Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode16

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode16

اشعر اپنی ہی دھن میں سوال کرتا ہی چلا.گیا..لہجہ ان.کی بار سیریس تھا..
فرحان صوفے پر بیٹھ گیا..
پھوٹ بھی؟؟
اشعر نے بے صبری سے پوچھا..
تو اپنا ڈھول پیٹنا بند کرے گا تو.کچھ بولوں گا نا..
فرحان بدمزہ.ہوا تھا…
یر کہاں بڑھی… اس نے اتنی روڈنس شو کی… Strangerکہا مجھے…اوپر سے بھائی کا دم چھلا..
فرحان نے تپ کر بتایا..
ہاہاہا….
اشعر حد درجہ محضوظ ئوا تھا…اسکی ہنسی فرحان کو مزید بھڑکا گئی.
اچھا چل.اب سیریس…
اشعر نے سنجیدہ ہو کر کہا..
یار.دیکھ ..مجھے نہی.لگتا وہ کچھ بھی ایسا سوچتی ہو گی..جس طرح بھائی کہا ہے تجھے…صاف واضح ہے…
اور جہاں تک رہی آپ کے تپنے کی.بات تو باس..وہ بھی نمرہ ہے…مجھے نہی لگتا اتنا آسان ہو گا یہ.سب…اگر تیرے آگے پیچھے لڑکیاں ہیں تو وہ بھی تو ایسی ہی ہے…سب کی.لاڈلی…اس کے ساتھ کے بھی خواہش.مند بہت ہونگے…اور ابھی چھوٹی ہو وہ..تھوڑا صبر رکھ..
اشعر.نے بتایا..
ہنن..سہی کہتا ہے…فرحان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا…
لیکن فرحان شاہ بھی آج تک جھکا نہی ہے کسی کے آگے… چاہے پھر وہ نمرہ سیال.ہی کیوں نا.ہو..اسے بھی خود آنا ہوگا…
فرحان تفاخر بھرے لہجے میں گویا ہوا…
کم آن فرحان. ..اپنی ego.کو.مت لا.درمیان.میں یار…اسے تو خبر تک.نہی.تو.کیا.سوچتا ہے..اور آگر محبت کی ہے تو انا تو چھوڑنی پڑتی ہے..جھکنا تو پڑتا ہے..محبت کو محبت ہی رہنے دے ضد مت بنانا…
اشعر اسکو سمجھا رہا تھا…
اور وہ شاید سمجھ بھی رہا تھا..
سہی…
فرحان نے محض اتنا کہا.تھا…
چل اب آج چچی نے بریانی بنائی ہوگی. .
اشعر نے دانتوں کی.نمائش کی…
⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐
آج اسکی بہت ضروری میٹنگ تھی..
وہ نک.سک سے تیار بہت فریش لگ ریا تھا…بلیک پینٹ کے اوپر بلیک ہی ڈریس شرٹ ساتھ ٹائی لگائے..اسکا لمبا قد.اور خوبصورت نقوش اسے مزید جاذب بنا.ہے تھے…
اتنے.میں برہان بھی آگیا ِِ.ِ..
دونوں بھائیوں کی شکلوں میں کافی ریزیمبلنس تھی…
وہ فرحان سے صرف ایک انچ چھوتا تھا قد.میں. .
چھ فٹ ایک انچ دراز قد…چوڑے شانے..ہلکی.برھی شیوہ. ..کلائی میں خوبصورت گھڑی اسکی ہرسنیکٹی کو مزید اجاگر کر رہی تھی…تھا وہ بھی بلا.کا ہینڈسمِ ..
دونوں ناشتے کی ٹیبل.ہر پہنچے…آمنہ بیگم نے دل میں دونوں جو نظرِبد سے محفوظ رہنے کی دعا دی…اشعر نے تیار ہو کر فرحان کو میسج.کیا…
اوکے ہم.چلتے ہیں. .آج دعا.کیجیئے گا دادا جان …
فرحان وجاہت.آفندی سے مخاطب ہوا..
انشاءاللہ یہ پراجیکٹ.ہمارا ہی ہوگا..
انھوں نےپوتوں کا.حوصلہ بڑھایا. ..
دونوں نکل.گئے…
آفس.آکر برہان نے ایک بار.سب پھر سے فرحان کو چیک.کروایا…
اتنے میں سیکریٹری.نے آکر خبر.دی..
سر. خان بلڑدز.کی.ٹیم آگئی ہے..
اوکے ہم آتے ہیں. .
فرحان نے جواب دیا..یہ پراجیکٹ ان تینوں کا پہلا.پراجیکٹ تھا جس پر تینوں نے بہت محنت.کی.تھی..پہلے بھی یونی کی دوران.وہ آفس دیکھتے تھے..آتے جاتے تھے مگر تب زیادہ کام بڑوں نے.سنبھالا ئوا تھا جبکہ یونی کے.بعد اب بزنس مکمل طور پر ان.کے حوالے کر دیا گیا تھا…لہزا یہ پہلا پراجیکٹ تھا جو پورا ان تینوں نے خود.تیار.کیا تھا..
لہذا تینوں بہت پر امید تھے اپنی کامیانی کے لیے…
وہ کانفرنس روم.کی طرف بڑھ..ابھی اندر داخل ہونے ہی لگے تھے کہ سامنے سے دوسری پارٹی آتے دکھائی دی…
حامد احمد اور نومان احمد….
حامد احمد فرحان کا ایک زمانے سے
رائیول Rival رہا تھا…فرحان.کے ساتھ ہی کالج اور پھر یونی میں. .دونوں میں کبھی نا.بن.پائی تھی….فرحان کو نیچا.دکھانے کا کوئی.موقعہ وہ ہاتھ سے نا جانے دیتا تھا…چاہے تعلیم کا میدان ہوتا یا گیمز کا…
جبکہ.فرحان اسکی کسی حرکت کو خاطر.میں نا لاتا تھا…اس کے باوجود.دونوں میں ہمیشہ تلخ جملوں کا.تبادلہ ہو ہی جاتا تھا..جس کی شروعات اکثر.حامد کی طرف سے ہوتی تھی..مگر جواب دینا.فرحان بھی ضروری سمجھتا تھا…
دونوں ہی فٹ نال.کے اچھے پلیئر تھے..کالج میں اور یونی میں جب فٹبال ٹیم کا کیپٹن چننے کی باری آئی تو دونوں آمنے سامنے آگئے..نتیجاً دونوں کا مقابلہ.کروایا گیا…کالج میں مقابلہ ڈرا ہوا..تو کچھ عرصے کے.لئیے ایک.کو اور پھر کچھ عرصہ دوسرے کو ٹیم.کا.کیپٹن بنایا گیا جبکہ.یونی.میں فرحان بازی لے گیا…اور یونی کے چھ سال وہ ہر میچ میں ٹیم.کو لیڈ کرتا رہا جبکہ.حامد.نے ٹیم.میں شمولیت اختیار کرنے سے بھی منع.کر دیا…
اس.کے علاوہ بے تحاشا.موقعوں پر دونوں ایک.دوسرے کے حریف ہوتے…جہاں فرحان ہوتا اکثر حامد.اس چیز.میں کود جاتا تاکہ.اس.کو شکست دے سکے…
فرحان کو شکست کو منہ دکھانے کے چکروں میں وہ اکثر خود شکست سے دوچار.ہو.جاتا…
اب تو فرحان بھی محظوظ ہونے لگا تھا اس سے..اور ساتھ اس کو چھاٹا بھائی..نومان احمد جو تھا تو میڈیکل کا سٹوڈنٹ مگر زیادہ تو.بھائی.کی.دم.ہی بنا.رہتا..یہی وجہ تھی کہ.اسکو بھی نا صرف فرحان سے بلکہ اشعر اور برہان.سے بھی خار.تھی اپنے بھائی کی وجہ.سے…اور وہ سب اس بات سے اچھی طرح واقف تھے…
یونی.کے بعد دونوں نے بزنس جوائن کیا تھا….دونوں کی ہی.فیملیز کا.شمار بزنس کی دنیا کے. کامیاب خاندانون میں ہوتا تھا…
مسٹر فرحان شاہ…
حامد کی آواز.نے اس کے قدم روکے..وہ.لوگ بالکل.قریب آچکے تھی…فرحان کے ساتھ اشعر اور برہان.تھے جبکہ.حامد کے ساتھ نومان.اور ایک اور ساتھی…
فرحان نے کسی بھی قسم کے جذبے سے عاری آنکھوں کے ساتھ اسکو.دیکھا..
تم.تو ابھی سے نظر بچا.کر بھاگ رہے ہو…لگتا ہے شکست سے دوچار ہونے کا غم کھائی جا رہا ہے..چچ.چچ چچِ….
حامد نے تحقیر بھرے لہجے میں کہا…
شکست سے دوچار.ہونا.میری عادت نہی.ہے..اور وقت سے پہلے زبانی کلامی پھڑیں مارنا.میری فطرت کے خلاف ہے….
افسوس اتنے سالوں ہار ہار کر تم.یہ بھی نا جان پائے…
اپنی ہار کا.سن کر حامد کا چہرہ غصے سے لال ہوا تھا…اسے احساسِ کمتری نے آن گھیرا تھا…
شکست کا غم.کس کو.کتنا کھاتا ہے یہ.تو میٹنگ کے بعد ہی پتا چلے گا…
سو وش یو بیسٹ آف لک..
فرحان ایک اچٹتی نگاہ اس پر ڈال کر آگے بڑھ گیا اور کانفرنس روم میں داخل ہو گیا جبکہ حامد نے غصے سے ہاتھ دیوار پر دے.مارا…
کچھ دیر میں میتنگ شروع ہوئی..سب پارٹیز نے اپنی اپنی.پریزنٹیشنز دیں..
اس کے بعد پراجیکٹ میمبرز.نی ووٹنگ کی…
سب سے ووٹس کے ذریعے ان کی.رائے.لی.گئی..
حامد اور فرحان کے.ووٹ برابر جا رہے تھے..دونوں کے چار چار ووٹ.تھے..
آخری تین ممبرز.رہ.گئے.ِان.کے ووٹس سامنے.کئیے گئے..
پہلا ووٹ فرحان کی کمپنی کے حق.مین.تھا..حامد پیچو.تاب کھاتا رہ.گیا..
دوسرا.ووٹ سامنے.کیا.گیا وہ.بھی فرحان کی.کمپنی کے.لیے تھا..اب.آخری ووٹ بچا تھا…
اور بالآخر اس پر سے بھی پردہ ہٹایا گیا…
تو وہ بھی فرحان کے حق.مین نکلا..
اشعر کا.بس نہی.چل.رہا تھا لڈی ڈالنے لگ.جائے…💃
اس نے حامد کی جانب دیکھا.جو اسی جو دیکھ.رہا.تھا..ساتھ نومان بھی..اشعر نے پہلے دانتوں کی نمائش.کی.پھر ایک دم زبان نکال.کر انکو دکھائی..😋😛
یہ.سب ایک لمحے میں کیا اسنے …نومان.تو.لال.پیلا.ہونے.لگا..جبکہ.اشعر کی یہ حرکت فرحان سے چھپ نا.سکی.تھی..
اسکو ایک.دم ہنسی آئی جو.اسنے بامشکل دبائی…
Congratulations Mr.Farhan Shah Afandi…We are pleased to announce that we will like to invest and work with you in this project..
پراجیکٹ کی.کمپنی.کے مینیجر نے مصافحے کے لئیے ہاتھ بڑھایا…جو فرحان نے خوشدلی سے تھام.لیا..اس کے بعد اشعر اور برہان.سے بھی.مصافحہ کیا…
ہمیں بہت خوشی ہوئی یہ.دیکھ.کر کہ.ہماری ینگ جینریشن اتنی.قابل.ہے….
اسنے خوشدلی.سے انکی تعریف کی…کیونکہ.وہاں پر سب پہنچے ہوئے بڑی عمر کے بزنس.مین زیادہ تھے.
شکریہ…فرحان نے.کہا…
اس.کے بعد سب نے ایک.دوسرے سے مصافحہ کیا..
گڈ ورک یو ٹو..اینڈ گڈ.لک.نیکسٹ ٹائم…انھوں نے حامد.سے مصافحہ کرتے ہوئے کہا تھا…
اور یوں یہ میٹنگ اختتام کو پہنچی…
حامد سے ہاتھ ملاتے ہوئے فرحان نے خاموش رہنا بہتر سمجھا…
Will see you..
دیکھ کونگا تمہیں. .
حامد چپ.نا.رہ.سکا..
I will wait..
فرحان نے ٹکا.سا.جواب دیا.اور چل.پڑا…
⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐
وہ.لوگ گھر آئے تو رضیہ بیگم تالیہ سمیت موجاد تھیں. ..
وہ سب سے سرسری سا.ملہ…تالیہ نے اوپر سے نیچے تک اسکا بھرپور جائزہ لیا تھا…
وہ.ایسی ہی تھی.بے باک سی..اور فرحان اسکی حرکتوں سے انجان.نا.تھا…
وہ روم میں چلا گیا… جبکہ آمنہ کچن میں تھیں. ..
اسکے جاتے
ہی رضیہ بیگم نے تالیہ.کو چپت لگائی…
کتنی.بار کہا.ہے ادھر تو اپنی حرکتوں سے باز رہ..جیسے تو دیکھ رہی تھی.نا.اسکو…ہو گئی تیری اس سے شادی..
انھوں نے بیٹی.کو لتاڑا..
اف ایک تو مام اپ نہی چین کرنے.دیتیں. ..مجھے پتا ہے.کیسے قابو کرنا ہے اس سانے کے انڈے دینے والی.مرغی کو..ڈونٹ وری..ویسے بھی اجکل کے لڑکوں کو بولڈ لڑکیاں پسند ہوتی ہیں. .
اسنے ایک.ادا سے بال جھٹک کر کہا تھا…
پر انجو نہی پسند بولڈ لڑکیاں..سمجھی…بتا رہی ہوں یہ.ہاتھ.سے نا.جائے..سارا بزنس اسی کے حوالے ہے..عیش واپس چاہیے تو مٹھی.میں کر اسکو…سونے سے لاد دینگے تجھے انکی.بہو بن گئی تو…
انھوں نے سبز باغ خود بھی دیکھے اور بیٹی کو.بھی دکھائے…
اوکے بس دیکگتی جائیں آپ اپنی.بیٹی کا.کمال…
یہ کہہ کر وہ اٹھ کھری ہوئی…
اور کچن.میں چل.دی…امنہ بیگم باہی ڈرائیو کو سامان کی لسٹ دینے گئی.تھیں. …
اسنے موقعے کا فائدہ اٹھایا…
پانی.کا.گلاس بھر کے ٹرے میں رکھا اور فرحان کے کمرے میں چل دی…
کمرے کو ردوازہ ناک.کرنے.کی.زحمت اسنے نا.کی.سیدھا دروازہ.کھول کر اندر جا گھسی..فرحان جو.کے تھک ہار کر.آیا تھا..صوفے پر ٹانگیں سامنے.میز پر لمبی.کیے نیم دراز تھا..شرٹ کے بٹن وہ کھول چکا تھا…
ایک دم.کسی کی آہٹ ہوئی تو آنکھیں کھولیں. .سامنے تالیہ پانی کا گلاس لیے کھری تھی…ٹائٹس کے ساتھ چھوٹی سی ٹاپ پہنے…
دوپٹہ لینے کی زحمت اسنے.نا.کی.تھی…
فرحان ایک.دم سیدھا.ہوا..ماتھے.پر بل.پڑے…
تم.کیا.کر رہی ہو.میرے روم.مین؟؟
پانی لے کر آئی تھی.تمہارے لئیے..
تالیہ نے مسکرا کر جواب.دیا..جبکہ.فرحان شرٹ کے بٹن بند.کرنے لگا…
واو..six packs بھی ہیں تمہارے تو..جم کرتے ئو؟؟
اس نے شرم سے عاری لہجے.میں فرحان کی چھاتی کو دیکھتے.ہوئے.کہا تھا..
تمہیں کس نے کہا.میرے.لیے پانی.لانے.کو…ایسے کسی.کے روم میں منہ اٹھا کے.گھس آتی.ئو..تمیز نہی سکھائی.گئی کیا…؟؟؟
نکلا ابھی اسی وقت…
فرحان گھسے سے غرایا تھا…
جا.ہی رہی ہوں. .اتنا کیوں تہ.رہے.ئو…
تالیہ نے منہ.بنایا..
گیت لاست تالیہ..اینڈ شیم.اون یو…
ساتھ ہی اسنے عریبہ.کو آواز دی.
عریبہ..عریبہ…
عریبہ.کے آنے سے پہلے تالیہ نے نکلنا.بہتر سمجھا…
عریبہ.روم میں آئی..ِجی.بھائی؟؟
دوبارہ میرے کمری میں کوئی نا.آئے..دھیان.رہے.مہمان.بھی نہی..اور تالیہ کو.اپنے ساتھ رکھو..یا اسکی.ماں کے ساتھ ٹکا.کے بٹھاؤ. ..
اسنے عریبہ سے غصے سے کہا…
اوکے بھائی..عریبہ تھوڑی سہم گئی..فرحان کو سخت لہجے کا.احساس ہوا..
سوری تھا ہوا تھا..بول گیا..
اسنے.معافی مانگی..
اٹس اوکے بھائی…
پانی.لاؤں؟؟اسنے.ہوچھا..
ہاں لے آؤ..اور یہ لے جاؤ..گلاس.گندا ہے…
فرحان نے تینل.ہر پڑے پانی کی.طرف اشارہ کیا…جس.ہر انگلیون کے داغ تھے..
عریبہ اپنے بھائی.کی نفاست پسندی سے اچھی طرح واقف تھی فوراً گلاس اٹھا لیا.اور چل.دی..جبکہ.فرحان فریش ہونے باتھ روم.چل دیا..
⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐
یہ اسلام آباد کے ایک جانے مانے اور.مشہور ہوٹل.کا.منظر تھا….
وہ تینوں آج شاپنگ کے لیے نکلی تھیں. ..
انکی سیکنڈ ایئر اختتام پر تھی…
ٹیبل پر بیٹھتے ہی مقی نے فوراً مینیو اٹھا لیا…
بیرا آرڈر لینے آچکا تھا…
تینوں نے آرڈر لکھوایا اور انتظار کر نے لگیں. ..
کھانا آنے پر تینوں کھانے میں جت گئیں..کافی دیر گھومنے کی وجہ سے اب تینوں کو بھوک لگی تھی…
حارث اپنے دو دوستوں کے ساتھ ہاتھ میں سگریٹ لیے ہوٹل میں داخل ہوا اور اپنی آوارہ طبیعت کے باعث آس پاس کی لڑکیوں پر نگاہ دوڑانے لگا…
ابھی وہ اپنا یہ عمل جاری رکھے ہوئی ہی تھا کہ ایک جگہ ااکی نگاہ ٹھہر گئی…چہرے کو گھٹیا مسکراہٹ نے آن گھیرا…
وہ سگریٹ کا آخری کش لیتا ہوا اسے پھینک کر مسلنے لگا پاؤں سے اور پھر نمرہ لوگوں کے ٹیبل کی طرف بڑھ گیا…
وہ تینوں اس پاس سے بے پرواہ کھانے سے بھرپور انصاف کرنے پر تلی تھیں. ..لہذا اسکی آمد پر دھیان.نا گیا…
احساس تب ہوا جب وہ انکے سر پر کھڑا تھا…
ذہے نصیب..آج تو ڈاکٹر صاحبہ نے شرف بخشا اس مریض کو…
حارث نمرہ کے سامنے جا کر ٹیبل پر جھکتا ہوا بدتمیزی سے گویا ہوا…
نمرہ ایک دم کسی کی آمد پر باکھلا گئی…
نگاہیں اٹھا کر دیکھا تو اسکا حلق.اندر تک کڑوا ہو گیا…
نمرہ نے پانی کے گلاس کو منہ سے لگایا…
سب کو.یہی لگا وہ گھبرا کر پانی پی رہی ہے…
نا محسوس انداز میں منہ پانی سے بھر کر اسنے گکاس سائیڈ پر کیا..اور حارث کی طرف دیکھا…
پُھر ر ر ر……
پانی سے بھرا منہ اسنے حارث پر خالی کر دیا. …
سارا پانی اسکی چہرے ہر جا پڑا…..
حارث اس اچانک حملے کے لئیے تیار نا تھا ..وہ ایک دم بوکھلا کر پیچھے ہٹا….
ایسا کرتے ہوئے وہ پیچھے گزرتی عورت جا کہ خاصی موٹی تھی اس سے جا ٹکرایا…
اور اوپر جا گرا…..
وہ عورت اٹھی…
چٹاخ….
ایک زور دار آواز فضامیں گونجی….
وہ حارث کو اپنے ہتھوڑے جیسے ہاتھ سے ایک تحفہ پیش کر چکی تھی…
بدتمیز…کمینا…
وہ گالیاں دیتی آگے بڑھ گئی…یہ سب اتنا اچانک اور روانی سے ہوا کہ وہ کچھ سمجھ ہی نا.پایا..ئوش میں وہ تب آیا جب اپنے آس پاس کے لوگوں جو خود پر ہنستا پایا…
غصے سے اسکا چہرہ سرخ ہو چکا تھا…جبکہ.نمرہ سے اپنی ہنسی قابو کرنا مشکل.ہو گیا تھا….
کیا ہوا مریض صاحب؟؟؟امید ہے دوا مل گئی ہوگی اپکو اپنی بیماری کی….
نمرہ نے ہنسی دبا کر کہا….
You bloody……..
حارث غصے سے چینخا تھا….
ابھی وہ بول نا پایا تھا کہ نمرہ کی آواز آئی…
شٹ اپ…اپنی زبان کے پھول ادھر مت جھاڑو…اپنی تربیت کہیں اور ھا کر دکھانا…اور آئندہ میرے منہ لگنے سے پہکے سوچ لینا…..
وہ یہ کہہ کر پلٹی ہی تھی کہ اسکو اپنی.کلائی پر کسی کی گرفت کا آحساس ہوا…اسکے برھتے قدم رک گئے…
اسے اندازہ.ہو چکا تھا یہ حرکت کس کی تھی..غصے اور نفرت کی شدید لہر اس کے وجود میں دوڑ گئی….اسے آج تک کسی نے نا چھوا.تھا….تو اس نیچ انسان کی جرات کیسے ئوئی اسکی کلائی تھامنے کی..وہ پلٹی اور ایج زناٹے دار تھپڑ اسکے گال پر دے مارا…
یہ گناہ کرنے کی جرات مت کرنا دوبارہ…ہاتھ توڑ دونگی….
وہ غرائی تھی…اس کے بعد وہ رکی نہی کسی کو کچھ بھی کہنے کا.موقعہ.دیے بغیر چل.دی….اسکا موڈ تباہ ہو چکا تھا…
⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐
سیکنڈ ایئر کے پیپرز شروع.ہونے والے تھے..سب تیاری میں گم ئو چکے تھے….
اس سارے عرصے میں اسکی فرحان سے صرف تین چار بار بات ہوئی تھی..جو کہ صرف حال احوال تک.تھی…فرحان نے کوئی بھی ایسی بات نا.کی جس.سے اسے کچھ برا.لگے یا فرحان کا امیج خراب ہو…شاید وہ اشعر کی بات سمجھ چکا.تھا اور وقت دے رہا تھا…انکے درمیان کوئی بے تکلفی نا تھی اور نمرہ نے کبھی اسکو.سوچا.بھی نا تھا…اسکے لئے محض وہ ایک رشتہ دار تھا جس کے خلوص کو اسنے نا ٹھکرایا تھا…
نمرہ امروزیہ بیگم.کو اپنی اور فرحان کی بات کا.پہکے دن.سے ہی بتا چکی تھی..کہ وہ کبھی کبھار میسج کر کے خیریت وغیرہ پوچھ لیتا ہے….امروزیہ بیگم نے صرف اس سے اتنا کہا تھا…
بیٹا احتیاط سے…
انھوں نے بیٹی کو سمجھایا…
نمرہ انکی بات کا مطلب سمجھ چکی تھی…
بے فکر رہیں ماما…مجھے اپنی حدود کا پتا ہے اور اگلے کو بھی اسکی حد میں رکھنا.آتا ہے….
جس پر وہ مطمئن ہو گئی تھیں. …
پیپرز سے پہلے نمرہ نے کچھ دن کے لیے سب سوشل ایپس بند کر دئیے…
اس عرصے کے دوران.کو موبائل.سے دور رہی…
پیپرز ختم ہوئے تو کچھ دن کی چھٹیاں ہو گئیں. ..
لیکن تقریباً ایک ڈیڈھ ماہ گزر جانے کے بعد بھی وہ حارث والا واقعہ نا بھول پائی تھی…اسے رہ رہ کر اسکی بدتمیزی یاد آتی…اس طرح اسکا ہاتھ پکڑنا…
اسنے مختصرا ً امروزیہ بیگم کو بتایا تھا سب….
آخری پیپر والے دن نومان اسکے پاس آیا تھا اپنے بھائی حامد کی منگنی پر اسے انوائٹ کرنے..اسنے بہت سے کلاس فیلوز کو بلایا تھا سو نمرہ نے بھی حامی بھر لی..
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *