Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah NovelR50751 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode68
No Download Link
720.9K
70
Rate this Novel
Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode01 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode02 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode03 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode04 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode05 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode06 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode07 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode09 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode10 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode11 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode12 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode13 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode14 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode15 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode16 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode17 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode18 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode19 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode20 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode21 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode22 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode23 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode24 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode25 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode26 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode27 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode28 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode29 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode30 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode31 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode32 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode33 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode34 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode35 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode36 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode37 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode38 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode39 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode40 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode41 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode42 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode43 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode44 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode45 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode46 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode47 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode48 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode49 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode50 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode51 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode52 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode53 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode54 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode55 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode56 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode57 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode58 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode59 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode60 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode61 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode62 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode63 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode64 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode65 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode66 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode67 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode68 (Watching)Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode69 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode70 Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Last Episode
Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode68
Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode68
نمرہ دوبارہ ہاسپٹل میں مصروف ہو چکی تھی جبکہ.مقدس نے فلحال چھٹیاں لی ہوئی تھیں. … مقدس اور برہان کی شادی کو چار دن ہوچکے تھے ..
کاشان کی شادی بھی ہو چکی تھی اور وہ اجکل ناردرن ایریاز. گیا ہوا تھا…
ایک دو دن میں ایمن کی ڈلیوری تھی… اسلیے نمرہ نے اسلام آباد جانے کا سوچا تھا…
فرحان کو وہ بتا چکی تھی…
اسے اپنی خود کی طبیعت کچھ دن سے عجیب سی فیل.ہو رہی تھی مگر اسنے دھیان نا دیا … شادی کی تھکن سمجھ کر وہ ٹال گئی تھی..
وہ ہاسپٹل میں تھی جب اسے سالار کی کال آئی تھی…ایمن کی طبیعت خراب ہو گئی تھی سو اسے اچانک ہاسپٹل لے جایا گیا تھا…
نمرہ نے فوراً فرحان کو کال کر کے اسے لے جانے کا کہا تھا ساتھ مقدس کو بھی کل کر کے بتایا تھا..
مقدس برہان کے ساتھ آئی تھی ..
ایمن اور سالار کو اللہ نے پیارا سا بیٹا دیا تھا…
ایمن کے ساتھ نمرہ اور مقدس کی خوشی بھی دیدنی تھی..وہ دونوں اپنے بھانجے کو چوم چوم کر نہی تھک رہی تھیں. ..
رات تک وہ ہسپتال میں تھیں. ..
نمرہ نے امرازیہ بیگم کے پاس چکر لگانے کا سوچا تھا…
مگر وہاں جا کر اسے اندازہ ہوا انکی طبیعت کچھ بوجھل تھی..کیونکہ گھر خالی خالی ہوگیا تھا کاشان اور اسکی بیوی کے جانے سے..ارسلان بھی دوستوں کے اتھ نکلا رہتا تھا…
نمرہ نے انکے پاس رکبے کاسوچا تھا کیونکہ.کاشان کی واپسی دو دن بعد تھی…
یہاں سے ایمن کے پاس چکر لگانا بھی اسان تھا…اور اگلے دن سنڈے بھی تھا.. سو وہ فرحان سےمنت کر کے رک گئی تھی… جبکہ مقدس کو برہان واپس لے گیا تھا..
وہ کپڑے بدل کر ہلکی پھلکی ہوئی اور ڈریسنگ کے سامنے کھڑی بال برش کرنے لگی تھی…
تبھی برہان کمرے میں آیا تھا…
مقدس نے ایک نظر اسے دیکھا ..برہان کی لو دیتی نظروں کا سامنا وہ نا کر پائی تو فوراً نگاہ پھیر گئی …
برہان چینج کرنے چل دیا تھا..
بال سلجھا کر وہ بیڈ پر آئی اور اپنی طرف لیٹ گئی..لیمپ آف کر دیا کیونکہ اسکے آنے پر وہ خود کو سوتا ظاہر کرنا چاہتی تھی…مگر نیند کوسوں دور تھی…تبھی موبائل اٹھا لیا…
برہان چینج کر کے آیا تو روم میں بہت مدھم فسوں خیز سی روشنی تھی… وہ پوری طرح موبائل میں مگن تھی..
وہ بیڈ پر آیا اور اسکے ہاتھ سے موبائل لے کر ایک طرف رکھا تھا…
یہ..یہ کیا بدتمیزی ہے؟
وہ اسے گھورتی ہوئی بولی تھی…
برہان نے کوئی جواب دیئے بغیر اسکی کمر میں بازو ڈال کر اسے انتہائی قریب کھینچ لیا تھا..مقدس اس افتاد کے لیے قطعی تیار نا تھی…
اس رات کے بعد برہان دوبارہ اس کے قریب اس نیت سے نہی آیا تھا..شاید وہ اسکو وقت دے رہا تھا…
.
اس سے پہلے وہ کچھ کرتی وہ اسکی گردن پر جھکا تھا..
یہ..یہ کیا کر رہے ہیں. .
وہ منمنائی تھی..
ِتن جانتی ہو میں کیا کر رہا ہوں اور کیا کرنے والا ہوں..
وہ اسکے ہاتھوں میں اپنے ہاتھ پھنساتا اسکے کان میں سرگوشی کر رہا تھا..
مقدس کی ریڑھ کی ہڈی میں سنسنی خیز لہر دوڑ گئی تھی…
برہان نے اپنی شرٹ کے بٹن کھولے ..وہ کچھ نا بولی تھی…
بالکل خاموشی تھی… اور اس خاموشی کو چیرتی مقدس کی اتھل پتھل سانسوں کی آواز اور دل کی تیز دھڑکن..ِ
برہان شاہ اسے حصار میں لیتا ,اپنی محبت کی بارش میں بھگونے لگا تھا… مقدس نے کسی مزاحمت کے بغیر خود کو اسکے رغم و کرم پر چھوڑ دیا تھا… کیونکہ.ان چند دنوں میں وہ جان گئی تھی..
کہ سامنے والا آپنے جذبوں میں کھرا تھا… اور وہ خدا کا جتنا شکر ادا کرتی کم تھا..
اسکا دل برہان کے لیے دھڑکنے لگا تھا..اسکو چاہنے لگا تھا.. مگر وہ مقدس ہی کیا جو مان جائے..وہ اپنے ہر عمل سے پھر بھی اسے زچ کرنے سے بعض نا آتی تھی
_____
رات کافی دیر وہ فرحان سے کال پر بات کرتی رہی تھی..
صبح دیر سے جاگی ..اب اسکا ایمن.کے پاس جانے کا ارادئ تھا سو وہ کچھ دیر امروزیہ بیگم کے پاس بیٹھی. . انکو اچھا سا ناشتہ بنا کر دیا..اور خود بھی کیا..پھر جب کام والی آئی تو وہ تیار ہو کر ایمن کے پاس چل دی تھی..جو رات کو ہسپتال سے گھر آچکی تھی…
کافی دیر وہ اسی کے پاس رہی تھی… اسکے بیٹے میں مگن…
ایمن بہت نیند آرہی ہے یار…چلتی ہوں اب..
نمرہ نے جمائی روکتے ہوئی کہا تھا..
پوری رات تو گوڑے بیچ کر سوئی ہے..فرحان بھائی بھی نہی تھے ا ب تو…پھر بھی محترمہ کی نیند نہی پوری ہو رہی..
ایمن منہ بنا کر بولی تھی
وہ نا بھی ہوں تب بھی ہوتے ہیں. ..
نمرہ مسکرا کر بولی تھی..
نہی ویسے بہت نیند آتی ہے مجھے اب یار. . ہاسپٹل میں بھی جھول رہی ہوتی ہوں..
نمرہ نے بتایا تھا…
کیوں خیریت؟
ایمن.نے تفکر سے پوچھا..
پتا نہی..بس دل.کرتا سوئی رہوں. .
ننرہ منہ بنا کر بولی تھی..جبکہ ایمن نے غور سے اسے دیکھا تھا..
بے چینی سی بھی ہوتی ہے؟
ایمن.نے کچھ سوچتے ہوئے پوچھا تھا..
تجھے کیسے پتا..
نمرہنے حیرت سے اسے دیکھا تھا..
ایمن مسکرائی تھی…
اور چکر وغیرہ یا الٹی تو فیل نہی ہوتی؟
ایمن نے اگلا سوال کیا تھا..
نمرہ کے ذہن میں ایک دم جھماکا. ہوا تھا..
اس دن الٹی آنا..سر گھومنا..ڈاکٹر ہونے کے باوجود اسکا دھیان اس طرف کیوں نا بھٹکا تھا
اسنے جھٹ سے ایمن کو دیکھا جو اسی کو دیکھ کر مسکرائی جا رہی تھی..
سمجھ تو گئی ہونگی آپ..
ایمن نے شرارت سے کہا تھا..
جبکہ.نمرہ کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ ابھری تھی…
تو کیا ….
نمرہ نے پوچھا تھا..
بالکل..انشاءاللہ. .ڈاکٹر کے پاس جا فوراً اور خبر پکی کرا..پھر اپنے سیاں جی کے گوش گزار کریں
ایمن خوشی سے بولی تھی..
جبکہ نمرہ سوچ کر ہی لال ہو گئی تھی…
اتنے میں نمرہ کا فون بج اٹھا تھا..
مقدس کی ویڈیو کال تھی..
نمرہ نے اوکے کی تو وہ چھوٹتے ہی ان پر لپکی تھی..
تو مراسن کمینی..تو خود تو ادھر جا کر لمبی پڑ گئی ہے… اور اب ایمن کے پاس پڑی رہتی..مجھے اکیلا چھوڑتے ہوئے خیال نا آیا جھے ..تم دونوں بے وفا ہو..میری محبت کے قابل ہی نہی تم دونوں. ..ایسے ہی اتنے سال ضائع کیے..پتا ہوتا تو کسی کارے کی جگہ پر محنت کرتی..
وہ ان دونوں جو سنانا شروع ہو چکی تھی..
تو اب کر نا محنت..برہان.بھائی پر..میتھا پھل ملے گا..محنت بالکل رائیگاں نہی جائے گی.. 
نمرہ شرارت سے بولی تو مقدس نے منہ بنایا تھا..
تجھ سے بندہ اچھی بات کی امید نا ہی رکھے
وہ بولی تھی..
نہی نہی امید رکھو جناب..اچھی بات سنانے والی ہے نمرہ سب کو..
ایمن شرارت سے بولی تھی..
کیا اچھی بات؟؟ بتا ؤ جلدی…
مقدس نے اشتیاق سے پوچھا تھا..
وہ تو یہی بتائے گی نا …
ایمن نے ننرہ کو دیکھ کر کہا تھا..
ابھی کنفرم تو نہی نا..
نمرہ بولی تھی..
کنفرم بھی ہو جائے گا..
ایمن.نے کہا تھا..
کچھ مجھے بھے بتاؤ گے..
مقدس نے انکو.گھورا تھا..
تو گیس کر خود کیا مقی!
ایمن.نے کہا تھا…
اممم..کیا ہو.سکتا..میں تو ایک ہی بات کہونگی..پر اس پر یہ مجھے پیٹنے لگتی ہے ظالموں کی طرح..
مقدس نقلی انسا پونچھتی بولی تھی..
اسکا اشارہ ان چالیس بچوں والی دعا کی طرف تھا جس پر نمرہ نے اسکی دھلائی کر ڈالی تھی..
اب نہی پیٹے گی..
ایمن نے ایک انکھ دبائی تھی..
جبکہ.نمرہ حیا کے مارے بول بھی نہی رہی تھی..
ہیں کیا مطلب؟؟
مقدس چونکی تھی…
تیرا مطلب ہے..میں خالہ بننے والی ..خالہ.پلس چچی…اوہ مائی..سچ بتا..
مقدس اچھل ہی پڑی تھی خوشی سے..
کمینی ائی لو یو… تو ایکسپیکٹ کر رہی ہے..ہائے سامنے آ تجھے چمیاں دوں..
مقدس بولی تھی..
اہمم…پھر فرحان بھائی کیا کریں گے یہ.کام.تو نے کر لیا تو؟؟
ایمن بولی تھی..
فرحان بھائی نے تو اپنا کام کر دکھایا نا..اب میری باری.
مقدس نے انکھ دبا کر کہا تھا..جبکہ ایمن.ہنس دی تھی..
چپ کر جاؤ تم.دونوں. .مار کھاؤ گی
نمرہ نے کشن اٹھا کر ایمن کو مارنا چاہا تھا جو.اسنے کیچ.کر لیا تھا..
اہاں…شرما رہی ہے ہماری بچی..
مقدس بعض نا آئی تھی..
واپس آ جلدی..
مقدس نے کہا تھا..
ہاں آج شام کو آنا ہے نا..فرحان آرہے آج..
نمرہ.نے.بتایا تھا…
اب ہاسپٹل جاتی ہوں.پہلے..شام ہونے والی ہے…فرحان اجائیں گے..
وہ اٹھتے ہوئے بولی تھی..
میں چلوں ساتھ..
ایمن.نے.پوچھا تھا..
نہی.نہی تو ریسٹ کر.کل تو آئی ہے…
پھر وہ ایمن سے ملتی چل دی
نمرہ راستے میں ہاسپٹل کے سامنے رکی تھی.. یہ ایک پرائیویٹ ہاسپٹل تھا اور جس ڈاکٹر کا تھا وہ حویلی کے قریب رہتے تھے… فرحان شاہ کے فیملی ڈاکٹر تھے…
اکثر حویلی بلائے جاتے تھے…اس کے علاوہ وہ ایک دوبار آمنہ بیگم کے ساتھ بھی انکے ہسپتال آچکی تھی…
وہ اندر چل دی…
مسسز فرحان شاہ ائیے…
کیبن میں داخل ہوئی تو
ڈاکٹر اسکو پہچان کر کوشی سے مخاطب ہوئے تھے
چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے اسے ون ویک پریگنینسی کی خبر سنائی تھی… نمرہ کی خوشی دیدنی تھی..
ڈاکٹر نے اسے. کچھ دنوں کے ملٹی وائیٹامنز دیئے تھے اور دوبارہ چیک اپ کا کہا تھا…
وہ بے تحاشا خوش تھی..اسے یقین نہی ارہا تھا وہ فرحان شاہ آفندی کی اولاد کی ماں بننے والی تھی…
اسکادل کیا وہ اڑ کر فرحان کے پاس پہنچ جائے…
وہ سوچنے لگی وہ فرحان کو یہ خبر کیسے سنائے گی… کتنا خوش ہو گا وہ…
انہی سوچوں میں وہ ہاسپٹل سے باہر نکلی اور روڈ پر کھڑی گاڑی کی جانب بڑھ گئی..وہ ملک سیال کی گاڑی لائی تھی…
ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر اسکی نگاہ سامنے اٹھی اور ایک پل کو ٹھہر گئی…
ِہاں وہ فرحان شاہ ہی تھا….
مگر سامنے والا منظر اسکی نظروں کو پتھر کا کر گیا تھا…
اسے لگا تھا وہ سانس نہی لے پائے گی..
وہ آفس کے بعد سیدھا اسلام آباد نمرہ کو لینے نکلا تھا جب راستے میں اسکی نظر ایک پھولوں کی دکان.پر پڑی تھی جہاں تازہ سرخ مہکتے گلاب جگمگا رہے تھے..
کچھ سوچ کر کار پارک کرتا وہ اترا تھا..اسکا ارادہ اپنی. پھول سی بیوی کے لیے پھول خریدنے کا تھا..پچھکے دو دن سے اسنے اسے دیکھا نا تھا سو اب اڑ کر اس تک پہنچنا چاہتا تھا..
وہ دکان پر پہنچا تو وہاں پہکے سے ایک لڑکی کھڑی پھول دیکھ رہی تھی..
یہ بکے دے دیں. .وہ مصروف سا دکان دار سے بولا.ساتھ والٹ نکال کر پیسے نکلالنے لگا تھا
فرحان.تم…
ایک مانوس سی خوشی سی بھرپور آواز گونجی تھی..اسنے رخ پھیرا تو وہ ردا تھی..اسکی یونی فیلو…
اوہ..ردا..کیسی ہو…
وہ.خوشگوار حیرت سے مسکرایا تھا..
تمھارے سامنے ہوں..
ردا نے.جواب دیا تھا
اور کیا.چل.رہا ہے؟.وہ دکاندار سے بکے پجڑتا بولا تھا
شہریار یاد پے تمہیں ؟؟؟
ردا نے پوچھا تھا
ہاں.ہاں یاد ہے..کیوں.کیا ہوا؟؟ اس نے.پوچھا تھا
اسکو برین ٹیومر تھاِ… سرجری ہوئی اسکی… اسکی.بہن سے رابطہ تھا میرا تو اسی سے پتا چلا..اسکے پاس ہی جا رہی تھی ہاسپٹل..
ردا نے.بتایا تھا
شہریار ان دونوں کا کلاس فیلو تھا اور فرحان کی فٹ بال.ٹیم.کا.ممبر بھی تھا…
تم بھی چلو.نا..اچھا لگے گا مل.کر..
اسنے فرحان.سے کہا تھا…
ابھی…فرحان.نے.کلائی پر بندھی گھڑی پر وقت دیکھا.
اوکے چلتا ئوں..
وہ بولا تھا..
نمرہ کے لیے اسنے تاشہ سرخ پھول لیے تھے…
ردا.نے پاس پڑے پھولوں.سے ایک سرخ گلاب فرحان کی طرف بڑھایا تھا..
فرحان.نے سوالیہ.نگاہ اس پر ڈالی تھی…
رکھ لو..دل.تو قبول.نہی.کیا.یہی.کر.لو..
وہ تھوڑی تلخی اور دکھ.سے مسکرا کر بولی تھی…
فرحان.نے.نا چاہتے ہوئے بھی اسکے.ہاتھ سے پھول تھام.لیا تھا
اور یہی گھڑی بری تھی..
جب کار میں.بیٹھی.نمرہ.کی.نگاہ فرحان.پر اتفاق سے گئی تھی..
ردا.نے اسے پھول تھمایا پھر فرحان.نے گاڑی کا.فرنٹ ڈور.اس.کے لیے.جہاں.وہ.مسکرا کر.بیٹھ گئی..
فرحان.نے.بل.پے کیا.اور.دوسری طرف سے آکر خود بھی کار میں.بیٹھ کر کار زن سے آگے بڑھا دی..
اس.بات سے مکمل انجان کہ وہ کسی کی دل کی دنیا کے ٹکڑے کر چکا تھا…
ردا.نے.اسے بتایا تھا کہ وہ عنقریب شادی کر رہی تھی…فرحان نے اسے.مبارک.دی تھی اور.نمرہ.کو.ساتھ.لے.کر شادی پر آنے کی.دعوت بھی دی تھی…
وہ کچھ پل ہل نا پائی تھی..دل.جیسے کس گہری کھائی.میں.جا.گرا تھا..دماغ گھومنے.لگا تھا… چہرہ سفید پڑا تھا جیسے خون.ایک پل.میں.کسی نے.نچوڑ لیا ہو…
ہاتھ ٹھنڈے برف ہونے لگے تھے…
دل رو رہا تھا نفی کر رہا تھا.مگر دماغ آنکھوں.دیکھا نہی.جھٹلا.
سکتا تھا…
تو.کیا فرحان.اسکو.دھوکہ.دے رہا تھا؟؟یہ تو وہی ردا تھی جو اسے ولیمے.پر باتیں.سنا کر گئی.تھی..نمرہ.کیسے بھول.گئی..
یہ تو وہی.تھی فرحان.کی.چاہت..اسکی یونیورسٹی لائف کی.محبت..
نمرہ.کا.دل شور کرنے لگا تھاِ.
نہی نہی…ہو سکتا ہے میں.غلط سوچ رہی.ہوں..نمرہ پاگل مت بنو..فرحان.نے.تم سے محبت.کا.دعویٰ کیا ہے…
ہا ں ..یہ سب تو ..نہی.فرحان ایسا.کیوں.کریں.گے..
اسے کچھ سمجھ.نا آرہا تھا فرحان.کا.اس سے سرخ گلاب مسکرا کر تھامنا..اس سے باتیں.کرنا..اسے گاڑی میں.بٹھا.کر ساتھ.لے.کر جانا…
ئو.سکتا ہے کوئی اور.بات ہو..
دل.نے.پھر نفی کی تھی.جبکہ.وہ.منظر بار.بار آنکھوں.کے سامنے.گھوم.رہا تھا..
میں.پوچھ لیتی ہو.ں.فرحان.نے صاف..ہاں.یہ ٹھیک.ہے..بات کلیئر ہو.جائے گی..
وہ یہ.سوچ کر.بیگ.سے.مابائل.نکالنے.لگ گئی..
لیکن.اگر انھیں لگا.میں.ان.پر.شک کر رہی ہو تو…….
وہ کال کرتے کرتے رک.گئی…
نہی.میں.ان.سے پوچھ لیتی ہوں آپ.کہاں ہیں ..پھر دیکتھی ہوں کیا جواب آئے..سچ بولتے ہیں.یا جھوٹ…
اسکے.دماغ نے.گرین.سگنل.دیا تھا..
اسنے.فرحان.کا.نمبر ڈائل.کیا…
دوسرے بیل.پر کال اٹھا لی گئی تھی..
جی.بولیں.جناب..
فرحان.نے.محبت سے کہا تھا..
فرحان آپ کہاں.ہیں اس وقت..
نمرہ نے.محتاط ہو کر سوال کیا….
یار ایک.پرانے دوست کا پتا چلا ہاسپٹل میں.ہے وہ..بس اسی سے ملنے جا رہا ہوں..
فرحان.نے بتایا تھا..
جبکہ.نمرہ.کا.دل کسی نے.مٹھی.میں.جکڑا تھا…
کیا وہ.اس سے جھوٹ بول.رہا تھا..
اسکا دل.کیا.سوال.کرے کون.ہے ساتھ..مگر نجانے.کیوں.اجڑے ہوئے دل.نے منع کر دیا..کیا.فائدہ پوچھنے کا..اگر وہ سچا ہوتا تو خود بتا دیتا نا..مگر وہ.تو دوست کا.کہہ.کر.ٹال.گیا..
اسنے کال.کاٹ دی اور سر تھاما تھا..اسے چکر سا.آنے.لگا تھا..بامشکل.خود.کو.ری لیکس.کرتی وہ کسی طرح گھر تک.پہنچی تھی…
فرحان اسے لینے آیا تھا مگر اسکا.دل مرجھایا ہوا تھا…
پچھلے.دو.گھنٹے اسنے کس کرب میں.کاٹے تھے وہی جانتی تھی…
اگر وہ ردا.کو چاہتا تھا تو اس سے شادی کیوں.نا.کی.آخر..
میں نے تو اجازت بھی دی تھی…
مجھے کیوں.شیشے.میں.اتارا..
کیوں.اسمان.پر بٹھا یا…
اور اب یہ.بچہ…اسنے.اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھا تھا جہاں.فرحان کی اولاد تھی..
میں.کیا.کروں.میرے اللہ..
اسنے آنسوؤں کا پھندا.گلے.سے نیچے کیا تھا…
گرحان.نے.اسکی.مرجھائی صورت نوٹ.کی تھی..ایک.دو.بار.ہوچھا بھی.مگر وہ.ٹال.گئی… وہ.سمجھا شاید اپنی امی کی طبیعت کی وجہ.سے پریشان.ئو…اسنے اسے حوصلہ دیا مگر وہ خاموش. رہی تو وہ بھی چپ ہو گیا تھا…
جبکہ.نمرہ.کو یہ.سب ڈھونگ لگ رہا تھا..ایک.سراب..دھوکہ…اسے.لگا وہ.استعمال.کی گئی تھی …
گھر آکر بھی وہ.گم.سم رہی تھی…
اپنی پریگنینسی کا.ذکر اسنے.کسی.سے نا.کیا.تھا..
مقدس.کو.اسنے.سختی.سے.منع.کیا.تھا
کہ.وہ.فلحال خاموش.رہے …
مقدس جو اتنی خوش تھی اسکی بات سن.کر ایک.دم.حیران ہی تو ہو.گئی تھی..
کیا تو.پاگل.ہے..بتا.نا فرحان.بھائی کو..اتنی بڑی خوشخبری ہے نمرہ..
وہ کہنے لگی ..
اتنے میں.ایمن کی بھی کال آنے لگی تھی لیپ ٹاپ پر..جو آن پڑا تھا..
فرحان.اسے گھر چھوڑ کر آفس جا چکا تھا برہان.کے پاس..
انھوں نے.کال.اٹھائی تھی..
ایمن.سے بھی صبر.نہی.ہو.رہا تھا..
کیا.کہا.ڈاکٹر نے …ایمن.نے چھوٹتے ہی.پوچھا تھا…
رزلٹ positive ہے
مقدس نے چہک کر بتایا پر.نمرہ خاموش.تھی..
کیا.بات ہے.نمی…
ایمن.نے.پوچھا تھا
ایمن ….
اسکی آواز رندھ گئی تھی جیسے ابھی رو.دے گی.
کیا ہوا؟سب.ٹھیک.تو.ہے؟؟
وہ ایک.دم.اسکے ایسے رونے.پر گھبرا گئی.تھی
ایمی فرحان مجھے.چیٹ کر.رہے ہیں. .
اسنے.تقریباً روتے ہوئے بتایا تھا
کیا؟؟
ایمن اور.مقدس.کی آنکھیں جیسے باہر کو آگئی تھیں..
ہاں…
وہ ممہ بسورتے ہوئے بولی.تھی
ہاہاہاہاہہااہہا
اور اگلے ہی لمحے ایمن.اور مقدس.کا مشترکہ.قہقہہ کمرے میں.گونجا تھا
نمرہ نے ہونقوں کی طرح انکو.دیکھا تھا..
وہ.تو ایسے.ہنس رہی تھیں جیسے اسنے کوئی.لطیفہ سنایا ہو..
کیا.بکواس.ہے یہ…
وہ.چڑ ہی تو گئی تھی..
تو.نے.بات ہی ایسی کی.ہے..
مقدس.نے بامشکل.ہنسی روک.کر.کہا.تھا..
تیرا.مطلب..فرحان.شاہ.. فرحان شاہ آفندی نمرہ سیال.کو.دھوکہ.دے رہا ہے؟؟ ہیں؟؟
ایمن.نے تصدیق چاہی..
ہاں..بالکل..
نمرہ.نے کہا.تھا
نمرہ.دیکھ یہ.بات مجھے اس.دنیا.کی.کوئی.اور.عورت.کہتئ نا… یہاں.تک کہ.مقدس.بھی اگر کہتی.کہ.برہان.بھائی دھوکہ.کر.رہے تو شاید.میں.مان.لیتی..پر.فرحان.بھائی…امپا سبل…
ایمن.نے.نفی کی تھی..
اے چپ.کر..برہان.ایسے نہئ اچھا..وہ.دھوکہ.دینے والوں میں.سے نہی..
مقدس.نے فوراً برہان.کی سائیڈ لی..
آئی ہائے..کہاں.آپ.شادی کرنے سے بھی گراں.تھیں. .اور اب..
میرے برہان.ایسے نہی..
ایمن.نے.اسکی نقل اتاری.تھی..
دیکھ.نمی.. جو بھی بات ہے.کلیئر.کر.لو..شاید.کوئی.غلط فہمی ہوئئ ہو..فرحان بھئی صرف.تجھے.چاہتے ہیں. .
ایمن.نے.سمجھایا تھا..
مججے بھی یہی.خوشفہمی.تھی..
نمرہ.نے.تلخی سے کہا.تھا..
جاری ہے
