Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Episode 01)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Episode 01)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
وہ اپنی ماں کو تڑپتا ہوا دیکھ کر خود بھی تڑپ رہا تھا۔ ۔ ابھی دو ماہ پہلے ہی تو اسکا باپ بھی بلکل اسی طرح تڑپتے ہوئے اس دینا سے چلا گیا تھا ابھی تو وہ غم ہلکا نہیں ہوا تھا کے اسکی ماں بھی اسی طرح تڑپ رہی تھی۔ ۔۔ کسی کے پاس بھی اس بیماری کا علاج نہ تھا۔ ۔ سب نے یہ ہی کہا کے اس علاج صرف موت ہی ہے۔ ۔۔ وہ بس بے بسی سے اپنا سر ہاتھوں میں تھامے اپنی ماں کو یک ٹک دیکھ رہا تھا اسکی ماں گہرے گہرے سانس لیتے ہوئے کچھ بولنے کی کوشیش کر رہی تھی مگر اسکی آواز اسکا ساتھ نہیں دے رہی تھی۔ ۔ اسکے بڑے دو بھائی خاموشی سے کھڑے اپنی ماں کے مرنے کا انتظار کر رہے تھے اور کرتے بھی کیا اس تکلیف سے نجات صرف موت ہی تھی۔ ۔۔
گاوں میں اکثر ہی ایسی اموات ہوتی رہتی تھیں۔ ۔ کیونکے یہاں کے لوگ گولیاں چلا کر دشمنی نہیں نکلالتے تھے بلکے کالا جادو کروا کر اس بندے کو ازیت ناک موت دیتے تھے ۔۔۔ اور یہ کالا جادو ایک شیطانی بندہ کرتا تھا۔ ۔ اس جادو کا کسی کے پاس توڑ نہ تھا۔ ۔
آتش بابا کی پورے گاوں میں دھوم تھی۔ ۔ اسکا ٹھکانہ گاوں سے تھوڑا ہٹ کر تھا۔ ۔ وہاں ہر کوئی نہیں جا سکتا تھا۔ ۔ بہت سے لوگ اس کے پاس جادو کروانے جاتے۔ ۔۔ وہ اپنے شیطانی عمل سے اچھے بھلے انسان کو محتاج بنا دیتا۔ ۔ پورا گاوں اس سے ڈرتا تھا۔ ۔۔
وہ اپنی ماں کو تڑپتا ہوا دیکھ کر بس یہ سوچ رہا تھا کے کسی طرح اس شیطان کا خاتمہ کر دے مگر یہ بات صرف وہ سوچ ہی سکتا تھا۔ ۔۔ اسکا مقابلہ کرنا بھلا آسان کب تھا۔ ۔۔ اپنی ماں کو تڑپتا چھوڑ کر وہ بے بسی سے گھر سے نکل گیا۔ ۔ کسی نے زیادہ غور بھی نہ کیا اس پر۔۔۔ سب کی نظریں مرتی ہوئی ماں پر جو تھیں۔ ۔ اور وہ لگ بگ چودہ سال کا چھوٹا بچہ پوری رات چلتے چلتے گاوں کے ناجانے کس حصے میں آگیا۔ ۔۔
اس نے تھک کر سر اٹھا کر اپنے آس پاس دیکھا تو وہ ڈر گیا۔ ۔۔ رات کا اندھیرا ہر طرف پھیلا ہوا تھا وہ سر اٹھائے خوف سے ادھر ادھر دیکھنے لگا۔ ۔۔ درخت کا ایک جُھرمٹ اس کے سر پر تھا۔ ۔ درختو کے پتوں کے درمیان سے بس اسے چاند کی ہلکی سی روشنی نظر آرہی تھی۔ ۔۔ ہر طرف سناٹا تھا۔ ۔۔ کبھی کسی کتے کے بھوکنے کی آواز آتی اور کبھی درختوں کے پتوں کی ہلنے کی آواز ۔۔۔ اس نے خوف سے جُھجری لی۔ ۔۔ اور واپس جانے کے لیئے پلٹا۔ ۔ مگر یہ کیا۔ ۔۔ وہاں تو کوئی جانا پہچانا راستہ نہیں تھا۔ ۔ یہ تو کوئی جنگل تھا جہاں وہ بھٹک کر آگیا تھا۔ ۔ ہمت کرتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھانے لگا۔ ۔۔ ایک دم اسے لگا اس کے پاوں پر کوئی رسی لپٹی ہے۔ ۔ غور سے پاوں کی طرف دیکھا تو وہ کوئی موٹا چمکتا ہوا سانپ تھا۔ ۔ خوف کے مارے اس کے منہ سے ایک چیخ نکلی اور وہ بے ہوش ہو گیا۔ ۔۔
قریب ہی آنکھیں بند کیئے ایک بزرگ جو زکر کرنے میں مصروف تھے بچے کی چیخ سن کر چونک گئے۔ ۔۔ اپنی آنکھیں کھول کر آس پاس دیکھا تو ہر طرف خاموشی تھی۔ ۔۔ اپنی لالٹین کی روشنی تیز کر کے وہ اٹھے اور اس آواز کی سمت بڑھنے لگے۔ ۔ تھوڑی ہی دیر میں انہیں ایک بچہ زمین پر بے ہوش پڑا نظر آیا۔ ۔ اس کے پاوں پر ایک سانپ لپٹا ہوا تھا۔ ۔۔ بزرگ نے پاس آکر سانپ پر کچھ پڑھا وہ سانپ ایک دم ڈھیلا ہوگیا۔ ۔۔ بزرگ نے سانپ کو اٹھا کر بچے سے الگ کیا اور بچے کا سر گود میں رکھ کر دم کرنے لگے ۔۔۔۔ بچے کی پلکیں حد سے زیادہ لمنبی تھی چہرے پر آنسوں کے نشان تھے۔ ۔ تھوڑی ہی دیر میں بچے نے آنکھیں کھولیں اور بزرگ کو یک ٹک دیکھنے لگا۔ ۔ سر پر پگھڑی باندھے۔ ۔ منہ پر لمبی سی سفید دھاڑھی۔ ۔ چہرے پر نرم سی مسکراہٹ۔ ۔ اور سب سے انوکھا ان کے چہرے کا نور تھا جس کی وجہ سے وہ بچہ اپنی نظریں ان پر سے ہٹا نہیں پایا۔۔
کون ہو بیٹا تم؟
بزرگ نے بہت نرمی سے سوال کیا
بچہ ہوش میں آکر ایک دم سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
مم میں یہاں۔ ۔۔ آ آپ کک کون ہیں۔ ۔
بچے نے گھبرا پوچھا۔ ۔۔
ڈرو مت مجھ سے میں تمہاری مدد کرونگا میرو نام شاہ بابا ہے بتاو کہاں سے آئے ہو۔ ۔؟؟
بزرگ کا لہجہ بہت میٹھا اور شفقت بھرا تھا بچے کا خوف دور ہونے لگا
مم میرا نام مامون سکندر ہے۔ ۔ میں یہیں چک 48 کا رہنے والا ہوں ۔۔ میں غلطی سے چلتا ہوا یہاں آگیا مجھے میرے گھر جانا ہے۔ ۔۔
بچے نے اپنے بارے بتایا اور کپڑے جھاڑتا ہوا کھڑا ہو گیا
اوہ اچھا کوئی بات نہیں بیٹا صبح ہوتے ہی تم اپنے گھر چلے جانا جب تک آو میرے آستانے میں رہ لو۔ ۔ شاباش۔ ۔
اس بزرگ نے پیار سے کہا پتا نہیں کیوں مامون کو وہ بزرگ بہت اچھے لگے۔ ۔ وہ انہیں دیکھتا ہی رہا۔ ۔ بزرگ نے مامون کا ہاتھ پکڑا اور اپنے آستابے کی طرف لے گئے مامون پوری رات ان بزرگ کو دیکھتا رہا جو پوری رات بس کچھ نا کچھ عبادت کرتے رہے۔ ۔ رات کے نجانے کس پہر مامون کی آنکھ لگ گئی
بیٹا تمہارے گھر کا پتا چل گیا ہے۔ ۔ آو اس جنگل سے میں تمہیں نکال دیتا ہوں پھر آگے تمہیں خود ہی راستے کا معلوم ہو جائے گا۔۔۔
شاہ بابا نے مامون کو اٹھایا جو پہلے سے ہی جاگ چکا تھا۔ ۔ اسے یہاں ٹھیک سے نیند آئی ہی نہیں تھی
جج جی ٹھیک ہے بابا۔۔
مامون آنکھیں مسلتا ہوا کھڑا ہونے لگا
بیٹا اتنی پیاری آنکھیں ہیں تمہاری اسطرح بےدردی سے کیوں مسل رہے ہو۔ ۔
شاہ بابا کو مامون کی آنکھیں بہت خوبصورت لگی تھیں
وو وہ۔ ۔ مجھے نیند نہیں آئی پوری رات اسی لیئے اب درد ہو رہا ہے۔ ۔ ۔
مامون نے معصومیت سے جواب دیا۔ ۔ شاہ بابا بے اختیار مسکرانے لگے
اچھا چلو آو میں تمہارا منہ دھلوا دیتا ہوں۔ ۔ پھر چلتے ہیں۔ ۔
شاہ بابا نے مامون کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا وہ سر جھکائے چلنے لگا۔ ۔ کل رات کی نسبت آج یہ جنگل بہت خوبصورت لگ رہا تھا۔ ۔۔ ہلکی ہلکی ٹھنڈ تھی۔۔۔ شاہ بابا نے ایک چھوٹے سے برتن میں پانی بھرا۔۔ مامون ان کے سامنے کھڑا ہو گیا اب شاہ بابا اسے اسی برتن سے منہ دھلوا رہے تھے۔۔ ان سب فارغ ہو کر وہ لوگ پھر سے چلنے لگے
آپ یہاں اکیلے کیوں رہتے ہیں بابا؟ ؟
بہت دیر سے دل میں اٹھتے سوال کو آخر کار مامون نے پوچھ ہی لیا
اکیلا کون ہوتا ہے اس دنیا میں اللہ ہے نا ہم سب کے ساتھ۔ ۔
شاہ بابا نے مسکرا کر کہا
اچھا۔ ۔۔ مگر آپ جنگل میں کیوں رہتے ہیں کسی گھر میں رہہ لیں۔ ۔
مامون کو ساید شاہ بابا کے جواب سے تسلی نہیں ہوئی تھی
بس بیٹا یہ جنگل ہی میرا گھر ہے یہ درخت اور پودے میرے بچے ہیں۔ ۔
شاہ بابا نے اپنےارد گرد درختوں کی طرف ہاتھ پھیلا کر اشارہ کیا
آپ ہمارے گھر آ کر رہہ لیں۔ ۔ میرے تو ابا بھی چلے گئے چھوڑ کر اور اب تک تو شاید اماں بھی۔ ۔
مامون نے اداسی سے کہا۔۔۔ اسکی آنکھوں میں آنسوں آنے لگے اسی لیئے اس نے بات ادھوری چھوڑ دی
جانتا ہوں بچے۔ ۔تمہارے ماں باپ کے ساتھ اچھا نہیں ہوا۔ ۔ اللہ غارت کرے اس شیطان کو بھی اور اس شیطان سے علم کروانے والے انسان کو بھی۔ ۔ اداس مت ہو اللہ ضرور ان لوگوں کو سزا دے گا۔ ۔۔
شاہ بابا کے چہرے پر مسکراہٹ ایک دم غائب ہوئی تھی اور انہوں نے بہت سنجیدگی سے اپنی بات مکلمل کی
ہممم اللہ کرے۔ ۔ میرا دل کرتا ہے میں اسے مار دوں۔ ۔ مگر سب ہی اس سے بہت ڈرتے ہیں مگر کسی دن میں نے اسےڈھونڈ لیا نا تو اسے مار دونگا۔ ۔
مامون نے آنسو صاف کرتے ہوئے ایک عزم سے کہا شاہ بابا نے چونک کر مامون کو دیکھا اور کچھ سوچنے لگے۔۔ اب وہ دونوں جنگل کراس کر چکے تھے
چلو بیٹا وہ دیکھو سامنے جو گلی جا رہی ہے وہ تمہارے گھر کی طرف جائے گی۔۔۔ تم جب وہاں جاو گے تمہیں اندازہ ہو جائے گا۔ ۔۔ اپنا بہت خیال رکھنا۔۔ اللہ نگہبان تمہارا۔ ۔
شاہ بابا نے مامون کے سر پر ہاتھ رکھا
بابا جی کیا میں آپ سے ملنے آجایا کروں؟
مامون کا دل کیا وہ واپس نا جائے ان بزرگ کے پاس ہی رہہ جائے
ہمم آجانا مگر دیہان سے آنا کسی کو پتا نا لگے اور روز روز مت آنا اپنی پڑھائی دل لگا کر کرنا چلو شاباش اب جاو سب پریشان ہیں تمہارے لیئے۔ ۔۔
شاہ بابا نے پڑھ کر اس پر کچھ پھونکا۔ ۔ مامون نے مسکرا کر انہیں دیکھا اور ہاتھ ہلاتا ہوا وہاں سے چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دل آویز کتنی ہی دیر سے اپنی روتی ہوئی ماں کو چپ کروا رہی تھی مگر اس کی ماں کے رونے میں کوئی فرق نہ پڑا تھا وہ اسی طرح روئے جا رہی تھیں
ماما پلیززز بس کریں نا اتنا روئیں گی تو آپکی طبیعت خراب ہو جائے گی۔ ۔۔
دل آویز نے ایک بار پھر وہی جملہ دہرایا
بس چپ ہو جاو تم۔ ۔ جانتی بھی ہو تمہارے باپ نے کیا ظلم کیا ہے مجھ پر ہنہ۔ ۔ اللہ پوچھے گا اس سے۔۔۔۔
فاطمہ نے دل آویز کا ہاتھ جھٹکا۔ ۔ ابھی دس سال کی تو تھی وہ اسے کچھ خاص سمجھ نہیں آئی تھی اپنی ماں کی باتوں کی
کیا ہوا ہے ماما؟؟ بابا نے ایسا کیا کیا ہے بتائیں نا؟
دل آویز نے اصرار کیا
دوسری شادی کی ہے میرے سر پر سوتن لے آیا ہے۔ ۔۔
فاطمہ نے روتے ہوئے بتایا
اوہ۔ ۔ ماما بابا ایسا نہیں کر سکتے ۔۔ آپ نے بابا سے خود پوچھا ہے؟
دل آویز کو یقین نہ آیا۔ ۔ اسکے بابا اسکے آئڈیل ہیں ان کے بارے میں تو وہ کچھ سن ہی نہیں سکتی تھی
پوچھنے کی ضرورت نہیں پڑی اس نے خود ہی بتا دیا۔ ۔ اتنا منع کیا تھا مت جاو اس گاوں میں اب وہاں رکھا ہی کیا ہے مگر وہ چلا گیا۔ ۔۔ وہاں تو ہر دوسرا بندہ جادو کرتا ہے بس اس پر بھی کر دیا ہوگا اس چڑیل نے جادو۔ ۔۔
فاطمہ نے اپنا سر پیٹا
ماما پلیززز ایسا نہ کہیں۔ ۔یقینً کوئی مجبوری ہو گی ورنہ بابا ایسے نہیں ہیں۔ ۔
اس نے اپنی ماں کو سمجھانے کی کوشیش کی
نہیں تھی کوئی مجبوری۔ ۔۔ بس اس گاوں کے لوگ کسی کو نہیں چھوڑتے۔ ۔ یہ کیا کیا تم نے سلیم دو چھوٹے بچوں پر بھی رحم نہ آیا تمہیں۔ ۔
فاطمہ نے دل آویز کو گلے لگایا
ماما بس چپ ہو جائیں۔ ۔ بابا آئیں گے نا تو میں خود ان سے پوچھوں گی۔ ۔
گلے لگ کر دل آویز نے کہا۔ ۔۔ اس کا چھوٹا سات سال کا بھائی آنکھیں پھاڑے نا سمجھی میں دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ ۔ فاطمہ نے اسے بھی ہاتھ کا اشاہ کر کے اپنے پاس بلایا اور وہ بھی بھاگ کر اپنی ماں کے گلے لگ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامون کا روز کا معمول بن گیا وہ کالج سے آتے ہی شاہ بابا کے پاس چلا جاتا وہ ان سے باتیں کرتا۔ ۔ شاہ بابا کم ہی اس سے بات کرتے زیادہ تر وہ کسی نہ کسی زکر میں مصروف ہوتے یا پھر عبادت کرتے شام میں اکثر وہ اپنے آستانے سے تھوڑا ہٹ کر بیٹھ جاتے وہاں گاوں کے بہت سے لوگ ان سے دم وغیرہ کروانے آتے۔ ۔ مامون بہت خاموشی اور چھپکے سے انہیں دیکھتا رہتا اور سوچتا کے آخر یہ کیا کرتے ہیں۔ ۔ مگر پوچھنے کی ہمت اس میں نہیں تھی بس اسے یہ ڈر ہوتا کے اگر اس کے کسی سوال سے شاہ بابا ناراض ہو گئے تو۔ ۔۔
ایک دن مامون شاہ بابا کے آستانے میں انکی کتابیں کھول کر پڑھنے لگا ۔۔ اسے کچھ خاص سمجھ تو نہیں آرہی تھی مگر وہ پھر بھی دلچسپی سے پڑھ رہا تھا ۔۔۔ اس نے کتاب بند کر کے سامنے دیکھا تو شاہ بابا آنکھیں بند کیئے کسی سے باتیں کر رہے تھے جبکے ان کے آس پاس تو کوئی بھی نہیں تھا۔ ۔ تجسس کے مارے مامون بہت خاموشی سے ان کی طرف بڑھنے لگا اور بہت غور سے انکی باتیں سنے لگا۔۔۔ مگر چاہ کر بھی مامون کو کچھ سمجھ نا آئی
کیا ہوا مامون۔ ۔۔ یہاں کیوں آئے ہو؟
شاہ بابا نے آنکھیں کھولے بنا ہی پوچھا۔ ۔ مامون حیران ہوا
وو وہ مم میں تو ایسے ہی آگیا آپ کو دیکھنے۔ ۔
مامون گڑبڑا گیا
مجھے دیکھنے یا یہ دیکھنے کے میں کر کیا رہا ہوں۔ ۔؟
شاہ بابا نے سنجیدگی سے کہا
جج جی وہ آ آپ کس سے باتیں کر رہے تھے جبکے یہاں تو کوئی بھی نہیں ہے۔ ۔؟
مامون نے آس پاس نظر دھوڑاتے ہوئے پوچھا
تم نہیں دیکھ سکتے مامون ان سب کو جن سے میں باتیں کر رہا ہوں۔ ۔۔
شاہ بابا نے اپنی آنکھیں کھول کر مامون کو دیکھا۔۔ انکی آنکھیں اس وقت حد سے زیادہ لال ہو رہی تھیں مامون کو عجیب سا خوف محسوس ہوا
مم مگر میں کیوں نہیں دیکھ سکتا۔ ۔
خوف کے باوجود مامون ان سے پوچھنے لگا
کیا تم دیکھنا چاہتے ہو ڈرو گے تو نہیں۔ ۔
اب کی بار شاہ بابا کے چہرے پر وہ ہی مسکراہٹ آئی تھی جو پہلی بار مامون نے دیکھی تھی
جج جی۔ ۔۔ میں نہیں ڈرتا کسی سے۔ ۔
مامون نے کوشیش کی کے وہ اپنے خوف کو شاہ بابا پر ظاہر نہ ہونے دے مگر شاہ بابا شاید اسکے خوف کو جان گئے تھے۔۔۔
ہمم ابھی چھوٹے ہو تم۔ ۔ تھوڑے اور بڑے ہو جاو پھر سب کچھ بتاونگا تمہیں ٹھیک ہے اب چلو یہاں سے جاو مجھے اپنا کام کرنے دو۔ ۔۔
شاہ بابا کا لہجہ سنجیدہ مگر نرم تھا۔ ۔ نا چاہتے ہوئے بھی مامون وہاں سے اٹھ کر واپس چلا گیا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جب سے فاطمہ کو سلیم کی شادی کا پتا لگا تھا وہ آئے روز انہیں اس شادی کے طانے دینے لگی تھیں۔ ۔ اب تو دل آویز بھی اس بات کو سیریس نہیں لیتی تھی ویسے بھی وہ اپنے باپ کی لاڈلی تھی۔۔۔ سلیم دو چار مہینے بعد گاوں کا چکر لازمی لگاتا۔ ۔ وہاں جس عورت سے انہوں نے شادی کی تھی وہ سلیم سے عمر میں بڑی تھیں۔ ۔ ان کے پہلے سے ہی دو چھوٹے بچے تھے۔ ۔ سلیم نے ان دونوں بچوں کی زمہ داری اٹھائی تھی وہ دونوں بچے سلیم کے احسان مند تھے وہ واقعی انکا خیال ایک باپ کی طرح کرتا تھا۔۔۔ دن یونہی گزر رہے تھے۔ ۔ فاطمہ کے دل میں گاوں والوں کی نفرت میں کوئی کمی نہ آئی تھی۔۔۔ وہ ویسے ہی سب گاوں والوں کو ان پڑھ اور جاہل سمجھتی تھیں مگر اب سلیم کی دوسری شادی کے بعد تو انہیں اس گاوں کے نام سے ہی نفرت ہو گئی تھی یہ ہی وجہ تھی کے سلیم چاہ کر بھی اپنے بچوں کو گاوں لے کر نہیں جا سکتے تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامون اب کافی سمجھ دار اور سنجیدہ ہو گیا تھا۔ ۔ اپنی تعلیم مکمل کرتے ہی وہ اب پورا پورا دن شاہ بابا کے ساتھ گزارتا۔ ۔ آہستہ آہستہ شاہ بابا اسے اپنی لکھی گئی کتابیں سمجھاتے اور اسے اپنے بارے میں بھی بتاتے۔ ۔ شاہ بابا کی باتیں سن کر مامون کے دل میں ان کے لیئے عزت اور بڑھ گئی تھی۔ ۔ شاہ بابا اس سے پہلے بہت سے گاوں کے سفر کاٹ چکے تھے۔ ۔۔ شاہ بابا کے پاس خاص علم تھا جسے وہ آہستہ آہستہ مامون کے حوالے کرنا چاہتے تھے۔ ۔ مامون بھی انکی امیدوں پر پورا اترتا تھا۔۔۔ مامون کے گھر اور گاوں میں کسی کو خبر نہ تھی کے وہ کہاں رہتا ہے اور کہاں جاتا ہے۔ ۔ اس کے دونوں بڑے بھائی اپنے کاروبار میں مصروف رہتے جبکے بھابیوں کو تو مامون سے کوئی غرض نہ تھی۔ ۔۔ اس لیئے مامون بھی کسی کی پرواہ کیئے بغیر پورا دن شاہ بابا کے آستانے پر گزارتا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانچ سال بعد
شاہ بابا آپ کے بغیر میں بہت اداس ہو جاونگا۔ ۔۔ بہت شدت سے آپکے آنے کا انتظار کرونگا۔ ۔
مامون شاہ بابا کے سامنے سر جھکائے کھڑا تھا اور وہ واقعی ان کے جانے سے بہت اداس تھا شاہ بابا نے مسکرا کر اسے دیکھا تو انہیں وہ خوفزدہ بچہ یاد آگیا جو رات میں جنگل آکر بے ہوش ہو گیا تھا اب تو مامون کو یہ جنگل اپنا گھر سا لگتا تھا۔ ۔ شاہ بابا کے دیئے گئے علم سے مامون بہت بدل گیا تھا۔ ۔ پہلے سے زیادہ سنجیدہ اور خاموش ہو گیا تھا اب وہ ایک بھر پور مرد بن چکا تھا۔۔ چہرے پر ہلکی داڑھی رکھ لی تھی۔ ۔ سر کے بال بھی کافی لمبے تھے۔ ۔ البتہ اسکی آنکھیں آج بھی ویسی ہی تھیں خوبصورت۔۔ اس کی پلکیں اب بھی اتنی ہی لمبی تھیں۔۔۔۔ کافی دیر تک وہ خاموشی سے مامون کا جائزہ لیتے رہے مامون نے نظر اٹھا کر شاہ بابا کو دیکھا
کیا دیکھ رہے ہیں شاہ بابا؟ ؟
یہ ہی کے دیکھتے دیکھتے تم کتنے بڑے ہو گئے ہو ماشاءاللہ۔ ۔ مگر تمہاری آنکھیں اب بھی ویسی ہی ہیں یہ نہیں بدلیں۔ ۔
شاہ بابا نے مسکرا کر کہا ۔۔ مامون بھی مسکرانے لگا
شاہ بابا آپ واپس آئیں گے نا وعدہ کریں۔ ۔
مامون نے آگے بڑھ کر شاہ بابا کا ہاتھ پکڑ لیا
ہاں بچے جب مجھے ضرورت محسوس ہو گی میں ضرور آونگا۔ ۔ مگر تم وعدہ کرو مامون تم اس علم کو اپنے ذاتی مفاد کے لیئے استعمال نہیں کروگے۔ ۔ اللہ کے دیئے ہوئے اس علم کو امانت سمجھنا اور اس سے اس کی مخلوق کی جائز مدد کرنا ۔۔ اور ہاں کبھی اس بات پر غرور نہ کرنا کے تم علم والے ہو ہمیشہ عاجز رہنا۔ ۔۔
شاہ بابا نے ہمیشہ کی طرح مامون سے وعدہ لیا
جی شاہ بابا میرا وعدہ ہے آپ سے ۔۔ میں آپ کو مایوس نہیں کرونگا۔ ۔ اللہ کرے آپ خیریت سے جلد واپس آجائیں۔ ۔
مامون نے شاہ بابا کا ہاتھ پکڑ کر چوما اور پھر آنکھوں پر لگایا۔ ۔ شاہ بابا نے اسکا کندھا تھپتھپایا اور اسے اپنے گلے لگا لیا۔ ۔۔ شاہ بابا نے مامون کو یہ نہیں بتایا تھا کے وہ کہاں جا رہے ہیں۔ ۔ اور نہ ہی مامون نے پوچھا تھا وہ بس اپنا آستانہ مامون کے حوالے کر کے وہاں سے چلے گئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماما پلیززز آپ اتنی پڑھی لکھی ہو کر ایسی باتیں کرتی ہیں۔ ۔ یہ جادو وادو کچھ نہیں ہوتا۔ ۔ اور پھر آپکو تو مجھ پر یقین ہونا چاہیئے نا میں بھلا کسی کے ہاتھ آنے والی چیز ہوں۔ ۔ کیوں بابا؟ ؟
دل آویز نے ایک بار پھر فاطمہ کو سمجھایا وہ بہت دنوں سے گاوں جانے کی ضد کر رہی تھی اسے بہت شوق تھا گاوں دیکھنے کا مگر فاطمہ کی نا ہاں میں نہیں بدل رہی تھی
ہاں فاطمہ۔۔ دل ٹھیک کہہ رہی ہے اب وہ گاوں ویسا نہیں رہا وہاں بھی بہت سے لوگ پڑھ لکھ گئے ہیں۔ ۔ اور پھر میں ہوں نا اسکے ساتھ۔۔۔
سلیم نے دل آویز کی ہاں میں ہاں ملائی وہ بھی چاہتے تھے کے دل آویز انکا گاوں دیکھے
سلیم آپ اپنی بات رہنے دیں آپ تو خود اپنے آپ کو انکے جال سے نہیں بچا سکے میں اپنے معصوم بچوں کو وہاں نہیں جانے دونگی بس۔ ۔ بات ختم کریں۔ ۔
فاطمہ نے دوٹوک انداز میں کہا
دل آویز کا منہ بن گیا اور وہ پیر پٹختی ہوئی اپنے روم میں چلی گئی
دل بیٹا اداس مت ہو میری جان۔ ۔ میرے پاس ایک آئڈیا ہے ویسے۔ ۔
سلیم بھی دل آویز کے پیچھے روم میں آئے
کیسا آئڈیا بابا؟
دل آویز نے سر اٹھا کر پوچھا
ہم لاہور چلیں گے پہلے وہاں تمہاری پھوپو اور خالہ سے ملیں گے اس کے بعد ہم خاموشی سے گاوں چلیں گے۔ ۔ تمہاری ماما تمہیں لاہوں جانے سے نہیں روکے گیں۔ ۔
سلیم نے مسکرا کر اپنا آئڈیا بتایا دل آویز کے چہرے پر ایک دم چمک بڑھ گئی
واو بابا۔ ۔۔اچھا آئڈیا ہے۔ ۔۔ مگررر۔۔۔
دل آویز ایک دم خاموش ہوئی
مگر کیا؟
سلیم نے فوراً پوچھا
خالہ نے ماما نے بتا دیا تو۔ ۔؟؟ پھر تو ہم دونوں کو گھر سے باہر نکال دینگی ماما۔ ۔
ارے رہنے دو یہ گھر میرا ہے اسکی مجال ہے بھلا۔ ۔ اور ویسے بھی جب تک تمہاری خالہ بتائیں گیں تب تک ہم گاوں میں ہونگے۔ ۔
سلیم دل آویز کو اداس نہیں دیکھ سکتے تھے اسی لیئے وہ فاطمہ کی پرواہ کیئے بغیر دل آویز کو اپنے ساتھ گاوں لے جانے پر بضد تھے
یس۔ ۔ ڈن بابا یو آر دا گریٹ فادر ان دا ورلڈ۔ ۔۔
دل آویز نے خوشی سے نارا لگایا
شیشش آہستہ اگر ابھی تمہاری ماما نے سن لیا نا تو پھر سارا پلان خراب ہو جائے گا۔ ۔
سلیم نے دل آویز کے منہ پر ہاتھ رکھا۔ ۔ دل خوشی سے سلیم کے گلے لگ گئی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مامون بابا۔۔۔ میرا بچہ رات میں عجیب عجیب آوازیں نکالتا ہے۔ ۔۔ اس کے منہ سے جھاگ آنے لگتی ہے اور اب تو دن میں بھی دورے پڑنے لگے ہیں۔ ۔ گردن بھی ایسے مڑ جاتی ہے اور ہاتھ بھی مڑنے لگتے ہیں۔ ۔۔
گاوں کی ایک عورت کے بلانے پر مامون ان کے گھر گیا تھا۔ ۔۔اس عورت کا دس سالہ بچہ کافی دن سے بیمار تھا وہ عورت اپنے بچے کے لیئے بہت فکر مند تھی
مامون بابا دیکھیں کوئی تعویز وغیرہ دے دیں لگتا ہے میرے بچے کو کوئی باہر کا سایہ ہو گیا ہے ۔۔۔
عورت نے روتے ہوئے کہا۔۔ مامون نے سر ہلا کر اپنی لمنبی پلکوں کو نیچے جھکایا اور آنکھیں بند کیں۔۔۔ وہ اب خاموش تھا۔ ۔ اس بچے کے گھر والے خاموشی سے مامون کو دیکھ رہے تھے
خالہ آپ اسے کسی اچھے ہسپتال لے جائیں۔ ۔ اسے کوئی باہر کا سایہ نہیں ہے شہر لے جائیں وہاں کے ڈاکٹر بتائیں گے آپکو کے اسے کیا بیماری ہے۔ ۔ باقی میں اسے دم کر دیتا ہوں اللہ نے چاہا تو یہ بہت جلد ٹھیک ہو جائے گا۔ ۔۔
مامون نے تھوڑی دیر بعد اس عورت سے کہا اور پھر سے آنکھیں بند کر کے کچھ پڑھنے لگا۔ ۔۔ اور اس بچے پھونک دیا
مامون بابا کھانا تیار ہے کھا کر جائیے گا ۔۔۔
اس عورت کے شوہر نے خوش اخلاقی سے کہا
نہیں غلام دین میں اب چلتا ہوں ۔۔ کوئی مسئلہ ہو پیغام بھجوا دینا میں آجاونگا اور ہاں بچے کو آج ہی ہسپتال لے جانا۔ ۔ اللہ آپ سب کا نگہبان۔ ۔۔
مامون نے اپنے کندھے پر ڈالی چادر کو ٹھیک کیا اور کھڑا ہو گیا۔ ۔۔ اس گھر میں موجود اسکی جوان بیٹی نے مامون کے چوڑے کندھے اور لمبے قد کو دیکھا تو دل ہی دل میں اسے پانے کی خواہش کی جبکے مامون نے ایک نظر بھی ادھر اُدھر نہ ڈالی اور سیدھا وہاں سے چلا گیا
