا ہوں ۔۔ کیا پتا وہ بندہ پھر سے فالو کرے تمہیں تو اس لیئے بہتر ہے کے کچھ دن گھر میں رہو ہمم؟ ؟

سلیم نے بات بنائی

اوہ بابا آپ اس بات کے لیئے پریشان مت ہوں اس کی تو بہت اچھی دُھلائی کر دی تھی اُس مسٹر نے اور پھر اس کے بعد سے وہ نظر بھی نہیں آیا۔۔

دل کی نظروں کے سامنے مامون کی آنکھیں آئیں

میں کہہ رہا ہوں نا دل کے تم کہیں نہیں جاو گی تو بات مان جاو بلاوجہ ہر بات پر بحث مت کیا کرو۔ ۔۔

سلیم نے سختی سے کہا

سوری بابا۔ ۔ ٹھیک ہے آپ جیسا کہیں گے میں ویسا ہی کرونگی آپ پریشان مت ہوں۔ ۔

دل نے رونے والی شکل بنا کر کہا وہ ڈانٹ کہاں برداشت کر سکتی تھی اسے آج تک سلیم نے ڈانٹا نہیں تھا

گُڈ اور بہت احتیاط کرنا کوئی بھی چیز جو باہر سے کوئی دے کر جائے یا کچھ بھی ہو وہ مت کھانا بس گھر کا کھانا اور باہر مت جانا۔ ۔۔ اور ہاں اپنے اوپر چاروں قُل پڑھ کر پھونکتی رہا کرو۔ ۔ اور جتنی بھی سورتیں یاد ہیں سب پڑھا کرو اس سے اللہ حفاظت کرتا ہے۔ ۔۔

سلیم نے دوبارہ سمجھایا

اوکے بابا میں بہت احتیاط کرونگی اور جو مجھے یاد ہے میں روز پڑھ کر سویا کرونگی ۔ ۔

دل آویز نے بہت سے اٹھتے سوالوں کو اپنے اندر دبا کر ہاں میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔ ۔ اسے پتا تھا اگر دوبارہ کوئی سوال کیا تو اس کے بابا پھر سے ناراض ہونگے

پرومس می دل بیٹا ؟

سلیم نے اپنا ہاتھ پھیلا کر پوچھا

آئی پرومس بابا۔ ۔۔

دل نے مضبوطی سے ہاتھ تھام کر کہا

سلیم نے گہرا سانس لے اسے سر پر پیار کیا اور چلے گئے۔ ۔ جب کے دل مختلف سوچوں میں الجھ گئی

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مامون نے ساری رات مختلف زکر اور وظائف میں گزاری۔ ۔

دل آویز پر کیئے جانے والا عمل بہت ہی کمزور تھا یہ ہی وجہ تھی کے اس دن سے دوبارہ دل آویز کو دوبارہ کوئی جانور یا بلی نظر نہیں آئی تھی۔ ۔۔ اور مامون کو دل آویز کی طرف سے تھوڑی تسلی ہوئی تھی۔ ۔۔

مگر زکر کرنے کے بعد جس پہر اسکی آنکھ لگی تو اسے زینت کے لیئے اشارہ مل گیا۔ ۔۔ اور اگلے ہی لمحے وہ اٹھ گیا فوراً وضو کیا اور اعظم کے گھر کی طرف روانا ہو گیا۔ ۔۔

اعظم کے گھر کے باہر ایک ہجوم لگا ہوا تھا کچھ لوگ بہت افسردہ سے کھڑے تھے اور کچھ آپس میں گفتگو کر رہے تھے جیسے ہی گاوں کے ایک بندے کی نظر مامون پر پڑی وہ تقریباً دوڑتا ہوا مامون کے پاس آیا

مامون بابا زینت بچاری اللہ کو پیاری ہو گئی۔ ۔۔۔

اس شخص نے اداسی سے بتایا

اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔۔۔۔

مامون نے دکھ سے کہا اور گہرا سانس لے کر اس ہجوم سے جگہ بناتا ہوا اعظم کے گھر میں داخل ہو گیا۔۔۔ سامنے ہی زینت کا بے جان مگر پُرسکون سا وجود کفن میں لپٹا پڑا تھا۔ ۔۔ اعظم اسکی میت کے ساتھ لگ کر بیٹھا اسے ہی دیکھ رہا تھا۔ ۔۔۔ زینت کی ساس اور ندیں اونچی آواز میں رو رہی تھی گاوں کی باقی عورتیں بین ڈال رہی تھیں۔ ۔

مامون کو ان کی یہ آوازیں سخت ناگورا گزریں مگر اس وقت ان سب کو ٹوکنا مناسب نہ تھا اس لیئے وہ خاموش رہا۔۔۔۔

وہ گھٹنوں کے بل اعظم کے نزدیک بیٹھا اور اسکے کندھے پر ہاتھ رکھا اعظم نے پلٹ کر دیکھا اور مامون کو دیکھتے ہی اس کے گلے لگ گیا

مامون بابا آپ نے تو کہا تھا رب پر بھروسا رکھوں دیکھیں اسی پر بھروسا کیا تھا مگر زینت پھر بھی نہیں بچی میری زینت چلی گئی۔ ۔۔ ابھی تو ہم ملے تھے یہ سب کیوں کیا اللہ نے میرے ساتھ۔ ۔۔۔

اعظم مامون کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ ۔ مامون نے بہت مشکل سے اپنے آنسو اپنے اندر روکے

اعظم بھائی اللہ کی امانت تھی اُس نے لے لی اُسی نے دی تھی نا۔ ۔۔ حوصلہ کریں پلیز آپ اسطرح تڑپیں گے تو آپکی زینت کو بہت تکلیف ہو گی۔ ۔۔۔

مامون نے بہت مشکل سے کہا ورنہ اس وقت زینت کا بے جان وجود دیکھ کر اسکا اپنا دل بھی پھٹ رہا تھا

لیکن جو تکلیف مجھے ہو رہی ہے نا مامون بابا وہ اسے نہیں ہو سکتی بلکے کسی کو نہیں ہو سکتی۔ ۔۔ میں کیسے جیوں گا اب۔ ۔۔

اعظم کی ہچکیاں سن کر گاوں کے باقی لوگ بھی زور زور سے رونے لگے۔ ۔ اب بات مامون کی برداشت سے باہر ہو گئی

بس خاموش ہو جائیں آپ سب۔ ۔ کیوں اسطرح بین ڈال رہے ہیں؟ ؟؟

مانون نے اعظم کو خود سے الگ کیا اور آہستہ مگر سخت لہجے میں کہا۔ ۔ سب لوگ ایک دم خاموش ہو کر مامون کو دیکھنے لگے

اللہ کی امانت تھیں۔ ۔ اس نے واپس لے لی۔ ۔۔ میں جانتا ہوں آپ سب کو بہت دیکھ ہے مگر اسطرح بین ڈالنے سے آپ کی اس عزیزہ کو تکیلف ہو گی۔ ۔ کیا آپ سب یہ چاہتے ہیں کے مرنے کے بعد بھی وہ تکیلف میں رہے؟ ؟ اگر اتنی ہی عزیز ہے تو انکی اس تکیلف کا لحاظ کریں رونے سے نہیں روک رہا مگر یہ بین مت ڈالیں۔ ۔۔ بہتر ہے ان کے پاس بیٹھ کر کلمہ شہادت پڑیں یا اللہ کا زکر کریں اس سے آپکو بھی صبر ملے گا اور میت کو بھی سکون ملے گا۔۔۔۔ خدرا انہیں مرنے کے بعد تکیلف مت دیں احترام کریں میت کا بس آخری بار احترام کر لیں انکے جانے بعد بین ڈال لیجئے گا۔ ۔۔

مامون نے نرمی اور سختی دونوں طرح سے سب کو سمجھایا اور خاموش ہو گیا۔ ۔ اعظم نے مامون کی بات سمجھتے ہوئے اپنے آنسو صاف کیئے وہ زینت کو تکلیف نہیں دے سکتا تھا اب تو وہ سکون میں آئی تھی۔ ۔ جبکے کچھ عورتوں نے مامون کی بات سن کر منہ بنایا جو سب سے زیادہ زور زور سے بین ڈال رہی تھیں۔۔۔ حیریت کی بات یہ تھی زینت کی بیماری پر یہ سب عورتیں اسے دیکھنے بھی نہیں آئیں تھیں

مگر کچھ عورتیں مامون کی بات سن کر کلمہ پڑھنے لگیں۔ ۔ اعظم بھی مشکل سے روتے ہوئے کلمہ پڑھنے لگا اور جیسے ہی اس نے کلمہ اپنے منہ سے ادا کیا اسے سکون سا ملا ۔۔۔ وہ کافی دیر تک آنکھیں بند کیئے کلمہ پڑھتا رہا جب کے مامون ایک سائیڈ پر بیٹھ کر زکر کرنے لگا۔ ۔ جیسے ہی ظہر کی آزان کا وقت ہونے لگا تو گاوں کے آدمیوں نے مامون سے میت کو مسجد لیجانے کا کہا۔ ۔ مامون اپنی جگہ سے کھڑا ہوا مگر جیسے ہی وہ کھڑا ہوا تو اس کی نظر سامنے اٹھی اس نے نفرت منہ پھیر لیا کیونکے وہاں دلاور شرمندہ اور دکھی سا کھڑا ہو کر زینت کو دیکھ رہا تھا۔۔۔ مامون نے اپنا سر جھٹکا اور اعظم کے پاس جا کر اسے سہارا دے کر کھڑا کیا۔ ۔۔ اور جب اعظم کی نظر دلاور پر پڑی تو وہ غصے سے اسکی طرف لپکا

یہ کمینا یہاں کیوں آیا ہے کس نے آنے دیا اسے۔ ۔ یہ ہی قاتل ہے میری زینت کا مار دونگا میں اسے آج۔ ۔۔۔

اعظم ایک دم جنونی سا ہو کر دلاور پر برس پڑا دلاور نے اپنا آپ چُھڑوانے کی کوشیش نہیں کی بس چپ چاپ مار کھاتا رہا گاوں کے لوگوں نے بہت مشکل سے اعظم کو سنبھالا۔ ۔۔ کچھ نے مل کر دلاور کو گھر سے نکال دیا ۔۔ اور پھر وہ وقت بھی آگیا جہاں آج سے ٹھیک آٹھ ماہ پہلے زینت ہنسی خوشی رخصت ہو کر اس دہلیز پر آئی تھی اور آج سب کو غمگین اور اداس چھوڑ کر اپنی آخری آرام گاہ کی طرف جا رہی تھی۔ ۔ مامون نے بھی میت کو سہارا دیا اور سب مرد حضرات کلمہ پڑھتے ہوئےمیت کو گھر سے باہر لے گئے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

فاطمہ کو جب معلوم ہوا کے دل آویز کو کسی رکشے والے نے اغوا کرنے کی کوشیش کی تھی تو وہ اپنا دل پکڑ کر بیٹھ گئیں۔ ۔۔ دل آویز نے بہت سمجھایا کے اب سب ٹھیک ہے مگر فاطمہ نے دل کو سختی سے باہر جانے سے منع کر دیا۔ ۔ سلیم کو یہ دیکھ کر تسلی ہوئی کے چلو اب فاطمہ خود دل کا خیال رکھے گی۔ ۔۔

دل آویز پورا دن گھر میں رہ کر سخت بور ہوئی۔ ۔۔ شام میں سلیم اوفس سے گھر آئے۔۔۔دل آویز ٹی وی لاونج میں موجود صوفے پر بیٹھ کر چینلز بدل رہی تھی جب کے فاطمہ اسکے ساتھ بیٹھ کر سوئی دھاگا پکڑے کچھ سینے میں مصروف تھیں

اسلام و علیکم۔ ۔۔

سلیم نے اونچی آواز میں سلام کیا

والیکم و سلام بابا ۔۔۔۔

دل نے ٹی وی بند کیا اور جلدی سے اٹھ کر سلیم کا بیگ ان کے ہاتھ سے لیا

کیا ہوا علی کے بابا؟ ؟ آپ پریشان لگ رہے ہیں؟ ؟

فاطمہ نےگہری نظر سلیم پر ڈالی جو کافی تھکا ہوا لگ رہا تھا

بس خبر ہی کچھ ایسی ہے۔ ۔۔

سلیم نے بیٹھتے ہوئے کہا

کیا ہوا بابا سب ٹھیک ہے نا؟ ؟

دل نے پریشانی سے سلیم کو دیکھتے ہوئے پوچھا

زینت کی ڈیتھ ہو گئی ہے دل۔ ۔ وہ ہی زینت جسے ہم گاوں میں دیکھ کر آئے تھے۔۔۔

سلیم نے دل آویز کو دیکھتے ہوئے بتایا

اوہ۔ ۔۔۔ وہ تو بہت یینگ تھیں۔ ۔۔ اففف۔۔۔

دل نے دکھ سے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا۔ ۔ اسکی نظروں کے سامنے زینت کا مُرجھایا ہوا چہرہ آیا۔ ۔۔ دل کو لگا وہ ابھی رو دے گی۔ ۔

مم میں آپ کے لیئے پانی لاتی ہوں بابا۔ ۔۔۔

دل آویز نے اپنے آنسو روکتے ہوئے کہا اور جلدی سے کچن کی طرف چلی گئی

اوہو۔ ۔۔ دیکھا سلیم میں نا کہتی تھی وہ گاوں اس قابل ہی نہیں کے وہاں پر جایا جا سکے۔ ۔۔ جوان بچی پر جادو کروا دیا ارے وہاں کوئی کسی کا سگا نہیں جب ہی میں آپ کو منع کرتی ہوں سلیم وہاں میرے بچوں کو لے کر مت جائیں نہ ان لوگوں کی دوستی اچھی ہے نا دشمنی۔ ۔۔ اللہ جانے کیسا عمل کروایا ہوگا اس پر ظالم لوگ ہیں وہاں کے۔۔ شکر اللہ کا یہاں ایسا کچھ نہیں۔ ۔۔

فاطمہ نے افسوس سے سر ہلاتے ہوئے کہا

ہاں تم ٹھیک کہتی ہو۔ ۔۔ اب یہ غلطی دوبارہ نہیں کرونگا۔ ۔۔

سلیم نے دکھ سے جواب دیا

تو اب آپ جائیں گے گاوں زینت کی تعزیت کے لیئے؟

فاطمہ نے مصروف سے انداز میں پوچھا

نن نہیں فل حال نہیں جا سکتا شاید بعد میں جاوں کبھی۔ ۔۔ تم بس دل آویز کا خیال رکھو اسے کہیں باہر مت جانے دینا۔ ۔۔

سلیم نے فاطمہ سے کہا

ہاں رکھتی ہوں اسکا خیال ابھی ایک ہی دن ہوا ہے اسے گھر میں بیٹھے اور دماغ کھا لیا میرا کے میں بور ہو رہی ہوں۔ ۔۔ میں نے بھی اسے سختی سے ڈانٹ کر چپ کروا دیا۔ ۔۔

فاطمہ یہ بولتے ہوئے دوبارہ اپنے کام میں مصروف ہو گئیں ۔ جب کے سلیم یہ سوچنے لگے کے اگر کبھی فاطمہ کو معلوم ہوا کے کسی نے دل آویز پر بھی عمل کروانے کی کوشیش کی ہے تو وہ کیا کرے گی۔ ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مامون نے زینت کی قبر پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کیں اور پھر پنجوں کے بل بیٹھ کر دعا مانگی۔ ۔۔ اعظم بھی اسکے ساتھ گم سم سا بیٹھا تھا

مامون نے دعا مانگ کر اعظم کو دیکھا

اعظم بھائی میں جانتا ہوں میرے الفاظ آپ کا دکھ اور غم کم نہیں کر سکتے۔ ۔۔ کسی اپنے اور بہت پیارے کا مرنے کا دکھ ساری زندگی کےلیئے ہوتا ہے۔ ۔۔ مگر پھر بھی ہمیں جینا پڑٹا ہے زینت باجی بہت اچھی اور نیک خاتون تھیں۔ ۔ اللہ نے انہیں اپنے حفظ و امان میں لے لیا ہے۔ ۔ یقین کریں اگر اللہ نے انکی زندگی لکھی ہوتی تو کوئی بھی طاقت انہیں مار نہیں سکتی تھی۔ ۔۔ انکی زندگی بس اتنی ہی تھی ورنہ آپ نے اور میں نے ہر طرح کی کوشیش اور دعا کی۔ ۔ اس بات کا یقین رکھیں کے اللہ چاہے تو اس شیطان کو ایک پل میں ختم کر سکتا ہے مگر وہ ڈھیل دیتا ہے آزماتا ہے ہم سب کو کبھی دے کر اور کبھی لے کر۔۔۔ ہم سب کا یہ ایمان ہونا چاہیئے کے ہم سب کو اسی کے پاس لوٹ کر جانا ہے۔ ۔۔ آج نہ سہی مگر کل اُس دنیا میں زینت باجی آپ کے سامنے ہونگی ہمیشہ کے لیئے۔ ۔ بس اس آزمائش پر پورا اتریں اور صبر کریں۔ ۔۔ میں وعدہ تو نہیں کرتا مگر آپکو اتنی تسلی ضرور دیتا ہوں کے میں اُس شیطان آتش کو اب سکون سے رہنے نہیں دونگا۔ ۔۔ میں اپنی جان پر کھیل کر اسے ختم کرونگا۔ ۔۔ اگر اللہ نے ساتھ دیا تو ان شاءاللہ وہ شیطان بہت عبرت ناک موت مرے گا۔ ۔۔

مامون نے اعظم کے کندھے تھپتھپاتے ہوئے کہا

میں آپکے ساتھ ہوں مامون بابا ۔۔۔۔ اس شیطان کو ختم کرنے کے لیئے اگر آپکو میری کسی بھی قسم کی ضرورت محسوس ہو مجھے بتائے گا میں بھی اپنی جان پر کھیل کر آپکی مدد کرونگا۔ ۔۔ تا کے آج کے بعد کوئی اور زینت اسطرح تکلیف سے نہ مرے۔ ۔۔

اعظم نے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا

ان شاءاللہ۔ ۔۔ چلیں اب گھر چلتے ہیں۔۔۔

مامون نے سہارا دے کر اعظم کو کھڑا کیا۔ ۔ اعظم ایک نظر قبر پر ڈالتا ہوا مامون کے ساتھ چلنے لگا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگلا دن دل آویز کے لیئے اُس سے بھی زیادہ بور تھا۔ ۔ ایک تو زینت کی موت کی خبر نے اسے اداس کر دیا تھا دوسرا یونیورسٹی سے چھٹی کرنے کی وجہ سے اسکا وقت ہی نہیں گزر رہا تھا۔ ۔ کبھی موبائل میں گیم کھیلتی اور کبھی ٹی وی پر نیوز سنے لگتی۔۔۔

شام میں جب تھوڑا موسم بہتر ہوا تو وہ اپنے گھر میں بنے چھوٹے سے لان میں آگئی کے تھوڑی واک ہی کر لے۔ ۔ دل آویز نے اپنے پاوں سے چپل اتاری اور گھاس پر چلنے لگی جب کے فاطمہ اندر کچن میں مصروف تھیں اور علی کوچینگ سینٹر گیا ہوا تھا۔ ۔ سلیم اوفس سے لوٹے نہیں تھے۔ ۔

دل آویز آہستہ آہستہ چہل قدمی کرتی ہوئی ارد گِرد لگے پودوں کو دیکھ رہی تھی اور ساتھ میں گُنگونا بھی رہی تھی۔ ۔ جب وہ ایک چکر لے کر واپس پلٹی تو اسے سامنے پڑی کُرسی پر میٹھائی کا ڈبا پڑا نظر آیا ۔۔ دل آویز نے چونک کر دیکھا۔ ۔

ہیں ں ں۔ ۔ یہ ڈبہ کہاں سے آیا۔ ۔ ابھی تو نہیں تھا۔ ۔ شاید میری نظر نہ پڑی ہو۔ ۔۔

خود سے ہی بات کرتے ہوئے وہ کُرسی کے پاس آئی اور ڈبہ کھول کر دیکھا۔ ۔ ڈبہ گلاب جامن سے بھرا ہوا تھا

واو۔ ۔۔ گلاب جامن مائی فیوریٹ۔ ۔۔

دل آویز نے خوشی سے کہا

مگر یہ لایا کون۔ ۔۔ آمممم شاید ماما لائی ہوں۔ ۔۔

دل آویز نے دل میں سوچا اور ایک گلاب جامن نکال کر کھانے لگی

ہنہ۔ ۔ دیکھنے میں اتنے مزے کا لگ رہا تھا زائقہ اتنا عجیب کیوں ہے۔ ۔۔ دوسرا چیک کرتی ہوں۔ ۔۔

دل آویز نے ہاتھ میں پکڑا لڈو واپس رکھا اور دوسرا اٹھا کر تھوڑا سا کھایا مگر اسکا ذائقہ بھی ویسا ہی تھا۔ ۔۔ اتنی دیر میں سلیم اپنے پاس موجود چابی سے دروازہ کھول کر گھر میں داخل ہوئے۔ ۔ اندر آتے ہی انکی نظر دل پر پڑی جو ہاتھ میں میٹھائی کا ڈبا پکڑے عجیب سا منہ بنائے کھڑی تھی

اسلام و علیکم۔ ۔۔ یہ میٹھائی کہاں سے آئی۔ ۔۔

سلیم نے مسکرا کر سلام کیا اور پوچھا

پتہ نہیں بابا شاید ماما لائی ہیں۔ ۔ مگر اسکا ٹیسٹ بلکل اچھا نہیں ہے عحیب سا ہے۔ ۔۔

دل آویز نے منہ بنا کر کہا۔ ۔۔۔ سلیم نے چونک کر دل آویز کو دیکھا

ادھر دیکھاو مجھے۔ ۔۔

سلیم نے اسکے ہاتھ سے ڈبا پکڑا

جاو اپنی ماما کو بلا کر لاو۔ ۔۔

سلیم نے سنجیدگی سے کہا دل آویز فوراً فاطمہ کو بلا کر لائی

کیا ہو گیا بھئی کھانا جل جائے گا۔ ۔۔

فاطمہ کچن سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی باہر آئیں اور سلیم کو دیکھا جو میٹھائی کا ڈبا ہاتھ میں لیئے اسے غور سے دیکھ رہے تھے

ارے میٹھائی کس خوشی میں لائے ہیں آپ۔ ۔۔؟

فاطمہ نے حیران ہو کر پوچھا

یہ میں نہیں لایا تم لائی ہو۔ ۔۔

سلیم نے پلٹ کر جواب دیا

میں ں۔۔ میں کہاں سے لاونگی میٹھائی میں کونسا باہر گئی ہوں۔ ۔

فاطمہ نے جواب دیا

تم نہیں لائی۔ ۔ میں بھی نہیں لایا تو یہ گھر میں کیسے آئی اور دل تم نے اسے کھایا ہے۔ ۔۔

سلیم نے غصے سے پوچھا

جج جی بابا بس ایک بائٹ لی تھی وو وہ ۔۔۔۔

دل نے گھبرا کر جواب دیا

اوہ خدا۔ ۔۔ جاو جلدی سے وہ دم ہوا پانی لاو جو میں نے تمہیں دیا تھا۔ ۔۔

سلیم نے گھبرا کر کہا فاطمہ نے حیران ہو کر سلیم کو دیکھا جو بہت پریشان لگ رہا تھا

کیا ہو گیا آپ اتنے پریشان کیوں ہو گئے ایک دم سے ۔۔ سب ٹھیک تو ہے۔ ۔۔؟؟

فاطمہ نے سلیم کے پاس آکر پوچھا

دعا کرو سب ٹھیک ہو۔ ۔۔

سلیم نے جواب دیا۔ ۔۔ دل آویز جلدی سے وہ پانی لائی۔ ۔ سلیم نے بوتل کا ڈھکن کھولا اور پانی میٹھائی والے ڈبے پر الٹ دیا۔ ۔۔ فاطمہ اور دل آویز نا سمجھی میں سلیم کو دیکھنے لگیں۔ ۔۔ جیسے ہی پانی ڈبے میں گرا وہ سارے لڈو بہہ گئے اور ڈبا خون سے بھر گیا۔ ۔ دل آویز نے جب ڈبے میں خون کو دیکھا تو اپنے منہ پر ہاتھ رکھا اسے عجیب سی گھن آئی۔ ۔ فاطمہ نے گھبرا کر سلیم کو دیکھا

یی یہ کیا ہے سلیم۔ ۔ کس نے رکھا یہ ڈبا اور یہ ساری میٹھائی خون میں تبدیل کیسے ہوگئی یہ سب کیا ہے مجھے بتاو۔ ۔۔

سلیم جو یک ٹک ڈبے میں موجود خون کو دیکھ رہے تھے جیسے انہیں سکتا ہو گیا ہو۔۔ فاطمہ کے جنجھوڑنے پر ایک دم ہوش میں آئے

میں نے منع کیا تھا دل تمہیں۔۔۔کہا تھا کچھ مت کھانا اور تم نے۔ ۔۔

سلیم ڈبے احتیاط سے سائیڈ پر رکھا اور دل کے پاس آئے

بب بابا۔ ۔ مم میں سمجھی کک کے۔ ۔۔

دل کو ایک دم الٹی سی ہونے لگی۔ ۔ وہ تیزی سے منہ پر ہاتھ رکھے واش بیسن کی طرف گئی اور الٹی کرنے لگی

ہائے کیا ہو گیا میری بچی کو تم بتاتے کیوں نہیں سلیم۔ ۔۔ کیا ہے یہ سب۔ ۔؟؟

فاطمہ نے سلیم کا ہاتھ پکڑ کر چلا کر پوچھا

کیا بتاوں میں۔ ۔۔ دعا کرو ہماری بچی کو کچھ نہ ہو۔ ۔۔

سلیم نے اپنا ہاتھ چُھڑوایا اور دل کے پاس چلے گئے۔ ۔ دل نے نڈھال ہو کر سلیم کو دیکھا

بابا آپ کیا چُھپا رہے ہیں ہم سے پلیز بتائیں۔ ۔۔

دل نے آہستہ سے پوچھا

مامون ۔۔۔۔ مامون نے بتایا تھا کے تم پر بھی عمل ہوا ہے۔ ۔ مگر وہ عمل بہت کمزور تھا اس نے کہا تھا کے وہ اس عمل کو توڑ دے گا بس تمہیں احتیاط کرنی ہے۔ ۔ اور اس نے وہ عمل توڑ دیا مگر تم نے۔ ۔ تم نے یہ میٹھائی کھا کر اچھا نہیں کیا دل آویز۔ ۔۔

سلیم نے اپنی پیشانی مسلتے ہوئے کہا

کیا کہہ رہے ہو دل کے بابا۔ ۔ کیسا عمل اور کون مامون۔ ۔ وہ ہی جو گاوں میں ہوتا ہے ؟؟ وہ ہی لڑکا جو سب پر جادو کرتا ہے؟ ؟ بتاو مجھے۔ ۔۔؟؟

فاطمہ نے سلیم کا گربان پکڑ کا پوچھا

ہاں وہ ہی وہ آیا تھا تین چار دن پہلے اس نے بتایا تھا یہ سب مگر۔ ۔۔

سلیم خاموش ہوگیا۔ ۔ کیسے بتاتا یہ سب فاطمہ کے لاکھ منع کرنے کے باوجود وہ دل آویز کو گاوں لے گیا تھا یہ ہی سب سے بڑی غلطی تھی

اوہ۔ ۔ آپ کی وجہ سے ہو رہا ہے یہ سب میں نے منع کیا تھا آپکو مگر آپ نے میری ایک نا مانی۔ ۔ دیکھ لیا تم دونوں باپ بیٹی نے چھپ کر وہاں جانے انجام۔ ۔۔ اب کیا ہوگا۔ ۔۔ اگر میری بچی کو کچھ ہوا نا تو یقین کریں میں آپکو کبھی معاف نہیں کرونگی۔ ۔۔

فاطمہ نے روتے ہوئے کہا جب کے دل حیران پریشان سی کھڑی بیقینی سے سلیم کو دیکھ رہی تھی

بابا۔ ۔ مجھ پر عمل کون کروائے گا اور کیوں؟ ؟ میں نے کیا کیا ہے؟ ؟ ایسا کچھ نہیں ہوتا یہ سب جھوٹ ہے۔ ۔۔

دل آویز نے کمزور سے لہجے میں کہا آج اسکا دل بھی خوفزدہ ہوا تھا

اففف چپ ہو جاو تم دونوں۔ ۔ جاو فاطمہ اسے روم میں لے کر جاو اور قُل پڑھ کر پھونکو اس پر۔ ۔۔ میں مامون کو بتاتا ہوں۔ ۔۔

سلیم نے سختی سے کہا

نہیں مامون کو کچھ نہیں بتائیں گے آپ۔ ۔۔ اب میں وہاں کے کسی بندے کا نام اس گھر میں نہیں سنوں گی۔ ۔۔ میں اپنی بچی کو اسی شہر میں دیکھاونگی کسی نیک بزرگ کو۔ ۔۔ ۔۔

فاطمہ نے غصے سے جواب دیا

بس کرو مجھے مامون کے علاوہ کسی پر بھروسا نہیں سمجھی تم۔ ۔۔ اب جاو یہاں سے۔ ۔

سلیم نے اونچی آواز میں کہا اور اپنا فون لیئے باہر نکل گئے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مامون جو پچھلے دو دن سے زینت اور اعظم کی وجہ سے کافی مصروف تھا مگر اسکے باوجود وہ دل آویز کو ایک لمحے کے لیئے بھی نہیں بھولا تھا۔ ۔۔ اسے تسلی تھی کے دل آویز اب گھر میں ہے مگر آتش کتنی چلاکی اور خاموشی سے دل آویز کے گھر میں گُھس کر یہ سب کرے گا اس بات کا علم ابھی مامون کو نہیں تھا۔ ۔ زینت کے جادو کا توڑ کرنا یہ مامون کا پہلا تجربہ تھا جو کے ناکام ہوا مامون کو اس بات کا دکھ تھا مگر وہ ہر گز مایوس نہیں تھا۔ ۔۔ وہ پہلے سے زیادہ زکر کر رہا تھا۔ ۔۔۔

ابھی بھی وہ زکر کرنے میں مصروف تھا کے اسے کسی کے قدموں کی آواز آئی۔ ۔ مامون نے آہستہ سے اپنی آنکھیں کھولیں تو سامنے اعظم کھڑا تھا۔ ۔ مامون نے سر ہلا کر اسے اپنے پاس آنے کا شارا کیا

وو وہ۔۔۔ سلیم بھائی کا فون تھا۔ ۔ کافی پریشان لگ رہے تھے۔ ۔ کہہ رہے ہیں آپ سے بہت ضروری بات کرنی ہے۔ ۔

اعظم نے اپنا فون جیب سے نکالتے ہوئے کہا

اوہ اللہ کرے سب خیر ہو۔ ۔ آپ بات کروائیں۔ ۔۔

مامون کو گھبراہٹ سی ہوئی

اعظم نے فون ملا کر مامون کو دیا۔ ۔ مامون نے اس سے پکڑ کر کان پر لگایا

اسلام و علیکم انکل سب خیریت ہے؟

اوہ مامون۔ ۔ کچھ خیریت نہیں ہے۔ ۔ شام میں جب گھر آیا تو۔ ۔۔ دل آویز میٹھائی کا ڈبا ہاتھ میں پکڑے میٹھائی کھا رہی تھی۔ ۔ اور وہ میٹھائی پتا نہیں گھر میں کہاں سے آئی ۔۔ میں نے اس پر تمہارا دم کیا ہوا پانی ڈالا تو وہ خون میں بدل گئی۔ ۔ دل آویز کو اس وقت سے دو بار خون کی الٹی آگئی ہے۔ ۔ وہ بہت نڈھال سی ہو رہی ہے۔ ۔ مامون مجھے بتاو میں کیا کروں میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔ ۔۔

سلیم نے پوری بات بتائی۔ ۔ مامون نے گھبرا کر آنکھیں بند کیں

اوہ۔ ۔۔ میں نے کہا تھا کے۔ ۔ خیر فل حال وہی دم کیا ہوا پانی پلائیں انہیں۔۔۔اور قرآن کی تلاوت کریں اور کمزوری ہو رہی ہے تو ڈاکٹر کو گھر پر بلوا لیں مگر اب دیہان رکھیں کچھ الٹا نہ ہو۔ ۔ دل آویز کو ایک پل کے لیئے بھی اکیلا نہ چھوڑئے گا۔ ۔ مم میں آونگا اسے دیکھنے۔ ۔۔

مامون دل ہی دل میں بہت پریشان ہوا مگر بظاہر اس نے خود کو ناعمل رکھا

پلیزز مامون تم جلدی آو بس۔ ۔ میں تمہارا جہاز کا ٹکٹ کروا دیتا ہوں۔ ۔ دل آویز کو آکر دیکھو۔۔۔

سلیم نے منت کی

نہیں آپکو ٹکٹ کروانے کی ضرورت نہیں میں آجاونگا کل صبح تک بس آپ کو جو میں کہہ رہا ہوں وہ کریں اور پلیزز پریشان مت ہوں۔ ۔ ابھی آپ کو بہت ہوش سے کام لینا ہے۔ ۔ سلیم انکل میں یہاں سے بھی دل آویز کے لیئے بہت کچھ کر سکتا ہوں مگر صرف آپکی تسلی کے لیئے شہر آرہا ہوں۔ ۔ اگراللہ نہ کرے دل آویز پر عمل ہوا تو انہیں یہاں لانا ہو گا۔ ۔۔

مامون نے پہلے سے ہی ساری صورتِ حال واضح کر دی کیونکے وہ جان گیا تھا آتش نے دل آویز کے اندر تک اپنا عمل کر دیا ہے

اللہ نہ کرے مامون تم آو ایک بار اسے دیکھو پھر فیصلہ کرتے ہیں۔ ۔۔

سلیم نے پریشانی سے کہا

جی میں آرہا ہوں۔ ۔ آپ خیال رکھیں۔ ۔۔ اللہ حافظ

مامون نے پریشان ہو کر فون بند کیا اور اعظم کو اپنی سیٹ کروانے کا کہا۔۔ اور پھر ٹھیک آدھے گھنٹے بعد وہ کراچی کے سفر پر روانا ہو گیا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *