Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode46

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode46

مگر بڑوں.سے.معافی منگوانا ..وہ.یہ تو نہی چاہتی تھی…ایک.دم.ہی اسکو.شرمندگی ہوئی…
آنٹی آپ ایسے.مت کہیں. .آپ بیٹھیں. ..
نمرہ.نے انکا ہاتھ پکڑ کر بٹھانا چاہا…
اسی اسنا میں.انکی نظر نمرہ کے مخروطی ہاتھوں.ہر گئی اور ٹھہر گئی…
لمبی پتلی انگلیوں میں.نازک سی ہیرے کی انگوٹھی اور انگوٹھے میں.سونے کا ایک چھلا.جس میں.باریک نگ چنے گئے تھے…
جبکہ دوسرے ہاتھ میں.سونے.کا نازک سا.بریسلیٹ لشکارے مار رہا تھا…جسکی.چمک سے انکی آنکھیں.چندھیا گئیں. …
اسکی اپنا کہنے کی.دیر تھی کہ فرحان ایک دم قابو ہاتا آگے اور لپکا اور نمرہ کا ہاتھ ان.کے ہاتھ سے چھیننے کے انداز.میں آزاد کروایا تھا….
نمرہ نے حیرت سے اسے.دیکھا تھا…
وہ ایک.دم.فرحان.سے مخاطب ہوئیں. ..
تمہارا غصہ جائز ہے بیٹا…
میں بیٹے کے.پیار میں.اندھی ہو گئی تھی…
تبھی کچھ نظر.ہی نا آیا…
معاف کر دو.اس بدنصیب کو..اولاد کا.سکھ تو دیکھنا لکھا ہی نہی ہے….
نمرہ کو ایک دم.ان.ہر.ترس آیا تھا..جبکہ.فرحان.کو.انکی.کسی.بات کا قطعی اعتبار نا.تھا…
دوبارہ میرے بیوی سے.مخاطب ہونے کی ضرورت نہی…
فرحان.نے.انگلی اٹھا.کر.جس.انداز.میں.انکو وارن.کیا وہ ایک ہل تو اندر.تک دہل گئی تھیں…
جبکہ آمنہ بیگم کی.ہمت ہی نا.ہوئی کچھ.کہنے کی
اور نمرہ کا ہاتھ پکڑتا اسے اوپر لے.گیاِ….
کمرے میں.داخل ئوتے ہی اسنے دروازہ بند کیا تو.نمرہ.نے اپنی کلائی آزاد کروائی…ِگرفت اتنی مضبوط تھی کہ.اسکی.مرمریں.کلائی پر انگلیوں کے.نشان.واضح تھے…
اسنے فرحان کو.گھورتے ہوئے اپنی کلائی سہلائی تھی….
اس سے.پہکے وہ کچھ بولتی وہ بول اٹھا تھا..
دوبارہ ان کے منہ.لگنے کی ضرورت نہی تمہیں…
اور جب تک وہ دونوں ماں.بیٹی یہاں.سے اپنا ڈرامہ ختم.کر کے چلی نہی جاتیں تم ان.کے آس پاس نظر.مت آؤ.مجھے…
اسنے.جیسے اسے وارن.کیا.تھاِ..
نمرہ نے حیرت سے.منہ کھولے اسے دیکھا تھا…
کیسے دھونس.جما.رہا تھا وہ.یعنی.اب.وہ.کمرے سے.بھی.نا.نکلے…
یہ کیا.طریقہ ہوتا ہے گھر آئے.مہمان.سے بات کرنے کا…مانا.کہ وہ.غلط تھیں.بٹ یہ بھی تو دیکھیں کتنی ہریشان.ہیں.وہ اور شرمندہ بھی ہیں.کتنی…
اسنے فرحان.سے.کہا تھا…
انکی شرمندگی جانتا ہوں.میں…
فرحان.نے تمسخر سے کہا تھا…..
شی از سوری…
نمرہ.نے.اسے یاد دلایا….
تم ذیادہ ذہن.ہر.زور مت دو.میری جان.ِ.انکو.میں.ہینڈل.کر لوں.گا… تم کبھی میرے بارے میں.بھی.سوچا.کرو…
فرحان نے.چند.قدم اسکی جانب اٹھائے کہا.تھا…
نمرہ نے ایک دم.نگاہ اٹھا.کر اسکو.دیکھا تھا…
اتنے میں.نیچے سے پھر آوازیں انے لگیں….
Dammmnn!!
وہ غصے سے بوکتا.باہر کو.نکل.گیا…
نمرہ اسکے.پیچھے نا.گئی تھی کیونکہ ابھی وہ منع کر.کے.گیا تھا…
اسکا دل رضیہ بیگم کے.لیے ذرا پگھلا ضرور تھا…اور تالیہ سے بھی اسکئ ایسی کوئی.دشمنی نا.تھی…
مگر پھر اسے بھی ایک.دم.نکاہ کے دن کی باتیں.یاد آنے.لگیں…کیا کیا.نا.بیتی تھی اس ہر اس دن…جیسے ساتویں اسمان.آن.گرے تھے…
اور یئ سب ہوا کس کی وجہ سے ..انکے بیٹے حارث کی وجہ سے….
اگر وہ اس.وقت اسکا ساتھ دے کر نمرہ اور فرحان ہر چڑھائی نا.کرتیں.تو شاید یہ سب نا.ہوتا ….
مگر اب سب ئو چکا تھا…
اسنے سرد آہ. باہر نکالی تھی…
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ نیچے آیا تو آمنہ.بیگم اپنی.بھابھی اور بھتیجی کے ساتھ بیٹھی تھیں…
جبکہ بھابھی صاحبہ ٹسوے بہا.رہی تھیں کہ انسے خطا ہو گئی جو اپنے بیٹے کی باتوں میں.آ کر اتنا اول فول بک دیا
شاید انکو اندازہ نا تھا انکی.یہ خطا ننرہ اور فرھان ہر قہر بن کر توٹی تھی
مگر کہتے ہیں.نا.جو ہوتا ہے اس میں.مص
لحت ئوتی ہے رب کی کوئی.نا.کوئی
اور جیسے بھی سہی اب نمرہ سیال اور.فرحان شاہ ایک ئو چکے تھے..ناراضگیاں بھی فرحان کو امید تھی جلد یا بعید مٹ جائیں گی
وہ اپنی محبت پا لے گا
انھوں نے کسی طرح اپنے آنسوؤں اور کنگال ہونے کی دکھ بھری داستان سے آمنہ بیگم کو کائل کر ہی لیا تھا
انہی کے ذریعے فرحان کو علم ہوا کہ حارث گزشتہ دو ماہ سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے تھا وہ بھی ملک وجاہت کی وجہ سے اور ابھی بھی رہا نا ہوا تھا..
فرحان کو طیش آیا کیونکہ ملک وجاہت نے اسے بتائے بغیر حارث کو صرف جیل بھیج دیا جبکہ وہ اسکو اچھا سبق سکھانے کا روادار تھا
مرتا کیا.نا.کرتا.ماں.کا.لحاظ کر.کے خاموشی کا.کڑوا گھونٹ پینا.پڑا…
عریبہ اور.اشعر کی.بھی کچھ دیر میں.واہسی تھی وہ نہی چاہتا تھا کوئی بد.مزگی ہو….
انھوں.نے ہمدردیاں سمیٹنے میں.کوئی کسر.نا.رکھی اور کچھ دن رہنے کی بھی اجازت لے لی…
لحاظ اور.مروت کے.مارے لوگ تھے آمنہ بیگم نے بھی اجازت دے دی
کچھ دیر ہی گزری تھی کہ عریبہ.اور اشعر بھی آ چکے تھے… گھر سامان وغیرہ رکھنے کے بعد سیدھا ادھر ہی آگئے تھے وہ مگر آگے ان.نمونوں.کو دیکھ کر وہ بھی ٹھٹھک گئے…
بے انتہا میٹھی بنتی رضیہ بیگم ساتھ انتہائ
غیر مہذب سے پباس میں بیٹھی تالیہ جو ندیدوں کی.طرح فروٹس.پر ئاتھ صاف کر رہی تھی…
عریبہ برائے نا انسے.ملی اور.نمرہ سے ملنے کا کہتی اوہر فرحان کے کمرے.میں.چل.دی…
دروازہ ناک کیا تو اجازت.ملنے پر اندر داخل ہوئی….
نمرہ.موبائل میں لگی تھی..عریبہ.کو سامنے دیکھ کر خوشی سے اچھل پڑی…
اوہ مائے گاڈِِ عریبہ…
وہ خوشی سے اسکی جانب لپکی اور گلے لگ گئی….
پھر.دونوں بیٹھ کر باتیں کرنے.لگیں … عریبہ نے اسے.بتایا اشعر فرحان.کے.ساتھ کہیں.باہر.نکلا.تھا….اس نے.ٹور کی.بہت سی باتیں اسکو.بتائی تھیں…
اہممم..اشعر اشعر…آپ تو گئیں کام.سے نند صاحبہ…
نمرہ کو.اسکو.چھیڑھا تو وہ بلش.کر گئی تھی…
کم تو آپ بھی.نہی ہیں یہ بال بھائی کے کہنے پر کروائے نا.بھابھئ صاحبہ..
عریبہ مے جواباً اسے لتاڑ ڈالا تھا
نمرہ نے.پھیکی سی.ہنسی ہنسی تھی..
اب کیا بتاتی اسکو اسکا بھائی دھوکے سے اسکا تیا ہانچا کروا.کر.لے آیا…
کافی باتیں.کر.کے جب وہ نکلیں تو اشعر اور فرحان.بھی کوٹ چکے تھے…
ملک.وجاہت اور.برہان.بھی آگئے تھے…
نمرہ اشعر سے.ملی تھی….
لگتا ہے موسم بدل رہا ہے..ہینا فرحان…
اشعر.نے.ذومعنی الفاظ میں.اسکو.چھیڑا تھا…
کیونکہ.اسکو.نمرہ خوش.لگ رہی تھی….
اور پھر ملک.وجاہت سے.بھی رضیہ بیگم.نے.معافی.مانگی…
معاف کرنے.کے.علاوہ کچھ نا.کہہ.سکے وہ کیونکہ آمنہ.بیگم انکو عزیز بھی بہت تھیں…اور.وہ انکی.بھابھی تھیں…انکا خیال.کرتے وہ چپ ہو گئے تھے…ان دونوں.کے لیے گیسٹ روم.صاف کروایا گیا تھا
🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹
رات فرحان کمرے میں آیا تو وہ نماز ادا کر رہی تھی….
وہ صوفے پر بیٹھا اسکو دیکھتا گیا ….
نمرہ نے سلام پھیرا تو.خود پر کسی کی نظریں محسوس کیں..فرحان کو خود کو دیکھتا پایا تو وہ جھینپ سی گئی تھی….
دعا کے بعد وہ اٹھ کھڑی ہوئی…
تاڑو.انسانِ…اسنے دل میں اسے نیا لقب دیا.تھا….
فرحان اپنی جگہ سے اٹھا اور ڈریسنگ روم چل دیا..جب وہ لوٹا تو ہاتھ میں.ایک شوپنگ بیگ تھا…
نمرہ بیڈ کی چادر درست کرتی سونے کی تیاری کر رہی تھی..
فرحان نے وہ اسکی جانب بڑھا دیا…
یہ کیا ہے؟ اسنے دوپٹہ ٹھیک کرتے سوال کیا تھا…
خود دیکھ لو…
اسنے اسکا چہرہ نظروں.میں لیتے کہا تھا…ِنمرہ نے چادر چھوڑ کر سوالیہ نگاہوں سے شاپنگ بیگ تھام.لیا جس پر لندن کی کسی شسپ کا ایڈریس تھا….
کھول کر دیکھا تو کالے رنگ کا.کچھ تھا..
نمرہ نے سارا ان پیک کیا تو وہ ایک خوبصورت. ویسٹرن سٹائل لونگ فراک تھا…
جس.کے باڑو.اور کندھے. اور پیچھے کا تھوڑا سا.حسہ باریک جالی.کا تھا…جالی.پر خوبصورت سلور نگینے.لگے تھے… باڈی سے فٹنگ میں تھا جبکہ پیٹ سے نیچے کافی گجر دار فراک.تھا….
اسکی.نظروں.میں ستائش ابھری تھی… بے شک.وہ کافی خوبصورت اور.سٹائلش.ڈریس تھا…..
یہ …یہ.کس کے.لیے؟؟
اسنے.سوال کیا…
تمہارے لیے…
فرحان.دو.قدم کا.فاصلہ طہ.کرتا اسکے.سر.ہر آن.کھڑا.ہوا تھا…
ایک دم.نمرہ کے.دل کی.دھڑکن.بڑھی تھی…
But i dont wear such dresses!
نمرہ نے اسکے باریک جالی.دار کندھے اور بازو.دیکھ.کر.کہا.تھا…
I know!
فرحان.نے.جواب.دیا…تو.اسکو.حیرت ہوئی کہ اگر وہ جانتا ہے تو لایا.ہی.کیوں؟؟؟
لیکن.میرے سامنے تو.پہن.سکتی ئو.نا…
آگے کو.جھک کر اسنے نمرہ کی.گردن.جو.فوکس.میں.رکھ.کر.کہا.تھا..
جبکہ.اسکا ائسے کہنے سے اور.نظروں.کو.خود پر محسوس کر.کے وہ لال سی ہوئی تھی…
وہ انکے درمیان.رشتے کی.نوعیت.سے آگاہ کر ہا تھا.شاید اسکو …کہ تبھی تو اپنے سامنے وہ ڈریس پہننے کا کہا تھا…
نمرہ کو.سمجھ.نا آیا وہ اب کیا.جواب.دے…
میں…نہی.پہن.سکتی..کسی کے سامنے.بھی…
اسنی.صاف انکار کیا.تھا…
ڈونٹ وری ابھی پہننے.کا.نہی.کہا…یہ.تم.تب.پہننا جب.تمہارا دل.کرے …. جب تم مجھے.معاف کر چکی.ہو…
جب.تمہارا دل.میرے.لیے دھڑکنے.لگے… جب تمہیں لگے تم میرے.لیے *ایسا*.ڈریس پہن.سکتی ہو…
فرحان اسکے.کان کی.لو.کو.ہلکے.سے چھوتا بول.رہا تھا یا.کوئی فسوں.پھونک رہا تھا…
نمرہ.کا.دل یک دم چیخنے لگا تھا بے تحاشا زور سے دھڑکنے.لگا تھا…جیسے باہر آنے کو بے تاب.ہو….
اسنے گھبرا کر.دو.قدم.پیچھے ہونا.چاہا.مگر پیچھے بیڈ تھا…
ایک.دم.پیڈ کے ساتھ تانگیں.ٹکرائیں اور وہ اس پر گرنے ہی لگی تھی.کہ اسکی نازک.کمر کے.گرد اہنا مضبوط ہاتھ ڈالے.فرحان.نے اسے تھام لیا تھا…
سنے.پہلے.بھوکھلا.کر بیڈ.کو.پھر.خود.پر.کسی حد تک جھکے فرحان.کو دیکھا تھا…
آرام.سے مسسز!
انکھوں.میں.شرارت.نمایاں.تھی…
چھوڑیں.پلیز..
نمرہ.نے ایک دم خودکو آزادکرواناچاہا تھا…
فرحان.نے آہستہ سے سیدھا.کر.کے اسے آزاد.کیا.تھا…
اسنے جلدی.جکدی ڈریس واپس.شاپنگ بیگ میں.ٹھونسا تھا اور اسے اٹھائے ڈریسنگ روم.کی.جانب لپکی. تھی
اسکی تیزی دیکھ.کر.فرحان مسکرانے پر مجبور.ہو.گیا…
کیونکہ وہ.دیکھ رہا تھا وہ اس سے گھبرانے لگی تھی… وہ قریب جاتا تو اسکی.زبان.لڑکھڑانے.لگتی تھی..اسکا اعتماد کہیں ہوا.ہونے.لگتا تھا…
وہ جو پہلے اسے جنگلی بلی بن کر کاٹنے کو.دوڑتی تھی اب جیسے جھینپ جاتی تھی…
دس منٹ بعد وہ اس امید سے لوٹی کہ شاید وہ سو چکا ہو گاِ..
بیڈ کی دوسری جانب آکر بلینکٹ سیدھا کیا پھر دوپٹہ اتارا اور بالوں سے کیچر نکالتی تو ایک طرف کھسک کر لیٹ گئی تھی…
_______
ایمن.کی.شادی قریب آرہی تھی… تین دن بعد اسکی مہندی تھی..نمرہ کو اپنی تیاری مکمل.کرنی تھی….کیونکہ مہندی اور بارات تو اسلام آباد میں ہی منعقد کی گئی تھی مگر ولیمہ اسکے گاؤں جا کر ہونا تھا.
اسنے فرحان, برہان, اشعر عریبہ امنہ بیگم ملک.وجاہت سب.کو.خصوصی دعوت دی تھی…
نمرہ کو تو ویسے بھی پہلے جانا ہی تھا..فرحان تین چار دن.لگاتار آفس سے آف نہی کر سکتا تھا..سارا برڈن ورنہ برہان.پر آجانا تھا..اب تو.اشعر واپس آچکا تھا مگر پہلے اسکی غیر موجودگی اور.پھر فرحان کے بھی لندن کے ٹور کو لمبا کر دینا , اس سب کے دوران برہان.نے.ہی زمہداری سے آفس.سنبھالا تھا…
ورنہ فرحان اس پر کام کا زیادہ بوجھ ہرگز نا.ڈالتا تھا…
لہذا طہ.یہ پایا کہ فرحان.بارات والے دن.نمرہ کو جوائن.کرے گا جبکہ برہان, اشعر اور.عریبہ
ایمن.کے اصرار اور.ہر خلوص دعوت پر ولیمہ پر جانے کو راضہ ہو.گئے…
لہذا ان.سب.نے.ولیمے والے دن.جانا تھا.اور.پھر فرحان اور.نمرہ بھی انکے ساتھ ہی.لوٹ آئیں.گے…
صرف تین.دن بچے تھے.. بارات اور ولیمے کے لیے اسنے ایمن.کی شاپنگ کے دوران.ہی جوڑا.لے.لیا تھا… مہندی کا ڈریس.باقی تھا…
اسنے سوچا.کوئی اچھا سا.ڈریس.آن.لائن آرڈر کر لے…
مگر پھر دیکھا اور.بھی.کچھ چیزیں چاہیے تھیں…سو اسنے خود جانے کا سوچا تھا…
اسنے چیزوں کی.لسٹ بنائی …
پھر بیگ چیک کیا تو اسے ایک دم.شدید.پریشانی نے آن.کھیرا تھا.کیونکہ اسکے بیگ میں.گنے چنے دو.ڈھائی.ہزار روپے ہی ہڑے تھے جبکہ.اسکو.اس.وقت زیادہ چاہیے تھے…
اسے سمجھ.نا.آئی اب کیا.کرے…
فرحان.سے.مانگوں؟؟ اسنے.سوچا تھا
ظاہر.ہے.
جواب.آیا.تھا..
نہی ..میں.کیوں.ئاتھ پھیلاؤں…
پھر سے سوچ آئی…
جب سے شادی ہوئئ تھی اسکے پاس شادی پر ملنے والے کافی پیسے.تھے …پھر جب بھی شاپنگ پر گئی اسکے ہاس.ہوتے تھے…
کیونکہ فرحان.نے.بغیر.مانگے ہی اسکے.بیگ میں.میں.دو.تین.بار کئی.کئی.ہزار رکھ.دیئے تھے….
اب اسکا خیال تھا کہ جلد ہی ہاؤس جاب شروع ہو جائے گی تو اسکی تنخواہ بھی شروع ہو جائے گی تب اسے فرحان کا محتاج بھی نہی رہنا پڑے گا…
مگر فلحال مسئلہ یہ تھا کہ.نا ابھی رزلٹ آیا تھا کہ.ہاؤس جاب شروع ہوتی نا وہ فرحان سے مانگنے کی روادار تھی….ِ
پہلے سوچا گھر سے مانگ لے مگر پھر خود ہی خیال جھٹک دیا….
شدید غصہ آنے لگا تھا اسکو.اپنی بے بسی پر….ایسا وقت بھی آنا تھا کہ چند روپیوں کے لیے وہ دوسروں کی محتاج ہو…
اسی.اسنا میں دوبارہ اسنے اپنابیگ کھنگالا کہ شاید کہیں سے کچھ نکل آئے..مگر بے سود…
ابھی وہ یہ کر ہی رہی تھی کہ بیگ کے اندر کی.جیب میں ہاتھ ڈالا تو اسے انگوٹھی ملی..نکال کر دیکھا تو وہ وہی سونے کی
Bff
والی انگوٹھی تھی جو ولیمے والے دن مقدس اور ایمن.مے.گفٹ کی تھی…
ایک دم اسکے ذہن.نے کام کیا تھا…مگر پھر خود ہی.اسنے یہ.خیال جھٹک دیا.کیونکہ اس تحفے میں.ان دونوں.کا خلوص تھا…
مگر اور کرتی بھی کیا…خیال گہرا ہونے لگا.تھا…
دوست ہی تو مشکل میں کام آتے ہیں…
اسنے خود کو تسلی دی…
وقت دیکھا تو گیارہ بج رہے تھے….
نیچے تالیہ اور اسکی امی بھی موجود تھے..انکو آئے دو دن.گزر چکے تھے..صد چکر گھر میں کوئی بد مزگی نہی ہوئی تھی…
انگوٹھی کو اسنے بیگ سے نکالا.اور انگلی میں ڈالے اسنے ایک نگاہ اپنے سراپے پر ڈالی
براؤن شارٹ شرٹ جس کے باڈر اور بازو پر سرخ پھولوں.کی کڑھائی تھی ..شرٹ گھٹنوں.سے ذرا اوپر آتی تھی…اس کے نیچے کھلی گھیردار شلوارِ…
دوپٹہ سر ہر ٹکائے, نازک پاؤں میں سرخ رنگ کے کھسے اڑسائے , بیگ اٹھائے و
ہ روم سے نکلی تھی…لاؤنج میں.گئی تو امروزیہ بیگم اپنے کمرے سے نکل رہی تھیں…
امی میں کچھ شاپنگ کرنے جا رہی ہوں..ایمن.کی مہندی کا ڈریس.بھی.رہتا ہے…
اسنے انکو بتایا تھا…
چلو سہی ہے…بلکہ فرحان کو کال.کر لو وہ لے جائے گا..
انھوں نے کہا تھا…
ابھی انھوں نے کہا ہی تھا کہ فرحان لاؤنج میں.داخل ئوا…حالانکہ یہ اسکی آمد کا.وقت تو نا.تھا..
لو.فرحان آگیا..
انھوں.نے.بیٹے کو.دیکھ کر مسکرا کر کہا تھا جبکہ نمرہ کا دل کیا بیٹھ کر رونے.لگ جائے..
وہ پہکے جیولر کے پاس جا کر انگوٹھی بیچنے کا ارادہ رکھتی تھی مگر.پھر اسکو یاد آیا کہ اگر اپنی گاڑی میں گئی تو فیول کا خرچہ بھی ہو جائے گا..سو یہی بہتر تھا وہ مان.جاتی..
کہاں.کی تیاری ہے؟؟
فرحان.نے.سوال کیا تھا
بیٹا نمرہ نے کچھ شاپنگ کرنی ہے تم لے جاؤ..
آمنہ بیگم.نے بیٹے ہو حکم دیا تھا..
اسنے.سر.خم.کرنے کے انداز میں.حامی.بھر لی..
رضیہ بیگم جو لاؤنج میں آئی تھیں.ےہ سین.دیکھ کر انکی آنکھوں.میں.چبھن ئوئی تھی
فرحان.نمرہ کو ساتھ لیے نکل چکا تھا…سارے
راستے یہی سوچتی آئی تھی ہ فرحان کے بغیر اسے جیولری شاپ جانا ہو گا…بار بار انگلی میں موجود انگوٹھی کو وہ دیکھتی پھر گھماتی کبھی اتارنے.کے سے انداز میں.اوپر لاتی پھر واپس نیچے کرتی…
فرحان.نے.بغور اسکی حرکت دیکھی تھی جو بیچینی سے انگوٹھی کو ہی نشانہ بنا.رہی تھی…
مال.کے سامنے گاڑی روکی تو نمرہ اس سے مخاطب ہوئی…
آپ ویٹ کریں.میں آتی ہوں..
میں.چلتا ہوں.تمہارے ساتھ…
فرحان.نے.کار آف کرتے ئوئے کہا تھا..
نن.نہی.نہی..میں.بس.آجاؤنگی ابھی..پھر شاپنگ کروں.گی..تو ساتھ جائیں.گے…
وہ ایک.دم.بوکھلائی اور پھر کہجہ شیریں.کرتی بولی تھی..
اتنے.میں.فرحان.کا فون.بج.اٹھا تھا..
Its important. .i have to take this.
فرحان نے موبائل سکرین دیکھ کر کہا تھا…اور نمرہ نے جیسے شکر کا.سانس.لیا..
Sure..u can..i will be back in no time…
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *