Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah NovelR50751

Last updated: 4 July 2026

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah

نمرہ سیال ملک ولد ملک وقار سیال ,آپکو ملک.
فرحان شاہ آفندی کے نکاح میں, سکہ رائج الوقت پانچ لاکھ. روپے ,دیا جاتا ھے! کیا آپکو قبول ہے؟
الفاظ تھے یا پگھلا ھوا سیسہ جو اس کے کانوں میں انڈیلا. جا رھا تھا؟
اسکی سوچنے سمجھنے کی تمام صلاحیتیں مفلوج ہو چکی تھی. یہ کسی گناہ کی سزا تھی یا شاید اس کے رب کی کو ئی آزمائش ؟.
...
پر ایسی آزمائش؟؟؟💔
آنسو تھے کہ ھر بن تو ڑ کے امڈ آنے پہ تلے. ھوئے تھے.
اتنی کڑ ی آزمائش کہ جس شخص کا ذکر تو دور کی بات جس کا خیا ل بھی اس کے انگ انگ میں زہر گھول دیتا, اسی شخص کو اسکی ہستی کا سرپرست بنایا جا رہا تھا......
نہی میرے اللہ نہی....وہ بے اختیار سسک اٹھی...
پر کہتے ہیں نا کہ ہر گھڑی قبولیت کی تھوڑی ہوتی ہے. ..
شاید اب وقت بھی بےرحم تھا..
ویران آنکھیں, کپکپاتے ہونٹ, کانپتے ہاتھ,.خو فزدہ چہر...وہ بے بسی کی مکمل تصویر بنی ھوئی تھی پر کسی کو کچھ دکھائی کیوں نہیں دے رہا تھا؟وہ جو اسکی معصومیت سے واقف تھے وہ خاموش کیوں تھے؟
صرف اس لیے کہ وہ مشکوک ہوئی تھی؟اسکا کردار......
کیا قصور تھا اسکا؟ ہاں اس کا پاک دامن أج پاک ہونے کے باوجود داغ دار بنا دیا گیا تھا..بغیر جرم کے بھیِ اور بس یہی ہواِِ.......
اسے بھی اس انا پرست کے ساتھ جوڑا جا رہا تھا..... وہ شخص جسکو اگر دنیا میں کچھ عزیز تھا تو وہ صرف اسکی "انا"...ہاں صرف اسکی "میں".....
لیکن یہی انا اور ضد.تو نمرہ کی. ذات کا بھی خاصا تھیجسے وہ self respect(عزت نفس)کا نام دیتی تھی...پر آج اس کے الفاظ کو بے موت مار دیا گیا تھا.آج اسکا وجود ہارا ھوا بکھرا ہوا تھا..اسکو اپنی ضد ھڑ دھرمی سب بےکار لگے ِِ.......
مولوی صاحب دوبارہ بولے,"کیا.آپکو قبول ہے؟"
امروزیہ بیگم اگے بڑھیں...بولو بیٹا قبول ہے. .
اسنے بےبس ہو کر ماں کو دیکھا..
چہرے پر سرخ دوپٹے کا گھونگھٹ تھا.پر وہ تو ماں تھیں گھونگھٹ کے پیچھے کوئی اور دیکھ پاتا یا نہیں پر انہوں نے دیکھ لیا. .
مجھے معاف کر دینا میری بچی......
انکی بیٹی انکا مان تھی انکا غرور تھی. .انکی سہیلی تھی..اور وہ جانتی تھیں کہ وہ مر کے بھی ایسا کوئی کام کرنے کا نہیں سوچ سکتی جس سے اسکے ماں باپ کا سر جھکے....
وہ تو ایک بےضرر سی گڑیا تھی..
قبو..قبول ہے!!!!!!
آزر آفندی نے پین اسکی طرف بڑھایا اور بالآخر کپکپاتے ہاتھوں سے ساٸن کر دے..
مبارک ہو. .
اور وہ لوگ باہر بڑھ گیے. ..
وہ خاموشی سے آنسو بہانے لگی...

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *