Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Last Episode

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Last Episode

فائنلی لاریب سے شادی کر رہا ہے نومان..
مقدس نے نمرہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جو ٹیبل.پر برتن سیٹ کر رہی تھی..
اچھی بات ہے نا..
نمرہ نے جواب دیا تھا..
ہممم…. ویسے تو نے کیا کہہ.کر.منع.کیا تھا؟؟ دیکھ ویسے اس.نے پھر بھی تیری ہی.مانی..
پیار کا ثبوت..
مقدس مزے سے بکواس لیے جا رہی تھی جبکہ نمرہ کی نگاہ اٹھی تو جیسے اسے چپ لگ گئی..مقدس نے لاؤنج کے دروازے پر نا دیکھا تھا.جہاں.فرحان.اور برہان.نا صرف اندر ا چکے تھے بلکہ.اسکی بات بھی اچھی طرح سن.چکے تھے..
نومان کا.نام سن کر فرحان کے ماتھے ہر.بل.پڑے تھے جو.نمرہ نے بخوبی دیکھے تھے
نمرہ نے اشارے سے اسے چپ.رہنے کروانے کی.جوشش کی مگر وہ سمجھتی تب نا…
ویسے نمی مجھے بڑا ترس آیا تھا اس پر… پانچ سال تک وہ انتظار کرتا رہا..پر چلو نصیب …
وہ پھر بھی شروع تھی اور فرحان کے چہرے کے بگڑتے زاویے نمرہ کی جان.نکال.رہے تھے..
ویسے دیکھ تو شادی پر.نا..
وہ ابجی.کچھ کہنے ہی لگی تھی کہ برہان کی آواز گونجی تھی..
مقدس پانی لاؤ..
برہان نے کڑے تیوروں سے اپنی.بیوی کو گھورا تھا جو برہان کی.آواز سن کر ہڑبڑا کر پلٹی تھی..
سامنے نا صرف برہان بلکہ فرحان.شاہ بھی موجود.تھا
اور اس.کا چہرہ صاف بتا رہا تھا اسی.مقدس کی بات کچھ خاص پسند.نہی آئی..یہی حالت برہان.کی.تھی..
آپ..آ…آ گئے..میں.لاتی ہوں.
وہ ایک.دم ہڑبڑا کر.کچن.کی طرف بھاگی تھی..
جہاں.سے جھانک کر اسنے.نمرہ کی پریشان شکل دیکھی تھی..
جو اسی کو.گھور رہی تھیِ.
سوری…
مقدس نے کان.پکڑ کر اشارے سے کہا تھا..
جب نمرہ.نے غصے سے اسے.منہ.بند.رکھنے کا.اشارہ کیا تھا
اس سے پہلے مقدس آتی فرحان اٹھ کر کمرے میں چل.دیا تھا..یہ انکے آفس سے آنے کا.وقت نہی تھا..اج وہ جلدی آگئے تھے..بچے ابھی سکول تھے جبکہ نمرہ اور مقدس دونوں کی ڈیوٹی نہی تھی آج..
نمرہ..
سیڑھیاں.چڑھتے فرحان.شاہ نمرہ کو.آواز.دینا.نا.بھولا تھا..
نمرہ نے بامشکل تھوک نگلا اور اوپر کو چل.دی جہاں اسے پتا نہی کیا دیکھنے کو.ملتا..
فرحان.کے غصے کا.سوچ کر ہی اسکی جان ہوا.ہونے.لگی تھی..
جبکہ.مقدس کا.دل کیا وہ کچن سے کہیں بھاگ جائے.مگر برہان کے سامنے نا جائے..
وہ پانی کا.گلاس ٹرے میں سجائے بائر آئی مگر برہان شاید کمرے میں جا چکا تھا
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
وہ کمرے میں آئی جہاں فرحان شوز.اتار کر ٹائی ڈھیلی کرتا صوفے پر آرامدہ انداز.میں.بیٹھ چکا تھا..
کھانا لگواؤں؟؟
نمرہ.نے احتیاط سے پوچھا تھا..
نہی..
روکھا سا.جواب آیا تھا..
کیا کہہ رہی تھی مقدس ؟؟
فرحان.نے نمرہ کی.کلائی جکڑی تھی..
وہ..وہ نومان.کی.شادی ہے تو اسنے…. اسنے.بلایا ہے..
نمرہ نے نگاہ جھکا.کر جواب دیا تھا..
اور تم.نے.مجھے کیوں.نہی.بتایا؟
فرحان.نے اسکی معصوم سے شکل کو غور سے دیکھتے ہوئے ہ
پوچھا تھا… وہ ابھی تک اسی طرح نازک تھی… بیٹے ہونے.کے باوجود اس میں.کوئی خاص فرق.نا آیا تھا..
آج ہئ تو انویٹیشن آئی..مقدس نے بتایا کہ وہ خود.انوائیٹ کرنا چاہ رہا تھا..
نمرہ نے فرحان.کو.بتایا تھاِ.
کوئی ضرورت نہی ہے جانے کی..معزرت کر.لو
فرحان.نے جواب.دیا تھا
مگر کیوں؟؟
نمرہ.نے حیرت سے پوچھا تھا.
کیا اس کا جواب بھی میں.دوں؟؟
ایک.منٹ کیا تم واقعی اسکی.شادی میں.جانا.چاہتی ہو؟؟ اینڈ ایک اور بات..یو.نیور ٹولڈ می کہ.اسنے تمہیں پرپوز کیا تھا..
کلائی پر سختی کچھ اور بڑھی تھی..جو نمرہ کو تکلیف دے رہی تھی.
ہاں جانا.چاہتی ہوں کیونکہ.سب کلاس فیلوز انوائیٹڈ ہیں..
اینڈ جہاں تک پرپوزل کا سوال ہے تو یہ کوئی ایسی بات نہی کہ اس کو ایشو بنایا جائے.. اسکا رشتہ آیا میں نے منع کر دیا.. باقی عام پرپوزلز کی طرح..اگر اس بات ہر اپکو کوئی مسئلہ ہے تو میں.یہی.کہونگی کہ مجھے دکھ ئوا..کیونکہ یہ بات میرے لیے اہمیت نہی.رکھتی کہ.کس نے.مجھے.ہرپوز کیا.نا.اپ کے لیے رکھنی چاہیے.. اہم بات یہ ہے کہ اپکو.مجھ ہر اعتبار کتنا ہے…
میں.نے اپکی.محبت کا اعتبار کیا اور اپکو چنا.. میں اپ سے وفادار تھی..ہوں اور رہوں.گی..
بٹ سٹل اگر یہ بات آپکے لیے میٹر کرتی ہے اور آپ اس وجہ سے مجھے روک رہے ہیں تو ٹھیک ہے نہی.جاؤں گی میں.
نمرہ نے گویا بات.ہی ختم.کر.دی تھی جبکہ فرحان کا.سارا غصہ کہیں بہہ گیا تھا..وہ جو.مقدس کی بات سن کر بھڑکا تھا بمرہ کا.جواب اسے سرشار کر گیا تھا..
وہ اٹھنے لگی جب فرحان.نے اسے واپس بٹھایا تھا..
اگر کوئی بھی مرد.ایسی بات سنے تو اسے غصہ آئے گا اور ضرور آئیگا.. بےشک وہ تمہارے لیے اہمیت نہی رکھتا.. نا اب نا ماضی.میں.. مگر اسکی.نظر تو تمہارے لیے ویسی نا تھی نا..تم.نے کلاس فیلو.کی.حد تک سمجھا پر اسنے تو سوچا نا دوسری نظر سے.. اور بس یہ بات غصہ دلا دیتی ہے ..
بٹ اعتبار والی بات غلط کی.تم.نے اعتبار تو پہلی چیز.ہے.ہمارے درمیان..محبت سے پہلے اعتبار اور عزت آتی ہے جانتا ئوں..
اور اگر میری بیوی ایسی ہے کہ.بہت سے لوگ اس کے ساتھ کے خواہشمند تھے تو یقیناً میں.بہت خوش قسمت تصور کرتا ہوں خود کو تم.میری ہو..مجھے ملی ..میرے ساتھ اور میری وفادار ہو.. تم پر ہی تو اعتبار ہے..
وہ نرمی سے سمجھاتا اسے جیسے انمول کر گیا تھا..
نمرہ.مسکرا ئی تھی..
ماما…ماما…
رائق چینختا ئوا.کمرے کو دروازہ دھڑلے سے کھولے اندر گھسا تھا
نمرہ ایک.دم.اچھل.کر فرحان سے دور ہوئی تھی…
وٹ از دس رائق؟؟
فرحان.نے ماتھے.ہر.بل.ڈالے اسے ہوچھا تھا..اشارہ بنع.ناک کیے اندر.گھسنے اور چیخنے پر تھا..
اور رائق صاحب کے تو اچھوں کو.بھی علم نا تھا کہ آج اسکے ڈیڈ گھر پر.موجود ہوں گے..ورنہ وہ مکمل تمیز.کا.مظاہرہ کرتا..
اوپسسس.. رائق.نے ایک دم تھوک نگلا..
سوری ڈیڈ…
وہ بولا اور جھٹکے سے روم.سے نکل.کر.دروازہ بند کر.کے ناک کیا..
ناؤ کم.ان..
فرحان بولا.تھا
جبکہ.نمرہ.مسکراہٹ دباتی فرحان کے.کپڑے.نکالنے چل.دی تھی..
سکول یونیفارم میں.موجود سرخ ٹماٹر ہوتے گالوں کے ساتھ وہ دندناتا ہوا اندر.آیا اور جھٹ سے فرحان کے پاس صوفے پر چڑھ کر آرام سے بیٹھ گیا.
ہاؤ واز یور ڈے ڈیڈ؟؟
(آپ کا.دن.کیسا گزرا)
اسنے فرحان.کے گھٹنے پر بیٹھتے ہوئے پوچھا تھا..
اٹ واز گڈِ.
فرحان نے اسکا گال چومتے ہوئے جواب دیا تو رائق.نے بھی آگے بڑھ کر اسکا گال چوما.تھا..
اپکا کیسا رہا؟؟
فرحان.نے اس سے پوچھا
اٹ واز.ناٹ دیٹ مچ گڈ..
رائق نے منہ پھلا.کر.کہا.تھا..
جبکہ.نمرہ فرحان.کے کپڑے نکال کر.بیڈ پر رکھ چکی تھی..
مائر اور وائز کہاں ہیں ؟؟ اینڈ اپ نے یونیفارم چینج نہی کیا؟؟
نمرہ.نے اسے فرحان سے لاڈیاں.کرتے دیکھ کر.پوچھا تھا
وہ فوراً ٹھ جر نمرہ کے پاس آیا اور بیڈ پر چڑھ کر اسکو ہگ جیا تھا..
تھینک یو…
نمرہ نے اسکا گال چوما.تھا
وہ دونوں چینج کرنے گئے ہیں..
رائق.نے منہ.بنا.کر.جواب دیا..
اور فرحان کے کندھے پر چڑھ گیا..
اچھا کیوں نہی تھا دن؟؟
فرحان.نے پوچھا تھا
ڈیڈ مجھے تھمج(سمجھ) نہی آتی…
وہ فرحان کو دیکھ کر بولا تھا..
کیا سمجھ نہی اتی بھئی؟؟
فرحان.نے پوچھا تھا..
اپ تی(کی) اور.مما تی(کی) تھادی(شادی) اشعل (اشعر) تاتو
سے پہلے ہوئے تھی نا..
وہ بہت گہری سوچ میں.بول رہا تھا..
ہاں.جی پہلے ہی ہوئی تھی..
فرحان.نے.حیرت سے اس چھوٹے سے توپ کو دیکھا تھا..جبکہ.اسکی بات نمرہ.کو.بھی متوجہ کر گئی تھی..
تو احمل(احمر) مجھے سے بلا( بڑا) توں (کیوں ) ہے؟؟
وہ ہل وت (وقت) بتاتا ہے ائی ایم.اولڈر دین یو..میلی.بات مانو..
وہ.منہ.پھلا.کر احمر (اشعر اور عریبہ کا بیٹا) کا رعب جھاڑنا بتا رہا تھا..
اجثر.کھیل.کود.کے.دوران.لڑائی ہوتی تو وہ اس پر بڑا ئونے کا.رعب جھاڑتا تھا.. اور مرتا کیا.نا.کرتا.. رائق کڑوا گھونٹ پی کر اسے گھورتا رہتا..کیونکہ.مما کہتی ہیں.بڑوں.کی بات ماننی چاہیے…
اسکی بات سن کر فرحان.نے حیرت سے پہلے اسے اور پھر حیران.و.ہریشان.کھڑی نمرہ کو.دیکھا تھا..اگلے لمحے فرحان.کے چہرے پر معنی خیز مسکراہٹ ابھری تھی..
بیٹا..یو.آر رائٹ..بٹ اپ کے اس سوال.کا.جواب اپکی.ماما دیں گی..
بتاؤ.نمرہ رائق کو پہلے پیدا ہونا چاہیے تھا.نا..پھر احمر بڑا کیوں.ہے؟؟
فرحان.نے.نمرہ.کو.گھسیٹا تھا..
اسکی.مسکراہٹ نمرہ کو تپا گئی تھی..
ایگزیکلئ..مجھے پہلے پیدا ہونا تھا..
رائق نے.اتفاق.کیا تھا..
بیٹا آپ جا کر چینج کرو.. گو.ناؤ…
نمرہ ن اسے بھیجنا چاہا تھا..
نو ..پہلے بتاؤ ہمیں. .رائق چھوٹا کیوں.ہے؟؟ شادی تو.ہماری پہلے ہوئی تھی.. فارس بھی بڑا ہے جبکہ.ایمن.اور سالار کی شادی بھی بعد میں.ہوئی..
فرحان.نے جان کر بات پکڑی تھی اور رائق کا.ساتھ دیا تھا..
یس ڈیڈ..فارس از آلسو اوڈر…وائے؟؟
رائق کا شکوہ قائم تھا..
Actually your mama is cruel
فرحان.نے معصومیت سے نمرہ.کع.ظالم.کہا.تھا.جس.پر وہ صرف اسے گھو سکی تھی..
رائق..گو.ناو..ادر وائز.نو پلے فار ٹو ڈے..
(رایق.جاؤ.ابھی ورنہ آج کھیلنا.بند)
نمرہ.نے دھمکی دی تو وہ.منہ.بناتا اٹھ گیا تھا..
اتنے میں.مائر اور وائز کمرے میں.داخل.ہوئے تھے..
واو..ڈیڈ..آپ جلدی آگئے..
وہ دونوں.فرحان.کی.جانب لپکے تھے..فرحان.نے باری باری دونوں کے گال چومے تھے…
ہاؤ واز یور ڈے؟؟ فرحان نے پوچھا
اٹ واز.گڈ…
مائر بولا تھا اور پھر وہ دونوں.فرحان.کو.پورے دن.کا.حال.بتانے لگے جس میں رائق.کی شکایات بھی تھیں کہ.کیسے اسے ایک.بچے. کی.پینسل توڑ دی جو اسکو.تنگ کر رہا تھا..رائق.نے
منہ.کے زاویر بگاڑ کر انکو.دیکھا تھا..
نمرہ نے اسکے بعد.انکو.چینج کرنے بھیجا تھا..
انککی چوتھی سالگرہ کے بعد تینوں کا ایڈمیشن کروایا گیا تھا..
ان.تینوں کی.شکلیں ملتی تھیں مگر. مائر شاہ تو.بالکل فرحان.شاہ کی کاربن کاپی تھا…
اسکا مزاج بھی فرحان.جیسا تھا.. چھوٹا ہونے کے باوجود.سلجھا ئوا … جبکہ رائق اکثر لوگوں کو اپنی باتوں اور شرارتوں سے اشعر کا.بیٹا لگتا تھا…
رائق کی.بات کا.جواب نہی.دیا تم.نے ڈارلنگ!!
فرحان.نے بیڈ.پر بیٹھتے ہوئے نمرہ سے پوچھا تھا
..فرحان. اپ کو.دیکھ کر کوئی.کہہ.سکتا ہے آپ تین بچوں کے باپ ہیں ؟؟
نمرہ نے اسے گھورا تھا..
تمہیں دیکھ کر.کوئی.کہہ.سکتا ہے تم.تین بچوں کی.ماں ہو؟؟
فرحان.نے.بغور اسکا صبیح چہرہ.دیکھا تھا..
اسی طرح لمبے بال.. نکھری رنگت.. ناک میں.جگمگاتی نوز.پن…لمبی شفاف.گردن میں.موجود نازک سی چین..
اور اسلی پتلی.نازک کمر…
پورے ہاسپٹل میں میرے سوا.کسی کا.ٹرپلیٹس کا کیس.نہی.تھا..
نمرہ نے اسے یاد.دلایا تھا..
جانتا ہوں..
فرحان.نے.گردن.اکڑا.کر.کہا.تھا..
جی اپکو.سب.کچھ ہی الگ کرنا.ئوتا ہے..
نمرہ نے کہا تھا…
اتنا کہہ کر وہ لاؤنج میں چل دی تھی جہاں ان تینوں نے اپنی موجودگی کے اثرات ظاہر کرنا شروع کر دیئے تھے ..
❤❤❤❤❤❤❤
ہاں تو میں.نے.سوچا چینج اچھا ہے..
نمرہ.نے فرحان کو.دھڑلے سے جواب دیا.تھا..
عریبہ اسے پارلر.جانے.کے لئے بلانے آئی تھی..نمرہ.مے.سوچا.کیوں.نا.وہ اب.کی.بار بال.کٹوا.ہی لے..مگر اتفاق.دے فرحان.کمرے میں.تھا اور عریبہ کی بات سن.کر.اسنے عریبہ.سے کہا.تھا.وہ.جائے نمرہ.نہی آئے.گی..
جب.نمرہ.کو.پتنگے لگ گئے تھے…
جب میں.نے.سوچ لیا تو سوچ لیا بس..
وہ ہیئر برش ڈریسنگ پر رکھتی بولی.تھی..
فرحان.نے اسے.منع کیا تو.وہ.بھی ضد پر آگئی..
کیا.کہا تم.نے؟
فرحان دو اسکی جانب بڑھاتا بعلا تھا..
وہ..میں..ہاں..نہی…
نمرہ.نے اسے خود.کی.طرف بڑھتے دیکھ.کر.تھوک نگلا.تھا
ہاں…تو…کیا ہوا.جا رہی ہوں..کٹ..کٹوانے تو..
وہ.بولی.تھی..زبردستی کی.بہادری.دکھاتے ہوئے..
کہیں.نہی.جا رہی.تم..
وہ اسکو دیکھ.کر.بولا.تھا..
انداز رعب جھاڑنے.والا تھا..
کیوں…جاؤنگی..اور.جاؤنگی..
وہ بھی.جواباً بولی تھی
جا کر دکھاؤ پھر..
فرحان.نے ابرو.اچکا کر.کہا.تھا..
اپ کو.پتا ہے.اپ کتنا رعب جھاڑتے ہیں.مجھ پر..ہر وقت اپنی.مرضی.چلاتے ہیں..
نمرہ نے غصے سے کہا.تھا..
وہ.دونوں.اس.وقت لڑنے میں.مصروف تھے اس.بات کی.پرواہ کیے بغیر کے کمرے کا.دروازہ کھلا تھا اور انکی آواز باہر سب باآسانی سن.سکتے تھے..
لاؤنج.میں.عریبہ , مقدس , برہان, آمنہ بیگم , عالیان, ثوبان.ملک.وجاہت سب.تھے کیونکہ.عصر کا.وقت تھا اور سب اس وقت ایک.ساتھ ہی شام کی چائے پیتے تھے جبکہ.بچے لان.میں.کھیل.کود میں.مصروف تھے.
نمرہ.کا.شکوہ سب نے سنا تو بامشکل اپنی.مسکراہٹ دبائی تھی
ہاں.تو اپنی.چیزوں پر انسان.اپنی.مرضی ہی چلاتا ہے.نا..
فرحان نے جواب.دیا تھا.جب اشعر بھی لاؤنج میں داخل.ہوا تھا..
چیز..میں.چیز نہی.ہوں اپکی.کوئی انسان ہوں.میں..
نمرہ نے.ملکہ جذبات بن کر اپنی ذات کا ادراک.کروایا تھا..
یہ ڈائیلاگ پرانا ہو.گیا ہے ڈارلنگ..
فرحان بولا تھا..
ڈائیلاگ نہی.مار رہی.میں..
نمرہ.نے جواب.دیا تھا..
چلو.چیز نہی ئو پر ہو تو میری ہئ نا…
وہ بھی.فرحان.تھا..مزے سے جواب ایا تھا..
اسے اپنی.طرف آتا.دیکھ.کر.وہ.دو قدم.پیچھے ہوئی تھی..
اچھا..نہی جا رہی..
وہ.دبک.کر.بولی تھی
اور دروازے کی جانب گئی..
کٹواؤنگی کٹواؤنگی اور گنجی ہو.کر آونگی..
وہ پھر سے.بولی.تھی
اوکے..مگر واپس.تو ادھر ہی انا ہے.نا.جاؤ..
آرام.سے جواب آیا تھا..
میں..میں.اب اپکی.کوئی بات نہی.مانوں.گی..
نمرہ.نے.دھمکی دی تھی…
تم.جانتی ہو مجھے اپنی.منوانی.اتی ہے..تم.چاہ.کر.بھی.کچھ نہی.کر.سکتی
فرحان بڑی.معنی خیزی سے.بولا.تھا ..نمرہ ایک.دم.لال.ہوئی تھی ..
جبکہ.لاؤنج میں.بیٹھے.تمام.نفوس اب بہت.مشکل.سے اپنی.مسکراہٹیں ضبط کر.رہے تھے..
بالآخر اشعر اٹھا اور چند. سیڑھیاں عبور.کرتا اور گیا تھا..
یہ گفتگو اپ کمرہ.بند.کر.کے کیا.کریں..
اشعر نے فرحان.کو.دیکھ.کر.مسکراہٹ اچھال کر کہا.اور ساتھ ہی.روم.کا.دروازہ.بند.کیا تھا..
جبکہ.نمرہ.خجل.ہو.کر.رہ.گئی تھی..جبکہ.فرھان.بھی.کچھ کھسیا گیا تھا..
انہیں کب اندازہ.تھا سب انہی کو.سن.رہے تھے..
نمرہ نے ایک.کڑی نظر اس.پر ڈالی اور پیر چٹخنی ڈریسنگ روم.میں چل.دی کیونکہ.فلحال.باہر جا.کر.سب کا.سامنا کرنے کی ہمت تو اس میں.قطعی نا تھی..
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
اسنے شام.کا.کھانا. امنہ بیگم.اور مقدس.کے ساتھ.مل.کر.بنوایا تھا..
اسکا.دل.کیا.فرحان کو.مرچیں.کھلا.دے مگر.افسوس وہ اگر کچھ کرتی بھی تو خود.کی شامت بلاتی…
کھانے.وغیرہ سے فارغ ہو.کر وہ نماز ادا کرنے.لگی..پھر بچوں.کو.دودھ دے.کر دانت برش.کرنے کا کہہ.کر.وہ.چل.دی تھی..
فرحان.اور برہان لاؤنج.میں.ہی.بیٹھے تھے..
مقدس بھی سونے چل.دی تھی..کیونکہ آج اسے اسماعیل.نے رو رو.کر.ہلکان.کر.رکھا تھا..
جب وہ.سویا تو.اسنے.شکر.کا.سانس لیا.اس.سے پہلے وہ دوبارہ جاگتا
وہ.سونے چل.دی..
فرحان کمرے میں.گیا تو وہ سونے کی کوشش.کر.رہی.تھی..
نمرہ…
اسنے.بلایا.مگر وہ.سوتی بنی رہی..اسکی لرزش کرتی پلکیں دیکھ.کر وہ مسکرا.دیا تھا..
سائیڈ لیمپ آف کرتا وہ لیٹا تھا اور اسکا ہاتھ تھاما تھا
نمرہ.نے سخت گھوری اس.پر.ڈالی.تھی..
میں..آپکا..
تم.میرا.سر پھاڑ دوگی..ہینا..اوکے.ڈن .ِ
فرحان.نے.شرارت سے اسکا.جملہ.مکمل کیا تھا..
میں.اپکی.کوئی بات.نہی.مانوں.گی..
وہ اسی انداز.میں.بولی.تھی..
پر میں.تو اپنی کروں.گا..
وہ بڑے مزے سے اسکےاسکے بالوں کو.انگلی پر لپیٹتا.بولا.تھا..
اس سے پہلے وہ کچھ کہتی فرحان اسکے کان پر جھکا تھا..
اس.بار.مجھے بیٹی چاہیے.بالکل.تمہارے جیسی..
اسکی چھوٹی سی لال.ناک. وہ بولا.تھا
💞💞💞💞💞💞💞💞💞💞
وائز بس.کرو اب..ہوم.ورک.کرو..
وہ ٹی وی بند کرتے ہوئے بولی تھی..
اوکے سویٹ موم..
وہ نمرہ کو دیکھ.کر بولا.تو.وہ.مسکرا.دی..
وہ ایسا.ہی تھا بات سسننے والا.. ٹھنڈے سے مزاج کا.
اسنے سب بچوں.کو.شیک.بنا.کر.دیا تھا..مقدس اسماعیل.کو.سنبھال.کر.تھک.
جاتی تو نمرہ اسکی.مدد.کرتی تھی..
اسے بارہا بلانے.کے.باوجود.رائق نہی آیا وہ اسکے پیچھ کوئی تیسری بار لان.کا چکر لگا رہی تھی..
اب تو اسے تھکن.ئونے.لگی تھی..
رائق.اندر.چلو لاسٹ ٹائم.کہہ.رہی.ہوں.میں..وہ.غصے سے بولی
اوکے.ماما..تمنگ..(کمنگ)
وہ بال ایک.طرف پھینکتا اندر ایا تو امنہ.بیگم.کی.گود میں چڑھ کر بیٹھ گیا ..جہاں.مائر.پہلے سے بیٹھا تھا..
اسنے رائق کو گھورا تو رائق.نے.دانتوں کی.نمائش.کی..
نمرہ سکون.کا.سانس.لینے بیٹھ گئی تھی..
کیوں.تنگ کرتے ہو میری بیٹی کو..شرارتی..
آمنہ.بیگم.نے.مصنوری خفگی سے پوتے کو کہا تھا..
میں.نہی.اپتے بیٹے تنگ کلتے(کرتے) ہیں..
وہ کچھ کچھ لفظ اکثر توتلے بولتا تھا
جبکہ اسکی بات سن.کر.نمرہ نے ایک.دم اسے.دیکھا تھا..وہیں.مقدس.کا.قہقہ.گونجا تھا جبکہ امنہ.بیگم.نے مسکرا کر اسکے.سر.پر چپت. لگائی
نمرہ.کی.طبیعت بوجھل سی.رہنے.لگی تو وہ.چیک اپ.کروانے گئی ..جب.اسے دوبارہ.پریگنینسی کی.خبر ملی.تھی.. فرحان.کے تو پاؤں.زمین.پر.نا.ٹک رہے تھے…
ویسے رائق.سہی کہتا ہے..
مقدس.نے اسے شرارت سے لہا.تھا
کیا؟؟
نمرہ.نے پوچھا
یہی.کہ.وہ نہی فرحان.بھائی تمہیں تنگ کرتے ہیں..
مقدس.شرارت سے بولی تھی…اشارہ اسکے امید سے ہونے کی.طرف تھا..
نمرہ نے ایک.زبردست.مقا اسکو.کمر.پر.مارا.تھا..
توبہ ظالم..سچ کڑوا ہی لگتا.ہے..
کتنی مردانا ہاتھ ہو.گئے ہیں.. چار نچے اور ہو.گئے تو بھینس بن جائے گی..
مقدس کب چپ رہ سکتی تھی..
تیرا نھی وقت ائے گا..
نمرہ اسلو.وارن.کرتی اٹھ گئی تھی..
🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀🎀
تین.سال بعد….
وہ سب آفس سے انے.کے بعد لاؤنج میں.بیٹھے تھے..
تین سالہ آئیسل سب سے پہلے اپنے اشعر چاچو کے پاس گئی تھی…
اور مزے سے اسکی گود میں.چڑھ گئی تھی..
جانتی تھی اسے اپنی پسندیدہ چاکلیٹ ملنی.تھی..
پہلے کس…
اشعر.نے گال.آگے کر کے سرخ.فراک میں.ملبوس.اس.چھوٹی سی گول مٹول گڑیا سے ڈیماند کی تھی..
آئیسل.نے بڑے لاڈ.سے اسکا.گال چوما.تھا
اس کے.بعد اپنا مطلب.پورا.ہوتے ہی وہ ساتھ بیٹھے برہان شاہ کی گود.میں جا چکی.تھی..
جانتی تھی یہاں.ایک.نہی دو.سے کام.چلے گا..
اور وہی.ہوا وہ بڑے مزے سے برہان کے گلے میں.اپنے چھوٹے چھوٹے سفید بازو.ڈالے اپنے گگلب.جیسے.لب اسکے گال.پر رکھتی تو.برہان مسکرا دیا تھا..
چاچو.کی.جان..
وہ.اسے والہانہ.پیار.کرتا بولا.تھا..
میرے خیال.سے میرئ بھی.کچھ لگتی ہے یہ..اب.دے دو..
سامنے بیٹھا فرحان.جو.پچھلے دس.منٹ سے یہ.لاڈیاں.دیکھ.رہا تھا.اب چڑ کر.بولا تھا..
برہان ہنس.دیا تھا اسکی.بات.سن.کر.جبکہ پاس بیٹھے رائق, مائر, وائز, احمر اور اسماعیل سب. منہ.بنا بنا کر اس.ننھی گڑیا کے ڈرامے.دیکھ.رہے تھے..کیونکہ اس کے.بعد ان سب کی.باری اتی تھی مگر تب تک وہ محترمہ ساری من پسند چاکلیٹس ہتھیاچکی ہوتی تھی
اشعر اور برہان کے.بعد وہ فرحان.شاہ کی گود میں.چڑھی تھی اور بڑی مزے سے چاکلیٹس سے انصاف.کرنے لگی تھی..
بیٹوں کے چار سال بعد اللہ.نے فرحان.کو ایک.بہت پیاری سی بیٹی سے نواز.کر.اسکی خواہش پوری کر دی تھی…
جسکا نام اسنے آئیسل شاہ رکھا تھا…
فرحان.کی.جان.بستی تھی.اس.میں.. خاندان میں.پہلی لڑکی ہونے.کی.وجہ.سے وہ سب کی لاڈلی ترین تھی… چاہے وہ.اشعر ہو..یا عریبہ یا برہان ..یا.ملک.وجاہت امنہ.بیگم.مقدس سب اس کے نخرے اٹھائے نہی.تھکتے تھے…
افس سے واپسی پر برہان.اور اشعر کا چاکلیٹس لانا جیسے مسٹ تھا..
اور انکو اتا دیکھ کر وہ انکی.جانب بھاگتی جاتی تھی جو.اسے ہاتھوں ہاتھ لیتے تھے.مگر.سب سے سارا خزانہ بٹور.کر آخر میں.چین.اسے فرحان.شاہ کے پاس.ہی آتا تھا.
وہ.نمرہ , فرحان.عریبہ.سب سے ملتی تھی..
سیدھے ریشمی.بال اور چھوٹی سی ستواں ناک..پنکھڑی جیدے نازک لب..بالکل.نمرہ جیسے تھے جبکہ اسکی موٹی موٹی گڑیا جیسی آنکھیں فرحان.اور عریبہ سے چرائی.تھیں. .
اسکی اہمیت دیکھ کر اکثر سارے لڑکے.منہ بنانے.لگتے تھے ..کیونکہ آئیسل کو تنگ کرنا اپنی شامت بلانے کے مترادف تھا..
اسکے بھائی.اسے “پرشین بلی” کہتے تھے…وہ تھی ہی ایسی…
اشعر اور عریبہ کا ایک.اور بیٹا ہوا تھا جو.ابھی ڈیڈھ سال کا تھا ..جبکہ سالار اور ایمن کے بھی اب دو.بیٹے تھے..
مقدس دوسری بار امید.سے تھی اور اس.بار بیٹی کا.سن.کر.برہان.شاہ ن اسے ہتھیلی کا چھالہ بنا.رکھا تھا..
وہ سب اپنی زندگیوں میں خوش و.خرم اور.مطمئن تجے..
نمرہ نیورو سرجن بن.چکی.تھی اور تین مختلف.ملکوں سے سرجری کا ایگزام کلیئر کر چکی تھی…
جبکہ.مقدس کی سپیشلائیزیشن کا.دوسرا سال.تھا.. اسکو باہر سے سپیشلائیزیشن کا شوق تھا ..اور برہان.نے اسے وعدہ کیا تھا وہ بیٹی کی.پیدائش کے.بعد اسے لندن سے سپیشلائیزیشن کروائے گا .
نمرہ کو اکثر مائر شاہ آفندی کئی سال.پہلے والے فرحان.کی.کاپی لگتا تھا… وقت کے ساتھ ساتھ جیسے جیسے وہ.بڑا ہو.رہا تھا وہ انا پرست سا.ہوتا.جا رہا تھا..بیشک وہ گھر میں سب سے مل.جل.کر.رہتا.مگر اسکی.طبیعت نمرہ.سے چھپی نا تھی.ِوہ اکثر فرحان.سے کہتی تو وہ مسکرا کر کہتا تھا..
یار اسے بھی کوئی نمرہ.سنبھال.لے گی..
انکی شادی کو آٹھ سال ہو چکے تھے اور فرحان کا.ساتھ پا.کر وہ خود کو خوشقسمت ترین تصور کرتی تھی..
وہ ہفتے میں.ایک. بارضرور.لڑتے ہوئے پائے جاتے تھے…
وہ فرحان.کو.بدل چکی.تھی..اسکی.محبت انا.سے جیت گئی تھی.مگر انسان.کی فطرت کبھی.نہی.بدلتی..
فرحان.کی نیچر.تھی ہی ایسی …
وہ فطرتاً ایک ایگو رکھنے والا انسان.تھا..اور.نمرہ اسکی یہ فطرت دبانے میں.کامیاب ہوئی تھی مگر ختم.نہی…
لیکن یہی زندگی ہے… انسان کی.زندگی میں.سب پرفیکٹ کبھی.نہی.ہوتا… وہ اسے چاہتا تھا..اس کے لیے کافی.تھا..کیونکہ.وہ ایک.بہترین شوہر اور ایک.بہترین باپ تھا..
وہ اس بات کو سمجھ چکا تھا کہ.انا.رشتوں.میں.کبھی.نہی.آنہی.چاہیے… کہیں نا.کہیں اسے اکثر سوچ اتی تھی کہ اسنے اہنی انا میں. زندگی کے.تین.حسین.سال ضائع کیے مگر یہ ایسے ہونا ہی.لکھا تھا..
ملک.وجاہت آفندی کا. کیا.گیا.فیصلہ واقعی درست ثابت ہوا تھا…
🍁🍁 ختم.شد 🍁🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *