Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode14

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode14

امروزیہ بیگم نے اسکو دیکھا تھا..اسکے نین موٹے موٹے آنسوؤں سے دوبارہ بھر چکت تھے..اسنے ایک.جھٹکے سے ماں کا ہاتھ چھوڑا تھا..جیسے اعتبار.اٹھ چکا.ہو…بھروسہ.ٹوٹ.چکا ہو..مان مٹ چکا ہو…جیسے اسکو ان..سے ایسی امید نو.تھی..دھچکا لگا تھا اسکو ان.کے منہ سے وہ.سب.سن.کے..وہ جو بہت آرام سے خلع لینے کی سوچ.کو بھرپور.خاطر.میں لارہی تھی اسکو.اندازہ نا.تھا ابھی تو مزید ستم باقی ہیں. ..
نکاح ہوا.پے تو نکاح ختم بھی تو ہو سکتا ہے نا..
اسنے دوبارہ سے کسی امید کے تحت ہمت کی اور گویا ہوئی.
ماما ….میں. .میں خلع.لینا چاہتی ہوں. ..
اسنے اپنے دل میں پنپتی خواہش.کو الفاظ دے ہی.دہئے آخرِِ.
کیا؟؟دماغ تو ٹھیک ہے تمہارا؟؟کیا بکواس.کر رہئ ہو؟؟
اسکی.بات.سن کر تو امروزیہ کو جیسے پتنگے ہی لگ.گئے…
آپ..آپکو.شادی کروانی ہے نا میری..آپ کسی سے بھی کروا.دیں میں اف تک نا کروں چاہے کسی کا ڈرائیور دھوبی یا.نوکر ہی کیوں نا ہو…پر پلیز..اس شخص کے سامنے مت جھکائیں مجھے. …میری عزتِ نفس کو مت روندیں….
وہ بےبسی سے التجا کرنے لگی
جبکہ امروزیہ بیگم کی.سوئی خلع پر اٹکی تھی..
سوچنا.بھی مت ایسا…کیا کمی ہے فرحان میں ؟؟ اللہ کا دیا سب ہے..دولت پیسا جائیداد..شکل و صورت کا لاکھوں میں ایک..پڑھا لکھا ہائیلی کوالیفائیڈ…سب سے بڑھ کرگھر.کا لڑکا ہے…شروع سے دیکھا بھالا ہے…اور پھر تم.بھی تو اچھے سے جانتی ہو…
آخری بات انھوں نے نمرہ کو باور کروانے کو کہی..جبکہ وہ سامنے پتھر بنی حیرت کی مورت تھی…
مم..ماما .سب جانتے ہوئے بھی؟؟.آپ ایسا کیسے کہہ سکتی ہیں. .اس شخص کی.انا سے کیا.نا واقف ہیں آپ؟؟ٹھکرا چکا ہے وہ مجھے…دھتکار دیا تھا…میری ذات.کی کرچیاں کی ہیں اسنے…صرف مجھے نیچا دکھانے کے لیے کہ تم.کیا چیز ہو..بہت غرور ہے اسکو اپنے “فرحان شاہ” ہونے.پر…
میں ایسے مرد کا
ساتھ نہئ چاہتی…
انجانے.میری اسکے زخم کریدے جا.چکے تھے ..وہ زخم جو وہ 2 سال پہلے ڈھانپ چکی تھی..بھول جانا چاہتی تھی..کیا لچھ نا
کیا تھا ان.زخموں سے جان چھڑانے کے لیے..پر آج پھر وہ ہرے ہو چکے تھے..دوبارہ.خون رسنے لگا تھا..اسے لگا تھا اسکی روح کا زرہ.زرہ درد میں ہے…روح پر دئیے گئے زخم مٹائے نہی مٹتے…
امروزیہ بیگم کو ترس آیا تھا اس پرِ.جانتی تھیں وہ خود پر مضبوط نظر آنے کا خول چڑھا چکی ہے جبکہ اندر سے وہ آج بھی ٹوٹ پھوٹ کا.شکار تھی…انہوں نے اسکو کھینچ کر خود میں چھپا لیا..اسکا ماتھا چوما..اسکے بال چومے..
شش..چپ..میں جانتی ہوں بیٹا
سب جانتی ہوں. ..
پر یہ نہی جانتی اسنے ایسا.کیوں کیا تھا..
صرف اتنا
جانتی ہوں کہ میری بیٹی محبت نہی عشق کرتی تھی اس سے..اور عشق اپکا پیچھا نہی چھوڑتا. .محبت مٹ سکتی ہے عشق
نہی..
نمرہ ترپ کر پیچھے ہوئی..
نہی ماما..میرے دل میں اب اس شخص کے لیے صرف اور صرف نفرت ہے…بے تحاشا نفرت…میں. میں کیسے…آپ مت کریں یہ ظلم…میرا اللہ جانتا ہے میں بےقصور ہون…
اسنے دوبارہ کوشش کی تھی
بیٹا.جانتی ہوں. .میرا بچہ میرا مان.ہے..مجھے پتہ ہے میری بیٹی سمجھدار ہے وہ ایسی کوئی حرکت کر ہی نہی سکتی…اسے ماں باپ کی عزت کی اور اپنی عزت کی پرواہ ہے..اس لیے بیٹا میں منت کرتی ہوں تمہاری..چپ چا
پ یہ شادی کرلو..
انھوں نے.نمرہ کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے..
ماما..😰😭💔
اسکو.جھٹکا لگا اسنے فوراً انکے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں تھام لئیے…
بیٹا ہماری عزت رکھ لو..تم جانتی ہو طلاق لینا آسان نہی..طلاق یافتہ کی زندگی بھی ایک آزمائش ہوتی ہے..معاشرہ جینے نہی دیتا..میں نے شروع سے تمہیں اعتماد دیا..بھروسہ دیا…اعلیٰ تعلیم دلاوائی کوئی روک ٹوک نا کی بلکہ آزادی دی کیونکہ مجھے تم پر آعتبار ہے..مگر آج میری بات مان.جاو
لڑکی جتن بھی پڑھی لکھی ہو خوبصورت ہو.نیک سیرت ہو طلاق
یافتہ کا
ٹیگ لگ جانے کے بع
د یہ لو
گ کچھ نہی دیکھتے..اور نا آج تک ہمارے خاندان.میں کسی نے خلع لی یا طلاق…اس معاملے میں میں تمہارا ساتھ بالکل نہی د
ونگی..جہاں تک رہی فرحان کی بات تو عورت کو.خدا نے اتنی صلاحیت دی ہے کہ وہ مرد کو بدل سکے…
تم بھی اسکو بدل دینا.اپنی محبت سے..اپنی چاہ سے…اسکی انا کے سامنے چھوڑ دینا
اپنی انا…اور سچ بھی یہی ہے .کہ مرد کی انا کا مقابلہ کرنے والی عورت بےوقوف ہوتی ہے..پہلے کی بات سمجھ آتی ہے تم ٹھیک تھی تب.کیو
نکہ تب وہ تمہارا کچھ نا لگتا تھا سو عزت نفس چھوڑنے کا سوال آتا ہی نہئ مگر اب وہ محرم ہے..عورت کو بہت قربانیاں دینی پڑتے ہیں گھر بسانے کے لیے. .مرد کی ہاں میں ہان ملانا ہی کامیابی ہے…
انھوں نے اسکو سمجھایا تھا..
تو یعنی آپ مجھے اسکی جی حضوری کرنے کو کہہ رہی ہیں ؟؟
نمرہ نے منہ کا زاویہ بگاڑ کر پوچھا…
ٹھیک ہے میں کرلونگی شادی..آپ شرمندہ تو مت کریں ماما…
اسکا.اشارہ انکے جڑے ہاتھوں جی طرف تھا..وہ ماں تھیں کیسے بیٹی کی بربادی چاہ سکتی تھیں. .
اس سے.آگے بولنے کو کچھ نا تھا اسکے پاس سو وہ اٹھ کر باتھ روم جا چکی تھی..جبکہ امروزیہ بیگم بھی لمبی سانس خارج کر کے اٹھ گئیں. ..
🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
(ماضی)
نمرہ…
وہ.زیرِ لب بڑبڑایا….
نہی یو سکتا ہے کوئی اور.نمرہ.ہو..اسنے ذہن سے خیال.کو.جھٹکا کیونکہ.نمرہ.اور.فرحان میں ایسی.تو.کوئی بے.تکلفی نا.تھی کہ.بات میسجز تک پہنچ جائے…
پر بیڑا.غرق ہو.اس تجسس کا…وہ.بھی.تجسس.میں اگیا.کہ.دیکھنا تو چاہیے اور نا چاہتے ہوئے بھی اسنے موبائل اٹھالیا..سکرین ہر کوئی لاک.نا.تھا…سو.اسنے با.آسانی سامنے.موجود میسج پڑھ لیا..
Sure..thats nice of you Bhai…
دوسرا.میسج
I mean “Farhan” bhai.
نمرہ.کو.تھوڑا عجیب لگا تھا.اسکا.اس.طرح کہنا..کہ.تم.مجھے صرف “فرحان” کہہ سکتی ہو…
وہ معصوم ضرور تھی.مگر بےوقوف نا.تھی تبھی فرحان کی.بات ہر اسکا.ماتھا.ٹھنکا تھا…
سو.اسنے بھی فرحان کے.نام.کو.اسی.کی طرح
“Farhan”
لکھ.کر ساتھ خصوصً بھائی.لکھ کر میسج.بھیجا.گویا.باور کروا.رہی ہو…
اشعر کی.نظر سامنے میسج.ہر پڑی..اسنے اوپر کا.میسج.دیکھا.اور.پھر وہ.اوپر کرتا.ہی چلا.گیا..چیٹ.زیادہ.نا.ہونے.کے سبب وہ آرام.سے ساری پڑھ چکا.تھا…
اسے چہرے ہر چرارتی مسکراہٹ ابھری تھی…
تو.یہ بات ہے..دل آگیا.ہے لگتا. ہے ہماری.بہن پر…
وہ حقیقتاً خوش.ہوا.تھا..نمرہ.سے.ملے.ہوئے اسکو بھی.زیادہ عرصہ.نا.ہوا تھا.مگر وہ.اسکو.بہت اپنی اپنی.لگی تھی..جس طرح مان.سے وہ.اسکو.اشعر.بائی بلاتی تھی…
وہ.اسے اپنی.بہن ہی.تو.سمجھنے لگا تھا…
پر فرحان کا.یوں کہنا.اور نمرہ.کا.آگے سے پھر بھائی.کہنا..اسکی ہنسی رکے.نہی.رک.رہئ تھی…فرحان کسی سے ایسے کہہ ریا تھا..یہ اسکے.لیے نہایت حیران.کن.بات تھی وہ شروع دن.سے بچپن.سے ساتھ تھے..اسنے لڑکیوں کو.تو.فرحان کے پیچھے آتا ضرور.دیکھا.تھا پر.یوں فرحان کو.کبھی.کسی لڑکی کی طرف برھتے وہ.پہلی بار دیکھ رہا تھا..وہ.چھوٹی سی نازک سی گڑیا اس اکڑو انسان.کو.اپنے آگے لگائے پھر رہی تھی..اشعر کے لیے یہی بہت.تھا.اسکی.ٹانگ کھینچنے.کے.لیے…
اتنے.میں فرحان واپس مڑا..ہاتھ میں فائل تھامے..
اشعر ایک دم سیدھا ہوا..موبائل ویسے ہی رکھ دیا..فرحان نے فائل.اسکو تھمائی..
لے.اورجا اب نکل شاباشِ..فرحان نے جان چھڑانے والے انداز می1کہا..
اشعر جانتا تھا پہلی بار.بات کر رہا ہے تبھی اتنا بے صبری کا مظاہرہ کر ریا.ہے.پر وہ بھی اشعر تھا ایسے کیسے بخش دیتا..
اسنے فائل تھام لی مگر.اٹھا.نہی..
یار ایک.دو پوائنٹس دیکھنے ہیں بس..ادھر ہی دیکھ کے.رکھ.چلا.جاتا.ہوں…اسنے.بات بنائی..
جبکہ فرحان موبائل اٹھا چکا.تھا..ایک.دم.ہاتھ رکا…نکل ..فوراً مجھے سونا.ہے..
اسمے.اشعر کو.نکالنا چاہا..
چل.بےِ.آرام.سے سو.جا.بےشک..
چلا جاؤں گا..ایسا بھی کیا.ہے؟؟
اشعر.مر.ذرا.آنکھیں سکیڑ کر پوچھا.تھا..
فرحان کو ایک دم.احساس ہوا..
اشعر کا.ہوا میں چھوڑا ہوا تیر بالکل.نشانے پر جا لگا تھا..
کیا مطلب کیا ہے؟؟کچھ.ھی نہی..بیٹھا رہ..
فرحان نے کندھے اچکا کر کہا.گویا فرق ہی نا پڑتا ہو.جبکہ.اشعر کے لیے اپنی ہنسی روکنا مشکل ہو گیا.تھا..وہ سائیڈ پر موجود صوفے پر آرام سے بیٹھ گیا اور فائل دیکھے.کی.اداکاری کرنے.لگا..
دھیان ہنوز فرحان کی طرف تھا..
فرحان بیڈ پر نیم دراز ہوگیا..اسے لگا اشعر اب کام میں مصروف ہے سو.اسنے میسج.کھولا. .
سامنے
“Farhan bhai”
اسکو منہ.چڑا رہا تھا…اسکے چہرے.کا زاویہ بگڑا جو اشعر نے بہے غور سے دیکھا تھا اور وہ حد درجہ کوشش کر رہا تھا اپنی.مسکراہٹ چھپانے کی..
فرحان کا دل کیا اپنا.سر پیٹ لے..دیوار میں دے مارے سر اپنا…بال نوچ لے..
کیا.وہ واقعی اتنی معصوم تھئ ؟؟اتنی انجان تھی یا.جان کر.بھی.انجان بن رہی تھی…
فرحان کی ایک.دم نظر سامنے اٹھی.جہاں اشعر دل جلانے والی مسکراہٹ لیے اسکو ہی دیکھ رہا تھا…
کیا تکلیف ہے تجھے اب؟؟
وہ تپ کر بولا
کچھ نہی” فرحان بھائی.”.
اسنے فرحان بھائی پر زور دیا..
فرحان نے ایک دم حیرت سے اسکو دیکھا اور پید سے چھلانگ لگائی..اگلے لمحے اشعر کی گردن.اسکی مضبوط گرفت میں تھی…
اوے کھوتے چھوڑ..اب اگر بھائی وہ بنا نے.پر تلی ہے تو میرا کیا قصور؟؟
وہ چینختے ہوئے بولا..
تو میرا.موبائل چھان.رہا تھا…
فرحان نے اسکی گردن.دبائی…
نہی.بالکل.نہی..وہ.تو.بس.اتفاقیہ نظر.پڑ گئی.تو دیکھا.جناب بھابی.سے بات کرنے میں مشغول ہیں. .
اشعر نے دانتوں کی.بھرپور نمائش.کی جبکہ.فرحان مسکرانے لگا اور.گرفت ڈھیلی کر.دی..اشعر فوراً سرک کر سائید.پر.ہوا..
باس.سین.کیا.ہے؟؟سیدھی بات.بتا.ِ
اسنے فرحان سے پوچھا
سین.کیا.ہونا.ہے..
فرحان نے.کندھے اچکائے..
تونے بھائی.نہی بننا.تو سیدھا.بول.نا
بہن.نہی بیوی بنانا.ہے…
اشعر نے اسے مشورہ دیا
اچھا شکریہ مجھے تو پتا.ہی نا تھا ایسا کہنا.ہے..
اب جان.چکا.ہے تا منہ.بند.رکھنا.اپناِ.اور جا.اب
فرحان نے اب اسکو نکالا..
ہائے دوست دوست نا رہا..اشعر کی دہائیاں عروج پر تھیں. ..
سامنے سے آتی عریبہ اسکی بات سن چکی تھی..وہ ہولے سے مسکرا دی..اشعر کی نظر اس پر پڑی ..عریبہ اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ.اشعر سر جھٹک کر سیڑھیاں اترنے لگا..
________
اشعر کمرے سے جا چکا تو فرحان نے دوبارہ موبائل پر توجہ مرکوز کی… جہاں نمرہ نے اسکو فرحان بھائی کے لقب سے نوازا.تھا…
What about your studies ?
فرحان سے اور کوئی بات نا بن پڑی تو یہی پوچھ لیا…
Studies are tough but achi jarae hain…
نمرہ نے جواب دیا…وہ ابھی تک فرحان کی پچھلی بات کو لے کر تذبذب کا شکار تھی…
اسے اب عجیب سے وہم.نے آگھیرا تھا…کہ پتو نہی وہ کیا چاہتا ہے؟مجھسے بات کرنے کا مقصد کیا ہے؟؟باتیں بنانا اسکو اتا نہی تھا سو سیدھا کام کی بات پر آئی وہ.
Apko koi kaam tha??
اسنے اگلا.میسج.بھیجا…
فرحان جو ابھی اگلی.بات سوچ ہی.رہا تھا دوبارہ اسکا میسج آنے پر چونکا..اور میسج پڑھ کر رپلائی لکھنے لگا…
Han socha aunty ki kheriat pooch loon..wo aae thi tw dada jaan ki wajah se kaafi upset hui theen..
اسنے نیا.بہانہ گڑا تھا…
Oh sahi..Mama ab theak hain bilkul..Allah ka shukar hai..
اسنے جواب دیا
Oh thats good.
فرحان نے میسج.لکھ کر سینڈ.کر دیا.
Haveli kb ana hai??
ساتھ ہی.نیا.میسج گیا..
نمرہ.کے ماتھے ہر شکنیں ابھریں..وہ واقعی بات کو تول دے.رہا تھا..
Abhi koi plan nhi .
Or koi bat poochni apko?
نمرہ.نے ہوچھا
Umm nahi..
فرحان نے.جواب.دیا..
Okay then.mama ne sirf isliye permit kia tha k shayad apko kuch poochna ho..
نمرہ نے جواب.دیا..
فرحان نے اسکا.میسج.پڑا تو اسکے.ماتھے ہر بل.پڑےِ..
عجیب لڑکی ہے..
اور اسنے آنٹی کو.بھی بتا دیا…
Actually i am not allowed to talk to strangers…so
ساتھ ہی دوسرا میسج آیا..
سٹرینجر؟؟میں سٹرینجر ہوں اس.کے لیے…حد ہے..خود.کو سمجھتی کیا ہے یہ؟؟؟اسے حقیقتاً غصہ آیا تھا کیونکہ.اسکو.ایسے جواب کی امید ہرگز.نا تھی..
Ok thanks..but for your kind information,family members strangers nhi hotey..
اسنے.بھی.جتا دینا ضروری سمجھا..
نمرہ کو میسج پڑھ کر عجیب لگا پر ہر خیال کو جھٹک کر اسنے
ALLAHHAFIZ
لکھ.دیا…
فرحان غڈے دے پیچ و تاب کھاتا.رہ.گیا..اگے بات کرنا اسکو.فضول لگا سو موبائل آف کر کے بیڈ پر پٹخا .
..🌸🌸🌸🌸🌸🌸🌸
آج ایمن کے پھپھو کے بیٹے کی منگنی تھی..تھوڑی دیر پہلے ہی وہ لوگ گاؤں پہنچے تھے…
سب سے ملنے.ملانے کے بعد وہ فنگشن کے لیے تیار ہونے.لگی…چھوٹا.سی فیملی.گیدرنگ تھی…زیادہ لوگ نا تھے…
اسنے آف وائٹ کلر کی خوبصورت موتیوں کے ہلکے سے کام والی گھٹنوں تک آتی شرٹ.ساتھ اف وائٹ ہئ کلر کی سگریٹ پینٹ اور آف وائٹ نیٹ کا دوپٹہ لیا تھا..بلکل ہی ہلکےسے میک اپ نے اسکو چمکا دیا تھا…بڑی بڑی خوبصورت آنکھوں پر مڑی ہوئی پلکوں کی جھالر..باریک لبوں پر گلابی لپسٹک اور کانوں میں وائٹ جھمکے…وہ بہت جازب نظر آرہی.تھی…تیار ہو کر سر پہ سلیکے سے دوپٹہ اوڑھےوہ باہر آئی …سامنے کوئی.نا.دکھا تو وہ کچن میں چل دی کہ.وہاں ہونگے شاید..کچن میں اسکی چاچی موجود تھیں (سالار کی.امی).
ماشاءاللہ. .میری بیٹی کتنی.پیاری لگ رہی ہے..
انھوں نے ایمن کی بلائیں لیں…
چچی جان کوئی کام.ہے تو مجھے بتا دیں.
اسنے چاچی کع مخاطب کیا..
نہی کوئی کام نہی.بھئی ہماری بیٹی اتنے عرصے بعد آئی ہے اور آتے ہی کام پر لگا دیں. .تم آرام سے ادھر بیٹھو اور یہ کھیر کھاؤ..
انھوں نے اسکو سامنے موجود چارپائی پر بٹھا دیا اور کھیر کا باؤل اسکی طرف بڑھا دیا..
نہی ابھی.موڈ.نہی کھانے کا.اور ویسے بھی.بور ہی ئو رہی ہوں. .
ایمن نے انکو مسئلہ بتایا…
موڈ کیوں نہی دیکھو ذرا کیسے پیلی ذرد ہو رہی ہو.ایک تو آجکل کی.پڑھائیاں..ڈاکڑی کی پڑھائی کوئی آسان کام تھوڑی ہے…کھاؤ.شاباش…
انکے محبت سے.کہنے پر ایمن نے کھیر کا پیالہ تھام لیا اور کھانے.لگی..کھیر واقعی لذیذ تھی…
میں تو کہتی ہوں کچھ دن.میرے پاس رہ..دیکھنا کیسے صحت بناتی ہوں تیری…سوکھا پتا ہوتی جارہی ہے…دیسی گھی اور مکھن کھلاؤں گی لگاتار ..تازہ لسی پینا…بھلی چنگی ہو جائیگی…کتابوں سے مغزماری کرنے کے لیے جان.چاہیے…اور وہ تیری ہے ننھی سئ…
انھوں نے اسکو.رغبت سے کھاتے دیکھ.کر ایک.اور باؤل بھر.کے تھما دیا…
نہی.بس..یہ کافی ہے.میں نہی.کھا سکتی اتنا…
ایمن.نے انکو.روکا…
اب.انکو کیا.بتاتی کہ جن.کھانوں کے.وہ.نام لے.رہی.ہیں انکو کھانا اسکے.لئیے کتنا مشکل.ہے…
اتنے میں نوکر اندر.آیا..چونکہ تقریب.تھی گھر.میں سو سب کاموں میں جٹے تھے…
بیگم.صاحبہ…سالار بیٹے کہڑے مانگ رہے.ہیں شام کے لیے …
ہاں وہ اوپر رجو کو دئیے تھے سب کے استری کرنے کے لئے..
ایک تو یہ لڑکا..اب ادھر دیکھوں یا جا.کے.کپڑے دوں.اس نواب.ذادے کو…
کچن کا اتنا.کام دیکھ.کر وہ جھنجلائیں…
آپ دے آئیں ادھر میں کام.کردیتی ہوں مجھے بتا دیں. ..
ایمن نے انکی مشکل آسان کرنا چاہی…
بیٹا ادھر کی تجھے سمجھ نہی آنے والی..
انکا اشارہ کچن.میں ہوتے کاموں کی طرف تھا..نوکروں کی نگرانی کرنا..
تو جا کے اوپر سے کپڑے اٹھا کر جلدی سے.سالار.کے کمرے میں رکھ آ..جا میری دھی…
انھوں نے ایمن کو اپنی طرف سے آسان سا کام کہا…
حالانکہ.یہ کام سنتے ہی اسکی جان.پر آبنی..
مم..میں جاؤں. .
اسنے.گھبرا کر سوچا…
دل میں آیا انکار کر دے پر پھر خیال.آیا انھوں نے پہلی.بار.کوئی.کام.کہا.ہے اب برا لگے گا سو ہمت کر کے اٹھ کھڑی ہوئی…
اور کچن.سے نکل.گئی…
سیڑھیاں چڑھ کر سائیڈ پر موجود استری والے کمرے میں گئی..سامنے ہی آف وائٹ کرتا.لتک.ریا تھا..باقی اور کوئی لڑکوں کے.کپڑے نا.تھے..اسنے وہ.کرتا.اتارا اور سالار کے کمرے کی طرف چل دی….
کمرے میں جا کر دیکھا تو وہاں.کوئی نا.تھا..اسنے کمرے کا.جائزہ.لیا..وہ تقریباً ڈھائی سال.بعد گاؤں آرہی تھی…
کمرہ بہت صاف ستھرا اور سیٹ تھا…آف.وائٹ اور نیوی بلیو کومبینیشن.سے سجا….ساممے جہازی.سائز بیڈ تھا جس پر نیوی بلیو ہی بیڈ شیٹ بچی تھی…نرم و مائم کارپٹ میں اسکو اپنے پاؤں دھنستے ہوئے محسوس ہو رہے تھے..کمرے میں ایک مخصوص خوشبو.تھی…ایمن کو وہ سالار کی خوشبو لگی تھی..اسنے گہری سانس لے کر خوشبو کو اندر اتارنا چاہا…
جاری ہے🍁

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *