Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode26

Kafs E Ana by Gohr E Nayab Shah Episode26

وہ آگے بڑھا تھا مگر تب تک.دروازے کا لاک کھولنے میں وہ کامیاب ہو چکی تھی….
وہ باہر کو بھاگی تھی…جبکہ حارث اسے پکڑنے کے چکر میں اسکی.پیچھے ہوا..اسنے ہاتھ آگے بڑھا.کر اسکو پکڑنا چاہا..اور اس کوشش میں نمرہ.کو اڑتا دوپٹہ اس کے.ہاتھ آچکا تھا…نمرہ کی.گردن.ایک دم پیچھے.کو کنھچی تھی….
اسکا دوپٹہ ایک طرف سے حارث کے ہاتھ میں تھا…اگر وہ دوپٹہ چھڑاتی تو عزت سے ہاتھ دھو بیٹھتی….
اسے فوراً گردن.کو دوپٹے سے آزاد کروا دیا تھا…اور دیوانہ وار بھاگنے.لگی….
بچاؤ…کوئی مدد کرو…
وہ حلق کے بل پوری قوت سے چلائی.تھی….اسکی پکار پورے ارشد ولا میں گونجی تھی….
وہ لگاتار چیخنے.لگی تھی.کہ کوئی اس کی آہ و زاری سن.لے….
آنسوؤں کسی ندی کی طرح آنکھوں سے رواں تھے….وہ.رو.رہی تھی ساتھ.پکار رہی تھی.ساتھ بھاگ رہی تھی….ایک پیر میں اونچی ہیل تھی جبکہ.دوسرے.پیر میں توٹا ہوا جوتا..اسے سخت مشکل ہو رہی تھی…مگر وہ کسی طرح بھاگ رہی تھی..اسی اثناء میں اسکا پاؤں مڑو تھا اور وہ پھر سے زمین بوس ہو چکی تھی…بری طرح گری تھی وہ…..لگتا تھا ہڈی توٹ گئی ئو….
مگر اسکو گرنا نہی تھا…وہ وقت نہی ضائع کر سکتی تھی..وہ درندہ اس کے بالکل پیچھے تھا..اگر وہ اس تک آجاتا اور وہ اس کے ہتھے چڑ جاتی تو وہ اسے نوچ کھاتا….
وہ ہمت کر کے دوبارہ اٹھی. …پیر مڑنے کی وجہ سے موچ اچکی تھی…شدید درد کا احساس ہوا. ..پر وہ ہمت نہیں ہار سکتی تھی. ..اگر آج ہمت ہار گئی تو پھر کبھی سر اٹھا کے جینے کی ہمت نہیں کر سکے گی…
وہ دیوانہ وار بھا گنے لگی…رو رہی تھی..چیخ رہی تھی. .!
وہ مڑ کر نہیں دیکھنا چاہتی تھی. .
بالآ خر. وہ سیڑھیوں تک پہنچ گئی. ..وہ اب بھی اس کے پیچھے تھا..وہ گر تے پڑتے سیڑھیاں اترنے لگی
اللہ رحم..
“بیشک عزت اور ذلت تیرے ہاتھ میں ہے”
اللہ. مدد….اپنی اس گناہ گار بندی کو بچا لے اپنے حبیب کے صدقے!عزت اور ذلت دینے والی ذات صرف اور صرف اس اللہ کی ہے.اگر کسی چیز کی ضرورت ہے “تو وہ ہے یقین..”یقین کامل”
خدا پر مکمل یقین..
کہتے ہیں دعا کی قبولیت کی شدط ہے یقین. .
اور بیشک خدا سننے والا مہربان ہے.
وہ پاگلوں کی طرح گرتی پڑتی سیڑھیاں اتر رہی تھی کہ ایک دم لاؤنج کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی.
کوئی آرہا تھا یا اسکا وہم تھا؟تو کیا اس کے رب نے اسکی سن لی تھی؟
دروازہ کھلا اور کسی کےتیز قدموں کی آواز سنائی دی. .یعنی آنے والا شاید اسکی چیخ و پکار سن چکا تھا.
لیکن ان بڑھتے قدموں کی آواز سے اس کے پیچھے آنے والے شخص کے قدم ڈگمگائے تھے.
وہ آخری سیڑھی اتر چکی تھی جب کوئی سامنے نمودار ھوا اور وہ بے ساختہ. دیوانہ واراس کو جا کے لپٹ گئ..اسنے یہ جاننے کی زحمت نہیں کی کہ سامنے کون ھے..کیونکہ وہ بس یہ جانتی تھی کہ اس وقت وہ شخص اس کے لیے فرشتہ ہے
وہ اس سے لپٹتے ہی سسکی..”بچا…بچائیں” اور اسکی شرٹ زور سے.مٹھیوں میں بھنچ.لی.تھی…جیسے کبھی نا چھوڑنے کا.تہہ کر لیا.ہو..جیسے اگر وہ چھوڈ دے.گی تو واپس اس کے ہاتھ لگ جائے گی….
فرحان حیرانی سے نمرہ کو دیکھتے ہوئے صورتحال سمجھنے کی کوشش کرنے لگا. ..
لمبے سیدھے بال بکھرے ہوئے, خوبصورت نازک پاؤں کی ایک. پینسل ہیل توٹی ہوئی اور دوپٹہ ؟؟؟…….وہ دوپٹے سے عاری تھی….. اسکی.اتنی.عبتر حالت دیکھ کر اسکے ذہن.میں کئی سوالات ابھرے تھے..
اتنے میں اسکی نظر یکدم اوپر اٹھی
سامنے حارث کھڑا تھا. .. چہرے پر خبیث مسکراہٹ سجائے…
.لیکن اسکو اپنی طرف دیکھتا پا کر ایک لمحے میں اس گھٹیا انسان کی مسکراہٹ غائب ہو ئی. اس کے ھاتھ میں نمرہ کا دوپٹہ دیکھ کر ایک لمحہ لگا تھا اسکو ساری بات سمجھنے میں! !!!!!!! سارے سوالوں کے جواب واضح ہو.چکے.تھے…
غصے سے اسکی رگیں تن گئیں. ..
اسکی آنکھیں یک دم بے تحاشا سرخ ہوئی تھی. …… اسکا بس نہی چلا تھا کہ وہ اس سامنے کھڑے انسان کی جان.لیے لیتا…
اسنے.مٹھیاں زور سے بھینچی تھیں. ….
اسنے نمرہ کو آرام سے خود سے الگ کر کے اپنے پیچھے کیا کہ وہ نازک سی لڑکی پوری اس کے لمبے قد اور وجہہ جسامت کے پیچھے چھپ گئی.
وہ بھرپور غصہ لیے آگے بڑھا اور لمحا لگائے بغیر سیڑھیاں چڑھتا حارث تک پہنچ گئ…
زلیل انسان!!وہ دھاڑا.
یہ تو.جانتا تھا تو.کمینہ.ہے مگر اس قدر گر جائے.گا یہ نہی.پتا تھا…. وہ اسکے گریبان سے پکر کر دھارا تھا…..اور ساتھ ایک بھرپور مکا اس کے جبڑے پر ماراِابھی وہ سنبھل نہ پایا تھا کہ اسنے مکوں اور لاتوں کی برسات کر دی..
وہ اسے پیت رہا تھا جیسے اس.پر کوئی جنون سوار ہو…اسکی پیٹ میں لگاتار اپنی.ٹانگیں مار رہا تھا ..ایسے جیسے وہ ہوش میں نا.ہو..ہر چیز سے بے گانہ ہو..جیسے وہ اسکی جان لے.کر ہی.دم لے گا..
..اسے اپنے آس پاس کی پرواہ.نا.تھی..حارث کی چیخیں اور کراہتیں شدت اختیار کرنے.کگی تھی…مگر وہ.تو جیسے سن.ہی.نا.رہا تھا…وہ.اس.وقت انسان.نہی.لگ رہا تھا..وہ.شدید وحشی ہو.رہا تھا…. وہ اسکی ایک ایک ہڈی پرکاری ضرب لگا رہا تھا…
حارث کی ناک اور.منہ.سے خون بہنے.لگا تھا…
جب اس کو پھر بھی سکون.نا ایا تو اسے.سنبھلنے کا.موقع دئیے بغیر اسنے اسکا سر پکرا اور دیوار سے دے مارا….ایک دم اس کے ہاتھ سے دوپٹہ جھپٹا اور نیچے بڑھا حارث کو وہ کھینچتا ہوا سیڑھیوں سے.نیچے لایا تھا..آخری سیڑھی سے.قریب اسنے.اسکو.چھوڑ دیا….
خود وہ دوپٹہ لئے نمرہ کی طرف بڑھا تھا…اسے دوپٹے سے عاری دیکھ.کر اسنے.نظریں ہنوز.جھکائی ہوئی تھیں. …..ابھی اسنے اآدھا لاؤنج بھی عبور نا کیا تھا کہ کچھ لوگ لگاتار شور سن کر. لاؤنج میں داخل ہوئے…
وہ ایک طرف سہمی ہوئی چڑیا کی مانند کھڑی تھی..لٹھے کی طرح سفید رنگ. .کاٹو توجسم میں لہو نہیں.. …..
وہ اسکی طرف بڑھ رہا تھا کہ ایک زوردار گرج نے اسے رکنے پر مجبور کر دیاِِ…..
دادا اس کے ہاتھ میں نمرہ کا دوپٹہ دیکھ کر دھاڑے تھے
“!!!!!!!!فرحان”
وہ ملک.وجاہت کی گرج دار دھاڑ سن.کر ایک دم رکا تھا…..
اسنے ایک.طرف چہرہ موڑ کر دادا کو.دیکھا جو شعلہ.انگیز نظروں سے اس کو دیکھ رہے تھے..نظریں تھیں کہ قہر برسا رہی تھیں. …
کیا.ہو رہا ہے یہ.سب؟؟؟
انھوں نے دھاڑ کر پوچھا تھا…کہ اتنے میں کاشان آگے برھا تھا…
تمہاری اتنی.جرات..بے غیرت انسان….
وہ اسکا گریبان پکر چکا.تھا..جبکہ.باقی سب بھی فرحان کے ہاتھ میں نمرہ.کا دوپٹہ دیکھ کر حیران.تھے…. وہ سب غلط سمجھ چکے.تھے اسکو….
دوسری طرف حارث سیڑھیوں پر پڑا.کراہ رہا تھا…
تو.ایک طرف ڈری.سہمی.نمرہ دیوار کو.چپک.کر.کھڑی تھی….وہ سن حواس.سے پھٹی پھٹی نظریں لئے سب دیکھ رہی تھی…
فرحان نے آنکھوں میں الجھن لیے ان.سب کو دیکھا تھا جیسے سمجھنے کی کوشش کر رہا یو….
اسنے ایک.دم اپنا گریبان کاشان کے ہاتھ سے آزاد کروایا تھا….
وہ کچھ کچھ انکی.بات.کا.مطلب سمجھنے.لگا تھا….
چھوڑو مجھے..تم غلط سمجھ رہے ہو…
اسنے.غصے سے اسکو پیچھے کیا تھا….
ابھی وہ کچھ کہنے.ہی لگا تھا کہ اندر گھستی رضیہ بیگم کی نظر سامنے گرے حارث پر پڑی جو اب بامشکل دیوار کا سہارا لیے اٹھنے لگا تھا…وہ بھاگ کر اسکی طرف لپکی تھیں. ..
ہائے میرا.بچہ..یہ کیا ہو گیا…کس نے کیا ایسا…
وہ زارو قطار رو کم.رہی تھیں اور.بول.زیادہ رہی تھیں. … چونکہ فنگشن میں صرف گھر کے افراد تھے اور کچھ ہمسائے جن میں سے کافی موسم کی خرابی کے باعث جا چکے تھے…سو اس وقت وہاں پر تقریباً سب خاندان.کے لوگ تھے…فرحان کسی بھی بات.کی پرواہ کیے بغیر نمرہ کی طرف برھا تھا…اس کی قریب جا کر وہ رکا تھا اور اکا دوپٹہ اس کے سر پر پھیلا کر ڈال دیا تھا….
اتنے میں حارث. سیدھا ہو چکا تھا…
آپ سب میری بات سنیں…
فرحان نے مر کر سب کو.مخاطب کیا تھا…
اب سننے کو کیا بچا ہے..سب نے اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں تمہارے کرتوت….توبہ توبہ….
رضیئ بیگم فوراً اس پر چرھ دوڑی تھیں. …
میں. ..میں. اندر آیا تو یہ…یہ.دونوں. …
اتنا کیہ کر حارث رکا تھا…
یہ…دونوں ایک دوسرے.کے ساتھ….میں نے منع کیا تو فرحان مجھے پیٹنے لگا….
اس نے سارا ملبع اس پر ڈال دیا تھا..جبکہ سب چہ مگوئیاں کرنے.لگے تھے…
توبہ کیا زمانہ.آگیا ہے….
اپنے گھر میں ہی اب…
کسی عورت نے کان کو ہاتھ لگا کر کہا تھا….
جبکہ فرحان دوبارہ حارث کی.جانب لپک.گیا تھا….
تیری تو…کیا بکواس.کر رہا ہے بے غیرت انسان…تجھے.چھوڑ کر غلطی کی.میں. ..
وہ دوبارہ اس پر چڑھ دوڑا تھا…
اشعر اور برہان.اسی وقت اندر آئے تھے. انھوں نے فوراً آگے نرھ کر فرحان کو پکڑا تھا ورنہ.وہ.اس وقت جس غضب اور جلال.میں تھا کچھ بعید نا تھا وہ اسکا قتل کر کے ہی دم.لیتا…..
یہ ..یہ جھوٹ بولتا ہے….
نمرہ اس کاروائی میں پہلی بار بولی تھی…..
کون کتنا سچ کہہ رہا ہے یہ ہم سب دیکھ رہے ہیں. .اندھے لگتے ہیں تجھے ہم لڑکی؟؟؟
اب کی بار رضیہ بیگم نمرہ پر چڑھ دوڑی تھیں. …
ہائے.میرا معصوم بچہ….انھوں نے حارث کو پچکارا تھا….اپنے اس معصوم بیٹے کے کارناموں سے وہ اچھی طرح واقف تھیں. .مگر اس وقت انکو اسے یہاں سے بچانا تھا..کیا کرتیں اولاد تو انہی کی.تھی….
دادا جان.یہ کمینہ بکواس کرتا ہے….
فرحان خود کو اشعر اور برہان کی گرفت سے آزاد کرنے کی سعی کرتے ہوئے دھاڑا تھا….
بس.خاموش…
ملک وجاہت نے ہاتھ اٹھا کر اسکو مزید کچھ بھی کہنے سے روک دیا تھا….نمرہ کو تو لگا تھا وہ مزید برداشت نہی کر سکتی..کوئی اس کے دامن پر داغ لگانے پر تلا تھا….اسکا پاک.دامن سب کی.نظروں میں سوالیہ نشان بن رہاتھا….
ابھی کہ.ابھی نکاح کرو نمرہ سے….
ملک.وجاہت نے ضبط کا.مظاہرہ کرتے ہوئے کہا.تھا جبکہ.انکی بات سن.کر ان.دونوں سے سروں پر جیسے آسمان ٹوٹ کر آن گرا تھا…..
نن..نہی..نہی ….
نمرہ بے یقینی سے کہتی پیچھے کو قدم بڑھا رہی تھی جیسے سماعت پر یقین نا آیا ہو…..
فرحان نے کرنٹ کھا.کر اپنے دادا کو دیکھا تھا…وہ.اسکی..فرحان شاہ کی بات کا اعتبار نا کر رہے تھے؟؟؟ اپنے اس پوتے کی بات کا جس پر وہ خود سے زیادہ بھروسہ کر سکتے تھے…..
دادا جان..اسنے حیرت اور بے یقینی سے انکو پکارا تھا…دکھ.نکاح کا نا تھا دکھ تو اس بات.کا تھا کہ.وہ کسی اور کی بات سن کر اس پر اپنا فیصلہ سنا رہے تھے….
نہی…نہی نانا جان…وہ جھوٹ بکتا ہے…وہ خود …خود غلط ہے وہ….بکواس کر رہا ہے…
نمرہ نے.بلک.بلک کر کہا تھا….
پر انھوں نے تو.جیسے سنا ہی ناتھا…
آمنہ بیگم کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھیں. .جبکہ امروزیہ بیگم کے حواس ہی بحال.نا.ہو رہے تھے…
آذر فوراً نکاح خواں کو.بلاؤ…..
ابھی.نکاح ہو گا..اور جس کو مسئلہ ہو وہ سکتا ہے ادھر سے…
انھوں نے انتہائی سفاکی سے کہا تھا…
امروزیہ بیگم آگے آئی تھیں. .
چچا جان..ایسے کیسے…
وہ کچھ بولنے.لگی تھیں کہ انھوں نے ہاتھ اٹھا کر انکو خاموشی اختیار کرنے کا کہا. …
میں تیار ہوں. ..فرحان کی آواز پورے لآؤنج میں گونجی تھی…یہ.احساس نداِمت تھا یا کچھ اور؟؟؟؟کہ وہ آج.اسکی.وجہ.سے ہی تو اس حال.کو تھی…
ان سب کے فیصلے شروع سے وجاہت آفندی کرتے آئے تھے…احمد آفندی بھی ہر معاملہ بھائی کے ہی سپرد کرتے تھے…یہی وجہ تھی کہ انکے بچوں کے فیصلے بھی وہی کرتے تھے….انکے فیصلے.ہمیشہ سہی ثابت ہوئے تھے تبھی آج تک کوئی ان.کے آگے نا بولا تھا…
نمرہ کو یقین نا آرہا تھا…وہ تو جیسے سکتے میں آچکی تھی…ملک سیال ان کے ساتھ نا آئے تھے..انھوں نے کچھ کام نپٹا کر اگلے دن آنا تھا…..
نمرہ کو کب اندر لایا گیا..کب اس پر چادر ڈالی گئی..کب نکاح خواہ آیا اور کب اسنے اس شخص کو.ہمیشہ ہمیشہ کے لیے قبول کر.لیا…کب وہ نمرہ سیال سے نمرو فرحان بنی…وہ کچھ نا جانتی تھی…اسے کوئی حوش نا تھا…ہاں خیال تھا تو.صرف اتنا.کہ.آج وہ ایک بار دوبارہ ٹوٹ. چکی تھی..وہ پھر سے آج بکھر گئی تھی…آج وہ پھر دو سال پیچھے جا چکی تھی..اسی ساری محنت جیسے رائیگاں ہو چکی تھی….
تو.کیا دوبارہ کرچی کرچی.ہونا ہی اسکا مقدر تھا؟؟؟؟
⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐⭐
فرحان نے عریبہ کے فون سے نمرہ کو میسج کیا اور اسے آذر آفندی (اپنے تایا) کے گھر بلایا….جو بالکل حویلی کے ساتھ تھا…
آج تو تمہیں میری سننی.ہو گی…سمجھا ہوا کیا.ہے آخر….
وہ سوچ رہا تھا…
نمرہ کے رپلائی کے بعد وہ سیدھا.آذر کے گھر کی طرف چل دیا..جانتا تھا سب حویلی میں ہو ں.گے….
عریبہ جو حویلی لے جایا گیا…..
اسکے اور اشعر کے درمیان ایک جالی.کا.پردہ ڈالا گیا تھا…
فرحان آذر آفندی کے گھر اسکا انتظار کرنے لگا…. پانچ سے دس منٹ گزرے…پھر پندرہ..مگر وہ نا آئی….
فرحان کا.غصے سے برا حال تھا….
اتنے میں اسے ارشد چاچو.کی.کال آئی…
فرحان کہاں ہو؟؟
انھوں نے.پوچھا تھا…
بس حویلی آرہا
ہوں چاچو…
اسنے.بتایا تھا…
اچھا یار میرے گھر.جا .. میرا والٹ رہ گیا ہے ادھر….کمرے میں ہو.گا…اتھاتا لانا..
انھوں نے اس سے کہا تھا…
جی.لے.آتا.ہوں. .اسنے.فرماں برداری سے جواب دیا…
ذرا جلدی پلیز…کچھ کام.ہے…دیر نا کرنا فوراً لے آؤ…
انھوں نے.اجلت سے جواب دے کر فون.بند کر دیا….ڈھولک.اپنے عروج.پر تھی…
فرحان کو مزید انتظار کرنا بے کار لگا …اور وہ نکل کر جلدی سے ارشد آمندی کے گھر کی طرف بڑھا…
اندر داخل.ہو.کر وہ لمبے.لمبے ڈاگ بھرتا لان سے گزر رہا تھا کہ اسکو.لگا.کوئی چیخا تھا…
اسکو اپنا وہم.لگا..وہ فوراً لاؤنج.میں داخل.ہوا…مگر یہ کیا.ِواقعی وہاں کوئی چیخ رہا تھا…
اسکو شدید حیرت نے آن.گھیرا…
یہ کون تھا؟؟ آواز کدھر سے آرہی تھی؟؟؟
ابھی وہ سمجھنے.کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ ایک دم چیختی چلاتی روتی نمرہ سیڑھیوں پر نمودار ہوئی تھی..ایک پل سے پہلے وہ سیڑھیاں اتر چکی تھی…اور آکر سیدھا اس سے لپٹی تھی.
_________
وجاہت آفندی نے اشعر کو بلایا تھا….اشعر انکے حکم کی تعمیل کرتا ہوا ان کے پاس پہنچا….
آپ.نے بلایا داداجان؟؟؟
اس.نے احترام سے پوچھا تھا….
ہاں…بیٹھو. .کچھ ضروری بات کرنی.ہے…
ملک وجاہت نے.کسی گہری سوچ سے نکل کر کہا تھا…
اشعر ان.کے.سامنے.موجود صوفے پر برجمان ہو.گیا…
جی! !؟؟؟
اسنے.بیٹھتے ہوئے.پوچھا…
نمرہ اور فرحان کے درمیان کیا چل رہا ہے؟؟؟
ملک.وجاہت نے.بغور اشعر پر نظریں ٹکائے پوچھا تھا….
جبکہ.انکی بات.سن.کر ایک.دم.اشعر. چونکا.ضرور تھا..اسکے چہرے پر ایک رنگ آیا اور ایک.گیا…
کیامطلب؟؟ میں سمجھا نہی…ان کے.درمیان.کیا چلنا ہے داداجان؟؟
اشعر نے.فوراً خود.کو انتہائی نارمل رکھتے ہوئے ایسے کندھے اچکائے جیسے وہ ہر چیز.سے بے خبر ہو….
جبکہ.اسکے تاثروت.دیکھ کر ملک.وجاہت کے.چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی…
اشعر میرے بچے..میں تمہارا دادا ہوں…تم میرے نہی!!!!!
انھوں نے اسے یاد.دلانے.کی.کوشش کی تھی…جبکہ.اشعر انکی بات کا مطلب سمجھ کر کشمکش میں مبتلا.ہو.گیا…وہ جانتا تھا ملک وجاہت سے جھوٹ بولنا ناممکن.ہے..وہ اڑتی چڑیا کے پر گن لیتے تھے تو اسکے لہجے سے میل نا کھاتے الفاظ اور اسکے ایک.دم.چونکنے کو.کیسے نظر انداز.کر دیتے….مگر دوسری طرف بھی فرحان.تھا…اسکا دوسرا بازو..وہ کیسے اس طرح اس کا.راز فاز کر کے.اسے دوسروں کی.نظر میں نیچے ہونے دیتا…مگر وہ.یہ بھی بھول.رہا تھا کہ.جس سے وہ فرحان کو بچا.رہا تھا وہ انسان.تو فرحان کی.رگ رگ سے آشنا تھا…اس کے دل میں آئی ہر خواہش وہ زبان پر آنے سے پہلے ہی پوری کر دیتے تھے..وہ اسکی آنکھوں کا ایک ایک رنگ, اسکے. ہر لہجے کا.مطلب اچھی طرح جانتے تھے….یہی.وجہ تھی کہ پچھلے ڈیڈھ دو سال سے اسکی بےچینی انکو اذیت.اور فکر میں مبتلا کر رہی تھی….جیسے وہ خود سے کوئی جنگ لڑ رہا ہو….
اشعر نے با مشکل.تھوک نگلا تھا…چھپانے کا کوئی.فائدہ نا تھا…
تم بتاؤ یا نا بتاؤ پتہ میں
پھر بھی.کر لوں گا…مگر میں باہر والے کسی شخص کو انوالو نہی کرنا چاہ رہا تھا…
وجاہت آفندی نے کہا تھا…
دادا جان وہ…اصل میں. …فرحان. ..اور.نمرہ ایک دوسرے کو پسند ….. نہی انکی لڑائی چل رہی ہے….
اشعر نے بتانے کی کوشش کی تھی….
کیسی لڑائی؟؟ ملک وجاہت نے آبرو اچکا کر پوچھا تھا….
وہ…اشعرنے بولنا شروع کیا اور شروع سے آخر تک ایک ایک بات ان کے گوش گزر کر دی….اسکی بات سن کر وجاہت آفندی کو جیسے دھچکا لگا تھا شدید…انکا چہرہ سرخ ہونے لگا تھا….وہ با مشکل ضبط کر رہے تھے….
تم مجھے اب یہ سب بتا رہے ہو؟؟
انہوں نے شدید غصے سے دانت پیس کر اشعر کو کہا تھا …
داداجان وہ…
اشعر سے بات نا بن پڑی ….
کیا تم.لوگ اتنے.بڑے ہو گئے ہو کہ اب ایسی سنگین باتیں بھی چھپاتے پھروگے؟؟؟ یہ اب تم لوگوں کو ہماری ضرورت نہی….
وہ غصے کی انتہا.کو چھونے.لگے تھے…اشعر انکو اتنے شدید طیش میں دیکھ کر یک.دم گھبرایا تھا…وہ کبھی بھی غصہ تو دور کی بات بلاوجہ اونچی آواز میں بات نا کرتے تھے ….مگر اب…انکا غصہ جائز تھا….
انکو یقین نا آرہا تھا کہ.انکے.لاڈ نے فرحان کو اس قدر خود پسند.بنا دیا ہے کہ اسنے اپنے ہی خاندان کی سب سے من موہنی اور معصوم لڑکی کو اپنی ضد اور ہڈ دھرمی سے توڑ کر رکھ دیا….
اب انکو سمجھ آئی تھی نمرہ کی آنکھوں کی ویرانی..اسکا سنجیدہ پن…اب وہ اتنا چہکتی نا تھی پہکے کی طرح…آور فرحان کو.لے کر اسکی لاتعلقی…
انکی نظروں میں فرحان کا چہرہ گھوما..جب جب وہ اسے نظرانداز کر کے جاتی تھی تب تب اسکی آنکھوں میں اترنے والی.بےچینی. …اسکا.ایک دم غصہ کرنا..بپھر جانا… بگڑ جانا..جیسے وہ.برداشت نا کر پاہ رہا ہو…اسکی اندر آگ لگ جاتی ہو…..
دادا جان میں جانتا ہوں اسنے غلط کیا بہت غلطِ….مگر میں آج بھی دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ…وہ نمرہ کو.بھلا نہی پایا…اگر اسکا چین چھینا تھا تو وہ آج تک خود بے چین.ہے…وہ….وہ اب بھی اسکی محبت…نہی.محبت نہی..اب وہ شاید محبت سے آگے بڑھ چکا.ہے…وہ اس سے عشق کرنے لگا ہے. اور اس کے اندر سلگتی آگ اس بات کی.گواہ ہے….وہ.اج بھی خود کو.نمرہ کی.طرف سے نظر انداز کرنا برداشت نہی کر پاتا…ورنہ.ہم سب جانتے ہیں وہ شروع سے بہت مضبوط اعصاب کا مالک.رہا ہے مگر اس معاملے میں جیسے اسکا خود پر اختیار نہی…وہ..وہ نہی رہسکے گا اس لے بغیر…وہ مانے گا نہی..کبھی کہے گا نہی مگر میں جانتا ہوں وہ اندر ہی اندر سلگتا ہے… کہیں نا کہیں اسے پچھتاوا ہے ضرور مگر وہ.اس پچھتاوے کو دباتا ہے..اندر ہی دفن رکھنے کی کوشش میں ہے…اسکی انا آڑے آتی ہے…اسکی “میں” اسکو جھکنے نہی.دے رہی….
اشعر نے جیسے بالآخر دل کی.بات کسی ہمراز کو.بتا کر دل.ہلکا کیا ہو…
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *