Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode47

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode47

اسنے موقعے کا.فائدہ اٹھایا.اور کار کا دروازہ کھولے فوراً نکلی تھی…
اندر جا کر وہ بیسمنٹ میں گئی جہاں.جیولری شاپس تھیں…
اور جلدی جلدی انگوٹھی کی قیمت لگوائی..
بلآخر اکیس ہزار پر فائنل کر کے اسنے رقم.لی اور بیگ میں ڈال کر نکل.آئی…
فرحان.اسی کا انتظار کر رہا تھا…
نمرہ کار میں.بیٹھی اور اسے رابی سینٹر جانے کا کہا تھا…
فرحان.نے اسکی شکل.دیکھی تو ومرنگت تھوڑی اڑی اڑی تھی..
اسکو اجھنپا ہوا مگر کہا کچھ نہی…
نمرہ نے سامنے ڈیش بورڈ سے ٹیشو اٹھانے کے لیے ہاتھ بڑھایا اور غیر اردی طور پر فرحان.کی.نگاہ اسکی انگلی پر گئی تھی جہاں.آتے ہوئے انگوٹھی تھی مگر اب وہ خالی تھی…
اسے ایک دم حیرت ہوئی اور اگلے لمحے اسکے تیزی سے حرجت کرتے دماغ میں.جو خیال آیا تھا وہ اسے کار روکبے پر مجبور کر گیا…ِنمرہ کے فرشتوں کو.بھی خبر نا تھی کہ وہ اتنے غور سے اسکی ایک ایک چیز کا جائزہ لیتا ہو گا…
Where’s your ring??
فرحان.نے ابرو اچکا.جر پوچھا تھا
کیونکہ فلحال.وہ خیال صرف خیال.بن کر ذہن میں.ابھرا تھا…ابھی تصدیق نہی ہوئی تھی…
نمرہ کا.بڑھا ہوا.ہاتھ ایک لمحے ساکت ہوا تھا..وہ جیسے اپنی جگہ پر منجمد ہو گئی تھی..
اسنے ہاتھ پیچھے کھسکا کر فوراً دوپٹے کے نیچے.کیا..
کون سی رنگ؟؟
کہجہ مضبوط کرنے کی نہایت ہی ناکام کوشش کی گئی تھی…
اسکا لہجہ اور زرد پڑتی رنگت فرحان کا شک یقین میں.بدل گئی تھی…
ایک دم غصے سے فرحان.نے ہاتھ بڑھا کر اسکا نازک ہاتھ دوپٹے کے نیچے سے پکڑ کر اوپر کھینچا تھا..
جو اس انگلی میں.تھی ابھی…
فرحان.نے.انگلی پجڑ کر اس سے پوچھا…
یعنی وہ دیکھ چکا تھا..نمرہ کو سمجھ نا آیا کیا کہے اب وہ..
وہ ..بےگ میں ڈال دی…
اسنے صفائی سے جھوٹ بولنا چاہا.تھا…
اچھا.نکالو…
فرحان نے جیسے سختی سے حکم دیا تھا ساتھ دلچسپی سے اسکی حرکت دیکھنے لگا…
نمرہ کا رنگ ایک دم سفید پڑا تھا..اب کہاں سے نکالے وہ…اور اسے کیا آن.پڑی تھی اس انگوٹھی کی…
گھر جا کر ..
اسنے ٹالنا چاہا..
I said take it out
فرحان نے.اسکا ہاتھ دبوچ کر غصے سے کہا تھا…
وہ ایک دم.تھوڑا.پیچھے کھسکی تھی…
نمرہ نے بیگ کھول کر.ٹٹولا.تھا..
مگر وہ بھی جان.گیا تھا وہاں.سے کچھ نہی نکلنا.تھا..
ہو گی تو.نکلے گی نا..
فرحان.نے.بیگ اس سے ایک دم چھیننے کے سے.انداز.میں.لیا تھاِ.
اندر ہزار ہزار کے.کافی.نوٹ تھے جو ابھی وہ ڈال.کر لائی تھی…انکی حالت بتا رہی تھی کہ ابھی انکو دالا.گیا تھا
رنگ کہاں.ہے.نمرہ؟؟
اب کی بار وہ.کافی سخت ہو.اتھا
مگر وہ خاموش.رہی..
کہاں.بیچ کر آئی ئو؟؟
فرحان.نے دوبارہ اسکی.کلائی دبوچی تھی..
اسنے حیرت سے فرحان.کو.دیکھا تھا..اسکو.کیسے پتا چلا..
جبکہ وہ.اسکی آنکھوں.کی.حیرت ایک لمحے میں سمجھ گیا تھا..
میں نے ہوچھا کہاں بیچ.کر آئی ئو؟؟
وہ.دھاڑ اٹھاتھا…
وہ مزید دروازے سے لگی تھی مگر جواب.نا.دیا..
جھٹ سے کار کو ریورس.کیا..دو.منٹ کے.بعد.وہ مال.کے سامنے.تھے..
بغیر کچھ کہے وہ.گاڑی سے اتراِ..
اور.دوسری جانب آکر اسکا.دروازہ کھول کر ایک.دم اسکو.باہر نکالا.تھا..
یہ کیا کر رہے.ہیں..
نمرہ نے رعب دالنے کی ناکام کوشش کی.کہ.شاید وہ چپ.ہو جائے…
فوراً شاپ پر چلو جہاں.رنگ دے کر آئی ہو..ورنہ میں.وہ بھی کروں.گا جو.تم.سوچ نہی سکتی..
اسنے اسے اپنی طرف جھٹکے سے کھینچا تھا..وہ سیدھا.اسکے.سینے سے آن.ٹکرائی تھی…
فرحان.کی آنکھوں.کا غضب دیکھ کر اسکی جان.ئوا.ہونے.لگی تھی..
تم چل.رہی ہو یا اٹھا.نا پڑے گا مجھے..
فرحان.نے اسے ہنوز.کھڑا پا کر کہا تھا…
اسکی بات نمرہ کو قدم اتھانے.پر.مجبور.کر گئی کیونکہ کچھ بعید نا.تھا وہ پنا کہا سچ کر دیکھاتا…جس کا ایک ٹریلر وہ لندن میں.دیکھ چکی تھی جب کسی کی پرواہ کئیے بغیر اسے باہوں.میں.بھاتا وہ گاڑی میں.لے آیا تھا…
مرتی کیا نا کرتی لاچار قدم ٹھاتی.وہ چل دی..
کلئی مسلسل مضبوط گرفت میں.تھی..
آزاد کروانا چاہی تو گرفت میں.مزید سختی آگئی…
وہ اسے شاپ میں.لے آئی جہاں کچھ دیر پہلے وہ رنگ بیچ کر گئی تھی…
انگوٹھی واپس دو جو ابھی بیچ کر گئی ہیں.یہ…
فرحان.سیدھا جیولر سے مخاطب ہوا…
پر وہ تو.بک گئی…
اسنے فوراً صفائی سے جھوٹ بولا..
میں نے کہا رنگ نکالو فوراً. ..
اب کی بار دبے دبے غصے میں.چلایا تھا..
سیلز مین پہلے ہی اسکی سحر انگیز پرسنیلٹی سے کافی متاثر ہو چکا تھا..اوپر سے یہ لہجہ اور دبدبہ…
اب وہ میری چیز ہے…میں قیمت ادا کر چکا ہوں..آپکو واپس چاہیے تو خریدنی پڑے گی..
فرحان کا حلیہ اسے یہ تو بتا چکا تھا وہ اچھی اسامی تھا… مہنگے کپڑے , جوتے ہاتھ میں راڈو کی قیمتی گھڑی
اسنے اپنی دال گلانا چاہی…
جتنی قیمت چاہیے مانگو مگر رنگ واپس جرو ابھی…
اسنے رعب دار لہجے میں.کہا تھا…وہ چپ چاپ ساتھ کھڑی تھی…
اور پھر وہ انگوٹھی جس کے بڑی مشکلوں.سے سیلز مین.نے پئکے اکیس ہزار دیئے تھے..فرحان.کو.پورے بتیس میں.بیچی تھی..
نمرہ کا تومنہ کھل گیا اسکی قیمت اتنی زیادہ سن.کر مگر فرحان.نے فوراً والٹ سے پانچ پانچ ہزار کے سات نوٹ نکال.کر اسکے.منہ پر مارے اور رنگ اٹھاتا .اسے ساتھ لیتا چل دیا..
گاڑی کا فرنٹ ڈور کھول کر غصے میں.اسے اندر کو بٹھایا..
پھر دوسری جانب آکر کار سٹارٹ کی…اور چل.دیا..
نمرہ نے کچھ.نا کہا تھا…
آگے جا کر خاموش جگہ ہر کار ایک.طرف کر کے روکی تھی…
اس حرکت کی وجہ جان سکتا ہوں!!!
سامنے دیکھتے ہوئے اس نےپوچھا تھا..
جواب نا پا کر وہ اسکی جانب مڑا تھا…
Say something dammit! Why u did that? ?
وہ اس پر چیخا تھا…اور یہیں پر نمرہ کا ضبط ختم…
وہ بھی ایک دم ذرا اونچا.بول آتھی..
ہاں.بیچی تھی.میں.نے…کیونکہ پیسے چاہیے تھے مجھے…
اور میری چیز ہے میری مرضی میں رکھوں یا بیچوں…
آخری بات کہتے وہ دوبارہ رخ موڑ کر سامنے دیکھنے لگی..
تو تم مجھ سے مانگ سکتی تھی نا…کتنے پیسے چاہیے تھے آخر جو رنگ ہی بیچبی پڑ گئی؟؟
وہی لہجہ قائم تھا…
زیادہ پیسے چاہیے تھے…
نمرہ.نے سامنے دیکھتے ہی جواب دیا…
جیسے یہ رنگ تو.تمہیں.لاکھوں.دے گئی…
فرحان.نے.کہا تھا…
اور کتنے زئادہ آخر..پچاس ہزار یا.لاکھ یا دو لاکھ..
تم.مانگ سکتی تھی نا..
اب کی بار اسکا شانا.تھام.کر ایک دم.اسکا رخ اپنی جانب موڑ کر کہا تھا…
کیوں.مانگتی میں آپ سے؟؟ میں.کیوں.ہاتھ پھیلاؤں کسی کے اگے ؟؟؟
اب.میں پیسے بھی مانگتی پھروںِ….
میں.مے.کبھی اپنے گھر.میں.بھی کسی سے.پیسے نہی.مانگے..
اسنےسفاکی.سے کہا.تھا جبکہ.آخری.بات کرتے اسکی آواز.ذرا رندھ گئی تھی…
وہ شادی سے پہکے بھی خود.نا.مانگتی تھی…اسے پیسے خود.ہی مل جاتے اور.کچھ عرصہ لگاتار اسنے ٹیوشنز پڑھائیں.تو اسے پھر.ضرورت بھی محسوس نا.ہوئی تھی.
تبھی اب فرھان.سے.مانگنے میں.اسکو. ذلت سی لگی تھی….جیسے وہ کسی کی.محتاج ہو.گئی ئو…جو کہ.اسکو.گوارہ نا.تھا…
وہ ہمیشہ.سے خودمختار.بننا.چاہتی تھی نا.کہ.کسی دوسرے پر انحصار کرنے والی
فرحان نے بے بس سی نگاہ اس پر ڈالی تھی…
یعنی اس.سے پیسے مانگنے.میں.اسکو.اپنی محتاجی لگ رہی تھی..جبکہ وہ.اسکا شوہر تھا..اسکا کفیل…اسکا.سر.پرست…اسکی زمہ.داری.تھی وہ…
اور نمرہ کی.ہر ضرورت پوری کرنے کا.ذمہ.دار تھا وہ…
اور.پھر اسکو.خود.ہر.ہی غصہ آیا..
واقعی.وہ.کوتاہی کر گیا تھا اپنی.ذمہ داری مین… اسے خود.اس.چیز.کا.دھیان.رکھنا.چاہیے تھا..اگر وہ خود.نہی بھی.مانگ رہی تو پھر بھی اسے دینے چاہیے تھے اسکو پیسے..اسکی بھی اہنی ضروریات تھیں…اور ہر چیز کے لیے وہ بار بار ہاتھ نہی پھیلا سکتی تھی..جبکہ وہ جانتا تھا ابھی اسکی ہاؤس جاب بھی شروع نا ہوئی تھی کہ اسکی اپنی تنخواہ ہوتی..
اور اگر ہوتی بھی تو فرحان.کو.اپنی زمئ داری پھر بھی پوری کرنی تھی…
کتنی بڑی غلطی کر دی اسنے… اس بار بھی اسکو.بغیر کہے اسے پیسے دے دینا چاہیے تھے کیانکہ کافی دن.گزر چکے تھے…
اسے اب اندازہ ہو رہا تھا اور پچھتاوا بھی…
اسنے تاسف سے نمرہ کو دیکھا…
اوکے ائی ایم.سوری..مجھے دھیان.رکھنا چاہیے تھا.
..ِفرحان.نے اسکا.ہاتھ تھاما تھا…
جبکہ.نمرہ.نے نمی بھری آنکھوں.سے اسے دیجھا تھا…
آپ نے.مجھے ڈانٹا…
معصوم.سی شکایت آئی تھی…
نا چاہتے ہوئے بھی وہ ہلکا سا مسکرا دیا…
اب نہی ڈانٹوں.گا…ِ
اسنے جیسے یقین.دلایا جبکہ.اسکی مسکراہٹ پر نمرہ کی.نگاہ پڑ گئی..
وہ ایک دم.ہی چڑ گئی تھی…اور ہاتھ اسکے ہاتھ سے کھینچا تھا…
آپ مئری انسلٹ کر کے ہنس رہے ہیں..خوش ہو رہے ہیںِ.
وہ ایک.دم.بپھری تھیِ..
انسلٹ کب کی یار؟؟ ِ
فرحان.نے.حیرت سے پوچھا تھا..
اتنی زور سے ئاتھ پکڑا میرا..اتنی.درد ہو.رہی تھی..پھر چیخے بھی…
اسنے شکوہ کیا تھا..ناجانے.کیوں.وہ حساس.ہوئی تھی..
شاید پیسوں.والی بات اسکو.احساس کمتری میں.ڈال.گئی تھی..
او..
فرحان.نے منہ سے O بنا کر کہا.تھا..
ادھر دکھاؤ.ِ
اسنے.ہاتھ بڑھا.کر.اسکی.کلائی تھامی تھی..جبکہ.وہ.کسی چھوٹی بچی.کی طرح روٹھی بیٹھی تھی..
نمرہ کی.کلائی.اسکے ہاتھ میں.آئی تو نمرہ.مے.واپس نا کھینچی تھی..
فرحان.نے.بغور اسکی مرمریں.کلائی.دیکھی..
گورے نرم.بازو.کی نازک.سی.کلائی.جو.سفید سے کسی.حد.تک.لال ہو.چکی تھی
اسنے آہستہ سے اسکی.کلائی.سہلائی.تھی…
اور اگلے.لمحے اسے اوپر کر کے اپنے عنابی لب.اسکی.کلائی پر رکھ چھوڑے تھے…
نمرہ کو ایک.دم.جیسے کرنٹ لگا تھا…
وہ.دبک.کر.پیچھے ہوئی تھی…جبکہ کلائی اسکی گرفت سے آزاد نا.ہو.پائی.تھی…ِ
فرحان نے.لب ہٹائے تو پھر سے اسنے کلائی.کھینچی.تھی جو اب.ازاد.ئو.گئی..
فرحان.نے اسکا طہرہ دیکھا تھا جو لال ہونے.لگا تھا…
اور اگلے لمحے کچھ کہے بغیر وہ اگے ہوا اور اسکا گال اپنے لبوں.سے چھو لیا تھا…
وہ اسے پل.پل حیران.اور خود میں.سمٹنے پر مجبور کر رہا تھا…
گال چوم.کر وہ واپس اپنی سیٹ پر سیدھا.ہوا تو نمرہ کا.چہرہ دیکھا. .
اسے دیکھتا پا کر وہ اوپر نیچے آنکھیں گھمانے لگی جیسے بہت مصروف ہو..
اسکی حرکت پر دوبارہ اسے ہنسی آئی تھی…
جو.وہ بڑی جلدی سے دبا.گیا…
ورنہ بعید نا.تھا.پھر سے شکوہ آجاتا.محترمہ کا…
کدھر چلنا.ہے پہلے ؟؟
فرحان نے.کار سٹارٹ کر کے پوچھا تھا
گھر …
سیدھا جواب آیا تھا..
فرحان.نے حیرت سے اسے دیکھا.تھا…
شاپنگ کے لیے پوچھا ئے…
اسنے.بتانا.ضروری سمجھا..
موڈ نہی میرا…
نمرہ نے جواب دیا…
مگر میرا تو ہے اب…
اسنے اسے بتایا.تھا…
تو آپ کر لیں …
نمرئ نے جان چھڑائی…ِِ
اوکے…
اسنے جواب دیا.ِتو نمرہ کو تھوڑا غصہ آیا مگر چھپا گئی…
یعنی انھوں.نے کہا بھی نہی.کہ.تم.ساتھ چلوِِتمہیں بھی تو.کرنی ہے..
اسنے غم سے سوچا تھا…
ایک نامورلیڈیز بوتیک کے آگے گاڑی روک کر وہ نکلا اور اندر چل.دیا..
وہ کار میں.بیٹھ کر گھلنے لگی تھی….
ہائے میرا سوٹ..کیا پہنوں گی مہندی پر…اس کے بعد تو ٹائم.بھی نہی بچنا لینے کا…
اسے دکھ ہونے لگا..
تقریباً آٹھ دس منٹ بعد وہ باہر آیا ہاتھ میں شاپنگ بیگ تھا…
گاڑی میں آکر نمرہ کی گود میں.رکھا.تھا…
اسنے پہکے فرحان.کو دیکھا پھر بیگ کو…
تمئارے لیے.ہے…
فرحان.نے سامنے.دیکھتے ہوئے جواب دیا…
اسنے بیگ میں.جھانکا تو خوبصورت یلو,اورنج, گرین,پرپل اور فیروزی کے.امتزاج کا کوئی ڈریس تھا جو.مہندی کے لحاظ سے پرفیکٹ تھا….
کسی حد تک بالکل ویسا.ہی جیسا اسنے چار سال پہلے ایک لہنگا لیا تھا گاؤں میں.ہونے والی شادی پر پہننے کے لیے اور اس دن فرحان.نے پہلی بار اسے اس.لہنگا چولی میں.دیکھا.تھا اور دل ہار.بیٹھا تھا..مگر یہ صرف وہ جانتا تھا
نمرہ.نہی…ِنا.اسنے بتایا تھا کبھی…
کپڑوں.کے ساتھ ایک شو بکس بھی تھا اور ایک مخملی.ڈبیا بھی…
نمرہ مے ڈبیا کھولی تو اس میں بہت پیارے بندے تھے….ِسیدھے لمبے کمبے بندے…
یعنی بیٹھے بٹھائے ساری مشکل ہی آسان.ہو چکی تھی…
اسنے.سکون.کا.سانس.لیا…اور.ایک.نظر.فرحان.کو.دیکھا جو بظاہر ڈرائیور کر.رہا تھا.مگر توجہ اسی پر تھی…
وہ واقعی اپنے کہے کا.پاس.رکھ رہا تھا..ایک اچھا شوہر ثابت ہو.رہا.تھا…
U wanna say thanks?
اسے خود.کو.دیکھتا ہا کر فرحان.نے.شرارت.سے پوچھا تھا..
جبکہ.اپنی چوری پکڑے جانے پر وہ ایک دم.شرمندہ.ئوئی تھی..
جی.نہی..ائسی کوئی بات نہی..
نمرہ.نے.فوراً جواب.دیا…
یہ تو اپکا فرض تھا….
نمرہ.نے پہلی بار جتایا تھا…
فرحان.نے چونک.کر اسے دیکھا تھا…
یعنی.محترمہ کو اپنے حقوق کو پتہ چلنے لگے ہیں مگر فرآئض نہی…
وہ بڑبڑایا تھا…
ڈارلنگ پھر تو تمہارے بھی کچھ فرائض ہیں.نا…
فرحان.نے کافی معنی.خیزی سے کہا تھا جو ککھ نمرہ کے پلے نا پڑا تھا…
کونسے فرائض ؟؟؟
معصومیت سے سوال آیا تھا…
کچھ نہی…کبھی فرصت سے سمجھاؤں.گاِ…..
خاصی معنی خیزی سے کہتا.وہ.ڈرائیونگ پر اپنی توجہ مرکوز کر.چکا تھا.ِ
جبکہ وہ سر ہلا کر رہ گئی..
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
دو دن.کیسے گزرے پتا ہی نا چلا…
اس دوران رضیہ بیگم.اور تالیہ بھی اپنا مطلب نکال کر دوبارہ آنے کا.کہہ کر واپس جا چکی تھیں…انھوں.نے ملک.وجاہت سے سرمایہ مانگا تھا..ِبقول انکے وہ کوئی بزنس.شروع کرنا.چاہتے تھے جس کے لیے سرمایہ درکار تھا…بالآخر پیسے ملنے کا سن.کر.تالیہ نے اپنی نوتیک کھولنے کا بتایا تھا…
اور اب اپنے سرمائے کو استعمال کرنے وہ چل.دیں.تھیں…
کل ایمن کی.مہندی تھی اور.آج.اسے جانا.تھا…
اپنی گاڑی پر آج.وہ خود ہی آ.گئی تھی کیونکہ بعد.میں سب نے آنا.تھا اہنی گاڑیوں.پر…
فرحان.نے بھی ولیمے میں.ہی آنے کا.کہا.تھا…
گھر آکر وہ شام میں.ایمن.کے ہاس ہی چل.دی..رات اسنے.اور.مقدس.نے وہیں.رکنا تھا……
ایمن.کے.گھر ڈھولکی.رکھی گئی تھی…..
رات دیر تک رونق.لگی رہی…بالآخر دو.بجے.وہ لوگ سونے کے لیے اٹھ.کھڑی ہوئی تھیں…
ایمن.کے.کمرے میں.آکر سب.نے.چینج.کیا.
نماز.وہ ڈھولکی شروع ہوتے ہی پہلے پڑھ چکی تھیں…
تینوں نیند سے چور اسکے ڈبل.بیڈ پر لیٹی تھیں… ایمن.اور نمرہ کو نیند ستا رہی تھی مگر مقدس کی باتیں ختم ہونے کا نام ہی نہی لے رہی تھیں…
یار میں.سوچتی ہوں شادی کر کے ملتا ہی کیا ہے ؟؟؟ الٹا مسئلوں میں اضافہ ہو جاتا ہے…اپنے ساتھ ساتھ ایک اور بندہ متھے مار لو…. اپنا کام ہوتا نہی کہ اسکا.بھی کرو…
اسنے منہ.بنا.کر کہا تھا..
مقی تو اتنی.کام چور کیوں.ہے …
ایمن.نے کروٹ لے کر کہا تھا…
ویسے جو بھی ہے..بندہ ایک انسان.کے ساتھ ساری زندگی کیسے گزارتا ہو گا..تھک نہی جاتا ایک ہی شکل دیکھ دیکھ کر😐
اپنے گھر میں تو.یہ ہوتا کہ چلو شادی ہو گی تو چلے جائیں.گے..ادھر جا کر تو یہ.بات بھی نہی رہتی….
اسنے بے زاری سے پھر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا..
نمرہ جو.شدید نیند سے غوطے کھا رہی تھی ..بول اٹھی..
مقی میری جان..یہ بات تو کسی دن اپنی اماں جان.سے پوچھنا کہ” ساری” زندگی کیسے گزار دی ایک ہی شکل کے ساتھ… چھ بچے پیدا کر کے…
اوکے…
آئی ایم شور جتنا اچھا.جواب وہ دیں.گی نا.میں یا ایمن نہی دے سکتے تجھے…
نمرہ نے ساری کو خاصا لمبا کر کے کہا تھا…
جبکہ اسکا جواب سن کر ایمن.کا بے ساختہ قہقہہ بلند ئوا..
جبکہ.مقدس.نے.نمرہ کو کہنی ماری تھی..
دفا ہو.ِوہ تو چھتر 👠 اٹھا.کر بتائیں.گی..ادھر آ تو بتاتی ہوں…
جواب آیا تھا..
ئاں تو میری جان ایسے سوال.کرتی ہی کیوں.ہیں جن سے چھتر پڑنے کا خدشا ہو…
اب سو.مر جا اور ہمیں بھی بخش دے…
نمرہ.نے ہاتھ جوڑ کر کہا اور کروٹ بدل لی.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *