Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode40

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode40

کمرے میں داخل ہو کر اسنے اسے بیڈ پر لٹایا تھا… نمرہ کی.زبان کو جیسے قفل لگ چکا تھا….
دل کیا اٹھ کر بھاگ جائے کہیں. .جہاں کوئی نا.ئو..اور کبھی واپس نا آئے…
کاش وہ اس.کے دل کی بات سمجھتا….. اسکی آنکھیں پڑھ سکتا… تو ابھی جان جاتا وہ کیاچاہتی ہے اور کیا.نہی…پر جو ہونے جا رہا تھا ایسا وہ ابھی بالکل نا.چاہتی تھی…
مگر اس نے بھی تو اسکی.معافی قبول نا.کی…
کیونکہ اسکی.معافی سے کہیں نا کہیں نمرہ کو.اطمینان ہوا بھی تھا اور نہی بھی ئوا تھا….
وہ واقعی شرمندہ تھا یا نہی؟؟ وہ اس.بات کا.فیصلہ فلحال نہی کر پا رہی تھی…مگر اسکی معافی میں کہیں بھی اظہارِمحبت تو نا تھا…
اسنے یہ تو نا.کہا تھا وہ اسے بے پناہ چاہتا ہے…
اسنے.یہ بھی نا.کہا تھا نمرہ کی.تکلیف اسکو.بھی.تکلیف.دیتی ہے…
یعنی محبت شاید نا.تھی…
تو فرحان شاہ کو آج بھی مجھ.سے.محبت نہی…
اسنے تلخی سے سوچا تھا…
آج اسے اس.لمحے اس بات کا.ادراک ہوا تھا کہ ایسا کیوں کہا.جاتا ہے کہ.عورت کے لیے سب سے کٹھن مرحلہ.ہوتا ہے ایک ایسے شخص کو اپنا آپ دینا جو اس.سے.محبت.نا کرتا ئو…
عورت خود.کو.اپنی مرضی سے صرف اس شخص کو.سونپ.سکتی ہے جو اس کی قربت کا دل سے.متمنی ہو..جہاں واقعی دل کا.معاملہ ئو…نا.کہ.کوئی.مجبوری, زبردستی , یا حوس….
فرحان نے اسکا دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا تھا…
جبکہ وہ ..اسکی حالت ایسی تھی جیسے.موت کی.سولی.ہر لٹکا چھوڑا ہو… جیسے بس اب ایک اور وار کی دیر اور وہ ختم….اسکی زبان.کنگ تھی بالکل…دل جیسے بند ہونے لگا تھا…
تم کیا سب بھول نہی سکتی؟؟
ایک سوال آیا تھا…
بھول جاؤں ؟؟ مگر کیسے…
اسنے سوچا مگر کہہ نا پائی…
ہممم؟؟
وہ اس کے جواب کا انتظار کر رہا تھا…
کیا آپ بھولے تھے؟؟؟
نمرہ نے الٹا سوال کر ڈالا تھا…
جبکہ فرحان ایک دم خاموش ہوا تھا…جواب ہی نا تھا کیونکہ سچ یہی تھا کہ وہ بھی تو نا بھولا تھا…. اسنے تو معافی بھی ایک عرصہ گزر جانے کے بعد.مانگی تھی … کیونکہ وہ خود نا.بھولا تھا
جبکہ.نمرہ نے تو معافی پہلے بھی فوراً مانگی تھی مگر وہ پھر بھی معاف نا کر پایا…اور آج وہ چاہ رہا تھا کہ اسکے ایک بار سوری کرنے سے وہ نا صرف مان جائے بلکہ سب بھلا دے…
بھلانا اتنا آسان ئوتا تو آپ بھی بھلا دیتے…آپ بھی میری معافی کو دل سے قبول کرتے…آپ بھی موو آن کرتے …
نمرہ نے اس پر حقیقت آشکار کی تھی…
تو تم بھی مجھے سزا دے لو….میں ہر سزا کے لیے تیار ہوں…دل کی بھڑاس نکل لو…خاموش مت رہو..
فرحان نے پھر سے کہا…
آپ چاہتے ہیں میں اپنا دل ہلکا کر لوں.. بھڑاس نکالوں آپ پر… پر اب تو وہ دکھ… اسکی چنگاری بھی شاید نہی بچی…صرف راکھ باقی ہے صرف راکھ….
آپ کو میری چپ تکلیف دے رہی ہے…. آپ نے بھی تو چپ ہی اختیار کی تھی….اب تک کیئے رکھی… ڈھائی سال…مگر میری ڈھائی مہینے کی چپ آپ سے برداشت نہی…
میں نہی بتاؤں گی کیا گزری مجھ پر..میں نے اپکا انتظار کیا یا نہی اس وقت کا. کتنا انتظار کیا….
کچھ.نہی بتاؤں گی آپکو…آپکو.بھی سہنا ہو گا سب..میری خاموشی … جب یہ آپکو چبھے گی….تب ہی تو آپکو اندازہ ہو گا….
وہ تلخ سے صرف سوچ سکی تھی….
جواب.نا پا کر وہ پھر سے بولا تھاِ..
تم کہتی ہو میں انا پرست ہوں مگر اپنے بارے میں کیا کہوگی؟؟
فرحان نے اسے جتایا تھا….
اپکی انا نے بنایا ہے…
اسنے.جواب دیا تھا…
کب تک قائم رہے گی؟؟ اگلا سوال آیا تھا…
جب تک آپکی ختم نہی ہوگی…
نمرہ نے جواب دیا تھا…وہ ہنوز اس پر جھکا تھا…
اور اگر میں کہوں میں نے آج انا کو.پیچھے چھوڑ دیا تو؟؟
فرحان.نے دلچسپی سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا….
تو میرے لیے یقین کرنا نا ممکنات میں سے ایک ہے…. انا کا وہ قفس جس.میں آپ ایک مدت سے قید ہیں کیا اتنی جلدی رہائی ممکن تھی؟؟
اسے یقین نا آ پایا تھا…اعتبار کرنا نہایت مشکل.تھا…یا اگر یہ کہا جائے “دوبارہ اعتبار”
کرنا مشکل.تھا تو زیادہ بہتر ہو گا….
دل کیا اسے بات کو استعمال کر کے خود کو بچا لے..کہہ دے کہ اگر وہ ابھی رک جائے , وہ نا کرے جو وہ کرنے جا رہا ہے تو وہ شاید یقین کر لے گی..مگر کس طرح کہتی….جبکہ وہ خود اسے دعوت دے چکی تھی…
کیسے یقین آئے گا؟؟
فرحان.نے اسکے کان.کی لو کو.چھوا تھا..جبکہ وہ ایک دم سرخ ہوئی تھی…جیسے سارا خون.چہرے پر آگیا ہو… اسے وجود میں احساس جاگا تھا…اسکے چھونے سے…
یہ…یہ آپ پر ہے آپ کیسے یقین دلاتے ہیں. ِ.
اسنے جواب دیا تھا…آنکھیں ہنوز جھکی. ہوئی تھیں ..
جبکہ وہ اسے چند لمحے دیکھتا رہا….پھر اٹھ کھڑا ہوا…
سو جاؤ …
فرحان.نے کمبل اس.پر ڈالا تھا جبکہ اسکی بات سن.کر.نمرہ کو پھر ایک جھٹکا لگا تھا…
اسنے بے یقینی سے فرحان.کو.دیکھا تھا…
تو.کیا وہ اسکے دل کی آواز.سن سکتا تھا؟؟ اسکی.دل.کا.حال جان سکتا تھا؟؟
یقین کرنا.مشکل تھا.مگر سچویشن یہی بتا رہی تھی…
فرحان.نے اسکی آنکھوں.میں بے یقیبی دیکھی تو.مسکرا دیا…
میں تمہارا انتظار کروں گا تب تک جب تک.تم خود مجھے دل.سے.معاف.نہی.کر دیتی… جب تک تم رضامند نہی ئو جاتی… اور جب تک.میرا یقین.نہی کر لیتی…
اسنے اسے بتایا تھا…
اور اس پل نمرہ پر یہ بات عیاں.ہوئی تھی کہ وہ آج.بھی شاید اس.سے.محبت کرتی تھی…
آج بھی اسکا دل فرحان.کے لیے ہی دھڑکتا تھا….
مگر فلحال وہ اپنی بات پر قائم تھی….
کیونکہ ابھی تک وہ اعتبار نہی کر پا رہی تھی…
جب ایک بار بھروسہ توڑا.جائے تو فوراً دوبارہ ہر گز حاصل نہی ہوتا…. اسی لیے تو کہتے ہیں عزت بنانے. اور اعتماد جیتنے میں ایک عرصہ لگتا ہے..سالوں لگ جاتے ہیں. .مگر توٹنے میں, محض ایک.لمحہ درکار ہوتا ہے…
اسکا.بھی تو اعتماد توڑا گیا تھا…اور دوبارہ بحال ہونا اتنا آسان نا تھا…
مگر آج پھر اسکا دل مجبور ہو گیا تھا…وہ پھر سے فرحان شاہ کی طرف کھنچا تھا….
اور اسکے سوئے ہوئے جذبات نے انگڑائی لی تھی… وہ جو ہر وقت سرد مہری کی چادر اوڑھے رکھتی تھی اسکا دل کیا تھا وہ اسکا ہاتھ تھام کر روکے اسکو اور کہے کہ وہ اس کے پاس بیٹھا رہے…
وہ اسے دیکتی رہے …
مگر کہنے کی ہمت نا تھی…فرحان باہر جا چکا تھا….
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
” میری محبتیں بھی عجیب تھیں
میرا فیض بھی کمال تھا
کبھی سب ملا بنا طلب
کبھی کچھ نا ملا سوال پر “
وہ باہر آگیا تھا..
جانتا تھا فوراً ہر غلطی کا ازالہ نہی ہو سکتا. مگر اسکے.باوجود اسکے لبوں پر مسکراہٹ ابھری تھی…کیوں؟؟؟
کیونکہ وہ نمرہ کی چوری پکڑ چکا تھا…
آخری لمحے جب وہ واپس پلٹنے کو تھا.تب نمرہ کی.پلکیں اٹھی تھیں اور بے شمار بھید آشکار کر.گئی تھیں. …
کیا کچھ نا نظر آیا تھا فرحان کو اسکی.ان آنکھوں میں. ..
محبت, چاہت, رک جانے کی التجا…جیسے وہ کہہ رہی ہو کہ بیٹھے رہو..مت جاؤ…
مگر وہ بولی نا…
وہ انتظار کرتا رہا مگر وہ نا بولی…
شاید وہ اسے احساس کروانا چاہتی تھی کہ کبھی کبھی خاموشی کتنی تکلیف دہ ہوتی ہے…
اور وہ اسے اچھے سے احساس کروا گئی تھی…
مگر فرحان.کا.دل مسکرا رہا تھا…
ہاں وہ اس کو چاہتی تھی..اسکی آنکھیں چغلی کھا گئی تھیں. ..یعنی گنجائش تھی ابھی…
” میں تمہیں بولنے پر مجبور کر دونگا…
I will make you confess and admit…
تم خود.مانوگی کہ تم.مجھ سے بے تحاشا محبت.کرتی ئو… تمہیں ماننا ہو.گا…میری محبت منوائے گی تم.سے…. کہ.تم.میری ہو… اور میں صرف تمہارا “
وہ لیہ ٹاہ کھولے کام کرنے لگا…
❤❤❤❤❤❤❤❤❤❤
موبائل کی مسلسل آہ و زاری نے اسکی نیند میں خلل ڈالا…
اسنے آنکھ کھول کر سائیڈ ٹیبل سے موبائل اٹھایا تو مقدس کی کال تھی…
سلام دعا کی تو مقدس تو اسکی آواز.ستی لگی تھی…
تو سو رہی ہے؟؟ اسنے گھڑی دیکھ کر پوچھا…
ہممم…نمرہ نے جمائی روکتے ہوئے کہا تھا….
بد ذوق عورت تو ادھر سونے گئی ہے یا گھومنے….
مقدس بدمزہ ہوئی تھی…
نہی یار بس شدید نیند آئی وی تھی…
نمرہ نے بتایا….
کیوں… فرحان.بھائی تجھے رات کو سونے نہی دیتے…
مقدس نے انتہائی شوخی سے کہا تھا
..
جبکہ اسکی بات پر نمرہ سٹپٹا گئی…
بکواس نا کیا کر… اسنے اسے ڈانٹا تھا…
اہممم…بلشنگ…
مقدس کب باز آنے والی تھی…
مقی میں کال کاٹ دونگی…
نمرہ نے غصے سے کہا تھا….
دفا ہو… روکھی… میری شاپنگ کر رہی ہے نا؟؟
مقدس نے یاد دلایا…
ہاں کی تھی تھوڑی سی…ِنمرہ نے بتایا…
ابھی تک تھوڑی سی…😳
وہ چینخ ہی تو اٹھی تھی….
تجھے گئے ہوئے آج چوتھا دن ہے…سو سو کر ہی واپس آجائے گی کیا؟؟؟
اسے واقعی نمرہ سے اتنی سستی کی.امید نا تھی…
اچھا کر لونگی…یار ایمن کی کال.نہی آئی دوبارہ..مجھے بھی ٹائم نا ملا… وہ ٹھیک ہے نا؟؟
نمرہ کو فکر ہوئی تھی…
یار جب سے ڈیٹ فکس ہوئی ہے وہ تو اور ہی گم سم ہو گئی ہے…قسم سے تم دونوں کی سمجھ نہی آتی مجھے… وہ سالار بھائی کے ذکر سے چڑتی ہے اور توِِ…تونے تو میرے خواب ہی ریزہ ریزہ کر دیئے..کیا کیا ارمان تھے چلو.نمی کی شادی ہو گی ..تجھے میں تنگ کروں گی..کسی طرح تو قابو آئے گی پر نا جی…ادھر تو
مزاج ہی نہی ملتے…
مقدس نے اپنا دکھڑا رویا تھا…
تو خود کر لے شادی..اتنا شوق ہے تو…
نمرہ نے چڑ کر کہا تھا….
دھر فٹے منہ…اپنا.مشورہ اپنے پاس رکھ..اتنی الو لگتی ہوں تم دونوں کی حالت دیکھ کر تو سنگل رہنا ہی بہتر ہے….
مقدس نے ناک سکوڑ کر کہا…
ہاہاہا..رہ پھر سنگل…
نمرہ مسکرا دی تھی اسکی بات پر…
نمی تو ٹھیک ہے نا..آل سیٹ؟؟
مقدس پہلی بار سنجیدہ ہوئی تھی…ِ
ہاں ٹھیک ہوں مقی…
اسنے سانس خارج کرتے ہوئے جواب دیا…
کوئی بات ہے تو شیئر کر لے پلیز؟؟
اسنے اسے سہارا دیا…
مقی وہ….
وہ کچھ سوچ کر بولنے لگی…
کیا؟؟
مقدس نے تجسس سے پوچھا
…نمرہ کو سمجھ نا آئی وہ بتائے یا نہی…
کچھ.نہی…نمرہ نے جواب دیا…ِ
دفا ہو نا بتا…
مقدس کے سارے تجسس کو وہ جھاگ کی طرح بہا چکی تھی…
چل فون رکھ اب..مزید مغز نہی میرا تیرے ساتھ کھپانے.کے لیے…
نمرہ نے اسے چڑایا…
ہاں تو جا نا ..میں کیوں رکھوں..خود جان نہی چھوڑ رہی…
مقدس کب کم تھی…
ہاہاہا..خیال رکھنا اپنا…
اور کال.بند ہو گئی..
✨✨✨✨✨✨✨✨✨✨
وہ باہر آئی تو فرحان کسی سے کال پر مصروف تھا…
اوکے.آئی ول کال یو بیک …
فرحان.نے فون کاٹا….
نمرہ کچن کی.جانب بڑھ گئی…
ہمیں باہر جانا ہے..ریڈی ہو جاؤ….
فرحان نے.بلند آواز میں کہا.تھا…
ابھی؟؟ نمرہ نے سوال کیا…
ابھی کہہ رہا ہوں تو ابھی ہی جانا ہے نا…جاؤ چینج کر لو…
فرحان نے اسکے شکن آلود کپڑے دیکھ کر کہا تھا… .
وہ بغیر چوں چڑا کیے کمرے بدلنے چل دی…
فرحان بھی چینج کرنے کمرے میں بڑھا…اسکو انکے درمیان موجود خلا کو پر کرنا تھا…وہ ارادہ کر چکا تھا اس رشتے کو چلانے کا…آگے بڑھانے کا…. کیونکہ یہ سچ تھا کہ.اسنے ہمیشہ نمرہ کو ہی اپنی ہمسفر کی حیثیت سے سوچا تھا اور چاہا تھا…
کمرے میں آیا تو نمرہ کپڑے لیے باتھ روم.جا.چکی تھی….
دو.منٹ بعد.وہ.باہر آئی ….
رائل بلیو کلر کا گھٹنوں سے ذرا.نیچے آتا امبریلا.فراک, ساتھ بلو.ٹائٹس تھیں….
اسکا رنگ بلیو.کلر.میں کافی اٹھ.رہا تھا….
فرحان.نے دل میں.اسے سراہا تھا…
وہ ڈریسنگ کے قد آوار.شیشے.کے سامنے گئی…
فرحان.چینج کرنے چل.دیا…نمرہ.نے دوپٹہ اتار کر بال سلجھائے… پھر ہائے ہونی بنائی…
فرحان.باہر آیا تو.اسنے ہاتھ بڑھا.کر دوپٹہ اٹھا لیا. ..
اور شیشے کے.سامنے.سے.ہٹ گئی…
بلیو جینز.پر بلیو شرٹ…پاؤں میں براؤن سہورٹس شوز…. وہ کافی کول لگ رہا تھا…
جیسے بیچلر لڑکے خوبصورت پلے بواہز بن.کر گھومتے ہیں. ..
فرحان.نے.نمرہ کا.صاف ستھرا چہرہ دیکھا…
ریڈی؟؟ اسنے.حیرت سے اسے ہٹتے ہوئے دیکھ کر پوچھا…
جی…
نمرہ.نے.جواب دیا…
یار تمہیں دیکھ.کر.لگ رہا ہے میں کسی بچی کو سکول ڈراپ کرنے جا رہا ہوں…
فرحان نے.اسکا جائزہ لیتی ہوئے.کہا تھا…
کیا.مطلب؟؟ نمرہ نے.سوال کیا…
Why don’t you apply some make up??
فرحان نے اسکے لمبے بالوں سے پونی نکالتے ہوئے کہا تھا…
جبکہ اسکی اس حرکت ہر وہ ششدہ رہ گئی…
اسنے اتنے آرام سے اسکی.ہونی کھول کر سارے بال پھیلا دیئے تھے….
یہ یونی فارم والا ہیئر سٹائل تو مت.بناؤ…
فرحان.نے.اسکی.ناک دبا کر.کہا.تھا…
نمرہ.نے.اسے گھورا تھا…
اور کیا.اب پیسٹری بن.جاؤں؟؟
نمرہ نے منہ پھلا کر سوال کیا تھا…
بن.جاؤ ِِآئی ہیو.نو.ایشو…
بالوں پر برش پھیرتے وہ اسے گہری نظروں سے دیکتے گو یا ہوا….
نمرہ نے بال سمیٹ کر ہائی جوڑا بنایا…ایسا کرنے سے اسکا.دایاں کان جو اوپر سے سِلا. ہوا تھا اور اس میں پیاری سی بالی تھی وہ چمک اٹھی….چونکہ وہ کافی اوپر تھا تو اکثر بالوں سے ڈھکا رہتا تھا..
جبکہ.اب بال.اٹھنے.سے فرحان.کی.نظر اس پر.گئی…
یہ کب سکوایا تم.نے؟؟
فرحان.نے اسے چھو.کر.ہوچھا..نمرہ.ذرا.پیچھے کو.کھسکی تھی…
پہلے کا.ہے…
جواب آیا تھا…
پر میں.نے تو.نہی.دیکھا… وہ مزید آگے ہوا تھا…اسے اچھا.لگ رہا تھا وہ…
بالی اتار دی تھی چادی والے.دن…پھر یاد نہی.رہی..کل ایک ملی تو پہن لی..
نمرہ نے وضاحت دی…
بیوٹیفل…
وہ آہستہ سے اسکی.کان پر جھک کر سرگوشی کر گیا تھا…
جبکہ وہ ایک دم.پیچھے ہوئی…
ڈریسنگ کے سامنے جاکر جلدی جلدی کانپتے ہاتھوں سے اسنے لپسٹک لگائی تھی …چہرے ہر آتی لٹیں کان.کے.پیچھے کیں…
اسے لگا اب وہ تیار ہے…
فرحان سمجھ گیا..وہ اگے بڑھا…اور ڈریسنگ پر.کچھ ڈھونڈنے لگا…
نمرہ نے الجھن.سے اسے دیکھا…
جیسے ہی اسکی.نظر مسکارے پر.پڑی اسنے اٹھا کر نمرہ کی.جانب بڑھایا…
Apply this.
حکم آیا تھا….
یہ پھیل جائے.گا…
نمرہ.نے.منہ.بنا.کر.کہا…
فرحان.نے مسکارے کی بوتل کھولی …اسے ایسا کرتے دیکھ کر نمرہ نے فوراً اس.کے ہاتھ سے مسکارا جھپٹا..ورنہ.بعید.نا.تھا وہ.خود.ہی.لگا.دیتا اسکو…یا.اسکی اچھی خاصے شکل کا نقشہ بگاڑ دیتاِ..
اسنے.جلدی جلدی.مسکارا.لگایا..
بیڈ پر پڑی سکن برونش کلر.کی.چھوٹی.سی.لیدر جیکٹ پہنی…سر.پر ہلکا سا دوپٹہ رکھا…..
فراک کے اوپر جیکٹ.بہت پیاری لگ رہی تھی…
نمرہ.نے.اہنا.جائزہ.لیا.تو.اسے اچھا.لگا…
پھر اسنے فرحان.جو دیکھا جو گھڑی باندھ رہا تھا..
مجال ئے جو اپنے.علاوہ کسی اور.کی.تعریف بھی کر دیں…
نمرہ نے جل کر سوچا ..اس بات سے انجان کہ وہ تو.کب کا صرف اسی کا دیدار کر رہا تھا…
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *