Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Pur Israar Mohabat (Episode 23)

Pur Israar Mohabat by Maria Awan

مامون تیزی سے دل آویز کو اوپر ڈالی گئی مٹی ہٹانے لگا۔ ۔۔ جیسے ہی مٹی کا بوجھ کم ہوا تو مامون نے بہت احتیاط سے اسے قبر میں سے نکلال لیا

دل آویز آنکھیں کھولو پلیززز۔ ۔۔

مامون اس کے چہرے اور بالوں سے مٹی جھاڑتے ہوئے بولا ۔۔۔ مامون نے اس کا چہرہ اپنے ہاتھ میں لیا تو اسے محسوس ہوا کے دل آویز کا جسم حد سے زیادہ ٹھنڈا ہو چکا ہے۔ ۔۔ مامون اس کے چہرے پر جھک کر اس کی سانسوں کو چیک کرنے لگا مگر مامون کو اندازہ نہ ہوا کے سانس آ رہی ہے یا نہیں۔ ۔ مامون نے بے چینی سے دل آویز کو اپنے بازوں میں اٹھایا اور باہر کی طرف چل دیا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سلیم اور فاطمہ اس قدر بے چین ہوئے کے نہ چاہتے ہوئے بھی آتش کے آستانے کی طرف چل دیئے۔ ۔ رشیدہ اور سمن نے بہت روکنے کی کوشیش کی مگر ان سے مزید صبر نہیں ہو رہا تھا۔ ۔۔ سلیم اور فاطمہ اعظم کو لے کر اس راستے چل پڑے جو آتش کے آستابے کی طرف جاتا تھا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مامون کے قدم اسکا ساتھ چھوڑ رہے تھے نہ جانے کیوں مامون کو عجیب سا ڈر محسوس ہوا۔ ۔۔ دل آویز کو کھو دینے کا ڈر مگر وہ ہمت کرتا ہوا چلتا رہا۔ ۔ دل آویز کا ایک ہاتھ بے جان سا ہو کر لٹک رہا تھا۔ ۔ جیسے جیسے مامون چل رہا تھا اسے ایک ایک کر کے دل آویز سے کی گئی ہر ملاقات یاد آنے لگی۔ ۔۔ مامون تھک کر گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔ ۔۔ دل آویز اسی طرح اس کے بازوں میں تھی۔ ۔ مامون نے ایک نظر اسکے سفید ہوئے چہرے پر ڈالی اور اپنا سر دل آویز کے سر سے ٹکا دیا ۔۔ کتنے ہی آنسوں اس کی آنکھوں سے بہنے لگے دل شدت سے دعا کرنے لگا کے دل آویز کسی طرح بچ جائے۔ ۔۔ وہ خاموشی سے آنسو بہا رہا تھا۔ ۔ سلیم اور فاطمہ نے دور سے ہی مامون کو اسطرح بیٹھے دیکھا تو دھوڑکلر اس کے پاس آئے۔۔۔۔

دد دل آویز مم میری بچی۔ ۔ کیا ہوا اسے۔ ۔۔؟

فاطمہ نے مامون کے ہاتھ سے دل آویز کو چھینا چاہا۔ ۔ مامون نے بھیگی آنکھوں سے سلیم کو دیکھا

کک کیا ہوا ہے اسے مامون۔۔۔ تت تم نے کہا تم اسے کچھ نہیں ہونے دو گے۔ ۔۔؟؟

سلیم نے چینی سے پوچھا

مامون گم سم سا ہو کر سلیم کو دیکھنے لگا۔۔۔

میرے خیال سے دل کو فوراً ہسپتال لے جانا چاہیئے۔۔۔

اعظم نے عقل کا مظاہرہ کرتے ہوئے مشورہ دیا۔ ۔ سلیم کو اس بات بہت معقول لگی۔ ۔ سلیم نے ایک پل بھی ضائع کیئے بنا جھک کر دل آویز کو اپنے بازوں میں اٹھایا اور تیزی سے چلنے لگے۔ ۔۔اعظم بھی سلیم کے آگے بھاگتے ہوئے چلنے لگا ت اکے کوئی سواری ڈھونڈ سکے۔۔ فاطمہ بھی سلیم کے پیچھے بھاگنے لگیں۔۔۔ جب کے مامون خالی نظروں سے انہیں جاتا ہوا دیکھنے لگا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

دل آویز کو ایمرجینسی میں داخل کر لیا گیا بظاہر وہ بلکل ٹھیک تھی اس کی ہر چیز نارمل تھی مگر وہ گہری نیند میں تھی جیسے کسی نے اسے بہت گہری نیند سلا دیا ہو۔ ۔ ڈاکٹرز کو لگا کے شاید وہ کوما میں چلی گئی ہے ۔۔۔ سلیم اور فاطمہ رو رو کر اللہ سے اس کی زندگی لی دعا مانگنے لگے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مامون بہت مشکل سے خود کو سنبھالتا ہوا شاہ بابا کے پاس آیا۔ ۔

کیا ہوا مامون اس قدر افسردہ کیوں ہو؟

شاہ بابا نے سبجیدگی سے پوچھا

شاہ بابا۔۔۔ دل آویز پتا نہیں زندہ بھی ہے یا۔۔۔

دکھ کی وجہ سے مامون سے بولا نہ گیا

مامون۔ ۔ اللہ سے مایوس نہیں ہوتے۔ ۔ تمہیں ہر حال میں الحمداللہ کہنا ہے۔ ۔ تم ابھی بڑی کامیابی حاصل کر کے آئے تو تمہارے چہرے پر وہ خوشی کیوں نہیں جو ہون چاہیئے۔۔

مامون کو اسطرح ٹوٹا اور بکھرا ہوا دیکھ کر شاہ بابا کو برا لگا

کچھ چیزیں اپنے بس میں نہیں ہوتی نہیں نا شاہ بابا۔ ۔۔ وہ معصوم لڑکی میری وجہ سے اس حال میں ہے یہ احساس مجھے ختم کر رہا ہے۔ ۔۔

مامون نے سر جھاکا کر کہا

مامون کیا میں نے تمہیں اسطرح مایوس ہونا سیکھایا ہے؟ کیا تمہیں نہیں معلوم مومن کے بس میں سب کچھ ہوتا ہے اسکا نفس اسکا دل سب اسی کے تابع ہوتا ہے؟ اور وہ خود اللہ کا تابع ہوتا ہے مومن کا ایمان ہے کے ہر مشکل اور ہر آسانی اسی کی طرف سے آتی ہے پھر پریشانی اور مایوسی کیسی۔ ۔۔؟ بیشک وہ بچی تمہاری وجہ سے اس حال میں ہے مگر اس کے پیچھے کوئی نا کوئی مصلیحت ہے۔ ۔ اللہ کی مرضی کے بنا کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔ بجائے اس بات کو لے کر غمزدہ ہو۔۔ تم اس رب کا شکر کرو کے آج اس نے ہمیں اس وحشی شیطان سے نجاد دلوا دی۔ ۔ اور کہیں نا کہیں اس معصوم بچی کی وجہ سے ہی یہ سب ہوا ہے۔۔۔ میں جانتا ہوں تمہیں اُس سے بہت محبت ہے ہونی بھی چاہیئے مگر تم تو دوسروں کو مایوس نہ ہونے کا درس دیتے ہو۔ ۔۔ پھر خود مایوس کیسے ہو سکتے ہو؟

شاہ بابا نے تسلی سے اسے سمجھایا

آپ ٹھیک کہتے ہیں شاہ بابا میرا ایمان شاید آپ جتنا پختا نہیں ہے۔۔۔۔ میں کمزور سا انسان ہوں۔ ۔

مامون نے شرمندگی سے کہا

نہیں مامون میں تمہیں ایک مضبوط انسان بنانا چاہتا ہوں۔ ۔ ایسا انسان جو بہت سی مصیبتوں کو بھی صبر اور شکر کرتے ہوئے سہ جائے۔ ۔ مامون کیا میں نے تم پر اتنی محنت اس لیئے کی ہے کے تم خود کو کمزور سمجھنے لگو؟ شاہ بابا نے سخت لہجے میں کہا

شاہ بابا ناراض مت ہوں میں سب برداشت کر سکتا ہوں آپکی ناراضگی برداشت نہیں کر سکتا بس بچہ اور نادان سمجھ کر معاف کر دیں میں پوری کوشیش کرونگا کے اب اس کی رحمت کے آگے بلکل مایوس نہ ہوں۔ ۔۔

مامون نے فوراً شاہ بابا کا ہاتھ تھام کر شرمندگی سے کہا

میری ناراضگی سے زیادہ اللہ کی ناراضگی کی فکر کرنا۔ ۔ اور جو بھی کرو خالصتاً اللہ کے لیئے کرو۔ ۔۔ اب اٹھو شکرانے کے نفل ادا کرو اور اپنی بیوی کے لیئے خاص دعا کرو۔ ۔۔ مجھے اب یہاں سے جانا ہے۔ ۔۔ آج سے یہ گاوں اور اس میں رہنے والے لوگ تمہارے حوالے۔۔ انہیں بہکنے مت دینا۔۔ اب یہاں کوئی دوسرا آتش نہ آنے پائے

شاہ بابا نے مسکرا کر اسکا کندھا تھتھپایا۔ ۔۔ مامون بھی جوابًا مسکرایا

ان شاءاللہ شاہ بابا۔ ۔ آپ جب تک میری رہنمائی کرتے رہیں گے میں کامیاب ہوتا رہوگا۔ ۔۔

مامون اٹھ کر شاہ بابا کے گلے لگ گیا

اللہ تمہیں ہمیشہ کامیاب کرے آمین۔ ۔

شاہ بابا نے آخری نظر مامون پر ڈالی اور اپنے سفر پر نکل گئے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

آپ کی بیٹی کو ہوش آگیا ہے۔ ۔ ہم سمجھے وہ کوما میں ہیں مگر وی ڈونٹ نو کچھ عجیب سا کیس تھا پر اللہ کا شکر ہے شی از فائن ناو۔ ۔

لیڈی ڈاکٹر نے پریشان کھڑے سلیم اور فاطمہ کو یہ خوشخبری سنائی

اوہ تیرا شکر ہے اللہ۔ ۔۔ میری دل آویز ٹھیک ہو گئی۔ ۔ ڈاکٹر کیا ہم مل سکتے ہیں؟ ؟

سلیم اور فاطمہ کی خوشی میں آنکھیں بھیگنے لگیں

جی بس تھوڑی دیر میں آپ مل سکتے ہیں بس ایک دو ٹیسٹ ہو رہے ہیں انکے اگر وہ کلیئر آئے تو ہم انہیں ڈرچارج کر دینگے آج ہی۔ ۔

ڈاکٹر نے مسکرا کر کہا اور وہاں سے چلی گئی۔ ۔۔ فاطمہ اور سلیم ایک دوسرے کو خوشی سے دیکھنے لگے

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

جیسے ہی دل آویز کے ہوش میں آنے کی خبر اعظم نے سنی تو اُسے کو رضیہ کا خیال آیا۔ ۔ اسے یاد آیا کے اس نے وعدہ کیا تھا رضیہ سے۔ ۔۔ کہیں رضیہ نے کچھ غلط نہ کر دیا ہو۔ ۔ وہ تیزی سے گھبرا کر رضیہ کے پاس پہنچا۔ ۔۔۔ مگر اسے وہاں رضیہ نہ ملی۔ ۔ اس نے ڈرتے ہوئے موبائل ٹارچ کھولی اور اسے آوازیں دینے لگا۔ ۔۔ اسے عجیب سی بو بھی آرہی تھی۔ ۔ وہ ارد گرد دیکھتا احتیاط سے چلنے لگا کے اچانک اس کی نظر دو کتوں پر پڑی۔ ۔ اعظم نے غور کیا تو وہ رضیہ کے جسم کو نوچ کر کھا رہے تھے۔ ۔ اعظم نے بھاری پتھر اٹھا کر کتوں کی طرف مارا وہ کتے ڈر کر وہاں سے بھاگ گئے اعظم تیزی سے چلتا ہوا رضیہ کے مردہ جسم کے پاس پہنچا۔ ۔ اُس میں سے عجیب سی بو آرہی تھی اعظم اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لیا

افففف میرے اللہ تیرا انصاف۔ ۔۔!

اعظم نے رضیہ کو غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔۔ رضیہ کے جسم کو کتوں نے جگہ جگہ سے نوچ رکھا تھا اس آنکھیں باہر کو نکلیں ہوئی تھیں۔ ۔ اعظم افسوس سے سر ہلاتا ہوا رضیہ کو گھسیٹنے لگا۔ ۔۔ بو اس قدر تھی کے اعظم کو ابکائی آنے لگی۔ ۔ اعظم نے رضیہ کے مردے جسم کو ایسی جگہ چھپا دیا جہاں کتے نہ آسکیں اور خود یہ خبر دینے مامون کے پاس چلا گیا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

مامون بابا۔۔۔

اعظم بھاگتے ہوئے مامون کے پاس آیا

کیا ہوا اعظم بھائی۔ ۔

مامون نے سکون سے پوچھا

وو وہ۔ ۔۔ وہ رضیہ مر گئی اس کو جانوروں نے نوچ نوچ کر مار دیا۔ ۔

اوہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔۔ یہ سب اللہ کے کام ہیں۔۔۔۔ اب انکی ڈیڈ باڈی کہاں ہے؟

مامون نے افسوس سے پوچھا

جی میں نے اس جگہ سے ہٹا دی تھی کے کہیں دوبارا سے کتے نہ پڑ جائیں۔ ۔۔ اب آپ بتائیں انہیں دفنانا ہے یا جلانا ہے؟

اعظم نے پوچھا

اعظم بھائی انہوں نے جو بھی کیا مگر وہ تھیں تو مسلمان ہی۔ ۔ اور پھر شیطان کے بہکاوے میں آگئیں اس کی سزا آپ سب کے سامنے ہے۔ ۔ باقی اب اللہ کا معاملہ ہے انکے جنازے کی تیاری کریں۔ ۔

مامون نے دیھمے لہجے میں کہا

جی مامون بابا جیسے آپ کہیں ۔۔ وہ دل آویز کو بھی ہوش آگیا ہے ماشاءاللہ سے بلکل ٹھیک ہیں اب۔ ۔

اعظم نے خوشی سے بتایا

اوہ شکر الحمدللہ۔۔۔

مامون نے گہرا سانس لے کر کہا

اعظم بھائی میں زرا شکر ادا کر لوں پھر مجھے دل آویز کے پاس لے جایئے گا۔ ۔۔

مامون نے مسکرا کر کہا اعظم سر ہلا کر وہیں بیٹھ گیا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

اعظم مامون کو چھوڑ کر خود رضیہ کے کفن دفن کا انتظام کرنے چلا گیا۔ ۔۔ سلیم اور فاطمہ دونوں دل آویز کے پاس تھے…مامون نے دروازہ بجایا سلیم نے اٹھ کر کھولا

مامون تم۔۔۔ معافی چاہتا ہوں بیٹا تمہارا حال پوچھ ہی نہیں سکا۔۔۔

مامون کو اپنے سامنے دیکھ کر سلیم نے شرمندگی سے کہا

کوئی بات نہیں انکل مجھے خود اپنا ہوش نہیں تھا کے آپکو تسلی ہی دے دیتا۔۔۔ کیا میں دل آویز سے مل سکتا ہوں۔۔؟

مامون نے اندر آنے کی اجازت مانگی

آں۔۔۔ ہاں آو ۔۔!

سلیم نے اسے اندر آنے کا راستہ دیا

مامون کی نظریں دل آویز پر پڑیں جو بیڈ کے ساتھ ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ ۔۔ مامون کتنے ہی پل اسے دیکھتا رہا دل آویز نے بھی اسے نظر بھر کر دیکھا ۔۔ فاطمہ کو مامون کا آنا اچھا نہیں لگا

تم اب کیا کرنے آئے ہو کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی تم نے دل کو مارنے کی۔ ۔۔!

فاطمہ نے کھڑے ہو کر غصے سے کہا

فاطمہ چپ رہو۔ ۔ اور دونوں کو ملنے دو تم باہر چلو میرے ساتھ

سلیم سمجھ گیا تھا کے مامون دل آویز کے ساتھ کچھ لمحے اکیلے رہنا چاہتا ہے ۔۔

کیا۔۔۔۔ میں اِسے اپنی بچی کے پاس اکیلے نہیں چھوڑوں گی مجھے باہر بھیجنے سے بہتر ہے آپ اسے بھیجیں۔ ۔۔

فاطمہ نے غصے سے کہا

میں جو کہہ رہا وہ کرو۔۔۔ یہ باتیں بعد میں کر لیں گے ابھی چلو میرے ساتھ۔ ۔۔

سلیم نے فاطمہ کا بازو پکڑا اور اُسے زبردستی باہر لے گئے

مامون دل آویز کو دیکھتا ہوا اس کے سامنے بیٹھ گیا

کیسی ہو دل؟

مامون نے نرمی سے پوچھا

میں بلکل ٹھیک ہوں اب۔۔۔ آپ کیسے ہیں؟

دل نے مسکرا کر پوچھا

تمہارے بغیر تھوڑا اداس ہوں مگر ویسے ٹھیک ہوں۔ ۔

مامون نے دل آویز کا ہاتھ تھام لیا

دل آویز۔ ۔۔ میں بہت بہت محبت کرتا ہوں تم سے۔ ۔۔

مامون نے بے اختیار اس کے ہاتھ کی ہتھیلی پر بوسا دیا

مم مامون آپ یہ کیا کر رہیں ماما نے دیکھ لیا تو۔ ۔۔

دل آویز ایک معصوم بچے کی طرح ڈر گئی۔ ۔ مامون نے مسکرا کر اسکا ہاتھ چھوڑ دیا

دیکھتی ہیں تو دیکھ لیں حق رکھتا ہوں۔ ۔۔!

مامون نے کندھے اچکا کر کہا

آپ بھول رہیں ہیں آپ نے میری ماما سے کچھ وعدے بھی کیئے ہیں۔ ۔

دل آویز نے یاد دلایا

سب بھول گیا۔۔ اب مجھے بس یہ یاد ہے کے تم میری بیوی اور میری محبت ہو۔ ۔۔ خیر جلدی ٹھیک ہو جائیں۔ ۔ آپکی ماما کو بھی منا لیں گے۔ ۔

مامون نے مسکرا کر کہا اور اسکا چہرا اپنے ہاتھوں میں بھر کر دیکھنے لگا

💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕
💕

سلیم میں کہہ رہی ہوں آپ یہ اچھا نہیں کر رہے جب میں نے یہ شادی ختم ہی کروانی ہے تو انہیں اکیلے وقت دینے کا مقصد۔ ۔۔ چھوڑیں مجھے بہت ہو گیا۔۔۔

فاطمہ نے غصے سے اپنا ہاتھ چھوڑوایا اور واپس دل کے روم میں آگئی ۔۔ مامون جو دل آویز کے بہت پاس بیٹھا تھا فاطمہ کو یہ دیکھ کر آگ لگ گئی۔۔۔

تم کس سے پوچھ کر اس کے اتنے پاس بیٹھے ہو۔ ۔ تمہیں یاد نہیں ہے اپنا وعدہ۔ ۔

فاطمہ مامون کے سر پر کھڑے ہو کر چلائی

میری بیوی ہے مجھے کسی سے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ ۔

مامون نے سنجیدگی سے جواب دیا اور کھڑا ہو گیا

بیوی ہے نہیں تھی۔ ۔ وعدے کے مطابق تمہیں اب اسکو چھوڑنا ہوگا۔ ۔ تمہارا کام بس اتنا ہی تھا۔ ۔۔

فاطمہ نے دانت پیستے ہوئے کہا

دل آویز کو مجھ سے اللہ کے سوا کوئی الگ نہیں کر سکتا فاطمہ آنٹی۔۔۔ میرے لحاظ کو میرا ادب سمجھیں۔ ۔ مجھے اس معاملے میں کمزور نہ سمجھیں۔ ۔ اور ہاں جہاں تک بات ہے وعدے کی تو اس کی ایک اور شرط بھی تھی۔ ۔ اگر دل آویز خود مجھ سے الگ ہونا چاہیئے گی تو پھر مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ ۔

مامون نے کا لہجہ سخت تھا مگر اس میں ادب بھی شامل تھا

ہنہ تمہیں کیا لگتا ہے دل آویز میرے خلاف فیصلہ کرے گی وہ جانتی ہے میں اسکے حق میں صحیح فیصلہ کرونگی۔ ۔۔ دل بتاو اسے کے تم اب یہاں نہیں رہو گی تم علیحدگی چاہتی ہو۔ ۔۔

فاطمہ نے دل آویز کے پاس آکر پوچھا

دل آویز نے بے بسی سے سلیم اور مامون کو دیکھا

بولو دل میری جان تمہیں ایک کو چُننا ہے اپنی ماں یا پھر اس انسان کو جس کی وجہ سے تم نے اتنی مشکلیں برداشت کیں۔ ۔۔

فاطمہ نے روتے ہوئے کہا دل آویز عجیب مشکل میں پڑ گئی

فاطمہ خدا کے لیئے اسے ٹھیک تو ہونے دو اور تم ابھی سے۔ ۔ یہ مت بھولو کے مامون نے ہی اپنی جان پر کھیل کر اسے بچایا ہے۔ ۔۔

سلیم نے اپنا غصہ کنٹرول کرتے ہوئے کہا

نہیں سلیم فیصلہ ابھی اور آج ہو گا۔۔۔ بتاو دل آویز اگر تم اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو تمہیں اپنی ماں کو چھوڑنا ہو گا۔ ۔۔

فاطمہ نے دل آویز کا ہاتھ تھام کر کہا۔۔۔۔ مامون خاموشی سے دل آویز کو دیھکنے لگا

ماما آپ روئیں مت پلیززز۔ ۔۔ مم میں۔ ۔۔

دل آویز کے لیئے فیصلہ کرنا بہت مشکل ہو گیا۔ ۔ آخر ایک طرف وہ شخص تھا جس نے اسے بہت محبت دی تھی اس کی جان بچائی تھی اور دوسری طرف اسکی ماں تھی جس نے اسے جنم دیا اور ہمیشہ محبت کی تھی۔ ۔۔

بتاو دل بیٹا کہ دو اس سے کے تم اپنی ماما کی بات مانو گی میرے ساتھ اپنے گھر جاوگی ہم پھر سے اسی طرح مل کر رہیں گے۔ ۔۔

فاطمہ نے دل آویز کو ایموشنل کیا۔ ۔ فاطمہ دل کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیئے رونے لگیں۔ ۔۔

مم ماما آپ چپ ہو جائیں آپ جیسا کہیں گیں میں ویسا کرونگی۔ ۔۔

دل آویز نے بہت مشکل سے فیصلہ کیا۔ ۔۔ مامون نے بیقینی سے دل آویز کو دیکھا۔۔۔

اوہ تو میں اب تک تمہارے دل میں اپنے لیئے محبت نہیں جگا سکا۔ ۔۔

مامون نے دکھ سے سوچا۔ ۔ سلیم نے مامون کو دیکھا جس کی آنکھوں میں ایک دکھ سا تھا جیسے دل آویز نے اسکی ساری امیدیں توڑ دیں ہوں۔ ۔۔ سلیم کو اس وقت خاموش رہنا ہی بہتر لگا کیونکے فاطمہ کو ابھی سمجھانا بیکار تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *