Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode28

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode28

شادی.کی.تیاریاں عروج پر تھیں. ..پوری حویلی کی چکاچوند دیکھنے لائق.تھی….ایک.ایک چیز کا بھرپور تیاری کی.جا رہی.تھی…. ملک وجاہت سختی سے ہر چیز.کی.خود.نگرانی.کر رہے تھے…
آخر کو حویلی کی.پہلی.شادی تھی وہ بھی سب سے بڑے اور.لاڈکے بیٹے کی..ِِوہ کسی بھی قسم کی کوئی کمی نا رہنے دینا چاہتے تھے…پیسہ پانی کی طرح بہایا جا.رہا.تھا……
آج.مہندی.تھی اور مہندی حویلی سے اسلام آباد.سیال ہاؤس لے کر جانی.تھی….پہلے سوچا گیا کہ شادی گاؤں میں ہی کی جائے نگر ملک.سیال.کا.کہنا تھا وہ اپنی بیٹی کو اپنے گھر سے رخصت کرنا چاہتے ہیں. .لہذا انکی خواہش کا.احترام کرتے ہوئے یہی تہ پایی تھا.کہ مہندی ادھر سے ادھر لے کر جائی جائے گی….
عصر کا.وقت آن پہنچا.تھا..مغرب سے پہلے نکلنا تھا…سب اپنی اپنی تیاریوں میں لگ گئے….
اشعر, برہان , زریاب اور فرحان سب نیے ایک.جیسے سفی کرتے پہنے تھے….
ساتھ. رنگ.برنگی چنری گلے میں ڈالے وہ بہت سحر انگیز لگ رہے تھے….جبکہ فرحان کے.گلے میں پیلا دوپٹہ تھا….
عریبہ نے ہلکے سنز رنگ کا شرارہ پہنا تھا…ساتھ جالی کا دوپٹہ لیے, مہندی سے سجے ہاتھوں اور اپنی تمام تر.معصومیت کے ساتھ وہ.اشعر کے دل.کے تار چھیڑ رہی تھی…….
کچھ دیر میں سب مہندی لے کر نکل پڑے……گاڑیوں کی ایک.نا ختم ئونے والی.قطار تھی..تقریباً ہورا گاؤں ہی.مرعو تھا…
ساٹھ پینسٹھ گاڑیوں کا.یہ.کارواں روڈ پر ایک ٹرین.کی.طرح لگ رہا تھا…..
⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐
نمرہ یار اوپر تک.لگوا.مہندی!!
ایمن.اب.تنگ آچکی.تھی اس.لڑکی.سے..دو دن.میں اسنے.نخرے کر کر کے ان.دونوں کو محال کر رکھا تھا…. وپ کسی چیز.میں نا.حصہ.لے رہی.تھی نا.کوئی بات سنتی.تھی…اب.بھی دھکے.سے اسکو.مہندی لگو رہی.تھیں وہ.دونوں ساتھ بٹھا.کر..
ایمن نے.خود.اسکی.قمیض کی.کھلی.سی.آستین پکڑ کر.کندھے تک.پیچھے.کر دی.تاکہ.کہنیوں سے.اوپر بھی.مہندی لگوائی.جا.سکے…اسکے ایسے کرنے سے.ایمن.کے.ئاتھ نمرہ.کے.بازوؤں کو.لگے تو.اسنے جھٹکے.سے.ہاتھ ہیچھے.کر نا چاہا ساتھ ہی وہ ایک دم کھلکھلا کر ہنسی تھی……
وہ.دونوں ہکا بکا اسکو.دیکھنے.لگیں کہ اسکو کیا ہوا ہے؟؟
مت.کر.گدگدی ہوتی ہے…
نمرہ.نے.ہنستے ہوئےبازو پیچھے.کیا.تھا…جبکہ.اسکی بات سن.کر باقی.سب.بھی.ہنسنے.لگے….
یہ گدگدیاں نا.ساری.تمہاری.نکل.جانی.ہیں. .ذرا شادی.تو.ہونے.دو….
مقی نے.اسے.کہنی.مار کر کہا.تھا…جبکہ.اسکی.بات.سن کر نمرہ.کے.کھکھلاتے ہونٹ ایک.دم سکڑے.تھے……
یعنی.اسکو.مقی کی بات.پسند نا.آئی تھی…..
مہندی.لگوا کر وہ فارغ ہوئیں. تو اس.کے.بعد انہوں نے.نمرہ.کا.تھوڑا بہت.میک اپ وغیرہ کیا…چہرے پر بیس بنا کر نیچرل پنک لپسٹک اور ساتھ ڈارک آئی.لائینر.جو.اسکی خوبصورت آنکھوں کو.مزید نمایاں کر رہا تھا…لمبے بالوں کی.ڈھیلی ڈھالی چوٹی بنا کی.کندھے پر ڈالے تھی. جب کہ.چند لٹیں اس کے حسین چہرے کو چام رہی تھیں. ..اور پھر چوٹی میں تازہ.موتیے کے.پھول لگائے گئے تھے….ہاتھوں پر بھی گجرے اور.ماتھے پر پھولوں کی بندیا….
اس.پر انکی سوچ سے.بڑھ کر نکھار آیا تھا…امروزیہ.بیگم کی.تو.آنکھیں بھر آئیں…وہ بالکل موم کی.گڑیا لگ رہی تھی….
ایمن اور.مقدس.نے.بھی ایک جیسے غرارے پہنے تھے….اور ساتھ گجرے.پہنے وہ.دونوں بھی دیکھنے والی آنکھ کو.خیرہ کر رہی تھیں.
اتنے میں لڑکے والے.مہندی لا چکے تھے… فنگشن لان میں ارینج کیا.گیا.تھا….وہ.دونوں اسکو بٹھائے
خود باہر کو لپکی تھیں. …
فرحان کو دیکھ.کر ان.دونوں کی.نظروں میں ستائش ابھری.تھی….
مقی نے.جھٹ سے.ایمن.کی آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیا…
کیا.کر.رہی.ہے ہٹا اسکو؟؟
ایمن.نے.اسکا ہاتھ پیچھے کرنا چاہا. ..
تو مت دیکھ اتنی.پیارے لڑکوں .تیری منگنی ہو چکی ہے..بے.شرم……میں تو چلو سنگل ہوں. . میرا حق بنتا ہے…
مقدس نے بڑے.پتے کی بات کی.تھی…
چل.ہٹ وڈی آئی.سنگل….. سنگل.ہونے.کا.یہ.مطلب.کہ.رج کےلڑکے تاڑو…
ایمن.نے تیوری.چڑھا کر کہا.تھا…
دیکھ.توجل.نہی میری آزادی.سے اچھا.نا… میں تو.آنکھیں ٹھنڈی کروں گی … مقدس.نے.کندھے اچکا.کر.کہا.تھا…
استغفار مقی..تجھے نہی لگتا تو زیادہ ہی ٹھرکی ہوتی جا رہی.ہے…
ایمن.نے.کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا تھا.
اسے ٹھرک.نہی.کہتے اچھا نا…
اتنا.کہہ کر وہ.آگے.بڑھ گئی…ابھی.وہ.چل.ہی.رہی.تھی.کہ.اسکی نظر.سامنے.فرحان کے ساتھ چلتے برہان پر پڑی. ..اسکے ماتھے پر ایک دم بل پڑے. ..
یہ.دیکھا دیکھا.لگتا ہے!!!
اسنے.برہان کو دیکھ کر سوچا تھا جو فرحان سے کافی مشابہت رکھتا تھا…
فرحان کو. سٹیج پربٹھایا گیا تھا… چونکہ نکاح ہو چکا تھا اس لیے انکو مہندی ایک ساتھ تھی.ِِ
ایمن اور.مقدس.عریبہ اور.کچھ اور.لڑکیوں کے ساتھ نمرہ کو لینے اندر بڑھ گئیں. …
نمرہ صوفے پر ایک
طرف بیٹھی لیپ.ٹاپ کھولی.بیٹھی تھی…
لاحول ولا… نمرہ آج تو.ضائع.ہو.جائے گی میرے ہاتھوں. ….یہ.کیوں کھول رکھا ہے….منہوس مہندی ہے تیری..مہندی سمجھتی.ہے….
ایمن نے چڑھ کر کہا.تھا….
جبکہ.عریبہ.آگے بڑھ کر نمرہ کے گلے.لگ گئی…
آپ بہت بہت.بہت.زئادہ پیاری لگ رہی.ہیں. ..بھائی تو.گئے کام سے..عریبہ.نے.شرارت.سے لہا تھا..جبکہ.اسکی آخری بات.سن کر نمرہ نے کوئی.تاثر نا.دیا.تھا….
عریبہ بیڈ سے پنک نیٹ کا باریک دوپٹہ اٹھانے مڑی تو.نمرہ ایمن.کے.پاس.جا.کے.بولی…
ایمن.مجھے.نہی.جانا پلیز…
اسنے.رونی شکل بنا.کر کہا.تھا..جبکہ.آنکھیں واقعی.نم ہونے.لگی.تھیں. ..ایمن.کو.بے اختیار اس پر.پیار آیا..
اوہو.نمی..میں اور مقی.تیرے ساتھ رہیں گے نا.بالکل…کیوں گھبرا رہی.ہے…
ایمن.نے.اسکو.دلاسا.دیا…
نا بھئی.میں تو ادھر ادھر گھوموں گی…
مقدس نے.فوراً دامن.بچایا تھا…
دھر فٹے منہ…تو تاڑ نا.ذرا.لڑکے پھر.میں دیکھتی ہوں تجھے…
ایمن.نے اسکا.کان پکڑا تھا…
میں اسکے.ساتھ نہی.بیٹھوں گی…
نمرہ.نے شدید نفرت سے کہا.تھا….
چپ.کر پاگل..سن.لے گی.عریبہ…
ایمن.نے فوراً اسکو چپت.لگائی…پھر عریبہ.نے نیٹ.کا.وہ.دوپٹہ انکو دیا..جو.ایمن.نے.نمرہ.پر. گھونگھٹ کی طر2ڈال.دیا…پیلے رنگ کےکپڑوں اور سیٹ دوپٹے پر پنک کلر کا باریک گھونگھٹ بہت اٹھ.رہا.تھا… نمرہ کا چہرہ اس میں نظر ضرور آرہاتھا….مگر بارک.سے پردے کے پیچھے….
اور وہ اسکو.لیے باہر کی.طرف بڑھ گئیں. .جبکہ.نمرہ.کس طرح یہ بھاری قدم.اٹھا.رہی.تھی یہ.اسکا دل ہی جانتا تھا.
⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐
وہ نمرہ.کو درمیان میں لیے لان.میں آئیں تو ہر ایک کی.نگاہ اس سمت اٹھی تھی….
جیسے جیسے وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی سٹیج کے قریب بڑھ رہی تھی اسکا دل.مٹھی.میں جکڑا جا رہا تھا….دل.کیا.کہ.ہاتھ چھڑا.کر بھاگ جائے..نکل.جائے.یہاں سے کہیں دورِ.اور دوبارہ واپسی کی طرف نگاہ نا اٹھائے…
سب کے.چہروں پر واضح خوشی.دیکھ.کر.اسکے دل میں کچھ ٹوٹا تھا….
وہ اس.قدر تکلیف سے دوچار تھی.جب.کہ.یہ.سب.یہاں ہر چیز سے بےفکر خوشیاں منا رہے تھے!!!!!!
کسی کو اسکا احساس.نا.تھا..اسکے احساسات کی.قدر نا تھی کہ وہ کس حال میں ہے. …کیسے آنسوؤں کو بامشکل ضبط کیے وہ خود پر قابو پانے کی تگ و.دو میں ہے!!!!!!
پر یہاں سب کو.دیکھ.کر تو نا.لگتا تھا.کسی کو.اسکی پرواہ بھی ہو.گی…یہاں تو.جیسے.جشن.کا.سماں تھا…
فرحان نے.نگاہ سامنے.کو.اٹھی تو ٹھٹک ہی.تو.گیا.تھا…اس.قدر حسن اور.کشش.شاید.ہی.کسی.لڑکی میں دیکھی تھی اسنے…. وہ ٹکٹکی باندھے اسکو.دیکھتا گیا جیسے ہوش.میں نا.ئو….گلابی کپکپاتے لب…اسکی ادھر ادھر ہوتی پلکیں اسکی گھبراہٹ کا ثبوت تھیں. ….
نازک سا.سراپا…آج اسنے ہیل نا.پہنی تھی.بلکہ.کھسے پہنے تھے اسکے باوجود.اسکا.دراز.قد.نمایاں تھا…گوری صراحی گردن میں ابھری ہوئی کولر.بون اور.اس پر بہت.باریک.سی.گولڈ.کی.چین چمک.رہی تھی…… گوری نازک.کلائیوں میں موجود.تازہ گجروں کی اٹھتی مدہم سی خوشبو اسکے پورے سراپے کو مہکا رہی تھی…..
وہ سٹیج پر ایمن کا.ہاتھ تھام.کر چڑھی.تھی..فرحان کھڑا.ہوا …اسنے اہنا.ہاتھ آگے بڑھایا.ہی.تھی.کہ.نمرہ.نے.ایمن.کا.ہاتھ اور.مضبوطی سے.جکڑ لیا..فرحان نے نا محسوس.انداز میں ہاتھ واپس کھینچ.لیا.مگر اسکے.موڈ کا.بیڑا.غرق.کرنے میں وہ کامیاب رہی تھی …اسکی آنکھوں میں غصہ ابھرا تھا اور یہ.بات نمرہ.کو.اندر.تک سکان.دے.گئی..اسنے.فوبارہ.سب.کے.سامنے.بھری.محفل میں اسکا ہاتھ جھٹلایا تھا…. اور وہ.اس بار خوش.تھی….جبکہ.فرحان پہلے تو.ایک دم طیش.میں آیا.پھر نمرہ کا.سکون.دیکھ.کر.وہ.سمجھ گیا.وہ کیا.چاہتی.ہے…
سو اگر وہ.مزید غصہ کرتا.تو.یقیناً نمرہ کے لیے مسرت.کا.باعث بنتا اسکا چڑنا…..نمرہ.نے ایمن.کا.ہاتھ.تھاما.ہوا تھا سی.طرح. ..فرحان کے چہرے پر شیطانی.مسکراہٹ ابھری..اسنے ایک دم ہاتھ آگے کر کے ایمن.کے ہاتھ سے نمرہ کا.ہاتھ نکال کر تھام لیا…یہ.سب ایک لمحے.کے.دسویں حصے میں وہ.کر چکا تھا..جبکہ.نمرہ تو سمجھ ہی نا پائی ہوا.کیا تھا…جب دیکھا تو وہ اسکا.نازک ہاتھ اپنے مضبوط مردانہ.ہاتھ میں زور سے.جکڑی کھڑا تھا…
نمرہ نے ایک.دم اسکو.خونخوار.نظروں سے گھورا جیسے ابھی دانتوں سے چیر پھاڑ دے گی…
جبکہ فرحان نے.ااکی.طرف دیکھنے کی زحمت نا.کی.تھی وہ جان کر انجان بنا اسکا.ہاتھ تھامے لکڑی کے جھولے تک لایا جسے پورا پھولوں کی لڑیوں اور بتیوں سے سجایا گیا تھا….
وہ.اس.پر.بیٹھا.اور.نمرہ.کو.بھی.ساتھ.بٹھا.دیا….نمرہ نے اپنا.ہاتھ کھینچنا چاہا تھا…فرحان نے نگاہ اسکی جانب اٹھائی …اسکی آنکھوں میں واضح موٹے موٹے موتی جمع تھے…..اسے نہائت نرمی سے اسکا ہاتھ چھوڑ دیا…نمرہ.نے.ایک.دم.ہاتھ پیچھے کھینچ.کر دوپٹے تلے چھپا دیا جیسے اگر باہر رہا تو کہیں وہ پھر سے تھامنے کی جسارت نا کر لے.
فرحان سے اسکی یہ حرکت.چھپی.نا.رہی.تھی….
انکے بیٹھتے ہی امنہ بیگم انکے پاس آئیں اور نمرہ کے ماتھے.ہر پیار دیا…اس کے بعد ان.دونوں کے ہاتھوں پر نوٹ رکھ کر مہندی لگنے لگی…..
سب ان.دونوں کی.طرف متوجہ.تھے…اشعر .کی امی نے فرحان کو گلاب جامن.کھلایا …وہ پورا ہڑپنے لگا تھا کہ.انھوں نے.اس کے.سر پر چپت لگائی…
اسنے آدھا کھایا…اور باقئ کا ادھا انہوں نے نمرہ.کی طرف بڑھا دیا….
نمرہ کو سمجھ.نا آئی وہ کیا.کرے….
وہ قطعی فرحان کا جھوٹاکھانا تو دور کی.بات چھونا.بھی.نا.چاہتی تھی……
اب سب کے.سامنے وہ.کیسے.منا کرتی…ابھی.وہ.اسی کشمکش میں تھی کہ.فرحان اسکی طرف ہلکا.سا جھکا.تھا…
نمرہ ایک.دم بوکھلا کر پیچھے کو ہوئی
فرحان اسکے کان کے قریب ہو کر بولا.تھا…
کھالو..اچھوت نہی.ہوں.ِ..
اسنے دانت دبا کر کہا.تھا…جبکہ نمرہ اسکی.اس حرکت سے کانپنے.لگی تھی…اسکو فرحان کی سانسیں اپنے کان پر واضح محسوس ہوئی تھیں. …..
ابھی وہ.پیچھے ہو.ہی.رہا.تھا.کہ.سب کزنز.کی آواز.بلند ہوئی…
ہو..ہو!!! سب نے اسکی.اس.حرکت پر ہوٹنگ کی تھی …..
فرحان پیچھے.ہوا تو نمرہ نے اسکی طرف حقارت سے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو …اچھوت سے بھی بدتر ہو..!!!!!
فرحان نے غصے سے.لب بھینچے تھے…اور سامنے دیکھنے.لگا…
اتنے میں اشعر اور برہان بھی وہاں آگئے تھے….
جبکہ ایمن اور. مقی نمرہ.کے ساتھ ہی کھڑی تھیں….
اہمِم..کیسی ہیں بھابھی جان!!!
اشعر نے شوخی.سے پوچھا تھا…
اگر بہن بنا.کر پوچھیں گے تو ضرور بتاؤں گی…!!
نمرہ.نے جتا کر کہا.تھا..
اب تو بھابھی کے منصب پر فائض ہو چکی.ہو.نا…
اشعر نے اسے فرحان کے.حوالے.سے کہا.تھا….
جبکہ نمرہ کا.اسکی بات سن.کر جیسے حلق کڑوا ہوا تھا…
اب آپ اگر یہ لقب تھونپنے پر تلے ہیں تو میں کیا کر سکتی ہوں…. خیر اس لحاظ سے حال.نا.ہی ہوچھا جوئے تو.بہتر.ہے…
نمرہ نے تڑخ کر جواب دیا تھا…
اسکی.بات پر فرحان مٹھی بند کی.جیسے قابو کر رہا ہوِ..
اشعر کو.بات سنگین ہوتی محسوس ہوئی تو.فوراً بات بدل.دی…
برہان کی.نظر ایک دم سامنے.مقدس پر.پڑی..اسی.وقت مقدس نے.بھی اسکی طرف دیکھا….
دونوں کی.نظریں چار ہوئیں. ..برہان.نے نظروں کا.زاویہ بدلا..مگر اگلے ہی پل کچھ یاد آنے ہر فوراً اسنی.مقدس کی طرف دوبارہ دیکھا….
مقدس کو.بھی یاد آچکی.تھی انکی.پہلی.ملاقات…. اسنے ایک.دم.منہ منہ کا زاویہ بگاڑا تھا….. وہ ادھر ادھر دیکھنے.لگی جیسے برہان.کو.دیکھا ہی نا.ہو…ِ
برہان اسکی.اس حرکت پر بامشکل ہنسی روک.سکا.تھا…
⭐⭐⭐⭐⭐
فرحان جب.سے آیا تھا اسکی نظروں کے.سامنے نمرہ کا سراپا گھوم رہا تھا. … اسکا.دل نمرہ طرف کھچ رہا تھا. .. شاید یہ نکاح کی.بدولت تھا..محرم ہونےکااحساس ہی اتنا.خوش کن تھا… وہ اب تک اپنی حالت سمجھنے سے قاصر تھا. …. وہ کیا چاہتا تھا؟؟اسے خود نا پتا تھا شاید……
کیا وہ واقعی اسکے ساتھ اچھی زندگی گزارنے کا خواہش مند تھا یا اسنے اسکی مدد کی تھی لوگوں کی باتوں اور طعنوں سے بچنے کے لیے..
کیونکہ اسکی پاکی پر اور اس کے کردار پر اتنا ہی بھروسہ تھا جتنا خدا کی ذات کا واحد ہونے ہر تھا….
اسنے.یہ.کیوں کیا تھا؟؟؟ بس دل.نے کہا.تھا اسے تھام لے…یہ موقعہ پھر آئے نا آئے..کیونکہ اسکو. کسی اور کاہوتے دیکھنا اسکے بس کی بات نا.تھی….جب سے اسکے رشتے کی.بات سنی.تھی اک.آگ.میں جھلس رہا تھا وہ….مگر آج وہ.مطمئن تھا…اور شاید خوش.بھی..
پر وہ کیا سوچتی تھی یہ.اس.کے چہرے کے تاثرات اسے اچھے سے. فرحان کو سمجھا چکے.تھے….پر اسے فکر نا.تھی….
⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐
نمرہ نماز کے بعد پھر سو گئی…دن.کو 9 بجے امروزیہ بیگم.نے.انکو جگایا تھا. .گھر میں گہماگہمی عروج پر تھی….
نمرہ کو.اپنا آپ تھکا تھکا سا لگا تھا…. یہ تھکان.جسمانی نا تھی..یہ روح کی تھکان تھی. …. وہ اپنی ماں کی خاطر اس شادی پر رضامند تو ہو گئی تھی مگر اسکا دل ویرانے کے گہرے گڑھے می نیچے نیچے جاتا جا رہا تھا. …آنے والی زندگی اسے کیا دکھانے والی تھی؟؟؟ ابھی اور کتنے امتحان باقی تھے؟؟؟ کیا اسکو بھی کبھی روحانی سکون نصیب ہونا تھا یا زندگی ایسے
ہی کٹ جانی تھی؟.
ایک ماہ بعد اسکے فائینل ائیر کے پیپر تھے. .اسکے پانچ سال کی محنت کا.انحصار اب انہی پر تھا … اسی.نتیجے پر اسکے مستقبل کا فیصلہ ہونا تھا …پر اب یہ.سب اچانک. ..وہ سمجھ نہی پارہی تھی کیا کرے کیا نا کرے….
اسکی سوچ کا تسلسل مقدس کی آواز نے توڑا تھا….
نمی..جلدی سے فریش ہو کر ناشتہ کر لے پھر پارلر جانا ہے….
اسنے اسکو.اٹھاتے ہوئے کہا تھا…
ہوں ہاں آتی ہوں. ..
اسنے آہستہ سے جواب دیا.ِ…
مقدس کو وہ بہت اداس لگی تھی….وہ جانتی تھی اسکی حالت پر اب وہ کچھ کہہ.کر.اسکا.دل.خراب نہی کرنا.چاہتی تھی…
نمرہ نے رونا.بلکل.بند کر.دیا تھا..وہ.اپنا.غم اپنے اندر ہی دبانے کی.کوشش.کر.رہی تھی.جیسے کسی سے کوئی امید نا رہی ہو…
⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐
سب بارات کے لیے تیار.تھے…برہان اور اشعر نی کافی وقت لگا کر فرحان کا کمرہ سیٹ کروایا تھا..انھوں نے.تازہ چمبیلی, موتیے اور گلاب کے پھولوں کی سیج بنوائی تھی..کمرہ پھولوں کی تازہ خوشبو سے مہک.رہا.تھا….
عریبہ ملٹی شیڈز کا.لہنگا سنبھالے اندر داخل.ہوئی تھی…وہاں.پر صرف اشعر.موجود تھا…
خوشبو کے جھونکے نے اسکا استقبال کیا تھا….
برہان بھائی!! اسنے.کمرے.میں ادھر اُدھر دیکھ کر آواز.دی تھی…اتنے میں اشعر سامنے نمودار ہوا…
اسنے اشعر کو دیکھ کر ایک دم نظریں جھکائی تھیں. …
وہ…برہان بھائی ….کہاں ہیں ؟؟؟.
اسنے کچھ جھجکتے ہوئے پوچھا تھا. …جبکہ اشعر اسکا جائزہ لینے میں مصروف تھا…..
ملٹی شیڈز کا پاؤں تک آتا لہنگا. ..ساتھ کام دار چولی اور ملٹی شیڈز کا ہی دوپٹہ, کندھے سے کچھ نیچے آتےبالوں کو رول کیا گیا تھا…آج وہ بیوٹیشن سے تیار ہوئی تھی اور میک اپ میں بہت جچ رہی تھی…..اشعر اسکو آنکھوں کے ذریعے دل میں اتار رہا تھا…..
عریبہ کو جب اشعر سے کوئی جواب نا ملا تو اسنے دوبارہ پوچھا….
برہان بھائی کہاں ہیں ؟؟؟
برہان بھائی تو نہی ہیں. ..میں ہوں..
اشعر نے شرارت سے کہا تھا…جبکہ عریبہ اسکی بات پر گڑبڑا گئی. …اور ادھر اُدھر دیکھنے لگی….
اشعر اسکی اس طرح آنکھیں پٹپٹانے پر ہنس دیا….
تم بتاؤ کیا کام ہے؟؟ اسنے بالآخر اس پر رحم کھاتے ہوئے پوچھا تھا. ….
وہ دوسری گاڑی کی چابی ان کے پاس تھی..وہ چاہیے. …
عریبہ.نے انگلیاں مروڑتے ہوئے کہا تھا….
ابھی وہ کہہ ہی چکی تھی کہ.اشعر آگیا….
بھائی گاڑی کی چابی….آپ کے پاس تھی؟؟؟
عریبہ نے پوچھا تھا…
ہاں میرے پاس ہے..تم لوگ ہو گئے ریڈی؟؟؟
برہان نے پوچھا تھا..
جی بھائی!!
اسنے بس.اتنا جواب دیا….وہ مسلسل خود پر اشعر کی نظریں محسوس کر رہی تھی …جو اسکو خاصا پزل کر رہی تھیں. …
اچھا ٹھیک ہے چلا.میں بس آتا ہوں. ..
برہان نے اسکی مشکل آسان.کی اور وہ.وہاں.سے. دھڑکتے دل کے ساتھ بھاگنے کے.انداز میں باہر کو.لپکی تھی…..
⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐
پارلر میں انکو کافی وقت لگ گیا تھا….مہمان بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے شہر کا بہت بڑا اور مشہور. ہال بارات کے لیے بک کروایا گیا تھا. ..
کاشان انکو پک کرنے آیا تھا….ایمن.اور مقدس نمرہ لہنگا تھامے باہر آئی تھیں. …
وہ دونوں فل میک اپ میں لونگ میکسی پہنے بہت پیاری لگ رہی تھیں. ..نمرہ.کا لہنگا کافی بھاری کام والا تھا..اور اسکی ٹیل بھی.کافی لمبی تھی پیچھے سے…ہائی ہیل کی وجہ سے اسکو کافی جھنجلاہٹ ہو رہی تھی. ..
وہ گاڑی تک آئین تو.کاشان نے.نمرہ کو.ساتھ لگا کر اسما.ماتھا چوما. ….
ایک گرم آنسو اسکی پلکوں کی باڑ توڑ کر.جھلکا تھا…
بہت پیاری لگ رہی.ہو بل بتھوڑی…
اسنے شرارت سے ا
نمرہ کی ستواں ناک کو دبا کر کہا تھا..جس میں موجود خوبصورت نتھ اسکو حسین بنا.رہی تھی…..
کاشان بھائی.ایسا نا ہو یہ ادھر ہی دیلاب بہا دے اور تین.چار گھنٹوں کی محنت کا.کباڑا نکل جائے….
مقدس نے اسکے آنسو کو.دیکھ کر میک اپ خراب ہونے کا اندیشہ ظاہر کیا تھا..نمرہ نے خفگی سے اسکو.دیکھا. …
ایمن نے نمرہ کو گاڑی میں بٹھایا اور وہ سب چل دیئے. .
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *