Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah NovelR50751
Last updated: 4 July 2026
No Download Link
720.9K
70
Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode01Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode02Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode03Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode04Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode05Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode06Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode07Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode09Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode10Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode11Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode12Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode13Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode14Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode15Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode16
Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah
نمرہ سیال ملک ولد ملک وقار سیال ,آپکو ملک.
فرحان شاہ آفندی کے نکاح میں, سکہ رائج الوقت پانچ لاکھ. روپے ,دیا جاتا ھے! کیا آپکو قبول ہے؟
الفاظ تھے یا پگھلا ھوا سیسہ جو اس کے کانوں میں انڈیلا. جا رھا تھا؟
اسکی سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں مفلوج ہو چکی تھی. یہ کسی گناہ کی سزا تھی یا شاید اس کے رب کی کو ئی آزمائش ؟.
...
پر ایسی آزمائش؟؟؟
آنسو تھے کہ ھر بن تو ڑ کے امڈ آنے پہ تلے. ھوئے تھے.
اتنی کڑ ی آزمائش کہ جس شخص کا ذکر تو دور کی بات جس کا خیا ل بھی اس کے انگ انگ میں زہر گھول دیتا, اسی شخص کو اسکی ہستی کا سرپرست بنایا جا رہا تھا......
نہی میرے اللہ نہی....وہ بے اختیار سسک اٹھی...
پر کہتے ہیں نا کہ ہر گھڑی قبولیت کی تھوڑی ہوتی ہے. ..
شاید اب وقت بھی بےرحم تھا..
ویران آنکھیں, کپکپاتے ہونٹ, کانپتے ہاتھ,.خو فزدہ چہر...وہ بے بسی کی مکمل تصویر بنی ھوئی تھی پر کسی کو کچھ دکھائی کیوں نہیں دے رہا تھا؟وہ جو اسکی معصومیت سے واقف تھے وہ خاموش کیوں تھے؟
صرف اس لیے کہ وہ مشکوک ہوئی تھی؟اسکا کردار......
کیا قصور تھا اسکا؟ ہاں اس کا پاک دامن أج پاک ہونے کے باوجود داغ دار بنا دیا گیا تھا..بغیر جرم کے بھیِ اور بس یہی ہواِِ.......
اسے بھی اس انا پرست کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا..... وہ شخص جسکو اگر دنیا میں کچھ عزیز تھا تو وہ صرف اسکی "انا"...ہاں صرف اسکی "میں".....
لیکن یہی انا اور ضد.تو نمرہ کی. ذات کا بھی خاصا تھیجسے وہ self respect(عزت نفس)کا نام دیتی تھی...پر آج اس کے الفاظ کو بے موت مار دیا گیا تھا.آج اسکا وجود ہارا ھوا بکھرا ہوا تھا..اسکو اپنی ضد ھڑ دھرمی سب بےکار لگے ِِ.......
مولوی صاحب دوبارہ بولے,"کیا.آپکو قبول ہے؟"
امروزیہ بیگم اگے بڑھیں...بولو بیٹا قبول ہے. .
اسنے بےبس ہو کر ماں کو دیکھا..
چہرے پر سرخ دوپٹے کا گھونگھٹ تھا.پر وہ تو ماں تھیں گھونگھٹ کے پیچھے کوئی اور دیکھ پاتا یا نہیں پر انہوں نے دیکھ لیا. .
مجھے معاف کر دینا میری بچی......
انکی بیٹی انکا مان تھی انکا غرور تھی. .انکی سہیلی تھی..اور وہ جانتی تھیں کہ وہ مر کے بھی ایسا کوئی کام کرنے کا نہیں سوچ سکتی جس سے اسکے ماں باپ کا سر جھکے....
وہ تو ایک بےضرر سی گڑیا تھی..
قبو..قبول ہے!!!!!!
آزر آفندی نے پین اسکی طرف بڑھایا اور بالآخر کپکپاتے ہاتھوں سے ساٸن کر دے..
مبارک ہو. .
اور وہ لوگ باہر بڑھ گیے. ..
وہ خاموشی سے آنسو بہانے لگی...
