Pur Israar Mohabat by Maria Awan NovelR50526 Pur Israar Mohabat (Episode 20)
Rate this Novel
Pur Israar Mohabat (Episode 20)
Pur Israar Mohabat by Maria Awan
سب سے پہلے مامون نے اپنے جزبات کو قابو کیا۔ ۔۔ اسے جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا تھا۔ ۔۔ بیشک آتش کا سامنا کرنے کا مطلب خود کو موت کے منہ میں لے جانا تھا مگر اب اس کے علاوہ اور کوئی اوپشن نہیں تھا۔ ۔۔ مامون نے سب سے پہلے شاہ بابا کی وہ کتابیں نکالیں جن میں انہوں نے ایسے عمل بتائے تھے جو سخت مقابلے کے وقت کیئے جاتے تھے۔ ۔ ۔ عمل بہت سخت تھے اگر اسے کوئی عام بندہ کرتا تو اسکی جان بھی جا سکتی تھی مگر مامون کو اس وقت اپنی جان کی پرواہ نہ تھی ۔۔ مامون کو اب یہ ہمت کرنی ہی تھی۔ ۔۔ جیسے جیسے مامون پڑھتا گیا اسے اندازہ ہوتا رہا کے اگر وہ یہ عمل ٹھیک سے نہ کر پایا تو آتش اور طاقت ور ہو جائے گا۔ ۔۔ اگر یہ عمل ناکام ہوئے تو اس کا نقصان پورے گاو ں کو ہو گا۔ ۔۔ عمل بہت سخت تھے مگر مامون کو ہمت کرنی تھی۔ ۔ اگر آج وہ ہمت نہ کرتا تو شاید پھر کبھی نہ کر پاتا۔ ۔۔۔ دوسری طرف فاطمہ نے معافی کو اتنی بد دعائیں دیں۔ ۔۔ آخر یہ سب معافی کی وجہ سے ہوا تھا مگر وہ بھی کیا کرتی مجبور تھی۔ ۔ ۔ سلیم کو بھی کہیں چین نہیں آرہا تھا۔ ۔ سمن اور رشیدہ دل آویز کے لیئے مسلسل دعائیں کر رہے تھے ۔۔۔ ان سب میں اعظم اور اسے کے گھر والے ہی تھے جو ان سب کو سنبھالے ہوئے تھے
















یہ تو بوووو ہت ت ت پیاری ہے۔ ۔۔۔ ہاہاہاہا۔ ۔ اسے میں اپنا غلام بناونگا۔ ۔۔ ہاہاہاہا۔ ۔۔ جو تم نے کام کیا ہے اس کا انعام ملے گا بہت اچھا انعام ملے گا تم دونوں کو۔ ۔۔۔
آتش ندیدی نظروں سے دل آویز کو دیکھ کر بولا جو نیم بے ہوش سی حالت میں زمین پر لیٹی ہوئی تھی
مالک۔ ۔۔ سرکار۔ ۔۔ کرم ہے آپکا۔ ۔۔ !
رضیہ نے ہاتھ جوڑ کر خوشی سے کہا
ہممممم آج یہ لے میرا ایک عمل اور اسے اپنی مرضی سے استعمال کر۔ ۔۔ زینت کی زمین چاہیئے تھی نہ۔ ۔ جا۔۔۔ جا کر حاصل کر لے۔ ۔۔ کسی سے ڈرنا مت۔ ۔۔۔
آتش نے اپنے پاس پڑی ایک تجوری کھول کر رضیہ کو عجیب ساپتھر دیا۔ ۔۔۔۔
مالک۔ ۔۔ یی یہ تو کالا علم ہے مطلب کیا میں اس کی مدد سے اپنے کام کر سکتی ہوں۔ ۔۔
رضیہ کی آنکھوں میں عجیب سی چمک پیدا ہو گئی
ہاں۔ ۔۔ جو مرضی چاہے کر میں سوال نہیں کرونگا۔ ۔۔ میں جانتا ہوں مامون اب الٹے قدموں سے چلتا ہوا میرے پاس آئے گا۔۔۔۔ واہ مامون بہت چالاکی دیکھائی تھی تم نے۔ ۔ دیکھا کیسے گُھس گیا میں تمہارے آستانے میں۔ ۔۔
آتش نے جھک کر دل آویز کے چہرے کو دیکھا اور خباثت سے ہنسنے لگا
مالک اب تو پورا گاوں ہی آپکو مانے گا آخر مامون کے پاس کچھ بچا ہی نہیں۔ ۔۔
رضیہ نے خوشی سے کہا
ہاہاہا ہاں ۔۔ مامون کو بھی اپنا غلام بناوں گا میں۔ ۔ چل اب تو جا اور موجیں کر۔ ۔۔۔
آتش نے اسے ہاتھ کے اشارے سے جانے کا کہا۔ ۔ وہ خوشی خوشی وہاں سے چلی گئی
















شام ہوتے ہی مامون نے بہت سی دعائیں مانگ کر اپنا عمل شروع کیا۔ ۔ یہ عمل کسی ایسے شخص کی قبر پر کرنا تھا جس کی جان کسی عمل کی وجہ سے گئی ہو۔ ۔۔۔ مامون نے ہمت کک اور زینت کی قبر پر چلا گیا۔ ۔ سب سے پہلے اس کے لیئے دعا کی اور پھر اپنی پڑھائی شروع کرنے لگا۔۔۔
مامون آنکھیں بند کیئے زکر میں مصروف تھا کے اسے لگا اس کے کندھے پر کچھ بوجھ سا ہے اس نے اپنے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دیکھا تو کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔ ۔۔ مامون نے بنا کسی خوف کے آنکھیں کھولیں اور اس ہاتھ کو زور سے پکڑ لیا۔ ۔ اور پھر وہ پورا ہاتھ مامون کے ہاتھ میں آگیا۔ ۔ مامون نے غور سے اس ہاتھ کو دیکھا۔ ۔ ایک دم اس ہاتھ میں حرکت سی ہوئی اور اس ہاتھ نے مامون کی گردن کو زور سے پکڑ لیا اور دبانے لگا۔ ۔۔ مامون کی سانس روکنے لگی۔ ۔ مامون نے زور زور سے آیةالکُرسی کا ورد شروع کر دیا۔ ۔ مامون نے پوری طاقت سے اُس ہاتھ کو کھینچا۔ ۔۔ ایک دم وہ ہاتھ ڈھیلا پڑ گیا۔ ۔ مامون نے اس ہاتھ کو نفرت سے دور پھیل دیا ۔۔۔۔۔
اب وی دوبارہ پڑھائی میں مصروف ہو گیا۔ ۔۔ اسے بہت خوفناک سی آوازیں آرہی تھیں مگر اس نے ان آوازوں پر توجہ نہ دی ۔۔۔ آنکھیں بند کیئے زور زور سے زکر کرتا رہا۔۔۔۔ اچانک مامون کو لگا کے کوئی زینت کی قبر کی مٹی کھود رہا ہے۔ ۔۔ مامون نے فوراً آنکھیں کھول دیں۔ ۔ سامنے بنا کسی سر کے دو جسم زور زور سے مٹی کھود رہے تھے۔۔۔ مامون جانتا تھا یہ سب عمل کا حصہ ہے مامون کو اُنہیں روکنا تھا اگر وہ انہیں نہ روکتا اور اگر وہ قبر کی مٹی پوری کھود لیتے تو مامون کو اسی قبر میں دفنا دیتے۔۔ مامون تیزی سے کھڑا ہوا اور اونچی آواز سے مخصوص زکر پڑھتے ہوئے ان پر پانی کا چھڑاو کرنے لگا۔ ۔۔ چھڑکاو کی وجہ سے ان دونوں میں اور تیزی آگئی۔ ۔۔ ایک پل کو تو مامون یہ دیکھ کر حیران اور پریشان ہوا مگر اگلے ہی لمحے اس نے ہمت کرتے ہوئے اپنا عمل جاری رکھا۔ ۔۔ جتنی تیزی ان دو جسموں میں آئی تھی اتنی ہی جلدی وہ دونوں تھک گئے۔ ۔۔ وہ دونوں بنا سر والے جسم مامون کی طرف پلٹے اور اسکی طرف بڑھنے لگے ۔۔ مامون اپنی جگہ پر قائم رہا اور انہیں غصے سے دیکھتا ہوا زکر کرتا رہا ۔۔۔ وہ دونوں جسم مامون کے بہت پاس آگئے اور جھک کر بیٹھ گئے۔ ۔۔ مامون نے ان دونوں کو دیکھ کر ہاں میں سر ہلایا اور انہیں جانے دیا۔ ۔ اس کا مطلب تھا کے ان وہ دو جسم مامون کے غلام ہو گئے ہیں اور اسکی مدد کریں گے۔ ۔ یوں تو وہ دونوں اُتنے طاقت ور نہیں تھے جتنے کے آتش کے غلام تھے۔ ۔ مگر مامون کے پاس جو ایمان تھا وہ آتش کی طاقت سے کہیں زیادہ تھا۔ ۔۔
















واہ۔ ۔۔ پیاری۔ ۔۔ میری بیوی بنے گی تو۔ ۔۔ اور مامون میرا غلام۔ ۔ ہنہ اپنا کتا بنا کے رکھوں گا میں اسے۔ ۔۔ ہاہاہا۔ ۔
آتش نے دل آویز کے بالوں کو نیچے سے کاٹنا شروع کر دیا۔ ۔۔۔ وہ مسلسل خوف ناک طریقے سے ہنس رہا تھا۔ ۔۔۔ بال ہاتھوں میں پکڑے وہ جلتی ہوئی آگ کے پاس گیا اور ایک ایک کر کے کچھ پڑھتا ہوا بال اس میں ڈالنے لگا۔ ۔۔۔ دل آویز نیم بے ہوشی کی حالت میں یہ سب دیکھنے کی کوشیش کر رہی تھی۔ ۔۔ دل آویز نے ہمت کرتے ہوئے مامون کی بتائی ہوئی دعائیں پڑھنے کی کوشیش کی مگر اس وقت اس کا حلق ایسے ہو رہا تھا جیسے اس میں کانٹے اُگ گئے ہوں۔ ۔۔ مگر پھر بھی دل اپنی زبان ہلا کر زکر کرنے لگی۔ ۔۔ آتش نے غور سے دیکھا تو وہ بال آگ میں جلنے کے بجائے ویسے ہی پڑے تھے آتش غصے سے دل کی طرف پلٹا
آں ں ں۔۔۔۔ تو بھی مقابلہ کرنا چاہتی ہاں۔ ۔۔ ابھی بتاتا ہوں۔ ۔۔
آتش نے غصے دل آویز کے ہاتھ پر اپنا پاوں رکھا اور زور دینے لگا۔ ۔ دل آویز کی ایسی حالت تھی کے وہ درد سے چیخ بھی نہ پا رہی تھی۔ ۔۔
اگر اب میری عمل میں دخل دیا تو تو یہیں خت۔ کر دونگا سمجھی۔ ۔۔
آتش نے چلاتے ہوئے کہا اور دوبارہ اپنا عمل کرنے آگ کے پاس چلا گیا
















مامون کو کتنی چیزوں نے خوفزدہ کیا اور کتنی چیزوں نے حملہ کیا وہ ان سب کا شمار نہیں کر سکتا تھا۔ ۔۔ مگر وہ بنا کسی خوف کے سب کا مقابلہ کرتا رہا۔ ۔ وہ خود بھی حیران تھا کے اتنی ہمت اس میں کہاں سے آگئی۔ ۔۔ وہ ہر زکر کرنے سے پہلے آسمان کی طرف سر اٹھا کر اللہ سے اپنی کامیابی کی دعا ضرور مانگتا۔ ۔۔۔ صبح ہونے میں چند گھنٹے ہی رہ گئے تھے مامون کو یہ عمل ایک رارمت میں پورا کرنا تھا۔ ۔ وہ ایک پل کے لیئے بھی سویا نہ تھا۔ ۔ وہ اپنی آنکھیں بند کیئے مسلسل اونچی آواز میں پڑھائی کر رہا تھا۔ ۔۔ اب اسے کسی کے غُرانے کی آواز آئی جیسے کوئی شیر ہو۔ ۔۔ مامون نے آنکھیں کھول کر دیکھا تو اسے صرف دو بہت ہی سرخ آنکھیں نظر آئیں۔ ۔ وہ جو بھی تھا اس قدر کالا تھا کے اندھیرے کا حصہ ہی معلوم ہوتا تھا۔ ۔ مامون نے غور سے اُن آنکھوں میں دیکھا۔ ۔ وہ آنکھیں اب تیزی سے مامون کی طرف آ رہی تھیں ایسا لگتا تھا جیسے اُن آنکھوں سے خون ٹپک رہا ہو۔ ۔۔ مامون نے اپنے دل کو مضبوط کیا اور اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوتے ہوئے مخصوص زکر کرنے لگا۔ ۔۔ وہ آنکھیں اور تیزی سے اس نزدیک آنے لگیں۔ ۔ زکر کرتے ہوئے مامون کے سر میں شدید درد اٹھا مگر وہ برداشت کرتا رہا وہ جانتا تھا یہ زکر آسان نہیں ہے۔ ۔ مگر درد حد سے بڑھ رہا تھا۔ ۔۔ مامون نے بے اختیار ہی اپنا سر تھام لیا۔ ۔۔ اسے محسوس ہوا کے جیسے اس کی آنکھوں سے کچھ بہہ رہا ہو۔ ۔۔ اس نے اپنی انگلیوں سے اپنے چہرے کو چھوا تو اس کی انگلیوں پر خون لگ گیا۔ ۔ مامون کو اندازہ ہوا کے اسکی آنکھوں سے خون بہہ رہا ہے۔ ۔۔ اسے لگا اس کا سر درد سے ابھی پھٹ جائے گا۔ ۔ ۔ مامون کے لیئے کھڑے ہونا مشکل ہو گیا۔ ۔۔ وہ بار بار اپنی آنکھیں جھپک جھپک کر خون کو روکنے کی کوشیش کر رہا تھا۔ ۔۔ مامون کو اپنے ناک سے بھی خون نکلتا ہوا محسوس ہوا۔۔۔۔ وہ بار بار اپنی چادر کی مدد سے کبھی آنکھوں کا خون صاف کرتا اور کبھی ناک سے بہتے ہوئے خون کو صاف کرتا۔ ۔۔
وہ آنکھیں اب مامون کے بلکل سامنے کھڑی ہو گئیں۔ ۔۔۔ مگر مامون کو اس وقت کچھ نظر نہ آیا۔ ۔ شدید بے بسی کے عالم میں اس نے ہاتھ میں پکڑی زکر کی کتاب کو اپنے سینے سے لگا لیا۔ ۔ اور زور زور سے زکر کرنے لگا۔ ۔ آہستہ آہستہ سر کے درد میں تو کمی آنے لگی مگر اس کی گردن پر کسی چیز کا حصار تنگ ہونے لگا۔ ۔ وہ حصار اتنا تنگ ہوا کے مامون کو کھانسی آنے لگی اس کے منہ سے الفاظ نکلنا بند ہو گئے۔ ۔ مامون اپنے گلے پر ہاتھ رکھے زور زور سے کھانستے ہوئے سانس لینے کی کوشیش کرنے لگا۔ ۔۔ مامون کی آنکھیں باہر کو آگئیں۔ ۔ اور چہرہ خطرناک حد ےک سرخ ہو گیا جیسے سارا خون چہرہ پر سمٹ آیا ہو۔ ۔۔















سلیم کچھ کریں میری بچی کو واپس لے آئیں نہ جانے وہ کس حال میں ہو گی۔۔۔
فاطمہ نے روتے ہوئے کہا
کیا کروں میں۔۔۔۔ مجھے کیا معلوم کے وہ کہاں لے گیا ہے دل کو۔ ۔ افف میں تو خود ہر پل دل کے بارے میں سوچ رہا ہوں۔ ۔۔
سلیم اپنا سر تھام کر بیٹھ گیا
ابا جی آپ لوگ خود کو سنبھالیں۔ ۔۔ مامون بابا دل باجی کو ضرور واپس لائیں گے۔ ۔ ہم سب بھی دعا کر رہے ہیں۔ ۔
سمن نے سلیم کو دل سے تسلی دی۔۔ رشیدہ کافی دیر سے تسبیح ہاتھ میں لیئے دعاوں میں مصروف تھیں۔ ۔ سلیم دکھی دل سے مسکرا دیئے اور سمن کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا۔ ۔ فاطمہ نے چونک کر سب کو دیکھا۔ ۔۔ یہ وہی لوگ تھے جن سے فاطمہ آج تک نفرت کرتی آئی تھی مگر آج یہ لوگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر صرف دل آویز کے لیئے دعائیں کر رہے تھے۔ ۔۔ جب سے فاطمہ آئی تھیں رشیدہ اور سمن اس کے آگے پیچھے گھومتی رہی تھیں۔ ۔۔ رشیدہ ہمیشہ فاطمہ سے بہت نرمی سے بات کرتی۔۔۔ جیسے وہ فاطمہ کی احسان مند ہو۔ ۔۔ جب کے فاطمہ نے ہمیشہ نفرت سے ہی جواب دیا۔ ۔ مگر آج یہ سب دیکھ کر فاطمہ کو ان لوگوں کے خُلوص پر پیار آیا اور اپنے روئیے پر شرمندگی محسوس ہوئی۔ ۔۔ فاطمہ کو پہلی بار سمن کے اندر دل آویز کی جھلک نظر آئی تھی۔ ۔۔
شاید اللہ واپس لے کر بھی آزماتا اسی لیئے فاطمہ کےدل میں اللہ نے نرمی پیدا کر دی۔ ۔۔ وہ بہت پیار سے سمن کو دیکھنے لگیں۔ ۔۔
مگر ابھی ان میں اتنا حوصلہ پیدا نہیں ہوا تھا کے وہ سب کو معاف کرتے ہوئے گلے لگاتی۔ ۔۔
















مامون کا سانس اس قدر روکنے لگا کے اس کے لیئے کھڑا رہنا مشکل ہو گیا۔ ۔۔ ۔۔ اُس کے منہ سے ٹوٹ ٹوٹ کر الفاظ نکلنے لگے۔ ۔۔ مامون کو لگا وہ گرنے لگا ہے اُس نے بہت کوشیش کی کے خود کو گرنے سے بچا لے۔ ۔۔ اچانک اسے ایسا لگا جیسے اسے کسی نے سہرا دیا ہو۔ ۔ گرنے سے بچایا ہو۔۔۔۔۔
ایک ٹھنڈی ہوا اس کے چہرے کو چھوتے ہوئے گزر گئی۔ ۔ جس سے مامون کو بہت سکون ملا اور اس کا سانس بھی بہال ہونے لگا۔ ۔۔ مامون نے جلدی سے خود کو سنبھال کر سامنے دیکھا تو لال آنکھیں اب تک غصے سے مامون کو گھور رہی تھیں۔ ۔ مامون نے نفرت سے انہیں دیکھا اور پھر ان پر تھوک دیا۔ ۔۔ تھوکنے پر ان آنکھون نے مامون کے پاس آنا چاہا مگر وہ آ نہ سکی۔ ۔ وہ آنکھیں بار بار مامون کے پاس آنے کی کوشیش کرتی مگر کچھ ایسا تھا جو انہیں روک رہا تھا۔۔ مامون کو لگا وہ آنکھیں غصے اور بے بسی کے ملے جلے تاثرات سے مامون کو گھور رہی ہیں۔ ۔ مگر مامون نے پروا نہ کی اپنی جگہ واپس آکر دوبارا سے اپنے عمل کو شروع کر دیا۔ ۔۔
اسے ایک ایک کر کے سب وہ لوگ یاد آنے لگے جن کی موت آتش کے جادو کی وجہ سے ہوئی تھی جن میں سب سے پہلے اس کے ماں باپ تھے۔ ۔ یہ دیکھ کر مامون کے جزبے کو اور قوت مل گئی۔ ۔۔ وہ آنکھیں بند کیئے سب کو اپنے بہت پاس محسوس کر رہا تھا۔ ۔۔ وہ سب اسے ایسی نظروں سے دیکھ رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں کے ہماری موت کا بدلہ لیئے بغیر مت لوٹنا۔۔۔۔
















آتش نے دل آویز پر اپنا عمل شروع کر دیا جس سے دل آویر بلکل اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھی۔ ۔۔ آتش نے ایک قبر جیسا کھڈا بھی کھودوا لیا۔ ۔۔ وہ جانتا تھا کے کسی بھی وقت مامون اس کے پاس آ سکتا ہے اس لیئے وہ اپنی پوری تیاری کیئے بیٹھا تھا۔ ۔۔
















دور دور سے فجر کی آزانوں کی آواز گوجنے لگی۔ ۔ مامون آنکھیں بند کیئے آزان سنے لگا۔ ۔۔ اسی دوران اسے محسوس ہوا کے اس کے سامنے شاہ بابا کھڑے ہیں اور اسے اسی طرح مسکرا کر دیکھ رہے ہیں جیسے وہ اسے پہلی بار ملتے ہوئے مسکرائے تھے۔۔۔۔
شاہ بابا۔ ۔۔
مامون کے لب ہولے سے ہلے۔ ۔۔
اللہ تمہارے ساتھ ہے مامون کہیں بھی لڑکھڑاو تو اسی سے مدد مانگنا بیشک ہمارے ساتھ سب سے زیادہ قریب رہنے والی ذات اللہ کی ہے۔ ۔۔ کہیں جزبات سے کام مت لینا۔ ۔ شیطان بہکائے گا۔ ۔۔ تمہیں لالچ دے گا مگر اس چالوں میں مت آنا۔ ۔ تم فرق کرنا ہے شینطانی چالوں اور اللہ کی طرف سے کی جانے والی مدد میں۔ ۔ اس کے لیئے جزبات سے کام نہیں لینا۔ ۔۔ اللہ تمہیں کامیابی دے میرے دعائیں تمہارے ساتھ ہیں۔ ۔۔۔
مامون نے خاموشی سے یہ سب سنا۔ ۔ اس سے پہلے کے وہ کچھ کہتا شاہ بابا کا عکس دھندلاتا ہوا غائب ہو گیا۔ ۔۔ مامون نے گہرا سانس لے آنکھیں کھول دیں۔ ۔۔ نمازِ فجر کا وقت ہو چکا تھا۔ ۔۔ مامون نے وہیں نماز ادا کی
اور پھر جیسے ہی صبح کا اجالا ہوا مامون کو محسوس ہونے لگا کے اب کچھ ایسا ہے اُس کے پاس جس سے وہ آتش کا مقابلہ کر سکتا ہے اسے عجیب سی طاقت کا احساس ہو رہا تھا۔ ۔ یہ اس کا پہلا تجربہ تھا۔۔۔۔ کسی شیطان کا آمنے سامنے ہو کر مقابلہ کرنے کا ۔۔
مگر وہ اپنے دل میں مضبوط ارادہ کر چکا تھا یا تو اسے ختم کرے گا یا پھر خود ختم ہو جائے گا۔۔۔ مگر جھکے گا نہیں۔ ۔۔۔ قبرستان سے نکلتے وقت اس نے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر سچے دل سے اپنی کامیابی کی دعا مانگی اور اپنی منزل کی طرف چلنے لگا۔ ۔۔
